Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
mst tari

جرمانہ

Recommended Posts

 

ایک بار میرا شوہر اتنا ناراض ہوگیا اس نے مُجھے گھر
بھیج دیا.۔۔

.اور طلاق کی بات کرنے لگا..بہت پریشان رہنے لگی.. کیونکہ اس نے مجھے کسی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑلیا تھا...میری ایک دُور کی خالہ ہیں جو لاہور رہتی ہیں دکھنے میں سیکسی بم بھرا بھرا جسم اور سفید چمڑی اور ہیں بھی آزاد خیال وہ مجھے ایک فنکشن میں ملیں میری ساری کہانی سُن کر وہ سوچ میں پڑ گئیں ..اور کہنے لگیں ان مردوں کو پتہ نہیں کیا بیماری ہے خود ہر عورت پر سواری کرنا چاہتے ہیں اور اپنی گھوڑی پر ایک بھی دوسرا گھوڑا چڑھا دیکھ لیں ان کی گانڈ میں مرچیں لگ جاتی ہیں... خود ان کی بہن چاہے کئی سے چُدی ہو اور پکڑی بھی گئی ہو.. پھر بھی بہنوئی سے یہی کہیں گے بھائی اسے معاف کردو بھول چُوک ہو ہی جاتی ہے.....
اچھا میں کُچھ حل نکالتی ہوں تیرے مسئلے کا خالہ شبنم نے مجھے دلاسہ دیتے ہوئے کہا پھر خالہ شبنم نے مجھ سے پوچھا کیا تیرا شوہر عامر مجھے جانتا ہے میں نے کہا نہیں خالہ کیونکہ اُسکی آپ سے کبھی مُلاقات نہیں ہوئی.. خالہ نے کہا تُم عامر کا موبائل نمبر مجھے دے دو.. میں نے نمبر لکھوا دیا.. خالہ کہنے لگی بس تین دن کی بات ہے دیکھنا کیسے لائن پر لاتی ہوں اس حرامی کو.....ہم گجرات میں رہتے ہیں اور عامر ساتھ ہی واقعہ ایک گاوں میں رہتا ہے..اس کی عُمر بتیس سال ہے اور اچھا خوبرو جوان ہے...میں ابھی تیس سال کی ہوں... تیسرے دن صبح دس بجے خالہ کا فون آیا کہ تُم فورا ہمارے گھر چلی آو جب میں خالہ کے گھر پُہنچی وہ بڑی بے چینی سے میرا انتظار کررہی تھی.. وہ مجھے لے کر اپنے گھر والوں کو شاپنگ کا بول کر نکل پڑی کُچھ دیر کی مُسافت کے بعد وہ اپنی ایک سہیلی کے گھر لے گئیں جس کا شوہر بیرون مُلک ہوتا ہے اور بچے سُکول گئے ہوئے تھے.. وہاں جاکر خالہ نے اطمینان سے مجھے بتایا کہ میں نے ایک اجنبی عورت بن کر عامر کو فون کالز پر پھانس لیا ہے اور آج وہ مجھ سے ملنے یہاں آرہا ہے... اور تُم یہاں بیڈ کے نیچے چھ جانا اور جب کام عُروج پر پہنچ جائے تو نیچے سے نکل آنا اور خوب بے عزتی کرنا اگے میں سنبھال لوں گی مجھے خالہ شبنم کا پلان بُہت پسند آیا .....
خالہ کی سہیلی عالیہ چائے والی ٹرے لے کر آئی میز پر رکھ کر واپس گئی اور خالہ کے ہاتھ میں دو ٹیبلٹس پکڑا دیں جن کو خالہ نے مسل کر چائے کی چینک میں مکس کردیا.. میں نے سوالیہ انداز میں چہرہ بنایا تو خالہ شبنم نے بتایا یہ گولیاں پینے سے مرد کا لوڑا لوہے کی طرح اکڑ جاتا ہے اور دماغ پر حیوانی سیکس طاری ہوتا ہے اور کم از کم دو گھنٹے لگاتار چدائی کرنی پڑتی ہے تب جا کر سکون ملتا ہے....عامر کو یہ پلانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے اندر ایسا جنون پیدا کردیا جائے تاکہ وہ چدائی کے بغیر یہاں سے نہ چلا جائے... اور ابھی وہ پہنچنے ہی والا ہے.. خالہ کا عامر سے فون پر رابطہ تھا جس کی وجہ سے وہ وہاں تک پُہنچ گیا اور خالہ اسے دروازے تک جا کر اندر لے آئیں.. میں بیڈ کے نیچے چھپنے کی بجائے ساتھ والے کمرے میں چلی گئی اور وہ خالہ شبنم اور عالیہ کے ساتھ اُسی کمرے میں بیٹھ کر چائے پینے لگا... کچھ دیر بعد عالیہ میرے والے کمرے میں آئی اور کمرے کی لائٹ بند کردی.. کیونکہ دونوں کمروں کے درمیان ایک شیشوں والی کھڑکی تھی ہماری طرف پردہ تنا ہوا تھا بڑی احتیاط سے عالیہ نے پردے کو ہلکا سا کھسکایا اور مجھے اشارہ کیا.... 
میں نے اندر جھانکا تو دیکھا خالہ اور عامر کھڑے کھڑے لپٹے ہوئے تھے اور عامر شبنم خالہ کہ ہونٹ چوس رہا تھا اور اس کے ہاتھ خالہ کے بڑے بڑے پستانوں کو مسل رہے تھے تب خالہ نے عامر کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے اپنی قمیض اُتار دی... عامر کسی پاگل کُتے کی طرح جھپٹا اور دیوانگی سے خالہ کے سینے پر زبان پھیرنے لگا مموں کے نپلز کو چاٹنے لگا چوسنے لگا کھینچنے لگا.....شبنم بھی مزے سے نڈھال ہورہی تھی.. تب میرے کان میں عالیہ کی آواز آئی میں شبنم کو کنڈوم دے آوں ...جب عالیہ اُس کمرے میں پُہنچی تو خالہ شبنم عامر کے کپڑے اُتار چکی تھی اور اس کا لوڑا سختی سے سیدھا تنا ہوا تھا اور شبنم آنٹی اپنی شلوار اُتار رہی تھیں.... جب عالیہ نے کنڈوم شبنم کو پکڑایا تو بے ساختہ وہ عامر کے لوڑے کو گھور بھی رہی تھی جو کمرے میں دو خوبرو حسیناوں کو دیکھ کر اور بھی تن گیا تھا. نہ جانے عالیہ کو کیا ہوا اس نے عامر کے لن کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور نجانے کیا کہا کیونکہ میں اُن کی دھیمی گفتگو نہیں سُن پا رہی تھی پھر شبنم آنٹی نے بھی کُچھ کہا اور عالیہ صوفہ پر بیٹھ گئی اور عامر اسکے چہرے کے پاس کھڑا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالیہ عامر کا لوڑا چوسنے لگی وہ اپنے چوڑے سفید چہرے پر موجود بڑے بڑے ہونٹوں کو لوڑے کی جلد پر پُوری پکڑ دے کر اسے پورا حلق میں لینے کی کوشش کرتی اور پھر واپس ہونٹوں کو لن کی ٹوپی تک لے آتی..میری اپنی پھدی یہ سب دیکھ کر مچل سی گئی کیونکہ بالآخر میں خود مُختلف لوڑے چکھنے کی شوقین تھی نہ چاہتے ہوئے بھی میرے مُنہ میں بھی پانی بھر آیا اور میرا ایک ہاتھ میری پھدی پر چلا گیا ..اور میں اسے مسلنے لگی..ایک ساعت رُک کر عالیہ نے اپنی قمیض اور بریزیر اُتار دیا اسکی گوری چمڑی ننگی ہو کر کمرے کو اور بھی روشن کرنے لگی...عامر عالیہ کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اوراسکے مموں کو چسنے اور چومنے لگا..تب عالیہ کے چہرے پر پسینہ آگیا اور اسکے گال لال رنگ کے ہوگئے اسی حالت میں اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا اور میرے ساتھ نظریں ملائیں...میں نے بے شرمی والی نظروں سے اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں جی بھر کے چٹواو اس کتے سے...کیونکہ تم دونوں کتیاں ہو اور تم دونوں کو میرے شوہر کا لوڑآ مبارک ہو....پھر عالیہ نے انکھیں بند کرلیں کیونکہ عامر اسکی شلوار نیچے کھینچ کر اب اسکی پھدی کو چوم رہا تھا ....آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑیں اپنے پھدے جو سہلا رہی تھیں ....تب عالیہ اُٹھی اور ساتھ ہی پڑے بیڈ پر جاکر گھوڑی بن گئیں... آنٹی شبنم نے بھی عامر سے لپٹ کر خوب چما چاٹا کیا اور وہ بھی عالیہ کے بلکل ساتھ گوڑی بن گئی دونوں کے دیسی چوتڑ اب عامر کے لئے دعوت کا منظر تھے عامر تنے ہوئے لوڑے کے ساتھ بیڈ پر گیا اور... اُن تینوں میں کچھ بات ہونے لگی شائد یہ تہہ کیا جارہا تھا کہ عامر کس کے چوتڑوں میں پہلے لوڑا ڈالے گا...پھر عامر نے کافی سارا تھوک آنٹی شبنم کی بیک پر ڈالا.. لن کے ساتھ اسے پھیلایا اور آنٹی کے دونوں چوتڑوں کو پکڑ کر ایک دم لوڑا پورا اندر کردیا.. آنٹی نے جان بوجھ کر زور سے چیخ ماری.. آہ آں آں .. اوی مار ڈالا ظالم... کُتے کمینے.. پھر عامر نے پانچ چھ دھکے زور زور سے مارے... جن کی وجہ سے آنٹی کے چوتڑوں کے بجنے کی آواز میرے کمرے تک آئی... عامر نے لوڑا نکالا اور عالیہ کی پھدی میں پیچھے سے ڈال دیا اور اس کی بھی چیخ نکلی اوئ......... اوہ یہ سب دیکھ کر میری اپنی پھدی گیلی ہو گئی اور میں نے شلوار میں ہاتھ ڈال کر اس کو مسلنا شروع کردیا..عامر مسلسل عالیہ کو چود رہا تھا... تب ہی میری برداشت ختم ہونے لگی اور میں نے سارے کپڑے اُتار دیئے کسی انجام کی پروا کیئے بغیر میں اُس کمرے میں چلی گئی.....مُجھے دیکھ کر عامر کو شدید جھٹکا لگا اس نے عالیہ کو جھٹکے لگانے روک دیئے 
میں نے کہا کیا بات ہے جانو بڑے مزے کررہے ہو.. وہ ہکلایا وہ اصل میں یوں ہوا تم یہاں کیسے.... جیسے ویسے..
لیکن وہ اس بات سے بھی حیران تھا کہ میں اس سے لڑنے کس حالت میں کھڑی ہوں ننگی..... میں نے عامر کو انکھ مار ک, کہا کوئی بات نہیں جان عیش کرو..... میرے ہوتے کوئی ٹینشن نہیں لینی اور خود بھی اُن دونوں کے ساتھ گھوڑی بن گئی... کچھ ہی دیر میں مجھے اپنی پھدی میں گرم گرم لوڑا اُترتا ہوا محسوس ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی .... کچھ دیر بعد میں نے عالیہ کی پھدی میں اپنا انگھوٹھا ڈال دیا سامنے لٹا کر اور آنٹی شبنم عامر کے پیچھے کھڑی ہوکر اسکی کمر کو پکڑ کر دھکے دینے لگی اور وہ زور زور سے مجھے ٹھوکنے لگا.... آنٹی کہہ رہی تھیں عامر تم بہت حسین ہو جوان ہو کوئی بھی تمہیں دیکھے تم پر فدا ہو جائے میں تُم سے بہت بار چدواں گی تمہارے گھر آکر بھی چدواں گی لیکن... تم کو اپنی بیوی سے ناراض نہیں ہونا چاہیے.. مانتی ہوں اس سے غلطی ہوئی لیکن دیکھ لو اس غلطی کے بدلے اس نے آج تم کو جرمانے میں دو عورتیں عنائیت کردیں... عامر کہنے لگا آنٹی مجھے اس کا جرمانہ بہت پسند آیا میں نے اسے معاف کردیا بلکہ میں چاہوں گا یہ کُتی کی بچی ایسے ہی مجھے بھی نئے نئے مزے دلواتی رہے اور خود بھی جس مرضی حرامزادے سے چدوائے لیکن کنڈوم کے ساتھ یہ سب سُن کر میرے پورے جسم میں مزے کی لہر دوڑ گئی اور میں تیز جھٹکوں کے ساتھ فارغ ہوگئی...پھر عامر نے آنٹی شبنم کو زور زور سے چودا اور اس کے بڑے چوتڑوں کی تعریف بھی کرتا رہا... اور پھر ادھے گھنٹے بعد دونوں خارج ہوگئے لیکن ابھی عامر کی نیت عالیہ پر گرم تھی... کچھ دیر رکنے کے بعد عامر نے عالیہ باجی کی ٹانگیں چھت کی طرف کر دیں اور اُن کو شدید جھٹکوں سے چودنے لگا... عامر دوسرے شاٹ میں جلد فارغ نہیں ہورہا تھا اس دوران عالیہ دو مرتبہ فارغ ہوئی اور تھک گئی پھر عامر نے خالہ شبنم کو ایک بار پھر چودا اور چود چود کر نڈھال ہوگیا اس دوران میں نے اسے پانی کی بوتل پکڑائی جسے پی کر وہ پھر جٹ گیا اور آخر کار وہ بھی دوسری بار خارج ہونے لگا ہم تینوں نے ساتھ ساتھ مُنہ کرکے اپنی اپنی زبان باہر نکال لی اور عامر نے گرم گرم منی کا لاوا ہم تینوں کی کتیوں جیسی زبانوں پر چھڑک دیا.....اور ہم پھر بھی باری باری اس کے لوڑے کو چاٹتی رہیں... وقت کم تھا بچے سکول سے آنے والے تھے اس لئے ہم سب اپنے اپنے گھر چلے گئے....تین دن بعد عامر آیا اور مُجھے میرے سُسرال لے گیا...اور آج ہم ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں فرق یہ ہے کہ اب میں اپنے شوہر سے چھپ کر یار نہیں بناتی اور ہم دونوں جب بھی انجوائے کرنا ہو مل کر کرتے ہیں کیونکہ اتفاق میں بہتری ہے... اس لئے میرا تمام بہنوں بھائیوں کو مشورہ ہے کہ اگر آپکو ایسی پریشانی کا سامناہے تو اس سٹوری سے سبق حاصل کریں .....اور خوش رہیں ...

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...