Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB
Story Maker

گوری میم صاحب از شاہ جی

Recommended Posts

Default
گوری میم صاحب 

(قسط نمبر6)


میں بڑا ہی مست ہو کر باجی کی چوت سے نکلنے والے جھرنے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں باہر سے گھنٹی کی آواز سنائی دی ۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی باجی ایک دم اچھلی۔۔ جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلنے والی پیشاب کی دھار۔۔۔کموڈ میں گرنے کی بجائے۔۔۔ فرش پر جا گری۔۔ لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگیں ۔۔ فوراً یہاں سے نکلو۔۔ تو میں نے ان کی خوب صورت چوت سے نکلنے والے پیشاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے دل کش نظارے کو چھوڑ کر کوئی پاگل ہی یہاں سے جائے گا ۔۔میری اس بات پر وہ مسکرا تے ہوئے بولی۔۔۔ یہ نظارہ میں تمہیں بعد میں بھی دکھا دوں گی لیکن ابھی تم جاؤ۔۔ اس پر میں نے ڈھیٹ عاشقوں کی طرح رومانس بھرے لہجے میں کہا ۔۔ آپ کو چھوڑ کے جانے پر جی نہیں کر رہا ۔۔تو وہ مصنوعی غصے سے کہنے لگیں ۔۔ دفع ہو جاؤ ۔۔ کہ تم سے ملنے فرزند نے آنا تھا۔۔۔ ہو سکتا ہے باہر وہی ہو۔۔۔ اس لیئے پلیز گو۔۔۔ باجی کی بات سن کر مجھے بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔۔ چنانچہ میں بنا کوئی بات کیئے واش روم سے آ گیا۔۔۔ ۔۔ اور پھر ادھر ادھر دیکھتا ہوا ۔۔ ڈرائینگ روم میں پہنچ گیا۔۔۔ ۔۔۔ ابھی مجھے وہاں پر بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ آنٹی ایک گورے چٹے ۔۔۔اور خوب صورت سے شخص کے ساتھ ڈرائینگ روم میں داخل ہوئیں اس کی شکل ہو بہو باجی کی ساس سے مل رہی تھی یا آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ آنے والا شخص آنٹی کا مردانہ روپ تھا. چنانچہ اسے دیکھتے ہی میں سمجھ گیا تھا کہ یہ موصوف صائمہ باجی کا خاوند فرزند ہو گا ۔۔ ہاں یاد آیا۔۔۔زنانہ شکل ہونے کے ساتھ ساتھ .اس بندے کی چال میں بھی تھوڑی نزاکت پائی جاتی تھی۔ ۔۔۔۔۔ اندر داخل ہوتے ہی آنٹی مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں ۔۔۔ ۔۔دیکھو بیٹا تو تم سے ملنے کون آیا ہے؟ پھر اس کے بعد وہ اس گورے چٹے شخص کی طرف مُڑیں۔۔۔اور اس سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔اور یہ ہے میرا دوسرا بیٹا شاہ۔۔۔ میں اس میں ۔۔۔۔۔اور عدیل میں کوئی فرق روا نہیں رکھتی۔۔۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اس مرد کو دیکھ کر اسی وقت سمجھ گیا تھا کہ یہ ذات شریف کون ہے۔۔۔ لیکن جان بوجھ کر ڈرامہ کرتے ہوئے بولا۔۔ سوری آنٹی ۔۔ میں نے انہیں پہچانا نہیں ۔۔ کون ہیں یہ؟ تو اس پر آنٹی کی بجائے وہ شخص اپنا ہاتھ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ کہ اس میں سوری کی کوئی بات نہیں بھائی۔۔ ۔۔۔ وہ اس لیئے کہ ہم آج سے پہلے کبھی نہیں ملے۔ پھر مجھ سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔۔ میرا نام فرزند ہے۔۔ اور میں صائمہ کا خاوند ہوں ۔۔ فرزند کا نام سنتے ہی میں بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا۔۔ آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی تو آگے سے وہ کہنے لگا۔۔۔ یقین کرو شاہ جی۔۔اتنی خوشی آپ کو نہیں ہوئی ہو گی جتنی آپ سے مل کر مجھے ہوئی ہے۔ ۔اس کے بعد وہ میرے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔ہمیں باتیں کرتے دیکھ کر آنٹی یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئیں کہ میں تم دونوں کے کھانے لیئے کچھ لاتی ہوں۔۔فرزند کے ساتھ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ وہ ایک پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا آدمی تھا


لیکن اس کے ساتھ دوسری جو بات نوٹ کی وہ یہ تھی کہ چال کی طرح اس کی گفتگو میں بھی ہلکی سی نزاکت پائی جاتی تھی۔۔مجموعی طور پر وہ ایک اچھا آدمی تھا ہمیں باتیں کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آنٹی کے ساتھ صائمہ باجی ٹرے میں سامانِ خورد و نوش لیئے کمرے میں داخل ہوئیں ۔۔۔اور ہیلو ہائے کے بعد ہمارے ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔۔۔ کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے فرزند صاحب نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا بھائی میرے یہاں آنے کے دو مقصد تھے ایک تو یہ کہ آپ کا شکریہ ادا کرنا تھا کہ آپ کی وجہ سے ہمارا رکا ہو ا کام بہ آسانی ہو گیا ۔۔اور دوسرا جیسا کہ آپ کو صائمہ نے بتایا ہو گا کہ کل ہمارے ہاں آپ کی دعوت ہے تو اس کے لیئے میں خود بھی آپ سے درخواست کرنے آیا ہوں فرزند کی درخواست والی بات سن کر میں نے بہت شرمندگی محسوس کی ۔۔۔ ۔۔ اور پھر حسبِ ہدایت صائمہ باجی کے نمبر بناتے ہوئے بولا کہ بھائی آپ نے ناحق زحمت کی ۔۔۔۔ میرے لیئے باجی کا کہنا ہی کافی تھا ۔۔ میری بات سن کر سامنے بیٹھی باجی اور آنٹی بہت خوش ہوئیں جبکہ میری بات سن کر فرزند کہنے لگا کہ وہ تو سب ٹھیک ہے بھائی۔۔۔۔ لیکن میرا بھی تو کچھ فرض بنتا تھا نا ۔۔اسی دوران عدیل اور گوری میم بھی کمرے میں داخل ہو گئے۔۔گوری کو دیکھتے ہی جانے کیوں میری آنکھوں کے سامنے تھوڑی دیر پہلے کا دیکھا ہوا۔۔۔۔ سیکس شو گھوم گیا ۔۔۔پھر سیکس شو کی یاد آتے ہی مجھے اس گوری کی بہت موٹی ۔۔۔۔اور چوڑی سی گانڈ یاد آ گئی۔۔۔۔ ۔جو کہ ابھی کچھ دیر ہی پہلے میں نے بلکل ننگی دیکھی تھی چنانچہ گوری کی ننگی گانڈ یاد آتے ہی میں نے ۔۔۔۔۔۔ بڑی حسرت سے سوچا کہ عدیل سالہ کتنا لکی ہے کہ جب چاہے اس گوری کی موٹی بنڈ مار سکتا ہے ۔۔ پھر پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔۔سالے سے میرا دھیان صائمہ باجی کی طرف چلا گیا۔۔۔اور پھر وہاں سے۔۔۔ہوتے ہوئے۔۔۔۔ میرا سارا دھیان ان کی ابھری ہوئی چوت ۔۔۔۔۔ اور اس میں سے جھرنے کی صورت نکلنے والے پیشاب کی طرف چلا گیا ۔۔ابھی میں یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کان میں عدیل کی آواز گونجی ۔۔۔۔۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کیا بات ہے بادشاہو! آج بڑے خاموش بیٹھے ہو ۔۔عدیل کی بات سن کر صائمہ باجی کہنے لگیں کہ شاہ جی اور خاموش۔۔۔۔ یہ تو قیامت کی نشانی ہے بھائی۔۔ اور اس پر سب نے قہقہہ لگا دیا۔

 


اسی دوران آنٹی نے کی آواز سنائی دی کہ کھانا ریڈی ہے سب لوگ ڈائیننگ ٹیبل پر آ جاؤ ۔۔۔کھانا کھاتے ہوئے اچانک ہی فرزند عدیل سے مخاطب ہو کر بولا۔۔۔۔ بھائی کل تمہارے دوست کی ہمارے ہاں دعوت ہے اگر آپ بھی معہ بیگم کے شامل ہو جاؤ گے تو ہمیں بہت خوشی ہو گی۔۔ فرزند کی بات سن کر عدیل بڑے ادب سے بولا۔۔۔ بھائی جان مجھے آپ کے ہاں آنے پہ کوئی اعتراض نہیں ۔۔ لیکن کل میں اور بیگم ۔۔۔۔۔ایک نہایت ضروری کام سے کراچی جا رہیں ہیں۔۔۔عدیل کی بات سن کر فرزند نے زیادہ زور نہیں دیا لیکن میرے کان کھڑے ہو گئے کہ اس سلسلہ میں عدیل نے مجھ سے کوئی بات نہ کی تھی۔۔خیر کھانا کھانے کے فوراً بعد فرزند ایک بار پھر مجھے آنے کی تاکید کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ اس جاتے ہی میں نے عدیل سے کہا کہ یار تم نے بتایا ہی نہیں۔۔۔ کہ تم کراچی جا رہے ہو۔۔۔ ۔۔۔ تو میری بات سن کر وہ کہنے لگا کہ بات یہ ہے بھائی جان کہ خود مجھے بھی آج صبع ہی حکم ملا ہے کہ میں معہ بیگم کے کچھ دنوں کے لیئے ( اپنے رشتے داروں کے ہاں) کراچی اور پھر لاہور چلا جاؤں تا کہ میرے پیچھے باجی کے الجھے ہوئے معاملات سلجھ جائیں ۔۔۔ کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد میں نے جب اس سے اجازت لی۔۔۔ تو وہ مجھ سے گلے ملتے ہوئے بولا ۔۔ٹھیک ہے یار۔۔۔ مجھے بھی کچھ پیکنگ کرنی ہے۔۔۔ اس لیئے بائے۔۔۔ پھر جاتے وقت میرا کندھا تھپتھپا کر بولا۔۔ تمہارا بہت بہت شکریہ! تو میں نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کہ کس بات کا شکریہ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو آگے سے وہ تھوڑا جزباتی ہو کر بولا۔۔۔ کہ تمہاری وجہ سے آج میری بہن کا گھر دوبارہ سے بس رہا ہے اس بات کا ۔۔۔۔پھر کہنے لگا شاہ ۔۔۔شاید تم یقین نہ کرو کہ بھائی جان (فرزند ) کو یہاں دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہوئی تھی۔۔۔۔ورنہ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ مجھے یہاں آئے ہوئے اتنے زیادہ دن ہو گئے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ موصوف ایک دفعہ بھی مجھ سے ملنے نہیں آیا۔۔۔۔ بلکہ کچھ دن پہلے تک یہ لوگ باجی کے ساتھ جو سلوک کر رہے تھے تم اچھی طرح سے جانتے ہو۔۔۔۔ پھر باتیں کرتے کرتے ہم اکھٹے ہی ڈرائینگ روم سے باہر نکلے۔۔۔۔اور وہ اپنے کمرے کی طرف اور میں باہر کی طرف چل پڑا۔۔۔ ۔جبکہ گھر کے دوسرے لوگ ہم سے پہلے ہی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔۔ 


باہر جانے کے لیئے میں گیلری سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے مجھے باجی صائمہ آتی ہوئی نظر آئیں۔۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگیں اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو؟ تو میں نے جواب دیا کہ اصل میں عدیل لوگوں نے کچھ پیکنگ وغیرہ کرنی تھی اس لیئے میں جا رہا ہوں ۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگیں اچھا یہ بتاؤ کہ تمہیں میرا میاں کیسا لگا ؟ تو میں نے ا ن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ باجی آپ کا میاں بہت اچھا اور ایک سلجھا ہوا شخص ہے ۔۔ لیکن ۔۔ اس کے ساتھ ساتھ تھوڑا "لچکے سٹائل" بھی ہے میری بات سن کر باجی ہنس کر بولیں ۔ بڑا غضب مشاہدہ ہے تمہارا۔ پھر اس کے بعد کہنے لگیں ۔۔۔کہ جب میرا میاں پیدا ہوا ۔۔۔۔۔ تو اس وقت ہمارے خاندان میں لڑکے کم اور خواتین بہت زیادہ تھیں اور چونکہ میرے میاں کا سارا بچپن لیڈیز کے درمیان ہی گزرا ہے ۔۔۔ اس لیئے اس میں بقول تمہارے ہلکی سی " لچک " کا پایا جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔۔۔ ابھی ہم اسی طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ پیچھے سے عدیل آتا دکھائی دیا اور ہمارے پاس رُک کر بولا۔۔ ہاں جی سنائیں!۔۔۔ اسٹار پلس کی اگلی قسط میں کیا ہونے جا رہا ہے؟ تو میری بجائے باجی جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔ ہم اس کی دوسری قسط پر ڈسکس کر رہے تھے۔۔۔۔ باجی کی بات سن کر عدیل ہنس کر بولا۔۔ لگی رہو مائی ڈئیر سسٹر۔۔ لگی رہو ۔۔ پھر اچانک کہنے لگا ہاں یاد آیا وہ میری سفید شرٹ کہاں رکھی ہے؟ تو آگے سے وہ کہنے لگیں کہ وہ تو کافی گندی ہو رہی تھی اس لیئے میں نے اسے مشین میں ڈال دیا ہے۔ باجی کی بات سن کر عدیل سر ہلاتے ہوئے واپس مُڑ گیا۔


عدیل کو جاتے دیکھ کر میں بھی باہر کی طرف چل پڑا ۔۔ گیلری سے باہر آتے ہی میں نے باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو گوری کا شو کیسا لگا تھا؟ میری بات سن کر پہلے تو انہوں نے چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ پھر دبی دبی آواز میں کہنے لگیں۔۔یقین کر میں ادھر جان بوجھ کر نہیں گئی تھی۔۔۔ ۔۔ بلکہ میں کمرے کے سامنے سے گزر رہی تھی کہ اندر سے گوری کی سسکی سنائی دی۔۔۔ اور اس سسکی کی آواز سن کر میں وہاں رُک گئی تھی۔۔ ۔۔اور پھر نا چاہتے ہوئے بھی ان کا شو دیکھنا شروع کر دیا۔۔ تو اس پر میں نے ان سے پوچھا۔۔۔ آپ کو گوری کی پر فارمنس کیسی لگی؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔تم بتاؤ کہ تم نے مجھ سے زیادہ دیر تک یہ شو دیکھا تھا۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ باقی باتیں ایک طرف ۔۔ آپ کی بھابھی کی بیک سائیڈ بڑی زبردست ہے۔۔۔۔ ۔۔۔ کیا کمال کی چیز ہے آپ کی بھابھی کے پاس۔۔ میری بات سن کر صائمہ باجی مسکرا تے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔یہ بات کر کے تم مجھے کوئی پٹھان لگے ہو۔۔تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔ آپ کی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ چونکہ پٹھان لڑکوں کی طرف راغب ہوتے ہیں۔۔۔۔اس لیئے وہ صرف لڑکا دیکھتے ہیں۔۔۔ اس کی بیک سائیڈ نہیں۔۔۔۔ جبکہ اس کیس میں ہم لوگ عورت کی بیک سائیڈ کو شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ میرے جیسے بعض لوگ تو اس چیز کے دیوانے ہوتے ہیں۔۔۔ ۔میری بات سن کر وہ دھیرے سے مسکرائیں اور پھر مصنوعی شرمیلے پن سے کہنے لگیں ۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے میری بھی بیک سائیڈ کو غور سے دیکھا ہو گا؟؟۔۔ ان کی بات سن کر میں بڑے معنی خیز لہجے میں بولا۔۔۔صرف بیک سائیڈ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ تو آگے سے وہ بھی مسکرا تے ہوئے بولیں۔۔ اوہ۔۔۔ سمجھ گئی۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ لیکن یار ایک گڑ بڑ ہو گئی۔۔ ۔۔ ان کی بات سن کر میں چلتے چلتے رک گیا۔۔۔۔اور بڑی حیرانی سے بولا ۔۔۔کون سی گڑ بڑ۔۔ ؟؟ تو وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔افسوس کہ تم نے وہ چیز سب سے پہلے دیکھ لی ۔۔۔۔ جو کوئی بھی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کو سب سے آخر میں دکھاتی ہے۔ ان کی بات سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے ان کی بنا بالوں کے ابھری ہوئی چوت گھوم گئی۔۔ جس میں جھرنے کی صورت پانی بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ ان کی خوب صورت چوت کا تصور کرتے ہی ۔۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر ایک لمبی سی آہ بھری ۔۔۔اور پھر ان سے کہنے لگا۔۔۔ اُف۔ف۔ کیا دل کش منظر تھا ۔۔ میری بات سن کر ان کے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا۔۔۔۔۔اور وہ کہنے لگیں۔۔۔ تمہیں یہ منظر اچھا لگا؟ تو میں ان کو جواب دیتے ہوئے بولا نہ صرف یہ کہ اچھا لگا بلکہ اس وقت تو میرا جی چاہ رہا تھا کہ آگے بڑھ کر اتنی خوب صورت چیز کو چوم لوں۔۔ میری بات سن کر وہ ۔۔۔ وہ تھوڑی مست ہو گئیں ۔۔۔۔اور پھر معنی خیز لہجے میں بولیں ۔۔ میری وہ کون سی خوب صورت چیز تھی جسے تم چومنا چاہ رہے تھے؟۔۔ان کے منہ سے یہ جملہ سن کر ۔۔۔۔ اچانک ہی مجھ پر شہوت کا حملہ ہو گیا ۔۔۔لیکن پھر بھی بات کرنے سے پہلے میں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر کہنے لگا ۔۔۔ آپ کی " وہ " والی خوب صورت چیز ۔۔۔تو آگے سے وہ مزے لیتے ہوئے بولیں۔۔۔ یار میری اس "وہ والی چیز " کا کوئی نام تو ہو گا نا۔۔۔ اس لیئے ۔۔۔ اس کا نام بتاؤ ۔۔۔کہ مجھے بھی پتہ چلے کہ میرے پاس ایسی کون سی چیز خوب صورت چیز ہے۔۔جسے تم چومنا چاہ رہے تھے۔۔۔ ان کی بات سن کر میں۔۔ میں سمجھ گیا۔۔۔ کہ اندر سے وہ بھی گرم ہو گئیں ہیں۔۔۔۔ اس لیئے نے ادھر ادھر دیکھا تو آس پاس کوئی نہ تھا ۔۔ چنانچہ میں آگے بڑھا اور ان کے نزدیک ہو کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ خوب صورت چیز آپ کی " چوت " ہے۔ میرے منہ سے چوت کا لفظ سنتے ہی۔۔۔۔ ہی ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔ اور انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا پھر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں۔۔۔ تم عجیب بندے ہو۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے تم کہہ رہے تھے کہ تم بیک سائیڈ کے دیوانے ہو۔۔۔۔ اور اب مجھے بتا رہے ہو کہ۔۔۔ تمہیں میری آگے والی چیز بہت پسند آئی ہے۔۔ ان کی بات سن کر میں سمجھ گیا ۔۔۔ کہ میڈم شہوت میں ٹُن ہو چکی ہیں اور اب مجھ سے سیکسی باتیں کر کے مزے لینا چاہتی ہیں۔۔۔۔چنانچہ یہ سوچ کر۔۔۔ میں ان سے بولا۔۔۔ ایک بات کہوں؟۔۔ تو وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ جلدی کہو۔۔۔ اس پر میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بے باقی سے بولا۔۔۔

دیکھنے میں اور ہاتھ پھیرنے میں عورت کی گانڈ بہت مزہ دیتی ہے ۔۔ جبکہ چودنے کے لیئے۔۔۔۔ چوت بہت ذبردست چیز ہے۔۔۔اور پھر اپنے لہجے پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔۔ اور چوت بھی۔۔۔۔ ایسی ۔۔۔۔ جیسی کہ آپ کی ہے۔۔۔ ڈبل روٹی کی طرح موٹی۔۔۔اور باہر کو نکلی ہوئی۔۔۔ میری بات سن کر باجی کا رنگ کچھ مزید سرخ ہو گیا۔۔۔اور میں نے واضع طور پر محسوس کر لیا کہ میری طرح وہ بھی پوری طرح شہوت کے زیرِ اثر آ چکی تھیں ۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ جب وہ بولیں ۔۔۔تو ان کے لہجے سے شہوت کی گرمی ٹپک رہی تھی ۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں۔۔ تم نے میری "آگے اور پیچھے والی چیز " کا ایکسرے تو کر لیا۔۔۔ لیکن خود ابھی تک مجھے نہیں بتایا کہ ۔۔۔ تمہارا وہ "آلہ " کہ جس کو لے کر تم نے مزے کرنا تھے۔۔۔۔ کیسا ہے؟ کس رنگ کا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔تو میں نے ان سے کہا کہ آپ میرے لنڈ کی بات کر رہی ہیں نا؟ ۔۔تو آگے سے وہ سر ہلا کر بولی۔۔یس۔۔ اس پر میں نے ایک نظر گیلری کی طرف دیکھا ۔۔اور پھر لن پر ہاتھ لگا کر بولا۔۔۔ کچھ دیر پہلے آپ نے دیکھا تو تھا۔۔ اس پر وہ آہستہ سے بولیں۔۔۔ ہاں میری نظر تو پڑی تھی۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔اس وقت اس نواب صاحب کپڑے کے اندر ملبوس تھے۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ تو میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔آپ کو لن اچھا لگتا ہے؟ میری بات سن کر وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ جس طرح تم بوائز کو ہماری تین چیزیں بہت پسند ہوتیں ہیں ۔۔۔۔۔ تو میں ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔۔۔ وہ تین چیزیں کون سی ہیں ۔۔۔ نام بتائیں۔۔؟ تو وہ دھیرے سے کہنے لگیں ۔۔۔ ان کے ناموں سے تم اچھی طرح واقف ہو۔۔۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ لیکن۔۔ باجی جی میں آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے ایک بار پھر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر۔۔۔۔ دھیرے سے کہنے لگیں۔۔۔ ان کے نام چھاتیاں ۔۔۔ گانڈ اور چوت ہے۔۔ ان کے منہ سے اتنے ننگے نام سن کر مجھے نشہ سا ہو گیا۔۔۔ اور میں اسی نشے کے زیرِ اثر بولا۔۔۔۔ ۔۔۔ باجی پلیززززززززززززز۔۔۔ ایک دفعہ اور ان چیزوں کے نام لو۔۔۔ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔۔ تم بوائز کو لڑکیوں کی گانڈ ۔۔۔چھاتیاں اور چوت بہت پسند ہوتی ہے۔۔۔جبکہ ہم لڑکیوں کے پاس دیکھنے کے لیئے بوائز کی صرف ایک ہی چیز ہوتی ہے ۔۔۔ تو میں نے کہا۔۔ اس کا بھی کوئی نام ہو گا۔۔۔ تو اس بار وہ بغیر ہچکچاہٹ شہوت سے بھر پور لہجے میں بولیں۔ ہاں اس کا نام لن ہے جسے ابھی تم لنڈ کہہ رہے تھے۔۔۔۔۔اور یو ۔۔ نو اس لن یا لنڈ کی ہم لڑکیاں بہت دیوانی ہوتی ہیں۔۔۔۔ ان کے منہ سے لن کا نام سنتے ہی میرا نیم مُرجھایا لن ۔۔۔۔ ایک دم سے جمپ مار کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اور میں لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولا۔۔۔ ۔ کیا آپ میرے لن کو ننگا دیکھنا چاہتی ہو؟ میری بات سن کر انہوں نے بڑے غور سے میرے لن کی طرف دیکھا اور اپنے سر کو ہلا یا۔۔۔ ۔۔ لیکن منہ سے کچھ نہیں بولیں۔۔اسی اثنا میں ان کے گھر کا گیٹ آ گیا۔ ان کے گیٹ کے ساتھ ہی دھریک کے دو تین درخت ایک ساتھ لگے ہوئے تھے اور ان درختوں کے درمیان ایک چھوٹا سا گیپ تھا چنانچہ میں اس گیپ کی طرف یہ کہتے ہوئے طرف چلنے لگا کہ ۔۔۔۔ میں ابھی آپ کو اپنا ننگا لن دکھاتا ہوں ۔۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے گھبرا گئیں ۔۔۔اور تیز لہجے میں کہنے لگیں ۔۔ پاگل ہو گئے ہو کیا۔؟ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے میرا لن نہیں دیکھنا؟ تو وہ خوف زدہ لہجے میں بولیں۔۔ دیکھنا تو ہے لیکن ادھر نہیں۔۔ پھر مجھ سے کہنے لگیں کہ اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے ۔۔۔ براہِ مہربانی تم یہاں سے تشریف لے جاؤ۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے درختوں کی طرف جانا موقوف کیا ۔۔۔اور ۔اور پھر یہ کہتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گیا کہ ایک دن میں آپ کو ضرور اپنا لن ضرور دکھاؤں گا۔۔۔

 


یہ اس سے اگلے دن کی بات ہے کہ ابھی میں آفس پہنچا ہی تھا کہ آنٹی کا فون آ گیا کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹا آپ کچھ دیر کے لیئے ہمارے گھر نہیں آ سکتے ؟ ۔۔ تو میں حیران ہو کر بولا۔۔۔ آنٹی خیریت تو ہے نا؟ تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ ہاں ہاں سب خیر ہی ہے۔۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ کیا عدیل چلا گیا ؟ تو وہ کہنے۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا وہ تو رات کو ہی نائٹ کوچ سے نکل گیا تھا۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد وہ مزید کہنے۔۔۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ صائمہ کے سسرال میں آج رات تمہاری دعوت ہے اور اس دعوت میں باقی کھانوں کے علاوہ۔۔کچھ کھانے تمہاری مرضی کے بنائے جائیں گے اور یہ کھانا بنانے کی ذمہ داری صائمہ پر ڈالی گئی ہے۔۔پھر ہنستے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ صائمہ کو پتہ ہی نہیں کہ تم کھانے میں کیا کیا چیز شوق سے کھاتے ہو۔۔تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو مل جائے کھا لیتا ہوں۔۔۔۔۔اس پر وہ میری بات کو ٹوکتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔ اتنی بات تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن بیٹا آپ کیا کیا چیز شوق سے کھاتے ہو کم از کم یہ تو ہم لوگوں کو پتہ ہونا چاہیئے نا۔۔۔ اس لیئے تم کچھ دیر کے لیئے گھر آ جاؤ تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت میں مصروف ہوں ایک گھنٹے تک گھر آ جاؤں گا میری بات سن کر آنٹی کہنے لگیں ٹھیک ہے لیکن پلیزززززززز ۔۔ گھنٹے سے زیادہ لیٹ نہ ہونا کہ صائمہ کو گھر بھی جانا ہو گا۔۔۔میں نے اوکے کہہ کر فون کو بند کر دیا۔

ٹھیک سوا گھنٹے کے بعد میں ان کے گھر کے باہر کھڑا گھنٹی بجا رہا تھا۔۔۔ میرے بیل کے جواب میں آنٹی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں۔۔۔ شکر ہے کہ تم وقت پر آ گئے اور مجھے ساتھ لے کر ڈرائینگ روم میں آ گئیں۔۔ مجھے بیٹھنے کا کہہ کر خود باہر نکل گئیں۔۔۔ واپسی پر ان کے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک تھی اسے میری طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔ تم بوتل پیو ۔۔۔۔ اتنی دیر میں صائمہ نہا کر آتی ہے اتنا کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔ میں بڑے دنوں سے یہ بات نوٹ کر رہا تھا کہ لن ٹچ ہونے والے واقعہ کے بعد ۔۔۔ آنٹی میری طرف سے کافی محتاط ہو گئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ صائمہ باجی کمرے میں داخل ہو گئیں ۔۔۔ اس وقت انہوں نے ہلکے سرخ رنگ کا ٹائیٹ فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ اور یہ سوٹ اتنا ٹائیٹ تھا کہ اس میں سے ان کا انگ انگ صاف نظر آ رہا تھا۔۔ اور اسی سوٹ کی مناسبت سے انہوں نے ہونٹوں پر ہلکی سی سرخ سرخی بھی لگائی ہوئی تھی ۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ گورے رنگ پر لگی سرخ سرخی۔۔۔ میری جان کھینچ لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ ان کو اس حلیہ میں دیکھ کر ۔۔ میں آگے بڑھا۔۔۔اور ان کو دبوچ کر کس کرنے ہی والا تھا ۔۔ کہ وہ اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولیں۔۔۔۔شش۔۔ ڈیڈی گھر پر ہیں۔۔۔ یقین کرو دوستو ۔۔۔ ڈیدی کا نام سنتے ہی میرے ٹٹے ہوائی ہو گئے ۔۔۔۔ اور ۔۔ ساری شہوت غائب ہو گئی۔۔۔ اور میں منہ لٹکا کر۔۔۔۔ اچھے بچوں کی طرف صوفے پر بیٹھ گیا۔۔ میری اس حالت کو دیکھ کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔۔ ڈیڈی کے نام سے ۔۔۔ تمہاری بولتی کیوں بند ہو گئی ہے ؟؟؟۔۔۔ ۔۔۔ 


اس پر میں منہ بسور کے بولا۔۔ ۔۔۔ باجی آپ بڑی وہ ہو ۔۔ ڈیڈی کا نام لے کر آپ نے میرے سارے موڈ کی ماں بہن ایک کر دی ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ ہنس کر بولیں۔۔۔ چل اب کام کی بات کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مجھ سے کہنے لگیں اچھا یہ بتاؤ کہ تمہیں کھانے میں کیا پسند ہے؟؟۔۔ تو میں نے ان کو اپنی پسند بات دی۔اس کے بعد وہ مجھ سے مختلف کھانوں کے بارے میں ڈسکس کرنے لگیں۔۔ کھانوں کے بارے میں ڈسکس کرنے کے بعد۔۔۔۔۔وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ باقی کے کھانے تو آنٹی نے بنائے ہوں گے۔۔۔ لیکن تمہاری موسٹ فیورٹ ڈش میرے ذمے تھی۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔ اصل میں دعوت سے پہلے ہی ۔۔۔۔ میں نے ان کو بتایا ہوا تھا کہ شروع سے ہی شاہ میرے ہاتھ کی بریانی بڑے شوق سے کھاتا ہے تو اس پر آنٹی نے میری ڈیوٹی بریانی بنانے پر لگائی تھی۔۔۔ لیکن مجھے اب پتہ چلا ۔۔ کہ جناب کو تو بریانی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔۔۔ اس کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ سو۔۔۔ میرے پیارے بھائی ۔۔۔ رات والی دعوت میں ۔۔۔ اپنی بڑی بہن کا مان رکھنا اور ڈائینگ ٹیبل پر میری بنائی ہوئی بریانی کی خوب تعریف کرنا ۔ اس پر میں نے ان پر احسان جتاتے ہوئے کہا۔۔۔ ٹھیک ہے باجی جی ۔۔۔۔ تیری خاطر جہاں اتنے ڈرامے کیئے ہیں۔۔ وہاں ایک ڈرامہ اور سہی۔۔۔ میری بات سن کر وہ اپنی جگہ سے اُٹھیں ۔۔۔ اور میرے گال کو چوم کر بولی بھائی ہو تو ایسا۔۔جب وہ میرا گال چومنے کے لیئے میری طرف آ رہیں تھیں۔۔۔ تو ایک دفعہ پھر میری نظریں ان کے بہت زیادہ ٹائیٹ فٹنگ والے سوٹ اور خاص کر گلے سے جھانکتی ان کی چھاتیوں کی طرف چلا گیا۔۔۔۔ چنانچہ میرے گال چومنے کے بعد جب وہ اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گئیں ۔۔۔ تو میں ان سے بولا۔۔۔ ایک بات پوچھوں باجی ؟ تو وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولیں ۔۔۔ ڈیدی ابھی گھر پر ہی ہیں۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ میں ڈیڈی کے بارے میں نہیں ۔۔۔۔ بلکہ آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس سوٹ میں کیسے گھسیں ؟ میری بات سن کر وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولیں اچھا سوال ہے ۔۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر۔۔۔ کہنے لگیں۔۔۔ ۔۔۔ میرے پیارے شاہ جی ۔۔ شاید تمہیں یاد ہو کہ شادی سے پہلے میں کافی لوز فٹنگ والے کپڑے پہنا کرتی تھی۔۔ لیکن پھر شادی کے بعد ۔۔۔۔ میاں جی کے اصرار پر مجھے ٹائیٹ فٹنگ والے کپڑے پہننے پڑے۔۔۔ تو اس پر میں نے انہیں آنکھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔ پھر تو باجی جی۔۔ جس درزی نے ٹائیٹ فٹنگ کپڑے سینے کے لیئے آپ کا ماپ لیا ہو گا ۔۔۔اس کی تو موجیں ہوں گی۔۔ ۔۔ میری بات سن کر اچانک ہی ان کا چہرہ لال ہو گیا۔۔۔ اور وہ بڑی ہی شوخی سے کہنے لگیں۔۔۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔۔۔اس خانہ خراب نے میرے جسم کا ناپ۔۔ لیتے ہوئے بھی۔۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد بھی بہت مزے کیئے۔۔۔ باجی کی بات سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔اور میرے اندر کا " شاہ سٹوری" انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھا۔۔۔ 

۔۔۔جبکہ دوسری طرف میں نے محسوس کیا کہ " بعد میں مزے لینے والی بات" کر کے۔۔۔۔۔۔ باجی کچھ پریشان سی ہو گئیں تھیں۔۔۔۔(میرے خیال میں یہ بات غیر ارادی طور پر ان کے منہ سے پھسل گئی تھی۔۔) تب میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ۔۔ یہ سب کیسے ہوا؟ ۔۔۔ ذرا تفصیل سے بتائیں تو وہ کہنے لگیں۔۔۔ سوری یار۔۔۔ میں پہلے ہی کچھ زیادہ بول گئی ہوں۔۔۔ اس لیئے پلیز ۔۔۔اس بات کو جانے دو۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا اب جبکہ میرے اور آپ کے بیچ کوئی پردہ نہ رہ گیا ہے۔۔۔ تو یہ واردات سنانے میں حرج کیا ہے؟ خیر مزید تھوڑی سی بحث و مباحثہ کے بعد جب انہوں نے محسوس کیا کہ میں بنا سٹوری سنے ان کی جان نہیں چھوڑنے والا ۔۔۔۔ تو وہ نیم رضا مندی سے کہنے لگیں۔۔ اچھا پہلے وعدہ کرو کہ میری اس سٹوری کا کسی اور کے ساتھ تزکرہ نہیں کرو گے۔۔تو اس پر میں نے جھٹ سے وعدہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ مجھے آپ کی قسم۔۔ میں یہ سٹوری تو کیا ۔۔۔۔آپ کے ساتھ ساتھ بیتا ہوا ایک پل بھی۔۔۔۔ کسی دوسرے کے ساتھ ہر گز شئیر نہیں کرو ں گا ۔ میرے منہ سے یہ الفاظ سن کر وہ خاصی مطمئن ہو گئیں ۔۔۔۔چنانچہ انہیں مطمئن دیکھ کر میں جلدی سے بولا ۔۔۔چلیں اب شروع ہو جائیں۔۔۔۔۔ میری بے تابی کو دیکھ کر وہ تھوڑا سا مسکرائیں اور پھر کہنے لگیں ۔۔تم کیسے بھائی ہو جو اپنی بہن کی " ٹھکائی " والی سٹوری سننا چاہتے ہو۔۔ تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ باجی جی ہم ذرا ماڈرن قسم ۔۔۔۔اور وکھری ٹائپ کے بھائی ہیں۔۔سو بہن کی " ٹھکائی" والی سٹوری سننے کے ۔ بعد ۔۔۔ہم بھی اس کے ساتھ "چدائی" والی سٹوری بنائیں گے۔۔۔۔۔ اس لیئے آپ فکر نہ کریں ۔۔۔اور سٹوری سنانا شروع کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ بڑے معنی خیز لہجے میں بولیں۔۔۔ اچھا ۔ تو تم کہانی سننے کے بعد۔۔۔۔ میرے ساتھ ایک اور کہانی بنانا چاہتے ہو۔۔۔ پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔تو سنو! 

 


یہ شادی سے دو ماہ بعد کی بات ہے۔۔ کہ فرزند کے ایک دوست کے ہاں ہماری دعوت تھی اور اسی سلسلہ میں ۔۔۔ میں تیار ہو رہی تھی کہ فرزند کمرے میں داخل ہوا۔ ۔۔۔۔۔اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔۔۔ کہ آج والی دعوت پہ کون سا سوٹ پہن رہی ہو ؟۔۔تو میں نے ان سے کہا کہ جو آپ کہیں وہی سوٹ پہن لوں گی۔۔ تو وہ کہنے لگے کہ مجھے معلوم ہے ڈارلنگ کہ تم جو بھی سوٹ پہنو گی تم پر سج جائے گا۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ آج کی دعوت میں تم ٹائیٹ فٹنگ والے کپڑے پہنو ۔ تو میں نے ان سے کہا کہ آئی ایم سوری ڈارلنگ !۔۔ایسا تو میرے پاس ایک سوٹ بھی نہ ہے میری بات سن کر فرزند کہنے لگا لیکن یار مجھے ٹائیٹ فٹنگ والے سوٹ بہت پسند ہیں۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ جب تم میرے ٹائیٹ فٹنگ والا سوٹ پہن کر کسی دعوت میں جاؤ۔۔۔۔تو لوگ تمہارے سیکسی جسم کو دیکھ کر میری قسمت پر رشک کریں۔۔۔لیکن تم بتا رہی ہو کہ ایسا تمہارے پاس کوئی سوٹ نہ ہے ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد کچھ دیر سوچنے کے بعد۔۔۔وہ کہنے لگے۔۔۔۔۔ کہ چلو آج کے دن تم کوئی سا بھی سوٹ پہن لو ۔ لیکن کل تمہیں میرے ساتھ درزی کے پاس جانا پڑے گا جو کہ میری مرضی کا ناپ لے کر تمہارے سارے کپڑے ۔۔۔ میری پسند کے مطابق کر دے گا۔۔۔ تو اس پر میں فرزند سے کہنے لگی۔۔ کہ جان جی میرے پاس تو بہت زیادہ سوٹ ہیں ۔۔۔۔تو کیا وہ اتنے زیادہ سوٹ ایک ساتھ ٹھیک کر دے گا؟ میری بات سن کر فرزند کہنے لگے ۔۔اس کا باپ بھی کرے گا ۔۔۔کہ وہ میرے بچپن کا دوست ہے ۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کہیں کالو درزی کی بات تو نہیں کر رہے؟ تو وہ ہنس کر بولے کالو درزی تو وہ تب تھا کہ جب تمہاری گلی میں اس کی چھوٹی سی دکان ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ اب تو جان جی۔۔۔ اس نے صدر میں ٹیلرنگ کی بہت بڑی دکان کھول لی ہے جہاں پر اس سے کینٹ کی وی آئی پی لیڈیز سوٹ سلواتیں ہیں۔۔۔ اور کالو کی بجائے۔۔۔ سب اسی فیضی ٹیلر کے نام سے جانتی ہیں۔۔ (محلے دار ہونے کی وجہ سے میں بھی کالو درزی سے اچھی طرح واقف تھا۔۔وہ اتنا کالا تو نہ تھا لیکن پتہ نہیں لوگ اسے کالو درزی کیوں کہتے تھے ۔۔ اور وہ اس نام سے چڑتا بھی بہت تھا۔۔۔ اس زمانے میں بھی کالو درزی کی وجہ شہرت … اچھی سلائی۔۔۔ اور خواتین تھیں ..مشہور تھا کہ کالو درزی کے پاس کوئی گیڈر سنگھی ہے اسی لیئے خواتین اس کے ساتھ دستی پھنس جاتیں تھیں اور جہاں تک مجھے یاد ہے کہ وہ خود نہیں گیا تھا۔۔ بلکہ ایک خاتون کے ساتھ حالتِ غیر میں پکڑنے جانے کی وجہ سے اسے ڈھوک کھبہ چھوڑنا پڑا تھا۔۔۔لیکن میں نے بوجہ اس بات کا باجی سے تزکرہ نہیں کیا)۔۔ 


دوسری طرف باجی کہہ رہیں تھیں کہ ۔فرزند کی سارے کپڑے دینے والی بات سن کر میں ان سے کہنے لگی کہ میرے خیال میں تو سارے کپڑے ایک ساتھ لے جانا مناسب نہیں۔۔ میری بات سن کر وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے۔۔۔۔بات تو تمہاری بھی ٹھیک ہے ۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ ہم اسے کچھ سوٹ کل دے دیں گے اور جب یہ سوٹ ٹھیک کر دے گا تو باقی کے سوٹ ان کے ٹھیک ہونے کے بعد دے دیں گے۔۔ اتفاق سے اگلے دن فرزند کو ایک نہایت ضروری کام پیش آ گیا ۔لیکن اس کے باوجود بھی جب انہوں نے مجھے درزی کے ہاں چلنے کے لیئے کہا ۔تو میں ان سے بولی۔ کہ ایسی بھی کیا جلدی ہے ہم کپڑے کسی اور دن دے آئیں گے۔۔۔تو وہ کہنے لگے کہ اگلا سارا ہفتہ میں بہت بزی ہوں اس لیئے تم جلدی سے تیار ہو جاؤ کہ میرے پاس تین چار گھنٹے ہیں اور ٹیلر کی شاپ پر ہمارے بمشکل دو گھنٹے لگیں گے پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ یقین کرو ڈارلنگ مجھے تمہارے یہ لوز کپڑے ایک آنکھ بھی نہیں بھاتے ۔۔۔فرزند کے کہنے پر میں جلدی سے تیار ہو گئی۔۔۔اور کچھ کپڑے بھی ساتھ رکھ لیئے۔۔ اور پھر فرزند مجھے ساتھ لے کر کالو سوری فیضی کی ٹیلرنگ شاپ پہنچ گئے۔ ۔ ۔ چونکہ یہ صبع کا وقت تھا ۔ اس لیئے بازار ابھی تک پوری طرح سے کھلا نہیں تھا۔۔ ہم جیسے ہی اس کی دکان پر پہنچے تو کائنٹر پر فیضی بیٹھا تھا اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا لڑکا بھی تھا۔۔ ڈھوک کھبہ کے برعکس ۔۔۔اس کی یہ والی دکان خاصی بڑی اور ماڈرن قسم کی تھی فرنٹ پر اس نے شو روم بنایا ہوا تھا جہاں تیار شدہ کپڑے بڑی خوب صورتی کے ساتھ ہینگر میں لٹکائے ہوئے تھے۔۔۔ جبکہ فیضی کے کاؤنٹر کے ایک طرف ایک بڑا سا پردہ لگا ہوا تھا جہاں پر کہ وہ لیڈیز کا ناپ لیا کرتا تھا۔۔ جبکہ سلائی کے لیئے دکان کے اوپر ایک بڑا سا حال بنا تھا۔۔ جسے اپنی زبان میں وہ کارخانہ کہتا تھا۔۔ ۔۔جیسے ہی ہم دکان میں داخل ہوئے تو فیضی اپنا کاؤنٹر چھوڑ کر ہماری طرف بڑھا ۔۔۔اور پھر فرزند سے ہاتھ ملانے کے بعد ۔۔۔ اس نے میرے سوٹوں والا شاپر کاؤنٹر پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اس نے مجھے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔۔ جبکہ فرزند کاؤنٹر کے پاس ہی کھڑا رہا۔۔۔جیسے ہی میں تھری سیٹر صوفے پر بیٹھی۔۔ اسی وقت فیضی میرے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگا ۔۔۔ شادی مبارک ہو بھابھی۔۔ میں نے ولیمے والے دن بڑی کوشش کی کہ آپ کو بالمشافہ مبارک باد ۔۔۔دوں ۔۔۔لیکن رش کی وجہ سے میں آپ تک نہ پہنچ سکا ۔۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے گھر والوں کا حال احوال دریافت کیا ۔۔پھر فرزند کی طرف مُڑ کر کہنے لگا ۔۔ ناشتے میں کیا لو گے؟ اس پر فرزند بولا۔۔۔سوری یار ہم لوگ ناشتہ کر کے آئے ہیں ۔۔ ایسا کرو کہ ہمارے لیئے کولڈ ڈرنک منگوا لو ۔۔۔ تو اس پر فیضی نے دکان پر موجود ایک چھوٹے بچے کو پیسے دے کر کولڈ ڈرنک لانے کو کہا ۔۔ اور پھر فرزند سے مخاطب ہو کر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ فرزند اس کی بات کو کاٹتے ہوئے بولے ۔۔۔۔۔یار وقت بہت کم ہے اس لیئے۔۔۔اک منٹ میری بات سن لو۔۔۔ فرزند کی بات سن کر فیضی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور ۔۔۔۔۔ پھر فرزند کے پاس جا کھڑا ہوا۔۔ اور میں نے محسوس کیا کہ فرزند اسے کوئی بات سمجھا رہا تھا۔۔۔۔ اسی اثنا میں بچہ کولڈ ڈرنک لے آیا ۔۔فرزند نے اس کے ہاتھ سے ایک بوتل پکڑی ۔۔۔اور دوسری مجھے دینے کو کہا۔۔۔ ۔

 


ادھر میں نے بوتل ختم کی ہی تھی کہ۔۔۔اسی وقت فیضی میرے پاس آ کر بولا ۔۔۔ بھابھی زرا پردے کے پیچھے آ جائیں ۔۔۔۔ مجھے آپ کا ناپ لینا ہے اس کے ہاتھ میں ایک موٹا سا رجسٹر ۔۔۔۔ اور کندھوں پر ناپ لینے والا فیتہ پڑا ہوا تھا۔۔۔۔ فیضی کی بات سن کر میں نے ایک نظر فرزند کی طرف ڈالی۔۔۔۔ تو اس نے ہلکا سا اشارہ کر کے مجھے جانے کے لیئے کہہ دیا۔۔ چنانچہ فرزند کی اجازت پاتے ہی میں اپنی جگہ سے اُٹھی اور فیضی کے ساتھ پردہ کے پیچھے چلی گئی ۔۔۔ یہ ایک مُستطیل نما تنگ سی جگہ تھی اس کے ایک طرف لمبا سا سٹول پڑا تھا اندر جاتے ہی فیضی نے رجسٹر کا ایک صفحہ کھولا ا ور اسے سٹول پر رکھ دیا ۔۔۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہوا۔۔۔وہ مستطیل نما جگہ اتنی تنگ تھی ۔۔۔ کہ جس جگہ میں کھڑی تھی۔۔۔ وہاں سے فیضی اور میرا درمیانی فاصلہ چند ہی سینٹی میٹر کا ہو گا۔۔۔۔ اسی دوران فیضی ایک قدم آگے بڑھ کر۔۔۔بولا کہ بھابھی جی ناپ دینے سے پہلے اپنا دوپٹہ اتار دیں۔۔ اتنا کہتے ہی اس نے خود ہی میرے سینے سے دوپٹہ ہٹا کر اسے بھی سٹول پر رکھ دیا ۔۔۔۔ جبکہ دوپٹہ اتارتے وقت اس نے بڑی ہی چالاکی کے ساتھ۔۔۔لیکن بظاہر انجانے میں۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اپنے ہاتھ کو آہستگی کے ساتھ۔۔۔۔میری چھاتیوں کے ساتھ ٹچ کر دیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔ میں اس کی حرکت کو سمجھ تو گئی تھی لیکن چُپ رہی۔۔۔ دوپٹہ اتارنے کے بعد اس نے اپنے گلے میں ڈالے ہوئے فیتے کو اتارا ۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے سرسری سے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ فرزند مجھ سے کیا کہہ رہا تھا ؟ ۔۔۔گو کہ مجھے اس بات کا اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ فرزند نے اسے کیا کہا ہو گا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی تجسس کے ہاتھوں مجبور کر اس سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔ کہ کیا کہہ رہے تھے وہَ ؟؟؟؟؟؟؟؟ میرا سوال سن کر اس کے ہونٹوں پر ایک پراسرار سی مسکراہٹ آ گئی اور وہ کہنے لگا کہ اس نے بڑی سختی سے ہدایت دی ہے کہ آپ کے کپڑوں کو اتنا ٹائیٹ سینا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کا یہ خوبصورت جسم کچھ اس طرح سے نمایاں ہو جائے کہ جو بھی دیکھے۔۔۔۔۔ بس دیکھتا ہی رہ جائے۔ اتنی بات کرنے کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور پھر معنی خیز لہجے بولا۔۔ آپ کیا کہتی ہو؟ تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ جیسے میرے میاں کہتے ہیں ویسے ہی کریں۔۔ میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک شیطانی سی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔اور وہ کہنے لگا۔ ۔۔۔ آئی ایم سوری بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس قسم کے کپڑے ( ٹائیٹ فٹنگ ) سینے کے لیئے آپ کا اسپیشل ناپ لینا پڑے گا۔۔ اس دوران اگر کچھ برا لگے تو پلیززز۔۔ اگنور کر دیجئے گا۔

اس کے بعد اس نے فیتہ میری گدی ( جہاں گردن کندھے سے ملتی ہے) پر رکھا۔۔۔ اور اس کا ناپ لیا ۔اور اسے رجسٹر پر درج کرنے کے بعد۔۔پھر اس نے میرے بازؤں کا ناپ لینے کے لیئے میرے کندھوں پر فیتہ رکھا اور میری کلائی کی طرف لے جاتے ہوئے ۔۔۔۔ دھیرے سے بولا۔۔آج کل فاخرہ کہاں ہوتی ہے؟ فاخرہ کا نام سنتے ہی میرے اندر ایک ہلچل سی مچ گئی۔۔۔۔۔اور میں بڑی مشکل سے خود پر قابو پاتے ہوئے بولی ۔ جی اس کی شادی ہو گئی تھی اور اب وہ لاہور میں ہی رہتی ہے بات دراصل یہ تھی کہ فاخرہ مجھ سے بڑی ہونے کے باوجود بھی میری بہت اچھی دوست اور ہمسائی تھی۔۔ میری طرح وہ بھی ہر وقت سیکس کی آگ میں جلتی رہتی تھی میرے اور اس میں فرق صرف اتنا تھا کہ وہ بہت بولڈ تھی۔۔ جبکہ اس سلسلہ میں ۔۔ میں بولڈ ہونے کے ساتھ ساتھ (منگی شد ہ ہونے کی وجہ سے) بہت ہی زیادہ محتاط تھی فیضی فاخرہ کا ا س لیئے پوچھ رہا تھا کہ۔۔۔۔ وہ اس کے ساتھ اچھی خاصی سیٹ تھی اور ایک دو دفعہ میں بھی اس کے ساتھ فیضی کی دکان پر کپڑے دینے گئی تھی اس دکان میں بھی اس نے لیڈیز کا ناپ لینے کے لیئے۔۔۔۔ ایک الگ سے جگہ بنائی ہوئی تھی ۔۔۔ جہاں ناپ لینے کے بہانے وہ اکثر ۔۔۔۔ اس کے ساتھ کسنگ کیا کرتی تھی۔اور ایک آدھ بار یہ واردات میری موجودگی میں بھی ہو چکی تھی۔۔اس زمانے میں کسنگ کی مخصوص ۔۔ پوچ ۔۔۔پوچ ۔۔ کی آوازیں سن کر مجھے یاد ہے کہ میں بہت گرم ہو گئی تھی۔۔۔۔جس کی وجہ سے۔۔۔۔ میں تھوڑی سی لیک بھی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ۔۔میرا ناپ لینے کے ساتھ ساتھ وہ نان سٹاپ بولے جا رہا تھا۔۔۔ایک بات ماننی پڑے گی۔۔۔ کہ فیضی کو باتیں کرنے کا ڈھنگ خوب آتا تھا ۔۔۔ یہاں تک کہ وہ گاہے گاہے۔۔۔ بڑے ہی پر اثر انداز میں ۔۔۔۔۔میرے جسم کے نشیب و فراز کے بارے میں بڑے ہی مہذب لیکن۔۔۔ درپردہ۔۔۔ شہوت انگیز تبصرہ بھی کر تا جا رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔ جانے اس کی زبان میں کیا تاثیر تھی کہ مجھے ۔۔۔اس کی ایسی باتیں بہت اچھی لگ رہیں تھی۔۔۔۔ دوسری طرف میرے بازو کا ناپ لینے کے بعد۔ اس نے میری جیسٹ کا ناپ لیا (چھاتی کے سامنے دونوں کندھوں کے درمیان والا حصہ جسیٹ کہلاتا ہے )۔اس کے بعد وہ میری بھاری چھاتیوں کو گھورتے ہوئے بولا۔۔بھابھی اب مجھے آپ کی بسٹ کا ناپ لینا ہے (سینے کے ابھار کی نوک جہاں سے جہاں سے پلیٹ شروع ہوتی ہے بسٹ پوائینٹ کہلاتا ہے) اور مجھے فیتہ پکڑاتے ہوئے بولا۔۔۔ اسے اپنے ابھار پر رکھیئے۔۔ میں نے اس سے فیتہ پکڑا اور اپنی چھاتیوں پر رکھ دیا ۔۔یہ دیکھ کر وہ کہنے لگا۔۔ ۔۔اوہو بھابھی ۔۔آپ نے فیتہ غلط جگہ پر رکھ دیا ہے اور پھر فیتے کو پکڑ کر اس کے ایک سرے کو عین میرے نپلز پر رکھ کر بولا۔۔ ۔ کہ۔۔آپ کو معلوم ہے نا کہ آپ کے میاں نے خاص طور پر ان کی اُٹھان کے بارے میں خصوصی ہدایات دیں ہیں ۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے فیتے کے دوسرے سرے کو میری چھاتییوں کے دونوں نپلز کے عین اوپر رکھ دیا۔۔ ۔۔


اور پھر دونوں نپلز کو ہلکا سا دبا کر بولا۔ ۔آپ کی پیمائش تو بہت ہی شاندار ہے ۔۔اس کے بعد اس نے میرے فرنٹ کا ناپ لیا۔۔۔پھر اسی طرح باتیں کرتے کرتے وہ فیتے کو میری کمر کے پیچھے لے گیا اور پُر اثر لہجے میں بولا۔۔۔ ویسے بھابھی جی۔۔۔ کہہ تو وہ ٹھیک ہی رہا ہے جیسا عالی شان ۔۔۔۔۔ مال ( میری چھاتیاں) آپ کے پاس ہے میرے خیال میں بالی ووڈ تو کیا ہالی ووڈ میں بھی شاید ہی کسی اداکار ہ کے پاس ایسا ہو ۔۔۔۔۔۔۔ ۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ وہ جگہ بہت تنگ تھی چنانچہ کمر کا ناپ لینے کے بہانے ۔۔۔۔۔ وہ بلکل غیر محسوس طریقے سے ۔۔۔۔ میرے اور قریب آ گیا۔۔اتنے قریب کہ اس کے جسم سے نکلنے والی۔۔۔۔ مخصوص قسم کی مردانہ مہک میرے نتھوں میں گھسنے لگی۔۔۔۔جسے سونگھتے ہوئے میں ۔۔۔ من ہی من میں گھائل ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ ۔۔اس عجیب یا سیکسی بو۔۔۔یا مہک کے ساتھ ساتھ ۔ فیضی کے جسم سے نکلنے والی ۔۔۔۔۔ گرمی اور شہوت کی ملی جلی لہریں ۔۔۔ بھی میرے بدن میں سمانا شروع ہو گئیں تھیں ۔۔اس سے قبل اپنی چرب زبانی سے ۔۔۔۔ اور اب میرے قریب آ کر ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ فیضی نے ایک منٹ میں ہی میرے اندر کی وہ ساری فیلنگ ۔۔ دوبارہ سے جگا دیں تھیں ۔ ۔۔۔۔ جو کہ شادی کے بعد کہیں ۔۔ سو گئیں تھیں۔۔۔ دوسری طرف ۔۔۔فیضی نے میری کمر کے پیچھے فیتہ رکھا اور میری بیک کا ناپ لینے کے بہانے میری کمر کو اپنی طرف ہلکا سا پش کیا۔۔۔ چونکہ میرے لیئے اس کا یہ اقدام بلکل غیر متوقع تھا اس لیئے ناپ لیتے ہوئے ۔۔۔ جیسے ہی اس نے مجھے اپنی طرف پش کیا میں سیدھی ۔۔۔ اس کے سینے سے جا لگی۔۔ ایک لمحے کے لیئے میری چھاتیوں ۔۔۔اس کے فراخ سینے کے ساتھ دب سی گئیں۔۔ ۔۔ اس کے سینے سے لگتے ہی میں ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی۔۔تو وہ معذرت کرتے ہوئے بولا ۔۔۔سوری بھابھی جی۔۔ جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو گیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ۔۔۔۔ اس نے یہی طریقہ آزماتے ہوئے ۔۔۔۔ ایک دفعہ پھر مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔ اور اس بار۔۔۔پہلے کے مقابلے میں۔۔۔۔۔اس سینے سے لگانے کا دورانیہ کچھ زیادہ تھا۔۔۔۔ اس کے علاوہ ناپ لیتے ہوئے۔۔۔ اس نے میری بھاری چھایتوں پر بھی ایک دو دفعہ ہاتھ بھی لگایا ۔۔۔ اس کی معنی خیز باتوں اور میرے ساتھ کی گئی حرکات سے آہستہ آہستہ ۔۔۔۔میں بھی گرم ہونا شروع ہو گئی۔ ۔ اور شادی کے بعد پہلی دفعہ میں کسی غیر مرد کے لیئے گرم ہو رہی تھی۔۔اوپری بدن کا ناپ لینے کے بعد وہ شلوار کا ناپ لینے کی غرض سے اکڑوں بیٹھ کر کہنے لگا۔۔۔ بھابھی جی۔۔۔اپنے دامن کو تھوڑا اوپر کریں۔۔۔ اور میں نے بنا چوں و چرا اپنی قمیض کا دامن اوپر کر لیا۔۔۔ میرے ننگے پیٹ پر نگاہ پڑتے ہی ایک لمحے کے لیئے۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں شہوت کے آثار نظر آئے۔۔۔ ۔۔۔لیکن اگلے ہی لمحے وہ نارمل ہو گیا۔۔۔اور فیتے کو میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ہپس کی جس جگہ پر آپ شلوار پہنتی ہو اسے وہاں رکھ لیں۔۔۔۔اور میں نے اس کے ہاتھ سے فیتہ پکڑا۔۔ ۔۔اور اپنے ہپس کی متعلقہ جگہ پر رکھ دیا ۔ اس نے ایک نظر میرے ننگے پیٹ کی طرف دیکھا اور پھر فیتے کو میرے ٹخنو ں سے اوپر لے جا کر بولا۔۔۔۔ شلوار یہاں تک ٹھیک رہے گی۔۔۔ جب میں نے ہاں کر دی تو اس نے میری ہپس پر رکھے فیتے کو پکڑنے کے بہانے بڑی مہارت کے ساتھ میری ریشمی رانوں پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگا کہ اب آپ کی ا رؤنڈ تھائی کا ناپ لینا ہے اس کے ساتھ ہی وہ اپنے فیتے کو میری رانوں تک لے گیا۔۔ ادھر جیسے ہی اس کا ہاتھ میری ریشمی ران کے ساتھ ٹچ ہوا تو اسی وقت میری چوت میں ہلکی سی سرسراہٹ سی ہونے لگی ۔۔ دوسری طرف اس نے بھی موقعہ کو ضائع نہیں کیا ۔۔اور ارؤنڈ تھائی کے ناپ کے بہانے باری باری دونوں رانوں پر دو تین دفعہ ہاتھ پھیرا۔۔چوت کے اتنے قریب ہاتھ پھیرنے کی وجہ سے اس میں سننساہٹ سی ہونے لگی ۔۔ اس طرح وہ میرا ناپ کم اور جسم زیادہ ٹٹولتا رہا۔۔جسے میں نے خوب انجوائے کیا۔۔۔ لیکن منہ سے کچھ نہ بولی۔۔۔۔۔۔۔ چنانچہ جب میرا ناپ فائینل ہو گیا۔۔ تو ایک لمحے کے لیئے ہم دونوں کی نظریں چار ہوئیں ۔۔ہم دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیئے جنسی طلب تیر رہی ۔۔ ۔۔۔ ہم دونوں نے اس طلب یا ایک دوسرے کے لیئے جنسی بھوک کو نوٹ کیا ۔۔۔لیکن۔۔۔۔ بوجہ ہم دونوں ہی چپ رہے۔۔۔۔وہاں سے نکلتے وقت اس نے۔۔۔۔ بس اتنا کہا کہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ شکریہ بھابھی۔۔۔پھر ملیں گے۔۔ اس کے ساتھ ہی ہم دونوں پردے سے باہر آ گئے۔۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہوئے فرزند کہنے لگے کہ دیکھنا ڈارلنگ فیضی تمہارے سوٹوں کو ایسا فٹ کر دے گا کہ انہیں پہن کر تم خود بھی حیران رہ جاؤ گی۔۔ دوسری طرف میں فیضی کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں اس گہرے سانولے آدمی کے پاس ایسا کون سا جادو تھا کہ نئی نئی۔۔۔ شادی ہونے کے باوجود بھی۔۔۔ ۔۔۔میں اس پر گرم ہو گئی تھی۔۔۔۔ یہ سوچ آتے ہی میں نے خارش کے بہانے اپنی چوت چیک کی۔۔۔ تو وہ گیلی ہو رہی تھی۔۔۔

 


یہ اس واقعہ سے تیسرے دن کی بات ہے کہ میں اور فرزند ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجی۔۔۔گھنٹی کی آواز سنتے ہی فرزند ناگواری سے بولا۔۔ صبع صبع کس کا فون آ گیا اور پھر ۔۔ سکرین کو دیکھے بغیر ہی ہیلو کہا ۔۔۔ …رسمی جملوں کے بعد۔۔۔۔ پتہ نہیں دوسری طرف کیا کہا گیا کہ اچانک ہی فرزند افسوس بھرے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ اوہو یہ تو بہت برا ہوا۔۔ پھر کہنے لگا یار آج کل میں بہت مصروف ہوں۔۔ پھر دوسری طرف سے بات سن کر بولا۔۔۔۔ نہیں یار ۔۔۔ مجھے آج شام تک کم از کم ایک سوٹ ہر صورت چاہیئے کہ کل بیگم کو لے کر ایک فنگشن پر جانا ہے۔۔۔۔ پھر کچھ دیر کی بحث و مباحثہ کے بعد کہنے لگا یار تو بڑا بہن چود ہے… اوکے… میں اسے لے کر ابھی آ رہا ہوں۔۔۔۔فون بند کرنے کے بعد اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ پوچھتی ۔۔۔ وہ خود ہی کہنے لگا یار جلدی سے تیار ہو جاؤ کہ ہم نے فیضی کی دکان پر جانا ہے۔۔۔۔۔ فرزند کے منہ سے فیضی کا نام سن کر میرے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا۔۔۔۔ لیکن بظاہر چپ رہی۔۔۔ اور پھر ایسے ہی بنتے ہوئے بولی۔۔۔ مجھے وہاں جا کر کیا کرنا ہے آپ خود ہی کپڑے لے آؤ نا۔۔۔ تو آگے سے فیضی جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ اصل میں رجسٹر کے جس صفحے پر تمہار ا ناپ لکھا ہوا تھا کل شام جب تمہارے سوٹ ٹھیک کرنے کے لیئے اس نے رجسٹر کے ناپ والا صفحہ کھولا ۔۔۔تو کسی وجہ سے اس پر چائے گر گئی اور اس طرح تمہارا دیا ہوا ناپ ضائع ہو گیا ہے ۔۔۔اسی لیئے فیضی نے فون کر کے پہلے تو مجھ سے معذرت کی ہے ۔۔۔اور اس کے بعد تمہارے فریش ناپ کے لیئے بھی بولا ۔۔ ناپ کی بات سن کر ۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں میرے اندر ایک عجیب سی گرمی دوڑ گئی۔۔۔ ۔۔اور آنے والے وقت کا تصور کرتے ۔۔۔۔ ہوئے ۔۔ میری چوت نے جوش مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔ چنانچہ میں نے فرزند سے کہا کہ تم ناشتہ کرو میں تیار ہو کر آ تی ہوں ۔۔۔ کپڑے پہنتے وقت میں نے جان بوجھ کر قمیض کے نیچے ٹائیٹس پہن لی تھی۔۔ ناشتہ کرتے ہی ہم لوگ بھاگم بھاگ فیضی کی دکان پہ جا پہنچے۔۔ تو دکان کے سامنے ایک بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔۔ 


اندر جا کر دیکھا تو صوفے پر ایک ساتھ تین خواتین بیٹھیں تھیں ۔۔ جبکہ فیضی کمرے میں موجود نہ تھا۔۔۔ ہمارے پوچھنے سے پہلے ہی فیضی کا "چھوٹو" جو کہ فرزند کو اچھی طرح سے جانتا تھا۔ کہنے لگا کچھ دیر انتظار کریں ۔۔۔کہ استاد اندر ناپ لے رہے ہیں۔۔ ۔۔۔ کوئی چار منٹ کے بعد جب فیضی ناپ والے کمرے سے باہر آیا تو میں نے ناپ دینے والی عورت کی طرف غور سے دیکھا۔۔۔تو اس کا چہرہ کافی سرخ ہو رہا تھا چنانچہ میں سمجھ گئی کہ فیضی کو ناپ دیتے ہوئے اس خاتون نے کافی مزے کیے۔۔۔۔ اور دیئے ہوں گے۔۔۔ پردے باہر نکلتے ہی فیضی کی نظر ہم پر پڑی تو۔۔۔۔۔ وہ سیدھا ہمارے پاس چلا آیا۔۔ فیضی کے قریب آتے ہی فرزند کہنے لگا کہ یار جلدی سے اس کا ناپ لے لو کہ پھر میں نے جانا بھی ہے تو اس پر فیضی ان خواتین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔ سوری یار ۔۔۔۔ ۔۔ پہلے ان کا ناپ لیا جائے گا اس پر فرزند قدرے ترش لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔ یار بولا بھی تھا کہ میں نے جلدی جانا ہے تو اس پر فیضی کہنے لگا تمہاری بات درست ہے یار۔۔۔۔۔ لیکن دوست۔۔۔ اگر میں ان کو چھوڑ کر بھابھی کا ناپ لینا شروع کر دوں گا تو یہ خواتین شور مچانا شروع کر دیں گی۔۔۔ اور شاید تمہیں معلوم نہیں ۔۔۔۔کہ یہ کوئی عام خواتین نہیں بلکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر کی بیوی اور بہنیں ہیں۔۔۔ اس پر فرزند بولا۔۔اچھا یہ بتاؤ کہ کتنا وقت لگے گا؟ تو آگے فیضی کہنے لگا ۔۔۔ کم از کم آدھا گھنٹہ تو لگ ہی جائے گا۔ فیضی کی بات سن کر فرزند بے بسی سے بولا ۔۔۔ لیکن یار۔۔۔۔۔تو اس پر فیضی ۔۔۔۔۔۔ بات کاٹتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ایک کام کر بھابھی کو میرے پاس چھوڑ جا ۔۔واپسی پر لے جانا۔۔۔۔ تو فرزند کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ یار میری واپسی شام کو ہو گی۔۔۔ یہ سن کر فیضی کہنے لگا۔۔۔ پھر تُو جا ۔۔۔ میں بھابھی کا ناپ لیتے ہی انہیں ٹیکسی پر بٹھا دوں گا۔۔ فیضی کی بات سن کر فرزند نے بڑی بے بسی سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔ تم کیا کہتی ہو؟ تو میں نے ترنت ہی کہہ دیا کہ۔۔۔ مجبوری ہے۔۔۔۔ اگر آپ نے ضروری جانا ہے تو پلیززززززز۔۔۔ جائیں میں ٹیکسی میں آ جاؤں گی ۔۔۔ میری بات سن کر فرزند فیضی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔ کہ ناپ لینے کے فوراً بعد اسے ٹیکسی میں بٹھا دینا ۔۔۔ تو آگے سے فیضی کی بجائے میں نے ۔ ۔۔فرزند کی طرف آنکھیں نکالتے ہوئے کہا کہ توبہ ہے فرزند تم میرے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہو کہ جیسے میں کوئی دودھ پیتی بچی ہوں۔۔۔ پھر میں نے کہا کہ آپ جاؤ میں خود آ جاؤں گی۔۔۔ اس کے بعد۔۔۔۔۔۔میرے منع کرنے کے باوجود بھی فرزند نے ایک دفعہ پھر فیضی کو تاکید کی اور پھر مجھ سے معذرت کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔فرزند کے جانے کے بعد فیضی نے بڑی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کہنے لگا کہ بس تھوڑا سا انتظار کریں میں ذرا ان کو فارغ کر لوں ۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے ان تین میں سے ایک خاتون کو پردے کے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔


اس وقت جبکہ باجی کی سٹوری اپنے عروج پر جا رہی تھی کہ اچانک باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔ چنانچہ قدموں کی آواز سن کر باجی چُپ ہو گئی۔۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے آنٹی نمودار ہوئیں اور دروازے میں کھڑے ہو کر بولیں۔۔۔ صائمہ میں تیرے ڈیڈی کے ساتھ باہر جا رہی ہوں زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے لیکن زیادہ امید یہی ہے کہ ہم لوگ دو تین گھنٹے تک واپس آ جائیں گے۔۔۔ اس کے بعد کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ دروازے کو لاک کر لو۔۔آنٹی کی بات سن کر باجی اُٹھیں اور ان کے ساتھ باہر نکل گئیں۔۔ جبکہ دوسری طرف آنٹی لوگوں کا ۔۔۔۔۔دو تین گھنٹے تک کی واپسی ۔۔۔۔۔۔ کا سن کر میرے اندر لگی شہوت کی دھیمی آگ تیزی کے ساتھ بھڑکنا شروع ہو گئی۔۔۔۔اور میں صائمہ باجی کو چودنے کی منصوبہ بندی کرنے لگا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد باجی کمرے میں داخل ہو ئی تو میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ امی کے جانے سے تیرے دل میں کیوں لڈو پھوٹ رہے ہیں ؟ ۔۔۔تو آگے سے میں دانت نکالتے ہوئے بولا۔۔۔ اس بات سے آپ بخوبی آگاہ ہو۔۔۔پھر میں ان سے بولا ۔۔۔ آپ آگے کی داستان سنائیں۔۔ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے۔۔ کہنے لگیں ۔۔ہاں تو میں کہاں تھی؟ تو میں نے ان کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ۔۔ فرزند کے جاتے ہی فیضی آپ سے معذرت کرنے کے بعد۔۔۔۔صوفے پر بیٹھی ایک خاتون کا ماپ لینے چلا گیا تھا۔۔ تو وہ کہنے لگیں ۔۔ پہلی کی برعکس فیضی نے ان تینوں خواتین کا جلدی جلدی ناپ لیا اور پھر ان کے جانے کے بعد ایک گہری سانس لیتے ہوئے بولا ۔۔۔ سوری بھابھی جی۔۔۔ ان لیڈیز کے چکر میں ۔۔ میں آپ کو چائے پانی کا پوچھنا بھول ہی گیا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے دراز سے پیسے نکال کر چھوٹے کے حوالے کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اسے کولڈ ڈرنک لانے کا بولا۔۔۔

 


چھوٹو کے باہر نکلتے ہی ۔۔ وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی ستائشی لہجے میں بولا۔۔۔۔ یہ سوٹ آپ پر بہت جچ رہا ہے۔۔پھر اس نے ایک نظر دروازے کی طرف ڈالی۔۔۔۔ ۔۔۔اور پھر میری چھاتیوں کو گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔خصوصاً آپ کا سینہ بہت قیامت ڈھا رہا ہے۔۔۔۔ اپنی چھاتیوں کے بارے میں ایسے ریمارکس سن کر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے شکریہ کہا۔۔۔ میری طرف سے اچھا رسپانس پا کر وہ کہنے لگا کہ ان کی اُٹھان اور بھی بہتر ہو سکتی ہے پھر کہنے لگا۔۔۔۔اچھا یہ بتائیں کہ آپ کی برا سائز کیا ہے؟ تو میں نے اس سے کہا آپ گیس کریں؟ تو وہ میری چھاتیوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ میرے اندازے کے مطابق ۔۔۔آپ کا بریسٹ سائز 38 ہونا چاہیئے۔۔۔ فیضی کی بات سن کر میں بڑی حیرانی سے بولی۔۔۔ تمہارا اندازہ تو بلکل درست ہے۔۔۔تو وہ فخریہ لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ اگر آپ کہیں تو۔۔۔۔۔۔ابھی اس نے اتنی ہی۔۔۔۔ بات کی تھی کہ اس کا چھوٹو۔۔۔ ہاتھ میں کولڈ ڈرنک لیئے دکان میں داخل ہوا۔۔۔ اسے آتے دیکھ کر فیضی بات بدل کر کہنے لگا۔۔۔۔ آپ بوتل پی لو ۔۔۔اس کے بعد آپ کا ناپ ہو گا۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے چھوٹو کے ہاتھ سے بوتل پکڑ کر جلدی جلدی پینے لگی۔ بوتل ختم ہوتے ہی اس نے مجھے اشارہ کیا اور میں پردے کے پیچھے چلی گئی۔۔تھوڑی دیر بعد وہ بھی اندر آ گیا۔۔۔۔ حسبِ معمول اس نے رجسٹر کو پاس پڑے ہوئے سٹول پر رکھا۔۔۔اور گلے سے فیتہ نکال کر میرا ناپ لینا لینے سے پہلے بغیر کچھ کہے میرے سینے پر پڑا ہوا دوپٹہ ہٹا کر بڑی بے تکلفی سے بولا۔۔۔۔ آپ کی دل کش چھاتیوں کا نظارہ کسی بھی بندے کو مارنے کے لیئے کافی ہے۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ فیتے کو میری کمر کے پیچھے لے گیا۔۔۔ اور پرانی ترکیب استعمال کرتے ہوئے۔۔۔مجھے اپنی طرف پش کیا ۔۔۔ چونکہ مجھے اس کی اس ٹِرک کا پہلے سے معلوم تھا ۔۔۔اس لیئے میں اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔۔۔۔تو وہ کچھ کھسیانہ سا ہو کر بولا۔۔۔ سوری۔۔ تو میں نے اس سے کہا کہ آپ نے مجھے ویسے ہی بلا لینا تھا ۔۔۔ یہ ناپ کا ڈرامہ کیوں کیا؟ 


تو آگے سے وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ ناپ کا ڈرامہ نہیں تھا بلکہ سچ مچ ایسا ہی ہوا ہے اور پھر ثبوت کے طور پر مجھے رجسٹر کا وہ صفحہ دکھانے لگا کہ جہاں پر میرا ناپ تھا ۔۔۔ وہ صفحہ دکھانے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔۔بھابھی جی اگر آپ کو یقین آ گیا ہو۔۔۔ تو ناپ شروع کریں۔۔۔ہر چند کہ اس وقت میں خود بھی سیکس آگ میں جل رہی تھی۔۔۔ لیکن اسے ستا کر مجھے مزہ آ رہا تھا اس لیئے میں نے اسے بڑے روکھے انداز میں کہا کہ اوکے آپ میرا ناپ لے لیں ۔۔ میرا موڈ دیکھ کر وہ تھوڑا پریشان اور حیران ہو گیا میرے خیال میں وہ میرے بارے میں سوچ رہا ہو گا کہ یہ عجیب خاتون ہے کبھی اتنا آگے بڑھ جاتی ہے کہ بریسٹ سائز پوچھنے پر بھی خفا نہیں ہوتی اور کبھی۔۔۔۔۔ خیر اس نے بڑے ہی محتاط انداز میں میرا ناپ لینا شروع کر دیا۔۔۔ہر چند کہ اس کے جسم سے اُٹھنے والی مردانہ شہوت انگیز مہک میرے جسم میں ایک ہلچل مچا رہی تھی۔لیکن میں نے خود پر قابو پائے رکھا اور بڑی سیریس ہو کر اس کو ناپ دیتی رہی۔ ۔۔۔ ۔ ۔۔۔ لیکن دوسری طرف محتاط ہونے کے باوجود بھی۔۔۔۔ وہ حرام توپی سے باز نہیں آیا۔۔۔۔ اور ناپ لیتے ہوئے میرے جسم کو ٹٹولتا رہا ۔۔ جس کا مجھے مزہ تو بہت آیا لیکن میں سیریس ہو کر کھڑی رہی۔ اوپری بدن کا ناپ لینے کے بعد مجھے معلوم تھا کہ اب وہ میری شلوار کا ناپ لے گا ۔۔۔ ۔۔۔ اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت میں نے کچھ زیادہ ہی ٹائیٹ ۔۔۔۔ٹائیٹس پہنی ہوئی تھی اس لیئے اس کے اکڑوں بیٹھتے بیٹھتے میں نے نظر بچا کر اپنی ٹائیٹس کے آسن کو کھینچ کر اتنا اوپر کر لیا کہ وہ میری چوت کی لکیر میں کھب سا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے میرا کیمل ٹو (camel toe) ۔۔۔بہت زیادہ نمایاں ہو گیا۔۔ نیچے بیٹھتے ہی اس نے مجھے قمیض اوپر کرنے کو کہا۔۔۔ جو کہ میں نے اوپر کر لی۔۔۔۔۔ قمیض اوپر اُٹھتے ہی اس کی نظر آسن میں پھنسی چوت کی طرف پڑی ۔۔ یہ دیکھ کر وہ چونک سا گیا۔ کہ ٹائیٹس میری چوت کی دراڑ میں اس قدر سختی سے پھنسی ہوئی تھی۔۔۔کہ جس کی وجہ سے میری چوت کی دراڑ نمایاں نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔اور اس کے دونوں لب الگ الگ نظر آ رہے تھے یہ دل کش نظارہ دیکھ کر اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور اس نے میری طرف فیتہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ بھابھی جی اسے وہاں پر رکھیں کہ جس جگہ آپ شلوار باندھتی ہیں۔۔۔ چنانچہ میں نے اس کے ہاتھ سے فیتہ پکڑا ۔۔اور اسے عین اپنی ناف پر رکھ دیا۔۔۔۔ میری اس حرکت پر ۔۔فیضی نے بڑے ہی غور سے میری طرف دیکھا۔۔۔ اور پھر کہنے لگا ۔۔۔ آپ یہاں پر شلوار باندھتی ہو؟ تو میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ کیوں آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟ ۔۔ میرے موڈ کو خوش گوار دیکھ کر وہ بھی مسکرا دیا ۔۔۔ اور فیتے کو میرے ٹخنوں کی اندر والی جگہ پر رکھ کر کچھ اس مہارت سے کھینچا ۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے اس کا فیتہ عین میری چوت کی درمیانی لکیر میں آ گیا۔۔۔ اس کے بعد ۔۔۔۔ اس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا یہیں پر باندھتی ہو نا آپ ؟ تو آگے سے میں نے بھی فیتے کو تھوڑا اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔ کبھی یہاں کبھی وہاں باندھتی ہوں ۔۔ میری بات سن کر۔۔۔۔۔ وہ ایک دم سے مسکرا کر بولا۔۔ آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا۔۔


۔اس پر میں نے نشیلی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔۔ کہ آپ ڈرنے والے لگتے تو نہیں۔۔ اس کے بعد اس نے میری شلوار کا ناپ لیا اور پھر فیتہ پکڑے کے بہانے میری چوت کو ٹچ کر کے بولا ۔۔۔ بہت گرم ہے یہ۔۔۔ تو میں نے آہستہ سے کہا ۔۔آپ اسے ٹھنڈا کر دو۔۔۔ میری بات سن کر اس نے اپنے منہ کو آگے بڑھایا۔۔۔ اور میری تنگ پاجامی کے اوپر سے ہی چوت پر زبان پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ میرے پاس ٹھنڈ ڈالنے والا بہت اچھا آلہ ہے ۔۔ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں کہ آپ کا ٹھنڈ ڈالنے والا آلہ کیسا ہے؟۔۔ میری بات سن کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ فیضی کی قمیض آگے سے کافی اُٹھی ہوئی تھی۔۔ پھر اس نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔اور اپنے تنے ہوئے لن سے میری چوت کی دراڑ میں پھنسا کر گھسا مارتے ہوئے بولا۔۔ بھابھی جی آپ میرے ساتھ اوپر کار خانے میں چلو ۔۔ میں وہاں پر آپ کو اپنا آلہ چیک کراؤں گا۔۔اس پر میں ہولے سے بولی۔۔۔۔۔ اوپر آپ کے کاریگر تو نہیں ہوں گے؟ تو وہ کہنے لگا ۔۔ نہیں وہ گیارہ بجے تک آئیں گے ویسے بھی نیچے کھڑا چھوٹو ہماری نگرانی کرے گا۔۔۔ اور کسی کو بھی اوپر نہیں آنے دے گا۔۔ چھوٹو کا نام سن کر میں نے فیضی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ کہیں یہ فرزند سے بات نہ کر دے ۔۔۔میری بات سن کر وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔اس کی آپ فکر نہ کریں۔۔۔ چھوٹو راز کو راز رکھنے والا بچہ ہے۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی اس نے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈال دیا۔۔۔۔ باجی کی بات سن کر میرا لن جو پہلے ہی تنا کھڑا تھا ۔۔۔اب مزید اکڑ گیا۔۔ چنانچہ میں اُٹھ کر ان کی طرف بڑھنے لگا تو وہ مجھے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔ارے ارے۔۔ سٹوری نہیں سننی ؟ تو میں ان کے قریب پہنچ کر بولا۔۔۔ اسی کو سننے کے لیئے تو آپ کے پاس آیا ہوں ۔۔۔اور میں ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔ میرے لن کو پینٹ میں پھولا ہوا دیکھ کر وہ پینٹ کے اوپر سے ہی اسے سہلاتے ہوئے بولیں۔۔ تمہارے لن کا سائز بھی بہت اچھا ہے۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا پلیز ۔۔۔ ساتھ ساتھ سٹوری بھی جاری رکھیں۔۔۔۔تو وہ کہنے لگیں کہ جیسے ہی اس ظالم نے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈالا ۔۔تو میرے اندر لگی آگ مزید بھڑک اُٹھی۔۔۔۔اور میں نے اپنی زبان کو اس کی زبان کے ساتھ ٹکراتے ہوئے۔۔۔نیچے سے اس کا لن پکڑ لیا۔جیسے اس وقت تمہارا پکڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اور پھر ۔۔۔ اسے دباتے ہوئے بولی۔۔۔ اس وقت اس کا لن بہت سخت ہو رہا تھا۔۔۔ چنانچہ کچھ دیر کسنگ کے بعد ۔۔ اس نے ہی اپنے منہ کو پیچھے ہٹایا۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔ کہ اوپر چلیں؟ تو میں نے ہاں کر دی۔

 


پردے سے باہر نکلتے ہوئے وہ آہستگی کے ساتھ بولا۔۔۔ خود کو تھوڑا نارمل کر لو۔۔ اور خود اس نے لن کو اپنی شلوار کے نیفے میں اڑس لیا۔۔۔ اس طرح ہم نارمل انداز میں چلتے ہوئے باہر آ گئے۔۔ باہر آ کر اس نے رجسٹر کو کاؤنٹر پر رکھا ۔۔۔اور مجھ سے کہنے لگا کہ بھابھی جی آپ جس قسم کے ڈیزائن کی بات کر رہی ہو ۔۔ایسا ایک سوٹ سلائی کے آخری مراحل میں ہے اگر آپ کہیں تو میں آپ کو دکھاؤں؟ تو میں نے اس سے کہا ۔۔ ٹھیک ہے دکھا دیں میری بات سننے کے بعد ۔۔۔وہ چھوٹو کی طرف مُڑا ۔۔۔اور اس سے بولا تم نیچے کا دھیان رکھنا ۔۔۔۔میں زرا بھابھی جی کو ڈیزائن چیک کرا دوں۔۔۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر بولا آپ چلیں میں ابھی آتا ہوں۔۔۔ فیضی کے کہنے پر میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلی گئی۔۔ دیکھا تو اوپر ایک بڑا سا حال تھا جہاں پر سات آٹھ سلائی مشینیں پڑی ہوئی تھیں۔۔ایک طرف ہینگرز پر سلے ہوئے کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔۔۔جبکہ اس حال کے وسط میں ایک صوفہ بھی پڑا ہوا تھا۔۔۔۔ ابھی میں حال کا جائزہ لے رہی تھی کہ فیضی بھی پہنچ گیا۔۔۔ اور آتے ساتھ ہی مجھے پیچھے سے دبوچ کر لن کو میری موٹی گانڈ کی دراڑ کے درمیان لے آیا۔۔۔ ۔۔۔۔پھر کہنے لگی جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میری گانڈ گول اور کافی موٹی ہے اس لیئے اس کا ہاف لن بڑے آرام سے میری گانڈ میں گھس چکا تھا۔۔۔ اس کے لنڈ کو اپنی گانڈ میں محسوس کر کے مجھے ایک عجیب سی لذت محسوس ہو رہی تھی۔۔ جس کی وجہ سے میری گانڈ میں ۔۔۔۔۔۔۔ اسے اپنے اندر لینے کی شدید خواہش جنم لے رہی تھی۔۔۔۔۔سو میں نے مستی میں آ کر اس کے لنڈ کو اپنی گانڈ میں دبانا شروع کر دیا۔۔جس سے خوش ہو کر۔۔۔


۔وہ میرے کان میں بولا۔۔۔ بھابھی آپ کی گانڈ بہت نرم ہے ۔۔اور اس پر آپ کا گانڈ کو کھل بند کرنا بڑا مزہ دے رہا ہے۔۔۔تو میں نے بھی اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔مجھے بھی تمہارے لن کی سختی بہت اچھی لگ رہی ہے۔۔۔۔ ہم کچھ دیر ایسے ہی کرتے رہے۔۔۔ پھر اس نے میری گردن پر کس کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ بھابھی جی آپ صوفے پر بیٹھو تو میں آپ کو اپنے لن کا درشن کرواؤں۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اپنی گانڈ کی دراڑ میں پھنسے ۔۔۔۔۔لن کو باہر نکالا ۔۔۔۔اور صوفے پر جا بیٹھ گئی۔۔۔ اب وہ میرے پاس آیا۔۔۔اور ایک نظر سیڑھیوں پر ڈال کر ۔۔۔۔۔ اپنا آزار بند (نالہ) کھولنا شروع ہو گیا۔۔۔ اور کچھ ہی دیر بعد ۔۔اس نے اپنا آزار بند کھول کر اپنے لنڈ کو میرے سامنے کر دیا۔۔۔باجی کی بات سن کر میں بھی جوش میں آگیا۔۔۔۔۔اور میں نے اپنی پینٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دیئے۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ کیا تم بھی مجھے اپنے ننگے لنڈ کے درشن کروانے لگے ہو؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔ کہ اس میں حرج ہی کیا ہے؟ میری بات سن کر وہ آگے بڑھیں۔۔۔ ۔۔۔اور اپنے ہاتھوں سے میری پینٹ کے بٹن کھولنا شروع ہو گئیں ۔۔۔بٹن کھولنے کے بعد انہوں نے میری پینٹ کو نیچے گرا دیا۔۔۔اور انڈر وئیر کے اوپر سے ہی میرے لن کو چومنا شروع ہو گئیَ ۔۔۔۔۔اس کے بعد ۔۔۔ انہوں نے اپنی زبان کو منہ سے باہر نکالا۔۔۔۔۔ اور میرے پھولے ہوئے لنڈ کو۔۔۔۔۔ انڈر وئیر کے اوپر سے ہی چاٹنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔ پھر انہوں نے انڈروئیر کو بھی اتار دیا۔۔۔انڈر وئیر اترتے ہی میرا لن باہر آ کر کسی ناگ کی طرح لہرانے لگا۔۔۔۔چنانچہ وہ میرے لن کی اُٹھان دیکھ کر بولیں۔۔۔۔ کمال کا لنڈ ہے تمہارا۔۔۔پھر میرے ٹوپے کو منہ میں لے لیا تو میں ان سے بولا ۔۔۔۔ باجی آگے کیا ہوا ؟ تو وہ لن کو منہ سے نکال کر بولیں۔۔۔فیضی ٹیلر کی کہانی جائے بھاڑ میں ۔۔۔ مجھے لن چوسنے دو۔۔۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ باجی ایسا کرتے ہیں کہ پہلے آپ کہانی کا اینڈ کر لیں ۔۔۔۔ اس کے بعد آپ جی بھر کر لن کو چوس لینا۔۔۔۔۔ اور پھدی بھی مروا لینا۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا ۔۔اور کہنے لگیں ۔۔ لیکن میری بھی ایک شرط ہو گی۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ تم اسے پینٹ میں ڈال کر پہلے کی طرح میرے سامنے بیٹھ جاؤ۔۔۔ کیونکہ تمہارے شاندار لن کو دیکھ کر میں اسے اپنے اندر لینے کے لیئے۔۔۔۔۔۔ پاگل ہوئی جا رہی ہوں۔۔۔۔اور اگر دوبارہ میرے سامنے ننگا لن کیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے سٹوری سنانے کی بجائے تمہارے لن پر بیٹھ جانا ہے ۔۔۔ اس پر میں نے جلدی سے لن کو اپنی پینٹ میں واپس ڈالا۔۔۔۔۔ اور ان کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

جوں ہی میں صوفے پر جا کر بیٹھا ۔۔۔تو باجی میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔ فیضی اپنے لن کو میرے سامنے لہرا رہا تھا اور اس کے خوب صورت لن کو دیکھ دیکھ کر میری چوت پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔ پھر میری طرف آنکھ مار کے بولی تم فکر نہیں کرو۔۔ تمہارا لن اس سے زیادہ خوب صورت اور کڑک ہے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولیں۔۔۔۔ میں یہ بات تمہارا دل رکھنے کے لیئے نہیں کر رہی بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ پھر کہنے لگیں ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ فیضی میرے سامنے کھڑا لن کو لہرا رہا تھا۔۔۔۔ اور جسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں لن کی از حد شوقین ہوں ۔۔۔۔ اور ویسے بھی اس کا لن تو تھا بھی بہت کیوٹ ۔۔۔چنانچہ پہلے تو میں اس کے لن کے ساتھ جی بھر کے کھیلی۔۔ لن پر تھوک لگا کر آہستہ آہستہ مُٹھ مارتی رہی۔۔کبھی اس کو دباتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔اسی دوران وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔بھابھی جی میرے لن کو منہ میں ڈالو ناں۔۔۔۔۔۔اس پر میں نے اس کے لن کو اپنے منہ میں ڈالا ۔۔۔اور اسے لولی پاپ کی طرح چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔ بلا شبہ فیضی کے لن کا بہت اچھا ٹیسٹ تھا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے لن سے ہلکی ہلکی مزی بھی نکل رہی تھی ۔۔۔ جو لن کے ٹیسٹ کو دوبالا کر رہی تھی۔ لن چوسنے کے کچھ دیر بعد میں نے اسے منہ سے باہر نکالا اور اس سے کہنے لگی۔۔۔ اب تم میری چوت چوسو۔۔۔یہ کہتے ہی میں نے اپنی پجامی کو تھوڑا نیچے کیا۔۔۔۔اور چوت کو سامنے کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ اپنی ٹانگیں اوپر اُٹھا لیں۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک نظر میری چوت کی طرف دیکھا۔۔۔اور پھر کہنے لگا۔۔۔بھابھی!۔۔۔ کیا شاندار پھدی ہے آپ کی اور پھر۔۔۔۔نیچے بیٹھنے سے پہلے اس نے ایک نظر سیڑھیوں کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر صوفے کے سامنے فرش پر بیٹھ گیا۔۔اور زبان نکال کر ۔۔۔ میری چوت کو چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔وہ بڑی مہارت سے میری پھدی کو چوس رہا تھا۔۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ۔۔ کہ کم از کم دو بار میری چوت نے پانی چھوڑا۔۔۔ چوت چٹواتے ہوئے میری تو ایک دم بس ہو گئی تھی۔۔۔اور میری پھدی میں لن لینے کے لیئے شدید طلب پیدا ہو گئی۔۔۔۔ کچھ دیر تک تو میں نے یہ طلب برداشت کی۔۔۔۔۔ لیکن جب معاملہ حد سے زیادہ بڑھ گیا۔۔۔۔۔ تو میں نے اس کے منہ کو ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی چوت سے پرے ہٹایا۔۔۔۔ اور صوفے پر گھوڑی بنتے ہوئے بولی۔۔۔ اب دیوانہ وار مجھے چودو۔۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرایا ۔۔اور کہنے لگا فکر نہیں کرو بھابھی میں تمہیں دیوانہ وار ہی چودوں گا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ چلتا ہوا میرے پیچھے آ کر رک گیا۔

 


ادھر باجی کے منہ سے اتنی ہاٹ سٹوری سن کر میری بھی بس ہو چکی تھی۔۔۔اس لیئے میں اپنی جگہ سے اُٹھا۔۔۔اور ان کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔ سٹوری ابھی ختم نہیں ہوئی؟ تو اس پر میں پینٹ اتارتے ہوئے بولا۔۔۔ کہانی ختم نہیں ہوئی بجا۔۔۔۔۔ لیکن میری برداشت ختم ہو گئی ہے۔ ویسے بھی اس کے بعد آپ نے یہی بتانا تھا نا کہ اس نے لن چوت میں ڈالا اور گھسے مارنے لگا؟ ۔۔ تو انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ ۔۔ تب میں نے ان سے کہا کہ آپ کے ساتھ یہی کام میں کرنے لگا ہوں۔۔۔۔ اس لیئے آپ بھی کپڑے اتار دو۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں ۔۔۔۔۔ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔۔اتنا کہتے ہی وہ جلدی سے اُٹھیں اور اپنے کپڑے اتار دیئے۔۔ اب ہم دونوں ننگے کھڑے ہو کر۔۔۔۔۔۔ ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔۔۔ پھر میں نے ان کی طرف قدم بڑھایا ۔۔۔اور ان سے بولا۔۔۔ مجھے آپ کے ہونٹ چوسنے ہیں۔۔۔تو وہ مستی سے بولیں۔۔۔ جلدی کر ۔۔۔۔ کہ اس کے بعد میں نے تیرا یہ شاندار لن بھی چوسنا ہے۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ میرے ساتھ گلے لگ گئیں ۔۔۔ان کی تندرست اور بھاری بھر کم چھاتیاں میرے سینے کے ساتھ دب رہیں گئیں۔۔اور میرے لن کو انہوں نے اپنی نرم رانوں میں پھنسا لیا تھا۔۔ اس کے بعد وہ اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں سے ملاتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔جلدی کرو میری پھدی اسے اندر لینے کے لیئے بہت اتاؤلی ہو رہی ہے۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی انہوں نے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈال دیا۔۔ اور جوش سے بھرے ہم دوونوں ایک دوسرے کی زبانیں چوسنا شروع ہو گئے ۔۔۔ میری زبان کو چوستے ہوئے وہ بار بار اپنی دونوں رانوں میں پھنسے میرے لن کو دبائے جا رہیں تھی۔۔۔ اور میں ان کی ریشمی رانوں اور زبان کے بوسے دونوں کو بہت انجوائے کر رہا تھا۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد۔۔۔ انہوں نے میرے منہ سے اپنے منہ کو الگ کیا ۔۔اور کہنے لگی باقی کی کسنگ اور رسم و رواج ابھی رہنے دیتے ہیں کہ میری پھدی تیرے لن کے لیئے دھائیاں دے رہی ہے اور تمہیں پتہ ہے کہ میں اپنی پھدی کی بات پر زیادہ دھیان دیتی ہوں۔۔۔اس پر میں نے ان سے کہا۔۔۔۔۔ کہ آپ کس رسم و رواج کی بات کر رہی ہو ؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔ وہی یار فکنگ سے پہلے ۔۔۔ چھاتیوں کو چوسنا ۔۔ نپلز کو مسلنا۔۔۔۔۔ پھدی چاٹنا ۔۔ اور لن چوسنا وغیرہ وغیرہ یہ سب پھر کسی وقت کر لیں گے ۔۔۔ ابھی تم میرے اوپر آ کر مجھے چودو ۔۔۔ اس پر میں نے ججھکتے ہوئے ان سے کہا ۔۔۔ کہ آپ کے اوپر میں آ تو جاؤں۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے۔۔۔۔۔اگر تھوڑا سا لن چوس لیں تو ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ گھنٹوں کے بل نیچے بیٹھی۔۔۔اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی۔۔۔ ۔۔۔ بس تھوڑا سا ہی چوسوں گی۔۔۔اور اس کے ساتھ انہوں نے پورے لن پر زبان پھیر کر اسے چکنا کیا۔۔۔اور پھر منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔اور جب کافی دیر تک چوستی رہیں۔۔۔

اسی دوران جب انہوں نے لن کو منہ سے باہر نکالا ۔۔تو میں نے ان سے کہا کہ آپ تو کہہ رہیں تھیں کہ بس تھوڑا سا ہی چوسنا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے برعکس آپ نے کافی دیر لگا دی۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں۔۔۔ میں نے تو پھر بھی لن کو منہ سے نکال لیا ہے میری جگہ اگر تم ہوتے تو اسے اپنے منہ میں ہی خلاص کروا لیتے۔۔۔ اس کے بعد وہ سامنے پڑے صوفے پر جا کر سیدھی لیٹ گئیں ۔۔۔اور اپنی ٹانگوں کو کھول کر چھت کی طرف کر کے بولیں۔۔۔اسے میرے اندر ڈال دے۔۔ ان کی بات سن کر میں صوفے پر پہنچ گیا اور ان کی اوپر اُٹھی ٹانگوں کو اپنے کندھوں پر رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر لن کو چکنا کرنے کے بعد۔۔۔ ان کی چوت کے لبوں پر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ میں ڈالنے لگا ہوں ۔۔تو وہ آگے سے وہ شہوت انگیز لہجے میں بولیں۔۔۔۔ جلدی سے۔۔۔ میری چوت پھاڑ دے ۔ان کی بات سنتے ہی ۔۔۔۔ میں نے ایک ذور دار گھسہ مارا ۔۔۔۔اور میرا لن رگڑ کھاتا ہوا ۔۔۔ سیدھا۔۔۔ان کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا۔۔۔ اور پھر اس کے بعد میں نے تواتر کے ساتھ گھسے مارنے شروع کر دیئے اور۔۔۔میرے ہر گھسے پر وہ یہی کہتیں۔۔۔۔ اور زور سے مار۔۔۔ میری چوت کو پھاڑ دے۔۔۔۔ میرے ہر گھسے کا انہیں اتنا مزہ آیا۔۔۔۔ کہ۔۔۔ ۔۔۔۔۔(جوشِ شہوت سے ) ان کے منہ سے سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں اور ۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد۔۔۔۔۔۔۔وہ اونچی آواز میں چلانا شروع ہو گئیں۔۔۔ ہاں ۔۔اوں۔۔۔اوں۔۔۔ میری مار ۔۔۔۔۔ میری پھاڑ۔۔۔۔کے رکھ دے۔۔۔۔۔ تو گھسہ مارتے ہوئے میں ان سے بولا۔۔۔۔ باجی پلیزززززز۔۔۔۔ آہستہ چلاؤ۔۔ ۔آنٹی آنے والی ہوں گی ۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے ایک اور گھسہ مارا ۔۔۔۔۔۔۔تو آگے سے وہ چلاتے ہوئے بولیں۔۔۔ مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔تو ایسے ہی میری چوت کی دھلائی جاری رکھ۔۔۔۔ماما سنتی ہے تو سنتی رہے۔۔ پھر کہنے لگی ڈیڈی سے چدواتے وقت وہ بھی ایسے ہی چلایا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔تو مجھے ایسے ہی چود۔۔۔ باقی کے کا م میں سبنھال لوں گی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ چنانچہ ان کی ہلا شیری پر میں پوری قوت کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔سخت سخت گھسے مارتا رہا ۔۔وہ سسکتی رہیں ۔۔ ۔چلاتی رہیں ۔۔۔۔۔اور میرے لن کو اپنی بچہ دانی سے ٹکرانے کا مزہ لیتی رہیں۔۔۔۔ یہاں تک کہ۔۔۔۔اس طرح کے ۔۔۔۔۔۔گھسے مارتے مارتے ۔۔۔اچانک میرے لن سے منی کا فوارا نکلا۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ان کی چوت میں ہی خلاص ہوتا چلا گیا ۔۔۔ہوتا ۔۔۔۔۔چلا گیا۔۔۔ ہوتا۔۔۔۔۔۔چلا۔ا۔ااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گیااااااااااااا۔ ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گوری میم صاحب

(قسط نمبر7)
اسی شام کی بات ہے کہ میں دعوت میں جانے کے لیئے تیار ہو رہا تھا کہ میرے فون پر بیل ہوئی دیکھا تو آنٹی کا فون تھا سو میں نے فون آن کیا تو رسمی جملوں کے بعد وہ کہنے لگیں کہ بیٹا کیا آپ تیار ہو گئے ہو؟ تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ بس تھوڑی دیر تک ہو جاؤں گا تو اس پر وہ کہنے لگی۔۔ تیار ہو کر ادھر ہی آ جانا کہ اکھٹے ہو کر ان کے گھر جائیں گے چنانچہ حسب الحکم میں تیار ہو کر عدیل کے گھر پہنچ گیا۔۔۔ اور کافی دیر تک بیل بجانے کے بعد جب کسی نے بھی دروازہ نہ کھولا تو میں یہ سوچ کر واپس چل پڑا کہ ہو سکتا ہے وہ لوگ مجھ سے پہلے ہی نکل گئے ہوں۔ ۔چنانچہ ابھی میں چند قدم ہی چلا تھا کہ اچانک پیچھے سے آنٹی کی آواز سنائی تھی ۔۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو وہ دروازے میں کھڑی مجھے واپس آنے کا اشارہ کر رہی تھیں ۔۔چنانچہ جب میں ان کے قریب آیا تو۔۔۔۔۔ اس وقت آنٹی کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا ۔جس کی وجہ سے میں سمجھ گیا کہ جس وقت میں ڈور بیل بجا رہا تھا تو یقیناً اس وقت وہ نہا رہی ہوں گی ۔۔اور ۔۔۔پھر میرے متواتر گھنٹیاں بجانے کی وجہ سے وہ جلدی جلدی کپڑے پہن کر باہر تو آ گئیں تھیں۔۔لیکن تیزی کی وجہ سے وہ اپنے گیلے بدن کو ٹاول سے سکھانا بھول گئیں تھیں ۔۔ جس کی وجہ سے ان کی باریک سی (لان کی) قمیض گیلی ہو کر ان کے گورے بدن کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔۔۔ آنٹی سے دوسری بھول جو کہ ان کی پہلی بھول سے بھی زیادہ سنگین ۔۔لیکن میرے لیئے قابلِ دید تھی اور وہ یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔اسی۔۔۔۔ جلدی کی وجہ سے وہ قمیض کے نیچے برا پہننا بھول گئیں تھیں۔۔۔ اور اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ گیلی قمیض کی وجہ سے ان کی گول گول چھاتیاں اور ڈارک براؤن ( رنگ کے ) موٹے موٹے نپلز بڑے ہی صاف اور واضع طور پر دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔ مجھے یوں اپنی طرف گھورتے دیکھ کر آنٹی سمجھ گئیں کہ دال میں کچھ کالا ہے اور پھر جیسے ہی ان کی نظر اپنی چھاتیوں پر پڑی ( جو کہ اس وقت تقریباً ننگی دکھائی دے رہیں تھیں)۔۔۔۔۔۔ تو اسی وقت ان کے منہ سے "اوہ" کی آواز نکلی اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ چھاتیوں پر رکھے اور پھر مجھ سے یہ کہتی ہوئی اندر کی طرف بھاگ گئی کہ۔۔۔ تم ڈرائینگ روم میں بیٹھو ۔۔۔میں ابھی آئی۔۔۔۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد جب وہ کمرے میں نمودار ہوئیں تو اس وقت انہوں نے سابقہ قمیض کی جگہ ایک اور قمیض پہنی ہوئی تھی۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی گول گول چھاتیوں کو بھی دوپٹے سے ڈھکا ہوا تھا ۔۔۔۔ پچھلی قمیض کی طرح ان کی یہ قمیض بھی کافی پتلی سی تھی لیکن ۔۔۔۔اس دفعہ ان کے مموں کی اُٹھان دوپٹے کے پیچھے غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔ چنانچہ ان کے کمرے میں داخل ہونے پر۔۔۔ میں نے ایک نظر ان کی گول چھاتیوں کی طرف دیکھا اور پھر جان بوجھ کر ایک ٹھنڈی سانس بھر کے بولا۔۔۔ انکل بھی تیار ہو گئے ہیں؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔ ۔۔ انہیں آفس میں ایک ضروری کام پیش آ گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ہمارے ساتھ نہیں جا سکیں گے ۔یہ جان کر کہ ۔۔۔۔انکل گھر پر موجود نہیں ہیں۔۔۔


۔ میں نے ان کی دوپٹے سے ڈھکی گول گول چھاتیوں کی طرف بڑی ہی بھوکی اور گرسنہ نظروں سے دیکھا اور ان سے بولا۔۔۔ آنٹی یہ سوٹ بھی آپ پر بہت جچ رہا ہے لیکن اس سے پہلے والے سوٹ میں آپ غضب لگ رہیں تھیں ۔۔۔میری بات سن کر وہ زیرِ لب مسکرائیں اور پھر کہنے لگیں ۔۔ اچھی طرح سے جانتی ہوں ۔۔۔۔ کہ تم یہ بات کیوں کہہ رہے ہو ۔۔۔۔ تو اس پر۔۔۔ میں نے براہِ راست ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کہ جب آپ جانتی ہیں تو پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے آگے کچھ کہتا۔۔۔ باہر گاڑی کے ہارن کی آواز سنائی دی ۔۔۔ ہارن کی آواز سنتے ہی۔۔۔۔ وہ چونک اُٹھیں۔۔۔۔اور پھر کہنے لگیں میرے خیال میں فرزند آ گیا ہے۔۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ چونکہ ہمارا گھر اس کے راستے میں پڑتا ہے اس لیئے اس نے خود ہی مجھے یہ آفر دی تھی کہ واپسی پر وہ ہمیں لیتا جائے گا۔ اسی اثنا میں دوبارہ اسی ہارن کی آواز سنائی دی۔۔۔ جسے سن کر وہ مجھ سے کہنے لگیں تم جا کر گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔۔۔میں گھر کو لاک کر کے ابھی آتی ہوں ان کی بات سن کر میں نے جان بوجھ کر برا سا منہ بنایا۔۔۔۔۔۔ اور واپس مُڑ کر باہر نکلنے لگا تو انہوں نے پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا کہ سنو ۔۔۔ فریج میں کیک پڑا ہے وہ بھی ساتھ لےتے جانا ۔۔۔چنانچہ میں نے فریج سے کیک لیا اور باہر جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور ہماری گاڑی چل پڑی۔

راستے میں فرزند کے ساتھ گپ شپ جاری رہی ۔ وہ بڑا ہی ڈیسنٹ آدمی تھا۔۔اور اس کے ساتھ بات چیت کر کے بڑا مزہ آتا تھا۔۔۔۔ پتہ ہی نہیں چلا اور باتوں باتوں میں ان کا گھر آ گیا۔۔۔ چنانچہ وہ ہمارے ساتھ ڈرائینگ روم تک آیا۔۔۔۔ اور پھر تھوڑی دیر بیٹھ کر یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا کہ میں فریش ہو کر آتا ہوں ۔ فرزند کے جاتے ہی صائمہ باجی معہ اپنی ساس اور ایک پیاری سی لڑکی کے کمرے میں آ دھمکی ان کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی چنانچہ اندر داخل ہوتے ہی وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بڑی شوخی سے کہنے لگی … لو جناب باقاعدہ ڈنر تو آپ کی خدمت میں کچھ دیر بعد سرو کیا جائے گا لیکن اس سے پہلے تم مشروب پی کر اپنا دل بہلاؤ ۔ ان کی بات سن کر میں نے بھی اسی شوخی کے ساتھ انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ جس کو پی کر میں نے اپنا دل بہلانا ہے ۔۔۔۔۔۔وہ مشروبِ مشرق ہے یا کہ مشروبِ مغرب؟ میری بات سن کر انہوں نے تیوری چڑھائی اور پھر مصنوعی خفگی سے بولیں ارے او ناہنجار لڑکے۔۔۔ تیری یہ ہمت کہ تو اپنی بڑی بہن کے سامنے مشروب مغرب کا نام لے؟ تو اس پر میں نے ان سے کہا کہ باجی جی آپ بلکل غلط سمجھ رہیں ہیں ۔ مشروبِ مشرق سے میری مراد یہ تھی کہ ان گلاسوں میں شربتِ روح افزا ۔۔۔یا شربتِ دلبہار ٹائپ کی کوئی چیز ہے یا پھر مشروبِ مغرب یعنی کوک پیپسی وغیرہ ؟۔۔ میری بات سن کر وہ مسکرا کر بولیں۔۔۔ چونکہ تم نے بات کو بہت اچھا ٹؤسٹ دے دیا ہے اس لیئے میں آج کے دن تمہاری جان بخشی کا اعلان کیا جاتا ہے۔۔ لیکن آئیندہ ایسی گستاخی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے ٹرے کو میرے سامنے کیا تو میں دیکھا کہ گلاس میں پیپسی پڑی تھی سو میں نے ٹرے سے ایک گلاس ا ُٹھایا اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پینا شروع ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم دونوں میں ہلکی پھلکی نوک جھونک بھی ہوتی رہی ۔۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئیں کہ میں کچن میں جا رہی ہوں ان کے جانے کے بعد میری ہونے والی ساس نے میرے ساتھ رسمی گفتگو شروع کی۔۔۔۔۔اور پھر وہ بھی۔۔۔۔ بمعہ آنٹی یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گئیں کہ فرزند آتا ہی ہو گا۔۔۔۔چنانچہ ان کے جانے کے بعد۔۔۔۔ اب کمرے میں ۔۔۔ میں اور میری ہونے والی سالی ثانیہ رہ گئے تھے خواتین کے جاتے ہی وہ کھسک کر میرے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی یہاں پر میں آپ سے ثانیہ کا مختصر تعارف کروا دوں وہ ایک دبلی پتلی اور سمارٹ سی لڑکی تھی اس وقت اس کی عمر 20 یا 21 سال ہو گی ۔اس کے چہرے کا رنگ گندمی تھا آنکھیں بڑی بڑی ۔۔۔۔ اور ان میں ایک عجیب قسم کی کشش تھی جبکہ ثانیہ کی ناک ستواں اور ہونٹ پتلے پتلے سے تھے


ویسے تو دیکھنے میں ثانیہ ایک خوبصورت لڑکی تھی ۔۔ لیکن اس خوب صورتی میں ایک خامی بھی تھی اور وہ یہ کہ اس کی چھاتیاں بہت چھوٹی تھیں۔۔ میرے خیال میں ٹینس بال سے تھوڑی بڑی ہوں گی۔ اس نے جدید تراش خراش کا برینڈڈ سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے سامنے بیٹھتے ہوئے۔۔ اس نے برائے نام دوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا تھا۔۔ جس کی وجہ سے مجھے اس کی چھاتیوں کا اندازہ لگانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی۔۔۔ آنٹی لوگوں کے جانے کے بعد اس نے میرے ساتھ بات چیت شروع کر دی۔۔۔۔اور پہلے تو کافی زنانہ قسم کے سوال کیئے جیسے آپ کو کون سا رنگ پسند ہے؟ پرفیوم کس برانڈ کا استعمال کرتے ہو؟ آپ پینٹ شرٹ شوق سے پہنتے ہیں یا ۔۔۔ شلوار قمیض ؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے اپنے مطلب کے سوالوں پر آ گئی۔۔۔۔اور پے در پے سوالات کرنے شروع کر دیئے یعنی سوالوں کے ریپٹ فائر شروع کر دیئے۔۔۔۔وہ ایسے سوال تھے کہ ان میں سے اکثر کے جواب میں پہلے ہی دے چکا تھا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ جوابات صائمہ باجی نے پہلے سے ہی مجے رٹائے ہوئے تھے۔اس لیئے میں اس کی طرف سے بظاہر بہت ٹیڑھے سوالوں کے جواب بھی بڑے آرام سے دیتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ثانیہ بہت ہی تیز ، شوخ، اور جلد فری ہونے ۔۔۔ یا جلد گھل مل جانے والی لڑکی تھی۔۔۔۔اور اس کی بے باکی کے بارے میں تو آپ لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ بے باقی اس فیملی کی گھر کی لونڈی تھی۔۔۔ یہاں تک کہ کافی دیر سے میں اور ثانیہ ڈرائینگ روم میں اکیلے بیٹھے تھے لیکن کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا تھا۔۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے ہی آپ کو بتا چکا ہوں کہ کچھ ہی دیر میں وہ میرے ساتھ بہت زیادہ فری ہو گئی تھی۔۔۔۔چنانچہ گپ شپ کے دوران اچانک ہی وہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی۔۔ ۔۔۔۔کیا وجہ ہے کہ بھابھی کے ساتھ آپ کی بڑی دوستی ہے؟ اس سے پہلے کہ میں اس بات کا جواب دیتے وہ اگلا سوال داغتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یرے بارے میں آپ کیا جانتے ہو ؟ اس کا سوال سن کر پہلے تو میں حیران رہ گیا۔۔۔۔ اور بنا سوچے اس کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔کہ آپ کا نام ثانیہ ہے اور آپ شاید کسی کالج میں پڑھتی ہو ۔۔۔ میری بات سن کر وہ آنکھیں نکالتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ آپ شاید یہ بھول گئے ہو۔۔۔۔ کہ میرا آپ کے ساتھ ایک اور بھی رشتہ ہے اور وہ یہ کہ میں آپ جناب کی ہونے والی سالی بھی ہوں۔ اس پر میں نے خواہ مخواہ مسکراتے ہوئے کہا کہ ۔۔ جی جی۔۔۔ مجھے معلوم ہے تو وہ ترنت ہی کہنے لگی تو پھر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ تانیہ کی طرف جانے والا ہر راستہ (اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) ادھر سے ہو کر گزرتا ہے ۔۔اس لیئے اگر آپ کو تانیہ کے بارے میں کچھ معلومات چاہئیں یا اگر آپ نے اس کو کوئی پیغام وغیرہ دینا ہے تو بے دھڑک ہو کر مجھے دے سکتے ہیں۔ پھر شوخی بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ۔۔میں آپ کا یہ پیغام نہایت ایمانداری اور ۔۔۔۔۔ تمام تر رازدی کے ساتھ سر انجام دوں گی ۔ تو اس پر میں نے اس سے کہا مسیج کیا خاک دینا ہے جی ۔۔۔ میں نے تو ابھی تک آپ کی بہن کو ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں ہے۔۔ میری بات سن کر وہ اسی شوخی سے کہنے لگی آپ کی اس بات کا میں نے یہ مطلب لیا ہے کہ آپ میری چندے آفتاب چندے مہتاب قسم کی بہن کو دیکھنا چاہتے ہیں۔۔ ۔۔۔یا اس سے ملنا چاہتے ہو؟ 

تو اس پر میں نے دانت نکالتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو آپ کے منہ میں گھی شکر۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ تو پھر حضور ۔۔۔۔ اپنا گھی شکر تیار رکھیئے گا ۔۔۔ کہ آج کسی بھی وقت۔۔۔ میں آپ کو اپنی چندے آفتاب چندے مہتاب بہن کا دیدار کروانے والی ہوں۔۔ پھر اچانک اس باتونی لڑکی نے باتیں کرتے کرتے ایک نظر باہر کی طرف دیکھا اور پھر مجھ سے کہنے لگی۔۔۔۔ زرا اپنا سیل فون تو دکھایئے؟ اس پر میں چونک گیا ۔۔۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔ کہ۔۔۔۔ اسے کیوں مانگ رہی ہو؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ فکر نہیں کریں جناب۔۔۔۔ میں آپ کی فون بُک اور میسجز کو ہر گز نہیں دیکھوں گی۔۔ بلکہ مجھے ایک ضروری کال کرنی ہے۔ اس پر میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل فون نکالا اور اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ کہ بےشک آپ فون بک اور مسیجز دیکھ لو ۔۔۔ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے تو اس پر وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔ارے میں تو مذاق کر رہی تھی ۔۔۔ چنانچہ اس نے میرے ہاتھ سے موبائل لینے سے پہلے ایک نظر پھر باہر کی جانب دوڑائی۔۔۔۔اور پھر ادھر سے مطمئن ہو کر میرے ہاتھ سے فون لے لیا۔۔۔ اور جلدی جلدی کوئی نمبر ملانے لگی۔۔۔۔ نمبر ملانے کے بعد اس نے فون کو ۔۔ اپنے کان سے لگا لیا۔۔۔۔ اور پھر کچھ دیر کے بعد ۔۔اس نے مجھے فون واپس کر دیا۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ ۔۔ کیا ہوا فون بند تھا؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ جی نہیں فون بند نہیں بلکہ آن تھا۔۔ اور بائے دا وے آپ کے فون سے میں نے اپنے فون پر بیل دی تھی اس پر میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ ۔۔آپ نے اپنے فون پر بیل کیوں دی؟ تو جواباً وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔۔وہ اس لیئے جناب کہ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔آپ کی بہن نے تو آپ کا نمبر مجھے کبھی نہیں دینا نہیں تھا اور بھائی سے میں مانگ نہیں سکتی تھی ۔۔۔ اس لیئے آپ کا موبائل نمبر جاننے کے لیئے مجھے یہی طریقہ سوجھا تھا۔۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ آپ نے ویسے ہی مانگ لینا تھا تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ نا بابا میں یہ رسک ہر گز نہیں لے سکتی تھی۔۔۔تو میں نے حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اس میں رسک والی کون سی بات تھی؟ تو وہ طنزیہ لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔۔کیا پتہ آپ کی باجی نے نمبر دینے سے آپ کو منع کیا ہو۔۔

میں اور ثانیہ باتیں کر رہے تھے کہ اسی دوران فرزند اور اس کی امی کمرے میں داخل ہوئیں اور مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگیں ۔۔۔ بیٹا اس نے آپ کو زیادہ تنگ تو نہیں کیا ؟؟ ۔تو میں نے بڑے ادب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔میری بات ختم ہوتے ہی فرزند کہنے لگا کہ زیادہ بھوک تو نہیں لگی؟ تو میں نے جواب دیا ۔۔ کہ نہیں ابھی تو نہیں لگی۔۔۔ تو آنٹی مسکراتے ہوئے بولیں۔ اگر لگی بھی ہے تو تھوڑا ویٹ کر لو کہ ان کے ڈیڈی بس آتے ہی ہوں گے ۔اس کے بعد ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی بیس پچیس منٹ کے بعد انکل بھی گھر پہنچ گئے اور آتے ساتھ ہی۔۔۔ سیدھا میرے پاس آئے اور مجھ سے معذرت کرتے ہوئے بولے۔۔۔ سوری بیٹا ! ایک نہایت ضروری کام کی وجہ سے میں وقت پہ نہ آ سکا ۔۔ پھر آنٹی کی طرف دیکھتے ہوئے بولے تم کھانا لگواؤ میں فریش ہو کر ابھی آیا ۔۔ چنانچہ انکل کی بات سن کر آنٹی یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئیں کہ جی میں ابھی لگواتی ہیں ۔ پھر تھوڑی ہی دیر بعد فرزند مجھے پورے پروٹوکول کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل پر لے گیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو ڈائینگ ٹیبل بھانت بھانت کے کھانوں سے سجا ہوا تھا ابھی میں ڈائینگ ٹیبل کا جائزہ لے رہا تھا کہ اچانک ثانیہ جو میرے ساتھ کھڑی تھی سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ با ادب با ملاحظہ ۔۔۔۔ اس پر میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ کے اشارے سے سامنے دیکھنے کو کہا۔۔۔اس کے کہنے پر جب میں نے ٹیبل کی دوسری طرف دیکھا تو وہاں تانیہ کھڑی تھی۔ تانیہ کو دیکھ کر مجھے ایسا لگا کہ گویا میں ثانیہ کو ہی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ دنوں بہنوں کی فزیک اور شکلیں ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ ملتی تھیں دونوں ہی گندمی رنگت اور سلم باڈی والی لڑکیاں تھیں ۔۔۔۔ دونوں کے ممے چھوٹے تھے۔۔۔۔۔ فرق تھا تو فقط اتنا کہ ۔۔۔ ثانیہ کے برعکس تانیہ کے چہرے اور خاص طور پہ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے ایک عجیب سی ویرانی ٹپک رہی تھی ۔۔ ایک لمحے کے لیئے ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں۔اس کی آنکھوں میں میرے لیئے کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔چنانچہ اس نے خالی خالی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر اگلے ہی لمحے ڈائینگ ٹیبل کی کرسی کو اپنی طرف گھسیٹ ۔۔۔۔۔کر بڑی خاموشی سے اس پر بیٹھ گئی ۔۔۔ اور کھا نا شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔۔وہ اسی خاموشی کے ساتھ اُٹھ کر چلی گئی۔۔۔ مجموعی طور پر تانیہ ایک خاموش اور سنجیدہ لڑکی تھی اس نے محبت کو روگ بنا لیا تھا اور میں نے محسوس کیا کہ اس کے سارے وجود پر اداسی بال کھولے رو نہیں۔۔۔۔۔ بلکہ بین کر رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس اس کی چھوٹی بہن ثانیہ زندگی سے بھر پور ۔۔۔۔۔۔ اور شوخ و چنچل قسم کی لڑکی تھی کھانے کے دوران بھی۔۔۔۔ میری اور اس کی چونچیں لڑتی رہیں ۔۔۔ ڈائینگ ٹیبل پر میں نے نا چاہتے ہوئے بھی صائمہ باجی کے ہاتھ سے بنی ہوئی بریانی کھائی اور طوہاً و کرہاً مجھے اس کی بہت زیادہ تعریف بھی کرنا پڑی ۔ کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ ڈرائینگ روم میں آ کر بیٹھ گئے انکل اور آنٹی کی باتوں سے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنی بچی کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔۔ چائے وغیرہ سے فراغت کے بعد آنٹی اور میں نے ان سے اجازت لی ۔۔۔۔ تو انکل فرزند سے مخاطب ہو کر بولے کہ بیٹا انہیں چھوڑ آؤ۔۔ فرزند ہمیں آنٹی کے گھر تک چھوڑ آیا اس نے مجھ سے بڑی دفعہ کہا کہ میں آپ کو آپ کے گھر تک چھوڑ آتا ہوں لیکن میں نے بہانہ بنایا کہ مجھے انکل سے ایک نہایت ضروری کام ہے۔سو بادلَ نخواستہ وہ مجھے بھی آنٹی کے گھر چھوڑ کر واپس چلا گیا۔۔

اس دعوت کے تیسرے دن کی بات ہے کہ میرے موبائل پر بیل ہوئی دیکھا تو سکرین پر ثانیہ کا نام چمک رہا تھا ۔۔۔ثانیہ کا نام دیکھ کر میں نے جلدی سے فون اُٹھا کر ابھی ہیلو ہی کہا تھا کہ آگے سے اس کی چنچل آواز سنائی دی ۔۔ہائے جیجو! کیسے ہو آپ؟ اس کے بعد رسمی بات چیت کے بعد وہ کہنے لگی کہ پتہ ہے میں نے آپ کو فون کیوں کیا؟ تو میں نے اس کو جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم آپ بتا دو ۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔ تانیہ کی ایک ویری بیسٹ فرینڈ ہے بلکہ ہم دونوں کی مشترکہ دوست ہے رمشا ۔۔ ایک ماہ ہو گیا وہ اپنی کزن کی شادی کے سلسلہ میں فیصل آباد گئی ہوئی تھی اور کل ہی واپس آئی ہے اور جب اسے یہ معلوم ہوا کہ آج کل آپ اور تانیہ کے رشتے کی بات چل رہی ہے تو اس وقت سے میڈم نے فرمائیش کر کر کے میرے کان میں درد کر دیا ہے کہ وہ آپ کو دیکھنا چاہتی ہے اس کے بعد وہ کہنے لگی میں نے اس بلا سے جان چھڑانے کی بڑی کوشش کی ہے۔۔۔۔ لیکن یہ بی بی تو جونک کی طرح مجھ سے چمٹ گئی ہے اور بار بار ایک ہی بات کہے جا رہی ہے کہ اس نے آپ سے ملنا ہے سو میرے ہونے والے۔۔۔۔ پیارے جیجو مجھ پر تھوڑا سا رحم کریں اور اس بلا سے میرا پیچھا چھڑائیں۔۔۔اس کی اتنی لمبی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ مجھے کیا کرنا ہے؟ تو وہ ترنت ہی کہنے لگی آپ نے ہماری بہنوں جیسی دوست کو اپنا دیدار کرانا ہے اور وہ بھی ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔ اس کے بعد وہ لجاجت بھرے لہجے میں بولی ۔۔ بھائی پلیززززززززززز ۔۔پلیزززززززززززززز ۔ آپ جلدی سے آ جائیں نا۔۔۔تو اس پر میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔میں آ تو جاؤں ۔۔۔۔لیکن محترمہ کیا آ پ بتانا پسند کریں گی کہ مجھے آنا کہاں ہے؟ تو وہ کہنے لگی۔۔ رمشا کا گھر آپ کے آفس سے تھوڑا ہی دور ہے آپ چاہیں تو پیدل بھی آ سکتے ہیں اس کے بعد وہ ایک دفعہ پھر اسی لجاجت سے بولی جلدی سے آ جائیں نا ۔اس دفعہ میں نے اس سے قدرے تیز لہجے میں کہا کہ کچھ بتاؤ گی کہ میں نے کہاں آنا ہے ؟ میری بات سن کر تانیہ بولی۔۔۔۔ یہ لیں رمشا کے ساتھ خود بات کر لیں یہ آپ کو پتہ سمجھا دے گی۔۔ اس کے ساتھ ہی فون پر ایک نہایت نرم اور میٹھی سی آواز سنائی دی ۔۔ہیلو جناب ۔۔۔ کیسے ہیں آپ ؟ اور پھر رسمی باتوں کے بعد اس لڑکی نے اپنا پتہ سمجھایا ۔۔ اس کے گھر کا اڈریس سمجھنے کے بعد میں نے اس سے کہا کہ میرے حساب سے تو آپ کا گھر شیل پمپ کے ساتھ والی گلی میں بنتا ہے تو وہ اپنی سریلی آواز میں کہنے لگی جی آپ درست سمجھے ۔۔۔ جہاں پر شیل پمپ والی گلی ختم ہوتی ہے وہیں اُلٹے ہاتھ پر ہمارا گھر ہے اور اس گھر کی مین نشانی باڑھ ہے ۔۔ جو اس کے چاروں طرف لگی ہوئی ہے وہ سریلی لڑکی جو کہ تانیہ کے بچپن کی دوست بتائی جا رہی تھی اسی سریلی آواز میں۔۔۔ مزید کہنے لگی آپ کے آفس سے ہمارا گھر ہارڈلی 20 منٹ کی واک پر ہو گا ۔اس لیئے اگر آپ ابھی آفس سے چل پڑیں تو ٹھیک 20 منٹ کے بعد آپ ہمارے گیٹ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔۔ اس لڑکی جسے ثانیہ رمشا کے نام سے پکار رہی تھی کی آوا ز بہت نرم اور سریلی تھی۔۔۔اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ جس لڑکی کی آواز اس قدر سریلی ہے اس کی شکل۔۔ یہ سوچ آتے ہی میں ۔۔۔۔ نے اس نرم اور سریلی آواز والی لڑکی سے کہا کہ میں ٹھیک 20 منٹ کے بعد آپ کے گھر ہوں گا۔

 


چنانچہ اگلے بیس کی بجائے آدھے گھنٹے کے بعد ۔۔۔ میں تانیہ اور ثانیہ کی بیسٹ فرینڈ رمشا کے گھر کے باہر کھڑا تھا یہ ایک پرانے طرز کی کوٹھی تھی۔۔۔۔ جس کے چاروں ا طراف بڑی سی باڑھ لگی ہوئی تھی جبکہ اس پرانی طرز کی کوٹھی کے شروع میں ہی بڑا سا گیٹ تھا۔۔۔۔ اور اس گیٹ کے اس پار برآمدے میں کار پورچ بنا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ گیٹ کے دائیں طرف کھڑکی بھی تھی جس پر جالی لگی ہوئی تھی۔۔۔ جیسے ہی میں ان کے گیٹ کے سامنے پہنچا تو اندر سے ثانیہ کی چنچل آواز سنائی دی ۔۔۔ہائے جیجو!!! میں نے آواز کی سمت دیکھا تو مجھے کھڑکی میں ایک ہیلولہ سا نظر آیا۔۔۔ اور پھر ۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ غائب ہو گیا۔۔ ۔۔اور اس سے آدھے منٹ کے بعد تانیہ ایک لڑکی کے ساتھ نمودار ہوئی۔۔۔۔ تانیہ کے ساتھ آنے والی۔۔۔۔ دوسری لڑکی یقیناً رمشا تھی۔۔ ۔۔۔۔یہ ایک گوری چٹی مناسب قد اور متناسب جسم والی لڑکی تھی جس نے نظر کی عینک لگائی ہوئی تھی۔ ثانیہ کی طرح یہ بھی کافی ماڈرن لگتی تھی۔۔ اس نے بڑی فٹ قسم کی ٹائیٹس ، اور اس کے اوپر ایک لمبی سی قمیض پہنی ہوئی تھی اور اس قمیض کے چاک اس قدر بڑے تھے کہ جس کی وجہ سے اس کی رانوں کی گولائی کے ساتھ ایک سائیڈ سے اس کی گانڈ کی موٹائی بھی صاف نظر آ رہی تھی۔ اور اس موٹی گانڈ کو دیکھ کر میرے ٹھرکی من میں کچھ کچھ ہونے لگا تاہم بظاہر میں نے شرافت کا لبادہ اوڑھے رکھا۔۔۔۔۔ اور مسکین صورت بنائے کھڑا رہا۔۔۔۔ہاں یاد آیا ۔۔۔۔۔ اس کی قمیض کا گریبان بہت کھلا ۔۔۔ بلکہ کھلا ڈھلا تھا۔۔۔ ثانیہ کے برعکس اس نے دوپٹے کے نام پر ایک چھوٹی سی دھجی لی ہوئی تھی اور اس کے سینے پر پڑا ۔۔۔یہ چھوٹا سا کپڑا۔۔۔۔ اس کی بھاری چھاتیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔ اس نے آگے بڑھ کر گیٹ کھولا اور بڑی بے تکلفی سے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔ ہائے میں رمشا ہوں۔۔۔۔پھر ثانیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے بولی اس۔۔۔ کی تھوڑی کم لیکن تانیہ کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔۔رمشا کا بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر ایک لمحے کے لیئے میں جھجھک سا گیا ۔۔۔۔

پھر میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔۔۔۔اور بڑی گرم جوشی سے ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔۔۔اور پھر میں نے بھی اسی بے تکلفی کے ساتھ اس سے پوچھا کہ ۔ یہ تو بتائیں کہ ثانیہ سے کم دوستی میں کیا راز پہناں ہے؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ راز یہ ہے جی کہ میری اصل اور پکی دوست تو تانیہ ہی ہے اور ہم ایک ہی سکول کالج میں پڑھتی رہیں ہیں۔۔اور چونکہ اس کے ساتھ دوستی کی وجہ سے میرا ان کے گھر بہت زیادہ آنا جانا تھا اس لیئے مجبوراً مجھے اس آفت کے ساتھ بھی دوستی کرنا پڑی۔۔ رمشا کی بات سن کر ثانیہ بظاہر غصے میں بولی۔۔۔۔بھاڑ میں جاؤ۔۔۔۔ مجھے تم سے کوئی دوستی نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ رمشا جواب میں کچھ کہتی۔۔۔ کہ اندر سے ایک خوب صورت اور باوقار سی خاتون نمودار ہوئیں جن کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ رمشا کی والدہ ہیں ۔۔ آتے ساتھ ہی انہوں نے دونوں لڑکیوں کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ بے شرمو کچھ۔۔۔ شرم کرو گھر میں مہمان آیا ہے اور تم آپس میں لڑے جا رہی ہو۔۔اس کے بعد وہ میری طرف مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔۔ سوری بیٹا۔۔۔ ان دونوں کی باتوں کا برا نہیں منانا۔۔ کیونکہ یہ ان کا روز کا معمول ہے ۔۔اور پھر مجھے اپنے ساتھ اندر لے گئیں۔ پرانے طرز کی اس کوٹھی کے ڈرائینگ روم کو بڑے جدید طرز سے سجایا گیا تھا۔۔ مجھے وہاں بٹھانے کے بعد انہوں نے رسمی گفتگو کے بعد انہوں نے میرا انٹرویو لیا شروع کر دیا تھوڑا سا انٹرویو لینے کے بعد ۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ گئیں کہ میں تمہار ے لیئے چائے کا بندوبست کرتی ہوں ان کے جاتے ہی رمشا نے میرے ساتھ باتیں شروع کر دیں گئیں ۔ وہ اس قدر فرینڈلی تھی کہ اس سے بات چیت کرتے ہوئے مجھے ایک لمحے کے لیئے بھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم فرسٹ ٹائم مل رہے ہیں۔ ہماری گپ شپ کے دوران ہی آنٹی چائے لے آئیں ۔۔چائے پینے کے بعد کر میں ان سے اجازت لے کر اپنے آفس آ گیا۔ مجھ پر رمشا کی بے تکلف اور فرینڈلی شخصیت نے بڑا اچھا اثر ڈالا تھا۔۔۔ 
دوسرے دن عین لنچ ٹائم ثانیہ کا فون آگیا۔۔۔ اور جیسے ہی میں نے ہیلو کہا تو حسب معمول وہ تیزی سے بولی۔۔۔ پہلے یہ بتائیں کہ آپ نے دوپہر کا کھانا کھا لیا ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ کھایا تو نہیں البتہ کھانے کی تیاری کر رہا ہوں ۔۔۔تو اس پر ثانیہ جلدی سے کہنے لگی۔۔۔ کھایئے گا بھی مت۔۔۔۔ کہ آپ کے لیئے آنٹی نے بڑی دھانسو قسم کی بریانی بنائی ہوئی ہے اس لئے آپ جلدی سے یہاں آ جائیں ۔ اس کی بات سن کر میں ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ یار میں ایسے کیسے آ سکتا ہوں؟ تو آگے سے وہ کہنے لگی ۔۔بھائی یہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ آنٹی اور رمشا کی طرف سے کہہ رہی ہوں ۔ اگر یقین نہیں تو آنٹی سے بات کر لیں ۔۔اگلے ہی لمحے آنٹی کی شفیق آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ ان کی آواز سن کر میں نے نوٹ کیا کہ ۔۔۔ رمشا کی طرح ان کی آواز میں بھی بہت نغمگی تھی۔۔۔۔ وہ کہہ رہیں تھیں کہ بیٹا ثانیہ بتا رہی تھی کہ آپ کو بریانی بہت پسند ہے ۔۔۔ تو اتفاق سے آج ہمارے ہاں بھی بریانی پکی ہوئی ہے۔۔اور حسنِ اتفاق سے تمہاری طرح ہم نے بھی ابھی تک کھانا نہیں کھایا ۔۔۔اس لیئے جلدی سے آجاؤ ۔۔ مل کر کھاتے ہیں تھوڑی سے رد و کد کے بعد میں نے ہاں کر دی۔۔۔۔ اس کے باوجود کہ بریانی مجھے زہر لگتی تھی میں فقط ان لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ کے لالچ میں چلا گیا۔۔۔ بریانی بہت تیکھی تھی اور آنٹی نے مرچ مصالحہ کچھ زیادہ ہی ڈالا ہوا تھا جسے کھا کر مجھے دن میں تارے نظر آ گئے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے محض ان لڑکیوں کی خاطر نہ صرف یہ کہ بریانی کھائی بلکہ اس کی جی بھر کے تعریف بھی کی۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد آنٹی کچھ دیر ہمارے ساتھ گپ شپ کرتی رہیں۔۔۔۔ پھر یہ کہتے ہوئے اُٹھ کر چلی گئیں کہ میں قیلولہ کرنے جا رہی ہوں۔۔۔ آنٹی کے جانے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے اچانک ہی رمشا مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ سنا ہے آپ کا دوست (گوری) میم لایا ہے؟ تو میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔میرے سر کا اشارہ دیکھ کر اس نے صوفے پہ پہلو بدلا۔۔۔۔اور بڑے اشتا ق سے بولی ۔۔۔ وہ دیکھنے میں کیسی ہے ؟ تو میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ بہت ہی خوبصورت اور لاکھوں میں ایک ہے۔ میری بات سن کر رمشا نے پتہ نہیں کیوں اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری ۔۔۔۔ اسی اثنا میں ثانیہ بھی اشتیاق بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ کہ آپ کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے؟ میرا مطلب ہے وہ زیادہ مغرور تو نہیں؟ 


تو اس پر میں نے بطور مزاح جھوٹ بولتے ہوئے کہہ دیا کہ میری تو اس کے ساتھ اچھی خاصی دوستی ہے پھر اس کے بعد میں جھوٹ کی گانڈ مارتے ہوئے بولا۔۔۔۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری عدیل سے زیادہ اس گوری میم کے ساتھ دوستی ہے۔۔۔۔۔ میری بات سن کر دونوں لڑکیوں نے ایک دوسرے کی طرف بڑی معنی خیز نظروں سے دیکھا۔۔۔۔اور پھر رمشا کہنے لگی ۔۔۔ کیا وہ آپ کے ساتھ کبھی باہر گئی ہے؟ تو میں نے پھر جھوٹ کی ماں بہن ایک کرتے ہوئے کہا کہ باہر جاتے ہوئے اکثر عدیل ساتھ ہی ہوتا ہے لیکن ایک دفعہ جب اسے امریکن سفارت خانے میں کوئی کام تھا تو وہ میرے ساتھ اکیلی ہی گئی تھی۔۔اور واپسی پر میں نے اسے اسلام آباد ہوٹل میں کھانا بھی کھلایا تھا ۔۔ میری بات سن کر رمشا تھوڑا جھجھک کر بولی۔۔۔ کیا آپ اسے ہمارے گھر لا سکتے ہو ؟ تو میں نے ایک بار پھر سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ مسلہ ہی کوئی نہیں۔۔میری بات سن کر اس کافر حسینہ کا چہرہ کھل اُٹھا۔۔ ۔۔۔پھر اس کے بعد دونوں لڑکیوں نے گوری کے بارے میں سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔۔۔۔ اور میں جھوٹ پہ جھوٹ بولتا گیا۔۔۔۔ لیکن اس دوران میں اس بات پر غور کرتا رہا کہ آخر یہ لڑکیاں گوری میں اس قدر دل چسپی کیوں لے رہیں ہیں؟ ۔۔۔۔۔ چنانچہ ایک موقعہ پر جب ثانیہ نے بڑے ہی اشتیاق کے ساتھ پانچویں یا چھٹی بار مجھ سے یہ سوال کیا کہ وہ گوری دیکھنے میں کیسی لگتی ہے؟ تو اچانک مجھے ایک شرارت سوجھی اور میں نے پورن موویز میں آنے والی ایک ایک بہت ہی خوبصورت اور لزبین فلموں سے شہرت حاصل کرنے والی ایک گوری ادا کارہ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ۔۔۔۔۔۔وہ گوری میم ہو بہو فلاں (پورن مویز والی) ادا کارہ کی کاپی ہے۔۔۔ میری بات سن کر ثانیہ بے اختیار کہنے لگی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ پھر تو عدیل کی بیگم بہت خوب صورت اور سیکسی ہو گی۔۔۔بات کرتے کرتے اچانک اس نے رمشا کی طرف دیکھا ۔۔تو اس کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا ۔۔۔ چنانچہ اس کی شکل دیکھتے ہی ۔۔۔۔۔ ثانیہ کو محسوس ہو گیا کہ وہ کچھ غلط کہہ گئی ہے اور پھر تھوڑا غور کرنے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی اسے سمجھ آئی کہ وہ کیا کہہ گئی ہے۔۔۔تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔۔اور اس نے فوراً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پراسرار لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔ میری بات سنتے ہی اس نے رمشا کی طرف دیکھا ۔۔۔اور تیزی سے بولی ۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔قسم سے میں نہیں۔۔۔۔۔ یہ لیسبو ہے۔۔اتنی بات کرتے ہی وہ تقریباً بھاگتی ہوئی ڈرائینگ روم سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف ثانیہ کی بات سن کر میں نے شرارت بھری نظروں سے رمشا کی طرف دیکھا تو حیرت ، غم اور غصے (اور شاید شرم) کی وجہ سے اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔۔۔۔۔لیکن جیسے ہی ہماری نظریں چار ہوئیں۔۔۔۔۔۔تو وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے بولی۔۔ ثانیہ جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔۔ اس کے لہجے سے صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔۔چنانچہ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ لزبین ہونے میں کوئی ہرج نہیں ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولی۔۔۔۔اب میں کیا کہوں؟ تب میں نے ۔۔ اس خوب صورت اور سیکسی لڑکی کو مزید کھولنے کے لیئے سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا ۔۔۔ ۔۔ پتہ ہے ۔۔۔۔۔ اس دن عدیل مجھ سے کہہ رہا تھا کہ شادی سے پہلے اس کی بیوی بھی لزبین تھی۔۔۔ میری بات سن کر رمشا کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔۔۔لیکن وہ منہ سے کچھ نہیں بولی۔۔۔۔

لیکن میں نے اپنی ٹرائی جاری رکھی۔۔۔۔۔ اور رمشا کو نارمل کرنے کے لیئے ۔۔۔ میں نے گوری میم کے بارے میں کافی جھوٹ بولے۔۔۔ آخرِ کار میری محنت رنگ لائی ۔۔۔اور وہ نارمل ہونا شروع ہو گئی۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں نے محسوس کیا کہ اب وہ نارمل ہوتی جا رہی ہے تو میں نے ٹاپک چینج کر دیا۔۔۔۔اور اس کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ گوری پاکستانی لڑکیوں کے حسن پر بڑی فدا ہے۔وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی کہ پاکستانی لڑکیاں بہت خو ب صورت ہوتی ہیں۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے اس ہاٹ ٹاپک پر ڈھکے چھپے الفاظ میں کافی ساری بات کی۔۔۔۔ چونکہ معاملہ سیکس اور وہ بھی لیزبین سیکس کا تھا۔۔۔۔ اس لیئے دھیرے دھیرے وہ میری باتوں میں دل چسپی لینا شروع ہو گئی۔۔۔اور جب میں نے محسوس کیا۔۔۔۔ کہ اب وہ پوری طرح میری ٹرانس میں آ چکی ہے ۔۔۔ تو جان بوجھ کر ایک ضروری بہانہ کر کے وہاں سے اُٹھ بیٹھا ۔ میرے اندازے کے برعکس اس نے مجھے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔۔۔اور۔۔۔۔ مجھے چھوڑنے کے لیئے گیٹ تک آئی۔۔۔لیکن پھر بھی دوران گفتگو میں نے محسوس کیا کہ میرا تیر نشانے پر لگ چکا تھا۔۔۔اور وہ میرے اس جھوٹ پر یقین کر گئی تھی کہ میں اس کی ملاقات گوری سے کروا سکتا ہے۔۔۔۔ چنانچہ جب میں اسے الوداع کہہ کر ۔۔۔۔۔ جانے لگا ۔۔ تو وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔ سنیئے۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سن کر میں پلٹ کر بولا۔۔۔۔۔جی رمشا ۔۔ کیا بات ہے؟ تو وہ رک رک کر کہنے لگی ۔۔۔۔ میں گوری سے ملنا چاہتی ہوں۔۔۔۔ رمشا کی بات سن کر میرا لن ۔۔۔اور من دونوں خوشی سے چلائے۔۔۔۔ "وہ مارا" ۔۔۔۔۔ لیکن میں اپنی اندرونی کیفیت کو چھاتے ہوئے ۔۔۔ اس سے بولا۔۔۔۔۔ کیوں اس کے ساتھ بھی افئیر کرنا ہے؟ اور پھر اس کا جواب سنے بغیر سرسری سے لہجے میں بولا ۔۔۔۔ آج کل تو وہ شہر سے باہر گئی ہوئی ہے۔۔۔۔۔ جب واپس آئے گی تو آپ سے ضرور ملواؤں گا۔۔۔ اتنی بات کہہ کر میں تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے۔۔۔ گیٹ سے باہر نکل گیا۔

 


اس کے بعد دو تین دن تک رمشا سے کوئی بات نہیں ہوئی ہاں اسی دن شام کو ثانیہ کا فون آ گیا تھا۔۔۔ وہ کافی پریشان لگ رہی تھی رسمی باتو ں کے بعد ۔۔۔ وہ بڑی سنجیدگی سے کہنے لگی ۔۔۔سوری بھائی۔۔۔ دوپہر میں رمشا کے بارے میں فضول قسم کی بکواس کر گئی تھی۔ جبکہ رمشا ایسی لڑکی ہر گز نہیں ہے۔۔۔۔ ۔آپ پلیز اس بات کا بھائی سے تزکرہ نہ کیجیئے گا۔۔۔۔۔۔ چونکہ عام دنوں کی نسبت آج وہ بہت سنجیدگی سے گفتگو کر رہی تھی ۔۔اس لیئے مجھے ایک شرارت سوجھی۔۔ اور میں نے اسے تنگ کرنے کی غرض سے کہا کہ۔۔ شکر کرو کہ تمہارا فون آ گیا تھا ورنہ میں ابھی فرزند صاحب کو فون کرنے والا تھا۔۔۔میرا بلف کام کر گیا ۔۔۔۔اور بظاہر تیز لیکن اندر سے سادہ سی ثانیہ مزید پریشان ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ آپ بھائی جان کو کیوں فون کرنے والے تھے؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان سے کہنا والا تھا کہ آپ اپنی بہن کو کس کے گھر بھیجتے ہو وہ تو۔۔۔اس پر وہ میری بات کو کاٹتے ہوئے پریشانی سے بولی کہا۔۔ نا۔۔۔ کہ وہ ایسی لڑکی نہیں ہے ۔۔۔پھر بڑی لجاجت سے کہنے لگی ۔۔ آپ پلیززززززز ۔۔۔ ایسا نہ کریں ۔۔ تو میں نے اس سے کہا ٹھیک ہے میں ایسا نہیں کرتا لیکن میری ایک شرط ہو گی۔۔۔ تو وہ حسبِ عادت بلا سوچے سمجھے کہنے لگی مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے بس آپ بھائی سے بات نہ کرنا۔۔۔۔۔ تو میں اسے کہا سوچ لو۔۔۔تو وہ کہنے گی۔۔ سوچ لیا۔۔۔ بس آپ اس بارے بھائی جان سے بات نہ کرنا۔۔۔۔ تو میں کہا۔۔۔ اوکے میں تمہارے بھائی سے۔۔۔۔ کوئی بات نہیں کروں گا۔۔۔ میری بات سن کر وہ خوشی سے بولی۔۔۔ ڈن ۔۔ اور میں نے بھی ڈن کہہ دیا۔۔۔ اس کے بعد وہ مجھ سے بولی اب بتائیں کہ آپ کی شرط کیا ہے؟ تو میں نے اس سے کہا کہ آپ کو اس بارے میں کسی مناسب وقت پر بتاؤں گا۔۔۔۔۔لیکن وہ بتانے پر بضد رہی ۔۔ چونکہ اس وقت تک میں نے شرط کے بارے میں سوچا نہ تھا ۔۔۔ اس لیئے ۔۔۔میں اسے گولی دیتا رہا۔۔۔۔ اور کوئی آدھے گھنٹے کی مغز ماری کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے مطمئن ہو کر فون رکھ دیا۔۔اس کے فون بند کرنے کے بعد میں رمشا کے بارے میں سوچنے لگا۔ کہ اس سیکسی لڑکی سے ملاقات کے لیئے کیا چکر چلایا جائے ۔۔ لیکن اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔۔۔ یہ اس ملاقات سے تیسرے دن کی بات ہے کہ میں آفس کے ایک کام کے سلسلہ میں قریبی مارکیٹ گیا ہوا تھا۔۔۔ کام نبٹانے کے بعد میں واپس دفتر کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک مجھے رمشا نظر آ گئی۔۔ 


اس نے گرین کلر کی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔ اور اس وقت وہ ایک مشہور برانڈڈ سٹور کے اندر جا رہی تھی۔۔۔ ۔۔ اس کو یوں اکیلا دیکھ کر میں وہیں پر رک گیا ۔۔۔ پہلے خیال آیا کہ اس کے پیچھے پیچھے دکان کے اندر چلا جاؤں ۔۔۔ لیکن مجھے یہ بات مناسب نہ لگی چنانچہ دوسرے آپشن کے طور پر میں وہیں کھڑا ہو گیا۔۔۔ اور پلان یہ تھا کہ جیسے ہی وہ دکان سے باہر نکلے گی میری اس کے ساتھ "اتفاقاً" ملاقات ہو جائے گی۔۔۔ چنانچہ پروگرام طے کرنے کے بعد ۔۔۔ میں ایک سائن بورڈ کی آڑھ میں کھڑا ہو کر ۔۔۔۔اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔بلاشبہ کسی کا انتظار کرنا ایک مشکل امر ہے ۔۔۔ لیکن مقصد اگر "خاص" ہو تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔۔۔ چانچہ کوئی ایک گھنٹہ کے بعد۔۔ وہ دکان سے باہر نکلی۔۔۔اس کے ہاتھ میں دو تین شاپنگ بیگ تھے۔۔اتفاق سے جس طرف میں کھڑا تھا وہ بھی اسی طرف آ رہی تھی چنانچہ یہ دیکھ کر میں بھی پروگرام کے مطابق بظاہر بے دھیانی سے اس کی طرف چل پڑا۔۔۔ اور اس کے قریب پہنچ کر ایسا شو کیا کہ جیسے ہم "اتفاق" سے مل گئے ہیں چا نچہ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے خوشی اور حیرت بھری آواز میں کہا ۔۔۔ ہیلو رمشا کیسی ہو آپ ؟ تو وہ مسکرا تے ہوئے بولی۔۔۔ کچھ شاپنگ کے سلسلہ میں آئی تھی۔ پھر کہنے لگی آپ کدھر؟ اس دن کے بعد آپ نے رابطہ ہی نہیں کیا۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا کہ بس تھوڑا بزی تھا ۔ ۔۔پھر اس سے کہنے لگا۔۔۔۔۔ میرا دل جوس پینے کو چاہ رہا تھا اس لیئے میں ادھر آ گیا۔۔پھر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے اس کہا۔ ۔۔۔۔ کہ کیا آپ میرے ساتھ جوس پینا پسند کرو گی؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ آپ اتنے خلوص کے ساتھ کہہ رہے ہو تو میں بھلا انکار کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔ ۔


اس کی بات سن کر میں نے اس کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ پکڑے اور۔۔۔ اسے ساتھ لے کر اس مارکیٹ کے ایک مشہور آئیس کریم پارلر پہنچ گیا۔۔ جہاں پر جوس بھی ملتا تھا۔ وہاں جا کر ہم ایک چھوٹے سے فیملی کیبن میں بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔ وہاں بیٹھتے ہی اس نے اپنے سینے سے دوپٹے کو ہٹایا ۔۔۔ اور ۔۔۔ بولی۔۔۔ آج بہت گرمی ہے ۔۔ ادھر جیسے ہی اس نے اپنے سینے سے دوپٹے کو ہٹایا تو میری نظریں اس کی دودھ کی دکان پر پڑ گئیں۔۔۔ اس کی قمیض کا گلا اس قدر کھلا تھا۔۔ کہ جس کی وجہ سے کی اس کی بھاری بھر کم چھاتیاں آدھی ننگی نظر آ رہی تھیں۔۔۔ چنانچہ ۔۔۔ لکڑی کے اس چھوٹے سے کیبن میں ۔۔ اس کی آدھی ننگی چھاتیوں کو دیکھ کر میری نیت خراب ہونے لگی۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف ۔۔۔وہ جس بے نیازی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اپنی چھاتیوں کا مختلف زاویوں سے نظارہ کروا رہی تھی۔۔۔۔ اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ شاید وہ مجھے لبھا۔۔۔ یا پھر تڑپا رہی تھی۔۔۔ جبکہ اس کی قمیض سے جھانتیا ہوئی خوب صورت چھاتیوں کو دیکھ کر میں بہت گرم ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔اس سے باتیں کرتے کرتے اچانک ہی میرے زہن میں ایک خیال آیا ۔۔ اور پھر میں نے فوراً ہی اس خیال پر عمل کرتے ہوئے کہا کہ کل میری عدیل اور گوری میم سے بات ہوئی ہے وہ کچھ دنوں تک واپس آ رہے ہیں چنانچہ جیسے ہی گوری یہاں پہنچی ۔۔۔۔ آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی۔ اس الٹرا ماڈرن اور آذاد خیال لڑکی کے بارے میں پہلی دفعہ میرا تیر نشانے پر لگا۔۔(یا شاید وہ میری طرف سے پہل کی منتظر تھی)۔ چنانچہ میرے منہ سے گوری کا ذکر سنتے ہی اس کی آنکھوں میں جنسی بھوک اُمڈ آ ئی اور وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے کے ساتھ ساتھ شہوت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔یہ تو بہت اچھی خبر ہے ۔۔موقعہ چنگا دیکھ کر میں نے اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک بات تو بتاؤ۔۔۔ آپ گوری کو " اس بات " پر آمادہ کیسے کرو گی؟ تو وہ مجھے گرسنہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بڑی شوخی سے بولی ۔۔۔۔اس بات کو چھوڑ یں ۔۔۔۔ہم ایسے کاموں میں بڑے ماہر ہیں۔۔۔ آپ ایک دفعہ اس کو لے تو آؤ۔۔۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ ۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ کہ آپ اب تک کتنی لڑکیوں کے ساتھ "تعلق" بنا چکی ہو۔۔۔ میری بات سن کر وہ ایک دم سے چونک اُٹھی ۔۔۔اور پھر سنبھل کر کہنے لگی۔۔۔۔ کوئی خاص نہیں۔۔۔ ثانیہ کی بچی نے آپ کے ذہن میں میری بڑی غلط تصویر بنا دی ہے ۔۔۔اتنی دیر میں باہر ہلکی سی کھانسی کی آواز سنائی دی۔۔۔ پھر اس کے چند سیکنڈز کے بعد پردہ ہٹا ۔۔ کیبن میں داخل ہونے والا ویٹر تھا۔۔ جبکہ دوسری طرف اس کی آلارمنگ کھانسی کی آواز سنتے ہی رمشا اپنے سینے کو دوپٹے کے ساتھ ڈھک چکی تھی۔۔۔۔ ویٹر کے آتے ہی ہم نے اسے آرڈر لکھوا دیا۔۔۔۔ آرڈر لکھنے کے بعد وہ یہ کہتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گیا کہ آرڈر پلیس کرنے میں پندرہ بیس منٹ لگ جائیں گے۔۔۔ویٹر کے جاتے ہی رمشا نے ایک بار پھر سے دوپٹے کو سینے سے ہٹا کر الگ رکھ دیا۔(جس سے مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ وہ یہ سب مجھے لبھانے کے لیئے کر رہی تھی )۔۔۔ چنانچہ ویٹر کے جاتے ہی میں نے اس سے پوچھا۔۔ 

اچھا یہ بتائیں کہ آپ نے اب تک کتنی لڑکیوں کو سیٹ کیا ہے؟ تو وہ ہنس کر بولی ۔۔ یقین کریں بعض کو تو سیٹ کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی۔۔۔ بس ایک اشارے سے۔۔۔۔ وہ پکے ہوئے پھل کی طرح جھولی میں آن گرتی ہیں۔۔اس پر میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔ اس کی وجہ ہماری گُڈ لک۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ثانیہ ٹھیک ہی کہہ رہی تھی کہ آپ پکی لیسبو ہو۔۔۔۔ تو آگے سے وہ بولی نہیں یار ۔۔۔ہاں کبھی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ اب میں اتنی پکی لیسبو نہیں رہی۔۔۔۔ جتنی ثانیہ نے بتایا تھا۔۔۔اس پر میں آگے بڑھا اور میز پر دنوں کہنیوں کو ٹکا کر بولا ۔۔ تو آپ کتنی لیسبو ہیں؟ اس پر اس نے ایک نظر میری گستاخ اکھیوں کی طرف دیکھا جو کہ اس کی چھاتیوں پر گڑھی ہوئیں تھیں ۔۔۔اور پھر بے تکلفی سے بولی۔۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک میں واقعی ہی ایک پکی لیسبو تھی لیکن پھر ایک کزن کے سمجھانے پر میں "دونوں سمت" چلنا شروع ہو گئی ہوں ۔اس کی بات سن کر میں نے اس چھوٹی سی میز کے نیچے سے اپنے پاؤں کو اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔ ۔۔۔اور اس کے پاؤں کے ساتھ ہلکا سا ٹچ کرتے ہوئے بولا۔ ۔۔ کیا آپ بتا سکتی ہو۔۔۔ کہ وہ عظیم ہستی کون تھی ؟ جس نے آپ کا دھیان ہم جیسوں کی طرف مبذول کیا؟۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں نے اس کے پاؤں کو ہلکا سا ٹچ کیا تو اس کے جسم نے ایک جھرجھری سی لی۔۔ ۔۔۔۔۔اور وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ ہے ایک ۔۔ تب میں نے میز پر رکھے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔۔ پھر بھی ؟۔۔۔ اس نے ایک نظر میری گستاخی کی طرف دیکھا۔۔۔اور پھر اسے نظر انداز کرتے ہوئے کہنے لگی وہ میری کزن ہے اس کا نام انوشہ ذوالفقار ہے اور وہ فیصل آباد رہتی ہے اور وہیں ایک ہسپتال میں نرس لگی ہوئی ہے۔ تب میں نے اس کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے کہا کیا آپ نے اس کے ساتھ بھی سیکس کیا ہے؟ ادھر میں نے محسوس کیا کہ میرے منہ سے لفظ سیکس کا نام سن کر اس بولڈ ۔۔۔۔اور بیوٹی فل لڑکی کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا۔۔۔ اس لیئے وہ کچھ دیر خاموش رہی۔۔۔ جبکہ اس دوران میں اس کے خوبصورت ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے ۔۔بڑی سیکسی آواز میں بولا۔۔۔۔۔ بتائیں نا پلیزززز۔۔۔۔۔ میری شہوت بھری آواز سن کر ۔۔۔۔ اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔۔۔۔ اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔ کسنگ تو میں نے اس سمیت اپنی تقریباً ساری دوستوں کے ساتھ کی ہوئی ہے۔۔ لیکن یہ میرے ساتھ اس حد تک نہیں گئی کہ جیسے آپ لیزبین فلموں میں دیکھتے ہو۔۔۔۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ ۔۔۔۔تو پھر ۔۔۔ وہ آپ کے ساتھ کہاں تک گئی ہوئی ہے؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ اس نے میرے ساتھ ٹنگ کسنگ کی ۔۔۔ اور۔۔۔۔ میں نے اس کی چھاتیاں چوسیں۔۔۔ تو اس پر میں نے اس آدھی ننگی چھاتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ کیا آپ کی طرح اس کی بھی ایسی ہی شاندار چھاتیاں ہیں؟ تو وہ قدرے شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔۔ اس کے بریسٹ میری چھاتیوں سے بھی زیادہ اچھی اور فٹ ہیں۔۔۔۔۔ اس پر میں نے اس سے اگلا سوال پوچھا۔۔۔( جو کہ پہلے سوال سے بھی زیا دہ ہاٹ تھا )۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ ۔۔۔ آپ نے اس کی نیچے والی چیز نہیں چوسی؟ میری بات سن کر وہ ایک لمحے کے لیئے ہچکائی۔۔۔۔۔۔پھر میرے اصرار پر کہنے لگی۔۔۔ اس نے بس تھوڑی سی دیر کے لیئے۔۔۔۔۔ چوسنے دی تھی اب کی بار میں نے ڈائیریکٹ پھدی کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔کیا اس نے بھی آپ کی چوت چوسی تھی؟ ۔۔۔۔ میری بات سن کر اس کی آنکھوں میں واضع طور پر شہوت کے لال ڈورے دکھائی دیئے۔۔۔۔ ۔۔اور وہ کھل کر بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں یار ۔۔۔ بس میں نے ہی اس کی پُسی لِک کی تھی۔۔تو میں نے اس سے پوچھا کہ اس کی پھدی کیسی تھی؟ تو وہ شہوت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔انوشہ کی پھدی نہیں بلکہ ایک دم بھوکی شیرنی تھی۔۔۔۔۔ جو ایک دفعہ شکار کو قابو میں کر لے تو اس کی چیخیں نکلوا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔پھر ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔اس کی پھدی بالوں سے پاک اور۔۔۔۔اس کے ہونٹ باہر کو نکلے ہوئے تھے اس کی پُسی لپس کھولو ۔۔۔۔۔تو دیکھنے پر ۔۔۔۔۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے کوبر ا سانپ پھن پھیلائے کھڑا ہو ۔۔۔ہاں اس کا دانہ بہت موٹا تھا۔۔۔جسے منہ میں لے کر چوسنے کا ایک الگ ہی مزہ آیا تھا ۔۔۔۔لیکن اس ظالم نے میری پسی پر بس کسنگ کی تھی۔۔ چوسی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ ۔ اس پر میں اس کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔ کہ اس کی جگہ اگر میں ہوتا تو آپ کی خوب صورت چوت کو چاٹ چاٹ کر بے حال کر دیتا ۔۔۔تو وہ ہنس کر بولی۔۔

 


تم نے اپنی سیکسی باتوں سے پہلے ہی میرا برا حال کیا ہوا ہے۔ اس پر میں اس کے ہاتھ سہلاتے ہوئے بولا۔۔ کیسے؟ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ خود ہی چیک کر لو۔۔۔۔۔ اس کی آفر سن کر میں نے اپنے پیروں میں پہنا جوتا اتارا ۔۔اور ایک دفعہ پھر۔۔۔۔۔۔ میز کے نیچے سے اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں لے گیا۔۔ میرے پاؤں کو اپنی ٹانگوں کے بیچ میں محسوس کرتے ہی وہ کرسی پر کھسک کر آگے ہو گئی۔۔اور میں نے ۔۔۔ اپنے پاؤں کا انگھوٹھا اس کی چوت پر رکھ دیا۔۔۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔اس وقت اس کی چوت بہت گیلی ہو رہی تھی۔۔۔ یہ دیکھ کر میں انگھوٹھے کو اس کی پھدی پر رگڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ رمشا تمہاری پھدی تو لیک کر رہی ہے ۔۔۔۔ تو وہ میرے ۔۔۔ انگھوٹھے پر اپنی پھدی کا دباؤ بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ تمہارے اس کا کیا حال ہے ؟ تو میں نے بھی اس سے کہا ۔۔۔۔خود چیک کر لو۔۔ وہ کہنے لگی ۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن۔۔پہلے تم اپنے پاؤں کو واپس کرو۔۔۔ تو میں نے اس کی پھدی پر رکھے انگھوٹھے کو واپس کھینچ لیا اور خود کھسک کر کرسی کے کنارے پر آ گیا۔ اس وقت میری حالت یہ ہو رہی تھی کہ میرا لن شلوار میں اکڑا کھڑا تھا۔۔اور اس کی چوت کی طرح میرے لن سے بھی مزی ٹپک رہی تھی۔۔گویا کہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی تھی۔۔۔ ۔ دوسری طرف اس نے اپنی جوتی اتاری ۔۔اور پھر میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنے ننگے پیروں کے درمیان رکھا اور پھر اپنے پیروں کو اوپر نیچے کرتے ہوئے بولی۔۔۔ اُف ف ف ۔۔ تمہارا کتنا بڑا ۔۔۔اور سخت ہے۔۔۔ تو میں نے اس سیکسی لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔ تمہیں پسند آیا۔۔؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ میرا بس نہیں چل رہا ورنہ میں نے ابھی ۔۔۔۔ تم کو بتانا تھا کہ مجھے تمہارا کیسا لگا ہے۔۔۔۔ وہ کچھ دیر تک۔۔۔اپنے پاؤں سے کی مدد سے میرے لن پر مساج کرتی رہی۔۔ پھر اس نے اپنے پاؤں کو وہاں سے ہٹا لیا ۔۔اور کہنے لگی کاش اس کیبن کی جگہ تم میرے بیڈ روم میں ہوتے۔۔۔اتنی دیر میں باہر سے اسی مخصوص کھانسی کی آواز سنائی دی اور اس آواز کے سنتے ہی ہم دونوں نارمل ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔ حسبِ توقع چند سیکنڈز کے بعد کیبن کا پردہ ہٹا۔۔۔۔۔۔آنے والا ویٹر تھا اس نے ہمارے سامنے جوس رکھا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔۔ اس کے باہر نکلتے ہی میں رمشا سے بولا۔۔۔اچھا یہ بتاؤ۔۔۔کہ انوشہ نے تمہاری خوبصورت چوت کو کیوں نہیں چوسا؟ تو وہ کہنے لگی اس لیئے کہ وہ مردوں کی سخت شوقین تھی۔۔۔

اس لیئے جب بھی ملتی ہے۔۔۔۔ مجھے یہی درس دیتی ہے کہ۔۔۔۔عورت کے برعکس۔۔۔۔ مرد کے ساتھ سیکس کرنے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے اس کے لن پر زبان پھیرنے کا اپنا ہی ٹیسٹ ہوتا ہے۔۔۔اور اس کے لن کو منہ میں لے کر چوسنے سے نشہ سا ہو جاتا ہے۔۔۔ چونکہ وہ میری بیسٹ فرینڈ اور کزن تھی اس لیئے۔۔ آہستہ آہستہ میں اس کی باتوں پر کان دھرنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔ ۔۔ اور پھر ایک دن جب اس نے اپنے ایک دوست کے ساتھ کیئے ہوئے سیکس کا قصہ سنایا تو اسے سن کر میں بہت زیادہ ہاٹ ہو گئی۔۔۔۔۔ اور یہ قصہ سن کر پہلی دفعہ میری پھدی نے بھی ایک لن کا تقاضا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔ اس کی سٹوری والی بات سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اس سے کہا کہ کیا آپ اپنی دوست کا وہ قصہ مجھ سے شئیر کر سکتی ہو۔۔۔۔ کہ جسے سن کر آپ بھی لنڈ کی طرف مائل ہو گئیں تو وہ کہنے لگی ضرور سناؤں گی۔۔ اسی دوران اپنی آمد کی اطلاع بزریعہ کھانسی دے کر ویٹر کیبن میں ڈاخل ہو گیا۔ چونکہ اس وقت تک ہم دونوں جوس پی چکے تھے چنانچہ اس نے میرے سامنے بل رکھ دیا۔۔۔ میں نے اس کو بل معہ بھاری ٹپ دی ۔۔ تو وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔۔اس کے جاتے ہی رمشا بھی اپنی جگہ سے اُٹھی اور مجھ سے کہنے لگی چلو یار چلتے ہیں ۔۔تو میں نے اس سے کہا انوشہ کی کہانی کدھر گئی؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی ۔۔۔ وہ میں تم کو فون پر سنا دوں گی۔۔پھر اس نے مجھے فون کرنے کا وقت بتایا ۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے آگے بڑھ کر میرے ہونٹوں کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو جوڑ دیا۔۔۔ مینگو جوس پینے کے بعد ۔۔۔ اب میں رمشا کے نرم اور لذت سے بھر پور۔۔۔ ہونٹوں کا جوس پی رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔جو کہ مینگو جوس سے ہزار درجہ بہتر اور ٹیسٹ میں بہت اعلیٰ تھے۔۔۔

 


وعدے کے مطابق ٹھیک گیارہ بجے رات جب میں نے اس کو فون کیا تو وہ میرا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔۔ ہیلو ہائے کرنے کے بعد۔۔ہم دوپہر کو ایک دوسرے کے ساتھ کی ہوئی چھیڑ چھاڑ کی باتیں کر کے مزہ لینے لگے۔۔موقع دیکھ کر میں نے اس سے پوچھا ۔۔ کہ آپ کو میرا لن کیسا لگا ؟۔۔۔۔ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ میری جان مجھے تیرا موٹا اور سخت لن بہت پسند آیا ہے اس لیئے گوری سے پہلے میرا شکار تم ہو گئے۔۔۔ پھر کہنے لگی تم کو میری پسُی کیسی لگی؟ تو میں نے اس سے کہا۔۔۔ اور مجھے بھی تیری گرم اور گیلی پھدی بہت پسند آئی ۔۔۔ اس لیئے مجھے تیری چوت چاہیئے تو وہ ہنس کر بولی۔۔۔ میرا بھی یہی دل کر رہا ہے کہ میں تمہیں ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔۔۔ پھدی دے دوں اور ۔۔۔تم اپنے اس موٹے ڈنڈے کے ساتھ اس کی خوب دھلائی کرو۔۔۔۔ پھر وہ خود ہی کہنے لگی لیکن یہ ابھی ممکن نہیں ۔۔ جیسے ہی ماما کہیں آگے پیچھے ہوئی۔۔۔۔ تو میں تمہیں کال کر وں گی ۔۔۔۔اور تم نے سارے کام چھوڑ کر آ جانا ہے ۔اس کی بات سن کر میں نے ایک سرد آہ بھری ۔۔۔۔اور اس سے بولا۔۔۔۔ وہ دن پتہ نہیں کب آئے گا۔۔۔ فی الحال تم مجھے اپنی کزن کی سیکس سٹوری سناؤ۔۔۔ ۔۔ پھر ہنستے ہوئے بولی۔۔ رئیلی یہ میری کزن جس کا نام انوشہ ذوالفقار ہے ۔۔۔ کی ایک سچی سیکس سٹوری ہے جسے سن کر ایک کٹٹر لیزبین لڑکی مردوں کی طرف بھی مائل ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔اس کے بعد رمشا کہنے لگی۔۔۔۔ انوشہ کو فیس بک کا بڑا شوق تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ جہاں اکثر وہ لڑکوں کے ساتھ سیکس چیٹ کیا کرتی تھی۔ ۔۔ اسی طرح مختلف لڑکوں کے ساتھ چیٹ کرتے ہوئے اسے عمران مل گیا۔ پھر کہنے لگی اس سے آگے کی داستان تم کلامِ انوشہ بزبانِ انوشہ سنو!

عمران ایک ڈینسٹ لڑکا تھا اس کی عمر 29 سال تھی اور وہ اچھا خاصہ صحت مند قسم کا لڑکا تھا۔ اس کا قد پانچ فٹ اور آٹھ انچ کے قریب ہو گا وہ مجھے فیس بک پر چلتے چلتے مل گیا تھا ایک دن میری آئی ڈی پر اس کی فرینڈز ریکوئیسٹ آئی ۔۔ میں نے اس کی پرفائل دیکھی تو وہ مجھے اچھا لگا ۔۔ سو میں نے اسے اپنی فرینڈز لسٹ میں ایڈ کر لیا۔۔۔۔ اور یوں میری اس کے ساتھ چٹ چیٹ شروع ہو گئی۔۔۔ اسے لڑکیوں کے ساتھ چیٹ کرنے کا سلیقہ آتا تھا۔ ۔ ہوتے ہوتے میری اس کے ساتھ بڑی گہری دوستی ہو گئی۔۔۔ عمران کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کبھی بونگی نہیں مارتا تھا بلکہ بڑی رسپیکٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ چونکہ مجھے سیکس چیٹ کرنے کا بہت شوق تھا ۔۔۔اس لیئے جلد ہی میری اس کے ساتھ سیکس چیٹ بھی شروع ہو گئی۔۔۔۔ سیکس چٹ کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ وہ رول پلے بہت اچھا کرتا تھا ۔۔۔ ایک ایک ایکٹ کی ایسی دل کش منظر نگاری کرتا تھا کہ مجھے اکثر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ سب حقیقت میں ہو رہا ہو۔۔۔۔۔ اس کی چیٹ پڑھ کر مجھے بڑی فیلنگز آتی تھیں اتنی زیادہ کہ بعض دفعہ تو میں بنا فنگرنگ کے ہی ڈسچارج ہو جاتی تھی ۔۔۔ چنانچہ اس کی یہ چیز مجھے بھا گئی ۔۔اور میں من ہی من میں اس کے ساتھ سیکس کرنے کے لیئے مچلنے لگی۔۔لیکن مسلہ یہ تھا کہ وہ پاکستان سے باہر ہوتا تھا۔۔۔اس دوران ہماری دوستی اس قدر بڑھ گئی کہ ہم نے اپنی اپنی اصل تصویریں بھی شئیر کر لیں۔۔ ۔۔۔۔اور پھر فون پر بھی باتیں ہونے لگی۔اس کی آواز اتنی پُراثر اور سیکسی تھی کہ اب ہم لوگوں نے فون سیکس بھی کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ فون سیکس کر کر کے اب میرے اندر۔۔۔۔۔ اس کا لن لینے کی تڑپ مزید بڑھنا شروع ہو گئی۔۔ ہم اکثر ہی ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کا پروگرام بناتے تھے لیکن مسلہ پھر وہی تھا کہ وہ ملک سے باہر ہوتا تھا اس لیئے ایک دم سے اس کا ملنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن پھر ایک دن وہ پاکستان آ گیا۔ میں فیصل آباد میں رہتی تھی جبکہ وہ لاہور کا رہنے والا تھا۔۔۔ لیکن اس کا بھی حل نکل آیا وہ یوں کہ اس کی ایک خالہ فیصل آباد میں رہتی تھی چنانچہ وہ ان سے ملنے کے بہانے فیصل آباد آ گیا اور ہماری ملاقات ایک ریسٹورنٹ میں ہوئی اس ملاقات میں ۔۔۔۔میں اپنی ایک دوست کو بھی ساتھ لے گئی تھی۔۔ اس نے بڑا زبددست لنچ کروایا اور اس دوران اس نے سیکس کے بارے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔۔۔۔ ہاں لنچ کے بعد جب ہمیں چند لمحے تنہائی کے میسر آئے تو اس نے "نائٹ پروگرام " کے بارے میں پوچھا۔۔۔ تو میں نے اسے رات ہسپتال آنے کا بولا۔ چنانچہ وہ ٹھیک وقت پر ہسپتال پہنچ گیا۔۔ اس نے جین کے اوپر آف وہائیٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی جس میں وہ بہت سمارٹ لگ رہا تھا۔۔ اسے دیکھ کر۔۔۔اور آنے والے وقت کا تصور کر کے میری چوت خود بخود کھل بند ہو رہی تھی۔۔۔ چنانچہ چائے پینے کے بعد میں نے اپنی ساتھی کولیگ کو ۔۔جو کہ میری ہمراز بھی تھی۔۔ خیال رکھنے کا بولا ۔۔۔اور اس کو ساتھ لے کر نرسنگ روم میں چلی گئی۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے کمرے کو لاک کیا۔۔۔چونکہ ہم دونوں کا شہوت سے برا حال تھا ۔۔۔اس لیئے اندر داخل ہوتے ہی ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایسے لپٹ گئے کہ جیسے “ٹچ بٹنوں کی جوڑی ”۔۔

میں عمران کے مضبوط بازؤں کے حصار میں تھی۔۔میرا سر اس کے فراخ سینے پر ٹکا ہوا تھا ۔ اور میرے دل کی دھڑکن دھک دھک کر رہی تھی اسی دوران وہ مجھ پر جھک کر بولا۔۔ ایک بات کہوں جان! تو میں نے اس کہا ۔۔۔ بولو !۔۔تو وہ میرے گال کو چوم کر بولا۔۔۔۔ڈارلنگ ۔۔ تم اپنی تصویر سے بھی زیادہ خوب صورت ہو۔۔ تو میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔۔ تم بھی تو کچھ کم نہیں ہو۔۔۔ پھر وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔اجازت ہو تو دوستی کی پہلی کس کر لوں؟ تو میں نے شوخی سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ اس میں اجازت لینے والی کون سی بات ہے آج کی رات تمہیں پوری اجازت ہے۔۔تو وہ میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔دوستی کا پہلا کس ان خوب صورت ہونٹوں کے نام۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے کر بڑے پیار سے چوسنے لگا۔۔۔ مجھے بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ اور مزے کے عالم میں۔۔۔۔ میں اس کے ساتھ مزید چمٹ گئی تبھی مجھے اس کی پینٹ کا ابھار اپنی رانوں پر محسوس ہوا ۔۔۔اس کے لن کی سختی محسوس کرتے ہی میری پھدی سے پانی کا ایک قطرہ ٹپک گیا۔۔۔۔۔اور میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ابھار والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔اور پینٹ کے اوپر سے ہی اسے دبانا شروع ہو گئی۔ جبکہ دوسری طرف کسنگ کے ساتھ ساتھ اس کا دوسرا ہاتھ میری باہر کو نکلی ہوئی نرم و ملائم گانڈ پر تھا اور کسنگ کے ساتھ ساتھ وہ اس پر بھی ہاتھ پھیرے جا رہا تھا اپنی گانڈ پر ہاتھ کا لمس مجھے بہت مست کر رہا تھا ۔اور میں مزے کے مارے ہلکا ہلکا کراہ رہی تھی۔۔۔پھر کچھ دیر بعد اس نے میری گانڈ سے ہاتھ ہٹایا اور میرے جسم کو ٹٹولنا شروع ہو گیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ جبکہ میں نے مست ہو کر اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی۔۔۔ جسے اس نے بڑی بے تابی کے ساتھ چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ زبان چوستے چوستے اس نے میرے منہ سے اپنے منہ کو ہٹایا اور کہنے لگا۔۔۔ انوشہ ڈارلنگ تم بہت زبردست فگر کی مالک ہو ۔۔۔ مجھے پتہ ہوتا کہ تمہار ا ایسا مست اور سیکسی فگر ہے تو میں نے کب کا پاکستان آ جانا تھا۔تو میں نے شرارت سے کہا۔۔ آ کر کیا کرنا تھا جناب نے؟۔۔۔ تو وہ شہوت سے بولا۔۔۔۔۔ تجھے چود نا تھا۔۔تیری پھدی مارنی تھی۔۔۔ اس کی بات سن کر میں مست ہو گئی اور میں نے عمران کا لن پکڑ کر دباتے ہوئے بولی۔۔ ۔۔ پینٹ کے اوپر سے ہی تمہارا لنڈ اتنی پھنکاریں مار رہا ہے جب میرے اندر جائے گا تو جانے کیا غضب ڈھائے گا اور کہا میری جان مجھے ایسے چودنا جیسے پورن مویز میں ہیرو ہیروئن کو چودتے ہیں۔۔۔۔

 


میری بات سن کر عمران نے شہوت بھری نظروں سے مجھے دیکھا ۔۔۔۔اور پھر اس کا ہاتھ میری شلوار کی طرف سرکنے لگا۔۔ اپنی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھتے دیکھ کر میری چوت میں سرسراہٹ سی ہونے لگی۔۔۔۔ اور میں اس کے ہاتھ کی مومنٹ کو بڑے غور سے دیکھنے لگی۔۔۔اس کا ہاتھ سرکتے سرکتے آخر اپنی جائے مخصوصہ پہنچ گیا۔۔ اس نے اپنے ہاتھ کو میری پیاسی چوت پر رکھ دیا۔۔۔ اور اس وقت پوزیشن یہ تھی کہ عمران کا ایک ہاتھ میری کمر کے گرد حمائل تھا جبکہ اس کا دوسرا ہاتھ میری چوت پر دھرا تھا۔۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ میری پیاسی چوت کو سہلانے لگا۔۔ اور میں عمران کی آنکھوں میں دیکھنے لگی جس میں اس وقت بلا کی مستی چھائی ہوئی ۔۔۔ میری چوت کو سہلاتے ہوئے ۔۔۔۔۔ وہ اپنے لنڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ تم بھی اسے پکڑو نا ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس کے لنڈ کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔تو وہ کہنے لگا ایسے نہیں میری جان ۔۔۔ پینٹ کے اندر سے پکڑو۔۔۔ سو میں نے اس کے پینٹ کی زپ کھولی اور ۔۔۔۔ انڈروئیر میں ہاتھ ڈال کر اس کے لن کو باہر نکالا۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤ۔۔۔یہ ایک براؤن کلر کا لمبا ۔۔اور خاصہ موٹا لنڈ تھا اسے پکڑ کر میری مٹھی بھر گئی۔۔۔ اس کے لنڈ کی خاص بات اس کا پھولا ہوا ٹوپا تھا۔۔۔ وہ اتنا کیوٹ تھا کہ جی کرتا تھا کہ میں اسے کھا جاؤں۔۔۔۔ میں نے اس کے تنے ہوئے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔دوسری طرف وہ میری چوت کو مسلسل سہلا ئے جا رہا تھا ۔۔۔اور وہ میری پھدی کو اس قدر مہارت کے ساتھ سہلا رہا تھا کہ مجھے ایسی فیلنگز آ رہیں تھیں کہ جیسے کسی نے میری چوت پر انگار رکھ دیئے ہوں۔۔چوت سہلاتے ہوئے اس نے مجھے قمیض اوپر کرنے کو کہا۔۔۔اور جیسے ہی میں نے قمیض اوپر کی ۔۔۔تو میر ی چھاتیاں ننگی ہو کر اس کی آنکھوں کے سامنے آ گئیں۔۔

میری ننگی چھاتیوں کو دیکھتے ہی وہ کہنے لگا۔۔۔شاندار۔۔۔ تیرے ممے بہت شاندار ہیں۔۔۔تو میں نے اس سے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔انہیں چوسو۔۔۔۔۔تو وہ نیچے جھکا ۔۔۔۔۔اور میری چھاتی کو چوسنا شروع ہو گیا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف اس کا کھردرا ہاتھ میری مخملی چوت پر آگ لگا رہا تھا۔۔۔۔ میں آدھی ننگی،
قمیض سے چھاتیاں باہر نکالے اس سے اپنے ممے چسوا ۔۔۔ اور اس کا لن سہلا رہی تھی۔۔ اور اب وہ میری شلوار میں ہاتھ دیئے۔۔۔۔ میرے پھولے ہوئے۔۔۔۔دانے کے ساتھ کھیل رہا تھا اور میں اس کے لوڑے اور بالز کو سہلا رہی تھی۔۔۔ اب میری چوت انتہائی گیلی ہو گئی تھی چنانچہ چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو میری چوت کا گیلاپن جب کچھ زیادہ ہی لگنے لگا.تو اس نے اپنے گیلے ہاتھ کو میری شلوار سے باہر نکالا اور سارا گیلا پن میری چھاتیوں پر لگا کر بولا۔۔ میری انوشے ذوالفقار! اب میں تیری چوت کو اپنے لنڈ سے چود کر اس کی ساری پیاس بجھا دوں گا۔۔۔۔تو. میں نے
بھی جوش میں آکر کہا، "آج میں بھی اپنی پیاسی چوت کو تیرے لنڈ سے چدوا کر ہی

سانس لوں گی ۔۔لیکن سے پہلے میری چوت چاٹ۔۔۔۔۔ میری بات سن کر عمران نیچے جھکا ۔۔۔اور شلوار کے اوپر سے ہی میری چوت کو کس کرنے۔۔۔۔۔ اور اس کے لبوں پر ہلکا ہلکا کاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔. میں اس کی یہ بے تابی محسوس کر کے انجوائے کر رہی تھی۔۔۔جبکہ وہ بھی میری طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔ چوت پر ہلکا ہلکا کاٹ رہا تھا. مزے کی وجہ سے چوت سے پانی نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔ پھر میں نے ہاتھ بڑھا کر خود ہی اپنی شلوار اتار دی۔۔۔۔ تو وہ میری بالوں سے پاک ننگی چوت کو دیکھ کر بولا۔۔۔ "ہائے کیا خوب صورت نظارہ ہے! کیا مست چوت ہے تیری! " تب وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ انوشہ میری رنڈی ۔۔۔۔میری جان! تیری چوت کو بھی میں ایسے ہی چوسوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے تھوڑی دیر پہلے تیرے ہونٹوں کو چوسا تھا۔۔۔۔ " اتنا کہتے ہی وہ پھر اپنے منہ کو میری چوت کی طرف لے گیا اور میری ہموار
بغیر بالوں والی چوت پر اپنے ہونٹوں سے چومنے لگا جس سے مجھے بہت سرور ملا۔۔۔اور میں نے مستی کے عالم میں اس سے پوچھا۔۔ کہ تمہیں میری چوت کیسی لگی؟
تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا ۔۔۔تیری پھدی فٹ بھوکی شیرنی کی طرح ہے.تو میں نے اس سے کہا میری پھدی کی اور تعریف کرو نا پلیز۔۔ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔تیری پھدی بہت خوبصورت ایک دم گرم اور۔۔ لنڈ کی پیاسی ہے اس کے دونوں لب کھولو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوبرا پھن پھیلا کے کھڑا ہو ۔۔ تیرا دانہ مست اور پھدی کے اوپر کسی پہرے دار کی طرح تنا کھڑا ہے اور زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ پھدی کا مزہ لینا ہے۔۔۔۔ تو پہلے مجھے خوش کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی عمران کہنے لگا چونکہ میں نے تیری پھدی کا مزہ لینا ہے۔۔۔۔۔۔اس لیئے۔۔ اب میں تیرے دانے کو خوش کرنے لگا ہوں یہ کہتے ہی اس نے میرے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لیا۔۔۔۔اور چوسنا شروع ہو گیا۔اور مزے کے مارے میرے منہ سے سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔آہ۔۔آہ۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر چوسنے کے بعد وہ واپس میری چوت کی طرف پلٹا۔۔۔اور اب میری چوت پر عمران کے ہونٹوں کی
آگ تھی. میں سسکیاں بھرتے ہوئے اس کے سر کو سہلانے لگی اور اپنی پیاسی چوت پر اس کا سر


دبانے لگی.وہ میری چوت پر تھوکتا اور پھر۔۔۔۔۔ زور زور سے چوت کو چاٹنا شروع ہو جاتا۔۔۔. میں نشے
میں اس کے سر کو اپنی پھدی کی طرف دباتے ہوئے بولی۔۔۔ " ایسے ہی چوس "۔۔۔۔ مجھے بہت مزہ آ رہا ہے۔۔میری فرمائش پر وہ ایسے ہی میری چوت کو چوستا رہا ۔۔۔۔۔۔پھر اُٹھ کھڑا ہوا اور اپنے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ میں نے تو تیری چوس لی ۔۔۔۔اب تو میرے اس شیر کا کچھ کر۔۔۔ اس کی فرمائیش سن کر میں نیچے جھکی۔۔ اور پھر کچھ سوچ کر کھڑی ہو گئی یہ دیکھ کر عمران کہنے لگا۔۔ کیا ہوا جان؟ تو میں نے جواب دینے کی بجائے جلدی سے اپنے کپڑے اتارے اور ننگی ہو کر نیچے بیٹھ گئی۔۔ اتنی دیر میں وہ بھی اپنی پینٹ و انڈر و ئیر دونوں اتار چکا تھا۔۔ نیچے بیٹھ کر میں نے پوری تسلی سےاس کے لنڈ کا جائزہ لیا۔۔۔ اور پھر اس کے ٹوپے پر کس کرنے لگی تو وہ کہنے لگا۔۔ ۔۔ کس نہیں کرو ۔۔۔ منہ میں ڈالو اور میں نے اس کے تنے ہوئے لنڈ کو اپنے منہ میں ڈال کر اس ے چوسنے لگی ۔۔۔۔۔۔ میری پھدی کی طرح اس کا لنڈ بھی مسلسل مزی چھوڑ رہا تھا جو کہ ٹیسٹ میں کافی نمکین تھی۔۔۔ چنانچہ میں اس کے نمکین لن کو کافی دیر تک چوستی رہی اور میرے ہر چوپے پر وہ۔۔۔اوہ۔۔اوہ۔۔۔ کرتا رہا۔۔۔۔ایک دفعہ تو جوش میں آ کر اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے سر کو پکڑا ۔۔۔۔اور اپنے لنڈ کی طرف دبانا شروع کر دیا۔۔جس کی وجہ سے اس کا لنڈ میرے حلق تک جانے کی وجہ مجھے غوطہ لگ گیا۔۔۔۔لیکن میں نے لن چوسنا جاری رکھا۔۔۔۔ پھر۔۔۔کچھ دیر تک لن چسوانے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگا ۔۔۔ انوشہ جانو!۔۔۔ کھڑی ہو جاؤ مجھے اب تیری پھدی مارنی ہے ۔۔

 


اس وقت میرا دل بھی یہی چاہ رہا تھا کہ وہ اپنے لنڈ کو فٹوفٹ میرے اندر ڈال دے۔۔۔چنانچہ اس کی بات سن کر میں نے لن کو منہ سے نکلا۔۔۔اور کھڑی ہو گئی۔۔۔۔جب میں کھڑی ہوئی تو وہ مجھ سے بولا۔۔۔۔ چدواتے وقت تم کون سی پوزیشن پسند کرتی ہو؟ تو میں نے جھٹ سے جواب دیا کہ مجھے مشنری سٹائل میں کروانے کا بہت مزہ آتا ہے تو وہ شرارت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔ اس کی کوئی خاص وجہ؟ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہ مجھے یہ سٹائل اس لیئے پسند ہے کہ اس سٹائل میں لنڈ پھدی کے ساتھ چپکا ہوتا ہے جس سے سکن ٹو سکن اندر باہر کروانے کا بڑا مزہ آتا ہے۔ اس سٹائل میں چدوانے لا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ چودتے ہوئے آپ آسانی کے ساتھ۔۔۔چھاتیاں چوس سکتے ہیں۔۔۔اور موڈ بنے تو گھسے مارتے ہوئے کسنگ بھی کر سکتے ہو۔۔ اتنی بات کرتے ہی میں نرسنگ اسٹیشن میں بچھے سنگل بیڈ پر لیٹ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی ٹانگیں کھول دیں تھوڑی دیر بعد عمران بھی گھٹنوں کے بل چلتا ہوا میری دونوں ٹانگوں کے بیچ آ گیا۔۔۔ اور میری پھدی کو تھپتھپاتے ہوئے بولا ۔۔۔ تیری اس خوب صورت پھدی کو مارنے کے لیئے میں نے بڑا انتظار کیا ہے تو میں بھی اس کے ناگ کو ہاتھ لگا کر بولی۔۔۔ اس کو اندر لینے کے لیئے میری چوت بڑی بے صبری ہو رہی ہے اس لیئے باقی باتیں چھوڑ ۔۔۔۔ اور مجھے چود۔۔۔۔ تب اس نے میری ٹانگیں اُٹھا کر اپنے کندھے پر رکھیں ۔۔۔۔اور اپنے ٹوپے کو تھوک سے گیلا کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اگر تیری چوت بے صبری ہو رہی ہے تو ہم اسے چودنے کے لیئے بڑے بے تاب ہیں۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے خوب صورت لنڈ کو میری چوت کے منہ پر رکھا۔۔۔۔اور ہلکا سا دھکا لگایا۔۔۔ تو اس کا لن پھسل کر میری پہلے سے گیلی چوت میں اتر گیا۔۔اس کا لنڈ اندر جاتے ہی میرے تن بدن میں لگی آگ اور بھڑک اُٹھی۔۔۔جبکہ دوسری طرف اس نے بھی گھسے مارنے شروع کر دئے۔


اس نے پہلے ہلکے ہلکے گھسوں سے میری چدائی کی۔۔اور جب اس کا لن میری چوت میں رواں ہو گیا۔۔۔۔۔تو۔۔ پھر اس نے طوفانی گھسے مارنا شروع کر دیئے۔۔جنہیں کھا کر میرے منہ سے چیخیں نکلنا شروع ہو گئیں ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میرے منہ سے بے ربط باتیں نکلنے شروع ہو گئیں ۔۔جان۔۔۔۔۔ اور۔۔۔ تیز مار۔۔۔۔اُف۔ف۔ف۔ف تیرا لنڈ ہے یا پسٹن۔۔۔ رکتا ہی نہیں۔۔۔ اور تیز۔۔۔ مار۔۔۔آہ ۔۔ میری پھدی ی ی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔۔اس کے طاقتور گھسوں نے مجھے اتنا مزہ دیا کہ میری چوت پانی سے لبریز ہو گئی۔۔۔اور میں نے اس کے ہپس کو پکڑ کر اپنے اندر کی طرف دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف اس کا مست جٹ لنڈ میری راجپوت پھدی میں برق رفتاری کے ساتھ آ جا رہا تھا۔۔۔اس کے طاقتور گھسوں نے میری چوت کی چولیں ہلا دیں تھیں۔۔۔اور ۔۔۔ ان گھسوں کی تاب نہ لا کر میری راجپوت پھدی نے پانی چھوڑنے سے پہلے۔۔۔۔ اس کے طاقتور لنڈ کے گرد ٹائیٹ ہونا شروع کر دیا۔۔۔ یہ چیز محسوس کرتے ہی وہ بولا۔۔۔ تم چھوٹنے والی ہو ؟ تو میں نے مستی میں جواب دیا۔۔۔۔۔ ہاں میری پھدی پانی چھوڑنے ہی والی ہے اس لیئے آخری گھسے فل پاور سے مارو۔۔۔۔۔میری بات سن کر اس نے دو تین ۔۔۔۔ گھسے ہی مارے ہوں گے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔ عین اسی وقت کہ جب میری گرم چوت پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس کے منہ سے۔۔۔اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔۔۔۔ کی آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔اور میں سمجھ گئی کہ وہ بھی چھوٹنے والا ہے چنانچہ میں نے اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا۔۔۔۔چھوٹ جا میری جان ۔۔۔ میری راجپوت پھدی کے اندر چھوٹ جا۔۔۔میری چوت میں ۔۔۔۔۔۔سارا پانی گرا دے۔۔۔۔۔۔اُف ۔۔۔۔جیسے جیسے اس کے لنڈ سے پانی نکل کر میری پیاسی چوت میں گرتا گیا۔۔۔ویسے ویسے میں ۔۔۔شانت ہوتی چلی گئی۔۔۔ ہوتی چلی۔ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوتی ۔۔۔چل ی ۔۔گ ئ۔ئ ۔۔۔۔ئ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


گوری میم صاحب 
(قسط نمبر8)


جیسے ہی رمشا کی ہوش ربا سٹوری ختم ہوئی تو خود بخود ہی میرے منہ سے ایک لزت آمیز سسکی نکل گئی جسے سن کر وہ بھی گرم لہجے میں بولی۔۔ کیوں کیا ہوا؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا باقی بات چھوڑو یہ بتاؤ کہ تمہاری کزن انوشہ کہاں ملے گی ؟ تو وہ ہنس کر بولی ۔۔اے مسٹر ! خبردار!۔۔۔۔وہ میری کزن ہے کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں کہ ادھر تم نے اس کا نام لیا اور ادھر وہ تمہارے بستر پر حاضر ہو گئی پھر ہنستے ہوئے بولی۔۔۔ اگر تمہیں اس سے ملنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر فیصل آباد چلے جاؤ۔ اس پر میں شہوت بھرے لہجے میں بولا کہ تم فیصل آباد کی بات کر رہی ہے انوشہ جیسی لڑکی کو چودنے کے لیئے تو میں کوہ قاف تک بھی جا سکتا ہوں اس پر وہ تنگ آ کر بولی ۔ بور نا کرو یار۔۔ اس کی بات سن کر میں فوراً ہی سیریس ہو کر بولا۔ اچھا تو یہ وہ مصالحہ سے بھری سٹوری تھی کہ جسے سن کر تم لزبین سیکس چھوڑ دوسری طرف متوجہ ہوئی میری بات سن کر وہ کہنے لگی ایسا نہیں کہ میں یہ سٹوری سننے کے فوراً بعد تبدیل ہو گئی تھی۔۔ بلکہ تم یوں کہہ سکتے ہو کہ یہ سٹوری آخری دلیل کے طور پر سامنے آئی ۔۔۔ جسے سن کر میں تذبذب کی کیفیت سے باہر نکل گئی تھی چنانچہ انوشہ کے منہ سے یہ سٹوری سننے کے بعد میں لڑکوں کی طرف ایسی متوجہ ہوئی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ۔۔ میں نے لڑکوں کے ساتھ بھی فکنگ شروع کر دی۔۔۔ اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ سب سے پہلے کس لڑکے کے ساتھ سیکس کیا؟ تو وہ ہنس کر بولی یہ بات تو میں کو ہر گز نہیں بتاؤں گی کہ میں نے اپنا پہلا سیکس کس لڑکے کے ساتھ کیا تھا ۔۔۔ پھر عجیب سے لہجے میں بولی۔۔۔ ہاں اگر تم پوچھو تو اتنا ضرور بتا سکتی ہوں کہ میں نے اپنی لائف کی پہلی " کم" (منی) کس لڑکے کی ٹیسٹ کی تھی۔ رمشا کی بات سن کر میں بڑی دل چسپی سے بولا۔۔۔ پلیز بتاؤ نا ۔۔۔ تو وہ بات میں سسپنس پیدا کرتے ہوئے بولی۔۔۔ یہ ایسا نام ہے کہ جسے سن کر تم چونک جاؤ گے ۔( اس کے بات کرنے کے اسٹائل سے میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھ سے یہ بات شئیربھی کرنا چاہ رہی تھی لیکن لیکن یہ بات وہ میرے منہ سے کہلوانا چاہ رہی تھی )۔ چنانچہ یہ بات جان کر میں اپنے لہجے میں بے تابی و شتابی پیدا کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔ کہ اگر ایسی بات ہے تو پلیز جلدی سے بتاؤ۔۔ اس پر وہ شہوت بھرے لہجے میں بولی۔ ۔۔۔ تو سنو میں نے لائف میں فرسٹ ٹائم جس لڑکے کی " کم "( منی) ٹیسٹ کی تھی وہ اور کوئی نہیں تمہارا بیسٹ فرینڈ عدیل تھا۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت تک میں پکی لیسبو تھی۔۔۔ ادھر عدیل کا نام سن کر میں چونک کر بولا۔۔۔کہ اس کی منی چیک کرنے کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ سیکس بھی کیا تھا۔۔۔۔تو وہ پر اسرار لہجے میں جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔تم یقین کرو گے کہ تمہارے دوست کو بھی ۔۔۔ اس بات کا پتہ نہیں کہ میں نے اس کی "کم" (منی) ٹیسٹ کی ہے ۔۔۔ اس پر میں حیران ہو کر بولا ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم نے ایک بندے کے لنڈ سے نکلی ہوئی کریم اپنی زبان سے چاٹی یا کھائی۔۔۔۔لیکن وہ سالا اس بات سے بے خبر ہو۔۔۔۔۔


تو وہ میری بات کا مزہ لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔ میری بات کا یقین کرو ڈارلنگ ۔۔۔۔۔ جیسا میں نے بتایا۔۔۔۔ ہو بہو ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔ اور یہ ایک دفعہ نہیں بلکہ۔۔۔۔ایسا دو تین دفعہ ہوا تھا۔۔۔۔ تب میں نے اس سے کہ اے حسینہ نازنینہ ۔۔ میری الجھن کو سلجھن میں بدلو۔۔۔اور ۔۔ مہربانی کر کے اس راز سے پردہ اُٹھا ہی دو۔۔ تو وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔ ارے گھامڑ اس میں راز کی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔سامنے کی بات ہے کہ تیرا دوست اپنی منگیتر مطلب تانیہ کے ساتھ جب بھی سیکس کرتا تھا تو عام طور پر ان کی یہ واردات میرے گھر پر ہی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔ (ادھر رمشا کی یہ بات سن کر کہ عدیل اکثر ہی تانیہ کو چودا کرتا تھا میرے لیئے ایک انکشاف کا درجہ رکھتا تھا کیونکہ اس نے مجھے یہ بتایا ہوا تھا کہ اس نے اپنی لائف کا پہلا سیکس امریکہ میں ایک ہندو آنٹی کے ساتھ کیا تھا )۔۔ چنانچہ رمشا کی بات سن کر میں نے چونکتے ہوئے کہا کہ ۔۔ تت تمہارا مطلب ہے کہ عدیل نے تانیہ کو چودا ہوا ہے ؟؟؟؟ تو وہ بڑے اطمینان سے کہنے لگی جی آپ نے درست سنا ہے آپ کی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ عدیل نے تانیہ کو ایک دفعہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ بہت دفعہ فک کیا ہے ۔۔۔۔اور وہ بھی میرے گھر ۔اور یہ بھی بتاتی چلوں کہ ان کی بہت ساری فکنگ کی میں آئی وٹنس ہوں مطلب میں نے ان کی چدائی کا سین اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے ۔۔ ۔ اس پر میں گھائل لہجے میں بولا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔لل ۔۔ لیکن اس نے تو مجھے یہ بتایا تھا کہ اس نے اپنی لائف کا پہلا سیکس امریکہ جا کر کیا تھا۔۔ میری بات سن کر وہ حیرانی سے بولی ۔۔ ایک تو مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی ۔۔ اس نے کہہ دیا اور تم نے اس کی ۔۔۔۔ بات پر یقین بھی کر لیا؟ ۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ایسا ہی سمجھ لو تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ شاید اس نے یہ بات اس لیئے چھپائی ہو گی۔۔۔ کہ تانیہ اس کی ہونے والی بیوی تھی ۔۔۔ کوئی راہ چلتی لڑکی نہیں۔۔۔۔ ۔۔۔ اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہ ہو سکتا ہے یہی بات ہو۔۔۔۔۔پھر میں نے اس سے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ ۔۔۔ تانیہ اور عدیل کہاں پر سیکس کرتے تھے ؟ میری بات سن کر وہ قہقہہ لگا کر بولی۔۔۔ میرے خیال میں تم ابھی تک صدمے میں ہو۔۔۔ ارے گھامڑ۔۔ ۔۔ تھوڑی دیر پہلے بتایا تو تھا کہ وہ دونوں ۔۔۔۔ اکثر میرے ہی گھر پر فکنگ کیا کرتے تھے ۔۔۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہمارا گھر اکثر ہی خالی ہوتا تھا۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔۔ کیا اس بات کا اس کے گھر والوں کو پتہ تھا ؟ اس وہ کہنے لگی یار تم عجیب آدمی ہو۔۔۔۔ آج تک ۔۔۔۔کیا کبھی کسی لڑکی نے اپنے گھر والوں کو بتا کر فک کروایا ہے؟ پھر ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔ کیا تم نے ان کے گھر کا ماحول دیکھا ہے ؟۔۔تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچھا خاصہ کھلا ماحول ہے ان کا۔۔۔۔تو آگے سے وہ کہنے لگی۔۔۔ کھلا نہیں میری جان ! بلکہ کھلا ڈھلا کہو۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔ منگیتر ہونے کی وجہ سے عدیل اور تانیہ کی ماما چھوٹی موٹی ۔۔۔۔ بات۔۔۔ جیسے کہ کسنگ وغیرہ ۔۔۔۔ دیکھ کر اگنور کر دیا کرتی تھیں۔۔۔۔ ۔۔ بلکہ عدیل کی بڑی بہن صائمہ تو اس قسم کے مواقع خود فراہم کیا کرتی تھی رمشا کی بات نے مجھے شدید حیرانی میں مبتلا کر دیا تھا ۔۔۔ اور جب میں کافی دیر تک اسی بارے سوچتا رہا۔۔۔۔ تو وہ فون پر ہیلو۔۔۔ ہیلو کرتے ہوئے بولی۔۔۔ کیا تم موجود ہو؟ تو میں مردہ سی آواز میں بولا۔۔ ہاں ۔۔ لیکن مجھے بہت حیرت ہو رہی ہے تو اس پر رمشا تاسف بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ مجھے تم سے پوری ہمدردی ہے پھر کہنے لگی۔۔۔۔ ایک بات تو بتاؤ۔ ۔۔۔ تم کیسے پکے دوست ہو۔۔۔ کہ جو ابھی تک اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کا دوست اپنی منگیتر کو کم از کم ہفتے میں ایک دفعہ ضرور فک کیا کرتا تھا۔۔

 


میں رمشا کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے بولا۔ رئیلی یار میں اب تک اس بات سے بے خبر ہی تھا ۔۔۔۔اس لیئے مجھے اس بارے کچھ مزید بتاؤ گی؟ اور خاص طور پر یہ ضرور بتانا کہ عدیل کو بتائے بغیر اس کی منی ٹیسٹ کرنے کا کیا چکر ہے؟۔۔۔ تو وہ کہنے لگی میں کوشش کرتی ہوں ۔۔۔ اتنا کہنے کے بعد وہ چند سیکنڈز کے لیئے رُکی اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ چلو سب سے پہلے میں تمہارا یہ سسپنس دور کر تی ہوں ۔۔ کہ عدیل کو بتائے بغیر میں نے اس کی " کم" ( منی) کو کیسے ٹیسٹ کیا ۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہنے لگی ۔۔ جیسا کہ تم کو معلوم ہے کہ اس زمانے میں ۔۔۔میں پکی لیسبو تھی اور بیسٹ فرینڈ ہونے کی وجہ سے تانیہ کو بھی اس بات کا علم تھا اس پر میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا تمہاری طرح تانیہ بھی لیسبو تھی ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے کہنے لگی ۔۔تم کہہ سکتے ہو۔۔ ۔کیونکہ وہ میری طرح پکی تو نہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن کسنگ شوق سے اور کسی حد تک لکنگ بھی کر لیتی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے ایک میچور لیڈی کے ساتھ سیکس کیا۔۔سیکس کے دوران اس کی چوت چاٹتے ہوئے۔۔۔۔ مجھے ان کی " پسُی کم" (منی) نے بہت مزہ دیا۔۔۔ چنانچہ میں نے اسے بڑے شوق سے چاٹا لگایا۔۔۔۔ فکنگ سیشن کے بعد جب میں نے آنٹی سے کہا کہ مجھے آپ کی منی بہت ٹیسٹی لگی ۔۔۔تو آگے سے وہ مجھے کہنے لگیں۔۔ یہ بات تم اس لیئے کہہ رہی ہو کہ تم نے ابھی تک کسی مرد کی منی ٹیسٹ نہیں کی۔۔ کیونکہ لیڈیز کم (منی)۔۔ کے مقابلے میں مرد کی (منی) کہیں زیادہ مزے کی ہوتی ہے ۔۔تو میں نے حیران ہوتے ہوئے آنٹی سے پوچھا کہ مرد کی منی میں ایسی کیا بات ہے جو ہماری منی میں نہیں ہوتی ؟ اس پر وہ جواب دیتے ہوئے بولیں کہ لیڈی کے مقابلے میں مرد کی "کم" کا مزہ بہت اعلیٰ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دوسری بہت ساری خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کو پینے سے چہرہ گلو (glow ) کرتا ہے پھر کہنے لگی کیا تم نے پورن مویز میں نہیں دیکھا کہ وہ کس قدر شوق سے مرد کی منی نگلتی ہیں؟ اس کے بعد انہوں نے مجھے مرد کے سیمز بار ے میں اچھا خاصہ لیکچر دیا جس کو سن کر مجھے بھی " کم " (منی) نگلنے کا شوق پیدا ہو گیا ۔وہاں سے واپسی پر میں نے جب یہ بات تانیہ کو بتائی۔۔۔ تو وہ چٹخارہ لیتے ہوئے بولی۔۔۔ آنٹی درست کہہ رہیں تھیں ۔۔۔ لن چوسنے اور منی پینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔ تانیہ کی بات سن کر میرے دل میں "میل کم" ( مردانہ منی) کے بارے میں مزید تجسس جاگا ۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ عدیل اور تانیہ میرے گھر میں ہی فکنگ کیا کرتے تھے اور یہ بات مجھے اچھی طرح سے معلوم تھی کہ ابھی تک شادی نہ ہونے کی وجہ سے عدیل ہمیشہ باہر ڈسچارج ہوتا تھا۔۔۔۔اس لیئے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ تانیہ نے مجھے آفر دی کہ اگر تم چاہو تو عدیل کی منی ٹیسٹ کر سکتی ہو۔۔۔ اتنی بات کر کے وہ تھوڑا رک کر بولی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

۔ میں ایک بات بتانا بھول گئی اور وہ یہ کہ عدیل کی ایک عجیب عادت تھی کہ فارغ ہوتے ہی وہ بھاگ جایا کرتا تھا ۔۔۔ چنانچہ طے یہ پایا کہ اگلی دفعہ تانیہ مشنری سٹائل میں فک کروائے گی ۔۔۔اور عدیل کو پیٹ پر ڈسچارج ہونے کے لیئے کہے گی۔۔ ۔۔ ۔۔ چنانچہ ایک دن جب ماما خالہ کے گھر صدر گئیں۔۔۔ تو تانیہ نے عدیل کو بلا لیا۔۔۔اور پھر فکنگ کے بعد عدیل نے اپنی ساری منی تانیہ کے پیٹ پر گرا کے۔۔۔ خود بھاگ گیا۔۔ عدیل کے جاتے ہی میں تانیہ کے پاس پہنچ گئی جو ابھی تک ننگی ہی لیٹی ہوئی تھی اور اس کے خوب صورت پیٹ پر عدیل کی گاڑھی منی پڑی تھی جس کا رنگ آف وہائیٹ تھا۔۔ تانیہ کے پاس پہنچتے ہی میں نے فضا میں ایک مست سی مہک محسوس کی ۔۔۔ چنانچہ میں سیدھی اس کے پیٹ پر جھکی ۔۔۔۔۔۔اور سونگھ کر دیکھا تو یہ مدہوش کن مہک عدیل کی جوان منی سے آ رہی تھی۔۔جسے سونگھتے ہوئے میں بھی مست ہو رہی تھی ۔۔۔میں نے ایک نظر تانیہ کی طرف دیکھا ۔۔۔تو وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ چنانچہ اس نے اشارے سے مجھے ۔۔۔ منی کو ٹیسٹ کرنے کا کہا۔۔۔ سو اس کی بات مان کر ۔۔۔ میں نے اپنی زبان نکالی ۔۔۔ اور عدیل کی کم (منی) پر زبان رکھ دی ۔۔۔۔ منی کا ذائقہ برا نہیں تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ہاں اس کی منی بہت گرم ۔۔۔۔اور گاڑھی تھی۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔سو میں نے آہستہ آہستہ اس کی منی کو اپنی زبان کی مدد سے منہ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔آنٹی اور تانیہ ٹھیک ہی کہہ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ اس کا ذائقہ واقعی ہی بہت رِچ تھا ۔۔۔۔سو تھوڑی سی چاٹنے کے بعد میں اُٹھ گئی۔۔ اُف کیا بتاؤں یار ۔۔۔ اس کا ٹیسٹ اس قدر رِچ اور مہک اتنی سیکسی تھی کہ ۔۔۔۔اس سے اگلی دفعہ میں ۔۔۔۔ اس کے پیٹ پر پڑی آدھی منی کو چاٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد دھیرے دھیرے۔۔۔۔۔اگلے کچھ عرصہ تک میں عدیل کی منی کو ریگولر چاٹتی رہی۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد وہ کہنے لگی تو جناب یہ تھی میری منی ٹیسٹ کرنے کی داستان۔۔۔۔ امید ہے تم کو اپنے اس سوال کا جواب کہ عدیل کے علم میں لائے بغیر میں نے اس کی منی کو کیسے ٹیسٹ کیا تھا۔۔کا جواب مل گیا ہو گا۔ ۔۔۔ 

اس پر میں نے اس سے کہا ۔۔۔ اس کا جواب تو مل گیا ۔۔۔ لیکن اب مجھے عدیل اور تانیہ کی فکنگ بارے کچھ بتاؤ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تانیہ اور عدیل کی بچپن میں ہی منگنی ہو گئی تھی۔۔۔۔ اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ دونوں بچپن سے ہی ایک دوسرے کے ساتھ بے حد محبت کرتے تھے۔۔۔اور پھر ہوش سنبھالتے ہی دونوں نے کسنگ بھی شروع کر دی تھی۔۔۔ پھر بلیو مویز دیکھ دیکھ کر وہ دونوں اوورل سیکس کرنا شروع ہو گئے ۔۔۔۔۔ اسی دوران عدیل اس سے فکنگ کے بارے میں کہتا رہا ۔۔دوست ہونے کی وجہ سے جب تانیہ نے مجھ سے اس بارے رائے مانگی تو میں نے ایسا کرنے سے۔۔۔۔ سختی کے ساتھ منع کردیا تھا۔۔۔۔اور کہا کہ کسنگ اور کسی حد تک اوورل بھی کر لو ۔۔۔لیکن شادی سے پہلے ہر گز ہرگز فکنگ مت کرنا۔۔۔۔۔چنانچہ میری بات مان کر اس ۔۔۔۔ نے عدیل کے ساتھ سیکس کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ لیکن دوسری طرف عدیل بھی اپنی دھن کا پکا تھا ۔۔۔سو اس نے اپنی ٹرائی جاری رکھی۔۔۔۔ اور منت ترلوں کے ساتھ وہ اس بارے میں تانیہ کو بلیک میل بھی کرتا رہا۔۔۔۔۔ میری نصیحت اپنی جگہ ۔۔۔۔ لیکن سیکسی تانیہ آخر کب تک مزاحمت کرتی؟ جبکہ عدیل کا لن چوس چوس کر ۔۔۔۔اس کے دل میں بھی فکنگ کی خواہش شدید سے شدید تر ہوتی چلی جا رہی تھی۔۔۔ چنانچہ ایسے ہی ایک دن اوورل کے دوران عدیل نے تانیہ سے سیکس کرنے کو کہا۔۔۔تو تھوڑی سی ہچر مچر کے بعد ۔۔۔ اس نے عدیل کو چودنے دیا ۔۔۔۔ اور جب اگلے دن اس نے مجھے یہ بتایا کہ گزشتہ رات اس نے عدیل کے ساتھ فکنگ کر لی ہے تو مجھے بہت برا لگا ۔۔۔۔۔چنانچہ میں نے اس بات پر اسے بہت سنائیں جنہیں سن کر وہ حیران ہو کر بولی۔۔۔۔۔۔۔۔ یار اس میں برا کیا ہے؟؟؟۔۔۔۔۔ میں نے اپنے منگیتر کے ساتھ سیکس کیا ہے کسی ایرے غیرے کے ساتھ تھوڑی کیا ہے۔۔۔ اس پر میں اس سے بولی ۔۔۔ منگیتر کے ساتھ سیکس کرنے سے بہتر تھا کہ تم کسی ایرے غیرے کے ساتھ سیکس کر لیتی۔۔۔ میری بات سن کر وہ مزید حیران ہو کر بولی کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس دن تمہارے منگیتر نے تم کو چود لیا تو یوں سمجھو اس نے تم کو فتح یا۔۔۔ دوسرے لفظوں میں ایکسپلور کر لیا۔۔۔۔ اس لیئے فکنگ کے بعد عدیل کے دل میں تمہاری کشش ختم ہو گئی ہے۔۔۔۔۔ مطلب تم نے اس کے ساتھ سیکس کر کے اپنی ساری کشش کھو دی ہے ۔لیکن میری اس بات سے تانیہ نے اتفاق نہیں کیا۔۔ اور کہنے لگی ۔۔ایک دن تو ہم نے سیکس کرنا ہی تھا ۔۔۔ اگر شادی سے پہلے کر لیا تو کیا ہرج ہو گیا۔۔۔۔پھر بڑے فخر سے کہنے لگی تمہیں معلوم ہے نا کہ وہ مجھ سے کتنی شدید محبت کرتا ہے۔۔۔۔ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بےوقوف لڑکی وہ تم سے محبت کرتا ہے نہیں ۔۔۔۔بلکہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔ 


کیونکہ چودائی کے بعد اس کی یہ محبت ۔۔۔اب ہوس میں تبدیل ہو گئی ہے ۔۔۔۔پھر میں اسے سمجھاتے ہوئے بولی بے شک فکنگ سے پہلے ہر لڑکے لڑکی میں محبت ہوتی ہے۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی یہ دونوں سیکس کر لیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ محبت ختم ۔۔۔۔اور ۔۔۔اس کی جگہ شہوت لے لیتی ہے اس لیئے یاد رکھنا ۔۔۔ آج کے بعد جب بھی اس کو تنہائی ملی۔۔ اس نے تم سے پیار بھری باتیں کم کرنی ہیں ۔۔۔بلکہ تھو ڑی سی گفتگو کے بعد۔۔۔۔ اس کا ہاتھ سیدھا تیری شلوار کی طرف جائے گا۔۔اس کے بعد رمشا کہنے لگی میں نے اس موضع پر ایک تقریر تو جھاڑ دی۔۔۔۔۔۔ لیکن عدیل کی محبت میں سرشار تانیہ نے میری اس بات سے زرا بھی اتفاق نہیں کیا۔۔۔۔اور بدستور اس کے ساتھ سیکس کرتی رہی۔۔ ۔۔یہا ں تک کہ عدیل اسٹیٹس چلا گیا ۔۔۔وہاں جا کر بھی وہ تانیہ کے ساتھ لمبی لمبی باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ اس نے گوری کے ساتھ شادی کر لی ۔۔۔۔۔لیکن شادی کے بعد بھی اس نے فون پر بات جاری رکھی ۔۔۔۔اور اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا رہا ۔۔ ۔۔اور بے چاری تانیہ اس کی محبت پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔اسی لیئے ۔۔ تانیہ نے جب عدیل کی شادی کی خبرسنی ۔۔۔۔۔ تو اس کے لیئے یہ خبر ایٹم بمب سے بھی زیادہ ۔۔۔ خوفناک تھی ۔۔۔۔ چنانچہ گزشتہ دنوں جب وہ گوری کو لے کر پاکستان آیا تو محبت کی ماری تانیہ۔۔۔۔۔۔۔ اس صدمے کو برداشت نہ کر سکی اور ۔۔۔۔۔۔ سکتے کی کیفیت میں چلی گئ۔

اس پر میں نے کہا کہ تم نے اپنی دوست کو سنبھالا نہیں ؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ کہ جب مجھے پتہ چلا کہ عدیل نے ایک گوری کے ساتھ شادی کر لی ہے تو میں اسی وقت اس کے گھر گئی تھی۔۔۔۔۔ لیکن اس وقت وہ اپنے آپ میں نہ تھی بلکہ ۔۔۔ بار بار ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ عدیل نے ایسا کیوں کیا؟ مجھے ۔۔۔۔اپنے پیار کو چھوڑ ۔۔۔۔ایک گوری کے ساتھ شادی کیوں کی؟ تب میں نے اس کو کہا یاد کر تانیہ ۔۔۔ میں نے تم سے کہا تھا نا۔۔۔۔ کہ کبھی بھول کر بھی اپنے منگیتر کے ساتھ سیکس نہ کرنا ۔۔۔۔ورنہ تمہاری ساری کشش ۔۔۔۔ (اس کے لیئے) تمہارا سارا چارم ختم ہو جائے گا۔۔۔۔ کیونکہ میرے خیال میں لڑکی کے پاس لے دے کے ایک پھدی ہی ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ جس کے لیئے لڑکا اس پر مرتا ہے اور جیسے ہی وہ متعلقہ لڑکی کی پھدی مار لیتا ہے ۔۔۔۔ تو اس کو فتع کرنے کے بعد ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اس کی نظروں میں مفتوح لڑکی کی ساری کشش ختم ہو جاتی ہے اسی لیئے۔۔۔۔ وہ اسے چھوڑ ایک نئے شکار کی طرف چل پڑتا ہے ۔۔۔ اتنی بات کرنے کے بعد اچانک ہی رمشا کہنے لگی۔۔۔اوکے ڈارلنگ سیل کی بیٹری ختم ہونے والی ہے۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ میں تو چلی۔۔۔ تم اپنے دوست کا سوگ مناؤ ۔۔۔۔۔ اور پھر بائے بائے اور فلائنگ کس دینے کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔۔۔۔۔

 


رمشا نے تو فون بند کر دیا ۔۔۔ لیکن مجھے ایک الجھن میں ڈال گئی۔۔۔اور وہ یہ کہ عدیل نے مجھ سے تانیہ کے ساتھ فکنگ والی بات کیوں چھپائی؟۔۔۔ میں اس پر کافی دیر تک مغز ماری کرتا رہا۔۔۔۔ لیکن کچھ سمجھ نہ آیا ۔۔۔اس لیئے میں نے عدیل اور تانیہ دونوں پر لعنت بھیجی اور ۔۔۔۔۔ بستر پر لیٹ کر سو گیا۔۔۔۔۔ اگلے دن کام کی زیادتی کی وجہ سے میں آفس میں دیر تک بیٹھا کام کر رہا تھا کہ اتنے میں میرے موبائل کی گھنٹی بجی دیکھا تو فرزند کا فون تھا میں نے جلدی سے فون اُٹھا یا ۔۔۔۔اور رسمی ۔۔۔ ہیلو ہائے کے بعد وہ کہنے لگا کہ صاحب جی یہ بتاؤ کہ آپ اس وقت کہاں پائے جا رہے ہو؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بندہ اپنے آفس میں ایک ارجنٹ قسم کا کام نبٹا رہا ہے میری بات سن کر وہ بڑے تعجب سے بولا۔۔۔۔ اس وقت؟ تو میں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا کریں جناب مجبوری ہے نوکری جو ہوئی۔۔۔۔ یہ آپ کا اپنا بزنس تھوڑی ہے کہ جب جی چاہا چھٹی کر لی۔۔۔ ۔۔ تو وہ کہنے لگا اچھا یہ بتاؤ کہ آپ فری کب ہو گئے؟ اس پر میں نے کہا کہ تقریباً آدھا گھنٹہ لگ ہی جائے گا تو وہ کہنے لگا۔۔۔۔ اچھا یہ بتاؤ کہ کھانے کی کیا پوزیشن ہے؟ کیا آپ نے ڈنر کر لیا؟ تو میں نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کام ختم کرنے کے بعد۔۔۔ ہی کھانے کا پروگرام بنے گا۔۔ تو وہ کہنے لگا ۔۔تو پھر بھائی صاحب ہمیں جائن کر لو۔۔ ہم لوگوں نے بھی ابھی تک ڈنر نہیں کیا پھر کہنے لگے میرا اور ثانیہ کا پروگرام ہے کہ آج رات کا کھانا ہم ایف سیون میں کھائیں.. سنا ہے وہاں پر ایک نیا ریسٹورنٹ کھلا ہے جس کی مٹن کڑاہی بڑی غضب کی ہوتی ہے پھر کہنے لگا اس وقت ہم لوگ گھر سے نکلنے والے ہیں اور آپ کے آفس تک پہنچنے میں ہمیں آدھا گھنٹا لگ جائے گا ۔۔ اس لیئے اگر آپ مری روڈ رحمان آباد سٹاپ پر آ جاؤ تو ہم آپ کو وہاں سے پِک کر لیں گے۔۔لیکن اگر کام زیادہ ہے تو ہم آپ کو آفس سے بھی پِک کر سکتے ہیں میں نے کہا کہ آپ آفس کا پروگرام رہنے دیں ۔۔۔۔ کام ختم ہوتے ہی میں رحمان آباد سٹاپ پر پہنچ جاؤں گا اور اگر کچھ دیری ہو گئی تو پلیز میرا انتظار کرنا۔۔۔پروگرام طے کر نے کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا ۔۔۔اور میں اس وقت ایک اہم رپورٹ پر کام کر رہا تھا جو کہ اسی رات ہیڈکوارٹر بھیجنی تھی۔۔۔ رپورٹ تقریباً بن چکی تھی بس رویو کرنا باقی تھا ۔۔۔ جو میں نے جلدی سے کر لیا ۔۔۔اور رپورٹ بنا کر باس کی ٹیبل پر جا رکھی ۔ اور پھر ان سے اجازت لے کر میں دفتر سے نکل کر مری روڈ کی طرف روانہ ہو گیا جو کہ ہمارے آفس کے قریب ہی واقع تھا۔۔۔۔رحمان آباد سٹاپ پر پہنچ کر دیکھا تو فرزند کی گاڑی پہلے سے موجود تھی جیسے ہی میں گاڑی کے قریب پہنچا تو فرزند نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کو کہا ۔۔۔ سیٹ پر بیٹھتے ہی میں نے گردن گھما کر دیکھا تو پچھلی سیٹ پر صرف ثانیہ بیٹھی تھی چنانچہ میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ صائمہ باجی نظر نہیں آ رہیں؟ تو فرزند صاحب کہنے لگے۔۔۔ یار آنٹی کی طبیعت کچھ خراب تھی اس لیئے صائمہ اپنے گھر گئی ہے اس پر میں آنکھیں نکالتے ہوئے بولا ۔اچھا تو میری باجی کو میکے بھیج کر ۔۔۔آپ لوگ عیاشیاں کر رہے ہیں ۔۔۔ میری بات سن کر فرزند مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔۔ آپ مخبری نہ کریں ۔۔۔اسی لیئے تو بطور رشوت آپ کو شاندار قسم کا ڈنر کروا یا جا رہا ہے۔ رسیوٹورنٹ تک کا سفر ایسے گزر گیا۔۔۔۔

وہاں کی مٹن کڑاھی اور چانپیں واقعی بہت اچھی تھیں اس لیئے ہم تینوں نے کھانے کے ساتھ خوب انصاف کیا ۔ کھانے کے دوران میری ثانیہ کے ساتھ ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ چلتی رہی لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس کی باتوں میں وہ پہلی جیسی شگفتگی اور چہک موجود نہ تھی۔۔ اس کی وجہ شاید اس دن کا واقعہ ہو گا۔ ریسٹورنٹ سے واپسی پر رمشا لوگوں کا ذکر چھڑ گیا ۔۔۔ فرزند مجھ سے کہنے لگا کہ رمشا لوگ ہیں تو ان کے فیملی فرینڈ۔۔۔۔۔ لیکن جہاں تک ان کے ساتھ تعلق کی بات ہے تو ہمارے ان کے ساتھ سگے رشتے داروں سے بھی زیادہ اچھے تعلق ہیں پھر وہ کہنے لگا کہ رمشا کا ایک ہی بھائی ہے جس کا نام جمال ہے فرزند کی طرح وہ بھی اپنا بزنس کرتا تھا لیکن فرزند کے برعکس جمال ایک یار باش قسم کا آدمی تھا گھر کے کام کاج میں اسے کوئی دل چسپی نہیں تھی اس کے بارے میں فرزند صاحب نے بتلایا کہ وہ صبع کام سے نکلتا تو رات گئے ہی واپس لوٹتا تھا۔رمشا کے والد کے بارے میں بتایا کہ وہ شروع سے ہی مڈل ایسٹ ہوتے ہیں جہاں پر وہ ایک آئیل کمپنی میں بہت ہی اچھے عہدے پر کام کرتے ہیں اچھی خاصی آمدن ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بہت خوشحال ہیں ۔۔۔اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ چونکہ انکل شروع سے ہی مڈل ایسٹ چلے گئے تھے اس لیئے رمشا اور جمال کی پرورش ارم آنٹی نے ہی کی تھی۔ اس کے بعد وہ کافی دیر تک ارم آنٹی کی تعریفیں کرتا رہا۔۔۔۔ اسی اثنا میں میرا سٹاپ آگیا۔۔۔ چنانچہ گاڑی رکنے پر ۔۔۔جیسے ہی میں نے گاڑی سے اترنے کے لیئے دروازہ کھولا تو اچانک ہی فرزند بولا۔۔۔ ایک منٹ!!۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔اور ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔

۔تو وہ تھوڑا جھجک کر بولا ۔۔۔شاہ جی برا نہ مانو تو ایک بات کہوں ؟ فرزند کی بات سن کر میں نے بڑے غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر مجھے کشمکش کے آثار نظر آئے۔۔۔۔۔۔ لیکن میں انہیں نظر انداز کر تے ہوئے بولا۔۔۔ حکم سائیں! تو وہ کہنے لگے۔یار وہ تم سے ایک کام پڑ گیا ۔۔(فرزند صاحب کی ہچکچاہٹ دیکھ کر ہی میں سمجھ گیا تھا کہ مجھے ڈنر مفت میں نہیں کروایا گیا تھا ) جبکہ دوسری طرف وہ کہہ رہے تھے کہ ۔۔۔۔۔ یار کام میرا نہیں بلکہ ارم آنٹی کا ہے مجھے امید ہے کہ آپ اس مسلے کا کچھ نہ کچھ حل نکال لو گے۔۔۔ اس پر میں ان سے بولا ۔۔۔ بھائی آپ کچھ بتاؤ گے تو پتہ چلے گا کہ کیا کام ہے اور یہ کام مجھ سے ہو بھی سکے گا یا نہیں؟ تو وہ کہنے لگے ۔۔۔ تم ایسا کرو کل آنٹی سے مل لو وہ تم کو بتا دیں گی ۔۔میں نے ان سے کہا۔۔۔ آنٹی سے بھی مل لوں گا لیکن اس سے پہلے آپ بتاؤ کہ کام کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ کچھ عرصہ قبل آنٹی نے شہر سے کافی دور سستے داموں ایک پلاٹ لیا تھا۔۔ اس وقت وہاں اجڑ اجاڑ تھا۔۔۔لیکن جیسا کہ تم جانتے ہو پچھلے کچھ عرصہ سے ہمارے ہاں بھی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں نے زور پکڑ لیا ہے اور اتفاق سے آنٹی کا پلاٹ بھی ایک مشہور ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ آ گیا ہے ۔۔پھر کہنے لگے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ۔۔۔ ان ہاؤسنگ سوسائیٹوں کی وجہ سے وہاں پر زمینوں کے ریٹ بہت بڑھ گئے ہیں ۔۔۔ ۔ کچھ عرصہ قبل ان کے پاس ایک پارٹی آئی تھی لیکن مناسب دام نہ لگانے کی وجہ سے آنٹی نے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلنے پر ان لوگوں نے ان کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا ہے تو میں نے ان سے کہا کہ آنٹی نے پلاٹ پر قبضہ چھڑانے کے لیئے کیا کیا؟ تو وہ مایوسی کے ساتھ بولا انہوں نے قبضہ چھڑانے کی بہت کوشش کی۔۔۔۔لیکن چونکہ وہ لوگ بہت زیادہ بارسوخ ہیں اس لیئے ابھی تک کچھ بھی نہ ہو سکا۔۔۔ پھر کہنے لگے آنٹی تو اس پلاٹ کی طرف سے مایوس ہو گئیں تھیں لیکن رات امی نے تمہارا ذکر کیا کہ وہ ضرور کچھ نہ کچھ کر لے گا۔۔۔ اس پر میں نے فرزند سے کہا کہ کیا آپ بتا سکتے ہو کہ آنٹی کا پلاٹ کہاں اور کس ہاؤسنگ سوسائیٹی کے قریب واقعہ ہے؟ تو وہ کھسیانی ہنسی ہنس کر بولا ۔۔۔سوری یار اس کی تفصیل تو تم کو آنٹی ہی بتا سکتی ہیں۔۔پھر مجھ سے منت بھرے لہجے میں کہنے لگا یار اگر کچھ ہو سکے تو پلیززززززززززززز ضرور کرنا ۔۔۔۔اس دوران ثانیہ نے بھی آنٹی کی بھر پور سفارش کی چنانچہ پبلک کے پرُزور اصرار پر میں نے "کچھ کرنے " کی حامی بھر لی۔

اس سے پہلے کہ میں ارم آنٹی کو فون کرتا ۔۔اگلے دن خود ہی ان کا فون آ گیا اور رسمی باتوں کے بعد وہ کہنے لگیں بیٹا فرزند کہہ رہا تھا کہ آپ نے میرا کام کرنے کی حامی بھر لی ہے تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا آپ ٹھیک کہہ رہیں ہیں آنٹی ۔۔۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ آپ کا مسلہ حل ہو جائے اور پھر ان سے بولا کہ مجھے بتائیں آپ کا پلاٹ کہاں واقع ہے؟ تو وہ کہنے لگیں بیٹا جی ایسے آپ کو سمجھ نہیں آئے گی اس کے لیئے اگر آپ کے پاس وقت ہے تو پلیزززز گھر آ جائیں۔ میں آپ کو سب سمجھا دوں گی چنانچہ آفس سے چھٹی لے کر میں ان کے گھر چلا گیا ۔۔۔ بیل کے جواب میں گیٹ رمشا نے ہی کھولا اور نہایت ہی سیکسی سمائل سے میرا سواگت کیا اس نے سیلو لیس شرٹ اور ٹائیٹس پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اسے اس حال میں دیکھ کر میں آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگانے ہی والا تھا کہ وہ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی۔۔۔۔شش ۔۔ کوئی حرکت نہیں کرنا ۔۔۔ ماما بڑی بے چینی سے تمہارا انتظار کر رہیں ہیں ۔۔۔۔ اور ان کا کوئی پتہ نہیں کہ وہ تمہیں لینے باہر آ جائیں۔۔ اس لیئے پلیز ۔۔۔ بی سیریس۔۔ رمشا کی بات سن کر میں بھی چوکنا ہو گیا اور اس کے ساتھ چلتا ہوا بڑی سنجیدگی سے بولا۔۔۔ لیکن یار ایک چھوٹی سی کس تو دے ہی سکتی ہو تو وہ بھی چلتے چلتے ۔۔۔۔۔ اسی سنجیدگی کے ساتھ کہنے لگی واپسی پر دوں گی اس پر میں بولا پکا ۔۔۔ تو وہ بڑی متانت سے کہنے لگی۔۔ ۔۔ پکا۔۔۔۔ اور پھر مجھے لے کر آنٹی کے پاس چلی گئی جو کہ ڈرائینگ روم میں بیٹھی تھیں اور ان کے سامنے میز پر کافی سارے کاغذات پڑے تھے مجھے دیکھتے ہی وہ اُٹھ کھڑی ہوئیں اور کہنے لگی بیٹا میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں انہوں نے یہ بات کچھ اس انداز سے کی کہ جسے سن کر میں بہت نادم ہوا ۔۔۔اور ان سے کہنے لگا ۔۔ایسی باتیں کر کے مجھے شرمندہ نہ کریں ۔۔۔میری بات سن کر انہوں نے مجھے سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔۔ جبکہ رمشا ان کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا تو وہ کہنے لگیں بیٹا جیسا کہ آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ رمشا کے ابو ایک آئل کمپنی میں کام کرتے ہیں ۔۔ بہت اچھی سیلری کی وجہ سے ہمیں پیسوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ پھر کہنے لگیں۔۔۔ یہ آج سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ میری ایک دوست نے مجھے شہر سے باہر ایک پلاٹ کے بارے میں بتلایا جو کہ اس وقت کافی سستے داموں مل رہا تھا اس لیئے میں نے وہ پلاٹ لے لیا اور پھر قانون کے مطابق اس کی رجسٹری بھی اپنے نام کروا لی۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگیں کہ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ کچھ عرصہ قبل شہر سے باہر ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کا جال سا بچھ گیا ہے 


اور میری بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ میرا پلاٹ عین ایک مشہور ہاؤسنگ سوسائیٹی کے ساتھ آ گیا ہے۔۔۔۔ اسی وجہ سے کئی ایک پارٹیوں نے میرے ساتھ رابطہ کیا لیکن میں نے اپنا پلاٹ بیچنے سے صاف انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے ایک پارٹی تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی اور اس نے میرے پلاٹ پر قبضہ کر لیا۔ پھر کہنے لگیں کہ جب مجھے اس بات کا علم ہو تو پہلے تو میں نے ان کے ساتھ زبانی کلامی بات چیت کی لیکن جب وہ نہ مانے تو تب میں نے ا ن لوگوں کے خلاف متعلقہ تھانے میں درخواست دے دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فائل سے ایک درخواست نکالی اور مجھے دکھاتے ہوئے بولیں ۔۔۔ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او نے قبضہ چھڑانا تو دور کی بات اس سلسلہ میں ایک روپے کا بھی کام نہیں کیا۔۔۔۔ اُلٹا مجھ سے اچھے خاصے پیسے اینٹھ لیئے۔۔ اس کے بعد انہوں نے ایک طویل اور دکھ بھری داستان سنائی جس کے مطابق اکیلی عورت دیکھ کر ہر بندے نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا اور پیسے لے کر چمپت ہو گیا آنٹی کی داستان سن کر میں بڑا حیران ہوا ۔۔اور ان سے بولا کہ اس سلسلہ میں آپ کے بیٹے یا کسی اور نے کوئی مدد نہیں کی؟ تو وہ سر د آہ بھر کر بولیں۔۔ جہاں تک میرے بیتے کا تعلق ہے تو اس سلسلہ میں اس نے میری بات ہی نہیں سنی۔۔ ہاں البتہ تانیہ کے ڈیڈی اور میرے میکے والوں نے کچھ بھاگ دوڑ کی لیکن۔۔۔ میری طرح وہ بھی بری طرح ناکام رہے۔۔ ۔۔ ان کی بات سن کر میں نے افسوس کا اظہار کیا ۔۔۔۔ اور پھر ان سے پلاٹ کا پتہ لیا کہ پہلے میں اس کے بارے میں اپنے طور پر چھان بین کرنا چاہتا تھا۔لیکن انہوں نے ضد کی کہ پہلے وہ مجھے اپنے ساتھ لے جا کر پلاٹ دکھائیں گی۔چنانچہ اس کے لیئے طے یہ ہوا کہ اگلے دن وہ ٹھیک دس بجے میرے آفس کے باہر گاڑی لے کر آئیں گی اور پھر ہم دونوں پلاٹ دیکھنے جائیں گے۔

 


یہاں میں ایک بات شئیر کرتا چلوں اور وہ یہ کہ ۔۔۔ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ ۔ میرے سامنے والے صوفے پر آنٹی بیٹھی تھیں جبکہ رمشا عین ان کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔ اور جس وقت آنٹی مجھے انہماک کے ساتھ اپنے پلاٹ کی داستان سنا رہیں تھیں عین اس وقت ان کے پیچھے کھڑی رمشا شرارت بھرے انداز میں مجھے اپنی چھاتیوں کا نظارہ پیش رہی تھی وہ شرٹ کے اوپر سے ہی اپنے دونوں ہاتھوں سے چھاتی کو پکڑتی اور میری طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ اپنی زبان نکال کر اسے چوسنے کا اشارہ کرتی۔۔۔ جسے دیکھ کر بھڑک بھڑک جاتے ۔۔۔۔لیکن میں مجبور کچھ نہ کر سکتا ۔۔۔لیکن۔۔۔۔ (چوری چوری) اس کی گول گول چھاتیوں کو ۔۔۔۔ دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندر سلگتا ۔۔۔۔۔ اور آنٹی کی وجہ سے دل پر جبر کر تا رہا ۔۔۔پھر اس نے ایک ایسی حرکت کی کہ جس نے میرے تن بدن ۔۔۔۔اور لن ۔۔۔۔ میں آگ لگا دی۔۔۔ وہ مجھے مزید گرم کرنے کی خاطر۔۔۔ صوفے سے تھوڑا ہٹ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہوئی ۔۔۔اور مجھے متوجہ کرتے ہوئے اپنی ٹائیٹس کو ۔۔۔تھوڑا سا نیچے کیا۔۔۔اتنا نیچے کہ جس کی وجہ سے مجھے اس کی چوت کے اوپر اُگے ہوئے چھوٹے چھوٹے صاف بال نظر آئے۔ اس ظالم نے ایک لمحے کے لیئے مجھے اپنی چوت کے اپری حصے کا نظارہ کروایا۔۔۔ اور پھر جلدی سے ٹائیٹس کو اوپر کر کے اسی بے نیازی کے ساتھ وہیں کھڑی ہو گئی کہ جہاں پر وہ پہلے کھڑی تھی۔۔۔۔اُف ف ف فف ۔۔۔ اس کی چوت کا اپری حصہ ۔۔۔۔ خاص کر اس پر اگے ہوئے۔۔۔۔ کالے کالے دیکھ کر میرے ماتھے پر پسینہ آگیا ۔۔۔ لیکن آنٹی کے متوجہ ہونے سے پہلے پہلے میں نے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا اور اس کے اپنے للے کو بڑی ہی مشکلوں کے ساتھ کھڑا ہونے سے روکا ۔۔ دوسری طرف سارے معاملات طے کرنے کے بعد میں نے ان سے اجازت لی ۔آنٹی میرے ساتھ باہر تک آنا چاہتی تھیں لیکن میں نے انہیں منع کر دیا۔۔۔۔۔ اور رمشا کے ساتھ باہر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔ راستے میں وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ کیسی لگی میری پرفارمنس؟؟ تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے اپنے لوڑے کی اکڑاہٹ کو کتنی مشکلوں سے روکا۔ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔ تمہیں الٹا سیدھا ہوتے دیکھ کر ہی تو میں نے اپنی خاص چیز کا نظارہ کروایا تھا۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔ اس کی بات سن کر اچانک میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ۔۔اور کسی کو نہ پا کر اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔ اور اسے سینے سے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اب دکھا نا اپنی بالوں سے بھری چوت۔۔۔۔ تو وہ کسمسا کر بولی۔۔۔۔ موقع آنے پر ضرور دکھاؤں گی۔۔۔ اور ۔پھر میرے ساتھ چمٹ گئی۔۔۔۔۔میں نے جلدی سے اس کو کسنگ کرنا چاہی ۔۔۔۔ لیکن اس ظالم نے کسنگ کے نام پر محض ہونٹوں سے ہونٹوں ملائے اور۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔ میرے واویلے پر۔۔۔۔ تھوڑی تفصیلی کسنگ کی۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔پھر بوسے کے بعد والے ۔۔۔۔۔ لوازمات جیسے۔۔زبان سے زبان ملانا۔۔۔۔۔ چھاتیوں کو دبوانا۔۔۔۔ لن پکڑنا۔۔۔اور دیگر بہت سے جنسی افعال پھر کسی وقت کا وعدہ کرتے ہوئے مجھ سے خود کو کھڑایا ۔۔۔۔اور پھر مجھے پکڑ کر گیٹ سے باہر دھکیل دیا۔گیٹ سے نکلتے ہوئے میں نے اس سے کہا کہ ۔۔۔۔ سالی۔۔۔اتنا ترساتی کیوں ہو ؟؟ تو وہ اٹھلا کر بولی۔۔۔۔ اسی طرح تو تیرے دل میں میری قدر آئے گی ۔۔ اور میں سمجھ گیا کہ اس کا شمار ان لڑکیوں میں ہوتا ہے جو دیتی کم اور ترساتی / بھگاتی زیادہ ہیں۔۔۔۔


۔۔۔ رمشا کی چوت پر اُگے ۔۔۔ ہلکے کالے بال۔۔۔۔اور اس کی گول گول چھاتیوں کو دیکھنے کے بعد میں گرم تو ہوا تھا ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔ گھر سے نکلتے وقت اس کے ساتھ چھوٹی سی کسنگ اور بغل گیری نے میرے اندر شہوت کا طوفان برپا کر دیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بندہ 24/7 پھدی کی تاڑ میں رہتا ہے لیکن رمشا کے بدن سے بدن ملا کر ۔۔۔۔اور ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ کر دفعتاً ۔۔۔۔ میرے اندر پھدی کی شدید طلب پیدا ہو گئی۔ میرا لن پھدی کے لیئے دھائیاں دینے لگا۔۔ ۔۔۔۔ابھی میں اس بارے سوچ ہی رہا تھا کہ دفعتاً میرے زہن میں بجلی کی سی تیزی سے ایک خیال کوندا۔۔۔۔۔۔۔اور اس خیال کے آتے ہی میرے ہونٹوں پر ۔۔۔ایک شہوت بھری مسکان ابھر آئی۔۔۔۔اور میرے لن میں جان پڑنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت د ن کے چار بج رہے تھے گرمیاں ہونے کی وجہ سے سورج سوا نیزے پر جبکہ میرا لن زیرو سے۔۔۔۔ 120 ڈگری سے بھی آگے کی طرف گامزن تھا۔۔۔۔ ۔۔جلدی کی وجہ سے میں نے پا س سے گزرتی ہوئی ٹیکسی کو روکا اور اس میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔میری منزل عدیل کا گھر تھا جہاں پر صائمہ دی موسٹ سیکسی لیڈی اپنی بیمار ماں کی خبر گیری کرنے آئی تھی پروگرام یہ تھا کہ آنٹی کا حال چال پوچھوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور موقعہ ملتے ہی صائمہ کو دبوچ لوں۔۔۔۔۔ ۔عدیل کا گھر آنے سے پہلے ہی میں ٹیکسی والے کو کرایہ دے کر فارغ ہو چکا تھا ۔۔۔ اس لیئے جیسے ہی ٹیکسی رکی میں جمپ مار کر نیچے اترا اور ۔۔آنٹی کے گھر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ بیل کے جواب میں صائمہ باجی نے دروازہ کھولا۔۔۔۔اس وقت انہوں نے ہلکے سبز رنگ کے ٹائیٹ فٹنگ والے کپڑے پہنے ہوئے تھے جبکہ سینے کو بڑے اہتمام کے ساتھ ایک بڑے سے دوپٹے کے ساتھ ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔ گیٹ کھول کر جیسے ہی ان کی نظر مجھ پر پڑی تو انہوں نے کمال بے تکلفی کے ساتھ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ دوپٹے کو اپنے سینے سے ہٹا دیا۔۔۔ حسبِ معمول ان کی قمیض کا گلا اتنا کھلا تھا کہ ان کی چھاتیاں آدھ ننگی ہو رہی تھیں۔۔۔ مجھے سامنے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔۔۔ اور وہ کہنے لگی ۔۔۔ انگریز کہتے ہیں کہ تھنک اباؤٹ ڈیول اینڈ ڈیول از دئیر ۔( ابھی شیطان کے بارے سوچا ہی تھا کہ وہ حاضر ہو گیا) تو میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ اس محاورے کی وجہء تسمیہ کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگیں تھوڑی دیر پہلے ہی میں نے امی سے تمہارے بارے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ کافی دن ہو گئے ۔۔۔۔ شاہ جی نے ہماری طرف چکر نہیں لگایا۔۔ پھر کہنے لگیں۔۔۔ ابھی امی نے اتنی بات کی تھی کہ باہر بیل ہو گئی۔۔۔ جسے سن کر میرے دل نے کہا کہ ہو نہ ہو یہ شاہ ہو گا ۔۔۔اور مسٹر شاہ یہ واقعی تم تھے۔۔۔۔ پھر کہنے لگی اتنے دن کیوں نہیں نظر آئے ؟ تو میں نے کام زیادہ ہونے کا بہانہ لگا لیا۔۔۔


اور پھر انہوں نے مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا تو میں گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے بولا ۔۔ اب آنٹی کی طبیعت کیسی ہے؟ تو وہ کہنے لگیں اب تو بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا اور پھر ٹائٹیس کے اوپر ہی ان کی مست گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔اُف کتنی نرم ہے یہ ۔۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔ کیا بات ہے آج بڑے تپے ہوئے (گرم) نظر آ رہے ہو تو میں نے ان کی طرف دیکھ کر شہوت بھرے لہجے میں کہا کہ …جس شخص کی نظروں کے سامنے ایک جیتا جاگتا سیکس بم اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ کھڑا ہو۔۔۔۔ وہ گرم نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ اس کے ساتھ ہی میں نے ان کے حسن اور سیکس کے بارے میں ایک بہت ہی شاندار قسم کا قصیدہ کہہ دیا ۔۔۔۔ میرے منہ سے اپنی تعریف سن کر وہ مست ہو کر بولیں۔۔۔ ویسے تم بھی کچھ کم نہیں ہو خاص کر یہ جو تمہارے پاس ایک موٹا سا ڈنڈا ہے نا ۔۔۔ ۔۔۔ یقین کرو میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو گیلی ہو جاتی ہوں۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے بلا تکلف ان کی ٹائیٹس میں ہاتھ ڈالا اور ان کی چوت کو چیک کرنے لگا۔۔۔۔ وہ گرم تو تھی لیکن اس وقت گیلی نہیں تھی۔یہ دیکھ کر میں ان سے بولا۔۔۔ آپ کی چوت تو ابھی خشک ہے تو وہ کہنے لگی انگلی کو ذرا اندر ڈالنے کی زحمت گوارا کرو تو پتہ چلے۔۔۔۔ کہ وہ گیلی ہے یا خشک۔۔۔۔ سو ان کی بات سن کر میں نے ٹائیٹس سے ہاتھ نکالا اور اپنی درمیانی انگلی کو ان کے منہ کے پاس لے گیا ۔۔۔ صائمہ باجی نے اپنا منہ کھولا اور میری انگلی کو اندر لے کر چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔اور اس پر مختلف اینگل سے زبان پھیرتی رہیں رہیں۔۔۔۔ پھر انہوں نے انگلی منہ سے باہر نکالی اور زبان نکال کر میری انگلی پر تھوک مل دیا۔۔۔۔ اور کہنے لگیں ۔۔ اب اسے چوت میں ڈال ۔۔ تو میں نے اپنی انگلی کو ان کی چوت میں ڈالا ۔۔۔تو وہ ہلکی ہلکی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔ چنانچہ میں اپنی انگلی کو ان کی چوت میں گھماتے ہوئے بولا۔۔۔ باجی آپ کی چوت لیک ہونا شروع ہو گئی ہے تو وہ آہ بھر کر بولیں۔۔۔۔ ۔۔ یہ تمہاری وجہ سے گیلی ہوئی ہے۔۔۔ اور مجھے انگلی باہر نکالنے کو کہا۔۔۔ چنانچہ میں نے انگلی ان کی چوت سے باہر نکالی اور ان سے بولا۔۔۔ لیکن میرا دل تو آپ کی دل کش گانڈ پر ہے میری بات سن کر وہ آنکھیں نکالتے ہوئے بولیں۔۔۔خبردار !!۔۔۔جو میری گانڈ کے بارے میں سوچا بھی۔۔۔۔ یہ میری گانڈ ہے۔۔۔۔۔ تمہارے لنڈ کا گودام نہیں۔۔۔۔ تو میں نے چلتے چلتے ان کی مست گانڈ پر ہلکا سا تھپڑ مارتے ہوئے بولا۔۔۔ لیکن مجھے تو آپ کی مست گانڈ ہی چاہیے تو وہ کہنے لگیں۔۔۔۔ تمہارے سالے صاحب کو بھی ہمیشہ یہی چاہیئے ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ میرے آگے ڈالے نہ ڈالیں ایک دفعہ اس میں ضرور ڈالتے ہیں۔۔۔۔اس لیئے تم سے درخواست ہے کہ ۔۔۔ کچھ میری پھدی کا بھی خیال کرو۔اس پر میں چلتے ہوئے رک کر بظاہر حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔۔


کیا میری طرح وہ بھی گانڈ لور ہیں ؟ تو وہ اٹھلاتے ہوئے بولیں۔۔ ۔۔۔ تم لور کی بات کر رہے وہ تو میری گانڈ کے دیوانے ہیں اور یقین کرو ۔۔۔میری چوت سے زیادہ اس کو چاٹتے اور اس میں ڈالتے ہیں۔۔ اس پر میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ آپ کا شوہر گانڈ مارے یا چوت ۔۔۔ مجھے اس سے غرض نہیں ۔۔۔۔۔ لیکن میں تو صرف گانڈ ہی مارنے کے موڈ میں ہوں ۔۔ میری بات سن کر انہوں نے بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگیں۔۔۔۔ ٹھیک ہے بابا ۔۔ گانڈ ہی مار لینا ۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ۔۔۔اس سے پہلے تم کو میری چوت سے پانی نکالنا پڑے گا۔۔۔۔ چاہے اسے چاٹ کے نکالو یا۔۔۔۔۔اپنے لوڑے سے۔۔۔۔بولا منظور ہے؟ تو میں نے جھٹ سے ہاں کر دی۔۔۔۔آنٹی کے کمرے کے قریب پہنچتے ہی صائمہ باجی چونک کر بولی۔۔۔ مجھے تو یاد ہی نہیں رہا۔۔۔۔ ایسا کرو تم مام کے پاس جاؤ میں تمہارے لیئے ٹھنڈا لاتی ہوں۔۔۔اتنا کہتے ہی وہ واپس چلی گئی میں نے دیکھا تو آنٹی کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس لیئے میں بنا دستک دیئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔


دیکھا تو آنٹی کہیں جانے کی تیاری کر رہیں تھیں ان کا ایک پاؤں سنٹرل ٹیبل پر تھا ۔۔۔۔۔ اور وہ جھک کر سینڈل پہن رہیں تھیں۔۔۔۔ اور اس طرح جھک کر شوز پہننے کی وجہ سے ان کی قمیض سے سفید رنگ کی بڑی بڑی چھاتیاں صاف جھلکتی نظر آ رہیں تھی۔۔۔ مجھے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر بھی۔۔۔۔۔انہوں نے سیدھے ہونے کی زحمت گوارا نہیں کی اور بڑے شوخ لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔آؤ شاہ جی! کیسے ہو تم؟ آج بڑے دنوں کے بعد چکر لگایا ہے۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا آنٹی میں سنا تھا کہ آپ کو فلو اور بخار ہو گیا ہے تو سوچا کہ آ پ کی خیریت پوچھتا جاؤں تو وہ اسی حالت میں جھکے جھکے بولیں ۔۔۔بیٹا آپ کو زحمت ہو گی زرا یہ ڈسٹر تو پکڑانا۔۔۔۔ میں نے دیکھا تو میرے پاس ہی صفائی والا کپڑا پڑا تھا سو میں نے اسے اُٹھایا اور آنٹی کے قریب چلا گیا ۔۔اتنے قریب کہ جھکے ہوئے مجھے ان کے نپلز کے سوا۔۔۔۔ باقی چھاتیاں صاف دکھائی دے رہیں تھیں ۔۔یہ سب دیکھتے ہوئے میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ۔۔۔۔ آج تو بہت ہی شبھ دن ہے کہ جسے دیکھو ۔۔۔۔۔ اپنی چھاتیا ں دکھانے پر تلی ہوئی ہے ۔۔ سب سے پہلے رمشا نے شرارت سے سہی پر مجھے اپنی جوان چھاتیوں کی جھلک دکھائی ۔۔۔پھر ادھر آنے پر صائمہ دوپٹے کو ہٹا کر مجھے اپنی چھایتوں کا نظارہ پیش کیا۔۔۔۔۔ اور اب کمرے میں داخل ہوتے ہی۔۔آنٹی کی دل کش چھاتیاں دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف آنٹی جو کہ ابھی تک جھک کر سینڈل پہن رہیں تھیں اس کے باوجود بھی کہ انہوں نے مجھے اپنی چھایتوں پر نظر گاڑتے ہوئے اچھی طرح سے دیکھ لیا تھا لیکن بجائے سیدھا کھڑا ہونے کے الٹا مجھ سے ڈسٹ صاف کرنے والا کپڑا منگوا رہیں تھیں ۔۔اور قریب آنے پر وہ نظارہ بھی دیکھنے کو مل گیا جو دور سے دیکھنا ممکن نہ تھا اس وقت آنٹی کے صرف نپلز نظر نہ آ رہے تھے باقی ان کی صحت مند چھاتیاں صاف دکھائی دے رہیں تھیں 


ادھر سینڈل پر ڈسٹر مارنے کے ساتھ ساتھ وہ میرے ساتھ باتیں بھی کر تی جا رہیں تھیں۔۔۔جب میں نے ان سے پوچھا کہ آنٹی اب بخار کیسا ہے ؟ تو وہ کہنے لگیں کہ اب میں ٹھیک ہوں۔۔تو میں نے موقعہ غنیمت جان کر۔۔۔۔۔۔ان کی خوبصورت چھاتیوں پر نظریں گاڑتے ہوئے تھوڑا ذُومعنی لہجے میں بولا ۔۔۔کوئی دوائی لی تھی یا پھر ٹیکہ لگوا کے آرام آیا؟ میری بات سن کر انہوں نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر وہ بھی اسی ذُومعنی لہجے میں بولیں ۔۔۔ ٹیکہ کس نے لگوانا تھا ؟ آجا کر ایک تمہارے انکل ہیں۔۔۔۔ جن کو آفس سے اتنی فرصت نہیں ملتی کہ بیمار بیگم کو ایک ٹیکہ ہی لگوا دوں تو اسے بھی آرام ملے۔۔۔اس پر میں نے انہیں اسی لہجے میں کہا آنٹی جی آپ نے مجھے بلایا لیا ہوتا ۔۔۔ میں آپ کو ایسا ٹیکہ لگواتا کہ ایک منٹ میں آپ شانت ہو جاتیں۔ میری بات سن کر انہوں نے ایک بار پھر بڑی ہی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔۔۔ جسے سنتے ہی وہ ایک دم سے سیدھی کھڑی ہو گئیں۔۔۔۔ اور مجھ سے کہنے لگیں بیٹھ جاؤ بیٹا ۔۔۔ اسی اثنا میں صائمہ باجی بھی کمرے میں داخل ہو چکی تھیں آنٹی کو دیکھ کر بولیں تیاری ہو گئیں ماما؟ تو آنٹی جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔ میں ریڈی ہوں بس موٹی آئے تو ہم چلتے ہیں اس پر میں دخل در معقولات کرتے ہوئے بولا ۔۔ آپ کہیں جا رہیں ہیں؟ تو آنٹی کہنے لگیں۔۔۔ ہاں بیٹا ہمارے پرانے محلے میں ایک شخص مر گیا تھا اس کے افسوس کے لیئے جا رہی ہوں آنٹی کی بات سن کر میرا من خوشی سے جھوم اُٹھا ۔۔۔اتنی دیر میں باہر گھنٹی کی آواز سنائی دی۔۔۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی صائمہ باجی اُٹھنے ہی والی تھی کہ آنٹی کہنے لگیں ۔۔تم شاہ جی کے پاس بیٹھو ۔۔ میں دیکھتی ہوں اگر موٹی ہوئی تو میں دو دفعہ بیل بجا کر اس ساتھ چلی جاؤں گی تم گیٹ کو لاک کردینا۔۔۔یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئیں اب کمرے میں ہم دونوں اکیلے رہ گئے تھے۔۔ یہ معاملہ دیکھ کر میں اُٹھنے ہی لگا تھا کہ میری نیت کو بھانپ کر۔۔۔۔۔صائمہ باجی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بولی ۔۔۔ شش ۔ ابھی نہیں۔۔۔ اگر باہر آنٹی ہوئیں تو ماما جاتے ہوئے بیل دیں گی ۔۔۔تب تک چُپ۔۔ اور میں چُپ کر کے بیٹھا گیا۔۔ تھوڑی دیر بعد ایک مخصوص انداز میں بیل بجی ۔۔۔ جسے سنتے ہی صائمہ باجی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔۔ مبارک ہو ماما چلی گئیں۔۔۔ پھر بولی۔۔۔تم بیٹھو میں گیٹ بند کر کے ابھی آئی۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

باہر والے گیٹ کو لاک کر کے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں تو میں نے آگے بڑھ کر ان کو اپنی بانہوں میں لے لیا اس پر وہ میرے سینے سے لگتے ہوئے بولیں کیا بات ہے آج گرمی کچھ زیادہ ہی نہیں چڑھ گئی؟ تو میں ان کے گال کو چومتے ہوئےبولا۔۔ ۔۔۔۔ ہیٹر کے آگے بیٹھنے سے گرمی نہیں آئے گی تو کیا سردی آئے گی؟ اس پر وہ میرے لن کو مسلتے ہوئے بولیں گرمی تمہیں ہیٹر سے ملی ہے اور لینا تم ٹھنڈی چیز چاہتے ہو ۔۔۔۔اس پر میں نے ان کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کس کم بخت نے کہا کہ آپ کی گانڈ ٹھنڈی ہے آپ کی اس کیوٹ گانڈ کو دیکھ کر تو مردہ لن بھی زندہ ہو جاتا ہے میرا تو پھر جیتا جاگتا لن ہے اس پر وہ پینٹ کے اوپر سے ہی میرے لن کو دباتے ہوئے بولی تم اسے لن کہتے ہو۔۔ اس پر میں نے ان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا لن کو لن نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟ میری بات سن کر وہ مسکرائی اور شہوت بھرے لہجے میں بولی اس لنڈ کو صرف لنڈ کہنا ۔۔۔۔ لنڈ کی توہین ہے یہ تو بہت بڑی بلا ہے ایسی بلا جو کم از کم دس "بلاؤں" پر بھاری ہے ۔۔اپنے لن کی تعریف سن کر میں خوشی سے پھول گیا اور پھر ان سے بولا اچھا یہ بتائیں کہ اس دن اس بلا نے مزہ دیا تھا؟ میری بات سن کر انہوں نے ایک سسکی لی ۔۔۔اُف۔ تم مزے کی بات کر رہے ہو اس دن کے بعد سے میری چوت بار بار تمہاری "اس بلا " کی ڈیمانڈ کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے منہ کو میرے منہ میں ڈال دیا ۔۔۔۔۔اور میرے ہونٹوں کو چوسنے ہی لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ ۔۔ بجلی کے جاتے ہی وہ کہنے لگیں ۔۔۔اوہ شِٹ۔۔۔۔ایک تو اس بجلی نے ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے تو میں نے ان سے کہا کہ بجلی جاتی ہے تو جائے ہم نے کون سا کپڑے پہن کے چودائی کرنی ہے ۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگیں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو لیکن ۔۔۔ یار ایسے مزہ نہیں آئے گا۔۔۔۔ اس کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگیں تم ویٹ کرو میں نہا کر آتی ہوں اس طرح میں کچھ فریش بھی ہو جاؤں گی اور گرمی بھی کم لگے گی۔۔۔ اس وقت میرے زہن پر منی سوار تھی ان کو جاتے دیکھ کر میں کہنے لگا ۔۔۔ میں بھی نہاؤں گا تو وہ شرارت سے بولیں ایسے کرتے ہیں آج ہم دونوں اکھٹے نہاتے ہیں۔۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔۔ ہمارے نہانے کے لیئے عدیل کا واش روم ٹھیک رہے گا۔۔۔۔ اتنا کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم عدیل کے کمرے میں آ گئے۔۔۔یہاں آتے ہی وہ مجھے لے کر واش روم میں گھس گئیں ۔۔عدیل کا واش روم دیکھ کر میں تو حیران رہ گیا یہ ایک وسیع واش روم تھا اندر جدید طرز کی چیزیں لگی ہوئیں تھیں ۔۔۔ اور واش روم میں لگی ٹائلز بہت ہی خوبصورت اور قیمتی قسم کی تھیں واش بیس کے اوپر ایک بڑا سا آئینہ لگا تھا ۔۔۔ جبکہ بیسن کے سامنے ایک اسٹائلش سا کموڈ پڑا ہوا تھا اور اس کموڈ سے تھوڑے فاصلے پر ایک بڑا سا باتھ ٹب بنا ہوا تھا اور اس باتھ ٹب کے عین اوپر خوبصورت سا نل لگا ہوا تھا اور اس ٹیپ کے عین اوپر شاور بھی لگا ہوا تھا مجھے یوں انسپکشن کرتے دیکھ کر وہ کہنے لگیں ۔۔ ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔ بڑا خوبصورت واش روم بنوایا ہے تو وہ جواب دیتی ہوئے بولیں یہ سب عدیل کی فرمائش پر لگایا گیا ہے تو میں نے ان کی طرف دیکھ کر آنکھ مارتے ہوئے بولا۔۔ باجی شرط لگا لو ۔۔ عدیل نے گوری کو اس واش روم میں ضرور چودا ہو گا۔۔۔

تو وہ مجھے سیکسی سمائل دیتے ہوئے کہنے لگیں عدیل اس گوری کو چودتا ہو گا یا نہیں ۔۔ یہ تو مجھے نہیں معلوم ……..ہاں میں یہ ضرور جانتی ہوں کہ آج اس واش روم میں میری گانڈ ضرور "وجنے" والی ہے ان کی بات سن کر میں ان سے لپٹ گیا اور ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر ان کا رس چوسنے لگا۔۔۔۔ ہونٹ چوسنے کے کچھ ہی دیر بعد میں نے اپنی زبان ان کے منہ میں ڈال دی۔۔ اور پھر بڑی بےتابی کے ساتھ ان کی زبان کو چوسنے لگا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ میرا ایک ہاتھ ان کی موٹی گانڈ پر چلا گیا۔۔۔اور میں ان کی نرم گانڈ پر ہاتھ پیھرنے لگا۔۔۔۔۔۔ جبکہ ان کا ہاتھ میری پیٹ کی زپ پر چلا گیا۔۔۔۔اور انہوں نے زپ کھولتے ہوئے لن کو باہر نکالنا چاہا ۔۔۔ لیکن ٹائیٹ انڈر وئیر پہننے کی وجہ سے لن باہر نہ نکل سکا تو انہوں نے اپنی زبان کو میرے منہ سے کھینچا اور کہنے لگی کیا مصیبت ہے یار۔۔۔آخر تم بوائز لوگ پینٹ کے نیچے انڈر وئیر کیوں پہنتے ہو؟ ان کی بات سن کر میں نے جلدی سے پینٹ کے ساتھ ساتھ انڈروئیر کو بھی اتار دیا۔۔۔۔۔ اور لن کو ان کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے بولا ۔۔ آپ انڈر وئیر کی بات کر رہی تھیں میں نے پینٹ بھی اتار دی ہے تو اس پر وہ میرے لن پر نظریں گاڑتے ہوئے بولیں ۔۔ صرف پینٹ ہی نہیں اتارنی بلکہ پورے ننگے ہو جاؤ ۔۔۔اتنا کہتے ہی خود انہوں نے بھی کپڑے اتارنے شروع کر دیئے۔۔ اگلے چند سیکنڈز کے بعد ہم دونوں کے کپڑے اتر چکے تھے۔۔۔۔ کپڑے اتارنے کے بعد وہ سیدھا باتھ ٹب کی طرف چلی گئیں اور وہاں جا کر انہوں نے شاور کھول دیا۔۔

 


شاور کا شفاف پانی ان کے سیکسی جسم پر گرنے لگا۔۔۔ اپنے ننگے جسم پر پانی گرتا دیکھ کر وہ مجھ سے کہنے لگیں تم بھی آ جاؤ۔۔ چنانچہ ان کے کہنے پر میں بھی باتھ ٹب کے اندر چلا گیا ۔ اور شاور کے نیچے ہی ان سے لپٹ گیا۔۔ ہم نے تھوڑی سی کسنگ کی اور پھر ۔۔ میں نے ان کی خوبصورت چھاتیوں کو اپنے دونوں ہاتھو ں سے پکڑا اور انہیں دبانے لگا۔۔ جبکہ انہوں نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اسے دباتے ہوئے بولیں ۔۔۔ میری چھاتیاں چوسو۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے ان کی چھاتی کے ایک موٹے سے نپل کو اپنے منہ میں لیا ۔۔۔۔اور اسے چوسنے لگا۔۔۔ نپلز چوستے چوستے میں نے اپنے ہاتھ کو ان کی بالوں سے پاک چوت پر رکھا ۔۔۔۔اور درمیانی انگلی کو ان کی چوت میں ڈالنے ہی لگا تھا کہ انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑ لیا۔۔۔ اس پر میں نے جب سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔۔۔تو وہ بڑے اطمیان سے کہنے لگیں ۔۔ معاہدے کے مطابق تم نے میری چوت کو دو طریقوں سے ٹھنڈا کرنا ہے یا چاٹ کر یا پھر اس میں اپنا موٹے لنڈ کو ڈال کر۔۔۔ انگلی والی آپشن نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔۔ اس پر میں نے احتجاج کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ بڑے نخرے سے کہنے لگیں ۔۔۔ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ میں نےکہہ دیا توکہہ دیا۔۔۔ اس وقت چونہ مجھ پر ان کی موٹی سی گانڈ کا بھوت سوار تھا ۔۔۔اس لیئے میں نے ان سے کہا۔۔۔ میں چوت چوسوں گا۔۔میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔مطلب تم نے باز نہیں آنا ۔۔ تو میں نے ناں کرتے ہی ان کے نرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔اور ان کے نرم ہونٹوں کا رس پینے لگا۔۔۔۔ہمارے اوپر شاور کا پانی گر رہا تھا اور اس شاور کے بارے میں میں بتاتا چلو کہ عام شاور کی نسبت اس کا سائز بہت بڑا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اس کے نیچے کھڑے ہو کر ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ہم بارش میں کھڑے ہوں۔۔۔۔

اس وقت ہم دونوں منہ میں منہ ڈالے گیلی کسنگ کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف ہمارے جسم شاور کے پانی سے گیلے ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔ پانی کے کچھ قطرے ہم دونوں کے چہروں پر بھی گر رہے تھے۔۔۔۔ ۔۔۔ کسنگ کے تھوڑی دیر بعد ہی صائمہ باجی نے میرے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے۔۔۔ اور میرے گال کو چومتے ہوئے بولی۔۔ تیرا لوڑا چوس لوں؟ تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ ۔۔۔۔ یہ لنڈ آپ کا اپنا ہے اسے جتنا مرضی ہے چوسیں ۔ میری بات سن کر انہوں نے بڑی ادا سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔ میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر باتھ ٹب میں کچھ اس طرح سے اکڑوں بیٹھی کہ شاور کا پانی سیدھا میرے لن پر گرنا شروع ہو گیا۔۔۔ میرے لن پر پانی کے قطرے گرتے دیکھ کر انہوں نے اپنی زبان نکالی اور لوڑے پر پڑے والے پانی کے قطروں کو چاٹنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔۔لوڑا چاٹتے چاٹتے انہوں نے میری طرف دیکھا اورکہنے لگیں۔۔۔ کیسا لگ رہا ہے؟ تو میں نے مست آواز میں جواب دیا ۔۔کہ بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔تو وہ کہنے لگیں اچھا تو اب لگے گا کہ جب میں تیرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسوں گی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا سارا منہ کھولا اور لن کو ۔۔۔ منہ میں لے لیا اس طرح اب شاور کا پانی ان کے سر پر گرنا لگا جس سے ان کے سلکی بال گیلے ہو کر ان کے نرم بدن کے ساتھ لپٹ گئے۔ اس طرح انہوں نے کچھ دیر میرے لوڑے کو منہ میں اندر باہر کیا پھر ۔۔۔ لن کو منہ سے نکال لیا۔۔۔۔ اور لن کو ہاتھ میں پکڑ کر آگے پیچھے کرنے لگیں۔۔۔ ان کے ایسا کرنے سے ایک دفعہ پھر لن پر شاور کا پانی گرنا شروع ہو گیا۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور میرے ٹوپے پر زبان پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔بڑا مزہ آ رہا ہے جان۔۔۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے میں بارش میں کھڑی ہو کر ۔۔۔ لوڑا چوس رہی ہوں۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہو ں نے میرے لن کو پکڑ کر اوپر کیا ۔۔اور میرے لن کے نیچے والی جگہ پر اپنی زبان پھیرے لگیں۔۔۔ پھر اس کے بعد انہوں نے اپنی زبان کو لوڑے کے چاروں طرف پھیرا۔۔۔ ان کا انداز اس قدر مست تھا کہ میرے منہ سے سسکیوں کا طوفان نکل گیا ۔۔آہ ہ ہ ہ ہ۔۔اُف ف ف ف۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے ان کے سر کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔یہ دیکھ کر انہوں نے میرے لوڑے پر زبان پھیرنے بند کی اورمیری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ ڈسچارج ہونے لگے ؟ تو میں نے ان سے کہا اتنی جلدی ؟ میری بات سن کر وہ اطمیان سے بولیں ۔۔۔تیری سسکیاں سن کر میں سمجھی کہ شاید تم چھوٹنے والے ہو۔۔۔اس سے کے ساتھ ہی انہوں نے لن چوسنے کا عمل تیز کر دیا۔۔۔ کچھ دیر چوسنے کے بعد وہ اوپر اُٹھیں ۔ ۔۔ اور اپنی ٹانگوں کو پوری طرح کھول کر بولیں۔۔ چل اب میری چوت چوس۔۔۔۔۔


ان کی بات سن کر ۔۔ ان کی طرح میں بھی اس باتھ ٹب میں اکڑوں بیٹھ کر ان کی چوت کو گھورنے لگا۔۔۔ کیا مست نظارہ تھا۔۔۔ شاور کا پانی۔۔۔ ان کے سر سے ہوتا ہوا ۔۔ان کی بڑی بڑی چھاتیوں کے درمیان بنی گھاٹی سے گزر کر ۔۔۔ ایک لکیر سی بناتا ہوا ۔۔۔۔۔چوت کی طرف آ رہا تھا۔۔۔ اور پھر چوت سے نیچے فرش پر گر رہا تھا۔۔۔۔۔۔مجھے یوں گھورتے دیکھ کر وہ شہوت بھرے انداز میں کہنے لگیں ۔۔۔ کیا دیکھتے ہو؟ چوت چوسو۔۔۔۔تو میں نے ان سے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ تو میں نے کہا ایک تو شاور کا پانی دیکھ رہا ہوں کہ کیسے آپ کی تنی ہوئی چھاتیوں کے درمیان سے جگہ بناتا ہوا آپ کی چوت پر گر رہا ہے۔۔ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آپ پیشاب کر رہی ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ جوش میں بولیں ۔۔۔ اس دن میرے پیشاب والے سین اس نظارے میں کیا فرق ہے؟ تو میں نے کہا وہ دن پانی آبشار کی مانند آپ کی چوت سے نکل نکل کر نیچے گر رہا تھا جبکہ آج یہ ندی کے پانی جیسا اٹھلاتا شور مچاتا اور اپنی قسمت پر ناز کرتے بہہ رہا ہے تو وہ حیرا ن ہو کر کہنے لگیں۔۔۔ قسمت پر ناز کا مطلب؟ تو میں نے کہا شاور کا جو پانی آپ کی چوت سے ٹچ ہو کر نیچے گررہا ہے وہ اس بات پر ناز کر رہا ہے کہ اس نے ایک مہا کیوٹ لیڈی کی چوت کو بوسہ دیاہے ۔۔ میری بات سن کر وہ ایک دم خوش ہو کر بولیں باتیں کرنا تو کوئی تم سے سیکھے۔۔۔پھر اٹھلاتے ہوئے بولیں میری چوت کے بارے میں اور بھی کچھ کہو ناں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ میری جان دوسری بات یہ کہ اتنی دور سے بھی آپ کی چوت سے بڑی سڑانگ قسم کی مہک آرہی ہے تو وہ کہنے لگیں۔۔۔ کیسی ہے یہ مہک؟ تو میں نے ان سے کہا ایک دم آگ لگانے والی مست مہک ہے تو وہ بولیں دور سے کیوں سونگھ رہے ہو پاس آ کے چیک کرو نا۔۔اور میں کھسک کر ان کے چوت کے بلکل قریب بیٹھ گیا۔۔اور پہلے تو اپنے ناک کو ان کی چوت سے لگالیا۔۔۔اور اس کی مست مہک کو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔ ان کی چوت مہک لیتے لیتے میں بھی مست ہو گیا۔۔اور میں نے زبان باہر نکالی اور ان کی چوت پر رکھ دی۔۔ ۔

جیسے ہی میری زبان ان کی چوت پر لگی ۔ تو انہوں نے منہ بھینچ کر ہلکی سیک لی۔۔۔ اور کہنے لگی۔۔۔ چوس میری جان۔۔سو سب سے پہلے میں نے اپنی زبان کو ان کی چوت کے ہونٹوں پر پھیرا۔۔پھر دونوں انگلیوں کی مدد سے ان کی چوت کے دونوں لب کھولے اور ان کے چھوٹے سے پیشاب والے سوراخ پر زبان پھیرتے ہوئے زبان کی نوک اس باریک سے سوراخ میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔ میرے اس عمل سے ان کو اتنی لزت ملی کہ وہ ہائے میری جان ۔۔۔ہائے میری جان کہتے ہوئے ۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھے اور میرے سر کو اپنی چوت پر دبانے لگیں لیکن میں نے ان کے ہاتھوں کو بڑی نرمی سے ایک طرف کیا۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ اپنی زبان کو ان کی چوت میں داخل کر دیا۔۔۔ حسبِ توقع ان کی چوت گرم پانی سے بھری پڑی تھی میں ان کے نمکین پانی کو بڑی آہستگی کے ساتھ چاٹ کر صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔ اس وقت پوزیشن یہ تھی کہ میرےسر پر شاور کا پانی گر رہا تھا اور اس کے نیچے میں زبان نکالے میڈم کی چوت کا پانی چوس رہا تھا ۔۔۔۔کچھ دیر تک میں ان کی چوت میں زبان پھیرتا رہا ۔۔۔ پھر میں نے چوت کے اندر سے زبان نکالی اور ان کے پھولے ہوئے دانے کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔ دھیرے سے اپنی دو انگلیاں ان کی چوت میں ڈال دیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے چوت میں انگلیوں کو جانے دیا مجھے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ دانہ منہ میں ڈالے ڈالے میں نے اپنی انگلیاں ان کی چوت کے آخر تک لے گیا۔۔۔یہاں تک کہ میری انگلیاں ان کی یوٹرس (بچہ دانی ) سے جا ٹکرائیں۔۔۔۔ اور میں ایک مناسب رفتار سے ان کی بچہ دانے پر اپنی انگلیوں کی ٹھوکر مارتا رہا۔۔۔ میرے اس عمل سے وہ لذت سی دوھری ہو گئیں اور کہنے لگیں۔۔۔ اف ۔۔ظالم یہ تم نے کیا کیا۔۔ ایسے تو کسی نے بھی میری چوت کو نہیں چوسا ۔۔۔۔ جیسا تم چوس رہے ہو۔۔اُف۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہہ ہ ہ ۔۔۔۔میری چوت کو کبھی ۔میں کافی دیر تک یہ کھیل کھیلتا رہا مطلب بیک وقت دانہ چوستا اور انگلیوں کو بچہ دانے سے ٹکراتا رہا۔۔۔اس دوران وہ کم از کم تین بار ڈسچارج ہوئیں-

 


پھر کچھ دیر بعد وہ اٹکتی ہوئی آواز میں کہنے لگیں شاہ پلیززززززز ۔۔ انگلیاں چھوڑ اپنے زبان کو میری چوت میں ڈال۔تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے دانے سے منہ ہٹایا اور ان کی چوت میں ڈال دیا۔۔۔ جیسے ہی میری زبان ان کی چوت میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ تو مزے کی شدت سے ان کے ہونٹ خود بخود بند بھینچ گئے آنکھیں شدتِ جزبات سے بند ہو گئیں۔۔۔ اور دبی دبی سسکیوں کے درمیان ان کا چوت رس نکلنے لگا۔۔میری زبان لنڈ کی طرح ان کی چوت کے اندر باہر ہوتی رہی ۔۔ان کی چوت کے ہونٹ تھرکنے لگے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک بڑا سا آگیزم کر دیا۔۔۔ وہ میرے منہ میں ہی ڈسچارج ہو گئیں تھیں۔۔۔ان کی ساری منی چاٹنے کے بعد ۔۔میں نے وہاں سے اپنا منہ ہٹایا۔۔۔ اس وقت شہوت کی وجہ سے میرا سارا جسم کانپ رہا تھا۔۔ میں نے ایک لمبی سانس لی۔۔ اُف ف ف فف ف فف ف فف۔یہ دیکھ کر وہ میرے اوپر جھکیں۔۔۔اور اپنی خوبصورت آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست کر کے بولیں۔۔ایک آخری کام اور کر دو ۔۔ اس کے بعد جتنی مرضی ہے گانڈ مار لینا۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا وہ کیا؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔بس ایک د فعہ لن میری پھدی میں ڈال۔۔۔ ان کی بات سن کر میں کھڑا ہو گیا۔۔۔ ۔۔ تو وہ بھی کھڑی ہو گئیں اور مجھے اپنے قریب کر لیا۔۔۔۔اتنا قریب کہ ہم دونوں میں ساری دوری ختم ہو گئی۔۔ اس کے بعد انہوں نے کھڑے کھڑے میرے لن کو پکڑ ا اور پہلے اس کو تھوک سے تر کیا۔۔۔۔ پھر اپنی چوت کے سوراخ پر رکھ کر بولیں۔۔۔ ۔۔۔ گھسہ مار ۔۔۔۔ میں نے لن کو ہلکا سا پش کیا ۔۔۔تو میرا لن پھسل کر ان کی چوت کے اندر چلا گیا ۔۔۔۔ لن کو اپنی چوت میں محسوس کرتے ہی وہ کہنے لگیں۔۔ گھسے مار۔۔۔اور میں نے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔میں کچھ دیر تک ان کو چودتا رہا۔۔۔ کچھ دیر بعد میں نے لن کو پھدی سے باہر نکالا ۔۔ تو وہ شہوت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔ مزہ آ گیا یار ۔۔ تم بہت اچھا چودتے ہو۔۔ 


اس کے بعد انہوں نے ٹب کے اندر ہی جھک کر اپنے دونوں ہاتھ۔۔ باتھ پینل (دیوار ) پر رکھ دیئے۔۔اس طرح شاور کا پانی ان کی نرم گانڈ پر گرنا شروع ہو گیا۔۔ ان کی گانڈ پر پانی گرتا دیکھ کر میں بےتابی سے آگے بڑھا ۔۔اور ان کی گانڈ کو چاٹنا شروع ہو گیا۔۔ ۔۔دوسری طرف وہ اپنی گانڈ کو باہر نکال کر بولیں ۔۔ لے اپنا شوق پورا کر لے۔۔۔ ان کی بات سن کر میں گھٹنوں کے بل اوپر اُٹھا۔۔۔۔اور انکے پیچھے کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور اپنی دو انگلیوں کو منہ کے قریب کیا ۔۔اور ان پر ایک بڑا سا تھوک کا گولہ پھینکا ۔۔۔پھر یہ دونوں انگلیاں میڈم کی گانڈ کی طرف لے گیا۔واؤؤؤؤ۔۔ ان کی گانڈ کا سوراخ بڑا دل کش نظارہ پیش کر رہا تھا ۔ پیور وائٹ گانڈ کے بیچوں بیچ ۔۔۔یہ ایک درمیانے سائز کا گول سوراخ تھا جس کا رنگ براؤن اور اس کے ارد گرد لکیروں کا جال سا بچھا ہوا تھا۔۔۔ میں نے اس گول سوراخ پر تھوکا ۔۔اور پھر اپنی درمیانی انگلی کی مدد سے ۔۔اس سوراخ کو اندر تک چکنا کر دیا۔۔۔اور پھر لن کو بھی چکنا کرنے کی غرض سے جیسےاس پر تھوک لگانے لگا تو وہ کہنے لگی اسے میں چکنا کروں گی اس کے ساتھ ہی وہ واپس مڑی اور بڑی بےتابی کے ساتھ میرے لن کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔اور اس پر تھوک کی ایک تہہ لگا کر لن کو منہ سے باہر نکال دیا اور کہنے لگی۔۔۔ تیرا لنڈ بھی کیا چیز ہے جان۔۔۔۔ ایک دفعہ منہ میں ڈال لو تو باہر نکالنے کو جی ہی نہیں کرتا۔۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ تم میری بنڈ مارنے کے لیئے اتاؤلے ہو رہے ہو ۔۔۔اس لیئے ۔۔۔آ جا میرے راجہ ۔۔۔اور میری گانڈ کو کو چیر پھاڑ دے ۔۔۔ان کی بات سن کر میں نے اپنے چکنے ٹوپے کوان کے سوراخ پر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ گانڈ کو ڈھیلا کریں۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ تم اندر ڈالو تمہیں یہ ڈھیلی ہی ملے گی چنانچہ میں نے اپنے چکنے ٹوپے کو ہلکا سا پش کیا ۔۔۔تو میرا لن پھسل کر ان کی چکنی گانڈ میں گھس گیا۔۔۔ جیسے ہی میرا لن ان کی گانڈ میں گھسا ۔۔۔۔۔


انہوں نے ایک دلکش چیخ ماری ۔۔۔اؤئی ۔۔۔۔۔۔ تو میں نے کہا ابھی تو ٹوپا گیا ہے اور آپ چیخیں مارنا شروع ہو گئیں تو وہ اپنے سر کو موڑ کر بولی۔۔۔ یہ چیخ درد والی نہیں بلکہ مزے والی تھی ۔۔۔تو جلدی کر پورا لن اندر ڈال۔۔ پھر میں گانڈ کو ٹائیٹ کر وں گی۔۔ ان کے کہنے پر میں نے دوسرا گھسا مارا ۔۔۔۔تو لن پھسل کر ان کی خوبصورت گانڈ میں گُم ہو گیا۔۔۔ لن اندر جاتے ہی انہوں نے لذت بھری آوازوں میں کراہنا شروع کردیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان کی گانڈ نے میرے لوڑے کو اپنی گرفت میں کر لیا۔۔اور اسے دبا کر خود ہی آگے پیچھے ہونے لگیں ۔۔۔اس طرح میرا لن ان کی ٹائیٹ گانڈ میں پھنس پھنس کر جانا شروع ہو گیا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ انہوں نے پیچھے کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں ۔۔۔ میری ٹائیٹ گانڈ کو گھسے مار مار کر ڈھیلا کر دو ۔۔۔یہ سن کر میں نے ان کے کولہوں کومضبوطی سے پکڑا۔۔۔۔اور بے دریغ گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔ میں پوری طاقت سے ان کی ٹائیٹ گانڈ میں گھسے مار رہا تھا ۔۔جبکہ ہمارے اوپر شاور کا پانی فل سپیڈ سے گر رہا تھا۔۔۔ صائمہ باجی کی لزت آمیز چیخیں واش روم کی چھت کو پھاڑ رہیں تھیں اور گانڈ پر شاور کا پانی پڑنے کی وجہ سے پچ پچ کی آوازوں نے سماں باندھ دیا تھا۔۔۔ اور وہ میری چیخ چیخ کر کہہ رہیں تھیں کہ گھسے مار۔ر۔ر۔رر۔ ایسے گھسے ماررر۔۔۔۔ کہ میری ٹائیٹ گانڈ ڈھیلی پڑ جائے۔۔۔اور میں گھسے مارتا جا رہا تھا۔۔ یہاں تک کہ ۔۔۔ ۔۔۔۔میری ٹانگوں کا سارا خون لنڈ کی طرف دوڑنے لگا۔۔۔اور میں سمجھ گیا کہ۔۔۔ میں چھوٹنے والا ہوں اس لیئے میں نے گھسے مارتے ہوئے ان سے کہا۔۔۔ میں بس جانے والا ہوں۔۔۔ میری بات سن کر وہ چلا کر بولیں اگر تم چھوٹنے والے ہو تو پلیزززززززززززز ۔۔۔۔۔اپنے لوڑے کو گانڈ سے نکال کر چوت میں ڈال دو۔۔۔ اور آخری گھسے اور طاقت سے مارو۔۔۔ چنانچہ میں نے اپنے لوڑے کو ان کی ڈھیلی پڑتی گانڈ سے باہر نکالا ۔۔۔اور چوت میں ڈال دیا۔۔۔اُف ف ف ف ف فف ف ف ۔۔۔ ان کی چوت میں شاور کے پانی سے بھی۔۔۔۔زیادہ پانی جمع ہو چکا تھا ۔۔اس لیئے میں فل سپیڈ سے گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ گھسے مارتے مارتے ۔۔۔ اچانک ہی ان کی چوت نے میرے لنڈ کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔۔۔۔اور جیسے ہی ان کی چوت نے میرے لن کو جکڑا۔۔۔۔ تو صائمہ باجی چلاتی ہوئی آواز میں بولیں۔۔۔۔۔۔ میں بھی۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میرے لن اور ان کی چوت نے اکھٹے ہی پانی چھوڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔

اگلے دن ٹھیک دس بجے آنٹی کا فون آیا کہ وہ آفس کے باہر کھڑی ہیں ۔۔۔اس وقت میں فارغ ہی تھا اس لیئے اپنے سینئر سے دو گھنٹے کی چھٹی لی اور باہر کی طرف چل پڑا ۔۔۔ جیسے ہی میں گیٹ سے باہر نکلا تو انہوں نے مجھے دیکھ کر ہارن دیا۔۔۔ اور میں سیدھا ان کے پاس چلا گیا۔۔۔ گاڑی وہ خود چلا رہیں تھیں۔۔۔۔ مجھے دیکھ کر وہ کہنے لگیں تم چلاؤگے؟ تو میں نے انکار میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں آنٹی گاڑی آپ خود چلائیں۔۔۔ اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔ اس وقت انہوں نے سفید رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں وہ بہت گریس فل نظر آ رہیں تھیں۔۔ انہوں نے اپنی بڑی بڑی چھاتیوں کو بڑے سلیقے کے ساتھ ڈھانپا ہوا تھا۔۔۔ مجھے یوں اپنا جائزہ لیتے دیکھ کر وہ کچھ شرما سی گئیں اور کہنے لگیں کیا دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے ان سے کہا کہ آنٹی اس لباس میں آپ بہت گریس فل لگ رہی ہو۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا ۔۔۔اور بولی شکریہ بیٹا۔۔۔۔ اور پھر گاڑی چلانا شروع ہو گئیں۔ گاڑی جیسے ہی شہر سے باہر نکلی کھمبیوں کی طرح اُگی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں شروع ہو گئیں۔۔۔ کوئی پانچ منٹ کی ڈرائیو کے بعد انہوں نے ایک مشہور ہاسنگ سوسائٹی سے تھوڑا پہلے گاڑی روک لی ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ اس کے دونوں اطراف ہاؤسنگ سوسائیٹوں کے بورڈ لگے ہوئے تھے۔۔ ہم دونوں ایک ساتھ گاڑی سے نیچے اترے اور وہ مجھے ساتھ لیئے ایک خالی پلاٹ پر آگئیں جہاں پر ریت بجری پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اس بجری کے پاس ٹاہلی کا ایک گھنا درخت تھا جس کے نیچے چارپائی پر ایک بندہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ ہمیں کار سے اترتا دیکھا کر وہ شخص بھی چارپائی سے اتر کر ہماری طرف بڑھا ۔۔میں پلاٹ کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ وہ شخص میرے قریب آ کر بولا۔۔۔ کیا چایئے باؤ ؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ یہ بتاؤ کہ اس پلاٹ پر آپ نے قبضہ کیا ہے؟۔۔۔ میری بات سن کر اس نے جواب دینے کی بجائے ۔۔۔۔۔وہیں سے آواز لگائی پپو استاد!۔۔ اس بندے کی آواز دینے کی دیر تھی کہ جانے کس طرف سے ایک کالا بجھنگ اور موٹا سا آدمی نکل کر ہمارے سامنے آ گیا 


۔اس پر نظر پڑتے ہی آنٹی خوفزدہ آواز میں بولیں ۔۔۔۔ چلو بیٹا ۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا پپو استاد آنٹی کے پاس جا کھڑا ہوا۔۔۔اور بڑے طنزیہ انداز میں بولا ۔۔ اتنے عرصے کے بعد آئی بھی ہو تو ۔۔ اس چڑے کے ساتھ؟ پھر بڑے ہی درشت لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ او مائی!! لانا ہی تھا تو کوئی کام کا بندہ لاتیں اب اس "چوچے" کے ساتھ میں کیا کروں ؟۔۔۔اتنا کہہ کر وہ میری طرف گھوما اور کہنے لگا۔۔۔ اوئے کاکا۔۔۔ تو یہاں کیا لینے آیا ہے ؟ تو کیا پلاٹ پر مائی کا قبضہ چھڑانے آیا ہے؟ تیری عمر تو کڑیوں کے کالج کے باہر کھڑے ہونے کی ہے۔۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ خاصہ بدتمیز اور باتونی بندہ تھا۔۔۔اس لیئے میں اس سے مخاطب ہو کر بولا۔۔۔۔ تمیز سے بات کرو ۔۔۔۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا۔۔۔ کہ اچانک ہی اس نے اپنے گرز نما ہاتھ کو گھما کر میرے منہ پر دے مارا۔۔۔۔سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس سے یہ توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔ اس لیئےمیں لڑکھڑا گیا۔۔۔اور اس سےپہلے کہ میں سنبھلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک دفعہ پھر ہاتھ گھمایا ۔۔۔ لیکن اس دفعہ میں تیار تھا۔۔ اس لیئے جھکائی دے گیا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے نشانہ لیتے ہوئے ۔۔۔۔ ایک زور دار مکا اس کے معدے پر دے مارا ۔۔ میری طرح وہ بھی اس حملے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔ اس لیئے جیسے ہی اس کے معدے پر مکا پڑا ۔۔۔ وہ ۔۔اوع ۔۔اوع ۔۔کرتا ہوا نیچے جھکا تو میں نے موقعہ غنیمت جانا۔۔۔۔اور پوری طاقت سے اپنے بوٹ کی ٹو۔۔۔۔ اس کے نیچے دے ماری۔۔۔۔ میرا نشانہ کاری گیا۔۔۔ اور ٹٹوں پر لات پڑتے ہی پپو پہلوان ذبع شدہ بکرے کی طرح ۔۔۔۔۔ تڑپنے لگا۔۔۔ ابھی میں پپو پہلوان کا تڑپنا دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک میرے پیچھے سے گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔ ۔۔۔۔اور پھر ۔۔گولی کی آواز کے ساتھ ہی ایک دلدوز چیخ سنائی دی۔۔چیخ کی آواز سنتے ہی میرے پہلا خیال آنٹی کی طرف گیا۔۔ ۔۔۔یہ خیال آتے ہی میں نے مڑ نے ہی لگا تھا کہ ایک بار پھر ۔۔۔ گولی کی آواز کے ساتھ آنٹی کی چیخ سنائی دی۔۔۔میں نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ مُڑ کر دیکھا تو۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


(قسط نمبر9)

فائرنگ کی آواز سنتے ہی۔۔۔۔۔۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو جو بندہ چارپائی سے اُٹھ کر آیا تھا اس نے ارم آنٹی پر پستول تان رکھا تھا ۔۔ اور یہ ہوائی فائرنگ بھی اسی شخص نے کی تھی جسے سن کر آنٹی کے منہ سے چیخ نکل گئی تھی۔ایک دو ہوائی فائر کرنے کے بعد اچانک ہی۔۔۔۔۔ اس نے پستول کو میری طرف تان لیا اور کڑک کر بولا۔۔۔ اوئے مائی ۔۔۔۔ اس چوچے کو لے کر فوراً یہاں سے دفعہ جاؤ ۔۔۔ورنہ تم دونوں کی لاشیں بھی نہیں ملیں گی ۔۔۔ اس آدمی کی خوفناک دھمکی سن کر اندر سے میں بھی دھل گیا تھا لیکن بظاہر ویسے ہی کھڑا رہا۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف۔۔۔۔ اس آدمی کی خطرناک بات سن کر آنٹی تیزی سے آگے بڑھیں اور منت بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ گولی نہ چلانا ۔۔۔ پلیززززززززززز۔۔۔جیسا تم کہو گے میں ویسے ہی کروں گی۔۔۔ بس ایک موقع دے دو پلیززز۔۔ مم۔۔مم میں اس کو لے کر جا رہی ہوں۔۔۔ تو وہ پستول لہراتے ہوئے خوف ناک آواز میں بولا ۔۔۔ سن مائی آج تو میں اس کو چھوڑ رہا ہوں۔۔۔۔ لیکن آئیندہ اگر یہ بندہ اس ایریا میں نظر آ گیا تو اس کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں ۔۔۔اس کی بات سن کر آنٹی جلدی سے بولیں ۔۔۔ نہ نہ نہیں آئے گا میں گارنٹی دیتی ہوں کہ آج کے بعد یہ بندہ کبھی بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا۔۔۔ پھر اس شخص کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔اب ہم جائیں؟ تو وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بڑے ہی متکبرانہ انداز میں بولا۔۔۔ یہاں سے دفعہ ہو جا ؤ۔۔۔۔ورنہ میرے ہاتھوں سے مارے جاؤ گے۔۔۔اس کی اجازت پا کر آنٹی نے میرے ہاتھ کو پکڑا اور تقریباً کھینچتے ہوئے گاڑی کی طرف لے جانے لگیں۔۔ میرے مُڑتے ہی اس نے اونچی آواز میں گالیاں دینا شروع کر دیں ۔۔گانڈو دا پتر۔۔ بہن چود۔ ۔ وڈا بدمعاش تے ویکھو ۔۔سالا مادر چود۔۔ گالی کی آواز سنتے ہی میرا میٹر شارٹ ہو گیا۔۔۔ اور میں نے مُڑ کر غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔تو آنٹی آہستہ سے بولیں۔۔۔ کتے کو بھونکنے دو۔۔۔اور زبردستی مجھے گاڑی میں بٹھا دیا۔ ۔۔ ۔۔۔۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی گاڑی بھگا لی۔۔۔ جیسے ہی گاڑی چلی تو پیچھے سے مجھے ایک اور فائر کی آواز سنائی دی۔۔ فائر کی آواز سنتے ہی آنٹی نے گاڑی کو اور تیز چلانا شروع کر دیا۔۔ ۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ بار بار ۔۔۔ بیک مر ر میں بھی دیکھ رہیں تھیں جبکہ میں ان کے ساتھ والی سیٹ پر چُپ چاپ بیٹھا ان کو دیکھ رہا تھا۔۔ پھر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں ان سے بولا۔۔۔ ۔۔۔ مُڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں آنٹی ۔۔۔۔ وہ ہمارے پیچھے نہیں آئیں گے تو آنٹی خوف بھری آواز میں سے کہنے لگیں ۔۔ یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو؟ تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا پیچھا کرنے سے بہتر تھا کہ وہ ہمیں جانے ہی نہ دیتے ۔۔۔ میری بات سن کر آنٹی نے گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا ئی۔۔۔ اور دہشت بھری آواز میں بولیں۔۔۔ ۔۔ ان لوگوں کا کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔۔۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ۔۔۔۔ وہاں پر جمع ہونے والے ہجوم کی وجہ سے انہوں نے ہمیں چھوڑ دیا ہو ۔۔۔ اس وقت وہ بہت زیادہ خوف ذدہ دکھائی دے رہیں تھیں اس لیئے میں نے مزید کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا اور انہیں اپنے انداز سے گاڑی چلانے دی۔۔


پھر جیسے ہی پنڈی شہر کا ایریا شروع ہوا تو کچھ دور جا کر آنٹی نے ایک گہرا سانس لیا۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔ شکر ہے بچ گئے۔۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی ان کے چہرے پر خجالت کے آثار پیدا ہو ئے۔۔۔۔ اور وہ مجھ سے معذرت کرتے ہوئے بولیں سوری بیٹا میری وجہ سے تم کو یہ سب دیکھنا پڑا۔۔ تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا سوری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آنٹی ۔۔۔ ایک دن یہی بندے آپ کے پاؤں پکڑیں گے۔۔۔ میری بات سن کر آنٹی کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔۔۔اور وہ خوف ذدہ آواز میں بولیں۔۔۔ مطلب۔۔۔ تم ۔۔۔ نہ بیٹا ایسا سوچنا بھی نہیں کہ وہ بہت ہی خطر ناک لوگ ہیں۔ ۔۔۔لیکن میں نے ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔ مجھے چُپ دیکھ کر وہ مزید خوف ذدہ ہو کر بولیں۔۔۔ ۔۔۔ پلیز بیٹا میری خاطر یہ مت کرو ۔۔۔۔ تم ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو میں نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات درست ہے کہ میں ان سے مقابلہ نہیں کر سکتا ۔۔۔ لیکن قانون تو ان کا مقابلہ کر سکتا ہے نا؟ میری بات سن کر وہ طنزیہ ہنسی ہنس کر بولیں ۔۔۔ کس قانون۔۔ کی بات کر رہے ہو ؟ ۔۔۔جس نے میری مدد کرنے کی بجائے اُلٹا میرے خاوند کی حلال کی کمائی سے مجھے خوب لوٹا۔۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔۔ اس ملک کا قانون صرف قبضہ گروپ اور بھتہ خوروں کے لیئے ہے۔۔۔ غریب اور ہم جیسے لاوارث لوگوں کے لیئے نہیں ۔۔اس لیئے اس بات کو یہیں چھوڑ دو۔۔۔اس پر میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔ آپ فکر نہ کریں آنٹی۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا کہ جس سے آپ کو کچھ خرئہ محسوس ہو۔۔ انہوں نے مجھے سمجھانے کی بڑی کوشش کی لیکن اس وقت تک میرے موٹے دماغ میں یہ بات راسخ ہو چکی تھی کہ۔۔۔مجھے ہر حال میں ان حرامیوں سے پلاٹ کا قبضہ لینا ہے۔خاص کر اس بندے کی دی ہوئی گالیاں اور تکبر آمیز رویے نے میرے اندر اک آگ سی بھر دی تھی۔۔۔۔ اس لیئے میں نے ان کی بات کو سنا ان سنا کر دیا۔۔۔۔جب آنٹی نے دیکھا کہ ان کی باتوں کو مجھ پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تو انہوں نے اپنی بات پر زیادہ ذور نہیں دیا۔۔۔ اور کہا تو بس اتنا کہ آپ کو کہاں ڈراپ کروں؟ تو میں نے مختصر سا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ آفس ۔۔۔ ۔۔۔ 

دفتر پہنچ کر میں نے کچھ ارجنٹ قسم کے کام نبٹائے ابھی میں آفس ورک سے فارغ بھی نہیں ہوا تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی دیکھا تو رمشا کا فون تھا میں نے۔۔۔جلدی سے بٹن آن کر کے ہیلو۔۔۔ کہا ہی تھا کہ وہ بغیر کسی تمہید کے بولی۔۔۔۔ بڑا افسوس ہوا ۔۔۔تو میں نے اس سے پوچھا کس بات کا افسوس ؟ تو وہ کہنے لگی جو کچھ آج تمہارے اور ممی کے ساتھ ہوا ہے اس کی بات کر رہی ہوں اور پھر بڑی ہی سنجیدگی سے کہنے لگی کہ ۔۔۔ مما کہہ رہیں تھیں کہ تم ان لوگوں سے متھا لگانے والے ہو؟ میں بولا ۔۔۔ نہیں ایسی بات نہیں ۔۔۔ لیکن میں ان لوگوں سے پلاٹ کا قبضہ لے کر رہوں گا میری بات سن کر وہ تشویش بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ایسا نہ کرو پلیز۔۔۔۔ وہ بہت خطرناک لوگ ہیں تو میں نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔وہ لوگ خطرناک نہیں بلکہ ۔۔۔۔ میرا لن ہیں۔۔۔ تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔ نا۔۔ نا ۔میری جان ۔۔ اپنے لنڈ کو خطر ناک نہ کہو۔۔ یہ تو بڑی مزے دار چیز ہے۔۔۔۔پھر مجھے سمجھاتے ہوئے بولی۔۔۔ پلیز ان کے ساتھ ایسی ویسے کوئی حرکت نہ کرنا۔۔۔۔۔تو میں نے اس سے کہا تم فکر نہ کرو میں ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا ۔۔ لیکن ایک بات تم بھی سن لو۔۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ میں ہر حال میں پلاٹ کا قبضہ واپس لوں گا۔۔۔ تو وہ روہانسے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔ مما کہہ رہیں تھیں کہ میں نے پلاٹ چھوڑا ۔۔۔ اس لیئے اس بات کو تم بھی بھول جاؤ ۔۔۔ اس کے بعد اس نے مجھے سمجھانے کی بڑی کوشش کی ۔۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اول تو میرے موٹے دماغ میں کوئی چیز آسانی سے گھستی نہیں ۔۔۔۔۔ اور اگر غلطی سے گھس جائے۔۔۔ ۔تو پھر مشکل سے ہی نکلتی ہے ۔۔۔ چنانچہ کچھ دیر مغز کھپانے کے بعد اس نے فون آف کر دیا۔۔۔ رمشا کا فون بند ہوتے ہی ۔۔۔۔فون کالز کا تانتا بندھ گیا۔۔۔ فرزند ۔ اس کی امی ثانیہ ۔۔۔اور صائمہ باجی۔۔۔۔غرض سب نے فون کیا اور میری خیریت دریافت کرنے کے بعد ۔۔۔۔ مجھے اس کام سے باز رہنے کی تاکید کی لیکن پتہ نہیں کیوں وہ لوگ جتنا مجھے ان سے دور رہنے کی تاکید کرتے ۔۔۔ میں اتنا ہی اس بات پر پکا ہوتا کہ اس بے چاری خاتون کا پلاٹ واگزار کرانا ہے تاہم فرزند اور اس کی امی کے سمجھانے پر ۔۔۔۔ میں نے نیم دلی سے ہاں تو کہہ دی تھی۔۔۔۔لیکن دراصل میرا پرنالہ ابھی تک وہیں کا وہیں تھا۔۔۔ فونز کال بند ہونے کے بعد اب میں نے اس بارے پلان بنانا شروع کیا۔۔ چونکہ اس دن میرے ایک سئینر کولیگ چھٹی پر تھے کہ جن سے میں ہر بات نہ صرف شئیر کرتا تھا بلکہ ان سے مشورے بھی لیتا تھا۔ چنانچہ ان کی چھٹی کی وجہ سے میں نے اپنا پلان اگلے دن تک ملتوی کر دیا۔

 


۔۔۔۔۔۔۔دوسرے دن وہ مجھ سے پہلے ہی وہ دفتر پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ میں سیدھا ان کے پاس پہنچا اور رسمی بات چیت کے بعد۔۔۔۔۔۔ نمک مرچ لگا کر ساری بات ان کے گوش گزار کر دی ۔۔۔ جسے انہوں نے بڑی توجہ سے سنا اور پھر کہنے لگے۔۔۔۔۔ تم کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے کہا کہ میں پلاٹ پر قبضہ چھڑانا چاہتا ہوں ۔۔ میری بات سن کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پھر کہنے لگے ۔۔۔ایسے لوگوں سے قبضہ چھڑانا کوئی آسان کام نہیں ۔۔۔ بلکہ بڑے جان جوکھوں کا کام ہے ۔۔۔۔ ۔۔ ان کی بات سن کر میں واویلا کرتے ہوئے بولا۔۔ ایسا نہ کہیں سر ۔ میں نے ہر حال میں اس پلاٹ کا قبضہ چھڑانا ہے۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگے تمہارا لہجہ بتا رہا ہے کہ تم باز نہیں آؤ گے ۔۔۔ تو اس پر میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا ۔۔۔ کیا کروں سر عزت کا سوال ہے ۔۔۔۔۔کہ پلاٹ میرے سسرال والوں کا ہے ۔تو وہ کہنے لگے اگر یہ بات ہے تو پھر میں تیرے لیئے کچھ کرتا ہوں۔۔ اس کے بعد انہوں نے مجھے اپنے پلان کے بارے میں بتایا ۔۔اور جب میں ان کا پلان اچھی طرح سمجھ گیا تو پھر وہ مجھے ساتھ لے کر باس کے پاس چلے گئے جن کے بارے میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ آج کل ان کے بھائی پنڈی پولیس میں ڈی آئی جی لگے ہیں۔ جیسے ہی ہم صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے خیریت تو ہے؟ اور ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ہمارے بیٹھتے ہی انہوں نے میری بجائے میرے سینئر کی طرف دیکھا اور کہنے لگے کیا بات ہے شاہ کے منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں ؟ تو اس پر میرے سینئر کہنے لگے کہ سر اس لڑکے کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے ؟ سینئر کی بات سن کر صاحب نے میری طرف دیکھا لیکن حسبِ ہدایت میں اداس سا منہ بنا کر۔۔۔۔ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔۔ تب میری بجائے میرے کولیگ باس سے کہنے لگے سر اس لڑکے کی جس جگہ منگنی ہوئی ہے وہاں ایک پرابلم آ گئی ہے۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے بڑے ہی پر اثر طریقے سے باس کو ساری کہانی سنائی۔۔۔۔۔ کہ قبضہ گروپ نے کس طرح سسرالیوں کے سامنے میری بےعزتی کی ۔۔۔۔ میں نے تو تھوڑی سی نمک مرچ لگا کے واقعہ سنایا تھا ۔۔۔جبکہ میرے سینئر نے تو اس واقعہ میں بارہ مصالحوں کے سارے ڈبے ڈال دیئے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب یہ درد ناک داستان ختم ہوئی تو اس وقت باس کا چہرہ غم ، غصے اور افسوس کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔پھر انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے۔۔۔ فکر نہیں کرو شاہ جی ۔۔۔ تمہارے سسرال والوں کو پلاٹ کا قبضہ واپس مل جائے گا ۔۔۔ میں ابھی بھائی جان سے بات کرتا ہوں ۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے پی اے کو بزر دی۔۔۔ اور لگے کہ زرا بھائی جان سے بات کراؤ۔۔۔ لیکن اتفاق سے اس وقت وہ کسی میٹنگ میں مصروف تھے۔۔ اس لیئے ۔۔۔۔پی اے کو رنگ بیک کا کہہ کر ۔۔۔۔۔۔ بولے۔۔۔۔ ویسے تو ایس پی ہیڈ کوارٹر بھی میرا بیج میٹ ہے لیکن سالا تھوڑا ڈرپوک اور مصلحت پسند واقعہ ہوا ہے اس لیئے ہو سکتا ہے کہ تم لوگوں کا کام نہ کروائے۔۔۔۔ پھر کہنے لگے ۔۔۔۔ جہاں تک بھائی جان کا تعلق ہے تو ساری پولیس جانتی ہے کہ وہ ایک دبنگ آفیسر ہیں ۔۔ اس لیئے اگر انہوں نے تمہارا کام کرنے کی حامی بھر لی تو پھر سمجھ لو کہ سو فی صد کام ہو جائے گا۔۔

ان کی بات سن کر ہم دونوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔اور آفس سے باہر آ گئے ۔۔۔ کمرے میں پہنچتے ہی میرا سینئر کہنے لگا ۔۔۔ شاہ تیری کیا بات ہے۔۔۔ ایسی دکھی اداکاری کی کہ بے چارہ باس بھی پریشان ہو گیا۔۔۔تو میں نے ان سے کہا کہ جناب یہ سب آپ کی بدولت ہوا ہے تھوڑی سی ڈسکشن کے بعد۔۔۔۔۔ بعد ہم روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔۔۔ کوئی تین چار بجے کا وقت ہو گا کہ مجھے انٹر کام پر میسج ملا کہ باس بلا رہے ہیں ۔۔ سو میں جلدی سے ان کےآفس چلا گیا جیسے ہی میں کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوا ۔۔۔ تو وہ بغیر کسی تمہید کے بولے میری بھائی جان سے بات ہو گئی ہے۔۔۔ تم ایسا کرو کہ کل صبع دس بجے ضلع کچہری ان کے آفس چلے جاؤ ۔ تمہارا مسلہ حل ہو جائے گا۔۔ ۔۔اگلے دن دس کی بجائے میں ٹھیک نو بجے تیار ہو کر ضلع کچہری کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔ ابھی میں نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اچانک میرے زہن میں خیال آیا کہ اگر ڈی آئی جی صاحب نے پلاٹ کے بارے تفصیلات پوچھیں تو میں انہیں کیا جواب دوں گا؟ ۔۔۔ یہ خیال آنے کی دیر تھی کہ میں نے بائیک کو ایک سائیڈ پر روک لیا۔۔۔ پھر اس بارے مزید غور کرنے سے ۔۔۔۔ اس نتیجہ پر پہنچا کہ مجھے ڈی آئی جی صاحب کے پاس پلاٹ کے کاغذات اور ایک عدد درخواست بھی لکھ کر لے جانی چاہئے۔۔۔ کہ جس پر وہ اپنے احکامات جاری کر سکیں ۔۔۔ اب مسلہ یہ تھا کہ کاغذات سارے تو آنٹی کے پاس پڑے تھے اور آنٹی کا میرے پاس نمبر نہیں تھا چنانچہ آنٹی کے نمبر کے لیئے میں نے فرزند صاحب کو فون کیا ۔۔۔۔ اور انہیں ساری بات بتا کر ارم آنٹی کا نمبر مانگا جو کہ انہوں فوراً ہی مجھے میسج کر دیا۔۔۔ 
فرزند صاحب کا میسج ملتے ہی میں نے ارم آنٹی کا نمبر گھمایا۔۔۔ لیکن کافی دیر تک گھنٹی بجنے کے باوجود بھی کوئی رسپانس نہیں ملا۔۔۔ چونکہ کام ارجنٹ تھا اس لیئے میں نے ری ڈائیل کیا۔۔۔ کوئی پانچویں یا چھٹی بیل پر انہوں نے فون اُٹھایا اور غنودگی بھرے لہجے میں ہیلو کہا۔۔۔۔ ان کی طرف سے ہیلو کی آواز سنتے ہی میں بولا۔۔۔ آنٹی میں بول رہا ہو ں شاہ!! ۔۔۔ تو وہ اسی غنودگی بھرے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔۔ کون شاہ؟ اور جب میں نے اپنا تعارف کروایا ۔۔۔تو وہ چونک کر بولیں ۔۔۔ اوہ یہ تم ہو۔۔۔ خیریت اتنی صبع صبع کیوں فون کیا؟ خیریت تو ہے ناں؟ تو میں جلدی جلدی ساری بات سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔۔کہ کیا مجھے پلاٹ اور اس سے متعلقہ کاغذات مل سکتے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔ ایسے ہی موقعوں کے لیئے۔۔۔۔میں نے درخواستوں اور رجسٹری وغیرہ کے بہت سارے سیٹ بنا کر رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ان میں سے ایک سیٹ تمہیں مل جائے گا۔۔۔اس پر میں ان سے بولا کہ آپ نکال کر رکھیں ۔۔۔میں دس پندرہ منٹ میں آپ کے پاس پہنچ رہا ہوں ۔۔۔ تو وہ کاہلی سے بولیں۔۔۔ ۔۔۔ دس پندرہ منٹ تو بیٹا۔۔۔۔۔ مجھے بیدار ہونے میں لگیں گے ۔ان سے بات کر کے میں نے بائیک ان کے گھر کی طرف موڑ لیا۔۔ کچھ ہی دیر بعد میں ان کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔۔ میں نے بیل دی تو ۔۔۔تھوڑی دیر بعد اندر سے آنٹی کی آواز سنائی دی کون؟ میں نے اپنا نام بتایا تو وہ بولی ایک منٹ ۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔تھوڑا انتظار کے بعد۔۔۔۔۔ انہو ں نے گھر کا چھوٹا گیٹ کھولا۔۔۔۔۔اور دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے مجھے اندر آنے کی دعوت دی۔ گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی میری نظر ارم آنٹی پر پڑی ۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لمحے کے لیئے میں۔۔۔۔ پلکیں جھپکانا بھول گیا۔۔۔۔وہ اس وقت شب خوابی کے لباس میں ملبوس تھیں ۔۔اور یہ نائیٹی ۔۔یا شب خوابی کا لباس ۔۔۔۔۔ کم از کم میرے لیئے۔۔۔ غضب سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔ انہوں نے نہایت ہی باریک سفید جالی دار ٹرانس پیرنٹ نائٹیک پہنی ہوئی تھی جس سے ان کا خوش نما ۔۔۔۔خوش وضع اور سڈول بدن صاف دکھائی دے رہا تھا ان کی بھاری بھر کم چھاتیاں جو کہ میرے تجربے کے مطابق 38 کی ہونی چایئں۔۔۔ ایک کالے رنگ کے برا میں قید تھیں۔۔۔ اور میرے خیال انہوں نے چھاتیوں کے حساب سے برا۔۔۔ کافی چھوٹا پہنا ہوا تھا ۔۔۔تبھی تو ان کی چھاتیاں برا میں پھنسی ۔۔۔۔۔ اس کے چنگل سے نکلنے کو مچل رہیں تھیں۔۔۔ ۔۔ نیچے انہوں نے اسی رنگ کی چھوٹی سی پینٹی پہنی ہوئی تھی جو کہ بمشکل ان کی چوت کے آس پاس کے ایریا کو کور کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اور اس پینٹی کی ایک سائیڈ سے مجھے کچھ بال باہر جھانکتے ہوئے نظر آئے تھے۔۔۔ اس سے میں نے اندازاہ لگایا کہ رمشا کی طرح آنٹی بھی چوت پر بال رکھنا پسند کرتی ہو گی۔۔۔۔ ۔۔۔ جبکہ پینٹی کے ساتھ ہی ان کی گول گول اور ریشمی تھائیز (رانیں) بلکل ننگی دکھائی دے رہی تھیں ۔۔۔جنہیں دیکھ کر ۔۔۔۔ میرا لن مچلنا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔ ۔۔ میری تجربہ کار نگاہوں نے ایک منٹ میں ہی ان کے سیکسی بدن کا ایکسرے کر لیا تھا۔۔۔ جبکہ دوسری طرف جیسے ہی میں گیٹ سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔تو وہ کہنے لگیں۔۔۔۔ تو تم باز نہیں آئے نا۔۔۔۔۔۔ اور میں ان کے ہوش ربا بدن سے نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ آپ کو بتایا تو تھا۔۔۔۔۔۔کہ میں باز نہیں آؤں گا۔۔۔۔ پھر گیٹ سے کمرے کی طرف جاتے ہوئے وہ کہنے لگیں اچھا یہ بتاؤ کہ اس وقت تم کو کیا چاہیئے؟ تو میں نے مختصراً بتا دیا۔۔۔اتنی دیر میں ہم ان کے ڈرائینگ روم میں پہنچ چکے تھے وہ کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں تم اندر بیٹھو میں ۔۔۔۔ کاغذات لے کر ابھی آئی۔۔۔ چنانچہ ان کے کہنے پر میں ڈرائینگ روم میں ۔۔۔۔۔ داخل ہونے ہی والا تھا کہ مجھے درخواست کے بارے میں یاد آ گیا اور میں یہ کہنے کے لیئے مُڑا ہی تھا کہ آتی دفعہ ایک سفید کاغذ بھی ساتھ لیتے آیئے گا۔۔۔۔ 


یہ بات کرنے کے لیئے جیسے میں پیچھے کی طرف مُڑا ۔۔۔۔۔ تو سامنے کا نظارہ دیکھ کر ۔۔ میرا منہ کھلے کا کھلا۔۔۔رہ گیا۔۔۔ مختصر سی پینٹی میں ان کی گول شیپ ۔۔۔۔۔۔۔والی ۔۔۔ موٹی گانڈ قیامت کا نظارہ پیش کر رہی تھی۔۔۔۔ چنانچہ میں ۔۔۔سب بھول کر بڑی ہوس ناک نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف آنٹی۔۔۔۔ میری ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے بے خبر ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایک خاص ردھم کے ساتھ گانڈ مٹکاتے ۔۔۔۔۔اور اسے ہلا ہلا کر اپنے بیڈ روم کی طرف چل رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر میرے لن صاحب نے ان کی موٹی گانڈ کو ۔۔۔۔ایک سیکنڈ میں کوئی ہزار سلامیاں پیش کیں۔۔۔ ۔۔ جبکہ میں منہ کھولے ان کی مست چال کو دیکھے چلے۔۔۔۔۔ جا رہا تھا ۔۔ یہ سب چند سیکنڈز میں ہو گیا۔۔۔ اور میں جو ان سے ایک سفید کاغذ لانے کی بابت کہنا چاہ رہا تھا نہ کہہ سکا ۔۔۔ بلکہ ان کی دلکش گانڈ کا نظارہ دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا ٹھرکی من۔۔۔۔۔ایک دم سے مست ہو گیا۔۔۔ اور میں آن کی آن میں ۔۔۔۔ ارم آنٹی پر ہزار جان سے لٹو ہو گیا۔۔۔۔ اور خود کو کوسنے لگا۔۔۔۔ کہ اتنے تجربے کے باوجود بھی ۔۔۔۔۔۔ ان کا شاندار بدن کس طرح ۔۔۔۔ میری نظروں سے اوجھل رہا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ یہ بھی سچ تھا کہ میں جب بھی آنٹی سے ملا وہ روز مرہ کا ڈھیلا ڈھالا لباس پہنے ہوتی تھیں شاید یہی وجہ تھی ان کا توبہ شکن ۔۔۔۔اور سیکسی بدن میری نگاہوں سے اوجھل رہا۔۔۔ ۔۔۔ دوسرا ان کی بیٹی کے چکر میں ہونے کی وجہ سے میں آنٹی کی طرف زیادہ دھیان نہ دے سکا ۔۔۔ویسے بھی آنٹی مجھے بدن چور لگ رہی تھیں مطلب روز مرہ کے لباس میں زرا بھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ آنٹی کا بدن اس قدر خوبصورت اور دلکش ہو گا۔۔۔ اسی لیئے تو میں ان کو کو نائٹیل میں دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔ میں صوفے پر بیٹھا اسی بارے سوچ و بچار کر رہا تھا کہ آنٹی کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ ان کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا جس میں یقینی طور پر پلاٹ سے متعلق کاغذات کی فوٹو کاپیاں وغیرہ ہوں گی ۔۔۔ میں نے کاغذات کی بجائے آنٹی کی طرف غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ اس دفعہ انہوں نے نائٹیی کے اوپر ایک بڑی سی چادر لے رکھی تھی اور اس کم بخت چادر نے ان کے پورے بدن کو ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے میں ایک دفعہ اور۔۔۔۔ان کے سیکسی جسم کے نظارے سے محروم ہو گیا تھا۔۔۔۔ دوسری طرف آنٹی میرے قریب پہنچ کر لفافہ پکڑاتے ہوئے بولیں۔۔ چیک کر لو ۔۔چنانچہ میں نے ان کے ہاتھ سے کاغذات والا لفافہ پکڑا۔۔۔ااور ان سے بولا۔۔ آنٹی ایک عدد سفید کاغذ بھی چاہیئے ہو گا تو وہ حیران ہوتے ہوئے بولیں ۔۔۔ وہ کس لیئے؟ تو میں نے ان سے کہا کہ ایک فریش درخواست بنام جناب ڈی آئی جی لکھنی ہو گی۔۔ میری بات سن کر وہ منہ سے کچھ نہیں بولیں اور کمرے سے باہر نکل گئیں تھوڑی دیر بعد۔۔۔جب وہ واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں لیگل سائز کا سفید کاغذ پکڑا ہوا تھا اتی دیر میں ۔۔۔میں لفاٖفے میں پڑے کاغذات کا جائزہ لے چکا تھا ۔۔چنانچہ میں نے ان کے ہاتھ سے کاغذ لیا اور اس پر ایک درناک قسم کی درخواست بنام ڈی آئی جی راولپنڈی لکھی اور آخر میں آنٹی کا نام و موجودہ پتہ لکھ کر ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا اس پر دستخط کر دیں انہوں نے میری درخواست کو غور سے پڑھا اور بنا کچھ کہے اس پر چپ چاپ دستخط کر دیئے۔ اب میں نے درخواست پکڑی۔۔۔ اور اُٹھ کھڑا ہوا تو وہ کہنے لگیں بیٹھو میں تمہارے لیئے چائے لے کر آتی ہوں تو میں ان سے کہنے لگا سوری آنٹی میں پہلے ہی کافی لیٹ ہو گیا ہوں ۔۔ اس لیئے چائے پھر کبھی سہی۔۔۔۔ اور کمرے سے باہر جانے لگا۔۔۔وہ بھی مجھے چھوڑنے کے لیئے گیٹ تک آئیں اور جب میں گیٹ سے باہر نکلنے لگا تو اچانک وہ کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔ ایک بات پوچھوں ؟ ان کی بات سن کر میں چلتے چلتے رک گیا۔۔۔۔۔اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ جی ضرور پوچھیں؟ تو وہ بڑی ہی سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود ب ھی ۔۔تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟ آنٹی کی بات سنتے ہی جانے مجھے کیا ہوا کہ میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔۔۔۔ میں یہ سب۔۔۔صرف اور صرف آپ کو ایمپریس (متاثر) کرنے کے لیئے کر رہا ہوں۔۔۔ میری بات سنتے ہی حیرت کے مارے ارم آنٹی کی آنکھیں پھیل گئیں ۔۔۔اور اس سے قبل کہ وہ مجھ سے کچھ کہتیں میں وہاں سے بھاگ لیا۔۔۔

 


۔۔۔۔ ڈی آئی جی صاحب کے آفس پہنچ کر میں نے ایک چٹ پر اپنا اور کئیر آف ( باس کا نام ) لکھ کر چٹ اس کو تھما دی۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔جب دس پندرہ منٹ تک کوئی ہل جُل نہیں ہوئی۔۔تو میں دوبارہ پی اے کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میری چٹ اندر بھیجو۔۔۔ چنانچہ میرے بار بار اصرار پر اس نے نیم دلی کے ساتھ میرے نام والی چٹ اندر بھیج دی۔۔۔۔اور میں ویٹنگ روم میں جا بیٹھا۔۔۔ ابھی مجھے بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک باوردی سپاہی دوڑا دوڑا وینٹنگ روم میں داخل ہوا ۔۔۔ اور آتے ہی اونچی آواز میں کہنے لگا آپ لوگوں میں سے مسٹر شاہ کون ہیں؟ اس کی آواز سن کر میں اپنی کرسی سے اُٹھا تو وہ مجھ سے مخاطب ہو کر بولا ۔۔۔ جلدی چلو کہ صاحب کو ایک ارجنٹ میٹنگ میں بھی جانا ہے اور وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر ڈی آئی جی صاحب کے کمرے کی طرف چل پڑا جب میں ان کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا تو عین اسی وقت ۔۔۔۔۔۔ڈی آئی جی صاحب کمرے سے باہر نکل رہے تھے مجھے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر انہوں نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے بڑی ادب سے کہا سر میرا نام شاہ ہے اور۔۔۔۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا ۔۔۔۔کہ انہوں نے مجھے چُپ کرنے کا اشارہ کیا اور پھر کہنے لگے۔۔۔ دانیال ( میرے باس) نے مجھے ساری بات سمجھا دی تھی۔۔۔ پھر کہنے لگے درخواست کہاں ہے؟ چنانچہ میں نے بڑے ادب کے ساتھ ان کو درخواست پیش کر دی ۔ جسے انہوں نے سرسری سا دیکھا ۔۔ پھر بڑی شفقت سے بولے۔۔۔تم لوگوں کا پلاٹ کہاں واقع ہے؟ تو میں نے اس ایریا کا نام بتا دیا۔۔۔ اس جگہ کا نام سنتے ہی انہوں نے اپنے پی اے کی طرف گھوم کر دیکھا اور اس سے بولے۔۔۔ ۔۔۔ اس علاقے کا ڈی ایس پی کون ہے؟ تو ان کا بڑے پی اے ادب سے بولا۔۔ اولیا خان ۔۔ اولیا کا نام سنتے ہی انہوں نے حکم صادر فرمایا۔۔۔۔ کہ اس بہن لن سے کہو کہ ٹھیک دو بجے مجھے رپورٹ کرے ۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ درخواست مجھے واپس کرتے ہوئے بولے۔۔۔ ۔ سوری یار مجھے ایک ارجنٹ میٹنگ میں جانا پڑ گیا ہے۔۔۔ تم دو بجے دوبارہ آ جانا ۔۔تب تک اس علاقے کا ڈپٹی بھی آ جائے گا ۔۔۔۔ اتنا کہتے ہی وہ باہر کھڑی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔

ٹھیک دو بجے میں ان کے آفس میں تھا۔۔۔ جیسے ہی میں پی اے کے کمرے میں پہنچا … مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا کہ صاحب تمہیں یاد کر رہے تھے۔۔۔ چنانچہ میں ڈی آئی جی صاحب کے کمرے میں داخل ہو گیا جبکہ مجھ سے پہلے وہاں پر ڈی ایس پی کی وردی پہنے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔۔میرے خیال میں وہی اولیا ہو گا۔ ادھر جیسے ہی میں کرسی پر بیٹھا تو ڈی آئی جی صاحب ڈپٹی سے مخاطب ہو کر بولے۔۔ اولیا خان یہ میرا برخردار ہے پھر مجھے کہنے لگے درخواست کدھر ہے تو میں نے ان کو درخواست پیش کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔جسے پڑھ کر انہوں نے اس پر کافی لمبے آرڈر لکھے اور پھر یہ درخواست ڈپٹی کے حوالے کر دی۔۔ درخواست پکڑتے ہی ڈپٹی نے جیب سے عینک نکالی۔۔۔۔۔ اور بڑے غور سے پڑھنے لگا۔۔ اس کے بعد اس نے درخواست کے ساتھ لف شدہ کاغذات کا معائینہ کیا۔۔ اور ڈی آئی جی سے مخاطب ہو کر بولا ۔۔۔ سر اس ایریا کے سارے پلاٹوں پر ملک صاحب کے پالتو بدمعاش تاجے کا قبضہ ہے اس پر ڈی آئی جی صاحب بڑے ہی درشت لہجے میں کہنے لگے۔۔۔ تاجے کی ماں کی کُس۔۔۔۔ مجھے ہر صورت یہ پلاٹ خالی چایئے۔۔۔ اس پر اولیا خان بولا ۔۔۔ سر قبضہ تو واپس ہو جائے گا لیکن اگر ملک صاحب نے۔۔۔ ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ صاحب غصے سے دھاڑتے ہوئے بولے ۔۔۔ کان کھول کر سن لو ایک ہفتے کے اندر اندر مجھے یہ پلاٹ خالی چایئے۔۔۔رہی ملک صاحب کی بات ۔۔۔تو۔ انہوں میں سنبھال لوں گا۔۔۔ اس پر ڈپٹی بڑے ہی خوشامدانہ لہجے میں کہنے لگا ۔۔۔

اگر ملک صاحب بیچ میں نہ آئیں ۔۔تو سو فی صد ۔۔۔ کام ہو جائے گا۔ اولیا کی بات سن کر ڈی آئی جی صاحب نے میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگے آج سے ٹھیک ایک ہفتے کے بعد تم نے مجھے بتانا ہے۔۔۔ کہ کام ہوا یا نہیں۔۔۔ پھر اولیا سے مخاطب ہو کر بڑے ہی بارعب انداز میں بولے۔۔سنو۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ہر صورت میں۔۔۔۔۔ یہ پلاٹ خالی چاہیئے۔۔۔اور ہاں ۔۔۔ لڑکے سے کسی قسم کی ڈیمانڈ نہیں کرنی ورنہ۔۔۔ تم مجھے اچھی طرح سے جانتے ہو ۔۔۔ تو اولیا خوشامد اور ڈر کے ملے جلے انداز میں بولا ۔۔۔ سر کام ہو جائے گا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہم دونوں کو جانے کا اشارہ کر دیا۔
باہر نکلتے ہی اولیا خان مجھے لے کر ویٹنگ روم میں آ گیا اور بولا کہ کہ میں ملک صاحب (ڈی آئی جی) کا کیا لگتا ہوں؟ تو میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ میں ان کا قریبی عزیز ہوں ۔۔اس کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا کہ کہ آپ کام کیا کرتے ہو؟ تو جب میں نے اسے محکمے کا نام بتایا ۔۔۔ تو میرے محکمے کا نام سنتے ہی وہ کہنے لگا۔۔۔۔ وہاں تو ملک صاحب کا چھوٹا بھائی ملک دانیال بھی ہوتے ہیں۔۔۔۔ میں اس پر رعب جھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔جی جی میں ان کے ساتھ ہی کام کرتا ہوں ۔۔۔۔اور مجھے بھرتی بھی انہی لوگوں نے کرایا تھا۔۔ ۔۔ جسے سن کر خرانٹ ڈی ایس پی از حد متاثر ہوا۔۔۔۔اور پھر بڑے ہی پیار سے بولا۔۔۔ سنو بیٹا ۔۔آئیندہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو ملک صاحب کو بتانے کی بجائے آپ نے مجھے بتانا ہے ۔۔۔ پھر کہنے لگے افسروں ( مطلب ڈی آئی جی صاحب کو) سے تو میں نے ویسے ہی ایک ہفتے کا وقت لیا ہے جبکہ میں آپ لوگوں کا یہ کام دو تین دنوں میں ہی کر دوں گا اس کے بعد اس نے مجھ سے میرا سیل نمبر لیا اور پھر اپنا دیتے ہوئے بولا ۔۔ پنڈی کے کسی بھی تھانے میں۔۔۔ کبھی بھی کوئی کام ہو تو مجھے یاد کر لینا ۔۔۔۔ میں نے اس کو بتانے کا وعدہ کیا ۔۔۔اور وہاں سے آفس آ گیا سب سے پہلے میں نے اپنے سئنیر کولیگ کا شکریہ ادا کیا اور پھر ہم دونوں باس کے پاس پہنچ گئے اس کا شکریہ ادا کیا ۔۔اور صورت حال کی رپورٹ دی ۔۔ پھر وہاں سے آ کر آفس کے کاموں میں مصروف ہو گیا۔۔۔ چھٹی کا وقت تھا اور میں گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک سیل فون کی گھنٹی بجی دیکھا تو لائن پر رمشا تھی ۔ میرے ہیلو کے جواب میں وہ بڑے ہی سنجیدہ لہجے میں بولی ۔۔۔آپ کو ماما بلا رہیں ہیں۔۔۔۔ رمشا کو سنجیدگی دیکھ کر میں سمجھ گیا ۔۔۔کہ اس کے آس پاس کوئی ہو گا۔۔۔ اس لیئے میں نے بھی ۔۔۔ سنجیدگی سے جواب دیتے ہوئے کہا اوکے میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔ ۔۔۔ پھر آفس کا کام ختم کرنے کے بعد میں رمشا کے گھر چلا گیا۔۔


وہاں جا کر دیکھا تو ان کا ڈرائینگ روم فُل تھا مطلب میری ہونے والی ساس اس کی دونوں بیٹیاں اور صائمہ باجی کے ساتھ فرزند صاحب کو دیکھ کر میں چونک گیا۔۔ اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔واہ جی واہ۔۔ بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔ میری بات سن کر فرزند صاحب مسکرا کر بولے ۔۔ صبع سے ہم لوگوں کو تجسس لگا ہوا تھا کہ پتہ نہیں کیا بنا ہو گا؟۔۔۔ اسی لیئے خواتین کے ساتھ میں بھی آ گیا۔۔پھر کہنے لگا یہ بتاؤ کہ کام کا کیا ہوا؟؟۔۔۔ تو میں فرزند کو جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اگلے ہفتے تک آنٹی کو اپنا پلاٹ واپس مل جائے گا؟ میری بات سن کر وہاں موجود خواتین کہنے لگیں ۔۔۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟ تو اس پر میں نے ان کو مختصراً ساری بات سنا دی۔۔۔ جب میں نے اپنی بات ختم کی تو فرزند کہنے لگا ۔۔ یار احتیاط کرنا کہ تاجہ واقعی ہی ایک خطر ناک آدمی ہے اس نے بہت سے بندوں کو مارا ہوا ہے۔۔۔۔پھر کہنے لگا کہ بلکہ میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ جائیداد کے لالچ میں اس نے اپنی سگی بھابھی کو بھی قتل کر رکھا ہے اس لیئے تم بچ کے رہنا۔۔۔۔۔ تو میں انہیں جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔ایسی بات نہیں ہے بھائی جان ۔۔ تاجہ اس لیئے بدمعاش ہے کہ اس کے پیچھے ملک کا ہاتھ ہے ۔۔ملک کا نام سنتے ہی ارم آنٹی کہنے لگیں ۔۔۔ ویسے ایک بات ہے اور وہ یہ کہ ملک صاحب بہت ہی دیالو قسم کے انسان ہیں ان کے لنگر سے روزانہ سینکڑوں لوگ کھانا کھاتے ہیں اس پر میں تڑپ کر بولا۔۔ آنٹی اگر آپ ناراض نہ ہوں تو ایک بات عرض کروں ؟ تو وہ بولیں ہاں ہاں جو کہنا ہے کہو۔۔تو میں بولا ۔ ۔۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس ملک صاحب نے غریبوں کے گاؤں کے گاؤں پر بزرو بازو قبضہ کر رکھا ہے۔۔۔۔ اور اس قبضے کے دوران اس نے ناجانے کتنے لوگوں کو قتل بھی کروایا ہے ۔۔ اب آپ خود ہی بتائیں کہ ایک شخص آپ سے اربوں روپے چھیننے کے بعد چند ہزار کا کھانا کھلا دیتا ہے ۔۔ تو کیا وہ دیالو ہو گیا؟۔۔۔۔اور بائی دی وے۔۔۔۔ کھانا بھی وہ اس لیئے کھلاتا ہے کہ پبلک کے سامنے اس کا سافٹ امیج بنا رہے۔۔۔۔ اور لوگ اسے نیک آدمی سمجھیں ۔۔۔۔ میں نے بات ختم ہی کی تھی کہ رمشا کہنے لگی۔۔۔ بھائی آپ کے لیئے کھانا لگ گیا ہے پھر اس نے باقی عوام کی طرف دیکھا اور کہنے لگی آپ میں سے بھی اگر کسی کو بھوک ہے تو بلا تکلف آ سکتا ہے اس کی بات سن کر فرزند کہنے لگا کہ مجھے بھوک تو نہیں لیکن شاہ کا ساتھ دینے کے لیئے ۔۔۔تھوڑی سی روٹی کھا لوں گا۔۔۔ فرزند صاحب کی بات سن کر میں اپنی جگہ سے اُٹھا اور ان کی طرف دیکھتے ہوئے ایک انگلی کھڑی کے بولا۔۔۔ آپ شروع کریں میں زرا واش روم اٹینڈ کر کے آتا ہوں۔۔۔ واش روم سے فراغت کے بعد جیسے ہی میں کمرے سے باہر نکلا تو اتفاق سے اسی وقت ثانیہ کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔اسے دیکھتے ہی مجھے شرارت سوجھی اور میں اس سے مخاطب ہو کر بولا۔۔کیسی ہو مس لیسبو؟ میری بات سن کر ثانیہ کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا ۔۔۔۔۔ لیکن پھر فوراً ہی سنبھل کر تڑاخ سے بولی ۔۔۔ ہاں ہوں ۔۔۔ پھر؟ اس کی بات سن کر میں اس کے قریب جا کھڑا ہوا ۔۔۔اور اس کے سانولے چہرے کو دیکھ کر بڑے ہی سیکسی موڈ میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش میں بھی ایک لڑکی ہو تا ۔۔۔۔اور تم میری عزت لوٹتی۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے بے اختیار ایک قہقہہ لگایا۔۔۔۔ اور میں کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ میرے اس بات سے ہم دونوں کے درمیان تناؤ ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ ڈائینگ ٹیبل پر دیکھا تو فرزند کے ساتھ دونوں آنٹیاں بھی موجود تھیں۔۔۔ 

کھانا کھاتے ہوئے میری ہونے والی ساس کہنے لگی ۔۔۔ بیٹا آپ کو یقین ہے کہ آپ ارم کا پلاٹ خالی کروا لو گے۔۔۔۔؟ تو میں نے ان سے کہا کہ یقین نہیں ۔۔۔ آنٹی۔۔۔بلکہ مجھے تو پکا یقین ہے ۔۔۔۔ اور ان سے مزید بولا ۔۔۔ آنٹی جی آپ بس دو تین دن صبر کر لیں ۔۔۔۔ آپ کو رزلٹ مل جائے گا۔۔۔۔ اس پر فرزند کہنے لگا۔۔۔ شاہ جی !۔۔اگر آپ نے ارم آنٹی کا پلاٹ خالی کروا لیا۔۔۔ تو پھر میری طرف سے آپ کے لیئے ایوبیہ کا ٹرپ پکا ۔۔۔ بلکہ وہاں پر رہنے کھانے پینے کے سارے اخراجات میرے ذمہ۔۔۔اس پر میں حیران ہو کر بولا۔۔۔ ۔۔ایویبہ کا ٹرپ؟ تو وہ کہنے لگا کہ ہاں ایوبیہ کا ٹرپ۔۔معہ اس کے سارے اخراجات۔۔۔۔۔ اس پر میری ہونے والی ساس وضاحت کرتے ہوئے بولی ۔۔۔ بات یہ ہے بیٹا کہ ۔۔ ایوبیہ سے تھوڑی دور مورتی میں ہمارا اپنا کاٹیج ہے جہاں پر اکثر ہم ویک اینڈ منانے جاتے ہیں ۔۔۔ آنٹی یہ بات کر رہیں تھیں کہ ثانیہ کمرے میں داخل ہوتے ہی کہنے لگی۔۔۔۔ ابھی ابھی میرے کانوں میں ایوبیہ کی آواز گونجی ہے تو فرزند صاحب ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ کہ ہم لوگ ایوبیہ جانے کی بات کر رہے تھے۔۔۔۔ اس پر وہ کہنے لگی میں بھی جاؤں گی۔۔۔ تو وہ ہنستے ہوئے بولے۔۔۔۔۔ ہمارے گھر میں تمہارے بغیر کوئی کام ہو سکتا ہے؟ کھانا کھانے کے بعد جب میں ان لوگوں سے اجازت لینے لگا تو آنٹی بڑی شفقت سے تاکید کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ بیٹا ہمارے گھر بھی چکر لگانا۔۔۔پھر باجی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگیں۔۔۔۔ ہمیں نہیں تو ۔۔۔ کم از کم اپنی بہن سے ہی ملنے آ جایا کرو۔۔۔۔ پھر تھوڑا وقفہ دے کر بولیں ۔۔۔ انکل تمہارا بہت پوچھ رہے تھے۔۔۔ اور میں ان سے آنے کا وعدہ کر کے باہر جانے لگا تو فرزند مجھے چھوڑنے کے لیئے باہر تک آئے ۔۔۔اور باتوں باتوں میں ۔۔۔۔کہنے لگے کہ عدیل کیسا ہے؟ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدیل سے کل ہی بات ہوئی تھی وہ لوگ آج کل کراچی میں ہیں اور خوب انجوائے کر رہے ہیں ۔۔۔پھر میں نے فرزند صاحب سے ہاتھ ملایا اور گیٹ سے باہر نکل گیا۔۔

 


یہ اس سے تیسرے دن کی بات ہے کہ ڈی ایس پی کا فون آ گیا ۔۔۔ ہیلو کے جواب میں کہنے لگا ۔۔۔۔ شاہ جی! آپ کا کام ہو گیا ہے تو اس پر میں بولا کیا پلاٹ خالی ہو گیا ہے؟ تو وہ کہنے لگا جی آپ خود جا کر دیکھ سکتے ہیں میں نے ان لوگوں سے آپ کا پلاٹ خالی کروا دیا ہے اس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔وہ تو ٹھیک ہے اولیا صاحب ! لیکن کیا وہ لوگ آنٹی سے معذرت بھی کریں گے؟ میری بات سن کر وہ ایک دم چُپ ہو گیا۔۔۔اور پھر تھوڑی دیر بعد تلخ لہجے میں بولا۔۔۔دیکھو یار ۔۔۔ میں نے ان لوگوں سے بڑی مشکلوں سے قبضہ چھڑایا ہے اور اب آپ ۔۔۔۔کہہ رہیں ہیں کہ و ہ لوگ آنٹی سے معافی بھی مانگیں۔۔۔۔ اس پر میں جھوٹ بولتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اصل میں کل میں اور آنٹی ملک صاحب (ڈی آئی جی ) سے ملنے گئے تھے وہیں پر آنٹی نے ان سے یہ بات کی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔اور آنٹی کی بات سننے کے بعد ملک صاحب نے مجھے تاکید کی تھی کہ میری طرف اولیا صاحب کو کہہ دینا کہ تاجے کے چمچے تمہاری آنٹی سے معافی بھی مانگیں گے۔۔۔۔ اس کے بعد ۔۔میں بات میں وزن پیدا کرتے ہوئے بولا ۔۔ اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں تو بے شک۔۔۔۔ خود ان سے پوچھ لیں۔۔۔ میرا تیر نشانے پر لگا ۔۔ ملک صاحب کے حوالے نے اس بےچارے کی بولتی بند کر دی تھی۔۔۔اور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ ملک صاحب سے کبھی بھی یہ بات کنفرم نہیں کرے گا۔۔۔ چنانچہ میری بات سن کر وہ بڑی بے چارگی سے بولا ۔۔ اگر یہ ملک صاحب کا حکم ہے تو پھر ان کا باپ بھی تمہاری آنٹی سے معافی مانگے گا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگا۔۔۔ کل صبع ٹھیک گیارہ بجے آنٹی کو لے کر میرے دفتر میں آجانا ۔۔۔۔۔۔پھر یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کر تے ہوئے بولا ۔۔۔ میرا آفس تھانے کے اندر ہی واقع ہے۔۔۔ ۔۔۔۔


ڈپٹی کا فون ختم ہوتے ہی میں نے ایک دوست کو ساتھ لیا اور آنٹی کے پلاٹ پر پہنچ گیا۔۔۔ دیکھا تو آنٹی کے پلاٹ سے ٹریکٹر ٹرالی ریت اٹھا رہی تھی اور ٹاہلی کے نیچے اس کن ٹٹے کی چارپائی بھی غائب تھی۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر میں مطمئن ہو کر واپس آ گیا۔۔۔اور آنٹی کو فون کر کے مبارک دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ کہ مبارک ہو آپ کا پلاٹ خالی ہو رہا ہے۔۔۔۔ کل آپ کو میرے ساتھ ڈی ایس پی کے آفس جانا پڑے گا ۔۔۔ جہاں آپ کو پلاٹ کا قبضہ واپس مل جائے گا۔میری بات سن کر وہ خوش ہو کر بولیں۔۔۔ ٹھیک ہے میں تمہیں دس بجے کے قریب دفتر سے پِک کر لوں گی ۔۔

چنانچہ اگلے دن مقررہ وقت پر میں اور آنٹی ڈی ایس پی کے آفس میں تھے ڈپٹی نے ہمیں اچھی سی چائے پلائی۔۔چائے پینے کے بعد اس نے بیل دی اور اپنے اردلی سے بولا۔۔۔ باہر تاجے کے بندے بیٹھے ہیں انہیں اندر لاؤ ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد پپو استاد ا ور وہ شخص کہ جس نے ہم پر فائرنگ کی تھی ڈپٹی کے کمرے میں داخل ہوئے ۔۔ انہیں دیکھتے ہی ڈپٹی بڑے رعب سے بولا۔۔۔ اوئے بے شرمو۔۔۔اس خاتون کو تم نے بہت تنگ کیا ۔۔۔ اس لیئے اس سے معافی مانگو۔۔۔۔چنانچہ ڈی ایس پی کے کہنے پر انہوں نے آنٹی سے معافی مانگ لی۔ ۔۔۔ وہ کن ٹٹے جس انداز سے معافی مانگ رہے تھے۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہوئے میں سمجھ گیا تھا کہ یہ سب ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ڈپٹی انہیں معافی مانگتے دیکھ کر کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ خبردار اگر آئیندہ۔۔۔۔ادھر کا رُخ بھی کیا تو ۔۔۔۔ ورنہ تم دونوں کو اُلٹا لٹکا دوں گا ۔۔۔ اور پھر مزید اسی قسم کی باتیں کرتے ہوئے وہ آنٹی سے بولا۔۔۔۔ بہن جی! انہیں معاف کر دیں ۔۔۔۔اس کی بات سن کر آنٹی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس نے ایک بار پھر ان دونوں کو وارننگ دی اور گرجدار آواز میں دفعہ ہونے کو کہا۔۔۔ میں اس کا سارا ڈرامہ سمجھ رہا تھا لیکن بے چاری آنٹی۔۔۔ڈپٹی کے ڈرامے سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہو گئی تھی اور اس وقت ان کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔۔۔ میں ڈپٹی اور ان کن ٹٹوں کا سارا ڈرامہ سمجھنے کے باوجود بھی چپ تھا۔۔۔۔تو اس لیئے کہ میرا بھی مقصد آنٹی کو متاثر کرنا ہی تھا۔۔۔ پھر جیسے ہی کن ٹٹے کمرے سے باہر نکلے۔۔۔۔۔۔۔ڈپٹی نے آنٹی کو ایک لمبی سٹوری سنائی کہ کس طرح اس نے شہر کے سب سے خطر ناک بدمعاش اور قبضہ مافیا کے سرگرم رکن تاجے سے ان کا پلاٹ وا گزار کرایا تھا۔۔۔ رام کہانی سنانے کے بعد ۔۔۔وہ آنٹی کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی لجاجت سے بولا۔۔ بہن جی آپ سے گزارش ہے کہ میری اس حقیر کاوش کا تزکرہ جناب ملک صاحب سے ضرور کیجیئے گا۔۔۔۔پھر شرمندی سی شکل بناتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اگر ہو سکے تو جناب ملک صاحب سے میری سفارش بھی کرنا۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ ساتھ والے سرکل کا چارج بھی مجھے دے دیا جائے۔۔۔ کیونکہ وہاں کا ڈپٹی پرسوں ریٹائر ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ڈپٹی کی بات سن کر آنٹی نے میری طرف دیکھا اور پھر اشارہ سمجھ کر بولیں ۔۔ جی میں اس سلسلہ میں ان سے ضرور بات کروں گی۔۔ اس کے بعد ہم نے ڈپٹی سے اجازت لی۔۔۔ اور وہ ہمیں باہر تک چھوڑنے آیا۔۔۔۔۔اور جب تک ہم گاڑی میں نہیں بیٹھے وہ آنٹی سے بار بار یہی کہتا رہا کہ ملک صاحب کے آگے میری تعریف ضرور کرنا ۔۔۔۔اور جاتے جاتے پھر کہنے لگا۔۔۔ پلیز بہن جی میرا کام یاد رکھنا ۔۔۔۔ آنٹی نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔اور گاڑی چلا دی۔۔۔


جیسے ہی گاڑی مین روڈ پر پہنچی تو تھوڑا آگے جا کر ۔۔۔ آنٹی نے اچانک ہی گاڑی کو ایک سائیڈ پر روکا۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ سمجھتا وہ دونوں ہاتھ اسٹرئیرنگ پر رکھ کر بولیں۔۔۔ ا س دن تم کیا کہہ رہے تھے۔۔۔ کہ تم۔۔ یہ سب مجھے امپریس کرنے کے لیئے کر رہے ہو ؟ آنٹی کی بات سن کر میں چونک اُٹھا۔۔۔ اور ایک نظر ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔ تو ان کی آنکھوں میں مجھے ایک عجیب سی چمک نظر آئی۔۔۔۔۔ یہ چمک دیکھ کر میری چھٹی حس نے مجھے مخصوص سگنل دیا۔۔سگنل پاتے ہی ۔۔۔۔میں نے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اور پھر اپنے لہجے میں ہندی فلموں کا سارا رومانس بھر کے بولا۔۔۔جی میں نے ایسے ہی کہا تھا۔۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ اور مخمور لہجے میں بولیں ۔۔۔ " تو سنو شاہ جی!۔۔۔ میں تم سے واقعی ایمپریس ہو گئی ہوں " اتنی بات کرتے ہی انہوں نے بنا کوئی بات کیئے گاڑی چلا دی۔۔عورتوں / آنٹیوں کے قانون کے مطابق انہوں نے جو کہنا تھا اشارے سے کہہ دیا۔۔۔ ۔۔۔اب آگے میری ہمت پر منحصر تھا کہ۔۔۔میں ان کے اشارے سے کتنا فائدہ ا ُٹھاتا ہوں۔۔۔اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں اس قسم کے معاملات میں اچھا خاصہ تاک بلکہ ہنرمند واقع ہوا تھا۔۔۔ ۔ چنانچہ میں دیکھا کہ ان کا ایک ہاتھ ابھی تک گیئر پر ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔ ۔۔۔ سو میں نے بڑی آہستگی کے ساتھ ۔۔۔۔ اپنا ہاتھ ان کے نرم ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔ ۔۔اور بڑی ہی رومینٹک ٹون میں بولا۔۔۔ آپ تو آج ایمپریس ہوئی ہو ۔۔۔جبکہ میں تو آپ کو دیکھتے ہی گھائل ہو گیا تھا۔۔۔۔میرا محبت بھرا ڈئیلاگ سن کر ان کا چہرہ سرخ ہو گیا۔۔ لیکن وہ بولی کچھ نہیں۔۔۔ ادھر ان کی خاموشی کو نیم رضا مندی جان کر میں نے ان کے ہاتھ کو سہلانا شروع کر دیا ۔۔۔ ۔۔۔۔ اور ایسا کرتے ہوئے براہ راست ان کی طر ف دیکھنے بجائے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ۔۔۔۔ میں کن اکھیوں سے ان کے ردِ عمل کا بھی جائزہ لیتا جا رہا تھا۔۔۔۔ اور میری توقع کے عین مطابق نہ تو انہوں نے میرے ۔۔۔۔ اور نہ ہی اپنے ہاتھ کو گیئر سے ہٹانے کی کوئی کوشش کی۔۔۔ کچھ دیر یونہی گزر گئی۔۔۔۔ ۔۔ میں ان کے ہاتھ کو سہلاتا رہا ۔۔۔۔اور وہ چپ چاپ گاڑی چلا تی رہیں۔۔ ۔۔ میں جو کام کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ اسے اچھی طرح سمجھ رہیں تھی۔۔۔ لیکن چُپ تھیں۔۔ ۔۔۔ کار میں گھنی خاموشی چھائی تھی ۔۔۔۔ اسی دوران ۔۔۔میں نے ایک سٹیپ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔اور ان کا ہاتھ پکڑ کر۔۔۔۔اپنے ہونٹوں تک لے گیا۔۔۔ اور اس کی پشت کو چوم کر بولا۔۔۔۔ارم آنٹی۔۔۔۔ آپ بہت پیاری ہو ۔۔ میرے اس عمل پر بھی انہوں نے کوئی ردِ عمل نہیں دیا۔۔۔اور ویسے ہی گاڑی چلاتی رہیں۔۔۔میں کن اکھیوں سے دیکھا تو۔۔ ۔۔۔۔ کار میں ائیر کنڈیشن چالو ہونے کے باوجود بھی ان کا ماتھا پسینے سے چمک رہا تھا۔۔۔ دوسری طرف میرے اس طرح ہاتھ چومنے پر بھی جب وہ خاموش رہیں ۔۔۔ تو اس بات سے مجھے اچھا خاصہ حوصلہ ہوا۔۔۔۔جس کی وجہ سے میں نے ایک سٹیپ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔ چنانچہ ہاتھ سہلاتے سہلاتے۔۔۔۔۔۔ میں نے ان کا ہاتھ پکڑ ا۔۔۔۔اور ان کی ران پر رکھ دیا۔۔۔اُف۔۔۔ ان کی ران بہت ہی نرم اور ریشم کی طرح ملائم تھی ۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف میرے ہاتھ کو اپنی ران پر محسوس کرتے ہی انہوں نے ایک جھرجھری سی لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔ لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔۔۔۔ ران پر ہاتھ رکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔ میں نے چوری چوری ان کی طرف دیکھا۔۔۔۔ تو وہ بار بار اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیر رہیں تھیں۔۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بھی گرم ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ یہ دیکھ کر مجھے مزید حوصلہ ہوا۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ میں بغیر رکاوٹ کے۔۔۔ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ۔۔۔ ران پر ہاتھ رکھنے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔۔۔۔ ۔۔میں ان سے بولا ۔۔۔۔ کیا خیال ہے آنٹی ۔۔۔ ایک نظر پلاٹ کو نہ دیکھ لیا جائے؟۔۔۔۔ پلاٹ والی بات میں نے اس لیئے کی تھی کہ میں ان کے ساتھ مزید کچھ وقت گزارنا چاہ رہا تھا۔۔۔ ادھر میری بات سن کر وہ بس اتنا بولیں ۔۔۔ دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے گاڑی کا یو ٹرن لیا۔۔۔ اور اب ہم شہر سے باہر کی طرف ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کی طرف جا رہے تھے کہ جہاں پر آنٹی کا پلاٹ واقع تھا ۔۔۔۔۔ کچھ دور جا کر۔۔۔۔۔ میں اپنی سیٹ سے تھوڑا آگے کھسکا ۔۔۔ اور ان کی ران پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ میری اس حرکت سے وہ تھوڑا سا ان ایزی ہوئیں ۔۔۔ لیکن پھر۔۔۔۔ اگلے چند سیکنڈز کے بعد۔۔۔۔۔ نارمل ہو گئیں۔۔۔ یہ دیکھ کر میں ان کی ران کو سہلانا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔تو ۔۔۔اس وقت ان کا ماتھا پسینے سے تر تھا۔۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف میں بڑی آہستگی کے ساتھ ان کی ملائم رانوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور 


پھر میں نے کن اکھیوں سے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔تو جزبات کی شدت سے ان کا چہرہ اچھا خاصہ سرخ ہو چکا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ ضبط کیئے بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔۔ ادھر میرے اندر بھی ان کی پھدی کی طلب بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔۔ جو اس وقت میری انگلیوں سے چند ہی سینٹی میٹر سے دوری کے فاصلے پر واقع تھی۔۔ جس کی ان دیکھی ہیٹ سے میں بے قرار ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔ پھر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔۔۔چنانچہ ان کی نرم ملائم ران پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے ۔۔۔ ۔۔۔۔ جیسے ہی میں نے اپنی انگلیاں ان کی ۔۔۔ انر تھائی ( ران کی اندرونی سمت۔۔۔ مطلب چوت کے پاس ) کی طرف لے جانا چاہیں۔۔۔ تو اسی دقت انہوں نے اپنی دونوں رانوں کو آپس میں جوڑ لیا۔۔۔ اور ۔۔۔میری طر ف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ ک۔۔کک۔۔کیا کر رہے ہو؟ تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے شہوت بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔ کچھ نہیں آنٹی۔۔۔ تو وہ بڑے ہی سخت لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔تم غلط سمجھے ہو۔۔۔ مم۔۔۔ مم ۔۔میں ایسی عورت نہیں ہوں ۔۔۔اپنا وار خالی جاتے دیکھ کر۔۔۔۔۔ میں نے پینترا بدلا۔۔۔۔ اور شرمندہ سی شکل بنا کر بولا۔۔۔ سوری آنٹی۔۔لیکن کیا کروں ۔۔میں آپ کے آگے بے بس ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ پھر انہیں مکھن لگاتے ہوئے بولا۔۔۔ آنٹی میں کیا کروں کہ آپ میں کشش ہی اتنی ہے کہ میں خود پر کنٹرول نہ رکھ سکا۔۔ اور اس کے ساتھ ہی پچھتانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔۔۔میری توقع کے عین مطابق آنٹی نے کچھ دیر تک مجھے جج کیا کہ کہیں میں ڈرامہ تو نہیں کر رہا؟ ۔۔۔ لیکن جب انہیں پختہ یقین ہو گیا کہ میں سچ مچ شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔ تو دفعتاً انہوں نے گاڑی کو ایک سائیڈ پر روکا۔۔۔۔اور میری تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسے اوپر اُٹھاتے ہوئے بولیں۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ناراض ہو گئے ہو؟ تو میں ڈرامہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔ آپ مجھے قتل بھی کر دیں تو بھی میں۔۔۔ آپ سے ناراض نہیں ہوں گا۔۔۔۔ قتل کا نام سنتے ہی انہوں نے تڑپ کر میرے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور کہنے لگیں ۔۔۔ ایسے نہ کہو۔۔۔۔ میں کیا شکل سے تمہیں قاتل لگتی ہوں؟ اس پر میں بولا ۔۔۔۔ آپ قاتل نہیں تو اور کیا ہو؟ ۔۔۔۔ اچھے خاصے بندے پر ایسا جادو کر دیا ہے۔۔۔۔کہ اس نے جو نہ کرنا تھا وہ بھی کر بیٹھا۔۔۔ ۔۔۔ میرا محبت بھرا۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ جگر پاش بیان سن کر آنٹی بے خود ہو کر بولیں۔۔۔ وہ میرا مطلب تھا ۔۔کہ تم اتنی جلدی۔۔۔ بہت آگے تک چلے گئے تھے۔۔۔ ان کی بات سن کر میں نے بڑی ہی رومینٹک نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور پھر کہنے ۔۔۔۔ ارم جی ! تو پھر آپ ہی بتا دیں کہ میں کہاں سے شروع کروں؟۔۔اور پھر ان کے جواب کا انتظار کیئے بغیر ۔۔ اپنی سیٹ سے اوپر اُٹھا۔۔۔۔ اور ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔ ان کے ہونٹ گلاب کی پتی کی طرح بہت ہی نرم اور رس سے بھرے تھے۔۔۔ ادھر جیسے ہی میں نے ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے۔۔تو وہ میرے چہرے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے بولیں۔۔۔ ارے۔۔ارے۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔ لوگ دیکھ لیں گے۔۔۔ اس پر میں ان سے بولا۔۔۔کیا کروں ۔۔ آنٹی۔۔۔۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔کیونکہ آپ میں سیکس اپیل مجھے کسی پل بھی چین نہیں لینے دے رہی۔۔۔۔ اتنے کہنے کے بعد ان سے بولا۔۔۔۔۔آپ پلیز ایسا کریں گاڑی اس طرف لے جائیں کہ جہاں کوئی آتا جاتا نہیں ۔۔۔۔۔ ۔۔۔تو وہ کہنے لگی ۔۔۔اوکے۔۔ لیکن ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ۔۔۔۔۔ وہاں جا کر میرے ساتھ کوئی ایسی ویسی کوئی حرکت نہیں کرو گے ۔۔

۔اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ۔۔۔سو میں نے جھٹ سے ہاں کر دی۔۔۔اس وقت تک ہم ہاؤسنگ سوسائٹیز کی طرف مُڑ چکے تھے۔۔۔۔۔ چنانچہ میری بات سن کر انہوں گاڑی چلا دی۔۔۔ پھر انہوں نے گاڑی کو اس طرف موڑا ۔۔۔کہ جس طرف ان کا پلاٹ واقع تھا ۔۔اس وقت دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے تھے گرمی پورے عروج پر تھی۔۔۔ اور تیز دھوپ کی وجہ سے اس علاقے میں دور دور تک کوئی بندہ نہ بندے کی ذات نظر آ رہی تھی۔۔۔۔ تھوڑی دور جا کر انہوں نے گاڑی کو پلاٹ کی طرف لے جانے کی بجائے۔۔۔۔۔ ایک کچی سڑک کی طرف موڑ لیا۔۔۔ اس پھر سڑک سے تھوڑی دور درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس گاڑی روک لی۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھنے لگی۔۔

 


جیسے ہی گاڑی رکی میں نے ایک نظر باہر کی طرف دیکھا ۔۔۔تا حدِ نظر چمکیلی دھوپ کے سوا کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔۔۔۔ اس طرف سے مطمئن ہونے کے بعد ۔۔۔۔ ۔۔ میں نے ارم آنٹی کی گردن میں ہاتھ ڈالا۔۔۔۔ اور ان کے چہرے کو اپنے قریب لا۔۔۔ کر دھیرے سے بولا۔۔۔ ۔۔۔۔ارم ڈارلنگ ۔۔۔ آئی لو یو ۔ ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔۔اور ان کا رس چوسنے لگا۔۔۔ میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھنے کے دوران ۔۔۔۔وہ تھوڑا سا کسمسائیں۔۔۔۔ اور واجبی سا احتجاج بھی کیا۔۔۔ لیکن میں کہاں سننے والا تھا۔۔۔۔ اس لیئے ان کے رس بھرے ہونٹوں کو چوستا رہا۔۔۔۔میرے ایسا کرنے سے ۔۔ کچھ دیر تک تو انہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔ لیکن جب میں نے اپنی زبان آنٹی کے منہ میں ڈالی۔۔۔تو وہ تھوڑا سا تڑپیں۔۔۔۔۔۔۔اور پھر ۔۔۔کچھ دیر بعد ۔۔۔۔آہستہ آہستہ۔۔۔۔وہ بھی میری زبان کو چوسنا شروع ہو گئیں۔۔۔تھوڑی سی کسنگ کے بعد اچانک انہوں نے میری زبان کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور کہنے لگیں۔۔ میرے عزیز واقف کاروں میں تم پہلے لڑکے ہو کہ جس کے ساتھ میں یہ کر رہی ہوں ۔۔۔اس لیئے قسم کھاؤ کہ میرے اور تمہارے بیچ ۔۔۔۔۔ یہ راز ہمیشہ راز ہی رہے گا ۔۔۔ راز کے سلسلہ میں ۔۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ۔ میں پہلے ہی بہت پکا تھا اس لیئے میں نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور قسم اُٹھاتے ہوئے بولا ۔۔۔ کہ ارم جی میرے اور آپ کے بیچ کا یہ تعلق ہمیشہ راز ہی رہے گا۔۔۔ یہ سن کر انہوں نے بڑی بے تابی سے میرا منہ چوما ۔۔۔اور پھر کار سے باہر دیکھتے ہوئے اپنی قمیض اوپر اُٹھا ئی۔۔۔۔ اور ایک چھاتی باہر نکال کر بولیں۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔میری چھاتی چوس۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ آنٹی کی چھاتی شیپ میں گول اور سائز میں 38 کی ہو گی۔۔۔گوری چھاتی کے آگے براؤن رنگ کا موٹا سا نپل تھا۔۔۔ جو اس وقت اکڑا کھڑا تھا۔۔ میں نے اپنے منہ سے زبان نکالی اور ان کے نپل پر گول گول پھیرنے لگا۔۔۔۔۔نپل پر زبان پھیرنے کی دیری تھی ۔۔۔ کہ آنٹی کے منہ سے ایک سسکی بھری۔۔۔۔آہ ہ ہ ۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ سارا نپل منہ میں لے۔۔۔ یہ سنتے ہی میں نے ان کے نپل کو اپنے منہ میں لیا۔۔۔۔اور اسے چوسنے لگا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ۔۔۔۔۔ اپنا ایک ہاتھ ان کی نرم رانوں پر لے گیا۔۔۔ جیسے ہی میرا ہاتھ ان کی ریشمی رانوں کے ساتھ ٹچ ہوا۔۔۔۔تو ۔۔ایک دم سے وہ کسمسائیں۔۔اور دونوں ٹانگوں کو آپس میں جوڑ لیا۔۔۔اس پر میں نے نپلز سے منہ ہٹایا ۔۔اور ان سے بولا۔۔۔۔۔۔ آنٹی پلیززز۔۔۔ تھوڑی سی ٹانگیں کھول دیں۔۔ اور پھر تھوڑے سے ناز نخرے کے بعد انہوں اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا کھول دیا۔۔ 

جس کی وجہ سے ہاتھ کی بجائے ۔۔۔۔ مڈل فنگر کی وہاں تک رسائی ہو گئی تھی کہ جس کے لیئے میں مرا جا رہا تھا۔۔۔۔ میرے لیئے یہی کافی تھا۔۔۔ چنانچہ میں اپنی مڈل فنگر کو ان کی موسٹ پرائیویٹ جگہ پر لے گیا۔۔۔ اور ۔۔۔دھیرے دھیرے سے ۔۔۔۔۔۔اسے سہلانا شروع کر دیا۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے نپلز بھی چوستا رہا ۔۔۔ پھر کچھ ہی دیر بعد۔۔۔جب ان کے منہ سے گرم گرم سانسیں نکلنا شروع ہوگیئں ۔۔۔۔ تو میں نے ان کی موسٹ پرائیویٹ جگہ پر اپنے ہاتھ کا دباؤ بڑھا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے کے برعکس ۔۔ اس دفہس انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے ۔۔۔۔۔ اپنی ٹانگوں کو مزید کھول دیا۔۔۔۔ ۔۔۔چنانچہ اب میرے پورے ہاتھ کی رسائی ۔۔۔ان کی نرم چوت تک ہو گئی تھی۔۔۔ اور اب میں ان کے نپلز کو چوستے ہوئے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی میرا ہاتھ ان کی گرم چوت کے درمیان پڑا۔۔۔۔۔ وہ تھوڑا سا تڑپی۔۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔پھر ایڈجسٹ ہو گئی۔۔۔۔ ۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے ان کی پھدی کی دونوں پھانکوں کے بیچ انگلیاں پھیرنا شروع کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی چوت سخت تپی ہوئی۔۔۔اور گیلی تھی ۔۔جس کی وجہ سے ان کی شلوار کا مخصوص حصہ گیلا ہو رہا تھا۔۔۔ چنانچہ میں اس گیلے حصے پر ہی انگلی پھیر تا رہا ۔۔۔۔ اسی اثنا میں انہوں نے اپنی دوسری چھاتی کو بھی ننگا کر دیا ۔۔۔ اسی دوران میں چوت کی پھاڑیوں کے درمیان انگلیاں پھیرتے ہوئے محسوس کیا۔۔۔ کہ ان کی چوت پر اچھا خاصے بال اُگے ہوئے تھے۔۔لیکن اس وقت ان بڑھے ہوئے بالوں کی فکر کس کافر کو تھی۔۔۔ 
فکر تھی تو بس اتنی کہ کس وقت میں آنٹی کی چوت ماروں گا۔۔جبکہ دوسری طرف۔۔۔۔ میں ارم آنٹی کی دونوں چھاتیوں کو باری باری چوس رہا تھا ۔۔۔اور وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہہ رہیں تھیں۔۔۔ میری جان میرے عاشق ۔۔۔ میری چھاتیوں کو ایسے چوسو کہ جیسے تم آم چوستے ہو ۔۔۔۔ آنٹی کی دل کش سسکیوں سے ماحول گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اور وہ بھی شہوت بھری آواز میں کہہ رہیں تھیں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔میری ننگی چھاتیوں کو چوس ۔۔۔۔۔۔اور چوس۔۔ اسی دوران آنٹی کی سانس بہت تیز ہو گئی ۔۔۔اور پھر اچانک ہی انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑا ۔۔۔۔۔اور بنا کوئی بات کیئے۔۔۔ اسے شلوار کے اندر لے گئیں۔۔۔اور اپنی پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔۔ اُف۔۔۔ اور پھر میں اپنی انگلیوں کو پھدی کی دونوں پھانکوں کے اندر لے گیا۔۔۔ تو وہ اس قدر گرم اور گیلی تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا کہ جیسے میرا ہاتھ آنٹی کی پھدی میں نہیں بلکہ کسی گرم اور گیلے تندور میں چلا گیا ہو۔۔اس کے باوجود کہ اس وقت گاڑی سٹارٹ تھی اور اس کا ائیر کنڈیشن بھی فل سپیڈ میں لگا ہوا تھا۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ہم دونوں ہی پسینے سے شرابور تھے۔۔۔ شاید اس لیئے کہ ہم دونوں میں سیکس کی آگ پوری طرح بھڑک رہی تھی۔۔۔اور اس سیکس کے آلاؤ کی وجہ سے ہم دونوں پسینے میں نہا ئے ہوئے تھے۔۔۔۔ ان کی بالوں والی پھدی میں ۔۔۔انگلیاں پھیرتے ہوئے۔۔۔۔۔اچانک ہی میرا دل میں خواہش جاگی کہ میں آنٹی کی پھدی کو ننگا دیکھوں ۔۔اس لیئے میں نے ان کے نپل سے منہ ہٹایا ۔۔۔۔۔اور بولا۔۔۔ ارم جی شلوار کو تھوڑا نیچے کر لیں۔۔۔۔۔ تو وہ شہوت بھری آواز میں بولی۔۔۔ کیوں میری پھدی دیکھنی ہے؟ تو میں نے کہا ۔۔۔ جی مجھے آپ کی چوت کے دیدار کرنے ہیں۔۔۔ یہ سن کر وہ کہنے لگیں ۔۔۔ گاڑی سے باہر دیکھو کوئی آ تو نہیں رہا؟ اور خود بھی گاڑی سے باہر دیکھنے لگیں۔۔۔ ادھر میں گاڑی سے باہر جھانک کر دیکھا ۔۔۔تو آس پاس کوئی بھی نہ تھا۔۔ باہر کی طرف سے مطمئن ہو کر وہ سیٹ سے اوپر اُٹھیں تو میں نے جلدی سے ان کی شلوار کو نیچے کر دیا۔۔۔۔ اب کی ننگی پھدی میری نظروں کے سامنے تھی۔۔۔ادھر شلوار نیچے ہوتے ہی ۔۔۔ان کی چوت سے مخصوص مہک نکلی۔۔۔۔ اور میرے نتھنوں میں گھس گئی۔۔۔۔ واؤؤؤؤ۔۔۔ ان کی چوت سے اُٹھنے والی مہک بہت ہی تیز اور مست قسم کی تھی۔۔۔ میں نے تھوڑی دیر تک اس مہک کا مزہ لیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سے بولا ۔۔۔۔ ارم جی آپ کی چوت کی بو بہت تیز ہے۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو اوروں کی نسبت میری پھدی کی سمیل بہت سٹرانگ ہے۔۔۔

۔لیکن چوت پر اُگے گھنے بالوں کی وجہ سے یہ مہک دو آتشہ ہو گئی ہے ۔۔۔ پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ تمہیں یہ سمیل پسند آ ئی ؟ تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے نشیلے سے لہجے میں کہا۔۔۔۔ مجھے تو اس کا نشہ ہونے لگا ہے۔۔۔تو وہ مسکرا کر بولی۔۔۔ آج سے یہ پھدی تیری اپنی ہے جتنی دیر مرضی ہے اس کی مہک لو۔۔۔۔۔۔ چنانچہ تھوڑی دیر مہک لینے کے بعد۔۔۔۔۔ میں ان کی چوت کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ ان کی ننگی چوت پر دو انچ یا پھر اس سے تھوڑے بڑے بال ہوں گے۔۔۔ ان کی چوت کے بالوں کا رنگ سیاہ تھا۔۔۔اور سفید پھدی پر کالے کالے بال بہت اچھے لگ رہے تھے۔لیکن اس میں ایک قباحت تھی اور وہ یہ ۔۔۔گھنے بالوں کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ چوت کا ٹھیک سے نظارہ نہ کیا جا سکتا تھا۔۔۔اب میں نے ان کی چوت کی دنوں پھانکوں میں انگلی پھیری ۔۔۔۔۔۔اور ان سے بولا۔۔۔۔ ارم جی آپ کی چوت کے بال اتنے گیلے کیوں ہیں ؟ تو وہ شہوت بھری آواز میں بولیں۔۔۔ وہ اس لیئے میری جان کہ ان پر میرا چوت رس لگا ہوا ہے۔۔۔تو میں ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ اچھا یہ بتائیں۔۔۔۔ کہ آپ کا چوت رس کیسا ہے؟ تو وہ اسی مست آواز میں جواب دیتے ہوئے بولیں۔۔۔۔جو ایک بار اسے چکھ لیتا ہے نا ۔۔۔وہ ہمیشہ کے لیئے۔۔۔۔ میری چوت رس کا غلام بن جاتا ہے ۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔ تم چوت رس چکھو گے؟ تو میں ان کی پھدی پر سر جھکاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ آنٹی جی۔۔۔۔۔میں نے آپ کا چوت رس صرف چکھنا نہیں بلکہ پیالے بھر بھر کے پینا ہے۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔ تو پھر اپنے منہ کو میری پھدی کے ساتھ جوڑ ۔۔۔۔اور اس کا سارا رس پی جا۔۔۔۔تو میں ان سے بولا۔۔۔ کیا خیال ہے پہلے۔۔ میں اپنے اوزار سے تھوڑا کھود نہ لوں؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ نہیں پہلے پرانے پانی کو پی۔۔۔ پھر لنڈ ڈال کے نیا پانی نکال لینا ۔۔۔۔

 

ان کی بات سن کر میں اپنے سر کو ان کی پھدی کی طرف لے گیا۔۔۔اور زبان نکال کر ان کے گھنے بالوں پر پھیرنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ پھر میں نے دو انگلیوں کی مدد سے ان کے بالوں کو ایک ساییڈ پر کیا۔۔۔۔اور ان کی گرم پھدی پر زبان پھیرنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ ایسا کرنے سے انہوں نے بڑی ہی مست قسم کی سسکی لی۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔۔ زبان کو تھوڑا اندر لے جا۔۔۔اور میں نے اپنی زبان کو گول بنایا اور ان کی چوت کے اندر تک لے جا کر۔۔۔اور اسے چاٹنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ ان کی چوت پانی سے لبریز تھی اور میں زبان نکالے بڑے اطمینان سے ان کے پانی کو چاٹ رہا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایسا کرنے کے کچھ دیر بعد میں نے ان کی چوت سے زبان باہر نکالی ۔۔۔۔اور میری نظر ان کے پھولے ہوئے دانے پر پڑ گئی۔۔۔ جو کہ گھنے بالوں کے درمیان بڑے شان سے کھڑا تھا۔۔۔ اب میں نے ان کے دانے کو اپنے دونوں ہونٹوں میں لیا۔۔۔۔۔اور اسے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ دانے کی چوسائی پر آنٹی تڑپنا شروع ہو گئی اور سسکیاں لیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔۔ آہ آہ۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔۔پھدی میں انگلی ڈال ۔۔۔اور میں نے اپنی ایک انگلی ان کی چوت می ں ڈال دی اور اسے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔تھوڑی دیر بعد ۔۔۔وہ چلا کر بولیں ۔۔۔دونوں انگلیاں ڈال۔۔۔۔کر تیزی سے مار۔۔۔۔۔۔۔۔چنانچہ ان کے کہنے کے مطابق میں نے چوت میں دی ہوئی انگلیوں کو تیزی سے ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ تو وہ تڑپ کر بولیں۔۔۔۔ دانے سے منہ ہٹا۔۔۔اور انگل۔۔۔۔ تیز مار۔۔۔۔۔۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔۔۔۔۔ اور فُل سپیڈ سے انگلیاں مان آؤٹ کرتا رہا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد آنٹی نے ایک زبردست چیخ ماری ۔۔۔۔اور سیٹ سے اُٹھ کر میرے ساتھ چمٹ گئیں۔۔۔۔اور اونچی اونچی سسکیاں لیتے ہوئے ۔۔۔۔۔ تیز تیز ہلنے لگی۔۔۔۔اسی دوران ۔۔۔ میری انگلیوں کے ساتھ ان کی چوت کے سارے ٹشو چمٹ گئے۔۔۔۔پھر آنٹی کا سارا جسم کانپا۔۔۔۔۔۔اور انہوں نے ایک لمبی سی سانس لی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی آنٹی۔۔۔۔۔۔ ہانپتے ہوئے چھوٹنا شروع ہو گئیں۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد جب وہ شانت ہو گئیں۔۔۔ تو میں نے ان کی چوت سے انگلیاں نکالیں۔۔۔۔اور ڈیش بورڈ پر پڑے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکال کر انہیں صاف کرنے لگا۔۔۔۔ جب میری انگلیاں صاف ہو گئیں تو آنٹی مجھ پر جھکیں ۔۔اور ایک طویل کس کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ مجھے تیری انگلیوں سے اتنا مزہ ملا ہے۔۔۔۔ جانے تیرے لن میں کیا مزہ ہو گا۔۔ اور پھر کہنے لگی ۔۔سیٹ کو پیچھے کر۔۔۔ اور جب میں نے ایسا کیا تو انہوں نے میری پینٹ کی زپ کھولی۔۔۔اور لن کو باہر نکال لیا۔۔۔۔ جیسے ان کی نگاہ میرے تنے ہوئے لوڑے پر پڑی ۔۔۔تو اس کا سائز اور سختی دیکھ کر حیران رہ گئیں۔۔اور پھر بڑے تا سف سے کہنے لگیں۔۔۔ بڑی غلطی ہو گئی یار ۔۔تو میں نے ان سے پوچھا کس بات کی غلطی؟ تو وہ تھوڑا ہچکچا کر بولیں میرا خیال تھا کہ تمہارا عام سا لن ہو گا ۔۔۔لیکن…۔۔ یہ تو میرے اندازے سے بھی زیادہ بڑا ۔۔۔اور خوب صورت ہے پھر کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔ 

کاش میں اسے پہلے دیکھ لیتی تو پھدی میں تمہاری انگلیوں کی بجائے اسے لینا تھا۔۔۔ اس پر میں اس سے بولا۔۔۔ تو آپ ابھی لے لو ۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں ۔۔ نہیں یار۔۔۔۔یو ۔۔نو چوپے لگائے بغیر مجھے مزہ نہیں آتا اس لیئے اب مجھے چوسنے دو۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا تھوڑا چوس کے پھدی مروا لیں۔۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔ نہیں اس وقت پھدی میں وہ جوش نہیں رہا۔۔ ورنہ یہی کرنا تھا۔۔۔ پھر کہنے لگیں ۔۔فکر نہیں کرو میں تیرے لن کو سپیشل ٹریٹمنٹ دوں گی۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ پر بہت سا تھوک پھینکا۔۔۔ اور پھر اسے ٹوپے پر ملتے ہوئے بولیں۔۔۔ میرے اس سپیشل چوپے سے تمہیں پھدی مارنے سے زیادہ مزہ آئے گا۔۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگیں ۔۔۔اب میں سپیشل چوپا لگانے لگی ہوں۔۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنے منہ میں بہت سارا تھوک جمع کیا اور پھر ۔۔ میرے لن پر جھک گئیں۔۔۔۔۔۔اس کے بعد ۔۔۔ انہوں نے تھوڑا سا منہ کھولا اور ٹوپے کو منہ میں لے لیا۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤ۔۔۔ ان کا منہ تھوک سے بھرا ہوا تھا۔۔اور یہ تھوک۔۔۔ ان کے منہ کی گرمی سے بہت گرم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ اور اس کی فیلنگ بلکل پھدی کے پانی جیسی تھیں۔۔ جس کی وجہ سے۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں نے لن آنٹی کے منہ میں نہیں بلکہ ان کی تنگ پھدی میں ڈالا ہے۔۔ دوسری طرف ٹوپے کو منہ میں لے کر ۔۔۔۔۔انہوں نے منہ کے اندر ہی اس پر زبان پھیری۔۔۔اور پھر آہستہ آہستہ لن کو منہ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔ وہ اس مہارت سے چوپا لگا رہیں تھیں کہ ۔۔۔مارے مزے کے ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے میں آسمانوں کی سیر کر رہا ہوں۔۔اور اس کے ساتھ ہی بے ساختہ میرے منہ سے ۔۔۔ سسکیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔۔ دوسری طرف وہ اپنے نرم نرم ہونٹوں کو میرے سخت لن کے ساتھ جوڑے۔۔۔۔ مسلسل چوپے لگا رہیں تھیں ان کے چوپا لگانے کا انداز اس قدر سیکسی تھا کہ میں زیادہ دیر نہ نکال سکا ۔۔۔۔ اور چند منٹ بعد ہی میں تڑپنا شروع ہو گیا اس دوران انہوں نے ایک سیکنڈ کے لیئے بھی لن کو منہ سے باہر نہ نکالا تھا ۔۔۔ اور مست چوپے لگا رہیں تھیں۔۔۔ پھر اچانک مجھے ایسا لگا کہ جیسے ۔۔۔۔ میری ٹانگوں کا سارا خون لن کی طرف بھاگنے لگا ہے۔۔اس کے ساتھ ہی۔۔۔۔۔میرے بدن نے جھٹکے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ ادھر میرے الٹا سیدھا ہونے سے تجربہ کار آنٹی سمجھ گئی ۔۔۔ کہ میں چھوٹنے والا ہوں اس لیئے انہوں اپنے منہ کو تھوڑا پیچھا کیا اور اب پوزیشن یہ تھی۔۔۔۔کہ اس وقت صرف میرا ٹوپہ ان کے منہ میں رہ گیا تھا اسی اثنا میں مجھے ایک شدید جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔اور پھرررررررر میں ۔۔اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔کرتے ہوئے آنٹی کے منہ میں ہی ڈسچارج ہو گیا۔۔۔ انہوں نے بھی بڑے اطمینان سے میری ساری منی کو پیا ۔۔۔اور پھر لن سے نکلنے والے آخری قطرے تک وہ اسے چوستی رہیں ۔۔۔ اور جب میرا لن منی سے بلکل خالی ہو گیا تو انہوں نے لن کو منہ سے باہر نکالا ۔۔۔اور پھر ڈیش بورڈ پر ٹشو کے ڈبے سے دو تین ٹشو پیپر نکال کر منہ کو صاف کیا۔۔۔اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولیں۔۔۔ میرا سپیشل ٹریٹمنٹ کیسا لگا؟ تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کے چوپے نے میری جان ہی نکال دی تھی۔۔۔ تو وہ ہنس کر بولیں ابھی تو دوستی ہوئی ہو آگے آگے دیکھو میں کیا کیا نکالتی ہوں اور پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔


کچھ آگے جا کر میں نے ان سے کہا ایک بات پوچھوں ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔۔ ہاں ضرور تو میں نے کہا کہ جیسا کہ آپ نے تھوڑی دیر پہلے بتلایا تھا کہ آپ نے اپنے عزیز رشتے داروں کے ساتھ کبھی سیکس نہیں کیا۔۔ تو کیا آپ بتا سکتی ہو کہ پھر آپ کس کے ساتھ سیکس کرتی ہو؟۔۔۔ میری بات سن کر انہوں نے بڑی ہی مست نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔اور کہنے لگیں ۔۔۔ بتا دوں ۔۔۔تو میں نے کہا جی ۔۔۔ پلیززززززز۔۔۔۔ ضرور بتائیں۔۔۔ اس پر انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے جس کا نام لیا۔۔۔۔۔ اس کا نام سنتے ہی میں اپنی سیٹ سے دو فٹ اچھل پڑا ۔۔۔۔ میری آنکھیں پھٹنے کے قریب ہو گئیں ۔۔۔اور میں حیرت کی شدت سے چلا کر بولا۔۔۔۔ ک ک کک کیا یہ درست ہے؟ تو اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتیں۔۔۔ اچانک ہی ان کا سیل فون بجا ۔۔۔۔ چنانچہ انہوں نے فون آن کر کے کان سے لگایا ہی تھا۔۔ کہ دوسری طرف کی بات سن کر انہوں نے ایک دل دوز چیخ ماری۔۔۔۔۔۔۔اور کہنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ نہیں ں ں ں ں۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

شاہ جی، لوڑا پاڑ اپڈیٹ ہے. چھا گئے ہو سر جی. بہت خوب. آنٹی اور صائمہ کی ایک ساتھ گینگ بینگ ہو جائے تو لاجواب کام ہو جائے. 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...