Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

سلام دوستوں 

میری آج کی سٹوری کا عنوان ہے مومل

جی ہاں مومل ایک نہایت حسین لڑکی جس نے مجھے پاگل کر دیا تھا

دوستوں میری کزن کی شادی تھی اور میں وہاں اپنی فیملی کے ساتھ گیا تھا جب میری ملاقات اپنی کزن کی دوست مومل سے ہوئ اسے دیکھ کر ہی میں اسکی معصومیت اور حسن کا قائل ہوگیا مومل ایک بے حد حسین اور دلکش نقوش والی 16 سال کی لڑکی تھی اس کی خوبصورتی اور پھر معصومیت نے ہی مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا پھر ایک میں اپنی کزن کے روم میں بیٹھا ہوا تھا جب میں نے اس کی ڈائری دیکھی۔ یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ دونوں سہیلیوں میں حد درجہ پیار تھا۔ میں نے تبھی دروازہ کھلتا دیکھا تو ڈائری رکھ دی مگر تب تک مومل مجھے دیکھ چکی تھی۔ اس نے بڑے لاڈ سے مجھے دیکھا اور بولی

کسی کی اجازت کے بنا ڈائری پڑھنا جرم ہے۔ مینے کہا سوری بس ایسے ہی نظر پڑھ گئ تو۔ وہ بولی اچھا کوئی بات نہیں میں نے کہا مومل تم بہت پیاری ہو۔ وہ معصومیت سے بولی ہاں گھر والے بھی یہی کہتے ہیں۔ میں نے کہا نہی سچی میں وہ کچھ نہ بولی بس نظریں جکھا کر جانے لگی تو میں نے کہا مومل میں تمہیں کچھ دکھانا چاہتا ہوں وہ بولی کیا۔ میں نے کہا یہاں نہیں اوپر سٹڈی روم میں تو وہ بولی اوکے آئیں میں نے سوچ لیا تھا ک آج اس کی لینی ہے ہر حال میں۔ مجھے پتا تھا ک اوپر کوئ نہیں جاتا۔ میں اسے لئے اوپر پہنچ گےا۔ سٹڈی روم کے اندر ایک سٹور تھا اور اس میں کسی کے آنے کے چانس نہیں تھے۔ جیسے ہی میں روم میں داخل ہوا تو وہ رک گئ میں نے کہا آو نا۔ وہ بولی یہاں ہی بتا دیں نا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر دیا۔ مومل کی سانس تیز ہو چکی تھی وہ سراسیمہ ہو کر بولی آ آپ دروازہ کیوں بند۔۔۔۔۔ میں نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر اسے بولنے سے روکا اور کہا کہ مومل تم بہت پیاری ہو۔ بہت خوبصورت ہو۔ وہ ڈرے ہوئے لہجے میں بولی پلیز کوئ آ جائے گا 

میں نے کہا مومل میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں وہ بولی ہرگز نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل کچھ غلط نہیں میں تمھاری مرضی سے ہی کروں گا اور جہاں تم کہو گی روک دوں گا۔ کچھ پس و پیش کے بعد وہ مان گئ کہ میں اسے اوپر سے ٹچ کر سکتا ہوں۔

میں نے اس کے نازک بدن پہ ہاتھ پھیرنے شروع کر دئے وہ کچھ نہ بولی اور سمجھی کی میں ابھی اسے چھوڑ دوں گا 

آہستہ آہستہ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا اور اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں نے اس  کی قمیض میں ہاتھ ڈال

میں نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پہلےتو وہ کسمسائ مگر پھر چپ ہو گئی ابھی تک مجھے اس کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا تھا۔ آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتے ہوئے میں نے ہاتھ اس کی چھاتیوں کی طرف بڑھا دیا وہ تھوڑا پیچھے ہوئ اور میں نے بھی آگے بڑھ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا کیا۔ میں دھیرے سے آواز دی مومل۔ وہ بولی جی۔ میں نے کہا کیسا لگ رہا ہے۔ وہ تھوڑی دیر بعد بولی بس کریں نا اب۔ میں بولا مومل اپنی قمیض اتارو۔ وہ بولی نہیں نہیں یہ غلط ہے۔ میں نے کہا مومل میں اپنی بات پہ قائم ہوں بس پیار کروں گا۔ دیکھو جلدی کرو کوئی آگیا تو تم بدنام ہو جاؤ گی۔ اس نے کہا اچھا پیچھے ہٹیں مگر پلیز کچھ الٹا نا ہو جائے میں نے کہا نہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے قمیض اتار دی اور ساتھ ہی اس کا برا بھی اٹھ گیا۔ اوہ مائی گاڈ اتنا صاف شفاف پیٹ اور ممے میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ میں نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ پہلی بار اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی میں اسے ساتھ لگائے ہوئے ہی اس کی گردن پہ ہونٹ رکھ دئے اور چومنے لگا۔ چومتے چومتے میں اس کے نازک مموں پر پہنچ گیا۔ اس کے ممے دودھ کی طرح سفید تھے اور ان پہ ہلکے پنک نپل بے حد حسین۔ میں نے اس کے نپل چوسنے شروع کر دئے تو پہلی بار اس کی ہلکی سی سسکاری نکل گئی۔ میں نے پوچھا مومل کیسا لگا۔ وہ بولی بہت اچھا۔ میںنے پھر اس کے نپل پہ زبان پھیرنے لگا اور ساتھ ہی دونوں مموں کو ہاتھوں میں بھر کر دبانا شروع کر دیا اب اس کی ہلکی سسکیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا کہ میری محنت رنگ لائے گی۔ میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا تو اس نے آسانی سے اسے اتار دیا جو اس بات کی علامت تھی کی آگ لگ چکی تھی۔ میں نے اس کی پھدی پہ ہاتھ پھیرا تو تڑپ کر اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہلکے سے ہاتھ چھڑا کر پھر ہاتھ پھیرا اور دھیرے دھیرے اس کی رانوں پہ زبان پھیرنی شروع کر دی۔ اب مومل کی سسکیاں نکل رہیں تھیں اور پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی پر رکھ دی اور پھیرنے لگا۔ مومل کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور اس نے میرے سر کو پکڑ لیا۔ میں نے فورا اس کے ہاتھ پکڑ کر اور تیزی سے زبان پھیرنے لگا۔ اب مومل مزے کے ساتویں آسمان پر تھی اور مجھے اب اس کی پھدی  کی برسات کا انتظار تھا۔ پھر کچھ دیر بعد 

پکڑ

لئے اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔ اس نے تب تک میرے بال نہیں چھوڑے جب تک اس کی پھدی پانی چھوڑتی رہی اور پھر جب اس نے میرے بال چھوڑے تو میرا پورا چہرہ اسکے پانی سے بھیگ چکا تھا۔ وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی میں اٹھا اور اپنی شلوار اتار دی اور اپنے کپڑوں سے رومال نکال کر اپنا چہرا صاف کرنے لگا۔ مومل ابھی تک بے سدھ پڑی ہوئی تھی۔ شاید پہلی بار فارغ ہونے کی وجہ سے۔ میں نے اسے ہلایا تو وہ اوں آں کر کہ اٹھی اور بولی

آپ نے کیا کر دیا ہے مجھے۔

میں بولا مزا آیا۔ وہ بولی ہاں مزا تو بہت آیا پر اب مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا۔ میں نے کہا کچھ نہیں ہوتا۔ وہ بولی آپ نے بھی کپڑے اتار دئے ہیں۔ کیوں۔ میں بولا کہ مومل یہ تو شروعات تھیں اصلی مزا تو اب آئے گا۔ وہ بولی نیں پلیز بہت دیر ہو چکی ہے۔ میں نے کہا۔ مومل پلیز جہاں اتنا صبر کر لیا تھوڑا اور کر لو پلیز۔ وہ بولی اچھا اچھا پر پلیز جلدی کریں  

میں نے کہا اوکے تم اب دیوار کی طرف منہ کر لو اور اپنی ایک ٹانگ اس سٹول پہ رکھ لو۔ میں نے سٹول کھینچا اور اس کی ٹانگ اس پہ رکھ دی۔ اب میں نے پیچھے سے اپنا کن جو کہ فل اکڑ کر سرخ ہو رہا تھا اسے مومل کی گرم پھدی پہ رکھا۔ 

مومل فورا آگے ہوئی اور بولی۔ آپ نے کہا تھا ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ میں نے کہا مومل بس اوپر ہی پھیرنا ہے۔ اور کچھ نہیں کرنا۔ پلیز بس مجھے بھی فارغ ہونے دو۔ وہ بولی اچھا ٹھیک ہے پر پلیز اوپر سے ہی کرنا۔ 

میں نے لن اس کی پھدی پہ رگڑنا شروع کر دیا تھا۔ اتنی گرم پھدی کہ دل کر رہا تھا بس گھسا دوں اندر پر کہتے ہیں نا کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس لئے میں بھی انتظار کر رہا تھا۔ لن اوپر پھیرنے سے مومل کی سسکیاں پھر شروع ہو گئی تھیں ۔میں نے پوچھا مومل کیسا لگ رہا ہے۔ تو وہ سسکتی ہوئی بولی بہت اچھا۔ آپ کا وہ بہت گرم ہے۔ میں نے کہا مومل تھڑا اندر گھسا دوں۔ بہت مزا دے گا۔ وہ سسکتے ہوئے بولی۔۔ ننہییں دردرد ہوگا اور برداااشت نہیں ہوگا۔ میں نے اسکی گردن چومتے ہوئے کہا۔۔ مومل میری جان تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا دیکھنا۔۔ وہ بولی۔۔۔ اااچھا پر آرام سے پلیز۔۔۔۔ میں نے لن پھیرتے پھیرتے آہستہ آہستہ اس کی پھدی کے سوراخ کو کھوجنا شروع کر دیا۔ اور جب مجھے لگا کہ اب لن ٹھیک سوراخ کے اوپر ہے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ مومل کی بغلوں کے نیچے سے گزار کر اس کی گردن کو کس کے پکڑ لیا اور اک زوردار جھٹکا دیا

میرا لن پھسلتا ہوا دو انچ تک مومل کی پھدی میں گھس گیا۔ اگر میں نے بروقت مومل کے منہ پہ ہاتھ نہ رکھ دیا ہوتا تو اب تک سارا گھر اکٹھا ہو جاتا۔ مومل نے نے خود کو چھڑوانے کےلئے زور لگانا شروع کر دیا۔ تبھی میں نے ہمت کر کے ایک جھٹکے سے اپنا باقی سارا لن بھی اندر گھسا دیا۔ مومل اب ایسے تڑپ رہی تھی جیسے بن پانی کے مچھلی تڑپتی ہے۔ میں نے اب اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو وہ روتے ہوئے بولی آپ نے میری جان نکال دی۔ اتنا درد مجھے آج تک نہیں ہوا۔ میں نے کہا مومل بس اب جتنا ہونا تھا ہو گیا۔ اب صرف مزا آے گا۔ پلیز۔ پر وہ نہی مان رہی تھی۔ میں نے ساتھ ساتھ لن ہلانا بھی جاری رکھا اور پھر آخر کار کچھ دیر بعد اسے تھوڑا چین آیا میں نے پوچھا مومل اب کیسا لگ رہا ہے۔ وہ بولی۔ بس اب بس کریں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ مجھے اس پہ ٹوٹ کہ پیار آیا۔ میں نے کہا مومل جان بس اب مزا آئے گا۔ ساتھ ہی میں نے لن باہر نکا کر اندر ڈالا اور ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگا۔ اب دھیرے دھیرے مومل بھی نارمل ہو رہی تھی اور اب مجھے اس کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔ پھر وہ وقت بھی آگیا۔ مومل کی پھدی پہلے ہی بہت ٹائٹ تھی تو اب اور ہو گئی اور اس نے میرے لن پہ برسات کردی۔اب مومل نارمل ہو چک تھی۔ میں نے اب اپنی رفتار تیز کر دی اور پھر میں نے لن باہر نکال لیا اور فارغ ہوگیا۔ مومل ابھی بھی مجھ سے بات نہیں کر رہی تھی۔ میں نے آواز دی مومل۔۔ وہ بولی۔۔ کیا ہے۔۔ میں نے کہا جان ناراض مت ہو پلیز۔ وہ بولی اچھا نہیں ہوں۔ اب چلیں میں نے کہا ہاں چلو

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×