Jump to content
URDU FUN CLUB
  • Sign Up
xhekhoo

وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی

Recommended Posts

دوستو میں اس فورم کا بہت پرانا خاموش قاری ہوں 

میں نہ تو کوئی لکھاری ہوں اور نہ ھی کچھ ذیادہ تعلیم یافتہ ہوں، 

بس یہاں سے نامور لکھاریوں سے متاثر ہوکر مجھے بھی شوق پیدا ھوا کہ اپنی زندگی  کے گزرے لمحات آپ دوستوں سے شئیرکروں پیارے دوستو اگر املاء میں کہیں مجھ سے کوئی غلطی ھوجاے تو چھوٹا بھائی سمجھ کر درگزر کر دینا اور میری رہنمائی کرتے رہنا 

پیارے دوستو  آپ کی تنقید میرے لیے رہنمائی ھوگی اور آپ کی تعریف کے چند الفاظ میرے لیے حوصلہ افزائی ھوگی، 

دوستو یہ سٹوری حقیقت پر مبنی ھے مجھے نھی پتہ کہ میں آپ کے معیار پر آپ ذوق پر پورا اتر سکوں گا کہ نھی یہ تو آپ کی قیمتی راے سے ھی مجھے پتہ چلے گا کہ کیا میں آپ کے ذوق کے مطابق لکھ رھا ھوں 

میری یہ سٹوری ان باذوق دوستوں کے لیے ھے جو اہل علم ھونے کے ساتھ ساتھ حقیقت پسند ھیں جہاں تک میری ناقص راے ہے کہ 

سٹوری میں سیکس ھونا چاھیے نہ کہ سیکس میں سٹوری 

کیونکہ اکثر لوگ صرف لن پھدی کی لڑائی کو پسند کرتے ہیں چاھے وہ حقیقت سے کوسوں دور ھو  تو میری کوشش یہ ھی ھوگی کہ میری سٹوری پڑھ کر آپ  کو بھی اپنا ماضی یاد آجاے 

اس لیے سیکس میں کہانی تلاش کرنے والوں سے میں اڈوانس معذرت کرتا ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

دوستو  میں سیالکوٹ کے کہ ایک نواحی گاوں کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں 

میری یہ سٹوری ھے ان دنوں کی 

جب مکاں کچے اور لوگ سچے ہوا کرتے تھے 

جب گاوں کے اٹھارہ سال تک کے لڑکے اور لڑکیاں سیکس نام کی کسی چیز  کے واقف نھی ھوتے تھے 

اسی لیے سب ایک دوسرے کے گھروں میں بلاجھجک چلے جاتے تھے میری عمر اس تقریباً  14 /15سال کے لگ بھگ ھوگی ہمارے گاوں میں صرف ایک ھی پرائمری سکول تھا جس میں صرف دو کمرے ھوتے تھے  اور اس سکول میں دو ماسٹر جی پڑھاتے تھے ایک ماسٹر جی تقریباً  چالیس سال کا تھا جس کا نام جمال دین تھا اور ایک ماسٹر صفدر صاحب تھے جو تقریباً  اٹھائیس تیس سال کے لگ بھگ ھوں گے جو شہر سے پڑھانے آتے تھے سکول میں ایک کلاس میں پہلی سے تیسری کلاس کے بچے پڑھتے تھے اور دوسری کلاس میں چوتھی اور پانچویں کلاس کے بچے پڑھتے تھے 

میں اس وقت چوتھی کلاس میں اچھے نمبروں سے پاس ھوا  تھا اور میرے ابو جان مجھے شہر کے سکول میں داخل کروانے کے بارے میں امی جان سے بحث کررھے تھے 

شہر کہ سکول کا سن کر میرے تو پاوں زمین پر نھی لگ رھے تھے 

اور دل میں طرح طرح کے لڈو پھوٹ رھے تھے بڑی بڑی عمارتیں بڑی بڑی گاڑیوں اور شہر کی رونق کے خیالوں میں ڈوبا میں امی جان اور ابو جان کے بحث مباحثہ کو سن رھا تھا 

امی جان میرے شہر جانے سے منع کررھی تھی کہ ابھی یاسر بچہ ھے چھوٹا ھے ناسمجھ ھے کیسے شہر جاے گا امی ابو  طرح طرح کی دلیلیں دے کر منع کررھی تھی کہ یاسر کو ایک سال اور پڑھنے دو پھر کچھ سمجھدار ھو جاے گا تو چلا جاے گا آخر کار کافی دیر کی بحث مباحثے کے بعد جیت امی جان کی ھوئی 

میں نے جب اپنے ارمانوں پر پانی پھرتے دیکھا تو رونے والا منہ بنا کر باہر  نکل کر آنٹی فوزیہ کے گھر کی طرف چل پڑا جو ہماری ھی گلی میں رہتی تھی انکا گھر ھمارے گھر سے پانچ چھ گھر چھوڑ کر آتا تھا 

میں آنٹی فوزیہ کے گھر داخل ھوا اور اونچی آواز میں سلام کیا آنٹی فوزیہ 

بہت ھی  نرم دل اور پیار کرنے والی خاتون تھی انکا قد پانچ فٹ چھ انچ اور چھاتی چھتیس انچ کی اور پیٹ بلکل اندر کی طرف تھا اور ہلکی سی گانڈ باہر کو نکلی ھوئی تھی 

رنگ انکا سفید تھا 

دوستو یہ سب مجھے اس وقت نھی پتہ تھا بلکہ بعد میں پتہ چلا آپکو پہلے بتانا ضروری سمجھا اس لیے بتا دیا،، 

 

میں نے آنٹی فوزیہ کو دیکھا جو صحن میں لگے بیری کے درخت کے نیچے چارپائی پر بیٹھی سبزی بنا رھی تھی 

میں چلتا ھوا آنٹی فوزیہ کے پاس پہنچ گیا آنٹی فوزیہ نے مجھے دیکھ کر میرے سر پر پیار دیا اور کہا آگیا میرا شزادہ  لگتا ھے آج گھر سے مار پڑی ھے میں منہ لٹکاے آنٹی فوزیہ کے پاس بیٹھ گیا 

آنٹی فوزیہ بولی کیا ھوا ایسے کیوں رونے والا منہ بنا رکھا ھے میں نے آنٹی فوزیہ کو ساری روداد سنا دی 

آنٹی فوزیہ نے مجھے اپنے کندھے کے ساتھ لگا لیا اور مجھے پیار سے سمجھانے لگ گئی کہ دیکھ پُتر تیری امی کو تجھ سے پیار ھے تو ھی  تجھے شہر جانے سے روک رھی ھے اور تم لوگوں کے حلات بھی ابھی ایسے ہیں کہ  شہر جانے کے لیے ٹانگے کا کرایہ نھی دے سکتے 

 

 

میں نے آنٹی کی بات کاٹتے ھوے کہا وہ گاما تانگے والا  بچوں کو شہر لے کر تو جاتا ھے تو آنٹی فوزیہ بولی 

دیکھ پُتر وہ زمینداروں کے بچے ہیں وہ لوگ تانگے کا کرایہ دے سکتے ہیں تم ایک سال اور پڑھ لو پھر پھر عظمی اور نسرین

(آنٹی فوزیہ کی بیٹیاں) 

بھی شہر جانے لگ جائیں گی تو تم بھی اپنی بہنوں کے ساتھ پیدل ہی نمبرداروں کی زمین کے بنے بنے نہر کی طرف سے  چلے جایا کرنا   ابھی دل لگا کر پڑھو میں  جیسے تمہارے امی ابو کہتے  ہیں انکی بات مانو میں نے اچھے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلایا تو آنٹی فوزیہ نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھ لگا لیا اور شاباش دیتے ھوے بولی یہ ھوئی نہ بات،، 

میں نے آنٹی فوزیہ سے پوچھا کہ عظمی کدھر ھے  تو آنٹی بولی وہ کمرے  میں موڈ بنا کر بیٹھی ھے نسرین تو ٹیوشن چلی گئی ھے مگر یہ ایسی ضدی لڑکی ھے کہ  میرا کہنا ھی نھی مانتی  میں یہ سن کر انٹی کے پاس سے اٹھا اور عظمی کے پاس چلا گیا میں نے دیکھا کہ عظمی سر جھکائے  کرسی پر بیٹھی ھوئی ھے، 

میں نے جاتے ھی عظمی کو چھیڑنے لگ گیا 

کہ چنگی مار پئی اے نہ آ ھا آھا 

تو عظمی نے جوتا اٹھایا اور میرے پیچھے بھاگ پڑی میں آگے آگے بھاگتا کمرے سے باہر آگیا اور آنٹی کے پاس آکر رک گیا آنٹی فوزیہ نے عظمی کو ڈانٹا  کہ کیوں میرے شزادے کو مار رھی ھو تو عظمی بولی 

تواڈا شزادہ ھوے گا میرے ناں سر چڑیا کرے آیا وڈا شزادہ بوتھی ویکھی شزادے دی 

میں نے بھی عظمی کو منہ چڑھا دیا عظمی  

زمین پر پاوں پٹختی واپس کمرے میں چلی گئی 

دوستو 

آنٹی فوزیہ  کی بس دو ھی بیٹیاں تھی وہ بھی جڑواں اس کے بعد ان کے ہاں اولاد نھی ھوئی انکا کوئی بیٹا نھی تھا اس لیے مجھے وہ اپنے بیٹے کی طرح  پیار کرتی تھی میرا بھی ذیادہ وقت انکے ھی گھر گزرتا تھا اور انکے  گھر یا باہر کے کام سودا سلف وغیرہ میں ھی لا کر دیتا تھا ویسے تو میں اپنے گھر میں نعاب تھا وہ اس لیے کہ میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے گھر کا لاڈلا بھی تھا 

باقی بہن بھائی سب مجھ سے بڑے تھے 

عظمی اور نسرین میری ہم عمر ھی تھی  نسرین کی نسبت عظمی ذیادہ خوبصورت تھی نسرین بھی کم خوبصورت نھی تھی مگر عظمی کا رنگ نسرین کی نسبت ذیادہ سفید تھا اور جسمانی طور پر بھی عظمی نسرین سے ذیادہ سیکسی تھی عظمی کا قد  تقریباً  میرے ھی جتنا  پانچ فٹ تھا  مگر ہم ساتھ کھڑے ھوتے تھے تو عظمی مجھ سے چھوٹی ھی لگتی تھی  ویسے عظمی صحت کے معاملے میں مجھ سے ذیادہ صحت مند تھی  عظمی کا رنگ کافی  سفید تھا جیسے کشمیری ھو اور جسم بھی بھرا بھرا تھا پندرہ سال کی ھی عمر میں اسکے ممے چھوٹے سائز کے مالٹے جتنے تھے اور پیچھے سے بُنڈ بھی کافی باھر کو نکلی ھوئی تھی   میں اکثر اسے موٹو کہہ کر بھی چھیڑ لیتا تھا 

جبکہ نسرین دبلی پتلی سی تھی اسکے بھی چھوٹے چھوٹے ممے تھے مگر عظمی سے کم ھی تھے 

 

 

 

میں دوبارا عظمی کے کمرے میں گیا اور عظمی کو منانے لگ گیا کافی کوشش کے بعد آخر کار  میں اسے منانے میں کامیاب ھوگیا   میں اور عظمی آنٹی فوزیہ کو کھیلنے کا کہہ کر باھر گلی میں آگئے آنٹی فوزیہ نے پیچھے سے آواز دی کہ جلدی آ جانا  ذیادہ دور مت جانا 

ہم نے آنٹی فوزیہ کی بات سنی ان سنی کی اور گلی میں نکل کر کھیت کی طرف چل پڑے 

دوستو ھماری گلی کی نکڑ   پر سڑک تھی اور سڑک کی دوسری طرف کھیت شروع ھوجاتے تھے سڑک کے ساتھ والا کھیت خالی ھوتا تھا اس میں کوئی فصل نھی ھوتی تھی جبکہ اس کھیت کے آگے والے کھیتوں میں فصل کاشت کی جاتی تھی اور اس وقت کپاس کی فصل کا موسم تھا اور کپاس کے پودے اس وقت تقریباً  پانچ فٹ تک ھوتے تھے اور کپاس کی فصل کے آگے والے کھیت جو نہر کے قریب تھے ان میں مکئی کی فصل کاشت کی ھوئی تھی اور جو دوست گاوں کے رھنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ مکئی کے پودے چھ سات بلکل آٹھ فٹ تک اونچے ھوتے ہیں اور ان کھیتوں کے درمیان ایک پگڈنڈی جسے ہم بنا کہتے تھے وہ کپاس اور مکئی کے کھیتوں کے بیچوں بیچ نہر کی طرف جاتی تھی اور نہر پر چھوٹا سا لکڑی کا پل تھا جسکو کراس کر کے لوگ یا سکول کے بچے شہر کی طرف جاتے تھے ھمارے گاوں اور شہر کا فاصلہ تقریباً  دو کلو میٹر تھا 

خیر ہم دونوں نے سڑک کراس کی اور کھیت میں چلے گئے جہاں پہلے ھی کافی سارے ہمارے ہم عمر لڑکے اور لڑکیاں کھیل رھے تھے جن کی عمر دس سے پندرہ سال ھی تھی کچھ ہماری گلی کے کچھ ادھر ادھر کی گلیوں کے تھے 

دوستو،، 

ہمارا  پسندیدہ کھیل لُکن میٹی سٹیپو باندر کِلا وانجو  پکڑن پکڑائی ھوتا تھا 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

جب ہم کھیت میں پہنچے تو سب بچے ہاتھوں پر ہاتھ مار کر چُھپن  چھپاٰئی کی باریاں لے رھے تھے ہمیں آتا دیکھ کر ہماری گلی کا ھی ایک لڑکا زاہد جو ہمارا سب سے اچھا دوست تھا وہ غصے سے بولا

آگئی ہنساں دی جوڑی اینی دیر کردتی یار 

میں نے کہا یار ایس میڈم نے دیر کرادتی رُس کے بیٹھی تھی نواب زادی 

تو میں اور عظمی نے بھی اپنی اپنی باری پُگی  اور تین بچوں  کی باری آگئی جنہوں نے باقی بچوں کو ڈھونڈنا تھا 

ہم سب  چُھپنے کے لیے کپاس کی فصل کی طرف بھاگے  سب بچے علیحدہ علیحدہ اپنی اپنی جگہ پر چھُپ گئے جبکہ میں اور عظمی  کپاس کی فصل میں سے ھوتے ھوے کافی آگے کی طرف نکل آے تو عظمی بولی یاسر بس ادھر ھی چھپ جاتے ہیں  میں نے سنا ھے کہ مکئی میں اوندے سور آے ھوے ہیں 

دوستو ان دنوں ہمارے گاوں میں افواہ پھیلی ھوئی تھی کہ نہر کے پاس کھیتوں میں سور آے ھوے ہیں اس لیے ھو بھی ادھر جاے احتیاط  سے جاے، 

 

مگر ہماری عمر ڈرنے کی کہاں تھی بس  سکول سے آتے ھی کھیل کھیل بس کھیل نہ کھانے کی فکر نہ پینے کی نہ گرمی نہ سردی  کی فکر 

 

میں نے عظمی کو تسلی دی کہ کچھ نھی ہوتا یار 

پنڈ والے ایویں چولاں ماردے نے  کہ کوئی چھلیاں نہ توڑے

عظمی بولی نئی یاسر مجھے ڈر لگ رھا ھے  

تو ہم ایسے ھی باتیں کرتے کرتے کپاس کی فصل کے آخر میں پہنچ گئے جہاں ایک پانی کا کھالا تھا جسکو کراس کر کے دوسری طرف مکئی کی فصل شروع ھوجاتی تھی 

کھالے کے ساتھ ساتھ کافی بڑے بڑے مختلف قسم کے درخت تھے 

میں نے عظمی کو کہا چلو ہم درختوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں یہاں سے ہمیں وہ ڈھونڈ نھی سکیں گے میں نے چھلانگ لگا کر کھالا کراس کیا اور پھر عظمی نے بھی ڈرتے ڈرتے چھلانگ لگائی اور  میں اسکی ھی طرف منہ کر کے کھڑا تھا عظمی نے  جب چھلانگ لگائی تو سیدھی آکر میرے  سینے سے ٹکرائی میں نے اسکو بانھوں میں بھر کر سنبھال لیا ایسا کرنے سے اس کے ممے میرے سینے میں پیوست ھوگئے 

ہمارے ذہن اس وقت سیکس سے بلکل پاک ھوتے تھے اس لیے کبھی بھی ذہن میں کوئی گندا خیال نھی آیا تھا میں اکثر کبھی کبھی عظمی کو جپھی ڈال کر اوپر کی طرف اٹھا کر گھمانے لگ جاتا تھا اور اس کا وزن ذیادہ ھونے کی وجہ سے کبھی کبھار ایک دوسرے کے اوپر گر بھی جاتے تھے ۔۔۔

 

عظمی جب  مجھ سے ٹکرائی تو میں نے اسے سنبھال کر  ٹالی کے درخت کے پیچھے لے آیا 

اور عظمی میرے آگے کھڑی ھوگئی اور میں عظمی کے پیچھے اسکی بُنڈ کے ساتھ لگ کر کھڑا ھوگیا اور دونوں آگے پیچھے اپنے سروں کو نکال کر  سامنے بنے کی طرف دیکھنے لگ گئے  میرا لن جو اس وقت کوئی چار ساڑے چار  انچ کا ھوگا جو سویا ھوا عظمی کی بُنڈ کے دراڑ کے اوپر بلکل ساتھ چپکا ھوا تھا اور ہم ڈھونڈنے والوں کا انتظار کرنے لگ گئے  کہ اچانک عظمی نے؟؟؟؟؟ 

چانک عظمی نے گبھرائی ہوئی آواز میں کہا یاسر مجھے لگ رھا ھے جیسے مکئی  میں  کوئی ھے چلو ادھر سے میں پیچھے سے عظمی کے ساتھ بلکل چپکا ھوا تھا  یہ بات نھی تھی کہ مجھے سیکس والا مزہ آرھا تھا بس ویسے ھی مجھے عظمی کی نرم نرم گانڈ کے ساتھ. چپک کر کھڑے ھونا اچھا لگ رھا تھا میں نے عظمی کو کہا کوئی بھی نھی ھے یار ایک تو تم ڈرپوک بہت ھو عظمی کچھ دیر اور کھڑی رھی پھر اس نے مجھے پیچھے کیا اور جلدی سے  کھالے پر سے چھلانگ لگا کر دوسری طرف چلی گئی اور مجھے کہنے لگی تم کھڑے رھو میں تو جارھی ھوں میں بھی چارو ناچار  اسکے پیچھے ھی کھالا پھیلانگ  چل پڑا تب  ہمیں بچوں کی آوازیں بھی سنائی دینے لگ گئی کی انہوں نے کسی بچے کو ڈھونڈ لیا تھا اس لیے خوشی میں شور مچارھے تھے ہم دونوں بھی  اتنی دیر میں  ان بچوں کے پاس جا پہنچے پھر کچھ دیر ہم نے ادھر کی پکڑن پکڑائی کھیلتے رھے اور پھر شام ھونے لگی تو ہم اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیے 

 

ایسے ہی وقت گزرتا رھا سکول سے گھر  اور گھر سے کھیل کود 

 

ایک دن ہم سکول میں اپنی کلاس میں بیٹھے تھے  کلاس کیا تھی نیچے ٹاٹ بچھے ھوتے تھے جدھر جدھر چھاوں  جاتی ادھر ادھر ہماری کلاس گھیسیاں کرتی کرتی  جاتی   ہمارے ٹیچر سر صفدر صاحب تھے جو کہ شاید ابھی تک کنوارے ھی تھے اور شہری بابو ھونے کی وجہ سے کافی بن ٹھن کر رھتے تھے 

 

ہماری کلاس میں ایک  لڑکا صغیر پڑھتا تھا   اسکی امی  آنٹی فرحت  سکول آئی اور ماسٹر جی کو سلام  کیا تب ماسٹر جی نے مجھے آواز دی کی یاسر جاو کمرے سے کرسی لے کر آو میں بھاگا بھاگا گیا اور کمرے سے ایک کرسی اٹھا کر لے آیا جس پر آنٹی فرحت بیٹھ گئی 

 

دوستو آنٹی فرحت کا تعارف کرواتا چلوں،، 

 

آنٹی فرحت  کا خاوند ایک حادثے  میں فوت ھوگیا تھا  اور انکا ایک ھی بیٹا تھا  انکے شوہر کی وفات کے بعد آنٹی فرحت کی امی انکو اپنے پاس ہمارے گاوں ھی لے آئی تھی 

 

آنٹی فرحت کافی شریف اور پردہ دار  عورت تھی انہوں نے بڑی سی چادر سے اپنا آپ ڈھانپ رکھا تھا اور چادر سے ھی چہرے پر نقاب کیا ھوا تھا  نقاب سے ان کی  بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں ھی نظر آرھی تھی  اور انکی آنکھیں ھی انکے   باقی حسن کی تعریف کے لیے کافی تھی جس کی آنکھیں ھی ایسی ھوں کہ جو بھی انکو دیکھے تو بس اس جھیل میں ایسا ڈوبے کہ کسی اور چیز کا اسے ھوش نہ رھے 

 

انٹی فرحت کا قد پانچ فٹ سات انچ تھا اور باقی کا فگر آگے چل کر بتاوں گا 

 

انٹی فرحت آہستہ آہستہ ماسٹر جی سے پتہ نھی کیا باتیں کررھی تھی میں نے غور کیا کہ ماسٹر جی آنٹی فرحت کے ساتھ کافی فری ھونے کی کوشش کررہے ہیں اور ان سے بات کرتے ھوے اپنے منہ کے بڑے سٹائل بنا رھے ہیں  تب ماسٹر جی نے صغیر کو آواز دی کے اپنا دستہ لے کر آے صغیر سر جھکائے اپنا دستہ لیے ماسٹر جی اور انٹی فرحت کے پاس جا پہنچا ماسٹر جی نے دستہ کھولا اور کچھ ورق پلٹنے کے بعد دستہ انٹی فرحت کی طرف بڑھا دیا آنٹی فرحت نے دستہ دیکھا اور پھر شرمندہ سی ھوکر  اپنے بیٹے کو گھورنے لگ گئی  تب ماسٹر جی نے مجھے آواز دی کہ یاسر ادھر آو میں ذرہ آفس میں جا رھا ھوں تم کلاس کا دھیان رکھو کوئی بچہ شرارت نہ کرے،، 

 

 

 

دوستو میں کلاس میں سب سے لائق تھا اور میرا قد بھی تقریباً  سب بچوں  سے بڑھا تھا اس لیے میں کلاس میں سب سے آگے بیٹھتا تھا اور ماسٹر جی نے مجھے کلاس کا مانیٹر بھی بنا رکھا تھا اور میرے ساتھ عظمی  بیٹھی ھوتی تھی ماسٹر جی مجھے سمجھا کر اٹھے اور آنٹی فرحت اور انکے بیٹے کو کمرے میں بنے آفس کی  طرف آنے کا کہا اور خود آفس کی طرف چل پڑے اور انکے  جاتے ھی انٹی فرحت کرسی سے اٹھی تو  پیچھے سے چادر سمیت قمیض انکی گانڈ میں پھنسی ھوئی تھی جسکو انہوں نے بڑی ادا سے باہر نکالا اور اپنے بیٹے کا ھاتھ پکڑ کر ماسٹر جی کے پیچھے  پیچھے چل پڑی

 

اور میں کلاس کی طرف منہ کرکے کھڑا ھوگیا اب میرا منہ کمروں کی طرف تھا جب کہ ساری کلاس کی پیٹھ کمروں کی طرف تھی کلاس کمروں کی مخلاف سمت بیٹھتی تھی 

 

کچھ ھی دیر بعد مجھے صغیر کمرے سے نکلتا ھوا نظر آیا اور آکر  میرے پاس سے گزرنے لگا تو میں نے اسے پوچھا سنا خوب کلاس لگی ماسٹر جی اور آنٹی جی سے تو  شرمندہ سا ھوکر جا کر کلاس میں بیٹھ گیا  تقریباً  دس پندرہ منٹ کے بعد مجھے پیشاب آگیا میں نے عظمی کو اپنی جگہ کھڑا کیا اور کمروں کے پیچھے بنے ھوے  صرف نام کے واش روم کی طرف چل پڑا  

 

دوستو سکول میں دو ھی کمرے تھے ایک کمرے کو تو جب سے میں نے دیکھا تالا ھی لگا ھوا تھا جبکہ دوسرے آدھے کمرے میں  پہلے آفس بنا ھوا تھا جس میں ایک میز اور دو تین کرسیاں پڑی تھی جب کے کمرے کے دوسرے حصے میں ایک الماری لگا کر پارٹیشن کی گئی تھی اور اس کے  پیچھے. دو چارپایاں پڑی تھی جن پر اکثر ماسٹر جی آرام کرنے کے لیے لیٹ جاتے تھے اور الماری کے سائڈ سے ایک تین فٹ کی جگہ رکھی تھی جس کے اگے دیوار اور 

جس کے آگے دیوار اور الماری میں کیل ٹھونک کر رسی کے ساتھ پردہ لٹکایا ھوا تھا 

میں  پیشاب کر کے واپس جانے کے لیے  کمرے کے پیچھے بنی ہوئی کھڑکی کے پاس سے گزرنے لگا تو مجھے آنٹی فرحت کی آواز سنائی دی جو ماسٹر جی کو کہہ رھی تھی 

کہ ماسٹر جی نہ کرو تمہیں **** کا واسطہ مجھے جانے دو میں ایسی نھی ھوں  مگر ماسٹر جی اسے تسلیاں دے رھے تھے کہ کچھ نھی ھوتا بس دو منٹ کی بات ھے کسی کو پتہ نھی چلے گا 

پھر آنٹی فرحت کی آواز آئی کہ نھی ماسٹر جی مجھے جانے دو کسی نے دیکھ لیا تو میری پورے گاوں میں بدنامی ھوجاے گی 

میں نے جلدی سے کھڑکی میں جھانکنے کے لیے اوپر کی طرف جمپ لگایا مگر کھڑکی میرے قد سے اونچی تھی اس لیے میں اندر دیکھنے میں ناکام رھا، 

اچانک آنٹی فرحت کی چیخ سنائی دی میں چیخ سن کر گبھرا گیا اور جلدی سے دبے پاوں کمرے کے دروازے کی طرف دوڑا میں نے دروازے کو آہستہ سے کھولا  کیوں کہ مجھے یہ کنفرم ھوگیا تھا کہ ماسٹر جی دفتر والے حصہ میں نھی ہیں بلکہ دفتر کے پچھلے  حصہ میں آنٹی فرحت کو لے گئے ہیں 

مگر پھر بھی میں نے ڈرتے ڈرتے بڑی احتیاط  سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا تو میرا خیال بلکل درست نکلا دفتر واقعی ھی خالی تھا 

میں آہستہ سے دبے پاوں پنجوں پر چلتا ھوا  کمرے میں داخل ھوا اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا اور پردے کے پاس جا پہنچا 

میں نے جب تھوڑا سا پردہ ھٹا کر اندر جھانکا تو میرے تو پاوں تلے سے زمیں نکل گئی اندر کا منظر ھی میری سوچ کے برعکس تھا 

 

اندر کا سین دیکھ کر تو میرے رونگٹے  کھڑے ہوگئے میں تو یہ سوچ کر اندر آیا تھا کہ پتہ نھی ماسٹر جی اور فرحت آنٹی کی لڑائی ھو رھی اور ماسٹر جی نے فرحت آنٹی کو مارا ھے جس وجہ سے فرحت آنٹی کی چیخ نکلی تھی 

مگر یہاں تو ساری فلم ھی الٹ تھی 

میں آنکھیں پھاڑے اندر دیکھنے لگ گیا کہ ماسٹر جی نے فرحت آنٹی کو جپھی ڈالی ھوئی تھی اور ماسٹر جی فرحت آنٹی کے ہونٹوں میں ہونٹ ڈال کر چوس رھے تھے اور  آنٹی فرحت کی آگے سے قمیض اوپر تھی اور انکے دونوں بڑے بڑے  گول مٹول چٹے سفید چھتیس سائز کے ممے بریزئیر سے آزاد تھے اور ماسٹر جی کا ایک ھاتھ آنٹی فرحت  کے ایک مُمے پر تھا اور دوسرا ھاتھ آنٹی فرحت کی بُنڈ پر رکھ کر اوپر نیچے پھیر رھے تھے ۔

انٹی فرحت کو بھی شاید مزہ آرھا تھا کیوں کہ آنٹی فرحت نے اپنا ایک ہاتھ ماسٹر جی کی گردن پر رکھا ھوا تھا اور اپنی انگلیوں کو انکی گردن کے گرد پھیرتی کبھی اوپر سر کہ بالوں پر لے جاتی 

دوستو میں نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی عورت کو ننگا دیکھا تھا اور وہ بھی اس عورت کو جس کے بارے میں میں سوچ بھی نھی سکتا کہ یہ بھی ایسی گندی حرکت کرسکتی ھے اور وہ بھی کسی غیر مرد کے ساتھ اس حال میں میرا تو دیکھ کر برا حال ھورھا تھا ماتھے پر پسینہ اور نیچے سے میری ٹانگیں کانپ رھی تھی 

ادھر ماسٹر جی اور آنٹی فرحت دنیا سے بے خبر اپنی مستی میں گم تھے 

ماسٹر جی مسلسل آنٹی فرحت کے ہونٹ چوس رھے تھے  پھر ماسٹر جی نے آنٹی فرحت کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ علیحدہ کیے تو میں نے دیکھا کہ آنٹی فرحت کی آنکھیں بند تھی اور وہ کسی سرور میں کھوئی ھوئی تھی اور منہ چھت کی طرف تھا  اب ماسٹر جی نے آنٹی فرحت کی گالوں کو چومنا شروع کردیا ماسٹر جی کبھی آنٹی فرحت کے گالوں کو چومتے کبھی زبان پھیرتے تو کبھی ان کے گال کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتے 

آنٹی فرحت کا رنگ تو پہلے ھی  چٹا سفید تھا اب بلکل  ٹماٹر کی طرح سرخ ھوچکا تھا 

ماسٹر جی  آنٹی فرحت کے گالوں کو چومتے چومتے انکے گلے پر زبان پھیرنے لگ گئے ماسٹر جی جیسے ھی گلے سے زبان پھیر کر اوپر ٹھوڑی کی طرف لے کر جاتے تو آنٹی فرحت کو پتہ نھی کیا ھوتا وہ ایک دم پنجوں کے بل کھڑی  ھوجاتی اور بند آنکھوں سے چھت کی طرف منہ کیے ایک لمبی سسکاری لیتے ھوے سسسسسیییی کرکے ماسٹر جی کے ساتھ مزید چمٹ جاتی 

ماسٹر جی نے اب زبان کا رخ آنٹی فرحت کے کان کی لو کی طرف کیا جیسے جیسے ماسٹر جی کی زبان آنٹی فرحت کے کان کی لو سے ھوتی ھوئی کان کے پیچھے کی طرف جاتی تو آنٹی فرحت ایک جھرجھری سی لیتی اور اپنی پھدی والے حصہ  کو ماسٹر جی کے لن والے حصہ  کے ساتھ رگڑتی اور منہ سے عجیب عجیب سی آوازیں نکالتی  ماسٹر جی بھی آنٹی فرحت کو پاگل کرنے کے چکر میں تھے ماسٹر جی تین چار، منٹ تک ایسے ھی کبھی گالوں پر کبھی گلے پر کبھی کان کے پیچھے زبان پھیرتے رھے  پھر ماسٹر جی تھوڑا نیچے ھوے اور آنٹی فرحت کے بڑے سے ممے پر لگے براون نپل پر زبان پھیرنے لگ گئے آنٹی فرحت کے ممے کا نپل کافی موٹا اور ایک دم اکڑا ھوا تھا 

 

ماسٹر جی مسلسل اپنی زبان کو نپل پر پھیرے جا رھے تھے اور کبھی نپل کے گرد  براون دائرے پر زبان گھماتے  انٹی فرحت مزے سے سسسییی افففففف اممممم کری جارھی تھی  

ماسٹر جی اب اپنا ایک ھاتھ انٹی فرحت کے پیٹ پر پھیر رھے تھے اور کبھی اپنی انگلی انکی ناف کے سوارخ میں پھیرنے لگ جاتے    اب ماسٹر جی نے ایک ممے کو اپنے منہ میں بھر لیا تھا اور زور زور سے چوسی جارھے تھی انکی تھوک سے سارا مما گیلا ھو گیا تھا 

ماسٹر جی اپنے ھاتھ کو بھی آہستہ آہستہ نیچے پھدی کے قریب لے جا رھے تھے 

آنٹی فرحت کی حالت دیکھنے والی تھی  انکا ھاتھ مسلسل ماسٹر جی کے  سر کے بالوں  کو مٹھی میں لیے ھوے تھا کبھی بالوں کو مٹھی میں بھر لیتی کبھی انگلیوں کو بالوں میں پھیرنے لگ جاتی 

ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ آنٹی فرحت کی شلوار کے نالے پر رکھ لیا اور انگلیوں سے نالے کا سرا تلاش کرنے لگ گئے آنٹی فرحت کو شاید محسوس ھوگیا تھا کہ ماسٹر جی اب اگلے کس مرحلے  میں داخل ھونے کی کوشش میں ہیں اس لیے انہوں نے اپنا ایک ھاتھ جلدی سے ماسٹر جی کے ھاتھ پر رکھ کر زور سے دبا دیا ماسٹر جی نے اپنی آنکھیں اوپر کر کے انٹی فرحت کی آنکھوں میں دیکھا تو آنٹی فرحت نے نھی میں سر ہلایا جیسے کہنا چاہ رھی ھو کہ بس اس سے آگے کچھ نھی کرنا 

مگر

ماسٹر وی کسے چنگے استاد دا

چھنڈیا ھویا سی 

ماسٹر جی نے بڑے پیار اے اپنا ھاتھ چھڑوایا جیسے اپنا ارادہ بدل لیا ھو مگر ماسٹر جی نے ھاتھ چھڑواتے ہوے شلوار کے نالے  کے سرے کو اپنی انگلیوں کے درمیان پھنسا لیا تھا 

اور ایک جھٹکے سے نالا کھینچا تو آنٹی فرحت کی شلوار کا نالا کھل گیا اس سے پہلے کہ انٹی فرحت کچھ سمجھتی انکی شلوار  انکے پاوں میں پڑی تھی

میری آنکھوں کے سامنے اب آنٹی فرحت کی گوری گوری موٹی بھری بھری ننگی ٹانگیں اور اوپر پٹوں کے درمیاں گولڈن رنگ کے بالوں میں ڈھکی انکی پھولی ھوی پُھدی تھی یہ سین دیکھتے ھی میرا ھاتھ خود ھی اپنے لن پر چلا گیا جو پتہ نھی کب سے کھڑا تھا اور لن پر ھاتھ جاتے ھی انگلیوں نے لن کو مسلنا شروع کردیا ،،

ادھر ماسٹر جی نے بھی موقعہ ضائع کئے بغیر جلدی سے اپنا ایک ھاتھ آنٹی فرحت کی پھدی پر رکھ دیا اور ھاتھ کی درمیانی انگلی کو پھدی کے اوپر نیچے کرنے لگ گیا انٹی فرحت نے جلدی سے اپنا ھاتھ ماسٹر جی کے ھاتھ کے اوپر  رکھ کر ھاتھ کو ہٹانے لگ گئی مگر ماسٹر جی کا داو کام کر گیا تھا جلد ھی آنٹی فرحت ماسٹر جی کا ھاتھ  ہٹانے کے بجاے انکے ھاتھ کو اپنے ھاتھ سے پھدی پر دبانے لگ گئی اب آنٹی فرحت اپنی ٹانگوں کو مزید کھول کر ماسٹر جی کے ھاتھ کو آگے پیچھے جانے کا راستہ دے رھی تھی ماسٹر  جی نے اپنی ایک انگلی جیسے ھی پھدی کے اندر کی آنٹی فرحت کے منہ سے ایک لمبی سی  سسسسسسسییی نکلی اور ساتھ ھی ماسٹر جی کا سر پکڑ کر اوپر کی طرف لے گئی اور دونوں  کے ہونٹ پھر ایک دوسرے کے ساتھ  مل گئے اب ماسٹر جی سے ذیادہ جوش و  جنون آنٹی فرحت میں تھا وہ پاگلوں کی طرح ماسٹر جی کے ہونٹ چوس رھی تھی ادھر ماسٹر کی انگلیاں سپیڈ سے پھدی کے اندر باہرھو رھی تھی 

اچانک آنٹی فرحت کی آنکھیں نیم بند ھونے لگ گئی اور منہ سے ھاےےےےےے امممممم اففففففف میں گئی میں گئیییییی کی آوازیں آنے لگ گئی ماسٹر جی نے جب یہ اوازیں سنی تو اپنے ھاتھ کی سپیڈ اور تیز کردی اچانک آنٹی فرحت نے اپنی دونوں ٹانگوں کو ماسٹر جی کے ھاتھ سمیت ذور سے آپس میں بھینچ لیا  اور نیچے کی طرف جھکتی گئی اتنا جھکتی گئی کہ نیچے ھی پاوں کے بل پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی ماسٹر جی بھی ھاتھ کے پھنسے ھونے کی وجہ سے ساتھ ساتھ نیچے  ھوتے گئے آنٹی فرحت نے اپنے گٹنوں پر دونوں بازو رکھے اور بازوں پر سر رکھ کر بیٹھی رھی 

کچھ دیر ایسے ھی بیٹھنے کے بعد ماسٹر جی نے آنٹی فرحت کو کھڑا کیا تو  آنٹی فرحت نے اٹھتے ھوے ساتھ ھی اپنی شلوار اوپر کرلی اور ذور سے ماسٹر جی کو پیچھے کی طرف دھکا دیا اور جلدی  سے اپنی شلوار کا نالا باندھ لیا  ماسٹر جی حیران پریشان آنٹی فرحت کا منہ  دیکھے جارھے تھے  ماسٹر جی نے پھر آنٹی فرحت کو بازوں سے پکڑ کر کہا فرحت کیا ھوا تو  آنٹی فرحت نے کہا چھوڑو مجھے  خبردار میرے قریب مت آنا  ماسٹر جی کے دماغ پر تو پھدی سوار تھی 

انکی منی تو انکے دماغ کو چڑ گئی تھی چڑتی بھی کیسے نہ بیچارا ایک گھنٹے سے خوار ھورھا تھا 

ماسٹر جی جب دیکھا کہ پھدی ھاتھ سے نکل رھی ھے تو  جلدی سی  آنٹی فرحت کو پیچھے سے جپھی ڈال لی اور آنٹی فرحت کو گھما انکا منہ پردے کی طرف کردیا آنٹی فرحت کی نظر پردے پر جیسے ھی پڑی

میرے تے ٹٹے ای تاں چڑ گئے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے لگا کہ آنٹی فرحت نے مجھے دیکھ لیا ھے جبکہ میں  بلکل تھوڑا سا پردہ سرکا کہ اندر دیکھ رھا تھا 

میں بنا کچھ سوچے سمجھے وھاں سے بھاگا اور سیدھا کلاس کی طرف آگیا مجھے کلاس کی طرف آتے دیکھ  عظمی بھی میری طرف متوجہ ھوگئی میں پسینے سے شرابور تھا اور میرے دل کی دھڑکن ٹرین کی سپیڈ  جتنی تیز چل رھی تھی میں اس قدر گبھرایا اور ڈرا ھوا تھا کہ میں نے یہ بھی پروا نھی کی کہ عظمی مجھے غور سے دیکھ رھی ھے  اور میں عظمی کو نظر انداز کرتا ھوا اسکے پاس سے گزر کر اپنی جگہ پر جاکر بیٹھ گیا 

عظمی کو بھی میری حالت کا اندازہ ھوگیا تھا وہ گبھرائی ھوئی میرے پاس آکر بیٹھ گئی اور مجھے کندھے سے پکڑ کر  بولی یاسر کیا ھوا اتنی دیر کہاں لگا دی اتنے گبھراے ھوے کیوں ھو کیا ھوا سب خیریت تو ھے ناں عظمی نے ایک ھی سانس میں کئی سوال کردئے یہ تو شکر ھے کہ اس نے یہ سب آہستہ سے پوچھا تھا ورنہ پیچھے بیٹھے سب بچے سن لیتے میں نے کچھ دیر گبھراے ھوے ھی عظمی کو دیکھتا رھا اسے بتانے کو میرے پاس کوئی الفاظ نھی تھے  مجھے ایسے اپنی طرف دیکھتے عظمی نے مجھے بازوں سے پکڑے پھر جنجھوڑا یاسر بولو  کیا سوچ رھے ھو 

میں ایک دم سکتے سے باہر آیا اور اپنی انگلی اپنے منہ پر رکھ کر اسے چپ رھنے کا اشارہ کیا اور آہستہ سے اسے کہا کہ گھر جاتے ھوے بتاوں گا ابھی چپ رھو 

وہ میری حالت دیکھ کر چپ کر کے بیٹھ گئی 

میرا دھیان اب کمرے کے دروازے کی طرف ھی تھا 

اور دل میں کئی وسوسے آرھے تھے کہ پتہ نھی میرے ساتھ اب کیا ھوگا  آنٹی فرحت نے اگر مجھے دیکھ لیا ھے تو ماسٹر جی کو ضرور بتاے گی 

یاسر پتر توں تے گیا ھن 

ھن تیری خیر نئی 

ماسٹر جی نے تو مار مار میرا برا حال کردینا ھے اور گھر میرے گھر شکایت پہنچ گئی تو پھر ابو نے الگ سے مارنا ھے 

میری اپنی قیاس آرائیاں  جاری  تھی تو میں ماسٹر جی کو کمرے سے باہر نکل کر تیز تیز قدموں سے کلاس کی طرف آتے دیکھا 

ماسٹر جی کو آتے دیکھ کر میرا تو گلا خشک ھوگیا بیٹھے ھی میرا جسم کانپ رھا تھا 

ماسٹر جی 

کلاس میں آکر کرسی پر بیٹھ گئے انکے چہرے  پر غصہ صاف صاف جھلک رھا تھا 

اب مجھے نھی معلوم تھا کہ یہ غصہ میرے دیکھنے کا ھے یا پھدی ملنے کی ناکامی کا تھا 

خیر ماسٹر جی نے بڑی کرخت آواز میں کہا یاسررررر میں ایسے اٹھ کر کھڑا ہوا جیسے میرے نیچے سے کسی سوئی چبھوئی ھو 

میں نے اٹھتے ھی کہا یس سر 

ماسٹر جی بولے 

تمہیں کہا تھا سب بچوں کے گھر کا کام چیک کرو تم نے کیا 

میں حیران پریشان کھڑا تھا مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ ماسٹر جی نے صرف کلاس کا دھیان رکھنے کا کہا تھا 

میں نے کہا نھی سر آپ نے مجھے صرف دھیان رکھنے کا کہا تھا 

تو ماسٹر جی غصہ سے بولے الو کے پٹھے اگر نھی کہا تھا تو کرلیتے تمہیں مانیٹر کس لیے بنایا ھے 

بیٹھ جاو 

میں جلدی سے بیٹھ گیا 

اور دل میں ماسٹر جی کو برا بھلا کہنے لگ گیا 

کہ گانڈو تینوں پھدی نئی ملی ایدے وچ وی میرا ای قصور اے 

پھر ماسٹر جی نے سب بچوں کو ہوم ورک چیک کروانے کا کہا اور باری باری سب کا ہوم ورک چیک کرنے لگ گئے 

ماسٹر جی نے پھدی کی ناکامی کا سارا غصہ ان بچوں پر نکالا  جنہوں نے ہوم ورک نھی کیا ھوا تھا 

مجھے کچھ تسلی ھوگئی تھی کہ ماسٹر جی کو نھی پتہ چلا کہ میں بھی انکی پھدی لینے کی خواری کو دیکھ رھا تھا  

چھٹی سے گھر واپس آرھے تھے تو نسرین عظمی اور محلے کے کچھ بچے بھی ہمارے ساتھ ساتھ ھی تھے مجھے عظمی کے چہرے پر کافی بےچینی سی نظر آرھی تھی 

ہم سب اکٹھے ھی چل رھے تھے کہ اچانک عظمی نے ھاتھ میں پکڑا دستہ نیچے پھینک دیا اور ظاہر ایسے کروایا جیسے خود ھی اسکے ھاتھ  سے نیچے گرا ھو اور عظمی نیچے بیٹھ کر دستہ اٹھانے لگ گئی میں بھی اس کے پاس کھڑا ھوگیا جبکہ نسرین سمیت باقی بچے آگے گزر گئے عظمی نے جب دیکھا کہ ساتھ والے بچے اب کچھ آگے چلے گئے ہیں تو وہ اٹھ کھڑی ھوئی اور ہم دونوں گھر کی طرف چلنے لگ گئے تو عظمی نے مجھ سے کہا اب بتاو کیا ھوا تھا 

میں نے کہا یار بتا دوں گا صبر تو کرو تو عظمی بولی ابھی بتا دو کیا مسئلہ ھے تو میں نے کہا یار یہ لمبی بات ھے ہمارا گھر آنے والا ھے  اتنی جلدی کیسے بتا دوں تو عظمی بولی جلدی جلدی بتاو کہ ھوا کیا تھا جو اتنا ڈرے ھوے تھے  تو میں نے کہا یار وہ ماسٹر جی اور آنٹی فرحت،،،،،،، 

یہ کہہ کر میں پھر چپ ھوگیا اتنے میں ھم اپنی گلی کا موڑ مڑ کر گلی میں داخل ھوچکے تھے اور کچھ آگے نسرین اکیلی کھڑی ھمارا انتظار کررھی تھی نسرین کو دیکھ کر میں نے شکر ادا کیا کہ فلحال جان چھوٹی   عظمی نے مجھے پھر کہنی ماری بولو کیا ماسٹر جی اور آنٹی فرحت تو میں نے بھی اسے کہنی مارتے ھوے سامنے نسرین کی طرف اشارہ کرتے ھوے خاموش کرادیا اور پھر بتاوں گا کہہ کر ٹال دیا اتنے میں ہم نسرین کے پاس پہنچ گئے تو نسرین بولی 

تواڈے دوناں دیا لتاں ٹُٹیاں ھویاں نے  لتاں کڑیس کڑیس کے ٹُردے او 

میں نے شوخی سے کہا 

تینوں جے پر لگے ھوے نے جیڑا اوڈ کے اگے اگے پہنچ جانی اے 

تو نسرین پھوں پھوں کرتی چل پڑی  پہلے میرا گھر آیا میں ان دونوں کو بات بات کرتا گھر داخل ھوگیا اور امی جان جو سلام کیا اور کمرے کی طرف چل دیا سکول بیگ رکھا اور دھڑم سے چارپائی پر گر گیا جیسے بڑی محنت مزدوری کر کے آیا ھوں 

لیٹتے ھی آنکھیں بند کرلی اور ماسٹر جی اور فرحت کے بارے میں سوچنے لگ گیا 

 

دوستو فرحت کو اب میں انٹی نھی بولوں گا سالی اب اس لائق ھی نھی رھی،،،، 

میری آنکھوں کے سامنے فرحت کے گورے گورے خربوزے جتنے ممے آرھے تھے کیا گول مٹول نرم سے چٹے سفید دودہ سے بھرے پیالے تھے جسکو ماسٹر منہ لگا کر مزے لے لے کر پی رھا تھا کیا گورا پیٹ  جو بلکل اندر کی طرف تھا کیا کمال کی گوری چٹی ٹانگیں 

کیا موٹے گول گول پٹ  تھے اور انکے درمیاں گولڈن پھدی واہ کیا بات تھی ماسٹر گانڈو تو بڑا خوش قسمت نکلا 

یہ سوچتے سوچتے مجھے نھی پتہ چلا کب میں اپنے لن کو پکڑ کر مسلی جا رھا ھوں اور لن ساب بھی  ٹنا ٹن کھڑے تھے 

کہ اچانک امی جان کی آواز نے مجھے خیالوں سے لا باھر پھینکا 

یاسررررر 

 

 

 

امی کی آواز سنتے ھی میں ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گیا اور اونچی آواز میں بولا جی امی جی 

تو امی کی برآمدے سے پھر آواز آئی پتر آکر روٹی کھا لو 

میں جلدی سے اٹھا اور باہر برامدے میں آکر امی کے پاس بیٹھ گیا جو چولہے پر روٹیاں پکا رھی تھی 

روٹی کھا کر میں پھر کمرے میں آگیا اور ہوم ورک کرنے لگ گیا ہوم ورک کر کے میں پھر لیٹ گیا اور پتہ نھی کب میری آنکھ لگی جب میں اٹھا تو اس وقت چاربج رھے تھے 

امی نے بتایا کہ دو دفعہ عظمی تمہیں بلانے آئی تھی کہ امی یاسر کو بلا رھی ھے 

تبھی میری بہن نازی جسکا اصل نام نازیہ تھا پیار سے اسے ناشی کہتے تھے وہ بولی ان لوگوں نے اسے نوکر سمجھا ھوا ھے   جب بھی کوئی کام ھوتا ھے تو منہ اٹھا کر اسے بلانے آجاتے ہیں اور یہ نواب زادہ گھر میں تو  نواب بن کر رھتا ھے اور ان کے گھر نوکری کر کے خوش ھے 

امی نے میری بہن کو ڈانٹا کہ بکواس نہ کر فوزیہ اسے اپنا بیٹا سمجھتی ھے اور اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر اسے پیار کرتی ھے اس لیے مان سے اسے کوئی باھر کا کام کہہ دیتی ھے اگر یہ انکا کوئی کام کربھی دیتا ھے تو تمہیں کیا تکلیف ھے 

امی کی ڈانٹ سن کر نازی غصہ سے میری طرف دیکھتی باہر نکل گئی میں نے بھی اسے جاتے جاتے منہ چڑھا دیا اور  باہر کو نکل گیا  باہر گلی میں آتے ھی میں نے اپنا رخ سیدھا آنٹی فوزیہ  کے گھر کی طرف کیا اور سیدھا انکے دروازے پر جا پہنچا جب میں اندر داخل ھوا تو  انٹی فوزیہ کو سلام کیا اور ان سے  اپنے سر پر پیار لیا 

تو آنٹی بولی کھل گئی آنکھ میرے شہزادے کی تو میں نے کہا جی آنٹی مجھے امی نے بتایا تھا کہ عظمی دو دفعہ مجھے بلانے آئی تھی خیریت تو ھے کچھ منگوانا تھا تو آنٹی بولی

پتر کنک کے دانے  شیدے کی چکی پر چھوڑ  آ شام کو جاکر  پھر لے آنا میں نے آنٹی کے حکم کی تعمیل کرتے ھوے کہا جی آنٹی جی ابھی چھوڑ آتا ہوں  میں نے چاروں طرف نظر گھمائی تو مجھے عظمی اور نسرین نظر نھی آئیں میں نے انٹی سے ان دونوں کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ نسریں تو  مَلکوں کے گھر ٹیویشن پڑھنے چلی گئی مگر عظمی اندر کمرے میں ہے دھونے والے کپڑے اکھٹے کر رھی ھے کل جمعہ ھے تو ان دونوں بہنوں کو سکول سے تو چھٹی ھوگی تو ہم نے کل نہر پر کپڑے دھونے جانا ھے 

میں نے ھممم کر کے سر ہلایا اور انٹی سے  گندم کا پوچھا تو آنٹی بولی پتر تم سائکل صحن میں نکالو اور میں کنک کا توڑا اٹھا کر لے آتی ہوں تم سے تو اٹھایا نھی جانا میں نے جلدی سے دیوار کے ساتھ لگی سائکل کو پکڑا اور اسے لے کر صحن میں باھر کے دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑا ھوگیا آنٹی اتنی دیر میں گندم کا تھیلا اٹھا کر لے آئی   آنٹی نے دوپٹہ نھی لیا ھوا تھا جیسے ھی انٹی گندم کا تھیلا  سائکل کے فریم میں رکھنے کے لیے جھکی تو ان کے کھلے گلے سے دونوں مموں  کا نظارا میرے سامنے تھا آنٹی فوزیہ کے ننگے ممے دیکھ کر ایکدم میری انکھوں کے سامنے فرحت کے گورے چٹے ممے آگئے اور میں ٹکٹکی باندھے آنٹی فوزیہ کے گلے میں جھانکی جا رھا تھا اور آنٹی فوزیہ میری گندی نظروں سے بے خبر اپنے دھیان گندم کے تھیلے کو سائکل کے فریم میں چین کے کور کے اوپر. سیٹ کر رھی تھی 

جیسے ذور ذور سے تھیلے کو ادھر ادھر کرتی  تو ویسے ھی آنٹی کے گورے گورے دودہ کے پیالے چھلکتے میں نددیدوں کی طرح آنٹی کے ممے دیکھی جارھا تھا ،

 

دوستو ایسا پہلے بھی ھوتا ھوگا مگر میں نے پہلے کبھی ایسا ریکٹ نھی کیا تھا تب میری معصومیت بچپنا اور سیکس سے ناآشنائی کی وجہ تھی اور یہ ھی وجہ تھی کہ آنٹی نے مجھے دیکھ کر کبھی بھی سر پر دوپٹہ یا سینے کو دوپٹے سے ڈھانپا نھی تھا جس حال میں بھی  آنٹی فوزیہ بیٹھی  ھوتی ویسے ھی رھتی انکی نظر میں 

میں بچہ تھا معصوم تھا 

مگر سالے ماسٹر کی کرتوت نے میرے اندر سیکس کی چنگاری بھر دی تھی اور میرے اندر کے مرد نے اپنی ایک آنکھ کھول لی تھی 

آنٹی نے گندم کا تھیلا سہی کرکے رکھ دیا اور میں سائکل کو لے کر پیدل ھی گھر سے باہر نکل آیا  سائکل کا ہنڈل بھی آگے سے ہل رھا تھا  اور میں ڈگمگاتے ھوے چلا جارھا تھا کہ اچانک مجھے پیچھے سے عظمی کی آواز آئی جو مجھے رکنے کا کہہ رھی تھی  میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی دوڑتی ھوئی آرھی تھی میں اسے دیکھ کر رک گیا 

 

تبھی عظمی میرے پاس آکر رکی اور اپنی ہتھیلی کھول کر میرے آگے کردی اور بولی بُدھو پیسے تو لیتا جا  میں نے اسکی ہتھیلی سے ایک روپیہ پکڑا اور اپنی قمیض کی اگلی جیب میں ڈال لیا اور پھر سے چل پڑا عظمی بھی میرے ساتھ ساتھ سائکل کو پیچھے سے پکڑے چلی آرھی تھی تو میں نے اسے کہا یار تم جاو میں دانے لے جاوں گا تو وہ بولی ذیادہ شوخا نہ بن اور کل والے واقعہ کا بتا کہ کیا ھوا تھا میں اسی لیے تمہارے پیچھے آئی ھوں 

میں عظمی کی بات سن کر پریشان ھوگیا تو اور بولا یار کچھ بھی نھی ھے 

تو عظمی نے غصہ سے کہا سیدھی طرح کہو کہ بتانا نھی چاھتے 

میں نے کہا نھی یار ایسی بات نھی ھے 

تو عظمی بولی 

تو بتاو پھر 

میں نے کہا یار تم لڑکی ھو میں تم سے گندی بات نھی کرسکتا اب کیسے تم سے گندی باتیں کروں، 

تو عظمی ایک دم غصہ میں آگئی اور بولی، 

 

میں تیری بوتھی نہ پن دیواں گی جے میرے نال گندی گل کیتی 

تو میں نے کہا 

دُرفٹے منہ تیرا 

میں ماسٹر جی اور انٹی فرحت کی بات کررھا ھوں 

تو وہ بولی تم بتاو نہ پھر کیا دیکھا تھا تم 

تو میں نے کہا یار دفعہ کرو کوئی اور بات کرو 

تو عظمی نے غصہ سے سائکل کو چھوڑا اور رک کر کھڑی ھوگئی اور مجھے گھورتے ھوے بولی 

جا دفعہ ھو نئی تے نہ سئی مینوں اج توں بعد نی بُلائیں تیری میری کٹی اور یہ کہتے ھوے  اپنی چیچی چھوٹی انگلی میری طرف کرتے  ھوے واپس بھاگ گئی 

دوستو اس وقت  ہماری ناراضگی کٹی اور صلح پکی سے ھوا کرتی تھی 

میں جلدی جلدی گندم چکی پر چھوڑ کر واپس آنٹی کے گھر آگیا اور دیکھا عظمی گھر میں نھی تھی تو میں نے آنٹی سے پوچھا تو آنٹی نے بتایا کہ وہ تو تمہیں پیسے دینے گئی تھی میں تو سمجھی کے تمہارے ساتھ ھی چلی گئی ھوگی 

تو میں نے کہا آنٹی وہ تو اسی وقت واپس آگئی تھی 

آنٹی بولی

فیر او وان (کھیت) وچ دفعہ ھوگئی ھونی اے 

میں نے انٹی سے کہا میں دیکھ کر آتا ھو 

تب تک شام ڈھلنے والی تھی 

میں گلی کی نکڑ پر پینچا تو سامنے دیکھا عظمی سامنے کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھی ھوئی تھی  اور کھیت میں کھیلتے ھوے بچوں کو دیکھ رھی تھی 

میں نے سڑک کراس کی اور کھیت میں داخل ھوگیا مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر عظمی وھاں سے اٹھی اور کھیت کی دوسری طرف بنی پگڈنڈی کی طرف چل پڑی میں نے بھی اپنا رخ اسی طرف کردیا اور عظمی کے کچھ فاصلے پر اسکے پیچھے پیچھے چلتا ھوا اس کے سر پر جا پہنچا تب تک عظمی پگڈنڈی  پر بیٹھ چکی تھی 

  میں  بھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا عظمی تھوڑا کھسک کر مجھے سے دور ھوکر بیٹھ گئی میں بھی کھسک کر اسکے اور قریب ھوگیا عظمی نے میری طرف غصے سے دیکھا اور بولی 

کی تکلیف اے میرے پِچھے کیوں پیا ایں اپنی جگہ تے جا کہ بیٹھ 

میں نے کہا اپنی جگہ پر ھی بیٹھا ھوں تمہاری گود میں تو نھی بیٹھا 

تو عظمی بولی 

جا دفعہ ھو جان چھڈ میری 

میں نے کہا یار ناراض کس بات پر ھو کچھ باتیں ایسی بھی ھوتی ھیں جو لڑکیوں سے نھی کی جاتی 

تم ایسے فضول میں منہ بنا کر بیٹھ گئی ھو 

تو عظمی بولی 

میں تیرے کولوں کش پُچھیا اے جیڑا توں مینوں نئی دسنا جا اپنا کم کر جا کہ 

 

عظمی کا رویہ مجھ سے برداشت نہ ھوا میں نے اسکا بازو پکڑا اور رونے والے انداز سے کہا 

چل آ تینوں دسدا آں 

تو عظمی نے غصہ سے اپنا بازو مجھ سے چھڑوایا اور بڑے غصیلے انداز سے بولی 

تینوں سُندا نئی اک دفعہ کے دتا اے ناں کہ میں کُش نئی سُننا جا جان چھڈ میری 

میرا رونا تے پہلے ای وٹ تے پیا سی  

میں روتے ھوے وھاں سے اٹھا اور کھیت سے ھوتا ھوا کپاس کے کھیت کے ساتھ پانی والے کھالے کی پگڈنڈی پر  بیٹھ گیا اور اپنے گُٹنوں میں سر دے کر رونے لگ گیا 

دوستو میں گھر اور محلے میں سب لڑکوں سے خوبصورت لاڈلا ھونے کی وجہ سے بہت احساس دل تھا مجھ سے کسی کی ذرا سی بھی ڈانٹ یا پریشانی برداشت نھی ھوتی تھی 

اسی وجہ سے عظمی کے سخت رویعے کی وجہ سے روتے ھو میری ہچکی بندھ گئی تھی 

مجھے ایسے  روتے ھوے بیٹھے کچھ ھی دیر ھوئی تھی کہ مجھے اپنے دائیں کندھے پر نرم سے ھاتھ محسوس ھوے تو میں نے سر اٹھا کر پہلے دائیں طرف اپنے کندھے پر رکھے ہاتھ کو دیکھا اور پھر بائیں طرف گردن گھما کر دیکھا تو عظمی بیٹھی تھی اور پیار سے میرے دائیں کندھے پر ھاتھ رکھ کر مجھے اپنی طرف کھینچتے ھوے  چپ کرا رھی تھی 

عظمی بولی 

میرے شونے کو غصہ آگیا ھے 

میں نے غصے سے اپنے کندھے اچکاے اور منہ دوسری طرف کر کے بیٹھ گیا عظمی پھر بولی 

میرا چھونا چھونا کاکا نراج ھوگیا اے 

اچھا ادھر منہ کرو میری طرف عظمی نے میری ٹھوڑی کو پکڑ کر اپنی طرف منہ کیا اور اپنے دونوں ھاتھ اپنے کانوں کی طرف لے گئی اور اپنے کان پکڑ کر کہنے لگی 

معاف کردو سوری بابا 

تو میں اسکی معصومیت اور  ادا دیکھ کر نا چاہتے ھوے بھی ہنس پڑا 

تو عظمی نے شوخی سے میرے کندھے پر چپیڑ ماری اور بولی 

چل شوخا 

اور ہم دونوں ھنس پڑے 

عظمی  بولی اچھا  بتاو کیا بتانا تھا 

تو میں نے کہا 

یار بات ایسی ھے کی میں ادھر نھی بتا سکتا اگر کسی نے ہماری بات سن لی تو ہم دونوں کی خیر نھی ایسا کرو کل جب تم آنٹی کے ساتھ کپڑے دھونے نہر پر جاو گی تو تب. میں بھی تم لوگوں کے ساتھ چلوں گا ادھر موقع دیکھ کر بتاوں گا 

تو عظمی نے بھی اثبات میں سر ہلایا اور ہم  پھر کھیلتے ھوے بچوں میں شامل ھوکر کھیلنے لگ گئے 

 

 

اگلے دن جمعہ تھا سکول سے ہمیں چھُٹی تھی 

میں صبح جلدی اٹھا ناشتہ کرکے امی جان کو فوزیہ آنٹی کے گھر جانے کا کہہ کر  باہر گلی میں آگیا اور سیدھا آنٹی کے گھر پہنچ گیا گھر میں داخل ہوتے ھی آنٹی کو سلام کیا اور انکل بھی آج گھر ھی تھے انکو بھی سلام کیا انکل مجھے چھیڑنے لگ گئے کہ  

یاسر پتر سنا ھے تم شہری بابو بننے جارھے ھو 

میں نے شرماتے ھوے کہا جی انکل میرا ارادہ تو اسی سال تھا کہ شہر میں داخلہ لے لوں مگر امی جان نھی مانی تو انکل نے مجھے پیار سے ساتھ لگا لیا اور میرے سر پر ھاتھ پھیرتے کہنے لگے 

چلو چنگی گل اے اگلے سال توں تھوڑا برا ھوجاے گا اور سمجھدار بھی اور پھر تیری دونوں بہنیں بھی شہر ھی جانے لگ جائیں انکے ساتھ ھی چلے جایا کرنا میں ھاں میں سر ہلاتا ھوا  انکل کے پاس سے اٹھا اور آنٹی فوزیہ کی طرف چل پڑا جو چارپائی پر بیٹھی قینچی سے اپنے پاوں کے ناخن کاٹ رھی تھی میں نے پیچھے سے جاکر آنٹی کے گلے میں اپنی دونوں باہیں ڈال کر بڑے رومیٹک انداز سے آنٹی فوزیہ کو جپھی ڈال لی ، 

آنٹی فوزیہ نے ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا ھوا تھا جسے  ہلکا فروزی بھی کہا جاسکتا تھا سوٹ کا کلر ہلکا ہونے کی وجہ سے پیچھے سے آنٹی کے کالے رنگ کے بریزئیر کے سٹرپ صاف نظر آرھے تھے 

اور سوٹ کا کلر 

 انٹی پر بہت جچ رھا تھا 

میں نے انٹی کو چھیڑتے   کہا کہ آنٹی خیر ھے آج بڑی تیار شیار ھوئی ھو شادی پر جارھی ھو یا پھر آج انکل گھر پر ہیں اس لیے تو آنٹی فوزیہ 

حیرت سے میری طرف دیکھتے ھوے  بولی 

چل گندا بچہ شرم نھی آتی اپنی انٹی سے ایسے بات کرتے ھوے

اور ساتھ ھی انکل کی طرف دیکھتے ھوے کہا سن لو عظمی کے ابا ہمارا شہزادا ابھی شہر نھی گیا مگر اسکو شہر کی ہوا لگ گئی ھے تو انکل بھی اونچی آ واز میں ہنستے ھوے کہنے لگے منڈا جوان ھوگیا اے اسی لیے تم پر لائن مار رھا ھے 

میں شرمندہ سا ھو کر جھینپ سا گیا اور جلدی سے آنٹی کے گلے سے اپنی باہیں نکالی اور کمرے میں عظمی لوگوں کے پاس بھاگ گیا مجھے پیچھے سے آنٹی اور انکل کے قہقہوں  کی آواز سنائی 

اور آنٹی ہنستے ھوے کہہ رھی تھی 

گل تے سن کتھے چلاں آں 

مگر تب تک میں کمرے میں داخل ھوچکا تھا 

اندر گیا تو عظمی  اور نسرین کسی بات پر اپس میں بحث کررھی تھی مجھے دیکھ کر دونوں خاموش ھوگئی تو نسرین نے ناک چڑھاتے ھوے کہا آگیا ویلا 

تو میں نے بھی اسی کے سٹائل میں اسے جواب دیتے ھوے کہا 

توں تے بڑی کاموں اے سارا دن پڑھائی دا بہانہ بنا کہ ویلی بیٹھی ریندی ایں 

 

سارا کام آنٹی کو کرنا پڑتا ھے  کھوتے جنی  ھوگئی ایں  ہانڈی روٹی وی کرلیا کر 

عظمی کھلکھلا کر ہنس پڑی تو نسرین کا تیور اور چڑھ گیا اس نے عظمی کو مارنا شروع کردیا 

میں جاکر انکے ساتھ بیٹھ گیا کافی دیر ھماری آپس میں نوک جھونک جاری رھی  

تقریباً  ایک گھنٹے کہ بعد آنٹی اندر آئی اور عظمی اور نسرین کو کہنے لگی 

 

چلو کُڑیو جلدی نال کہڑے چُکو تے نہر تے چلو میرے نال 

نسرین نے برا سا منہ بنایا اور اٹھ کر باہر نکل گئی اس کے پیچھے ھی میں اور عظمی بھی  کمرے سے باہر نکل آے 

کپڑوں کی ایک گٹھڑی  عظمی نے سر پر اٹھائی ایک نسرین نے اور ایک میں نے اور آنٹی نے باقی کا سامان صابن  کپڑے دھونے والا ڈنڈا اور دیگر ضروری چیزیں ایک لوھے کے تانبیے میں ڈال  کر سر پر رکھا اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا  ھاتھ میں  پکڑا اور ہم گھر سے نہر کی طرف چل پڑے  کھیتوں میں پہنچ کر آگے پگڈنڈی  شروع ھوجاتی تھی جو کھیتوں کے بیچو بیچ نہر کی طرف جاتی تھی ہم سب آگے پیچھے چلتے ھوے نہر کی طرف جار رھے تھے  سب سے آگے نسرین تھی اسکے پیچھے عظمی اور اسکے پیچھے میں اور میرے پیچھے آنٹی فوزیہ تھی  ہم لڑکھڑاتے ھوے جارھے تھے کیوں کہ پگڈنڈی  کی جگہ ہموار نھی تھی کہ اچانک میری نظر عظمی کی گول مٹول بُنڈ پر پڑی جو باہر کو نکلی ھوئی تھی اور اس کے ڈگمگا کر چلنے کی وجہ سے کبھی تھرتھراتی کبھی بُنڈ کی ایک پھاڑی اوپر جاتی کبھی دوسری  عظمی کی سیکسی بُنڈ دیکھ کر میں تو سب کچھ بھول چکا تھا اور میری نظر  عظمی کی  ہلتی ھوئی بنڈ کے نظارے کررھی تھی  ہم ایسے ھی چلتے چلتے نہر پر پہنچ گئے اور نہر کے کنارے پر جاکر صاف جگہ دیکھ کر کپڑوں کی گھٹڑیاں  نیچے گھاس پر رکھ دی اور بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لینے لگ گئے 

انٹی نہر کے پانی کے پاس کنارے پر بیٹھ گئی اور ہمیں ایک گٹھڑی کھولنے کو کہا میں جلدی سی اٹھا اور ایک گٹھڑی کو کھولا اور اس میں سے کپڑے نکال نکال کر آنٹی کو دینے لگ گیا جس میں ذیادہ کپڑے انکل کے ھی تھے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

آنٹی فوزیہ نے اپنا دوپٹہ اتارا اور پاوں کے بل. بیٹھ کر کپڑے دھونے لگ گئی میری جب نظر آنٹی  کے گلے پر پڑی تو آنٹی کی قمیض کا گلا کافی کھلا تھا اور اس میں چٹا سفید آنٹی کا سینہ دعوت نظارہ دے رھا تھا میں آنٹی کے سامنے کھڑا آنٹی کو کپڑے دھوتے دیکھ رھا تھا اور عظمی اور نسرین باقی کی گٹھڑیوں کو کھولنے میں مصروف تھی 

وہ دونوں گٹھڑیوں کو کھولنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چونچیں بھی لڑا رھی تھی اس لیے انکا دھیان میری طرف نھی تھا 

پھر آنٹی نے ایک قمیض کو صابن لگانا شروع کردیا صابن لگانے اور  قمیض پر برش مارنے کی وجہ سے آنٹی کو تھوڑا نیچے کی طرف جھکنا پڑا جسکا فائدہ مجھے یہ ھوا کہ آنٹی کے مموں کے درمیانی لائن مجھے صاف نظر آنے لگ گئی  اور میں اس نظارے کو دیکھ کر بہت لطف اندوز ھورھا تھا اور آنٹی جب قمیض پر برش مارتی تو آنٹی کے بڑے بڑے ممے ذور ذور سے اچھل کر قمیض کے گلے سے باہر کو آنے کے لیے بے تاب ہوجاتے تھے اور یہ  سب دیکھ کر میری حالت  قصائی کے پھٹے کے سامنے کھڑے کُتے جیسی تھی، 

دوستو آنٹی فوزیہ کہ بارے میں اس وقت بھی میرے دل دماغ کوئی غلط خیال نھی تھا 

بس پتہ نھی کیوں مجھے آنٹی کی بُنڈ اور مموں کو دیکھ کر ایک عجیب سا نشہ ھوجاتا اور یہ سب کچھ کرتے مجھے بہت اچھا محسوس ھوتا،،، 

میں انٹی کے مموں میں کھویا ھوا تھا کہ انٹی نے قمیض پر برش مارنا بند کیا اور قمیض کو اٹھا کر نہر میں ڈبونے کے لیے جُھکی  

تو دوستو  یقین کرو بے ساختہ  میری ایڑھیاں اوپر کو اٹھی جو نظارا میرے سامنے تھا میرا بس چلتا تو اسی وقت آگے بڑھ کر آنٹی  کے دونوں دودھیا رنگ کے مموں کو اپنے دونوں دونوں ھاتھوں کی مٹھیوں میں بھر لیتا اور ذور سے سائکل پر لگے پاں پاں کرنے والے ھارن کی طرح بجانے لگ جاتا 

آنٹی فوزیہ کے دونوں ممے گلے سے بلکل باہر  کی طرف تھے اور میں یہ دیکھ کر حیران رھ گیا کہ آنٹی نے برا بھی نھی پہنی ھوئی تھی شاید آتے ھوے گھر ھی اتار آئی تھی آنٹی کےمموں کے صرف نپل ھی قمیض کے گلے کے کنارے پر اٹکے ھوے تھے اور انکے مموں پر گول براون دائرہ بھی نظر آرھا تھا 

یہ دیکھ کر میرا تو حلق خشک ھونے لگ گیا 

کہتے ہیں نہ کہ عورت کی چھٹی حس بہت تیز ھوتی ھے اسے اسی وقت پتہ چل جاتا ھے کہ کون اسکی طرف دیکھ رھا ھے اور اسکے جسم کے کون سے اعضا پر نظر کا تیر لگ رھا ھے 

یہ ھی میرے ساتھ ھوا آنٹی کی چھٹی حس نے کام کیا اور آنٹی نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا 

میں آنٹی کے مموں میں اسقدر کھویا ھوا تھا کہ مجھے یہ بھی احساس نھی ھوا کہ آنٹی مجھے دیکھ رھی ھے اچانک آنٹی نے اپنا ایک ھاتھ اپنے سینے پر رکھا اور مجھے آواز دی کہ یاسر  

میں انٹی کی آواز سن کر ہڑبڑا گیا اور گبھرا کر آنٹی کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر بولا جی آنٹی جی 

تو آنٹی ہلکے سے مسکرائی اور بولی بیٹا ادھر جا کر اپنی بہنوں کے ساتھ بیٹھ جاو ادھر پانی کے چھینٹے تم پر پڑ رھے ہیں میں شرمندہ سا سر جھکائے  عظمی لوگوں کے پاس جاکر بیٹھ گیا شرم کے مارے  میں نے دوبارا آنٹی کی طرف نھی دیکھا بلکہ  انکی طرف پیٹھ کرکے منہ کھیتوں کی طرف کر کے بیٹھ  گیا 

کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آنٹی کی آواز آئی کی عظمی یہ کپڑے سوکھنے کے لیے ڈال دو عظمی جلدی سے اٹھی اور کپڑوں کا  لوھے کا ٹپ جسے ہم تانبیہ اور بٹھل بھی کہتے تھے اٹھا کر نہر کے  کنارے سے نیچے اترنے لگی مگر جگہ ہموار نہ ہونے کی وجہ سے اس سے نیچے نھی اترا جارھا تھا تبھی اس نے مجھے آواز دی کہ  یاسر کپڑے نیچے لے جاو مجھ سے نھی  یہ اٹھا کر نیچے  جایا جا رھا میں جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور کپڑے پکڑ کر نیچے اترنے لگ گیا وہ بھی میرے  پیچھے پیچھے نیچے آرھی تھی

 نیچے آکر عظمی نے  اپنا دوپٹہ اتار کر مجھے پکڑایا اور  اپنے بالوں کو پیچھے سے پکڑ کر گول کر کے پونی کرنے لگ گئی ایسے کرنے سے اس کے ممے بلکل اوپر کو ھوگئے میری پھر نظر عظمی کے مموں پر ٹک گئی  عظمی نے میری طرف دیکھا اور آنکھ کے اشارے کے ساتھ اپنا سر اوپر کو ہلاتے ھوے مجھ سے پوچھا کیا ھے میں  اس کے اچانک اس اشارے سے کنفیوژ سا ھوگیا اور اسے کہنے لگا جججججلدی  کپڑے ڈال لو آنٹی نے پھر آواز دے دینی ھے 

تو عظمی جلدی جلدی کپڑوں کو نہر کے کنارے پر اگی صاف گھاس کے اوپر پھیلانے  لگ گئی  

میں اپنی ان حرکتوں سے خود بڑا پریشان  ھوگیا تھا  

اور دل ھی دل میں ماسٹر اور فرحت کو گالیاں دینے لگ گیا 

کہ

گشتی دے بچیاں نے مینوں وی کیڑے کم تے لادتا اے 

چنگا پلا شریف بچہ سی 

 تبھی عظمی نے سارے کپڑے پھیلا دیے اور مجھے  اوپر چلنے کا کہا تو میں اسکے پیچھے پیچھے اسکی ہلتی گانڈ کا نظارا کرتے کرتے اوپر چڑھنے لگ گیا 

 ہم پھر جاکر اسی جگہ بیٹھ گئے فرق بس اتنا تھا کہ اب میرا منہ آنٹی کی طرف تھا انٹی میرے سامنے سائڈ پوز لیے بیٹھی کپڑے دھو رھی تھی  آنٹی کے کپڑے بھی کافی گیلے ہو چکے تھے جس میں سے انکی ران صاف نظر آرھی تھی اور سائڈ سے کبھی کبھی مما بھی نظر آجاتا  

آنٹی نے پھر آواز دی کے یہ بھی کپڑے سُکنے ڈال دو میں جلدی سے اٹھا اور کپڑوں کا ٹب پکڑا اور عظمی کو ساتھ لیے نیچے اگیا اب ہم کچھ دور چلے گئے تھے کیوں کہ اب وہاں کوئی صاف جگہ نھی تھی اس لیے ہم تھوڑا آگے مکئی کی فصل کے پاس چلے گئے 

تو عظمی بولی اب بتاو مجھے کیا بتانا تھا 

میں انٹی لوگوں کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر وہ اونچی جگہ اور ذیادہ فاصلے کی وجہ سے نظر نہ آے  تو میں نے عظمی کو کہا تم ساتھ ساتھ کپڑے ڈالتی جاو میں تمہیں بتاتا  جاوں گا تو عظمی نے اثبات میں سر ہلایا میں نے عظمی کو کہا کہ دیکھو یہ بات تمہارے اور میرے درمیان میں ھی رھے ورنہ ہم دونوں پھنسیں گے بلکہ تم یہ بات نسرین کے ساتھ بھی مت کرنا عظمی بولی تم نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ھے جو میں کسی کو بتاوں گی

میں نے کہا اس دن ماسٹر اور فرحت  گندے کام کر رھے تھے میں انکو دیکھ رھا تھا کہ اچانک فرحت کی نظر مجھ پر پڑی تو میں ڈر کر بھاگ آیا  ،،،

عظمی حیرانگی سے بولی کون سا  گندا کام کررہے تھے میں پریشان  ہوکر بات بناتے ہوے بولا وہ ھی گندا کام تو عظمی معصومیت سے میری طرف منہ کر کے بولی کون ساااااااا

میں نے گبھراے ھوے لہجے میں کہا یار اب میں کیسے بتاوں مجھے شرم آرھی ھے تو عظمی بولی دیکھتے ھوے شرم نھی آئی تھی جو اب بتاتے ھوے شرم آرھی ھے تو میں نے کہا یار میں کون سا انکو دیکھنے کے لیے اندر گیا تھا وووہ تو مجھے آنٹی فرحت کی چیخ سنائی دی تھی تو میں گبھرا کر اندر دیکھنے چلا گیا کہ پتہ نھی آنٹی کو کیا ھوا ھوگا مگر جب میں اندر گیا تو آنٹی فرحت اور ماسٹر جی،،،

 

یہ کہہ کر میں پھر چپ ھوگیا تو عظمی جھنجھلا کر بولی

درفٹے منہ اگے وی بولیں گا کہ نئی

میں سر  کے بالوں میں ھاتھ پھیرتے ھوے سر کُھجاتے ہوے نیچے منہ کر کے بولا 

ماسٹر جی نے فرحت آنٹی کو ننگا کیا ھوا تھا  اور جپھی ڈالی ھوئی تھی 

اور دونوں ایک دوسرے کی چُمیاں لے رھے تھے 

اور ماسٹر جی نے انٹی کے دودو ننگے  ھی پکڑے ھوے تھے 

میں نے ایک سانس میں ھی اتنا کچھ بتا دیا 

عظمی میرے بات سنتے ھی ایسے اچھلی جیسے اسے کسی سانپ نے کاٹ لیا ھو 

اور اپنے دونوں ھاتھ  منہ کے اگے رکھ کر بولی

ھاےےےے ****** میں مرگئی

فیر 

میں ابھی آگے بتانے ھی لگا تھا کہ نسرین نے نہر کے اوپر سے ہماری طرف آتے ھوے آواز دے دی کہ 

امی بلا رئی اے تواڈیاں گلاں ای نئی مُکن دیاں 

میں نے عظمی کو کہا یار کل جب ہم کھیلنے آئیں گے تو تفصیل سے ساری بات بتاوں گا 

ابھی چلو ورنہ آنٹی غصہ ھونگی 

میں یہ کہہ کر نہر کے اوپر چڑھنے کے  لیے چل پڑا میرے پیچھے پیچھے. عظمی بھی بڑبڑاتی نسرین کو گالیاں دیتی آگئی۔ 

کچھ دیر مذید ہم نہر پر ھی رھے پھر ہم نے سارے کپڑے سمیٹے اور پہلے کی طرح آگے پیچھے چلتے ہوے ہنسی مزاق کرتے گھر کی طرف چل پڑے  راستے میں بھی کوئی خاص بات نھی ھوئی 

مگر نجانے کیوں میں آنٹی سے نظریں چرا رھا تھا 

ایسے ھی چلتے ہوے ھم  گھر پہنچ گئے 

 

 

اگلے دن سکول میں کچھ خاص نھی ھوا   شام کو میں  آنٹی فوزیہ کے گھر گیا عظمی اور نسرین کو ساتھ لے کر کھیت کی طرف پڑا کھیت میں پہنچے تو پہلے ھی کافی بچے جمع ھوچکے تھے ہم  لُکم میٹی کھیلنے کے لیے اپنی اپنی باریاں پُگنے لگ گئے آخر  

میرے عظمی اور ایک محلے کہ لڑکے  کے سر باری دینی آئی  ہم تینوں سڑک پر جاکر اپنا منہ کھیت کی دوسری طرف کر کے کھڑے ھوگئے اور باقی سب بچے اپنی اپنی جگہ پر چھُپنے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ گئے  کچھ دیر بعد ایک بچے کی آواز آئی کہ 

لب لو

تو ہم تینوں کھیت کی طرف بھاگے خالی کھیت سے گزر کر کپاس کے کھیت کے قریب آکر کھڑے ھوگئے. اور آپس میں مشورہ کرنے لگ گئے کہ کون کسطرف سے ڈھونڈنا شروع کرے  ہمارے ساتھ والا لڑکا کہتا کہ یاسر تم نہر والے بنے سے جاو عظمی درمیان سے جاے اور میں دوسری طرف سے جاتا ھوں 

عظمی بولی نہ بابا میں نے اکیلی نے نھی جانا مجھے ڈر لگتا ھے  تو تبھی میں نے عظمی کا ھاتھ پکڑ کر دبا دیا شاید وہ میرا اشارا سمجھ گئی تھی اس لیے چُپ ھوگئی 

تب میں نے کہا کچھ نھی ھوتا 

نئی تینوں جِن کھاندا 

اور میں نے اس لڑکے کو دوسری طرف جانے کا کہا وہ میری بات سنتے ھی دوسری طرف بھاگ گیا 

میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر کپاس کے  کھیت کے درمیان  نہر کی طرف جاتی ھوئی پگڈنڈی  پر چل پڑے عظمی راستے میں ھی مجھ سے پوچھنے لگ گئی کہ اب تو بتا دو اب کون سا کوئی ھے یہاں میں نے اسے کہاں چلو کھالے کے پاس جاکر بیٹھ کر بتاتا ھوں عظمی نے اثبات میں سر ہلایا ،،

تھوڑا آگے جاکر میں نے عظمی کو اپنے آگے کر لیا اور میں اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا  ہم چلتے چلتے   کپاس کی فصل کے آخر میں چلے گئے  اس سے آگے پانی کا کھالا تھا جسکو کراس کر کے مکئی کی فصل شروع ھوجاتی تھی میں نے عظمی کو کھالا کراس کرنے کا کہا اور اسکے پیچھے ھی میں نے بھی چھلانگ لگا کر کھالے کی دوسری طرف پہنچ گیا  

میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑا اور کھالے کے کنارے پر لگی ٹاہلی کے پیچھے کی  طرف لے گیا جہاں پر گھاس اگی ھوئی تھی اور بیٹھنے کے لیے بہت اچھی اور محفوظ جگہ تھی ہمیں وھاں بیٹھے کوئی بھی نھی دیکھ سکتا تھا ،،

ہم دونوں چوکڑیاں مار کر  ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے 

تب عظمی نے مجھ سے بےچین ھوتے ھوے کہا 

چلو بتاو نہ اب 

میں تھوڑا کھسک کر اسکے اور قریب ھوگیا اب ھم دونوں کے گھُٹنے آپس میں مل رھے تھے 

میں نے عظمی کو کہا کہاں تک بتایا تھا تو عظمی بولی

تم شروع سے بتاو مجھے سہی سمجھ نھی آئی تھی 

تو میں  نے بتانا شروع کردیا 

کہ میں نے دیکھا ماسٹر جی نے فرحت کی قمیض آگے سے اٹھائی ھوئی تھی اور انکے بڑے بڑے مموں کو ھاتھ سے مسل رھے تھے اور دونوں ایک دوسرے کے ھونٹ چوس رھے تھے 

ماسٹر جی پھر فرحت کے ممے چوسنے لگ گئے تب فرحت نے بھی اپنی آنکھیں بند کی ھوئی تھی  

عظمی بڑے غور سے میری بات سن رھی تھی  اسکا رنگ بھی ٹماٹر کی طرح سرخ ھوتا جارھا تھا 

عظمی بولی پھر کیا ھوا

تو میں نے کہا ماسٹر جی نے فرحت کا نالا کھول دیا تھا اور اسکی شلوار نیچے گر گئی تھی 

اور ماسٹر جی نے اپنا ھاتھ وھاں پر رکھ دیا 

تو عظمی بولی کہاں 

تو میں نے کہا نیچے 

عظمی بولی کہاں نیچے 

تو میں نے ایکدم اپنی انگلی عظمی کی پھدی کے پاس لیجا کر اشارے سے کہا یہاں پر 

تو عظمی ایکدم کانپ سی گئی 

جبکہ میری انگلی صرف اسکی قمیض کو ھی چھوئی تھی 

عظمی نے کانپتے ھوے جلدی سے میرا ھاتھ پکڑ کر پیچھے کر دیا 

میں نے پھر بتانا شروع کردیا کہ کیسے ماسٹر جی فرحت کی پھدی کو مسلتے رھے اور کیسے فرحت مدہوش ہوکر نیچے بیٹھ گئی اور فرحت نے کیسے میری طرف دیکھا اس دوران عظمی بڑی بےچین سی نظر آرھی تھی اور بار بار اہنے ہونٹوں پر زبان پھیرتی  

کہ اچانک عظمی نے اپنا ھاتھ پیچھے کھینچا 

تو میں ایک دم چونکا 

کہ میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑ کر اپنی گود میں رکھا ھوا تھا اور نیچے سے میرا لن تنا ھوا تھا  شاید عظمی نے میرے لن پر اپنا ھاتھ محسوس کر لیا تھا 

عظمی  بولی شرم نھی آتی گندے کام کرتے ھوے میں نے بڑی معصومیت اور حیرانگی  سے کہا اب کیا ھوا ھے 

تو عظمی بولی 

میں گھر جاکر امی کو بتاتی ھوں کہ آپکا یہ شہزادا جوان ھوگیا ھے اسکی شادی کردو اب 

تو میں نے کہا 

میری کون سی جوانی تم نے دیکھ لی ھے 

اور میں بھی آنٹی کو سب بتا دوں گا 

اور میں بھی کہہ دوں گا کہ عظمی سے ہی کردو میری شادی تو عظمی  شوخی سے بولی  کہ شکل دیکھی اپنی 

بچو تم ایک دفعہ گھر تو چلو پھر پتہ چلے گا 

 

میں بھی اندر سے ڈر گیا کہ سالی سچی مُچی ھی نہ بتا دے 

میں نے بھی عظمی کو دھمکی دیتے ھوے کہہ دیا 

کہ جاو جاو بتا دو  مجھے نھی ٹینشن 

میں بھی بتا دوں گا کہ تم نے مجھ سے پوچھا تھا تو بتا دیا 

تو عظمی نے میرے لن کی طرف دیکھا  جو ابھی تک قمیض کو اوپر اٹھاے عظمی کو سلامی دے رھا 

عظمی بولی نہ نہ میں تو تمہارے جوان ھونے کا امی کو بتاوں گی 

تو میں نے گبھراتے ھوے کہا 

کون جوان کونسی جوانی 

تو عظمی نے ذور سے میرے لن پر تھپڑ مارا اور ہنستے ھوے بولی 

یہ جوانی  اور یہ کہہ کر اٹھ کر بھاگ نکلی 

اسکے اس طرح تھپڑ مارنے سے میرے لن پر ہلکی سی درد تو ہوئی مگر میں برداشت کرگیا اور ایسے ھی ڈرامائی انداز میں بولا 

ھاےےےےے میں مرگیا افففففف

عظمی نے ایک نظر پیچھے میری طرف دیکھا اور ہنستے ھوے بولی 

مزا آیا 

اور کھالا پھلانگ کر دوسری طرف چلی گئی اور میں بھی اسکے پیچھے بھاگا کہ ٹھہر بتاتا ھوں تجھے کیسے مزا آتا ھے 

مجھے پیچھے آتے دیکھ کر عظمی نے  گھر کی طرف پگڈنڈی  پر بھاگنا شروع کردیا مگر میں نے اسے کچھ دور جاکر پیچھے سے جپھی ڈال کر پکڑ لیا 

میرا لن عظمی کی نرم سی گول مٹول پیچھے نکلی ھوئی گانڈ کے ساتھ چپک گیا میرے دونوں ھاتھ اسکے نرم سے پیٹ پر تھے  عظمی ہنستے ھوے بولی چھوڑو مجھے چھوڑو مجھے میں امی کو بتاوں گی 

میں نے عظمی کو اور کس کے پکڑ لیا اسی چھینا جھپٹی میں میرے لن نے پھر سر اٹھا لیا اور عظمی کی بُنڈ کی دراڑ میں گھسنے کی کوشش کرنے لگ گیا 

عظمی نے بھی شاید لن کو اپنی بُنڈ پر محسوس کرلیا تھا اس لیے وہ اور ذیادہ مچلنے لگ گئی اور اپنا آپ مجھ سے چُھڑوانے کی کوشش کرنے لگ گئی مگر مرد مرد ھی ھوتا ھے چاھے چھوٹی عمر کا یا بڑی عمر کا 

عظمی کا جب یہ احساس ھوگیا کہ ایسے  ذور آزمائی  سے جان نھی چھوٹنے والی تو عظمی نیچے بیٹھنے لگ گئی جب عظمی آگے کو جُھک کر نیچے ھونے لگی تو پیچھے سے میرا لن عظمی کی  گانڈ کی دراڑ میں کپڑوں کو اندر کی طرف دھکیل چکا تھا اور لن کی ٹوپی اسکی بنڈ کی موری کے اوپر جالگی اور آگے سے میرے دونوں ھاتھ اس کے پیٹ سے کھسکتے ھوے اسے دونوں مموں پر آگئے 

عظمی کو نیچے جھک کر بیٹھنا مہنگا پڑا 

عظمی کے دونوں ممے جیسے ھی میرے ھاتھ میں آے تو مجھے بھی ایک جھٹکا سا لگا 

اور میں نے عظمی کے دونوں مموں  کو اپنی مُٹھیوں میں بھر لیا 

عظمی کو جب میری اس کاروائی کا احساس ھوا تو عظمی نے رونا شروع کردیا 

اور روتے ھوے غصے سے بولی چھوڑو مجھے میں امی کو بتاوں گی تم میرے ساتھ گندی حرکتیں کرتے ھو 

عظمی کو روتا دیکھ کر اور اسکی دھمکی سن کر میں بھی ڈر گیا 

اور ساتھ ھی میں نے اسے چھوڑ دیا 

عظمی ویسے ھی پاوں کے بل بیٹھ کر اپنے دونوں بازو اپنے گھٹنوں پر رکھ کر اور اپنا منہ بازوں میں دے کر رونے لگ گئ

میں اسکی یہ حالت دیکھ کر مزید ڈر گیا اور اسے کہنے لگ گیا کہ 

یار اپنی دفعہ تم رونے لگ جاتی ھو خود جو مرضی کرلیتی ھو میں نے کبھی ایسے غصہ کیا ھے 

چلو اٹھو نھی تو میں جارھا ھوں تو عظمی روتے ھوے بولی جاو دفعہ ھوجاو  میں نے نھی جانا تمہارے ساتھ 

تو میں بھی غصے سے اسے وھیں چھوڑ کر گھر کی طرف چل پڑا کچھ ھی آگے جاکر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی بھی سر نیچے کئے آہستہ آہستہ چلی آرھی تھی 

 

 

کچھ دن ایسے ھی گزر گئے میں بھی ان دنوں ڈرتا آنٹی فوزیہ کے گھر نھی گیا کہ عظمی نے کہیں میری سچی ھی شکایت نہ لگا دی ھو 

مگر ایسا کچھ نھی ھوا، 

ایک دن ہم سکول میں  بیٹھے تھے کہ 

فرحت بڑی سی چادر لیے اور نقاب کیے ھوے آگئی اور  ہمارے پاس سے گزر کر ماسٹر جی کہ پاس جاکر ماسٹر جی کو سلام کیا 

جب فرحت میرے پاس سے گزری تو اس سے بڑی دلکش خوشبو آئی تھی جیسے ابھی نہا کر آئی ھو 

فرحت کو دیکھ کر ماسٹر  جی کے چہرے پر عجیب سی  چمک آئی اور ماسٹر جی نے شیطانی  مسکان کے ساتھ فرحت  کے سلام کا جواب دیا اور بڑے انداز سے فرحت کو بیٹھنے کا کہا 

میں نے فرحت کو دیکھا تو ساتھ بیٹھی عظمی کو کہنی ماری اور فرحت کی طرف آنکھ سے اشارا کیا 

تو عظمی نے جوابی کاروائی  کرتے ھوے مجھے کہنی ماردی اور  منہ بسور کر بولی دفعہ ھو ے

فرحت ماسٹر جی سے  آنکھیں مٹک مٹک کر باتیں کرنی تھی جبکہ چہرے پر نقاب تھا صرف آنکھیں ھی نظر آرھی تھی 

ماسٹر جی سے بات کرتے ھوے فرحت کے ہونٹوں سے ذیادہ آنکھیں ہل رھی تھی 

وہ دونوں بڑی آہستہ آہستہ  باتیں کررھے تھے  

اور باتوں کے ھی دوران فرحت کبھی کبھی نہ نہ میں سر ہلاتی ایک دفعہ تو اس نے اپنے کان کو ہاتھ لگایا تھا 

میں نے بڑی کوشش کی کہ انکی کسی بات کی مجھے سمجھ آجاے مگر 

میں ناکام ھی رھا بس انکی باڈی لینگویج  سے ھی قیاس کر کے انکی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا 

کہ اچانک ماسٹر جی نے ظہیر کو آواز دی اور ظہیر جلدی سے کھڑا ھوا اور سیدھا ماسٹر جی کے پاس جا پہنچا ماسٹر جی نے کرسی پر ھی بیٹھے ہوے ھی ظہیر کو اپنے دائیًں طرف  کرسی کے بازو کے پاس کھڑا اسی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے ساتھ لگا کر کھڑا کرلیا اورظہیر کے بارے میں فرحت سے باتیں کرنے لگ گیا 

بات کرتے کرتے فرحت نے اپنا نقاب اتار دیا تھا 

میری جب نظر فرحت پر پڑی 

میں تو سکتے کہ عالم میں آگیا 

کیا پٹاخہ بن کر آج آئی تھی سالی 

Share this post


Link to post
Share on other sites

دوستو کہانی لکھتے ھوے مجھے احساس ھورھا ھے کہ کہانی لکھنا کتنا مشکل ھے اور پڑھنا کتنا آسان 

Share this post


Link to post
Share on other sites

سب ریڈرز سے مجھے ایک شکایت ھے کہ   رائٹر کتنی محنت مشقت  اور دماغ کھپا کر اور اپنے سب کام چھوڑ کر آپ سب بھائیوں کے انٹرٹینمنٹ  کے لیے سٹوری لکھتا ھے اور آپ سب بھائی صرف سٹوری کو ریڈ کرنے پر ھی اکتفاء  کرتے ہیں 

 دوگھنٹوں کی مشقت کر کے لکھی گئی اپڈیٹ پر آپ کے پاس دو سیکنڈ  کی مشقت کر کے تعریف کے دو الفاظ لکھنے کا وقت نھی ھوتا 

میرے خیال  سے تبھی اس فورم پر رائٹر اپنی سٹوری کو ادھوری چھوڑ دیتے ہیں 

 

میرے بھائیو 

آپ کی تعریف کے دو الفاظ  رائٹر کی دوگھنٹے کی محنت  کی مزدوری  ھوتے ہیں 

مختصراً  

اگر ایسا چلے گا تو پھر سٹوری آگے کیسے چلے گی 

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے تو پتہ تھا کہ ماسٹر جی سر میں نھی بلکہ لن میں درد ھے  ماسٹر جی کو  کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر میں بھی اٹھ کر ماسٹر جی کی کرسی کے پاس جاکر کھڑا ھوگیا اور ساتھ پڑی ھوی کرسی پر بیٹھ گیا ،

کرسی پر بیٹھتے ھی میں نے عظمی کو اپنی آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوے سر ہلاتے کمرے کی طرف متوجہ کیا تو عظمی نے برا سا منہ بنا کر مجھے گھورا اور پھر اپنی گود میں پڑی کتاب کی طرف دیکھنے لگ گئی 

میں نے سب بچوں کو ہوم ورک چیک کروانے کا کہا سب سے پہلے عظمی میرے پاس آئی اور بڑے نخرے اور شوخی سے دستہ مجھے پکڑایا 

میں نے عظمی کی طرف دیکھتے ھوے کہا کہ میں کام چیک کر کے کمرے میں جارھا ھوں تم نے آنا ھے تو آجانا اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا 

عظمی بولی شرم نھی آتی تمہیں ایسے گھٹیا کام کرتے میں نے کہا تمہیں شرم نھی آتی ایسی گھٹیا باتیں سنتے تو عظمی غصے سے مجھے گھورتے ھوے بولی چل چل جلدی کام چیک کر آیا وڈا شریف ذادہ

میں نے کام چیک کرکے دستہ اسے واپس دے دیا 

پھر سب بچوں کا جلدی جلدی کام چیک کیا اور جاکر  عظمی کے پاس بیٹھ گیا 

عظمی میری طرف دیکھتے ھوے بولی گئے نئی اب تو میں نے کہا تم چلو گی تو میں بھی جاوں گا 

تو عظمی بولی مجھے مرنے کا شوق نھی 

اگر ماسٹر جی کو پتہ چل گیا نہ تو سکول سے بھی مار پڑے گی اور گھر سے بھی 

تو میں نے کہا یار گبھراتی کیوں ھو 

میں ہوں نہ تمہارے ساتھ 

تو عظمی بڑی شوخی سے بولی  

وجہ ویکھی اے اپنی آیا وڈا پہلوان 

تو میں نے بھی فوری جواب دیتے ھوے کہا کہ کبھی ازما کر دیکھ لینا اس پہلوان کو تو عظمی بولی 

کی مطلب اے تیرا 

تو میں نے جلدی سے بات کو گھماتے ھوے کہا 

میرا مطلب کہ کُشتی کر کے دیکھ لینا 

 

 تو عظمی بولی جا جا ویکھے تیرے ورگے 

میں نے کہا اچھا یار جانا ھے تو میرے پیچھے کمروں کے پیچھے کی طرف آجانا  میں   تمہارا تھوڑی دیر انتظار کروں گا ورنہ تمہاری مرضی یہ کہہ کر میں اٹھنے لگا تو عظمی نے میرا  بازو پکڑ لیا ،

اور بولی یاسر نہ جاو مجھے ڈر لگ رھا ھے میں نے اپنا بازو چھڑواتے ھوے کہا تم تو ھو ھی ڈرپوک میں نے کہا نہ کہ کچھ نھی ھوتا اور یہ کہہ کر میں کمروں کی طرف چل پڑا  کمروں کے پیچھے پہنچ کر میں نے کمرے کی دیوار کی اوٹ سے کلاس کی طرف دیکھا تو مجھے  عظمی آتی ھوئی دیکھائی دی، 

کچھ ھی دیر بعد عظمی میرے پاس پہنچ  گئی میں نے عظمی کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے  کمرے کی کھڑکی کے پاس آگیا اور یہ کنفرم کرنے لگ گیا کہ ماسٹر جی اور فرحت واقعی دفتر کے پیچھے بنے سٹور میں ھی ہیں یا کہ ابھی دفتر میں ھی ہیں تو میں نے کھڑکی کے پاس ھوکر اندر سے آواز سننے کی کوشش کی تو دونوں جنسیں اندر ھی تھی میں نے عظمی کا پھر ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر کمرے کے پیچھے سے ھوتا ھوا دوسری طرف دروازے کے پاس پہنچ گیا 

عظمی پھر بولی یاسر میرا دل گبھرا رھا ھے 

میں نے دروازے کے پاس پہنچ کر کلاس کی طرف دیکھا تو سب بچے دوسری طرف منہ کر کے اپنے دھیان میں لگے ھوے تھے 

میں نے موقع  کا فائدہ اٹھاتے ھوے عظمی خاموش رہنے کا اشارا کیا 

اور آہستہ سے دروازہ کھولا اور دونوں اندر داخل ھوگئے  کیوں کہ دروازے کی اندر سے کُنڈی نھی تھی صرف باہر ھی کُنڈی لگی ھوئی تھی اندر داخل ہوتے ھی میں نے بڑے آرام سے دروازہ بند کردیا 

دوستو 

دفتر والے حصہ میں کھڑکی نہ ھونے کی وجہ سے اندھیرا سا تھا 

بلکہ دفتر کی پچھلی سائڈ پر کھڑکی ھونے کی وجہ سے اسطرف کافی روشنی تھی جسکا ہمیں یہ فائدہ ھوا کہ ہم دوسری طرف آسانی سے دیکھ سکتے تھے اور دوسری طرف والے ہمیں نھی دیکھ سکتے تھے 

میں عظمی کو لیے ھوے پردے کے پاس پہنچا 

 

میں نے آگے ہوکر تھوڑا سا پردہ ہٹایا تو اندر ماسٹر جی نے فرحت کو چارپائی پر لٹایا ھوا تھا اور خود اس کے اوپر لیٹ کر فرحت کے ہونٹ چوس رھے تھے  ماسٹر جی کی گانڈ فرحت کی پھدی کے اوپر تھی اور انکا لن  فرحت کی پھدی کے ساتھ چپکا ھوا تھا اور فرحت کے ممے ماسٹر جی کے سینے تلے دبے ھوے تھے اور ماسٹر جی  فرحت کے ہونٹ چوستے ھوے  ساتھ ساتھ اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر اپنا لن فرحت کی پھدی کے ساتھ رگڑ رھے تھے فرحت بھی مزے سے اپنے دونوں بازو ماسٹر جی کی کمر پر رکھ کر زور سے بازوں کو بھینچ رھی تھی 

عظمی نے مجھے کندھے سے ہلایا تو میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عظمی نے اشارے سے اندر کی صورتحال  کا پوچھا تو میں نے اسے اپنے آگے کردیا اور خود اسکے پیچھے کھڑا ھوگیا 

عظمی نے جب اندر کا سین دیکھا تو اپنا ھاتھ منہ پر رکھ کر ایکدم پیچھے ہٹی جس سے اسکی گانڈ میرے لن کے ساتھ رگڑ کھا گئی 

اور ساتھ ھی دوسرے ھاتھ سے اہنے کانوں کو چھوتے ھوے توبہ توبہ کرنے لگ گئی 

میں نے عظمی کے منہ پر ہاتھ رکھا اور سے لیتے ھوے الماری کی دوسری نکر پر آگیا 

مجھے ڈر تھا کہ عظمی کوئی آواز نہ نکال دے 

میں الماری کے پاس اکر اندر دیکھنے کی جگہ تلاش کرنے لگ گیا تو مجھے ایک جگہ سوراخ نظر آیا جس میں کپڑا ڈوھنسا ھوا تھا میں نے آرام سے کپڑا  باہر کی طرف کھینچا تو کافی بڑا سا شگاف نظر آیا شگاف اتنا بڑا تھا کہ ہم دونوں آسانی سے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہوکر اندر کا نظارا دیکھ سکتے تھے 

میں نے انگلی ہونٹوں پر رکھتے ھوے عظمی کو خوموش رہنے کا اشارہ کیا اور عظمی کو اپنے آگے کھڑا کر دیا 

الماری میں خانے بنے ھوے تھے جس میں کچھ کتابیں وغیرہ تھی اور کچھ خانے خالی تھی اور سوراخ والا خانہ بھی خالی تھا 

سوراخ تھوڑا نیچے تھا اس لیے عظمی کو تھوڑا جھکنا پڑا جس سے اسکی گانڈ باہر کو نکل آئی اور عظمی تھوڑا سا نیچے جھک کر اپنے دونوں ھاتھ خانے کی پھٹیوں پر رکھ کر اندر کی طرف دیکھنے لگ گئی 

میں بھی اسی سٹائل میں اسکے اوپر جھک کر اپنی ٹھوڑی اسکے کندھے پر رکھ کر اندر دیکھنے لگ گیا 

عظمی نے سکول یونیفارم پہنا ھوا تھا اور میں نے بھی یونیفارم کا کپڑا ریشمی ٹائپ کا تھا جو قدرے ملائم تھا 

میں پیچھے سے بلکل عظمی کی گانڈ کے ساتھ چپک گیا پہلے تو عظمی تھوڑا سا کسمکسائی مگر میں نے اسکا  بازو دبا کر اسے کھڑے رھنے کا کہا تو وہ شانتی سے کھڑی ھوگئی، 

اندر اب ماسٹر جی  فرحت کے اوپر سے اٹھ کر اسکے ساتھ لیٹ گئے تھے جبکہ فرحت بلکل سیدھی ھی لیٹی ھوئی تھی ماسٹر جی سائڈ سے اسکے  ساتھ لیٹے ھوے تھے 

 

 

ماسٹر جی نے  اپنی ایک ٹانگ فرحت کی ناف کے نیچے پھدی کے اوپر رکھی ھوئی تھی ایک ھاتھ سے فرحت کا مما دبا رھے تھے

فرحت بھی فُل مزے میں  تھی اس نے اپنے دونوں ھاتھ  اپنے سر کے پیچھے دائیں بائیں کر کے چارپائی کے سرھانے کی طرف لگے لوہے کے پائپ کو پکڑا ھوا تھا 

ماسٹر جی مسلسل فرحت کے ہونٹوں پر لگی سرخی کو چوس چوس کر ختم کررھے تھے اب فرحت کے پنک ہونٹ ھی رہ گئے تھے ہونٹوں پر لگی ساری  لپسٹک ماسٹر جی کھا چُکے تھے 

پھر ماسٹر جی نے ہونٹوں کو چھوڑا اور فرحت کی ٹھوڑی پر زبان پھیرتے پھیرتے نیچے گلے پر آگئے ماسٹر جی  کی لمبی زبان فرحت کہ گلے پر رینگتی کبھی نیچے سینے تک جاتی کبھی اوپر نیچے سے اوپر ٹھوڑی تک آتی  فرحت بھی زبان کے لمس کو برداشت نھی کررھی تھی وہ ایکدم کبھی اوپر کو اچھلتی کبھی اپنے سر کو مزید اوپر کی طرف کرکے لمبی سی سسکاری لیتی اور آنکھیں بند کئے فرحت سسییییی افففففف امممممم کی آوازیں نکال رھی تھی ماسٹر جی نے ایسے ھی زبان کو پھیرتے پھیرتے زبان کا رخ دائیں کان کی طرف کیا  جیسے ھی ماسٹر کی زبان نے فرحت کے کان کی لو کو ٹچ کیا تو فرحت ایک دم ایسے اچھلی جیسے اسے کرنٹ لگا ھو اور اس نے زور سے سیییی کیا اور  دونوں بازوں ماسٹر جی کی کمر کے گرد ڈال کر زور سے جپھی ڈال لی اور نیچے سے گانڈ اٹھا کر  ماسٹر جی کے لن کے ساتھ اپنی پھدی کا ملاپ کرانے لگ گئی 

ماسٹر جی بھی کسی ماہر چودو کی طرح اپنے حربے استعمال کررھے تھے اور فرحت بھی ماسٹر جی سحر میں پھس چکی تھی 

ماسٹر  جی نے جب دیکھا کہ فرحت کی کمزوری ادھر ھی ھے تو ماسٹر جی بار بار اپنی زبان کو کان کی لو  پر رکھ کر زبان کو  پھیرتے پھیرتے پیچھے سے اوپر لے جاتے اور پھر ویسے ھی اوپر سے نیچے تک لے آتے 

پھر اچانک ماسٹر جی نے پورا کان منہ میں ڈالا اور نکال کر کان کے اندر 

ھاااااا کر کے منہ کی  ھوا کان میں ڈالی تو فرحت ایکدم کانپ سی گئی 

ماسٹر نے اسی دوران اپنا ایک ھاتھ پیچھے لیجا کر فرحت کو تھوڑا سا اوپر کیا اور پیچھے سے قمیض اوپر کر دی اور پھر ھاتھ کو اگے لاکر آگے سے  قمیض اوپر کر  کے کندھوں تک لے گئے فرحت کے مموں پر قمیض تھوڑی سی پھنسی تھی مگر ماسٹر جی نے قمیض کے اندر ھاتھ ڈال کر پہلے دایاں مما باھر نکالا بھر بایاں  اور قمیض کندھوں تک لے گئے 

اب فرحت کا چٹا سفید پیٹ اور کالے رنگ کی برا میں چھپے چٹے سفید ممے نظر آرھے تھے ماسٹر جی نے  اپنا ھاتھ برا میں ڈالا اور ایک ممے کو  آزاد کردیا پھر وہاں سے ھی ھاتھ کو دوسری  طرف لے جا کر دوسرا مما بھی بریزئیر سے نکال دیا۔۔۔ 

فرحت کے گورے گورے موٹے ممے دیکھ کر میرا تو برا حال ھورھا تھا میرا لن ایکدم اکڑا ھوا تھا اور عظمی کی گانڈ کی دراڑ میں کپڑوں سمیت گھسا ھوا تھا 

میرا دھیان لن کی طرف اس لیے گیا کہ میں نے محسوس کیا کہ عظمی اپنی گانڈ کو پیچھے سے ہلا رھی تھی  عظمی کہ جزبات کو دیکھ کر اور ماسٹر جی کا سیکس دیکھ کر میرا بھی حوصلہ بڑھ گیا اور میں نے اپنے دونوں ھاتھ آگے کر کے عظمی کے مالٹے کے سائز کے مموں پر رکھ دیے  

عظمی نے گردن گھما کر میری طرف ایک نظر دیکھا اور پھر دوسری طرف دیکھنے لگ گئی 

عظمی اب مسلسل گانڈ کو دائیں بائیں  کر رھی تھی، میں نے آہستہ آہستہ مموں کو دبانا شروع کردیا 

عظمی کو بھی یہ سب اچھا لگ رھا تھا اس لیے اس نے اپنا ایک ھاتھ میرے ھاتھ پر رکھ لیا اور جیسے جیسے میں مموں کو دباتا عظمی بھی ویسے ھی میرا ھاتھ دبانے لگ جاتی 

اچانک مجھے ایک جھٹکا لگا 

جب میں نے اپنا لن عظمی کے نرم نرم ھاتھ میں محسوس کیا عظمی نے اپنا دوسرا ھاتھ پیچھے لیجا کر میرا لن ھاتھ میں پکڑ لیا تھا اور اسے آہستہ آہستہ دبانے لگ گئی 

 

 

فرحت کو دیکھ کر میں تو حیران ھی رھ گیا  کہ سالی آج بڑی لش پش ھوکر آئی ھے  آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر سرخ رنگ کی لپسٹک  جو اسے بہت ھی سوٹ کررھی تھی 

ایک بات تو کنفرم ہوچکی تھی کہ فرحت نے مجھے دیکھا نھی تھا اگر دیکھا ھوتا تو وہ لازمی میری طرف دیکھتی یا پھر کوئی ایسا ردعمل ظاہر کرتی جس سے مجھے شک ھوتا کہ اس نے مجھے دیکھ لیا ھے مگر وہ تو مجھے بلکل نظرانداز  کر کے ماسٹر جی کے ساتھ ایسے محو گفتگو  تھی جیسے مجھے جانتی ھی نھی 

میں بھی آنکھیں پھاڑے فرحت کے چہرے کو ھی دیکھی جارہی تھا 

ماسٹر جی نے کچھ دیر ظہیر کی کمر پر تھپ تھپی دے کر اسے واپس کلاس میں بھیج دیا اور پھر فرحت سے باتیں کرنے لگ گیا،، 

دوستوں یہاں میں ایک بات بتاتا چلوں کہ سکول میں ماسٹر تو دو ھی تھے جنکا تعارف پہلے کروا چکا ھوں مگر ذیادہ تر سکول میں ایک وقت میں ایک ھی ماسٹر ھوتا تھا جب ایک ھوتا تو دوسرا چھٹی پر ھوتا کیوں کہ اس دور میں گاوں کے سکولوں پر اتنی توجہ نھی ھوتی تھی ماسٹرز تو بس ٹائم پاس ھی کرنے آتے تھے  

 اس لیے اس دن بھی ماسٹر صفدر  اکیلے ھی تھے اس لیے فرحت سے گپ شپ لگا رھے تھے 

جس انداز سے دونوں باتیں کر رھے تھے  کسی بچے کی بھی توجہ انکی طرف نھی تھی اگر میں نے انکی کرتوت کو دیکھا نہ ھوتا تو شاید میں بھی انکی طرف اتنی توجہ نہ دیتا، 

ماسٹر جی اور فرحت اپنی باتوں میں مسلسل مست تھے 

میں نے ایک دفعہ پھر عظمی کو کہنی ماری اور آہستہ سے کہا لگتا ھے آج پھر ماسٹر جی فرحت کے ساتھ گندا کام کریں گے 

اگر تم نے بھی دیکھنا ھے تو دونوں چلیں گے دیکھنے 

تو عظمی بولی 

مروانا اے مینوں آپ تے مریں ای مریں گا نال مینوں وی مروائیں گا 

میں نے کہا یار کُش نئی ہوندا 

تو عظمی بولی نہ بابا نہ میں تے نئی جانا 

ہم یہ باتیں کر ھی رھے تھے کہ فرحت جانے کے لیے اٹھی اور پھر سے نقاب کر لیا اور ماسٹر جی کو سلام کر کے واپس جانے لگی  فرحت جیسے ھی میرے پاس سے گزری تو مجھے پھر اس سے بھینی بھینی سے تبت پوڈر کی خوشبو آئی  اور میں بھی ناک کو سکیڑ کر اس خوشبو سے لطف اندوز ھوا 

 

دوستو جیسا کے میں پہلے بھی بتا چکا ھوں کہ کمرے ہماری کلاس کی مخالف سمت تھے ہماری پیٹھ کمروں کی طرف تھی اور سکول کے گیٹ سے اندر آنے والی کچی سڑک کمروں کے آگے سے ھوتی ھوئی ہماری کلاس کی طرف آتی تھی اگر کوئی سڑک کے راستے سے باھر کی طرف جاتا تو کمروں کے آگے سے گزر کر واپس جاتا 

فرحت کے وھاں سے جانے کے  فورن بعدماسٹر جی نے سبکو  ھوم ورک چیک کرانے کا کہا  میں جلدی سے اٹھا اور میرا پہلے ھی دھیان فرحت ھی کی طرف تھا تو میں نے اٹھتے ھی سر گھما کر پیچھے دیکھا تو مجھے فرحت دفتر والے کمرے میں داخل ھوتی نظر آگئی میں نے جلدی سے سر واپس گھما لیا ایسا بس  دو تین سیکنڈ میں ھی ھوا 

اور میں دستہ پکڑے ماسٹر جی کے پاس جا پہنچا، 

ماسٹر جی بولے 

تینوں بڑی کالی اے کم چیک کروانا دی پُھپھی نوں ٹیم دتا ھوگیا اے، 

میں  جھینپ سا گیا اور سر نیچے کیے کھڑا ھوگیا ماسٹر جی نے غصہ سے دستہ میرے ھاتھ سے لیا اور جلدی جلدی ایک نظر چند ورقوں پر ماری اور دستہ مجھے واپس پکڑاتے ھو کہنے لگے 

میں ذرہ کمرے میں سونے کے لیے جارھا ھوں  میرے سر میں درد ھے 

تم سب بچوں کا کام چیک کرو اور خبردار کسی بچے کی آواز بھی میرے کانوں میں پڑی تو تمہاری خیر نھی 

میں نے یس سر کہا اور دستہ لیے اپنی جگہ ہر جاکر بیٹھ گیا 

اتنے ماسٹر جی اٹھے اور مجھے اپنی جگہ پر آنے کا کہا اور جاتے جاتے مجھے پھر اپنی دھمکی کی یاددھانی کرواتے ہوے کمرے کی طرف چل پڑے 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×