Jump to content
URDU FUN CLUB
xhekhoo

وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی

Recommended Posts

Please login or register to see this quote.

شکریہ نوازش مہربانی 

جانی 

باقی ریپ میں ظلم ھی ھوتا ھے 

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

ek larki ko lalach kaha pohncha deta h k ye is update me kia he undagi sy beyaan kia h threesome k manzarkashi lajawab thi.... 

Dialog akri k chracter ko justify kr rhy thy lkin zofi wala portion slow chlaye ga asad sy inteqaam ko agy rkhy ga

Share this post


Link to post
Share on other sites

اپنی اپنی پسند کی بات یے لیکن ریپ سین میں بلکل مزا نہیں ایا چدائی بڑے پیار سے ہونی چاہیے سیکس کا پورا نزا خراب ہوجاتا ہے ریپ سین پڑھ کے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

۔updete..... 

.میں جیسے ماہی کے پیچھے اپنا بچاو کرنے کے لیے کھڑا ھوا تو ماہی بھی ہنستے ھوے ضوفی کے اٹھے ہاتھ کو پکڑنے لگ گئی۔

میں ماہی کو کندھوں سے پکڑ کر دائیں بائیں ہو رھا تھا اور ضوفی بھی ماہی کے آگے کھڑی مجھے مارنے کے لیے مکا لہراتے ھوے کبھی دائیں طرف سے مجھ پرحملہ آور ہوتی تو کبھی بائیں طرف سے ۔

ماہی بولی آپی بس کریں کہ میرے بھائی کو مار کر ھی رہیں گی ۔

ضوفی بولی تمہارا یہ بھائی بہت بگڑ گیا ھے۔

کچھ دیر بعد ضوفی مجھے گھورتے ھوے واپس صوفے پر جا بیٹھی اور میں بھی ماہی کے کندھوں کو چھوڑ کر جاکہ بیڈ پر جا بیٹھا ۔۔

ماہی کچھ دیر بیٹھ کر کھانا بنانے کا کہہ کر چلی گئی ۔ میں بھی بیڈ کے اوپر ہوکر ایسے بیٹھ گیا جیسے میرا گھر ھو ۔

تھا بھی کچھ ایسا ھی مجھے ضوفی کے گھر میں آکر اپنائیت کا احساس ھوتا تھا ۔

میری بلکل جھجک ختم ھو چکی تھی ۔۔

میں بیڈ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ھوا تھا اور ضوفی صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ رکھے بیٹھی مجھ سے باتیں کررھی تھی ۔۔۔

میں نے ضوفی سے پوچھا کہ جب میں واپس گیا تھا تو تم گھر چلی گئی تھی ۔

ضوفی بولی میں تمہیں چھوڑ کر کیسے جاسکتی میں بھی تمہارے پیچھے آگئی تھی مگر وھاں ہجوم اتنا تھا اور مار دھاڑ اتنی ھو رھی تھی کہ ۔میں آگے نہ جاسکی میرا تو دل گبھرا رھا تھا میں نے کافی کوشش کی کہ کسی طریقے سے آگے جاکر دیکھوں مگر وھاں ہر طرف آدمی ھی کھڑے تھے تھک ہار کر میں ایک دکان کے باہر کھڑی ھوگئی تھی مجھے بس شور اور چیخوں کی آوازیں آرھی تھی ۔جب تم لوگ وھاں سے بھاگے تھے تو تمہیں خون سے لت پت دیکھ کر میری چیخ نکل گئی میں نے تمہیں بہت آوازیں دیں پیچھے بھی بھاگی مگر تم نے میری طرف دھیان ھی نہ دیا۔

جب تم لوگ وھاں سے نکلے ھی تھے کہ کچھ دیر بعد وھاں پولیس آگئی تھی اور پھر ایمبولینس آگئی ۔۔

میں نےبڑی کوشش کی کہ کسی طرح تم سے رابطہ ھوسکے مگر میں ناکام رہی ۔

میں نے کہا مارکیٹ کے مالک کو کیسے پتہ چلا لڑائی کا اور اس نے کیا کہا تھا۔

ضوفی بولی میں ادھر سے سیدھی انکے گھر چلی گئی تھی اور میں نے ساری غلطی نسیم کی ھی نکالی اور انکو خوب ان لوگوں کے خلاف بڑھکایا ۔

نسیم کی ناک کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور اس کے والد کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور اسکے چاچا کا بازو فیکچر ھوگیا تھا باقی لڑکوں کے بھی کافی چوٹیں آئیں تھی ۔

اس کے باوجود بھی آنٹی نے انکل کو کہا کہ اگلے مہینے مجھے دکان خالی چاھیے ۔

اور انکل نے انکی ایک بھی نہ سنی اور ایک مہینے کا نوٹس دے دیا ۔۔

میں نے ہممممم کیا ۔۔۔

ضوفی مجھے گھورتے ھوے بولی ویسے یاسر تم بہت ظالم ھو اس طرح بھی کوئی کسی کو مارتا ھے ان بیچاروں کا کتنا برا حال کیا تم نے اور تمہارے دوستوں نے ۔

میں نے کہا 

ایسے لوگوں کا یہ ھی حال ھو تو ھی انکو سمجھ آتی ھے پیار کی زبان یہ لوگ نہیں سمجھ سکتے ۔۔

ضوفی بولی پھر یاسر اگر ان میں سے کوئی مرجاتا تو کیا ھوتا۔

میں نے مکا بنا کر بازو کو ضوفی کی طرف کرتے ھوے مکے کو اوپر کرتے ھوے کہا لن تے چڑدے مردا تے مرجاندا۔۔۔۔

ضوفی منہ پر دونوں ھاتھ رکھ کر اپنی ہنسی کو دباتے ھوے بولی ھوووو ھاے کتنے سنگدل ھو۔۔۔۔

مجھے تو تم سے ڈر لگنے لگ گیا ھے ۔۔۔۔

میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے بڑے رومینٹک انداز سے کہا ۔

تو پھر کیا سوچا ۔۔۔۔

ضوفی مجھے گھورتی ھوئی بولی 

کیا مطلب ۔۔۔۔

میں نے کہا مطلب کہ میں پھر اپنی چھٹی سمجھوں ۔۔۔ضوفی میری طرف دونوں بازو سیدھے کر کے ھاتھوں کو کھول کر تیزی سے آئی اور 

 

میرے گلے کو پکڑ دباتے ھوے بولی تمہاری جان لے لینی ھے میں نے جو دوبارا یہ بات سوچی بھی۔۔

میں نے ضوفی کی کلائیوں کو پکڑا اور اپنے گلے سے ہاتھ ہٹاتے ھوے اسکو کھینچ کر اپنے سینے پر لیٹا کر اسکے بازو اپنے سر کے اوپر لے گیا۔

ضوفی کے ممے میرے سینے پر دب گئے تھے اور اسکا چہرہ میرے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ اسکی سانسیں میرے چہرے پر پڑ رھی تھیں ۔

آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سکتے کے عالم میں ایک دوسرے دیکھے جارھے تھے دونوں کی سانسوں رفتار تیز سے تیز ھوتی جارھے تھی ہونٹ ہونٹوں کو چھونے کے لیے بےچین ھورھے تھے دونوں پلکیں جھپکنا بھول گئے تھے۔

بلاخر سکتہ ٹوٹا ہونٹوں نے اگے بڑھنے کی جرات کی اور پھر سب کچھ بھول کر ہونٹ ایک دوسرے سے گُتھم گتھا ھوگئے زبانیں آپس میں ٹکرانے لگیں لباب دھن ایک دوسرے کے اندر اترنے لگا ۔

میرے ھاتھ ضوفی کی گردن کے پیچھے اسکے ریشمی سلکی بالوں کو سہلانے لگے ضوفی کی تڑپ بے چینی اس کے کسنگ کرنے کا والہانہ انداز مجھے مذید گرمانے لگا ۔

ہونٹ تھے کے ایک دوسرے سے جدا ھونے کو نام نہیں لے رھے تھے جسم تھے کے ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کررہے تھے ضوفی کے نرم جسم کو میرے سہلاتے ھوے ہاتھ اسکی گلاب کی پنکھڑیوں کا رس چوستے میرے ہونٹ اسکی گرم زبان سے ٹکراتی میری زبان مجھے جنت کی وادیوں میں پہنچا رہیں تھی 

محبوب کے گیسوں میں عجب سی مستی چھاے جارھی تھی ۔

ضوفی کی گردن کے پیچھے اسکے ریشمی سلکی بالوں کو سہلانے لگے ضوفی کی تڑپ بے چینی اس کے کسنگ کرنے کا والہانہ انداز مجھے مذید گرمانے لگا ۔

ہونٹ تھے کے ایک دوسرے سے جدا ھونے کو نام نہیں لے رھے تھے جسم تھے کے ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کررہے تھے ضوفی کے نرم جسم کو میرے سہلاتے ھوے ہاتھ اسکی گلاب کی پنکھڑیوں کا رس چوستے میرے ہونٹ اسکی گرم زبان سے ٹکراتی میری زبان مجھے جنت کی وادیوں میں پہنچا رہیں تھی 

محبوب کے گیسوں میں عجب سی مستی چھاے جارھی تھی ۔

ضوفی کی گردن سے سرکتے ھاتھ اسکی کمر کو ناپتے ضوفی کی ابھری گانڈ کی طرف بڑھتے جارھے تھے ضوفی کی مستی اسکا جوش بڑھتا جارہا تھا کہ اسی سمے ہمارے کانوں میں ماہی کے کھنگارنے کی آواز پڑی ۔

زبان نے زبان کو چھوڑا ہونٹوں نے ہونٹوں کو بچھڑنے کی اجازت دی ۔جسم جسم سے جدا ھوے ضوفی کی گانڈ کو سہلاتے میرے ہاتھ بجلی کی سی تیزی سے ہٹے اور ضوفی گھوم کر سیدھی ہوئی اور جلدی سے اٹھی اور ہاتھ اہنے ہونٹوں پر رکھ کر سر نیچے کر کے شرمندہ سی ھوکر بیٹھ گئی ۔۔۔

میں نے بھی جلدی سے خود کو سمیٹا اور مارے شرمندگی کے سر اٹھا کر ماہی کی طرف نہ دیکھا ۔۔۔۔۔

اتنے میں ماہی کی شوخی بھری آواز ہم دونوں کے کانوں میں پڑی ۔

سوری ۔۔وووووہ کھانا لائی تھی ۔۔۔

بندا کم از کم دروازہ ھی بند کرلیتا ھے ۔۔۔

ضوفی نے سر نیچے کیے آہستہ سے کہا ٹیبل پر رکھ دو کھانا اور تم جاو۔ 

ماہی نے جلدی سے ٹیبل پر کھانا رکھا اور الٹے قدموں باہر کو بھاگ گئی ۔۔۔۔

میں ٹانگیں فولڈ کر کے تکیہ پر کُہنی رکھے سائڈ کے بل سر نیچے کیے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتے ھوے دیکھ تھا جبکہ ضوفی میرے پیٹ کے ساتھ گانڈ لگا کر دوسری طرف منہ کیے بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکاے اپنے ھاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتے ھوے شرمندہ سی بیٹھی تھی ۔۔۔

ماہی کے جاتے ھی میں نے پیچھے سے ضوفی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے پیٹ پر رکھے اور اسکو اپنی طرف کھینچ لیا ضوفی چھت کی طرف منہ کیے میرے اوپر آگئی اور جلدی سے میرے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنے نرم نازک پیٹ سے ہٹانے اور اوپر اٹھنے کی کوشش کرتے ھوے بولی ۔۔۔

یاسر چھوڑو ماہی پانی لینے گئی ھے ابھی آتی ھوگی ۔۔۔

میں نے کہا ابھی تو وہ نیچے بھی نہیں پہنچی ھوگی ۔۔۔

ضوفی بولی پلیززززز یاسر مجھے پہلے ھی بہت شرمندگی ھورھی ھے کہ اس نے ہمیں اس حال میں دیکھ لیا ۔

نہ جانے کیا سوچے گی ۔۔۔

میں نے ہاتھوں کی گرفت سخت کرتے ھوے کہا ۔

کیا سوچے گی کہ جیجا جی اپنی ڈیوٹی پوری کررھے ہیں ۔۔۔

ضوفی نے پورا ذور لگاتے ھوے اییییییی 

کیا اور میرے ہاتھ اپنے پیٹ سے کھولنے کی کوشش کرتے ھوے بولی جیجا جی کے بچے اب چھوڑ بھی دو 

وہ بچی ھے ہمیں یوں دیکھ کر برا اثر لے گی ۔۔۔

میں نے کہا ۔۔۔

بچی نہیں وہ بھی جوان ھوگئی ھے اور سمجھدار بھی ھے ۔۔۔

ضوفی زور ازمائی کے بعد اپنی ہار مانتے ھوے اپنے پیٹ پر بندھے میرے ہاتھوں پر اہنے نرم ملائم ہاتھ رکھ کر میرے ھاتھوں کو سہلاتے ھوے بولی اچھا چھوڑو بابا کھانا ٹھندا ھورھا ھے ۔

میں کچھ بولنے ھی لگا تھا کہ سیڑیاں چڑھتے قدموں کی آواز آئی تو میں نے جھتکے سے ھاتھ کھینچ کر ضوفی کو آزاد کردیا۔۔

ضوفی ہنستے ھوے جلدی سے اٹھی اور بولی اب بھی نہ چھوڑتے ۔

اس کے ساتھ ھی ماہی کمرے میں داخل ھوئی اور ہماری طرف دیکھتے ھوے شرارت سے بولی لگتا ھے کہ کھانا کھانے کا موڈ نہیں ھے ۔۔۔

ضوفی میری طرف دیکھ کر مسکراتے ھوے بولی ۔۔

تمہارا بھائی کہتا ھے کہ ماہی کے ساتھ بیٹھ کر ھی کھانا کھائیں گے اس لیے تمہارا انتظار کررھے ہیں ۔۔۔

ماہی مسکراتے ھوے بولی واہ جی واہ 

ابھی سے سالی کی اتنی اہمیت ھوگئی ۔۔۔

ضوفی ھاتھ لہراتے ھوے بولی ذیادہ بکواس نہ کر ماروں گی ایک ۔۔۔

ماہی کھلکھلا کر ہنستے ھوے بولی ۔

لو جی میں نے کیا غلط کہہ دیا ۔۔

چلو ٹھیک ھے نہیں بنتی سالی. 

اور پھر میری طرف دیکھ کر آنکھ دباتے ھوے بولی لگتا ھے کہ اب بھائی کی چھٹی ھوگئی ھے ۔۔

ضوفی ایکدم سیریس ھوگئی اور غصے سے ماہی کی طرف دیکھتے ھوے بولی ۔۔

تم کچھ ذیادہ ھی سر پر نہیں چڑھ رھی جو منہ میں آتا ھے بکواس کری جارھی ھو پانی رکھو ادھر اور دفعہ ھوجاو ۔۔۔۔

ماہی نے ضوفی کی بات کو خاصہ محسوس کیا اور ایکدم اس کی آنکھیں نم ہوئیں اور پانی ٹیبل پر رکھ کر واپس بھاگی میں جو ان دونوں بہنوں کی نوک جھونک سے لطف اندوز ھورھا تھا ۔

ماہی کو یوں روتے دیکھ کر جمپ مار کر اسکو آواز دیتا ھوا بیڈ سے نیچے اترا اور اسکو دروازے پر ھی جالیا۔۔

ماہی رو رھی تھی میں نے اسکے سر پر پیار سے ھاتھ پھیرا اور اسکے سر کو اہنے کندھے سے لگاتے ھوے اسے واپس کھانے کے ٹیبل کی طرف لانے لگا اور ضوفی کی طرف گھورتے ھوے بولا ۔

یار بولتے وقت کچھ تو خیال کیا کرو ۔۔

بیچاری نے اتنے شوق سے ہمارے لیے کھانا بنایا ھے اور تم اسکی محنت کا یہ صلہ دے رھی ھو ۔

بہت بتمیز ھو تم ضوفی ایسے ھی میری گڑیا کو رولا دیا ۔

ماہی اپنے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرتی میرے کندھے سے لگی صوفے کے پاس آئی اور میں نے اسے بازوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور خود بھی اسکے ساتھ ھی بیٹھ گیا ۔

اور ماہی کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ھوے کہا چلو کھانا پلیٹوں میں ڈالو آج میں اپنی گڑیا کے ساتھ ھی کھانا کھاوں گا ۔

یہ اکیلی ھی کھاے کھانا اس کی یہ ھی سزا ھے ۔۔

 

ضوفی میری طرف دیکھ کر مسکراتی ھوئی ہمارے سامنے بیٹھ گئی ۔۔۔

کچھ دیر مذید مسکے لگانے کے بعد ماہی کا موڈ صحیح ھوا اور ضوفی نے بھی ماہی سے سوری کی اور اسکی گال پر ایک بوسا بھی لیا ۔۔۔

اور پھر ہم خوشگوار موڈ میں کھانا کھانے لگ گئے ۔۔

کھانا کھانے کہ بعد میں مذید کچھ دیر ادھر بیٹھا رھا اور پھر نیچے آکر آنٹی سے انکی بیمار پرسی کی اور تقریباً شام ڈہلنے لگی تو میں ان سے اجازت لے کر گھر سے نکل آیا ضوفی نے دو تین دفعہ آہستہ سے مجھے رات رہنے کا کہا مگر میں گھر بتا کر نہیں آیا تھا اس لیے میرا جانا ضروری تھا اور گھر کا ماحول بھی خراب تھا اگر میں رات کو گھر نہ جاتا تو ابو سے چنگی پلی بےعزتی ھو جانی تھی ۔

ضوفی کے گھر 

سے نکل کر میں سیدھا گاوں پہنچا اور گھر چکر لگا کر کھانا وغیرہ کھا کر میں باہر نکلا اور سیدھا چوک کی طرف چلدیا دور سے ھی مجھے شادا اور باقی کا گروپ چوک میں لگے بوڑھ کے درخت کے نیچے بیٹھے نظر آگئے ۔۔

جب میں انکے پاس پہنچا تو خوب گرمجوشی سے ملے شادا میرے گھر والوں کے رویعے کے بارے میں پوچھنے لگ گیا میں نے سب اوکے کہا ۔

کچھ دیر بیٹھے خوب ہلا گلا کرتے رھے ایک دوسرے کو جگتیں مارتے اور قہقہے لگاتے رھے ۔۔

کچھ دیر بعد میں نے شادے سے اکری کے بارے میں پوچھا کہ تم اسے جانتےھو تو شادے نے نفی میں سر ہلایا اور پوچھنے لگ گیا کہ کون اکری ۔

میں نے جب اسے لوکیشن بتائی تو وہ ایک دم کھڑا ہوگیا اور میری طرف دیکھتے ھوے بڑے گبھراے ھوے لہجے سے بولا اوے توں اکری جموں دی گل کرریاں ایں ۔۔

میں نے بڑے اطمینان سے سرہلا کر ہاں کی ۔۔

تو اکری میرے سر کو ہلاتے ھوے بولا 

اوے توں اودے کولوں کی لینا اے ۔

او بڑا پین یک بندا اے اودے پچھے بڑے وڈے ہتھ نے پولیس تھانہ کچہری اودی جیب وچ اے۔۔۔۔

میں نے ہنستے ھوے اسکا ھاتھ پکڑ کر اسے کھینچ کر بٹھاتے ھوے کہا۔

پین یکہ بے تے جا تیری کیوں بُنڈ پاٹ گئی اودا ناں سندے ھوے ۔۔۔

شادا نیچے بیٹھتے ھوے بولا 

پھدی دیا توں ناں ای اوس بندے دا لیا اے بنڈ تے پاٹنی ای اے ۔۔۔

میں نے شادے کی حالت دیکھتے ھوے اندازہ لگا لیا کہ یہ میری مدد نہیں کرے گا اسکی گانڈ تو اسکا نام سنتے ھی پھٹ گئی ۔۔۔۔

جب اس سے پنگے کا سنے گا تو سالا ویسے ھی بھاگ نہ جاے اور کہیں یہ بات اکری تک نہ پہنچ جاے۔۔۔

میں نے بات کو مزاق میں ڈالتے ھوے کہا ۔

یار میں نے تو ویسے ھی پوچھا تھا کہ یہ کون ھے اسکا نام بہت سنا ھے شہر میں ۔۔

تو شادے نے لمبا سانس لیا اور شکر ادا کرتےھوے بولا کہ میں سمجھا شاید اس کے ساتھ کوئی تیرا رولا پڑ گیا ھے ۔۔۔

میں نے ہنستے ھوے کہا 

پھدی دیا میں ہن روز رولے ای پانے نے ۔۔۔

میں نے اکری کے معاملے کو فلحال موخر کرنے کا سوچا کہ سہی وقت پر سہی موقع ملتے ھی کچھ کروں گا چاھے مجھے کسی بھی حد تک نہ جانا پڑے ۔۔۔

دوستو میں عمر کے اس دور میں تھا جب ایک منٹ میں مرنے مارنے پر اتر آتا تھا ایک دفعہ ہر پھڈے میں ٹانگ اڑا دینی بس بعد میں جو ہوگا دیکھا جاے گا ۔۔۔

میں کچھ دیر مذید ادھر بیٹھا اکری کے بارے میں معلومات لیتا رھا۔

شادا اسکی بہادری کے قصے سناتا رھا کی فلاں وڈیرے کا ہاتھ اس کے سر پر ھے اس نے فلاں بندے کو مارا ھے فلاں کو مارا ھے شادے نے مجھے کوئی دس پندرہ بندے گنا دیے جنکو اس نے قتل کیا تھا یا کروایا تھا مگر ثبوت نہ ملنے اور اس کے سٹرونگ بیک گراونڈ کی وجہ سے پولیس کی گرفت میں نہی آیا اور نہ ھی کسی سر پھرے نے اس پر ہاتھ ڈالا تھا مگر ایک بات میرے دماغ میں بیٹھ گئی تھی کہ ۔۔

سالا جتنا بڑا بھی بدمعاش ھے مگر ھے تو انسان ھی ۔

اسپر کونسا کوئی گولی اثر نہیں کرتی یا اس کے اندر خنجر نہیں اترتا۔۔۔

جو بھی ھے سالے کو ایک دن تو مرنا ھی ھے ۔

اور ایسے بندے اندھی گولی کا شکار بنتے ہیں ۔

یا پھر پتہ نہی چلتا کہ کون اسکو مار گیا ۔۔

خیر میں قیاس آرائیاں کرتا رھا اور پھر سب ادھر سے اٹھے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ھوگئے ۔۔۔

گھر آکر بھی رات دیر تک بستر پر کروٹیں لیتا ھوا اکری کے بارے میں سوچتا رھا کہ کیسے میں اس تک پہنچ سکتا ھوں اور کبھی اسد پر سوئی اٹک جاتی کہ کیسے اسد کو ایسی موت ماروں جس سے سالا روز جیے اور روز مرے ۔۔۔

اچانک میرے دماغ میں 

ایک پلان آیا جس سے ایک تیر سے دو نشانے لگانے جاسکتے تھے ۔ ۔

اور پھر اس پلان کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے قیاس آرائیاں کرتا رھا اور بلاخرہ پلان کے تحت عملی طور پر قدم اٹھانے کا سوچتے ھوے سو گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

update... 

.صبح میں جلدی اٹھا اور تیار ہوکر شہر پہنچا اور سیدھا جنید کے گھر پہنچا ۔

دروازے پر دستک دی تو کچھ دیر بعد جنید نے ھی دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر حیران رھ گیا اور سلام دعا کے بعد بیٹھک کا دروازہ کھولنے چلاگیا 

اور کچھ ھی دیر میں میں جنید کی بیٹھک میں بیٹھا ھوا تھا ۔

جنید بولا خیریت ھے آج صبح صبح چاند نکل آیا ۔۔

میں نے کہا یار بس فارغ رھ کر تھک گیا ھوں سارا دن بوریت میں گزرتا ھے ۔

اگر کوئی دکان ھے تو مجھے ادھر رکھوا دو جنید بولا میری جان میں نے تجھ سے پہلے ھی ایک دکان والے سے بات کررکھی ھے مجھے پتہ تھا کہ تم اب گاوں میں نہیں رھ سکتے ویسے تو انکل سجاد بھی تجھے یاد کرتے ہیں اور نسیم کو بھی گالیاں دیتے ہیں کہ اسکے پیچھے لگ کر تمہارے ساتھ ذیاتی کی ۔۔

اگر تم کہو تو میں انکل سے اپنے طور پر بات کروں ۔

میں نے کہا نہیں یار مجھے اس بندے سے نفرت ھوگئی ھے میں اسکے ساتھ جتنا مخلص تھا 

اس سالے نے میری قدر نہ کی ۔

جنید بولا چھوڑ یار پھر بھی وہ تیرا استاد ھے اور استاد تو باپ کی جگہ ہوتا ھے اگر اس نے غصہ میں کچھ کہہ دیا تو دفعہ کر غصہ تھوک دے ۔۔

وہ ویسے بھی اپنے کیے پر شرمندہ ھے ۔

اور اس کی باتوں سے لگتا ھے کہ وہ دل سے چاہتا ھے کہ تم دکان پر واپس آجاو۔

میں نے کہا یار میرا دل نہی مانتا جنید بول چل ماما ہن توں کڑیاں ونگوں نخرے کر ریاں ایں ۔۔

میں آج ھی انکل سے بات کرتا ہوں بلکہ تو میرے ساتھ ھی چل میں سنبھال لوں گا سب ۔

میں نے کہا نہیں یار ایسے وہ سمجھے گا کہ پتہ نہی مجھے کہیں کام نہی ملا اس وجہ بےشرموں کی طرح واپس آگیا ھے ۔۔۔

تو ایسا کر آج اس سے بات کرلے اور اسکو کہنا کہ رات کو ہمارے گھر آکر مجھے کہے ۔۔۔

جنید بولا چل سہی ھے جیسے تو خوش اگر وہ آگیا تو ٹھیک ھے ورنہ میں دوسری دکان پر تجھے کل ھی رکھوا دوں گا ۔۔۔

میں نے ہمممممم کیا اور پھر میں نے جنید سے کہا کہ یار ایک اور کام ھے اگر تو کردے تو ساری زندگی تیرا احسان نہیں بھولوں گا ۔۔

جنید بولا 

ماما نالے مینوں ویر وی کیناں ایں رے نالے اے احسان کرن والیاں چولاں وی مارن دیاں ایں ۔

حکم کر ۔۔

میں نے کہا یار مجھے کچھ دنوں کے لیے ایک کیمرہ چاہیے جس سے ویڈیو فلم بنتی ھو اور کیمرہ بھی چھوٹا سا ہو ۔۔

جنید بولا خیر ھے کس کی فلم بنانی ھے ۔۔۔

میں نے کہا یار بس وہ تیری پرجائی کی فرمائش ھے کہ ہم دونوں کی اکھٹے بیٹھے ھوے کی فلم بنے ۔۔۔

جنید ہنستے ھوے بولا ۔

واہ یار یہ بھابھی کب سے بن گئی چپ کر کے شادی تے نئی کروا لی ۔

میں نے کہا نہیں یار بھابھی مطلب میری ایک سہیلی ھے اسکی فرمائش ھے ۔۔

جنید بولا ۔

کہیں وہ پالر والی تو نہیں ۔

میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور پھر خود کو سنبھالتے ھوے بولا نہیں یار گاوں کی ھے دیکھاوں گا تجھے کسی دن ۔

بس یہ بتا کہ میرا کام ھوجاے گا ۔۔

جنید بولا یار کام مشکل ھے مگر ناممکن نھی بڑا کیمرہ چاہیے تو چل ابھی لے دیتا ھوں مگر یہ چھوٹے سائز والا کیمرہ بہت کم لوگوں کے پاس ھے ۔۔

مگر پھر بھی تو پریشان مت ھو میں جلد ھی تجھے ڈھونڈ دوں گا ۔

ہے اپنے یار کافی سارے ۔۔۔

کسی نہ کسی کے گھر تو ھوگا ھی 

ویسے تجھے چاہیے کب میں نے کہا مجھے چاھے آج ھی دے دو اگر آج نہی تو کم از کم دو تین دن کے اندر تو لازمی دے دینا ۔۔۔

جنید بولا تو واپس کب دو گے ۔

میں نے کہا تم ایک مہینے کا کہہ دینا کیونکہ ہمیں جب بھی موقع ملا تب ھی فلم بنانی ھے ہو سکتا ھے میں تجھے ایک ہفتے میں ھی واپس کردوں۔۔۔

جنید بولا ٹھیک ھے میں کوشش کرتا ھوں کہ جلد ھی مل جاے باقی تم صبح دکان پر آنے کے لیے تیار رہنا میں نے کہا انکل آے گا تو ھی میں آوں گا ۔۔

جنید بولا یہ مجھ پر چھوڑ دو اسکو میں آج فلم ھی ایسی سناوں گا کہ وہ پہلے تیرے پاس جاے گا پھر اپنےگھر جاے گا ۔۔۔

میں نے جنید کا شکریہ ادا کیا اور اس سے پوچھا دکان پر کب جانا ھے تو اس نے بتایا کہ بس میں تیار ھوں چلو اکھٹے ھی نکلتے ہیں ۔۔

میں نے ہمممم کیا اور میں اٹھ کر بیٹھک سے باہر ایا اور جنید نےدروازہ بند کیا اور مین دروازے سے باہر آیا اور ہم بازار کی طرف چل دیے ۔۔

جنید کا گھر بھی ضوفی کے محلے میں ھی تھا ۔۔

میرا دل تو بہت کیا کہ میں ضوفی کے گھر جاوں مگر جنید کی وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر محبوب کی گلی سے انجان بن کر گزرگیا۔۔۔

 

بازار پہنچ کر میں جنید سے علیحدہ ھوا اور ایسے ھی ادھر ادھر گھومنےلگ گیا ۔۔

مجھے سمجھ نہیں آرھی تھی کہ کدھر جاوں ۔

جانے کے لیے جگہ تو بہت تھیں مگر دل کہیں بھی جانے پر مطمئن نہیں ھورھاتھا ۔۔۔۔

خیر میں یوں ھی چلتا ھوا گاوں کی طرف نکل گیا اور نہر کےکنارے پر جاکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

اور کنارے پر بیٹھا میں اپنے پلان پر ہر پہلو سے غور کرنےلگ گیا اور اسکو بہتر انداز میں سرانجام دینے کے لیے مذید مغز ماری کرنے لگ گیا۔۔۔

مجھے بیٹھے کوئی ایک گھنٹہ ھی ہوا ھوگا کہ مجھے شہر کی مین سڑک والے پل کی طرف سے ایک موٹر سائکل سوار آتا نظر آیا جس کے پیچھے کالے رنگ کے برقعہ میں کوئی عورت بیٹھی ھوئی تھی ۔

اور وہ بڑے آرام آرام سے ادھر ادھر گردن گھما کر دیکھتے ھوے آرھا تھا میں اسے دیکھی جارھا تھا وہ کبھی رکتا اور پھر موٹرسائیکل آگے بڑھاتا اور کچھ آگے آکر پھر رک جاتا ۔

مجھے اسکی حرکات مشکوک لگیں ۔

کیونکہ اکثر لڑکے شہر کی لڑکیوں کو ورغلا کر نہر پر ڈیٹ مارنے لے آتے تھے اور موقع پاکر نہر کے اطراف میں لگی مکئی کی فصل میں گھس کر چدائی بھی کرلیتے تھے ۔۔۔

میری چھٹی حس نےفورن کام کیا کہ 

یاسر پتر اے پھدی دا کیس اے تے ہوشیار ھوجا۔۔۔

وہ آدمی مجھ سے کافی فاصلے پر تھا اس نےمجھےدیکھا تھا یا نہیں 

I don't know 

مگر میں اسکی حرکات کو نوٹ کرکے چوکس ھوچکا تھا ۔۔

میں جلدی سے کنارے پر ھی لیٹ گیا نہر کا کنارہ ایک جگہ سے اونچا تھا اور کوئی دو تین فٹ کی جگہ جو پانی کے قریب تھی اور نیچے تھی جس جگہ بیٹھ کر عورتیں کپڑے دھوتی تھیں ۔

میں کھسکتا ھوا اس جگہ پر پہنچ گیا ۔ اور کچھ دیر ایسے ھی کمانڈو سٹائل میں الٹا لیٹا رھا کچھ دیر بعد میں نے جب 

سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے موٹر سائکل سوار نظر نہ آیا 

میں نے مذید سر اٹھایا تو مجھے پھر بھی کوئی نظر نہ آیا ۔

میں یہ سوچ کر اوپر ھونے لگا کہ شکار نکل گیا ھے ۔

میں اٹھ کر کھڑا ھوا تو مجھے سامنے کوئی بندا نہ بندے کی ذات نظر آئی ۔۔

میں مایوس ہوکر کنارے سے اتر کر نیچے گاوں کی طرف جانے ھی لگا تھا کہ مجھے کچھ فاصلے پر درختوں کے بیچ کھڑی موٹر سائکل کی سرخ رنگ کی ٹینکی کی ایک جھلک نظر آئی ۔ میں جلدی سے وہیں بیٹھ گیا اور الٹے پاوں واپس کنارے پر جانے لگا ۔۔۔

مجھے اب سمجھ نہیں آرھی تھی کہ میں کیسے ان تک پہنچوں کہ انکو پتہ بھی نہ چلے خیر میں ان کو کچھ وقت دینے کی سوچ کر وہیں بیٹھ گیا کہ وہ کچھ کرنے لگ جائیں تو ھی اوپر چھاپا ماروں ۔۔

میں نے کوئی دس منٹ انتظار کیا اور پھر آگے ھو کر دیکھا تو موٹر سائیکل ابھی بھی کھڑی تھی ۔۔

میں دبے پاوں جھک کر کنارے سے نیچے اترا اور آہستہ آہستہ چلتا ھوا ۔۔

موٹر سائیکل کی طرف بڑھنے لگ گیا بارہ بجے کا ٹائم تھا ہر طرف سناٹا تھا ۔۔میں چلتا ھوا موٹر سائکل کے پاس پہنچ گیا موٹر سائیکل بڑے طریقے سے چھپا کر کھڑی کی ہوئی تھی مگر دیکھنے والے دیکھ ھی لیتے ہیں ۔۔۔

میں بڑی احتیاط سے موٹر سائیکل کے چاروں اطراف دیکھنے لگ گیا مگر وھاں کچھ بھی نہیں تھا ۔

یعنی شکار مکئی کے اندر گھسا ھوا تھا ۔۔۔

میں بڑی احتیاط سے دبے پاوں جھک کر چلتا ھوا مکئی کے اندر داخل ھوا اور پاوں کے بل کیاری میں بیٹھ گیا۔۔۔

اور سامنے دیکھنے لگ گیا مجھے دور تک کیاری میں کچھ بھی نظر نہ ایا ۔۔۔

میں پاوں کے بل بیٹھا ھوا ھی آگے بڑھنے لگا میں بڑی احتیاط سے آگےبڑھ رھا تھا کہ مکئی کے پتوں کی آواز نہ پیدا ھو ۔۔۔

میں کچھ ھی آگے گیا تھا کہ میرے کانوں میں نسوانی آواز آئی ۔۔

اب کر بھی لو کہ کوئی آے گا تو ھی کرو گے ۔

اور پھر ساتھ ھی مردانہ آواز آئی یار اسے کھڑا تو کرلوں اور ادھر اس وقت کوئی نہیں آتا نوٹینشن۔۔۔

میں فل چوکس ہوگیا اور آواز کی سمت چہرہ گھمایا تو تو مجھے ساتھ والی کیاری میں بالوں والی گانڈ نظر آئی میں جلدی سے آگے بڑھا تو گانڈ نمایاں نظر آنے لگ گئی ۔۔۔۔

اور جب کچھ اور آگے بڑھا تو میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رھ گئی ۔۔۔۔

.سامنے کا سین کچھ ایسا تھا کہ آدمی لڑکی کی ٹانگوں میں اسکی پھدی کے سامنے  گھٹنوں کے بل بالوں سے بھری گانڈ میری طرف کر کے بیٹھا ھوا تھا اور اس نے پینٹ اتار کر ایک طرف رکھی ہوئی تھی اور لڑکی کی گوری ٹانگیں اسکی کمر کے دونوں اطراف نظر آرھیں تھی لڑکی  کے پاوں اتنے سفید اور سرخی مائل تھے جیسے اسکے پیروں کے تلووں میں خون اتر آیا ھو اور اسکی چٹی سفید پنڈلیوں سے لگ رھا تھا کہ بچی کافی صحت مند ھے ۔۔

آدمی لن کو پکڑے شاید مٹھ ماررھا تھا کیونکہ اسکے بازو کے ساتھ اسکی گانڈ بھی ہل رھی تھی ۔۔۔

لڑکی کا برقعہ اور شلوار بھی ایک طرف پڑے تھے اور انہوں نے نیچے چادر بچھائی ہوئی تھی یعنی کے

پورے پار نال آے نے 

میں انکا جائزہ لے رھا تھا کہ کیسے انکو للکاروں ۔۔

جبکہ لڑکی اسے جلدی کرنے کا کہہ رھی تھی اور لڑکا اسے حوصلہ رکھنے کا کہہ رھا تھا جہاں تک میرے قیاس کے مطابق لڑکے کا لن کھڑا نہیں ھورھا تھا 

مردانه کمزوری ھوگی یا پھر خوف۔۔۔

میں نے دماغ میں پلان اور ڈائلگ سوچ لیے جو مجھے بولنا تھے ۔۔

اگر میرے ڈائلگ انپر اثر کرگئے تو لڑکے کو تو پتہ نہی مجھے اس شہری پوپٹ بچی کی پھدی کا شرف حاصل  ھوجانا تھا اور پھدی کے اندر لن ڈالنے کی رسائی بھی حاصل ھوجانی تھی ۔

خیر میں نے اپنے آپ کو تیار کیا اور کھڑا ہوکر ایک گرجدار اور رعب دار آواز نکالتے ھوے بولا اوے کنجرو اے کی کرن دیو او ۔

اور اس کے ساتھ ھی میں نے آگے بڑھ کر لڑکی اور لڑکے کے کپڑے بھی اٹھا کر اپنے قبضے میں کرلیے ۔۔۔میں نے یہ سب اتنی پھرتی سے کیا کہ انکو سنبھلنے کا موقع ھی نہ ملا ۔

میری آواز سنتے ھی لڑکے نے حیران پریشان ہوکر گردن گھمائی اور وہیں سکتے کہ عالم میں لن ھاتھ میں پکڑے بیٹھا رھا جبکہ کہ لڑکی کے منہ سے ہلکی سی  

چیخ کے ساتھ  ھاےےےے

*****

نکلا اور لڑکی بھی آنکھیں پھاڑے سکتے کے عالم میں مجھے دیکھنے لگ گئی 

اور انکے ساتھ لڑکی پر نظر پڑتے مجھ پر بھی سکتہ طاری ھوگیا۔۔۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×