Jump to content
URDU FUN CLUB
xhekhoo

وہ بھولی داستاں جو پھر یاد آگئی

Recommended Posts

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

update♡❤ ka♡❤ Maza ♡❤a ♡❤gya♡❤ hai♡❤ Jani♡❤ love ♡❤love ♡❤love♡❤ nice♡❤Jani♡❤good♡❤update♡❤ha♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡❤♡

Share this post


Link to post
Share on other sites

جب پیار دل سے روح اور پھر سانسوں میں اتر جائے تو لن ھشیاری نہیں اتی 

ضوفی اور یاسر کا پیار دیکھ کر اپنا کھویا ھوا پیار یاد آنے لگتا ھے اور ڈر بھی کیونکہ دل ٹوٹنے کا حوصلہ نھیں ھے 

اسد کی بہن کو لن کھوتے کا وڑنا چاھیے سویرا کی انٹری سے اسد سے بدلے کا ڈراپ سین محسوس ہونے لگا ہے 

فرحت اور صدف کو بھول گے ہو شیخوجی مگر ھم نہیں بھولے خاص طور پہ فرحت کے ساتھ آخری سیشن کو جس میں یاسر کی اور ھماری دنیا گھوم گئ

اپنا خیال رکھئے گا 

اپڈیٹ کا یہ طریقہ ٹھیک ھے بھائ ایسے چلاتے رھنا

Share this post


Link to post
Share on other sites

update.. 

.سیڑیوں کی طرف دیکھ کر ایک دفعہ تو مجھےجھٹکا لگا کہ انکل سجاد اوپر سے نیچے اتر تے ھوے آرھے ہیں میں آنکھیں پھاڑے غور سے آنے والے کو دیکھی جارھا تھا ۔

مگر جب وہ آدھی سیڑیاں اترا تو اسے دیکھ کر میری جان میں جان آئی کہ یہ تو کوئی اور ھی ھے جسے میں انکل سجاد  سمجھ رھا تھا دور سے بلکل ہو با ہو آنے والا انکل سجاد کی فوٹو کاپی لگ رھا تھا اتنی ھی جسامت ویسے ھی آدھا سر گنجا چھوٹی سی سفید داڑھی ۔۔۔

میں نے ایک لمبی سانس لے کر چھوڑی  اور شکر ادا کیا کہ آج رنگے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچ گیا۔۔

اتنی دیر میں ضوفی بھی پارلر سے باہر نکل آئی اور دروازہ لاک کر کے مجھے چلنے کا کہنے لگ گئی میں سیڑھیاں چڑھتا ھوا پھر اس آدمی کیطرف غور سے دیکھنے لگ گیا جس سالے کو دیکھ کر میرے ٹٹے شارٹ ھوگئے تھے ۔۔

اور پھر ہم دونوں بیسمنٹ سے باہر نکل کر گھر کی طرف چل پڑے باہر نکلتے وقت میں نے نسیم کی دکان کو پھر غور سے دیکھا تو باہر سے بھی بلکل خالی تھی جو شوکیس باہر پڑا ھوا تھا وہ بھی نہیں تھا اسکا مطلب تھا کہ سچ میں دکان خالی ھوچکی تھی ۔۔

ہم دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے ھوے بازار سے نکلے اور ایک گلی میں داخل ھوے تو مجھے اچانک گھر فون کرنے کا خیال آیا میں نے ضوفی سے پوچھا کے ادھر کوئی پی سی او ھے تو بتاو پہلے میں گھر اطلاع کردوں کہ میں نے آج رات اپنی جانو کے ساتھ جپھی ڈال کر سونا ھے ۔۔۔ اس لیے گھر نہیں آنا۔۔

ضوفی میرے بازو پر تھپڑ مارتے ھوے بولی آرام سے بڑے شوخے ھو تم یاسر 

میں نے مصنوعی غصہ سے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے کہا اسکا مطلب ھے کہ میں نے اکیلے نے ھی سونا ھے ۔

ضوفی نقاب میں آنکھوں می ںشوخی لاتے ھوے بڑی ادا سے اثبات میں سر ہلا کر بولی ہممممم 

میں وہیں رک گیا جیسے میرے پیر زمین نےپکڑ لیے ھوں ۔

میں نے رکتے ھی کہا 

نہ پائی میں تے چلا ایں ایتھوں  ای پینڈ واپس ۔

اور میں گھوم  کر واپس جانے لگا تو ضوفی نے ہنستے ھوے میرا بازو پکڑا اور بولی شوخےماروں گی ایک سیدھی  طرح گھر چلتے ھو کہ ۔لگاوں ایک ۔۔۔

میں نے کہا

واہ جی واہ 

نالے کلے  وی سوانا اے تے نالے بدمعاشیاں وی ۔۔

ک

ضوفی ہنستے ھوے دھری ہوتی جارھی تھی ۔

ضوفی میرا بازو کھینچ کر مجھے واپس لیجاتے ھوے بولی ۔

یاسرتنگ نہ کرو چلو اگلی گلی میں پی سی او ھے گھر کال کرکے بتادو۔۔۔

میں نے رونے والے انداز سے کہا ۔

میں کلے نئی سونااااااااااآا 

ضوفی پھر ہنستے ھوےبولی 

اچھا بابا نہ سونا اب تو چلو ۔

میں بچے کو عیدی ملنے کی خوشی کیطرح خوشی سے اچھل پڑا اور سڑک پر ھے بھنگڑا ڈالتے  ھوے کہنے لگا آہااااااااا اے ہوئی نہ گل ۔۔۔۔

یہ تو شکر تھا کہ گلی میں کوئی سیانہ بندا نہیں تھا بس چھوٹے سے بچے کھیل رھے تھے ۔

ضوفی دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر ہنستے ھوے بولی 

ھوووووو ھاے 

یاسر تم بھی نہ واقعی ای پاگل ھو ۔۔۔۔

جگہ تو دیکھ لو بیچ بازار ھی ناچنے لگ گئے ھو ۔

میں ایکدم سیریس ھو کر ضوفی کے قریب ھوا اور بڑے رومینٹک  انداز سے اسکا ھاتھ پکڑ کر بولا ۔

کیا کروں جانے من  تم نے مجھے پاگل کردیا ھے اب اس میں میرا کیا قصور ھے ۔

ضوفی اپنا ھاتھ چھڑواتے ھوے بولی مجنو ساب آگے چوک آنے والا ھے باقی کے ڈائلاگ گھر جاکر بول لینا ۔

میں نے سامنے دیکھا تو واقعی ہم چوک کے قریب آگئے تھے میں سریس ہوکر ضوفی کے ساتھ چلنے لگ گیا ۔۔

چوک کراس کر کے کچھ ھی آگے ایک پی سی او تھا میں نے پی سی او میں جاکر  گاوں کا نمبر ملایا اور دکاندار سے کہا کہ میرے گھر پیغام بھیج دے کہ میں نے آج گھر نہیں آنا کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ھے ۔

دکاندار سے تسلی بخش جھوٹ بول کر میں نے کال بند کی اور پی سی او سے باہر نکل کر ہم دونوں گھر کی طرف چل دیے راستے میں مزید کوئی بات نہیں ہوئی کیونکہ گلی میں کافی چہل پہل تھی ۔

کچھ دیر بعد ہم گھر کے سامنے کھڑے تھے ۔

ضوفی نے ڈور بیل دی تو کچھ ھی دیر بعد ماہی کی آواز آئی. کون ۔

میں نے شرارت سے کہا آپ کے جیجا جی ۔۔۔

ضوفی نے میرے کندھے پر چپت مارتے ھوے کہا ۔

کسی کو تو معاف کردیا کرو۔۔

اتنے میں ماہی نے دروازہ کھولا ۔

اور مسکرا کر ہم دونوں کا سواگت کیا ۔

پہلے ضوفی اندر داخل ھوئی تو جب میں اندر داخل ھونے لگا تو ماہی نے کسی دربان کی طرح جھک کر ھاتھ آگے کرتے ھوے کہا آئیے جیجا جی اندر تشریف لے آئیں ۔۔

ضوفی نے مڑ کر ماہی کا انداز دیکھا تو کھلکھلا کر ہنستے ھوے بولی 

دونوں ھی ایک سے بڑھ کر ایک ھو ۔۔

میں سینہ تان کر بڑے رعب سے چلتا ھوا اندر داخل ھوا تو میری نظر سامنے ٹی وی لاونج میں پڑی تو آنٹی بیٹھی ھوئی تھیں میں ایکدم بلکل معصوم سا بن کر چلتا ھوا آنٹی کے پاس پہنچا اور انکو سلام کیا آنٹی نے میرے سر پر پیار دیا اور گلے شکوے کرنا شروع ھوگئیں کہ میری اتنی طبعیت خراب رھی اور تم نے خبر لینا بھی مناسب نہیں سمجھا مجھے واقعی اپنی لاپرواھی پر شرمندگی ھونے لگ گئی کیونکہ پچھلی دفعہ مجھے ماہی نے بتایا بھی تھا کہ امی کی طبعیت خراب ھے ۔۔

میں نے انٹی سے سوری کی اور اپنی کچھ منگھڑت مجبوری بتائی ۔

تو آنٹی نے چلو کوئی بات نہیں جیتے رھو کہہ کر میرے گھر والوں کی خیریت دریافت  کرنے لگ گئی ۔

ضوفی اوپر کمرے میں چینج کرنے چلی گئی ۔

اور ماہی کچن میں چلی گئی ۔

میں اور انٹی بیٹھے  ادھر ادھر کی باتوں میں مصروف ھوگئے کچھ دیر بعد ضوفی چینج کر کے نیچے آگئی اور میرے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی باتوں کے دوران جب بھی میری نظر ضوفی کی نظر سے ملتی تو میں اسے اوپر چلنے کا اشارہ کرتا ۔

ضوفی مشکل سے ہنسی کو کنٹرول کرتی ھوئی ہونٹوں کو دانتوں تلے دبانے لگ جاتی اور ساتھ میں آنکھوں کو کھول کر مجھے گھور کر سر نیچے کرلیتی ۔۔

ہم کچھ دیر بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رھے اور پھر ماہی کھانا لے کر آگئی  تو آنٹی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور ماہی کو کمرے میں ھی کھانا لے کر آنے کا کہا میں نے آنٹی کو بہت کہا کہ آپ بھی ہمارے ساتھ ھی کھانا کھا لو مگر آنٹی بولی بیٹا مجھ سے ذیادہ دیر بیٹھا نہیں  جاتا اس لیے میں بستر پر ھی ٹیک لگا کر کھانا کھا لوں گی ۔

آنٹی کے جانے کے بعد ہم تینوں نے مل کر ایک ساتھ کھانا کھایا۔۔

اور پھر ضوفی اورماہی نے برتن سمیٹے اور ضوفی بولی چلو یاسر چاے اوپر چل کر پیتے ہیں ۔۔

میں تو کب کا اوپر جانے کے لیے بےچین بیٹھا ھوا تھا ۔۔

میں جلدی سے اٹھا اور سیڑھیاں چڑھتا ھوا اوپر کمرے میں جا پہنچا میرے پیچھے ھی ضوفی بھی آگئی ۔۔

میں صوفے پر بیٹھ گیا اور ضوفی بھی میرے ساتھ ھی جڑ کر بیٹھ  گئی ۔۔

ضوفی میرا ھاتھ پکڑتے ھوے بولی  یاسر میرا ایک مشورہ ھے تمہیں اگر تم مجھے  اپنا سمجھتے ھو تو انکار نہیں کرو گے ۔

میں نے ضوفی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ھوے کہا ۔

حکم کرو جان ۔

میری کیا جرات کے میں انکار کردوں ۔۔

ضوفی میرے ھاتھ کو سہلاتے ھوے بولی یاسر مزاق نہیں میں سیریس بات کرنے لگی ھوں اور میری بات کو مزاق میں مت لینا ۔

اس میں ہمارا بہتر مستقبل  بن سکتا ھے ۔۔اگر تم میرا ساتھ دو تو ۔۔

میں نے ضوفی کی طرف دیکھتے ھوے اسکا ھاتھ چوما اور بولا ۔

بولو جان میں سیریس ھی ھوں ۔

ضوفی بولی یاسر میرا ایک سپنا ھے کہ تمہاری اپنی دکان ھو اپنا کاروبار ھو اور تم ایک نواب کی طرح رہو ۔

 

**********میں نے مسکرا کر کہا ۔

 

۔تمہارا یہ سپنا ضرور پورا ھوگا

اگر

******* 

نے چاھا تو ضرور کوئی نہ کوئی سبب بن جاے گا ۔

مگر اس کے لیے کچھ وقت تو لگے گا ۔

ابھی تو میری اتنی حثیت نہیں کہ اپنا کاروبار شروع کرسکوں۔۔

ضوفی بولی یاسر  

میری ایک تجویز ھے اگر تم برا نہ مانو تو کہوں ۔

میں نے سوالیہ نظروں سے ضوفی کی طرف دیکھا اور مسکراتے ھوے بولا ۔۔

جی جان کہو۔۔

میں بھلا کیوں برا مانوں گا۔۔

ضوفی بولی 

یاسر وہ نسیم والی دکان جو خالی ھوئی ھے اگر تمہیں وہ دکان مل جاے اور تم ادھر بوتیک کا کام کرلو ۔تمہیں تجربہ تو ھے پہلے ھی  ۔۔

میں نے ہنستے ھوے کہا میری جان میں پہلے یہ ھی بات کررھا تھا کہ میری ابھی اتنی حثیت نہیں ھے ۔۔۔

ضوفی میری بات کاٹتے ھوے بولی ۔

یاسر کیا میری اور تمہاری میں کوئی فرق ھے ۔

میں نے کہا نہیں جان ۔

میرا سب کچھ تمہارا ھے ۔۔

جتنا کہ میرے پاس ھے وہ سب کچھ تمہارے نام ھے میری ہر سانس کی مالک تم ھو ۔۔

ضوفی مسکراتے ھوے بولی ۔

اور میرا سب کچھ وہ کسکا ھے ۔۔

میں نے کہا تمہارا سب کچھ بھی میرے نام ھے ۔۔

ضوفی بولی ۔

تو پھر یہ جو تم نے بار بار حثیت نہیں ھے حثیت نہیں ھے  لگا رکھی ھے پلیز اسکو بند کرو۔۔

میں نے کہا نہیں ضوفی جو حقیقت ھے وہ میں تم سے چھپانا نہیں چاہتا ۔۔

میں حقیقت پسند ھوں سپنوں کی زندگی بسر نہیں کرتا ۔۔

ضوفی بولی یاسر میری بات کیوں نہیں سمجھ رھے میں کچھ اور کہنا چاھ رھی ہوں اور تم پھر وہ ھی باتیں لے کربیٹھ گئے ھو ۔

میں نے تو پھر تم کھل کر بتا دو میں واقعی تمہاری بات کو نہیں سمجھا۔۔

ضوفی بولی دیکھو یاسر ۔

اگر ہم وہ دکان لے لیں تو کیا تم اکیلے دکان کو سنبھال لو گے ۔۔

میں نے کہا یار مسئلہ تو پھر وہ ھی ھے کہ لیں گے کیسے ۔۔

ضوفی بولی ہم دونوں لیں گے ۔

میرے پاس کچھ پیسے سیو ہیں  جو میں نے ماہی کی شادی کے لیے رکھے ہیں اور کچھ زیور بھی ھے اتنے پیسے تو آسانی سے ھو جائیں گے کہ ہم دکان کی اچھی سیٹنگ کرکے مال ڈال سکیں رہی دکان لینے کی بات تو میں نے آنٹی سے دکان کی بات کی تھی تو آنٹی نے کہا جب تمہارا دل کرے چابی لے لینا۔۔

میں ہکا بکا ھو کر ضوفی کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔۔

ضوفی نے مجھے یوں سکتے کے عالم میں دیکھا تو میرے بازو کو ہلاتے ھوے بولی ۔

یاسررررررر۔۔۔

میں ایکدم چونکہ 

اور بولا 

ننننننہیں. ضوفی میں اتنا بھی گرا ھوا نہیں کہ تم سے پیسے لے کر کاروبار شروع کروں تمہارا تو پہلے ھی مجھ پر اتنا بڑا احسان ھے جسکو میں عمر بھر نہیں چکا سکتا اور اوپر سے تم یہ دکان اور وہ بھی ماہی  کی شادی کے پیسوں سے نہ نہ نہ ۔

ضوفی تم نے یہ بات سوچی بھی کیسے ۔۔

کیوں مجھے اپنی نظروں سے گرا رھی ھو۔۔۔۔

ضوفی بولی اوہووووو میری بات تو پوری سن لو پہلے ھی اپنا لیکچر جھاڑنا شروع کردیا۔

میں نے کہا نہیں ضوفی پلیززز اس ٹاپک پر مجھ سے بات  مت کرو ۔۔

ضوفی بولی یاسررر ایک دفعہ میری پوری بات تو سن لو پھر تمہارا  جو دل کرے وہ کرلینا۔۔۔

میں نے کچھ دیر سوچتے ھوے  کہا ھاں بولو۔۔

ضوفی بولی ۔

دیکھو میں جتنے پیسے بھی دکان کے لیے دوں گی وہ تم ادھار سمجھ کر  رکھ لینا 

ویسے بھی تو وہ پیسے بنک میں ھی پڑے ہیں ہمارے کونسا کام کے ہیں ابھی ۔

اور زیور بھی ویسے ھی پڑا ھے ۔

ماہی کی ابھی چار پانچ سال تو شادی نہیں کرنی ابھی اسکی پڑھائی چل رھی ھے ۔۔

اتنے عرصہ میں تم کمیٹیاں ڈال کر مجھے پیسے واپس کردینا ۔۔

یہ ھی سمجھو کہ تم نے کسی سے ادھار پیسے لیے ہیں ۔۔

مجھے تو تم اپنا سمجھتے نہیں ۔

ضوفی کا ساتھ ھی لہجا گلوگیر ہوگیا۔۔

میں نے اسکی بھرائی آواز سنی تو چونک کر اسکی گالوں کو پکڑ لیا اور اسکے بہتے آنسو انگوٹھے  سے صاف کرتے ھوے بولا ۔۔

ضوفی میری جان تمہیں کیا پتہ کہ تم میرے لیے کیا ھو 

میرا تو مرنا جینا بھی تمہارے لیے ھے ۔

میں تو تمہاری ہر سانس کے ساتھ سانس لیتا ھوں ۔

اور تم کہتی ھو کہ میں تمہیں اپنا نہیں سمجھتا ۔

تم میری مجبوری کو بھی سمجھو نہ اگر کاروبار نہ چلا تو میں  کیسے اتنے پیسے واپس کروں گا ۔

کیوں مجھ پر اتنا بڑا بوجھ ڈال رھی ھو جسکو میں اٹھا نہ سکوں ۔۔۔

ضوفی بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔

یاسر مجھے پورا یقین ھے کہ تم بہت جلد ترقی کرو گے مجھے تم پر بھروسہ ھے تو میں تمہیں یہ سب کچھ کرنے کا کہہ رھی ھوں اور دکان بھی بڑے موقع کی ھے ۔

اگر میں نے آنٹی کو روکا نہ ھوتا تو دکان خالی ہونے سے پہلے ھی کرایہ پر چڑھ جانی تھی یہ تو انکی مہربانی ھے کہ انہوں نے کسی کو دکان نہیں دی ۔۔

لوگ بینک سے لان لے کر بھی تو کاروبار کرتے ہیں نہ ۔

تم یہ ھی سمجھ لینا کہ بنک سے لان لیا ھے ۔

اور رھی کام چلنے کی بات تو دکان مین بازار میں ھے یہ تو ممکن ھی نہیں کہ کام نہ چلے اور اوپر سے تمہاری ڈیلنگ بھی بہت اچھی ھے ۔

پلیززززززز یاسر  میں نے بڑے مان سے تمہیں کہا ھے ۔۔

میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رھا ۔

اور پھر بولا ضوفی آنٹی اور ماہی کیا سوچیں گی ۔۔۔

اتنے میں ماہی چاے لے کر اندر داخل ھوئی اور مسکراتےھوے بولی ۔

ماہی یہ سوچے گی کہ اسکے بھائی کی اپنی دکان بن گئی اور امی یہ سوچیں گی کہ انکا بیٹا اپنا کاروبار کرنے لگ گیا۔۔

میں آنکھیں پھاڑے ماہی کی طرف دیکھنے لگ گیا ۔۔

ضوفی مسکراتے ھوے میرا ھاتھ پکڑ کر دباتے ھوے بولی سن لیا کیا سوچیں گی ۔

دیکھ لو یاسر تم سے کتنے لوگوں کی امیدیں وابسطہ ہیں ۔

میں  ماہی کی طرف گھورتے ھوے 

بولا ۔

تم بھی اس پاگل کی باتوں میں آگئی ۔۔

ماہی ہنستے ھوے بولی ۔

جیجا جی ۔

یہ آپی کا نہیں بلکہ میرا اور امی کا پلان ھے ۔۔

آپی تو پہلے ھی کہہ رھی تھی کہ آپ نے نہیں ماننا ۔

مگر ہمارے مجبور کرنے سے آپی نے آپ کے ساتھ بات کی ھے ۔۔۔

میں اوففففففف کرتے ھوے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

ضوفی میرے کندھے کوہلاتے ھوے بولی ۔

اب تو کوئی بہانہ نہیں جناب کے پاس ۔

میں نے سر اوپر اٹھایا اور ضوفی کیطرف دیکھتے ھوے بھرائی ھوئی آواز میں بولا ۔

ضوفی مجھے اپنی قسمت پر یقین نہیں ھورھا کہ آپ لوگوں جیسی فرشتہ  صفت فیملی کے ساتھ میں اٹیچ ھوگیا ھوں ۔

ضوفی پلیز زززز ایک دفعہ پھر سوچ لو 

میں بہت غریب گھرانے  اور سادہ سے ماحول سے تعلق رکھتا ھوں ۔

میری اتنی اوقات نہیں ھے جتنا آپ لوگ مجھ پر مہربان  ہورھے ھو ۔۔

یہ کہتے ھوے میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ کرکے آ نسو گرنے لگ گئے۔۔

ضوفی نے گبھرا کر میری گالوں کو تھاما اور بولی پاگل ھوگئے ھو عورتوں کی طرح رونے لگ گئے ۔۔

کون کہتا ھے کہ تم غریب ھو ۔

انسان پیسے سے نہیں دل سے امیر ھوتا ھے ۔

پیسہ تو ہر کوئی کما لیتا ھے ۔

مگر نیک دل اورانسانیت  کسی کسی کو نصیب ھوتی ھے اور  تم خوش نصیب ھو کہ تمہارے پاس صورت کے ساتھ ساتھ اچھی سیرت بھی ھے ۔

میں ایسے ھی نہیں تم پر لٹو ھوگئی تھی ۔۔

جتنی غریبی میں نے دیکھی ھے تم سوچ بھی نہیں سکتے یاسر ۔

میں نے لڑکی ھوکر اپنے گھر کو سنبھالا اور آج ہمارے پاس سب کچھ ھے اور یہ سب کچھ میں نے مرد بن کر کمایا ھے اور مشکل وقت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ھے ۔

لوگوں کی باتیں سنیں طعنے سنے مگر کسی کی پرواہ نہیں کی ۔

آج سب کے منہ بند ہیں ۔۔

جو باتیں کرتے تھے آجمیری مثالیں دیتے ہیں اور تم ایک مرد ھوکر عورتوں کی طرح آنسو بہا رھے ھو ۔کم ان یار ۔۔۔۔

ضوفی کی باتیں سن کر میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ماہی جو کھڑی ہم دونوں کا لاڈ پیار دیکھ رھی تھی ہنستے ھوے بولی ۔

اگر دونوں کے پاس وقت ھے تو مجھ غریب پربھی ترس کھا لو کب کی ٹرے ھاتھ میں لیے کھڑی ھوں ۔۔

میں روتا ھوا ہنس پڑا اور ٹرے سے چاے کا کپ اٹھایا اور پھر ضوفی نے بھی ۔

تو ماہی نے چھت کی طرف منہ کر کے شکر ادا کیا اور ٹرے ٹیبل پر رکھ کر چاے کا کپ اٹھا کر بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔

پھر ضوفی  بولی تو پھر صبح آنٹی سے دکان کی چابی لے لوں ۔

ماہی شوخی سے بولی  لے لینا آپی بھائی کی طرف سے میں ہاں کرتی ھوں ۔

ماہی کی بات سن  کر میں ناچاہتے ھوے بھی ہنس پڑا ۔۔

تو ضوفی بولی ٹھیک ھے پھر کل ھی میں چابی لے لیتی ھوں اور یاسر تم ایک دو دن میں دکان کی سیٹنگ کی تیاری شروع کروا دینا ۔۔

میں نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔

ماہی میرا ہلتا ھوا سر دیکھ کر  تالی مارتےھوے بولی یہ ھوئی نہ بات ایسے ھی نہیں کہتے کہ سالی آدھے گھر والی ۔

تھینکیو جیجا جی ۔۔۔۔۔

اب تو میں  پہلے جیجا جی سے پارٹی کھاوں گی پھر دکان کا کام شروع کرنے دوں گی ۔۔

میں نے ہنستے ھوے کہا لو جی یہ کونسی بات ھے میری بہن جب کہے میں حاضر ھوں ۔۔

پھر ہم مذید کچھ دیر ہنستے کھیلتے باتیں کرتے رہے اور ماہی سونے کا کہہ کر اٹھ کر چلی گئی کہ آپ باتیں کریں مجھے  تو نیند آرھی ھے ۔

ماہی کے جاتے ھی ۔میں اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑا اور جلدی سے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا ضوفی ہنستے ھوے بولی ۔

پاگل ابھی ماہی نیچے بھی نہیں پہنچی ھوگی 

کیا سوچےگی۔۔۔

میں نے باہوں کو ہوا میں پھیلایا اور ضوفی کی طرف بڑے رومینٹک انداز سے چلتا ھوا بولا

یہ ھی سوچے گی کہ جیجا جی اپنی ڈیوٹی پوری کرنے لگے ہیں اور اسکے ساتھ ھی میں ۔

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

update.. 

سپیشل اپڈیٹ

.میں سیدھا ضوفی کی طرف بڑھا جو صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوچکی تھی ۔

میں نے ضوفی کے پاس پہنچتے ھی اسے باہوں میں بھر لیا اور کس کے جپھی ڈال کر اسے اوپر اٹھا کر گھمانے لگا ضوفی نے مجھے کندھوں سے پکڑا ھوا تھا اور چلا رھی تھی چھوڑو یاسر میں گر جاوں گی امییییییی جی 

میں ضوفی کو گھماتا ھوا بیڈ کی طرف لے گیا اور دھڑام سے اسے بیڈ پر گرایا اور خود اسکے اوپر گرا ضوفی میرے نیچے اور میں اسکے اوپر میرے ھاتھ اسکی کمر کے نیچے ۔

ضوفی ہنستے ھوے میرے کندھوں پر مکے مارتے ھوے  بولی بہت شوخے ھو تم یاسر ایک منٹ میں میری مت مار دیتے ھو ۔۔

میں نے ہونٹ ضوفی کی گلاب کی پنکھڑیوں پر رکھے اور پنکھڑیوں کا رس چوس کر بولا ۔

تم چیز ھی ایسی ھو ضوفی تمہیں دیکھتے ھی بس تم میں سما جانے کو جی چاہتا ھے ۔۔

لو یو جانی ۔

اور پھر میں نے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے اور کتنی دیر میں ضوفی کے اوپر لیٹا ھوا اسکے ہونٹوں کا رس پیتا رھا ۔

اور ضوفی بھی مجھ سے پیچھے نہ تھی وہ بھی برابر میں میرا ساتھ دیتے ھوے  کبھی میرا نچلا ہونٹ چوستی تو کبھی اوپر والا اور کبھی ہم دونوں کی زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتی ۔

ضوفی کسنگ کے دوران پاگل ھوجاتی تھی اسکا بس نہیں چلتا تھا کہ وہ میرے ہونٹوں کو ھی کھاجاے ۔

ہم دونوں کی ٹانگیں بیڈ سے نیچے تھیں میرا لن  ضوفی کی پھدی کے بلکل اوپر تھا اور ہلکی سی تڑ کے ساتھ ضوفی کی پھدی کو دباے ھوے تھا میرا سارا جسم ضوفی کے نرم جسم کے ساتھ چپکا ھوا تھا ۔۔

کچھ دیر بعد میں ضوفی کے اوپر سے اٹھا اور بیڈ سے نیچے کھڑا ہوگیا۔

ضوفی بھی ٹانگیں اوپر کر کے بیڈ پر سیدھی ھوکر لیٹ گئی ۔

میں نے قمیض کے بٹن کھولے اور قمیض اتار کر صوفے پر پھینکی اور پھر ضوفی کے ساتھ بیڈ پر لیٹ گیا ضوفی بلکل سیدھی لیٹی ھوئی تھی میں سائڈ کے بل لیٹ کر ضوفی کے اوپر جھک گیا اور اسکے سلکی ریشمی بالوں کو سہلاتے ھو اسکی جھیل سی آنکھوں میں دیکھنے لگ گیا ۔

ضوفی کی آنکھیں سرخی مائل ہوچکی تھیں میں ان   آنکھوں کی اس سرخی میں ڈوبتا جارھا تھا ۔

ضوفی پلکوں کو جھپکا کے بولی ۔

اب میں جاوں ۔

میں نے اسکے شربتی ہونٹوں پر انگلی رکھی اورنفی میں سرہلاتے ھوے  اپنے ہونٹ اسکے ہونٹوں پر رکھی انگلی کے قریب کیے 

اور بڑے رومینٹک  انداز سے بولا 

۔ابھی تو نہ جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے 

میرے پہلو میں یوں ھی لیٹی رھو ابھی رات بہت ہے 

جی بھر کے تمہیں دیکھ لوں تسکین ہو کچھ تو 

مت کرو جانے کی بات کہ ابھی رات بہت ہے 

کب پو پھٹے کب رات کٹے کون یہ جانے 

مت چھوڑ کے جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے 

رہنے دو ابھی چاند سا چہرہ میرے سامنے

اپنے شربتی ہونٹوں سے 

مے اور پلاؤ کہ ابھی رات بہت ہے 

کٹ جائے یوں ہی پیار کی باتوں میں ہر اک پل 

کچھ جاگو جگاؤ کہ ابھی رات بہت ہے

۔ضوفی نے ساتھ ھی آنکھیں بند کرلیں اور میری غزل میں کھو گئی میں انگلی ضوفی کے ہونٹوں سے ہٹائی تو ضوفی کے ہونٹ کانپ رھے تھے اسکا اوپر نیچے ھوتا ھوا سینہ اسکی تیز سانسوں کی گواہی دے رھا تھا 

اسکی دل کی دھڑکن میرے سینے پر محسوس ہورھی تھی ۔

میں نے ہونٹوں کو ضوفی کے بند آنکھوں کی طرف بڑھایا اور اسکی آنکھوں کو چوم کر  ہونٹ اسکے ماتھے پر لے گیا ماتھے کو چوما تو ہونٹ اسکی روئی سی گالوں میں پوست ھوگئے ۔

ضوفی کے منہ سے سسکاری نکلی آہہہہہہ سیییییی اور پلکیں اٹھیں آنکھوں میں نشہ پھر دکھا اور میرے ہونٹ ہلے اس شب وصل  پر ایک اور شعر کہہ دیا 

گزرنے ہی نہ دوں آج یہ  رات۔۔

کہو تو

رکھ دوں ھاتھ گھڑی پر

۔ضوفی نے پھر پلکوں کو واپس آنکھوں پر بیچھا دیا۔

اور میں ضوفی  کے روئی سے نرم جسم پر سوار ہوکر نیچے سرکتا ھوا اپنے چہرے کو ضوفی کے ابھرے ھوے سڈول مموں پر لے آیا اور اسکے کُھلے گلے سے نظر آتی مموں کی درمیانی چٹی سفید لکیر پر ہونٹ کیا رکھے ضوفی کے جسم میں کرنٹ لگ گیا ضوفی نے مموں کو اوپر کرتے ھوے لمبی سیییییییی سسکاری بھری اور مجھے کندھوں سے پکڑ کر اپنے اوپر سے دھکا دے کے اپنے پہلو میں گرا لیا اور خود اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنی قمیض پکڑ کر جلدی سے اتار کر ایک طرف پھینک دی ۔

میری نظر جیسے ھی ضوفی دودھیا جسم پر پڑی 

اففففففففففدفففففففففففففففففففففففففف۔

کس کافر نے سانس لینا گوارہ کیا ھو ۔

آہہہہہہہہہہہہہ۔

کیا ریشم سا بدن تھا کیا بدن کی بناوٹ تھی ظلم پر ظلم کہ گورے مموں پر سرخ بریزئیر ۔

کون کافر بہکے نہ کون کافر جو پلکوں کو جھپکاے ۔

میرے ہاتھ ضوفی کے مموں کی طرف بڑھے تو ضوفی نے میرے ھاتھوں کو وہیں روک دیا اور ہاتھوں کو پکڑ کر واپسی کا راستہ دیکھاتے ھوے میری بنیان پر لا رکھا۔۔

میں  ضوفی کا اشارا سمجھتے ھوے اٹھا اور بنیان پکڑ کر اتارنے لگا اور بنیان میرے منہ اور آنکھوں کو ڈھانپ کر میرے سر سے  کیا نکلی میرے تو جسم سے جان ھی نکل گئی۔

میری روح پرواز کر گئی ۔

سارا ظلم مجھ پر  ہی کیوں 

رحم بھی کوئی شے ھے

ظالم نے میری روح قبض کرلی جب میری آنکھیں ضوفی کے ننگے مموں کی زیارت  کو گئیں ۔

افففففففففففف آہہہہہہہہہہہ

کیا بتاوں یارو کیا تعریف کروں اس سنگ مرمرکی جسے بنانے والے نے فرصت سے بنایا تھا ۔

کہاں سے لاوں وہ الفاظ جو اس کمبخت کے حسن کی تعریف پر پورے اتر سکیں 

گلابی رنگت کے تنے ھوے گول مٹول ممے اففففففف اور مموں پر گلابی رنگ کے ھی چھوٹے سے تنے ھوے نپل 

آہہہہہہہہہہہہہہہ۔

ممے دیکھ کر مجھے تو جو جھٹکا لگا سو لگا میرے لن کو مجھ سے بھی ذیادہ جھٹکا لگا اور جناب ایک ھی دفعہ میں سب احترام بھول کر تن کر کھڑے  ھوگئے ۔۔

بنیان اتارتے ھوے بنیان نے میری آنکھوں کے آگے پردہ کیا کیا ادھر۔

صاحب نے موقع غنیمت جانا اور مموں سے پردہ ہٹا دیا 

ھاےےےےےےے رے ظالم گھائل  کرنے کی تیری یہ ادا۔۔

۔مجھے یوں سکتے کہ عالم میں دیکھ کر ضوفی نے دونوں مموں پر ہاتھ رکھے اور مموں کو مٹھی میں بھر کر زبان باہر نکال کر  ہونٹوں پر پھیرتے ھوے ۔

گھٹنوں کے بل میری طرف بڑھی 

میں بھی ٹانگیں پیچھے کیے ھوےبیٹھا ھوا تھا ۔

ضوفی اپنے دونوں مموں کو پکڑے ہونٹوں پر زبان پھیرتے  ھوے گھٹنوں کے بل رینگتی ھوئی میرے بلکل قریب آئی اور مموں کو چھوڑ  کر میرے گلے میں بانہیں ڈال کر ایسے غرائی جیسے جنگلی بلی شکار کو دیکھتے ھوے حملہ کرنے سے پہلے غراتی ھے اور ساتھ ھی اس جنگلی بلی نے سیدھا میرے دائیں کان پر حملہ کیا اور کان کو منہ میں ڈال کر ہلکی سی کاٹی کی ۔

میری حالت تو ایسی تھی کہ کاٹو تو خون نہیں ۔۔۔

جیسے ھی ضوفی نے میرے کان کو منہ میں ڈال کر ہلکا سا کاٹا اور پھر اپنی گرم سانس کو میرے کان میں چھوڑا۔۔

مینوں تے اینج کمبنی چھڑی جیویں سردیاں وچ نہا کے بندا کمبدا اے۔۔۔

میرا سارا جسم کانپ گیا اور دوسرا ظلم مجھ غریب پر یہ ھوا کہ ضوفی کے ننگے ممے میرے سینے کے ساتھ لگے اور ننگے بازو میری گردن کے ساتھ لگے 

اففففففففففففففف مرگیا غریب دا بال۔۔۔۔۔

میرے ھاتھ کانپنے لگے میری ٹانگیں کپکپانے لگی ضوفی نے دائیں کان کو چھوڑا تو پھر بائیں کان کو منہ میں ڈال کر ہلکا سا کاٹ کر  گرم سانس میرے کان میں چھوڑی تو ۔

میرا صبر جواب دے گیا ۔

میرے اندر پینڈو جاگ پڑا 

میں نے ایکدم ضوفی کے مموں کو پکڑا اور ذور سے دبا کر ضوفی کو بیڈ پر گرا کر خود ضوفی کے اوپر چڑھ گیا اور پاگلوں کی طرح ضوفی کے چہرے کو چومنے لگ گیا کبھی آنکھوں کو تو کبھی ماتھے کو تو کبھی گالوں کو تو کبھی ہونٹوں کو تو کبھی ٹھوڑی کو تو کبھی نیگ کو تو کبھی کانوں کی لو کو ۔۔

ضوفی میرا پاگل پن دیکھ کر خود بھی پاگل ھوگئی اور وہ بھی میرے چہرے کو جگہ جگہ سے چومنے لگ گئی ۔۔

میں کھسکتا ھوا ضوفی کے اوپر لیٹ چکا تھا میرا تنا ھوا لن ضوفی کے چڈوں میں گھس چکا تھا ۔

ضوفی بھی اپنی رانوں کو آپس میں بھینچ کر میرے لن کو جکڑ رھی تھی اور گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کو لن کے ساتھ مسل رھی تھی ۔

میں بھی ایسے ھی گھسے ماری جارھا تھا ۔۔۔

ضوفی کا جوش بڑھتا جارھا تھا ضوفی نے میرے اوپر والے ہونٹ کو منہ میں ڈال لیا اور بڑے ذور سے چوستے ھوے گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی کو لن کے ساتھ رگڑ رھی تھی اور ضوفی کے ننگے ممے میرے سینے کے ساتھ چپکے ھوے تھے میں بھی اپنے آپ سے کنٹرول کھو بیٹھا تھا ادھر ضوفی کے گانڈ اٹھانے کی سپیڈ تیز ھوئی ادھر میرے گھسوں کی بھی سپیڈ تیز ھوگئی ضوفی نے یکلخت میرے ہونٹ کو دانتوں کے بیچ لے کر پورے زور سے کاٹ لیا میں نے پورے ذور سے ضوفی کے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں لے کر کاٹ لیا ضوفی کے ناخن میری کمر میں پوست ھوتے گئے میرے بازوں کی گرفت اسکی کمر کے گرد سخت ھوتی گئی ادھر ضوفی کا جسم اکڑا ادھر میری ٹانگوں سے جان نکلی ادھر ضوفی کے جسم نے جھٹکے کھاتے ھوے پھدی سے منی شلوار نکلنا شروع ہوئی ادھر میرے لن سے منی کی پھوار شلوار میں ھی نکلنا شروع  ھوئی 

دونوں کے جسم ایک دوسرے میں سمانے کی کوشش کرتے ھوے کانپے لگے 

دونوں کے ہونٹ زخمی ہوگئے میری کمر کو  ضوفی کے ناخنوں نے چھیل ڈالا ۔

لن اور پھدی کی برسات تھمی دونوں کہ جسم ایک دوسرے پر بےجان ھوکر گرے دونوں کی تیز چلتی سانسیں ایک دوسرے کے اندر پہنچی ۔

کچھ دیر بعد دونوں کو ہوش تب آیا جب ایک دوسرے کےخون کا ذائقہ منہ میں آیا ۔

پھر نظروں سے نظریں چرا کر  جھٹکے سے الگ ھوے اور پھر ۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

update.. 

.دونوں شرمسار  ہوکر ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ گئے ۔

کچھ دیر خاموشی سے گزری ۔

آخر کار میں نے ہمت کر کے کروٹ لی تو ضوفی بریزیر پہن کر دونوں بازو مموں پر رکھ کر سمٹ کر دوسری طرف لیٹی ھوئی تھی ۔

میرے منہ میں خون کا ذائقہ اب بھی آرھا تھا میں نے ہونٹوں پر ہاتھ لگا کر ہاتھ کو دیکھا تو میری انگلیوں پر خون لگ گیا ۔

اور میرے نچلے ہونٹ پر شدید جلن کا احساس بھی ھوا 

میں نے ہاتھ بڑھا کر ضوفی کے بازو کو چھونا چاھا مگر مجھ میں ہمت نہ ھوئی میں نے ہاتھ راستے میں سے ھی واپس کھینچ لیا ۔

اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی گیلی شلوار کو دیکھنے لگ گیا میرا لن بھی سکڑ چکا تھا۔

میں کچھ دیر ایسے ھی بیٹھا رھا کہ مجھے اپنی کمر پر ضوفی کا ھاتھ سرکتا ھوا محسوس ھوا میں نے گردن گھما کر دیکھا تو ضوفی سیدھی ھوکر میری کمر کو سہلا رھی تھی ۔

اور ضوفی کے اوپر والے ہونٹ سے بھی خون رس رھا تھا ۔۔

میں ضوفی کے ہونٹ کو دیکھ کر چونکہ اور جلدی سے ضوفی کی طرف منہ کر کے بیٹھتے ھوے اسکے ہونٹ کو انگلی سے چھوتے ھوے ۔

کہا یہ کیا ھوا ضوفی ۔۔

میری انگلی لگتے ھی ضوفی نے سیییی کیا اور میرے چہرے کی طرف دیکھتے ھوے میرے ہونٹ پر انگلی رکھتے ھوے کہا ۔۔

سوری یاسر مجھے پتہ نہیں چلا ۔۔

میں نے کہا سوری تو مجھے بولنا چاھیے کہ تمہارے نازک ہونٹ کو زخمی کردیا ۔۔

ضوفی مسکراتے ھوے بولی زخمی تو میں نے کیا تھا تم نے تو بدلہ لیا ھے ۔

میں نے سر جھکا کر کہا ۔

ضوفی آج جو کچھ بھی ھوا اچھا نہیں ھوا ۔

پتہ نہیں مجھے کیا ھوگیا تھا ۔

تمہارے جسم میں کشش ھی اتنی ہے کہ میں خود سے کنٹرول کھو بیٹھا تھا ۔۔

ضوفی بولی ۔

یاسر مجھے شرمندہ مت کرو اصل قصور تو میرا ھے ۔

میں خود بہک گئی تھی پتہ نہیں کیوں تمہیں دیکھتے ھی مجھ پر نشہ سا سوار ھو جاتا ھے اور دل کرتا ھے کہ تم میں سما جاوں ۔۔

میں نے کہا میری جان میرا بھی یہ ھی حال ھے ۔

مگر پلیز ہمیں خود پر کنٹرول کرنا چاھیے ۔۔

ضوفی بولی ایسا بھی کچھ نہیں ھوا جو تم اتنا گبھرا گئے ھو ۔۔

میں نے اپنی گیلی شلوار ضوفی کو دیکھاتے ھوے کہا ۔

یہ دیکھو کیا ھوا ھے ۔۔

ضوفی میری گیلی شلوار دیکھ کر ہنستے ھوے بولی ۔

افففففف تم بھی نہ اتنی جلدی گیلے ھوگئے ۔۔

میں نے ضوفی کی پھدی والے حصہ سے شلوار کو پکڑ کر کہا ۔

جان جی میں اکیلا نہیں اپنی بھی شلوار ذرہ دیکھو۔۔۔

ضوفی کی شلوار پکڑتے ھوے میری انگلیاں ضوفی کی پھدی کے ساتھ ٹچ ھوئیں تو مجھے ایکدم جھٹکا لگا اور ساتھ میں ضوفی کا جسم بھی کانپا ۔

اور میری بات سن کر ضوفی شرمندہ سی ہوگئی اور جلدی سے ٹانگوں کو اکھٹا کر کے گیلی شلوار کو رانوں کے بیچ کر لیا ۔۔

اور بولی نہیں جی یہ بھی تم نے ھی گیلا کیا ھے 

ضوفی کا اوپر والا حصہ اب بھی ننگا ھی تھا بس مموں پر بریزیر ھی تھا ۔۔

میں نے جلدی سے ہاتھ آگے کیا اور ضوفی کا گھٹنا پکڑ کر اسکی ٹانگوں کو کھولنے کی کوشش کرتے ھوے بولا اب چھپا کیوں رھی ھو ۔

ضوفی نے اور ذور سے ٹانگوں کو آپس میں ملا لیا اور ہنستے ھوے بولی ۔

نہہہہی کرو بتمیز چھوڑو مجھے ۔

میں نے بھی ذور آزمائی شروع کردی ضوفی ہنسی جارھی تھی اور ٹانگوں کو کبھی دائیں طرف  کرتی تو کبھی بائیں  طرف اور ساتھ ساتھ کہے جارھی تھی  چھوڑو یاسر نہ کرو پلیززززز امیییییی جییییی 

یاسر پلیزززز میں جان بوجھ کر ہلکا سا زور لگا رھا تھا اور ضوفی کی ٹانگیں کھولنے کی کوشش کرتے ھوے کہہ رھا تھا اب دیکھنے تو دو مجھے کہ میں نے گیلا کیا ھے یا تم خود گیلی ھوگئی ھو۔۔۔

ضوفی بھی پوری زور ازمائی کرتے ھوے ٹانگوں کو بھینچ کررکھےھوے تھی اور ہاتھوں سے میرے ھاتھ پیچھے کررھی  تھی کچھ دیر ہم یوں ھی ایک دوسرے کے ساتھ زور آزمائی کرتے رھے ۔

اور پھر ضوفی نے ہار مانتے ھوے کہا اچھا چھوڑو میں خود دیکھاتی ھوں ۔۔

میں نے جیسے ھی ضوفی کی ٹانگوں کو چھوڑا تو ضوفی اٹھ کر بیٹھ گئی اور پھر تیزی سے اٹھ کر بھاگنے لگی تو میں نے پیچھے سے ھی ضوفی کی کمر میں بازو ڈال کر ھاتھ اسکے ننگے پیٹ پر لیجا کر اسکو کس کے پکڑتے ھوے قابو کرلیا اور ساتھ ھی اسکو کھینچ کر اپنے اوپر لاتے ھوے میں بھی پیچھے کی طرف لیٹ گیا ۔۔

اب میں بلکل سیدھا لیٹا ھوا تھا اور ضوفی میرے اوپر کمر کے بل چھت کی طرف منہ کیے ھوے لیٹی تھی اور میرے ھاتھ اسکے ننگے پیٹ پر  تھے اور ضوفی کی گانڈ میرے لن پر تھی ۔۔

اور اسکی ٹانگیں میری ٹانگوں کے اوپر بلکل سیدھی تھیں ۔

ضوفی ہنستے ھوے میرے ھاتھوں کو پکڑ کر اپنے پیٹ سے  ہٹا کر میری گرفت سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔

میں نےاپنی گرفت کو اسکے نازک سے پیٹ پر مذید کستے ھوے کہا 

جھوٹی  مجھے چکما دے کر بھاگنے لگی تھی ۔

اور ساتھ ھی میں نے انگلیوں سے ضوفی کے پیٹ پر گدگدی شروع کردی ۔

ضوفی  نے ذوردار چیخ ماری اور کھلکھلا کر ہنستے ھوے بولی نننننننہ کرو یاسرررررر کے بچے. آےےےےےےےے امییییییی جیییییی 

میں نے کہا اب بتاو بھاگو گی  ضوفی بولی نہیں بھاگتی پلیزززززز یاسر. نہ کرو میری پھرچیخ نکل جانی ھے ۔ ۔

میں نے کہا تم نے پھر بھاگ جانا ھے اور میں ساتھ ساتھ ضوفی  کے پیٹ پر گدگدی بھی کری جارھا تھا ۔

ضوفی کا ہنس ہنس کے برا حال ھورھا تھا اور ساتھ ساتھ  وہ ٹانگوں کو ہوا میں اٹھا کر ٹانگوں سے سائکل چلا کر ہاتھوں سے میرے ہاتھ پکڑ کر زور لگا  کر میری گرفت سے نکلنے کی کوشش بھی کر رھی تھی ۔

جب ضوفی تھک گئی تو آخری حربہ استعمال  کرتے ھوے بولی ۔

یاسر تمہیں میری قسم چھوڑ دو نہیں بھاگتی ۔۔

ضوفی کے منہ سے قسم نکلتے ھی میں نے ھاتھ اسکے پیٹ سے الگ کرلیے ۔

ضوفی اسی حالت میں منہ چھت کی طرف کرکے ٹانگیں میری ٹانگوں کے اوپر کر کے لمبے لمبے سانس لینے لگ گئی ۔

اور ساتھ  میں اففففف  کرتے ھوے بولی بہت ببدمعاش ھو تم یاسر بہت تنگ کرتے ھو ۔۔۔

میری جان نکلنے والی ھوگئی تھی ۔۔

میں نے ہاتھ دوبارا اسکے پیٹ پر  رکھ کر انگلیوں سے پیانو بجاتا ھوا ہاتھ کو اسکے مموں کے اوپر لے آیا اور بریزیر کے اوپر سے ھے اسکے مموں کو پکڑ کو دباتے ھوے بولا ۔

تنگ تو تم کرتی ھو پہلے ھی آرام سے دیکھا دیتی ۔۔

ضوفی کے منہ سے ایکدم سسکاری نکلی اور اس نے میرے ھاتھوں کے اوپر ھی اپنے ہاتھ رکھے  اور بولی کیا دیکھنا ھے ۔

میں نے ضوفی کے کان کی لو پر زبان  پھیرتے ھوے ایکدم ھاتھ نیچے لیجا کر اسکی گیلی شلوار پر رکھ کر انگلیوں کو دباتے ھوے ضوفی کی پھدی کو سہلا دیا ۔۔

ضوفی کو ایک ھی وقت میں دو جگہ سے مزہ ملا ایک کان کی لو سے دوسرا  پھدی پر  پہلے مرد کے ہاتھ کے لمس کا۔

ضوفی نے جلدی سے پھدی پر رکھے میرے ھاتھ کے اوپر ہاتھ رکھا اور ٹانگوں کو اوپر کر کے آپس میں بھینچ  لیا اور کان کی لو کو سر ایک طرف کر کے میرے منہ سے دور کرتے ھو ے کانپتے جسم کے ساتھ سییییییییءیی کیا ضوفی کی سی نے میرے اندر جوش پیدا کردیا اور میں نے اسکی ٹانگوں کے بیچ پھنسے ھاتھ کی انگلیوں کو مزید پھدی پر دبا دیا گیلی شلوار کی وجہ سے مجھے ایسے لگ رھا تھا کہ جیسے ضوفی کی پھدی بلکل ننگی میرے ہاتھ کے نیچے ھے ۔

اور دوسرا ھاتھ میرا ضوفی کے ممے پر تھا ۔۔

اورضوفی کی نرم مولٹی فوم جیسی گانڈ کا لمس پاتے ھی میرا لن بھی انگڑائیاں  لینے پر مجبور ھوگیا ۔

ضوفی کا سر میرے کندھے سے لڑھک چکا تھا اور اسکا ایک کان میرےمنہ کے پاس تھا اور ضوفی سر پیچھے لڑھکاے  چھت کی طرف آنکھیں بند کے سسکاریاں بھری جارھی تھی ۔

اور میری انگلیاں پھدی کو مسلنے اور ایک ھاتھ ممےکو مسلنے اور میری زبان ضوفی 

کے کان کی لو کو چھیڑتے ھوے اور لن نیچے گانڈ کی دراڑ میں گھسنے کی کوشش کرے جارھا تھا ۔۔

کچھ دیر یہ ھی سین چلتا رھا کہ اچانک ضوفی  کا جسم پھر اکڑا اسکی سسکاریاں پورے کمرے میں گونجنے لگیں اور ضوفی نے ایک ھاتھ پیچھے لیجاکر میرے سر کے بالوں کو مٹھی میں بھرا اور ایک چیخ مارتے ھوے میرے بالوں کو کھینچتے ھوے ۔

پھر پھدی سےگرم گرم منی کا اخراج کرتے ھوے میری انگلیوں کو مذید گیلا کرنے لگ گئی ۔

ضوفی کا جسم جھٹکے کھانے کے بعد ڈھیلا ھوا اور بےجان ھوکر میرے اوپر ھی ڈھے گئی ۔

جبکہ میرالن فل ٹائٹ ھوکر ضوفی کی گانڈ کی دراڑ میں گھسا ھوا تھا ۔۔

اس سے پہلے کہ ہم سنبھلتے یا اگلا قدم اٹھاتےکہ اچانک کمرے کا دروازہ ذور ذور سے بجنے  لگ گیا ۔۔

ہم دونوں ایسے ایک دوسرے سے الگ ھوے جیسے کتا گیینڈ چھڑوا کر بھاگتا ھے ۔۔۔۔

ہم دونوں کے رنگ اڑ گئے کہ اس وقت یوں اچانک کون آگیا۔۔۔۔۔

 

۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھت ہی عمدہ یاسر بھائ 

ضوفی اور یاسر کا پیار کی منظر کشی نے دل موہ لیا ۔

صرف چدائ ہی سب کچھ نہیں ہوتی 

عشق کی زبان تو آنکھوں سے بیاں ھوتی ہے 

کہانی کے اگلی اپڈیٹ کا انتظار رہے گا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×