Jump to content
URDU FUN CLUB
faizanoor

مہرا جسم میری مرضی

Recommended Posts

پچھلے دنوںسوشل میڈیا پر ایک پوسٹ متواتر دیکھنے کو ملی عنوان تھا میرا کسم میری مرضی۔

سوال یہ ہے کہ بحیثیت عورت کیا ہمیں اپنے جسم کو اپنی مرضی سے ہی استعمال کر لینا چاہیئے؟

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Please login or register to see this quote.

چراغِ سحر توازن سے آپ کی کیا مراد ہے کھل کے وضاحت کیجئیے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

مجھے یقین ہے کہ فورم میں میرا بائیکاٹ چل رہا ہے جس کا اندازہ مجھے وقتاً فوقتاًہوتا رہا ہے ایسے میں کسی تھریڈ کو چلانا بے معنی ہوگا۔

مجھے یہ تھریڈ ڈیلیٹ کرنے کا آپشن نظر نہیں آیا ایڈمن سے ریکویسٹ ہے اس تھریڈ کو ڈیلیٹ کردیں موجودہ حالات میں اسکا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الوّ کافی تھا

ہر شاخ پہ الوّ بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

شکریئے کی کوئ بات نہیں

مجھے پوسٹ نظر آئ ریپلے کیا میں نے

ویسے جاننا چاہوں گا کیوں آپ نے بائکاٹ والی بات کہی

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں نے محسوس کیا تھا اس بات کو۔ اور میرا احساس کبھی غلط نہیں ہوتا۔آپ ایک تھریڈ شروع کر کے دیکھ لیں کمنٹس کے ڈھیر لگ جائینگے۔ اور یہاں حال یہ ہے کہ ایک تریڈ شروع ہوتی ہے تو کوئی رائے دینے والا نہیں ہے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 میں کچھ وقت سے اس فورم کا خاموش قاری ہوں۔ ایک ٹوٹی پھوٹی کہانی بھی لکھی لیکن وہ اتنی مزیدار ثابت نہیں ہوئی۔ 

جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو جب نظر سے گزرا تو سوچا جواب دوں، مگر اس کا جواب ہاں یا نہ میں نہیں ہو سکتا۔ سیاق و سباق کا حوالہ دینا ضروری ہے۔ اور زیادہ لکھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لکھ بھی دوں تو نقار خانے میں طوطی کی آواز سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ اپنے ایک بلاگ میں ان جملوں کو حقیقی زندگی کے واقعات کے ساتھ بیان کر چکا ہے۔ آب چاہیں تو آپ کو لنک بھیج سکتا ہوں۔

جہاں تک رپلائی کی بات ہے تو مجھے یہ فورم اتنا زیادہ ایکٹو نہیں لگ رہا۔ سینکڑوں پوسٹ ، اورمستی کا سامان ہونے کے باوجود پورے فورم پر ایک یا دو رپلائی آتے ہیں دن بھر میں ۔

بات یوں ہے کہ "میرا جسم میری مرضی" محض ایک جملہ نہیں ہے اور یہ خواتین کی بے جا آزادی سے متعلق بھی نہیں ہے۔ اس جملہ کی آڑ میں کوئی خاتون یہ نہیں کہہ رہی کے اس کا جسم اور اس کی مرضی کہ وہ جس کسی کے ساتھ بھی تعلق قائم رکھے۔ انگریزی کی ایک اصطلاح کا اردو ترجمہ کروں تو کچھ ایسے ہے "شادی شدہ جنسی زیادتی" ۔ اب بظاہر تو یہ کوئی بات نہیں لگتی۔ شادی کر لی ہے تو سیکس کرنے میں کیا ہرج ہے۔ جب چاہو جب مرضی کر لو۔ مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔

ایک لڑکی کی شادی ہوتی ہے۔ وہ سہاگ رات کے بستر پر بیٹھ کے بہار کی تازہ کلیوں کو چن چن کر اپنے خواب بن رہی ہے۔ ایسے میں اس کا دولہا کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ پھولوں کی مہک ماند پڑنے لگتی ہے اور باسی شراب کی بدبو پورے کمرے میں پھیل گئی۔ لڑکی کو ابھی حیران ہونے کا موقع بھی نہ ملا تھا کہ اس کے شرابی شوہر نے اس کے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ سیکس کرنا شروع کر دیا۔ صرف سیکس ہی نہیں کیا بلکہ اسے مار پیٹ بھی کی۔ جیسے جیسے اس لڑکی کو زخم لگتا اور وہ اپنی چیخوں کو دبا کر سسکتی اسے مزید لذت ملتی۔ 

 کسی کو ایذا پہنچانا انسانیت نہیں حیوانیت ہے۔ اگر کوئی مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت کو بستر میں سسکنے اور تڑپنے پر مجبور کرنے کا نام مردانگی ہے تو وہ نامرد ہے۔ مرد اپنی شریک حیات کو عزت دیتا ہے اور کی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا ہے اور جہاں وہ غلط ہو اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ مرد اپنی عورت کی خاطر دوسروں سے لڑ جاتا ہے، اپنا پیٹ کاٹ کر پالتا ہے اور خود دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنے گھر کو چھائوں فراہم کرتا ہے۔  

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم 
رزم حق و باطل میں فولاد ہے مومن

مگر یہاں نام نہاد مرد عورت کو زدو کوب کرنا اپنی مردانگی سمجھتے ہیں۔

اس جملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کسی جگہ میں نے پڑھا تھا کہ مسلمانوں کے ایک لشکر کو فتح ہوئی۔ شکست خوردہ قوم نے آخری حربہ کے طور پر اپنی خواتین کو برہنہ / نیم برہنہ حالت میں مسلمانوں کے لشکر کے راستے میں کھڑا کردیا۔ جب مسلمانوں کے سپہ سالار کی نظر پڑی تو اس نے لشکر سے کہا کے اپنی نگاہیں جھکا کر شہر میں داخل ہو۔ اور ایسا ہی ہوا۔ مدعا یہ ہے کہ اگر عورت برہنہ بھی ہو تو مسلمان مرد کو اس سے نظر پھیر لینی چاہئے نا کہ اسے جواز بنا کر خود گناہ پر گناہ کرتا جائے۔ کتنے ہی واقعات ہوتے ہیں جس میں جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور آخر میں منطق کیا دی جاتی ہے کہ وہ ماڈرن لڑکی تھی۔ ماڈرن تو کیا یہاں تو کم عمر لڑکے، لڑکیاں اور برقعہ پوش خواتین بھی محفوظ نہیں۔ کوئی عورت جو بھی لباس پہنے اس کا حساب اس عورت نے دینا ہے۔ بھلے سے وہ جہنم میں ہی چلی جائے ہم کون ہوتے ہیں اس کے لباس پر تنقید کرنے والے یا اس کے لباس کی وجہ سے زیادتی کرنے والے؟ کوئی عبایا پہنے یا کوئی جینز پہنے آپ کی نظروں کا کام نہیں ہے اس کا تعاقب کرنا۔ 

 میرے خیال میں "میرا جسم میری مرضی " کا مطلب یہ ہے  کہ ذاتی معاملات میں مرد کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے اور یہ صحیح بھی ہے۔ آخری جملہ جو آپ نے کہا ہے عورت کو اپنی مرضی سے اپنا جسم استعمال کرنا چاہئے اس پر مجھے کچھ شکوک ہیں۔ اگر تو آپ کے نزدیک اپنی مرضی سے استعمال سے مراد جنسی تعلق ہے تو اس کے متعلق کچھ مذہبی اور کچھ معاشرتی حدود ہیں۔ اگر حدود کی پاسداری کی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ 

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

 آپ کا تبصرہ قابل تعریف ہے۔آپ نے اپنے ایک بلاگ کے لنک کا ذکر کیا ہے۔پلز شئیر کیجئے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

روانی میں بلاگ کا ذکر تو کر دیا مگر میں کچھ وجوہات کی بنا پر یہاں لنک شیئر نہیں کر سکتا۔ امید ہے صرف نظر کرتے ہوئے میرے جواب پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Nadan na tabsra boht acha hai. Mere khayal main "Mera Jism Meri Marzi" ka positive matlab liya jaye to european mahol ke mutabiq hi nikalta hia keh mard aur aurat ke darmyan jo kuch bhi ho, dono ki marzi ke sath hi ho. Kisi ki marzi ke khilaf koi kuch na karay. Mera jism hai to main iss ko jaisay chahon istemal karon. Khanay ki bhook hai to khana khaon, sex ki bhook hai to sex karon. Lekin meri marzi na ho to koi mujhay bilkul majbur na kar sakay.

Jahan tak hamaray muashray ka taluq hai, yahan yeh formula kuch arsa pehle tak to fit nahin hota tha, magar abb rafta rafta fit hota nazar ata hai magar nateeja yeh dekhne main ata hai keh talaqon ki sharah barhti jarahi hai, larkiyan aulad ko jhanjhat samajhne lagi hain, husband-wife ki apas ki understanding ghat'ti jarahi hai jabkeh BF-GF ke darmyan understanding barhti jarahi hai.

Iss ke muqablay main molvi ka tabqa hai, jo doosron ke lye to bharpoor pabandiyan lagana chahta hai magar khud pas-e-parda unn ka jo haal hai, sab jantay hain. agar society main balance qaim rahay to yahi formula "Mera Jism Meri Marzi" aik positive sign ke taur pe chal sakta hai aur kisi ko iss se koi masla nahin hoga.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×