Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Nadan

وہ حسن سراپا ہے، وہ مصدرِ رعنائی

Recommended Posts

وہ حسن سراپا ہے، وہ مصدرِ رعنائی
میں عشقِ مجسم ہوں، میں چشمِ تماشائی

یہ قوتِ گویائی، یہ سوچ کی گہرائی
انساں کو ملی کیسی، دانائی و بینائی

جو چیز بھی پائی ہے، وہ در سے ترے پائی
لاریب تو آقائی، لاریب تو مولائی

ہیں مہر بہ لب کلیاں، ہیں پھول بھی افسردہ
غل ہے کہ بہار آئی، کیا خاک بہار آئی

اقرب ہے رگِ جاں سے وہ نورِ ازل لیکن
محرومِ تماشہ ہے ہر چشمِ تماشائی

کیا تجھ کو تامل ہے، ہو چہرہ نما اس میں
دل آئینۂ صافی اور گوشۂ تنہائی

محرومِ بصارت ہے، محرومِ بصیرت ہے
انسان کہ کرتا ہے، انسانوں پہ آقائی

جاں سوز ہے زخمِ دل، جینا بھی ہوا مشکل
کب کام مرے آئے گی تیری مسیحائی

محبوبِ نظرؔ ہو کر محجوب نظر ہے وہ
اے کاش ان آنکھوں کی کرتا وہ پذیرائی
---
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...