Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Nadan

اردو میں رومانوی شاعری

Recommended Posts

سوچ رہا ہوں کے اس تھریڈ میں وہ شاعری پوسٹ کی جائے

جس میں محبوب کی تعریف ہو،

محبوب کے نشیب و فراز کا ذکر ہو،

ہونٹوں کی چاشنی اور بنفشی چوٹیوں کی مٹھاس ہو،

لمس کی حدت اور بدن کی کو خوشبو ہو

جھیل سی آنکھوں کی گہرائی ہو

چاندنی سے دمکتے ہوئے جسم کا نظارہ ہو

۔۔۔

تتلیاں رنگ چراتی ہیں اُسی کمرے سے

تیری تصویر جہاں میں نے چھپا رکھی ہے

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

سانس میں تیری سانس ملی تو
مجھے سانس آئی مجھے سانس آئی
روح نے چھو لی جسم کی خوشبو
تو جو پاس آئی تو جو پاس آئی
کب تک ھوش سنبھالے کوئی
ھوش اڑے تو اڑ جانے دو
دل کب سیدھی راہ چلا ہے
راہ مڑے تو مڑ جانے دو
تیرے خیال میں ڈوب کے اکثر
اچھّی لگی تنہائی
سانس میں تیری سانس ملی تو
مجھے سانس آئی مجھے سانس آئی
رات تیری بانہوں میں کٹے تو
صبح بڑی ہلکی لگتی ہے
آنکھ میں رہنے لگی ھو کیا تم
کیوں یہ چھلکی چھلکی لگتی ہے
مجھ کو پھر سے چھو کے بولو
میری قسم کیا کھائی
سانس میں تیری سانس ملی تو
مجھے سانس آئی مجھے سانس آئی
روح نے چھو لی جسم کی خوشبو
تو جو پاس آئی تو جو پاس آئی
مجھے سانس آئی مجھے سانس آئی

 

18c6292d7b72c706f1be553641a06bc1.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

یارو کچھ تو حال سناؤ
اُس کی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ھوں گے اُن میں
وہ تو مَر ھی جاتے ھوں گے

 

c938b0711d9bd4696943d1bdf6112a20.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہاں میرے بوبز کی جان لیوا لکیر۔۔۔۔😍ا

اورکہاں تم، لکیر کے فقیر۔۔۔😜

Edited by khoobsooratdil

Share this post


Link to post
Share on other sites

تری کمر کے بل پہ ، ندی مُڑا کرتی تھی!
ہنسی تری سُن سُن کے فصل پکاکرتی تھی
چھوڑآئے ہم وہ گلیاں!
گلزار

59267290_2003155566473236_1937316162173927424_n.jpg

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...