Jump to content
URDU FUN CLUB
  • Sign Up
Story Maker

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح

Recommended Posts


گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح 

دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح 

راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے 

جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح 

ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک 

اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح 

وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے 

تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح 

غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار 

میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح 

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن 

شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح 

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے 

تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح 

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک 

گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح 

ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی 

تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح 

پروین شاکر

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×