Jump to content
URDU FUN CLUB

Recommended Posts

آج میں آپ لوگوں کو جو واقعہ پیش کررہا ہوں وہ لاہور کی رہنے والی سدرا کا ہے اور آپ یہ واقعہ اسی کی زبانی ہی سنیں گے

میرا نام سدرا ہے اور میری عمر 25 سال کے قریب ہے میری شادی 12 سال قبل ہوئی اور ایک بیٹی کی ماں ہوں جو اس وقت چوتھی جماعت میں پڑھتی ہے میرا شوہر آٹھ سال پہلے روز گار کی تلاش میں امریکا چلا گیا جہاں سے وہ ابھی تک تین بار پاکستان آیا ہے آخری بار وہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان آیا اور صرف دس دن کے بعد واپس چلا گیا پہلے پہل تو مجھے اس کی کمی مجھے بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی مگر آہستہ آہستہ میں اس کے بغیر رہنے کی عادی ہوگئی تقریباً ایک سال پہلے ایک رات میں باتھ روم میں جانے کے لئے اٹھی توپھر نیند نہ آئی جس پر میں چھت پر چلی گئی جہاں سے اپنے ہمسائے کو دیکھا جو اپنے لان میں اس کے ساتھ رومانس کررہا تھا اس نے اپنی بیوی کو کسنگ کے بعد اس کی قمیص کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو دبانا شروع کردیا جس سے میری سوئی ہوئی حسیں جاگ گئیں اور مجھے اپنے اور اپنے خاوند آصف کے پیار کے واقعات یاد آنے لگے جس سے میرے اندر ایک انجانی سی آگ بھڑک اٹھی تھوڑی دیر کے بعد وہ دونوں تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ میں بیڈ پر آن لیٹی میرے اندر لگی آگ مزید بڑھتی جارہی تھی میں نے ایک ہاتھ اپنی قمیص میں اور دوسرا اپنی شلوار میں ڈال لیا ایک ہاتھ سے اپنے ممے دبانے لگی جبکہ دوسرے سے اپنی پھدی میں فنگرنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد میںفارغ ہوگئی لیکن مجھے صحیح معنوں میں تسلی نہ ہوسکی اس سے اگلے روز بھی میں نے اسی طریقے سے اپنی تسلی کرنے کی کوشش کی لیکن اپنے اندر لگی آگ کو بجھا نہ سکی اس رات میں نے اپنے شوہر کو امریکا میں فون کرکے واپس آنے کو کہا تو اس نے جواب دیا کہ ابھی چھ مہینے پہلے ہی تو پاکستان آیا تھا اگلے دو سال تک دوبارہ واپسی نہیں ہوسکتی جس کے بعد میں مزید ڈس ہارٹ ہوگئی اس کے بعد میں نے کسی لڑکے کو پھنسا کر اپنی آگ بجھانے کا فیصلہ کیا جس پر عمل کرتے ہوئے میں نے اگلے دو ماہ کے اندر کمرشل ایریا میں ایک دکان پر کام کرنے والے بیس سال کے قریب عمر کے عامر نامی نوجوان کو پھنسا لیا جس کو میں نے ایک روز دن کے وقت اپنے گھر بلایا اور اس کو اپنے کمرے میں بٹھا کر کوک پلائی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر اس کو کسنگ شروع کردی شروعات میں نے کی اس کے بعد وہ سٹارٹ ہوگیا اس نے مجھے بیڈ پر لٹایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے کسنگ کے دوران اس نے اپنے ہاتھ سے میرے ممے دبانا شروع کردیئے میرے اندر آگ مزید بڑھ رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اس کو کمر سے مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور میری قمیص اتارنے لگا اس کے بعد اس نے میری بریزیئر اور شلوار اس کے بعد اپنی پینٹ شرٹ اور انڈر ویئر بھی اتار دیا اس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا جس کو دیکھ کر مجھے بہت مایوسی ہوئی کیونکہ میرے شوہر کا لن تقریباً ساڑھے چھ انچ کا تھا اور عامر صرف چار انچ لن کا مالک تھا اور وہ بھی کافی پتلا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا میں نے اسی پر گزارہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی دوران عامر نے مجھے دوبارہ کسنگ شروع کردی اور پھر میرے مموں کو چوسنے لگا وہ بڑی کمال مہارت سے یہ کام کررہا تھا اس کا ایک ہاتھ میری پھدی کو سہلا رہا تھا جس سے اس کے اندر سے پانی نکلنے لگا اس کے بعد اس نے مجھے سیدھا لٹا کر میرے مموں کو چوسا اور اور میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا سا کاٹنا شروع کردیا جس سے میرے منہ سے ایک آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ سی نکل گئی اس کے بعد اس نے میری گردن اور پھر میرے کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کردی یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہورہا تھا کہ اس نے ایک اور ناقابل برداشت کام کیا اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی کے اندر ڈال دی اور اس کو ہلکا ہلکا سا موو کرنا شروع کردیا جس سے میں مزے کی دنیا میں پہنچ گئی نشے سے میری انکھیں بند ہورہی تھیں میں نے اپنی ٹانگیں اکٹھی کرلیں اور عامر کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس کو کہنے لگی عامر بس کرو اب میری برداشت سے باہر ہورہا ہے اس کے بعد اس نے میرے پیٹ اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیری جس سے میرے مزے میں مزید اضافہ ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی میں نے ایک دم عامر کو پکڑ کر خود سے علیحدہ کردیا اور اس سے کہا کہ اب بس کرو اور اصل کام کرو لیکن اس نے میری بات ان سنی کرکے پھر سے مجھے سیدھا کیا اور اپنا منہ میری پھدی پر رکھ دیا جس سے میری جان نکل گئی اس کی زبان میری پھدی کے اندر گئی اور حرکت کرنے لگی میں نے اس کو بالوں سے پکڑ لیا میرا دل کررہا تھا کہ کسی طرح اس کی زبان مزید لمبی ہو جائے اور میرے اندر تک چلی جائے اس طریقہ سے کبھی میرے شوہر نے نہیں کیا تھا اور میرے لئے یہ مزہ نیا تھا دو منٹ تک اس نے میری پھدی کے اندر اپنی زبان چلائی پھر پیچھے ہٹ گیا اور میرے ساتھ لیٹ گیا اور مجھے کہنے لگا کہ اب تم میرے لن کو اپنے منہ میں لو میں نے پہلے یہ کام بھی نہیں کیا تھا اس لئے اس کام سے انکار کرنے لگی اس نے مجھے بہت کہا لیکن میں نہ مانی اس کے بعد وہ اٹھ کر میری ٹانگوں کے درمیان آگیا اور میری ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور اپنے لن کو میری پھدی پر رگڑنے لگا کچھ لمحے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور جھٹکا دیا اس کا پورا لن میری پھدی کے اندر چلا گیا اس کے بعد اس نے جھٹکے مارنا شروع کردیئے میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میرے اندر جاکر ٹکرائے لیکن اس کی لمبائی چھوٹی تھی جس کی وجہ سے میری خواہش پوری نہیں ہوسکی چار پانچ منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگیا لیکن میں ادھوری رہ گئی وہ مزید ایک آدھ منٹ تک میرا ساتھ دیتا تو میں بھی منزل تک پہنچ جاتی لیکن وہ فارغ ہوگیا اور ٹھنڈا ہوکر میرے اوپر آن گرا اور لمبے لمبے سانس لینے لگامجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے اندر لگی آگ مجھے بھسم کردے گی دس منٹ میرے اوپر ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ اتر کر میرے ساتھ لیٹ گیا میں نے اپنے ہاتھ سے اس کے لن کو سہلانا شروع کردیا تاکہ اس کو دوبارہ تیار کرکے خود بھی مکمل ہوجاﺅں پانچ ساتھ منٹ تک اپنی انگلیوں سے اس کے لن کے ساتھ کھیلتی رہی تو اس کے لن میں تھوڑی سی حرکت محسوس ہوئی تو کہنے لگا آپ اس کو منہ میں لیں تو جلدی کھڑا ہوجائے گا میں نے مجبوراً اس کے لن کو منہ میں لےنے کا فیصلہ کیا اور اپنی بیڈ شیٹ سے اس کے لن کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد ا سکو اپنے منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا جس کے باعث چند سیکنڈ میں ہی اس کا لن کھڑا ہوگیا میں نے اب دوسرے طریقے سے کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو لیٹے رہنے کا کہہ کر اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا لن اپنی پھدی میں لے لیا اور اس کے اوپر اچھلنے لگی چھ سات منٹ تک اسی طرح اچھل کود کرنے کے بعد میں فارغ ہوگئی اور ساتھ ہی وہ بھی چھوٹ گیا اس کے لن کی ساری منی میری پھدی میں نکلی لیکن اس کا مجھے کوئی فکر نہیں تھا کیونکہ دو سال پہلے ہی میں نے اپنا آپریشن کروا لیا تھا اس کے بعد تقریباً پانچ ماہ تک میں دوسرے تیسرے دن عامر کو اپنے گھر بلا لیتی اور اس کے ساتھ سیکس کرتی کبھی تو میں بھی مکمل ہوجاتی لیکن کبھی کبھی وہ مجھے ادھورا چھوڑ کر خود ڈھیلا ہوجاتا ایک روز اس نے مجھے نیٹ پر اردو سٹوریز کی مختلف سائٹس بتائیں جن کا میں ریگولر وزٹ کرنے لگی اور اپنے فارغ وقت کا خاصا حصہ کہانیاں پڑھنے میں صرف کرنے لگی اس دوران میں نے کہانیاں لکھنے والے کئی افراد کو ای میلز بھی کیں چند ایک نے مجھے رپلائی بھی کیا لیکن ان کے ساتھ بات آگے نہ بڑھ سکی ایک روز میں نے اردو فن کلب پر لاہور میں لائیو سیکس پرفارمنس کے حوالے سے ایک کہانی پڑھی تو میرے دل میں بھی شوق پیدا ہوا کہ میں یہ شو دیکھوں جس کے لئے میں نے اس کہانی کے رائیٹر کو ای میل کی جس میں میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا جس کا مجھے دو روز بعد جواب موصول ہوا جس میں کہانی کے مصنف شاکر محمود نے بتایا کہ ان کا شو کے آرگنائزرز کے ساتھ براہ راست رابطہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک دوست کے ریفرنس سے وہاں گئے تھے اور اگلا پروگرام مارچ یا اپریل میں ہوگا جس کے بعد ان کے ساتھ ریگولر میل کے ذریعے رابطہ ہونے لگا اس دوران ان کی چند ایک دیگر تحریریں بھی میں نے پڑھیں اور میرے دل میں ان کے ساتھ ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا میں نے ایک روز ان کو میل کرکے ان سے ملنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواباً مجھے میل میں اپنا فون نمبر SENDکردیا جس پر میں نے فوراً ان کو کال کی اور ان سے ملنے کے لئے کہا جس پر انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تو کسی کام کے سلسلہ میں اسلام آباد میں ہیں لیکن دو تین روز تک واپس آکر پہلی فرصت میں ملیں گے یہ اتوار کا دن تھا جب مجھے دن کے بارہ بجے کے قریب شاکر صاحب کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ وہ ابھی فری ہیں اور ملنا چاہتے ہیں جس پر میں نے ان سے کہا کہ آج میری بیٹی کو سکول سے چھٹی ہے اور گھر پر کچھ مہمان بھی آنے والے ہیں اگر کل کا یا رات کا ٹائم رکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا خیر یہ بات طے ہوگئی کہ رات کو ساڑھے دس بجے شاکر صاحب میرے گھر آئیں گے اور رات میرے پاس ہی ٹھہریں گے رات کو چھ بجے کے قریب گھر سے تمام مہمان چلے گئے اور سات بجے کے قریب میری بیٹی بھی سو گئی 

 

جاری ہے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×