Jump to content
Good Morning ×
URDU FUN CLUB
Zaffar

مسرت کی چدائی

Recommended Posts

 میرا نام تو آپ لوگوں نے دیکھ ہی لیا ہے ۔ یہ میری حقیقی کہانی ہے ۔ یہ 1997 کہ بات ہے ۔ میں پہلے اپنا تعارف کروا دوں کہ میں ایک انٹر نیشنل کھلاڑی تھا ۔ اور اس وقت کوئٹہ میں رہ رہا ہوں  ۔ میرا قد 5فٹ 8 انچ ہے ۔ اور میرا رنگ اور شکل بہت پیاری ہے ۔ جس کی وجہ سے شروع ہی سے لڑکیاں میری طرف مائل ہو جاتی تھیں ۔ مگر چونکہ میرا ذہین کبھی ان کی طرف نہیں گیا ۔ کہ مجھے کچھ بننا تھا ۔ اور دوسرا میری پوری توجہ میری گیم کی طرف جس کی وجہ سے مجھے ان چیزوں کی خاص سمجھ نہیں تھی۔ 

ان دنوں میں ایک سرکاری محکمے کی طرف سے کھیلتا تھا ۔ مگر صرف ان دنوں ہی جاتا تھا جب گیمز ہوتی تھیں ۔ ورنہ میں سارا سال تقریبا گھر پر ہوتا ۔ جس کی وجہ سے میں ایک پرائیوٹ سکول میں ریاضی پڑھاتا تھا ۔ 

مگر جب میں دوسرے لڑکوں کو لڑکیوں سے دوستی کرتے دیکھتا تو میرا بھی دل کرتا تھا کہ میری بھی کوئی دوست ہو مگر میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیسے ہو گا سب 

خیر ان دنوں میں ایک  جب میں ایک دن شام کو اپنی پریکٹس کرکے واپس ایا تو پتہ چلا کہ میری والدہ کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہیں ۔ تو میں ان سے ملنے کی بجائے اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ ورنہ میں جب بھی باہر سے آتا تھا تو سب سے پہلے اپنے والدہ سے ملتا تھا ۔ 

 کچھ دیر بعد ہی میری والدہ نے مجھے بلایا تو میں ان کے پاس گیا ۔ اور دیکھا کہ ان کے پاس ایک عورت اور ایک مرد بیٹھے ہیں ۔ والدہ نے ان سے میرا تعارف کروا دیا ۔ کہ یہ ہمارے جاننے والے ہیں ۔ اور اپنے گاؤں سے آئیں ہیں ۔ اور یہ کہ ساتھ والی گلی  میں ہی کرایے پر گھر لیا ہے ۔مرد کا نام آصف اور عورت کا نام مسرت تھا ۔ 

کچھ دنوں گزرنے کے بعد میں ایک دن جب سکول سے پڑھا کر واپس آیا ہے ۔ تو والدہ نے کہا کہ میں نے کھیر بنائی ہے ۔ جا کر اپنی باجی مسرت کو دے آو۔ میں نے پہلے تو امی کو بہانہ کیا کہ گرمی بہت ہے ۔ میں ابھی تھک کر آیا ہوں ۔ مگر جب انہوں نے غصے سے کہا تو میں چپ کرکے ان کے گھر کی طرف چل دیا ۔ جب میں ان کے گھر پہنچا اور دروازہ بجایا تو اندر سے  ایک عورت نے پوچھا کون ہے تو میں نے اپنا نام بتایا ۔ جس پر دروازہ کھل گیا ۔ اور مجھے اندر آنے کو کہا ۔ 

جب میں اندر گیا تو دیکھا کہ مسرت اکیلی ہے ۔ تو میں نے کھیر کی پلیٹ پکڑائی اور واپس انے لگا تو اس نے کہا کہ ایسے نہیں جانا ۔ مگر میں نے بہانا کیا کی میں نے پریکٹس کے لیے جانا ۔ اور وہاں سے واپس آگیا ۔ 

اب یہ ہوتا کی جب کوئی کام ہوتا تو والدہ مجھے اس کے گھر بھیج دیتی ۔ 

میں اب آپ کو بتا دیتا ہوں کہ مسرت کیا چیز تھی ۔ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھی ۔ بہت زیادہ سانولی رنگت تھی ۔ چہرے پر کچھ زخموں کے نشان بھی تھے ۔  مجموعی طور پر وہ ایک نارمل سی شکل و صورت والی عورت تھی ۔ جوکہ پڑھیں لکھی بھی ۔ نہیں تھی ۔ اور اس کی عمر بھی میرے اندازے کے مطابق تقریبا کوئی 34 سال کے قریب تھی ۔ مگر وہ غیر شادی شدہ تھی 

اوپر سے وہ ہر وقت بڑی سی چادر لیکر رہتی تھی جس کی وجہ سے اس میں کوئی بھی اٹریکشین نہیں تھی ۔ 

خیر کچھ دن گزرے تو اس کے ساتھ میری اچھی گپ شپ ہوگئی ۔ ایک دن میں جب گھر گیا تو والدہ نے کہا کہ مجھے کہا کہ ذرا مسرت کے گھر چلے جاؤ ۔ اس کو کوئی کام ہے ۔ میں چپ چاپ اس کے گھر چلا گیا ۔ 

جب میں نے اس سے پوچھا کہ خیر ہے کیا کام ہے تو بولی کہ کچھ نہیں بور ہو رہی تھی تو تم کو بلا لیا ۔ یہ اگست کا مہینہ تھا اور موسم بھی اچھا تھا ۔ کہ بارشوں کی وجہ سے لاہور کا موسم بیت اچھا تھا ۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ وہ چائے بنا کر لے آئی ۔ باتیں کرتے کرتے اس نے اچانک مجھ سے پوچھا کہ کہ تمھاری کتنی گرل فرینڈز ہیں ۔ تو میں نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا کہ یہ کیا پوچھنے لگی ۔ 

جب اس نے دوسری بار پوچھا تو میں میں نے شرم سے بہت آہستہ کہا کہ کوئی نہیں ۔ تو وہ کہنے لگی نہیں بتانا تو نہ بتاو ۔ مگر جھوٹ تو نہ بولو ۔ میں نے کہا کہ تمھیں معلوم ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا 

اور یہ حقیقت بھی ہے کہ میں مجبوری کے بنا جھوٹ نہیں بولتا ۔ اور نہ کسی کو دھوکہ دیتا ہوں ۔ اور میری اس بات کی گواہی وہ لوگ بھی دیتے ہیں جو کہ میرے دوست نہیں 

خیر میرے بار بار کہنے پر اس نے یقین کر لیا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ 

اب اس کا سوال یہ تھا کہ کیوں دوست کیوں نہیں  اور پھر کہنے لگی کہ پھر تو تم نے کبھی کسی سے کچھ کیا بھی نہیں ہو گا ۔ تو میں نے کہا کہ کہ پتہ نہیں ۔  کہ دوست کیوں نہیں ۔ اور اس کی دوسری بات کو گول کر دیا 

خیر کچھ دن ایسے گزر گیا ۔ اور جب بھی ہم ملتے تو وہ پہلا سوال کرتی کہ پھر ملی کوئی کہ نہیں ۔ اور ہر وقت چھیڑتی رہتی ۔ 

ایک دن میں بہت غصے میں تھا ۔ کہ اس کے گھر جانا پڑا ۔ اس نے جب مجھے چھیڑا تو میں نے اس کو کہہ دیا کہ میری اتنی فکر ہے تو تم چدوا لو مجھ سے 

وہ اس وقت تو چپ کر گئی ۔ مگر کچھ دن بعد س نے مجھے کہا کہ وہ دوستی کے لیے تیار ہے ۔ مگر شرط یہ ہے کہ یہ بات کسی کو پتہ نہ چلے ۔ 

اور ہم اس کے بعد اچھی گپ شپ کرنے لگے ۔ ان دنوں ہی مجھے گیمز کے لیے جانا تھا ۔ اور جس دن جانا تھا میں اس سے ملنے گیا ۔ تو اس نے مجھے پوچھا کہ واپسی کب ہے ۔ میں نے بتایا کہ 7 دن بعد ۔ وہ بولی اچھا۔ اور اچانک میرے پاس آ کر مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ 

جس پر میں پہلے تو کافی دیر اس چیز پر اتنا حیران ہوا ۔ کہ کوئی رسپانس نہیں دے سکا ۔ پر مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ کہ یہ زندگی کی پہلی کسنگ تھی ۔ 

پھر اس نے مجھے بستر پر گرا لیا ۔ اور میرے اوپر آگئی ۔ کچھ دیر مزید کسنگ کرنے کے بعد اس نے میری شرٹ اوپر کی  اور اپنی  شرٹ بھی  اوپر کر دی ۔ اور اپنے موٹے موٹے مموں کو میرے سینے پر رگڑنے لگی ۔ کچھ دیر بعد اس نے میرا ٹراؤزر اور انڈر وئیر بھی نیچے کر دیا ۔ اور میرے لنڈ کو کو جو اپنے جوبن پر تھا اپنی پھدی کے ساتھ رگڑنے لگ گئی ۔ اور کچھ دیر میں اس کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگی ۔ اور  پھر اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا ۔ اور اس کا جسم جھٹکے لینے لگا ۔ 

اس دوران ہی میں بھی فارغ ہو گیا ۔ اور میری ساری منی اس کپڑوں پر لگ گئی ۔ تو وہ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یار یہ کیا کیا ۔ اور اوپر سے اٹھ گئی ۔ جب وہ اوپر سے اٹھ گئی تو میں نے اس کے مموں کو دیکھا جو کہ بہت بڑے تھے ۔ اور لٹکے ہوئے تھے ۔  اور پھر اس نے جو کچھ منی جو میری ٹانگوں پر لگی تھی کو اپنے کپڑوں سے صاف کر دی 

اور مسکراتے ہوئے باہر چلی گئی ۔ مگر میں اس سب پر حیران و پریشان لیٹا سوچتا رہا کہ یہ سب کیا ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی اور کہنے لگی اب اٹھ جاؤ ۔ اور باتھ روم جا کر صاف کر لو

میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ اس نے کپڑے بدل لیے تھے ۔ میں بھی باتھ روم جا کر خود کو صاف کیا ۔ اور جب واپس آیا تو اس نے ایک کپ میں گرم دودھ رکھا ہوا تھا۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے 500روپے بھی دیے ۔ 

میں وہاں سے گھر گیا ۔ اور نہا کر کر سو گیا کہ رات کو مجھے سفر کرنا تھا 

باقی آیندہ 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

پارٹ 2

گیمز سے واپسی تک میں نے بہت بارا بار  یہ سوچا کہ مسرت کو کیسے چودوں گا ۔ کہ اس سے پہلے میں نے صرف فلمیں ہی دیکھی تھیں یا دوستوں سے سنا تھا کہ کیا کچھ کرتے ہیں ۔ وہ کیسے یہ سب کرتے ہیں ۔ 

خیر واپس آنے کے کچھ دن بعد  میں خاص تیار ہو کر مسرت کے گھر گیا ۔ اس نے جب مجھے دیکھا تو بہت خوش ہوئی ۔ اور جیسے ہی میں اس کے کمرے میں داخل ہوا اس نے مجھے اپنے گلے لگا لیا ۔ اسکے مموں نے جیسے ہی میرے سینے کو چھوا ۔ میرے اندر جیسے کرنٹ دوڑ گیا 

میں ابھی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں تو اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے ۔ اور میرے دونوں ہونٹوں اپنے ہونٹوں میں لیکر ان کو چوسنے لگی ۔ کافی دیر تک اس نے کبھی میرے ہونٹوں کا رس  پیا اور کبھی اپنا رس مجھے پلایا۔ 

چونکہ یہ میرا پہلا سیکس تھا اس لیے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں ۔ مگر میں کافی مزے میں تھا ۔ اس دوران اس نے اچانک میرے لنڈ پر ہاتھ رکھ دیا ۔  تو مجھے جھٹکا سا لگ گیا ۔ اس دن میں نے انڈر وئیر بھی نہیں پہنا تھا ۔ 

پھر اس نے پہلے میری شرٹ اتاری ۔ اور پھر مجھے  چارپائی پر گرا سا دیا ۔ اور اپنی قمیض اتار دی ۔ اس کے بڑے بڑے ممے اب برا (بریزر) میں سے آدھے نظر آ رہے تھے اور آدھے چھپے ہوئے تھے ۔ اس کی مثال ایسی تھی کے چھپائے نہ چھپے دکھائے نہ دیکھے ۔ 

اس نے میرے اوپر لیٹنے سے پہلے اپنی شلوار بھی اتار دی ۔ اور میرے اوپر لیٹ گئی ۔ اور دوبارہ سے کسنگ شروع کر دی اور ساتھ ہی اپنے پھدی کو میرے لنڈ پر رگڑنے لگی ۔ اب اس کی سانسیں تیز ہوگئی تھی

 ۔ کچھ دیر بعد اس میرے ٹراؤزر کو بھی کھنجھااور میرے گھٹنوں تک کر دیا ۔ اور اب میرے کھڑے لن پر اپنی پھدی رگڑنے لگی ۔ جو کہ پوری طرح گیلی تھی ۔ 

اج جب یاد کرتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس دن میں اس کو چودنے نہیں گیا تھا بلکہ وہ مجھے چود رہی تھی ۔ 

خیر کچھ دیر بعد اس نے اپنے بریزر کو اوپر کیا اور اپنے ممے کو میرے منہ میں دے دیا ۔ مجھے اج بھی یاد ہے ۔ کہ وہ اتنا بڑا مما تھا کہ اس کا صرف نیپل اور کچھ ہی حصہ میرے منہ میں آیا ۔ اس کا نیپل بھی کم از کم 1 انچ سے زیادہ ہی لمبا تھا 

میں بڑے مزے سے اس ک نیپل چوسنے لگا ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اس کہ ایک چھوٹا سا بچے اپنی مما کا دودھ پی رہا ہو ۔ اور اس کی سیسکیاں تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھیں

اور وہ اب اپنی پھدی کو بہت تیز تیز میرے لن پر رگڑنے رہی تھی ۔ میں بھی مزے کی بہت اونچائی پر تھا ۔ اس نےکی بڑی سے پھدی کے سوراخ پر جب لن کا منہ لگتا تو میرے اندر مزے کی لہر دوڑ جاتی ۔ اس دوران اس نے اچانک اپنی پھدی کا رخ اوپر کو کیا تو میرا لن اس کی پھدی کے اندر گھس گیا ۔ ۔ اب وہ اپنی پھدی کو تیزی سے اوپر نیچے کرنے لگی 

اور کچھ دیر بعد ہی اس کی سیسکیاں تیز تر ہوگئیں ۔ اور اس کا جسم بھی اکڑنے لگا ۔ پھر اس نے مجھے زور سے پکڑ لیا اور جھٹکے لینے لکی ۔ اور پھر وہ میرے اوپر گر سی گئی ۔ میرا لن اب بھی اس کے اندر ہی تھا ۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی بھی وقت فارغ ہو جاؤں گا ۔ 

اور پھر ایسا ہی ہوا کہ میرے لن نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔ اور جیسے ہی میرا پانی نکل گیا تو وہ بھی مجھ سے اتر کر اس ہی چارپائی پر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ اس سب میں تقریبا 3 منٹ لگے ۔ 

اب حالت یہ تھی کہ وہ اور میں تیز تیز سانسیں لے رہے تھے ۔ اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہوئے تھے 

پھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی ۔ اور جب واپس آئی تھی تو مسکرا رہی تھی ۔ اس نے آتے ہی مجھے کہا کہ میں بھی جاؤں اور خود کو صاف کر آؤں ۔ میں نے جب اٹھ کر اپنے لن کو دیکھا کر وہ میرے اور مسرت کے پانی سے مکمل طور پر گندا ہوا ہوا تھا ۔ 

میں جب واپس آیا تو مسرت نے کپڑے پہن لیے تھے اور پھر اس نے پوچھا کیسا لگا ۔ میں نے کہا کہ مزا تو آیا پر جو دوست بتاتے تھے اتنا نہیں آیا ۔ تو وہ ہنس پڑی کہ تمھاری شرم کی وجہ سے اج سب میں نے کیا ۔ جس دن یہ سب تم کرو گے ۔ اس دن تم کو دیکھنا کتنا مزا آئے گا۔ اور تم بھی خود کہو گے کہ کیا بات ہے 

پھر وہ گرم دودھ کے 2 کپ لے آئی ۔ جو اس نے اور میں نے پی لیے۔ کچھ دیر بعد اس نے پوچھا دوبارہ کرنے کا موڈ ہے ۔ تو میں بولا ۔ چلو کرتے ہیں ۔ تو وہ بولی اس بار سب کچھ تم کرو گے کہ جب مرد کرتا ہے تو عورت کو بھی زیادہ مزا آتا ہے ۔ 

میں نے ابھی تک کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا ۔ میں نے اس کو کسنگ کرنا شروع کر دی ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے اس کے ممے دبانے لگا ۔ جب میں نے اس کے ممے کو پکڑا تو مجھے پتا لگ گیا ۔ کہ اس نے صرف قمیض پہنی تھی ۔ نیچے برا نہیں تھا ۔ 

خیر اس دوران اس کا ہاتھ میرے لن پر آ گیا ۔ اور وہ اس کو مسلنے لگی ۔ جو سکڑ کر نارمل حالت میں تھا ۔ دوسری طرف میں مسلسل اس کو کسنگ کر رہا تھا ور اس کے کبھی ایک ممے کو دباتا اور کبھی دوسرے کو کچھ ہی دیر میں اس کی سانسیں تیز ہونے لگی ۔

اور دوسری طرف مسرت کے مسلسل ہاتھ کھیل نے میرے لن کو دوبارہ کھڑا کرنا شروع کر دیا ۔ اس سارے کھیل میں اب مسرت کے ساتھ مجھے بھی مزا آنے لگا تھا ۔

اس وقت مجھے صرف یہ پتا تھا کہ مرد ۔ عورت کو گرم کرتے ہوئے ۔   کسنگ کرتا ۔ مموں کو چوستا۔ اور چوت کو چوستا ہے ۔ مگر مجھے چوت کو چوسنا پسند نہیں تھا ۔

اور باقی سب کام میں مسلسل کر رہا تھا ۔ اور پھر جب میرا لن کھڑا ہو گیا تو میں نے مسرت کی ٹانگیں اٹھائیں ۔ اور اپنےتقریبا  7 انچ کے لمبے لن اور تقریبا ڈیڑھ انچ موٹے لن کو مسرت کی پھدی کے اوپر رکھ دیا

پھر میں نے ایک ہی جھٹکے سے اپنا لن اس کی گیلی پھدی میں ڈال دیا ۔

آج جب مجھے جب اس کی پھدی یاد آتی ہے تو مجھے ہنسی آجاتی ہے کہ اس کو پھدی کہنا زیادتی ہو گی ۔ کیونکہ وہ نا جانے کتنے لن لینے کے بعد پھدی سے پھدا بن چکا تھا ۔

خیر کچھ دیر کے بعد اس کی پھدی نے اتنا پانی جھوٹ دیا کہ کیا بتاؤں ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں پھدی میں نہیں ۔ کسی کیچڑ سے بھرے سوراخ میں لن ڈال کر ہلایا جا رہا تھا ۔ 

دوسری طرف اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی ۔ مجھے چونکہ کوئی تجربی نہ تھا اس لیے میں مسلسل گھسے لگا رہا تھا ۔ پھر اس کی پھدی نے کوئی 3 منٹ کی مسلسل چدائی کے  بعد پانی چھوڑ دیا۔ جس کا مجھے پتہ نہیں چلا ۔ پھر اس نے مجھے رکنے کو کہا ۔ جب میں اس کے اوپر سے اٹھ گیا ۔ تو۔ اس نے اپنی قمیض اٹھا کر اپنی پھدی کو اچھی طرح صاف کیا ۔ 

اور مجھے دوبارہ اوپر آنے کو کہا ۔ اب جب میں نے لن دوبارہ اس کی پھدی میں ڈالا  تو اب وہ نارمل سی گیلی تھی۔ میں نے دوبارہ اس کو چودنا شروع کر دیا ۔ اب مجھے بھی مزا آ رہا تھا ۔ کوئی مزید 4 منٹ کے مسلسل جھٹکوں کے بعد میں نے اپنا پانی اس کی پھدی میں نکال دیا ۔ اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا ۔ اس نے مجھے اپنی بازوں میں جکڑ لیا اور میرے لن کو جو اس کی پھدی میں تھا اور کچھ اکڑا ہوا تھا کو اپنی پھدی ہلا کر اندر باہر کرنے لگی ۔ اور کچھ دیر بعد اس نے ایک بار پھر پانی چھوڑ دیا ۔ 

جس کے بعد ہم نے خود کو صاف کیا ۔ اور میں بنا کوئی بات کیے گھر جانے لگا تو اس نے کہا کہ یار دیکھ لیا کرو کہ میں نے بھی فارغ ہونا ہوتا ہے ۔ اس لیے جب تک میں بھی فارغ نہ ہو آؤں جھٹکے دیتے رہا کرو۔ ابھی تمھارا تجربی نہیں ۔ کچھ دنوں میں ہو جائے گا تو تم سب خود سمجھ جاؤ گے ۔ پر یاد رکھنا ۔ کہ عورت کو بھی لازمی فارغ کیا کرو   ۔۔ 

میں یہ سب سن کر وہاں سے نکل ایا اور گھر جا کر بنا نہائے میں لیٹ گیا کہ کچھ دیر بعد آٹھ کر نہاتا ہوں ۔ مگر مجھے ایسی نیند آئی کہ کیا بتاؤں ۔

شام کو جب میں گیم کرنے گیا تو اس میری حالت ٹھیک نہیں تھی ۔ میرا سانس پھول رہا تھا ۔ اور تھکن بھی ہو رہی تھی ۔ میرے ایک دوست جو کو بہت بڑا چودو تھا نے مجھے سے پوچھا بھائی کیا ہوا ۔ لگتا ہے آج مٹھ کچھ زیادہ ہی مار لی ۔ تو میں ہنس پڑا ۔ چونکہ ہم بہت قریب تھے ۔ اور اس کی ہر چدائی کا مجھے پتا تھا تو میں نے اس کو سب بتا دیا ۔ تو اس نے مجھے کہا کہ یار کرو ضرور ۔ مگر صرف ایک بار ورنہ تمھاری گیم ختم ہو جائے گی اور آگے نیشنل گیمز بھی آنے والی ہیں ۔ 

کچھ دن بعد میں اس کے گھر گیا تو مجھ سے ناراض تھی کہ بس مطلب پورا ہو گیا تو ملنے سے بھی گئے۔ میں نے کہا ایسی بات نہیں ۔ اصل میں گیمز آنے والی ہیں تو بس س کی تیاری میں لگا ہوا ہوں ۔  اور اس کو کسنگ کی ۔ تو کچھ ناراضگی دکھا کر اور نخرے کر کے مان گئی ۔ 

میں نے اس کو ننگا کر دیا ۔ اور اس کے کسنگ کرنے لگا ۔ اس کے بڑے بڑے مموں کو چوسنے لگا ۔ اس کی سیسکیاں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔  کچھ دیر اس کے مموں سے کھیلنے اور اس کو گرم کرنے کے بعد میں نے اپنا ٹراؤزر اتار دیا ۔ تو اس نے مجھے پکڑ کر نیچے لٹایا ۔ اور خود میرے اوپر آگئی ۔ اور مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ جب وہ خوب گرم ہو گئی ۔ تو وہ خود ہی ۔ نیچے آ گئی ۔ 

میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنا لن ۔ اس کی پھدی میں ڈال دیا۔ اور جھٹکے دینے شروع کر دیے ۔ وہ مسلسل سیسکیاں لینے لگی ۔ کوئی 4 منٹ کی مسلسل چودائی کے بعد اس کا جسم اکڑنے لگا ۔ اور وہ فارغ ہوگئی ۔ مگر میں فارغ نہیں ہوا تھا ۔ اس لیے میں نے اس کی قمیض اٹھا کر اس کی پھدی کو جتنا ہوسکتا تھا خشک کیا ۔ اور اپنے لن کو بھی ۔ اور دوبارہ اس کی چدائی شروع کر دی ۔ اور دوبارہ کوئی 5 منٹ کی چدائی کے بعد وہ اور میں اکٹھے ہی فارغ ہوگئے ۔ 

اس دن پھر چودا ۔ مگر اس میں وہ مزا نہیں آیا جو دوستوں سے سنتا تھا ۔ جس پر میں نے اپنے دوست سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ 

باقی آئندہ  ۔ 

 

شام کو جب میں گیم پر گیا تو میں نے دوست کو کہا کہ آج گیم کے بعد رکنا ۔ اس نے پوچھا کیوں خیر تو ہے ۔ میں نے کہا ہاں کچھ باتیں کرنی ہیں۔ تو اس نے کہا کہ ٹھیک ہے ۔ 

گیم کے بعد میں نے اس کو سب بتایا کہ میں نے آج ایسے سیکس کیا مگر مجھے مزا نہیں آیا ۔ اس نے کہا کہ میں کچھ سوال کروں گا ۔ ان کے جواب دو ۔ چونکہ ہمارے درمیان کوئی پردا نہیں تھا اس لیے میں نے کہا ٹھیک ہے پوچھو

اس نے پہلا سوال کیا ۔ کہ کیا وہ تم سے پہلے فارغ ہو جاتی ہے ۔

میں نے جواب دیا ہاں اگر پہلے فارغ نہیں ہوتی تو میرے ساتھ ہی ہو جاتی ہے۔

دوسرا اس نے سوال کیا کہ کیا ۔ اس کو گرمی چڑھتی ہے ۔ مطلب تمھیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ گرم ہو گئی ہے

میں نے کہا ہاں بلکل ۔ وہ مجھے خود بھی کسنگ کرتی ہے ۔ اور اپنے ممے خود میرے منہ میں دیتی ہے ۔

اس نے پوچھا کہ اس کی پھدی کیسی ہے ۔

میں نے پوچھا ۔ مطلب کیسی ہے

تو وہ بولا ۔ کہ تنگ ہے کھلی ۔ اور کتنا پانی نکلتا ہے اور دوسرا اب جب تم اس کے پاس جاو تو یہ لازمی دیکھنا کہ کیا اس کی چوت کا پانی چکنا ہے یہ جیسے نارمل پانی ہوتا ہے ویسا ہے ۔ تیسرا یہ دیکھنا کی اس کی پھدی کے باہر کے سرے کیسے ہیں ۔

میں نے اس سے بہت حیرانگی سے پوچھا ۔ کہ ان  دونوں باتوں  کا کیا مطلب۔

تو وہ بولا یار پہلی بات کا مطلب یہ ہے کہ  کچھ عورتوں میں ایک بیماری ہوتی  ہے ۔ جسے لیکوریا کہتے ہیں ۔  اگر اس کو وہ ہے تو تمھیں کچھ خاص مزا نہیں آئے گا ۔ پہلے اس کو بولو اس کی دوائی لے ۔ اس نے مجھے ایک دیسی دوائی بھی بتائی  ۔ جس سے لیکوریا ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا کہ جب تم کچھ دیر اس کو کسنگ  وغیرہ کر لو گے تو پانی چکنا ہو جائے گا جس سے تم کو فرق پتہ چل جائے گا ۔ 

دوسرے سوال کا مطلب ہے کہ اگر اس نے بہت زیادہ پھدی مروائی ہے اور اپنا خیال بھی نہیں ۔ رکھا تو  تو اس کی پھدی کی شکل بدل گئی ہو گی اور اس کی پھدی کے باہر ایسے ایک جھلی نکلی ہو گی جیسے چھچڑے نکلے ہوئے ہیں ۔ 

اس کی باتیں سن کر میں نے سوچا کہ اب یہ باتیں چیک کروں گا ۔ اس وقت چونکہ انٹرنیٹ کا زمانہ نہیں تھا اس لیے یہ سب باتیں سب کو معلوم نہیں ہوتی تھیں ۔

اگلے دن سکول سے واپسی پر میں سیدھا اس کے گھر گیا ۔ لیکن جب میں اس کے گھر گیا تو دیکھا کہ اس کا بھائی اور ایک بہن اور اس بہن کی بیٹی بھی  گھر پر تھے ۔ وہ لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے ۔

مسرت کے بھائی نے اپنی دوسری بہن کو بتایا کہ جب میں گھر پر نہیں ہوتا تو  ظفر اپنی باجی کا ہر کام کرتا ہے ۔ تو میں ہنس پڑا ۔

مسرت کی بڑی بہن نے بتایا کہ وہ بھی اب لاہور شفٹ ہوگئے ہیں  ۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ لو جی ہو گئی چھٹی ۔

پھر میں نے بہانہ کیا اور مسرت کو جان کر پوچھا آپ نے کل بلایا تھا ۔ پر میں بہت لیٹ آیا تھا ۔ امی نے صبح بتایا تو میں سکول سے سیدھا ادھر آگیا ۔ تو مسرت بولی بس وہ کچھ سامان منگوانا تھا ۔ کہ آج باجی نے انا تھا ۔

میں نے کہا اچھا ۔ ٹھیک ہے میں چلتا ہوں تو مسرت  کے بھائی نے کہا رک جاؤ کھانا کھا کر جانا ۔

مگر میں نے معذرت کر لی کہ گیم پر جانا ہے ۔ تو انہوں نے وعدہ لیا کہ رات کو آنا کل تو چھٹی ہے۔ کہ ان دنوں جمعہ کو چھٹی ہوتی تھی ۔ تو میں نے وعدہ کر لیا کہ میں ا جاؤ گا  

پھر اس کی بہین بولی کہ مجھے بھی ایک کام ہے تو میں نے پوچھا جی بولیں 

وہ بولی   کہ (نام بدل دیا ہے ) آصفہ کا کالج میں داخلہ کروانا ہے ۔ کہ اس نے میڑک کیا تھا گاؤں کے سکول سے

میں نے کہا کون سے سبجیکٹ تو انہوں نے کہا جو تم سمجھو یہ پڑھ لے ۔ تو میں نے کہا کہ میں کل پتہ کرواتا ہوں کیونکہ میرے علم کے مطابق داخلے ہو چکے ہیں اور یہ ہی بات میں نے ان لوگوں کو بتا دی  ۔ تو وہ بولی اگر کسی کو کچھ دینا پڑے تو بھی دے دینا ۔ کوئی مسلہ نہیں ۔ کہ اس کا شوہر سعودیہ عرب  میں تھا۔

میں نے وعدہ کیا جو ہوسکا ضرور کروں گا ۔اور وہاں سے گھر آگیا ۔ پھر ایک دوست کے گھر گیا جو سیاست میں تھا ۔  تو اس نے ٹیلی فون پر  ایک بندے سے بات کی جس نے ہزار روپے لے کر داخلہ کروانے کا وعدہ کر لیا ۔ جس پر میں نے اس کو کہو منظور ہے ۔ اس نے اگلے دن تمام کاغذات لیکر کالج آنے کا کہہ دیا ۔ میں نے جب دوست سے پوچھا یہ کون تھا ۔ تو اس نے بتایا کہ اس کالج کا کلرک ہے۔ 

شام کو جب میں ان کے گھر گیا تو میں نے مسرت کی بہن کو بتایا کہ داخلے کا بندوبست ہو گیا ہے ۔ وی حیران ہو کر بولی ۔ واقعی ہم نے تو بہت کوشش کی پر کچھ نہ بنا ۔ ہم نے تو 5000 تک آفر کی تھی ۔ میرے دماغ میں فورا پیسے لینے کا خیال آیا کہ میں موٹر سائکل لینے کے لیے پیسے بھی اکھٹے کر رہا تھا ۔

میں نے کہا بس ایک جاننے والے کے ذریعے بات کی ہے وہ تو 10 ہزار مانگ رہا تھا مگر ہم نے اس کو 6 ہزار میں فائنل کیا ہے ۔ 

تو وہ بولی کوئی بات نہیں ۔ دے دئیں گے پیسے ۔ میں نے کہا کہ کل صبع جانا ہے تمام اصل کاغذات لے کر ۔ اور ساتھ 4 تصویریں بھی ۔ تو وہ بولی مگر ہمارے کاغذات تو گھر پر ہیں ۔ 

میں یہ سن کر سمجھا کہ شاید گاؤں میں ۔ مگر اتنے میں مسرت کا بھائی بولا کہ آصفہ کو میں لے جاتا ہوں ۔ جب تک کھانا بنے گا ہم لے آتے ہیں ۔ پھر تم لوگ کل ادھر سے ہی چلے جانا ۔ 

میں سوچ رہا تھا کہ گاوں تو ان کا کم از کم 100 کلو میڑ دور ہے ۔ مگر میں چپ رہا ۔ اور مسرت کا بھائی اور اس کی بھانجی کاغذات لینے چلے گے ۔ کچھ دیر بعد مسرت کی بہن بھی باتھ روم گئی ۔ تو مسرت فورا میرے پاس ا کر بولی واہ میرے شیریہ تو نے جو کیا ۔ تجھے نہیں پتہ اس سے ہمیں ملنے میں کتنی اسانی ہو جائے گی ۔ اور مجھے جب تک دروازہ کھلنے کی آواز نہیں آ گئی کسنگ کرتی رہی۔

میرا لن کھڑا ہو چکا تھا۔ مگر انڈر وئیر کی وجہ سے بس ابھار ہی بنا تھا  ۔ میں مسرت سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ جب تمھاری بہن اور بھانجی گھر پر ہوں گے تو کیسے ہو گا ۔ پر اس نے پہلے بولنے نہ دیا اور اب اس کی بہن ا چکی تھی۔

کوئی 30 منٹ بعد مسرت کا بھائی بھی واپس آگیا اور بتانے لگا کہ ہم تصاویر بھی کھنچوا کر لے آئیں ہیں اور کاغذات کی فوٹو کاپی بھی کروا لی ہے ۔ تو میں نے حیران ہو کر پوچھا ۔ اتنی جلدی ۔ گاؤں سے کاغذات بھی کے آئے اور باقی کام بھی کروا لیے ۔ مگر کیسے۔

تو وہ  ہنس پڑا اور بتانے لگا کہ باجی نے گھر (م) کالونی میں کی ہے جو کہ ہمارے گھر سے 3 کلومیڑ دور ہے ۔ 

پھر اس نے کہا کہ وہ کل موٹر سائیکل گھر چھوڑ جائے گا ۔ تم ان کو لے جانا اور لے آنا ۔ اور موٹر سائیکل گھر چھوڑ دینا۔ رات کو کھانا کھا کر خوب گپ شپ کر کے ہم نے لڈو کھیلی اور پھر گھر چلا گیا   ۔ 

اگلے دن میں نے سکول سے چھٹی کی اور 9 بجے تیار ہو کر مسرت کے گھر پہنچ گیا ۔ وہ لوگ بھی تیار تھے ۔ مسرت جو کہ برتن دھو رہی تھی  نے پوچھا کہ چائے پیو گئے تو میں نے آنکھ سے اسکے مموں کی طرف اشارہ کر کے بہت ہی آہستہ آواز میں  کہا کہ دودھ پینا ہے ۔ جو کہ صرف اس نے ہی سنی  ۔ تو اس نے مجھے کہا کچھ انتظار کر لو ۔ اور ہم دونوں ہی ہنس پڑے۔

 پھر میں ان کو لے کر نکلنے لگا تو اس کی بہن نے مجھے 7000 ہزار روپے دیے ۔  میں نے جب کہا ک یہ زیادہ ہیں تو وہ بولی ۔ کچھ نہیں ہوتا ۔ رکھ لو ہو سکتا وہاں ضرورت پڑ جائے۔

خیر ان کو کالج لیکر گیا داخلہ کروایا اور ان کو ان کے گھر لے گیا ۔ جہاں اس کی نند ملی جس کا شوہر ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا ۔ اور اس کی ایک بیٹی تھی جو کہ میڑک میں تھی ۔

وہاں سے جب میں واپس مسرت گھر ایا تو وہ جیسے میرا ہی انتظار کر رہی تھی ۔ جیسے ہی میں نے موٹر سائیکل کھڑی  کی اس نے مجھے گلے لگا لیا ۔ اس نے کے جب بڑے بڑے ممے میرے سینے سے لگے تو مجھے سیکس چڑھ گیا ۔

اور ہم ایسے ہی گلے لگے کمرے میں آ گئے۔ میں نے چونکہ دل میں دوست کی باتیں بھی تھی تو فورا ایک ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر اس کی پھدی کے پانی کو چیک کیا ۔ تو اس میں چکناہٹ نہ ہونے کے برابر تھی ۔ 

اس نے مجھے کہا یار کیا ہوگیا بہت جلدی ہے تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ 

اس کے بعد اس نے پہلے میری شرٹ ۔ پھر بنیان اتار دی ۔ اور ساتھ ہی اپنی قمیض بھی ۔ جس کے نیچے اس نے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا تھا ۔ اب ہم دونوں اوپر سے بلکل ننگے تھے ۔ اور میرا لن فل کھڑا تھا اور مجھے درد دے رہا تھا کہ میں نے انڈر ویئر بہت ٹائٹ پہنا ہوا تھا۔ اس نے کچھ دیر میں میرے پینٹ اور انڈر ویئر اور اپنی شلوار بھی اتار دی ۔ جس میں اس کی بلکل صاف شیو کی ہوئی پھدی چمک رہی تھی ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے ابھی ہی بال صاف کیے ہیں ۔  ۔ اس نے کچھ دیر میرے لن کی اپنے ہاتھ سے خوب مالش کی ۔ اس دوران میں نے اس کو کسنگ بھی جاری رکھی اور اس کے دونوں مموں کو خوب دبایا ۔ اور اور جب اس کی سانسیں تیز ہو گئی تو میں نے دوبارہ اس کی پھدی کے پانی کو چیک کیا تو اس میں بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔  ۔

 

Update 25th March

چکناہٹ پہلے سے بہت زیادہ تھی ۔ خیر میں اب اس کے مموں کو بہت زیادہ چوسنا شروع کر دیا۔ کبھی میں ان کو منہ میں جتنا لے سکتا ۔ لے لیتا اور چوستا اور کبھی اس کے بڑے بڑے نیپلز کو دانتوں میں لیکر ہلکا سا کاٹتا تو اس کے منہ سے درد بھری سسکی نکلتی ۔ اور کبھی ان کو اپنے ہونٹوں میں لیکر زور سے اپنی طرف کھینچتا ۔ تو اس کے منہ  سے مزے سے بھری سسکی نکلتی۔ اس دوران میرے ہاتھ اس کی ننگی کمر پر پھیر رہا تھا اور کبھی  اپنے ناخنوں  سے اس کی کمر کو کھرچتا ۔ 

میں نے آج اس کو اپنے دوست کے بتائے ہوئے طریقے سے بھر پور طریقے سے چودنے کا پروگرام بنا رکھا تھا ۔ اس کی حالت اب مزے سے خراب ہو رہی تھی ۔ میں نے کچھ دیر ایسا کرنے کے بعد اپنا ایک ہاتھ  نیچے اس کی پھدی پر لے جا کر اس کے اوپر پھرنے لگا ۔ جیسے ہی میرا ہاتھ اس کی پھدی پر ٹچ ہوا ۔ اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا ۔ کچھ دیر تو میں اس کی پھدی کے اوپر ہاتھ پھیرتا رہا ۔ پھر میں نے اپنی بڑی انگلی اس کی پھدی کے اندر ڈال دی۔

جیسے ہی میں نے اپنی انگلی اندر ڈالی وہ تڑپ سی گئی ۔ اور اس نے اپنے ناخنوں سے میری کمر پر رگڑ ڈال دی ۔ مجھے اس سے کچھ تکلیف ہوئی ۔ تو میرا ہاتھ اس کی پھدی سے دور ہو گئی اور اس کے مما بھی میرے منہ سے نکل گیا ۔ 

تو اس نے سور ی بول کر میرے ہونٹوں پر کسنگ کرنا شروع کر دی ۔ اب وہ بہت جذباتی ہو کر مجھے کسنگ کرنے لگی ۔ اور ساتھ ہی اپنی پھدی کو میرے لن پر رگڑنے لگی ۔ میرا فل کھڑا لن اس کی گیلی پھدی پر رگڑ کھانے لگا ۔ کبھی کبھی میرا لن اس کی پھدی کے سوراخ میں اٹک جاتا ۔ اور جب وہ کچھ زور لگاتی تو میرا لن ایک جھٹکا کھا کر آگے بڑھ جاتا جس سے مجھے بہت مزا آتا ۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مسرت کی سانسیں بہت زیادہ تیز چل رہی تھی ۔ اور اس نے پھر اپنی پھدی کو تیز تیز آگے پیچھے کرنا شروع کرنا شروع کر دیا ۔

اور ساتھ ہی اس کی کسنگ کرنے کی رفتار بھی تیز ہوگئی ۔ کچھ ہی دیر بعد اس نے مجھے زور سے اپنے سینے پر لگا لیا اور اس  کا جسم ہلکے ہلکے جھٹکے لینا لگا ۔ اور مجھے اپنے لن پر اس کا پانی گرتا ہوا مچسوس ہوا ۔ 

کچھ دیر بعد اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کچھ پیچھے ہو کر چارپائی پر بیٹھ گئی ۔ اور اپنے سانس کو برابر کرنے لگی ۔ میں کچھ دیر تو کھڑا رہا پھر اس نے باتھ روم جا کر خود کو صاف کیا اور واپس آکر میرے ساتھ لپٹ گئی ۔ اور مجھے لیکر چارپائی پر آگئی ۔ اور کچھ دیر میں میرے لن کو ہاتھ میں لیکر اس کے ساتھ کھیلنے لگی جو کہ اس دوران کچھ نرم ہو کر ڈھیلا پڑ گیا تھا ۔ اس کے اس قدم سے اس میں پھر اکڑ آنے لگی ۔ کچھ دیر بعد اس نے مجھے  اپنی طرف  کھینچا ۔ اب ہم کروٹ کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے لیٹے ہوئے تھے ۔  اور پھر اس نے دوبارہ سے کسنگ کرنا شروع کردی ۔ اور دوسرے ہاتھ سے میرا ہاتھ اپنی پھدی پر رکھ دیا ۔ تو میں نے پہلے تو کچھ دیر اس کی پھدی کے اوپر ہی ہاتھ سے رگڑا لگایا ۔ پھر اپنی انگلی اس کی پھدی میں ڈال دی۔ اور اس کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ 

تو وہ بھی گرم ہونے لگی ۔ کچھ دیر میں ہی اس کی پھدی نے دوبارہ پانی چھوڑنا شروع کر دیا ۔ میں بھی اب زیادہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔ تو میں نے اس کو سیدھا کیا ۔ اور اس کے اوپر ا کر اس کی ایک ٹانگ کو اوپر اٹھا لیا اور دوسری ٹانگ کو نیچے ہی رہنے دیا اور اپنے لن کو اس کی پھدی  میں ڈال دیا ۔ اور اس کو جھٹکے لگانے لگا ۔ ہر جھٹکے پر اس کے بڑے بڑے ممے اوپر نیچے ہونے لگتے ۔ اس کی پھدی اب پہلے دنوں کے مقابلے میں ٹائٹ لگ رہی تھی ۔ میرا لن کا سرا  ہر جھٹکے پر اندر کسی چیز سے ٹکراتا تو اس کے منہ سے ایک سسکی نکل جاتی ۔ جس کا مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ وہ بچہ دانہ کا منہ تھا ۔ 

پھر اس نے کوشش شروع کر دی کے کہ میں اس کے مموں کو بھی منہ میں لیکر چوسوں ۔ جو کہ مجھ سے نہیں ہو پا رہا تھا کہ اگر میں آگے ہو کر مما منہ میں لیتا تو لن سارا اندر نہ جاتا کہ اس کا پیٹ بھی باہر نکلا ہوا تھا ۔ تو میں نے یہ کرنا چھوڑ دیا ۔ بس اس کو چودنے لگا 

کوئی 5 منٹ کی مسلسل چدائی کے بعد اس کی سسکیاں بھی تیز ہوگئیں اور اور مسرت  اپنی گانڈ اوپر اٹھا اٹھا کر میرے لن کو زیادہ سے زیادہ اور جلدہی جلدی اندر لینے لگی ۔ 

ساتھ ساتھ اسکے منہ سے ایک ہی بات نکلنے لگی ۔ چود اور چود ۔ چود اور چود۔

سکوئی مزید 2 منٹ کی چدائی کے بعد وہ فارغ ہوگئی ۔ اور اس نے مجھے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا ۔ مگر میں نے جھٹکے لگانے بند نہ کیے ۔ اب میرا لن پورا تو اندر نہ جا رہا تھا۔ 

مگر مجھے چونکہ لگ رہا تھا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں اس لیے میں لگا رہا اور کچھ ہی دیر بعد میں اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا ۔ اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا ۔۔

۔ 

Share this post


Link to post
Share on other sites

شکریہ ۔ آج کچھ مصروف تھا 

کل کروں گا آپ ڈیٹ

Share this post


Link to post
Share on other sites
2 hours ago, Zaffar said:

شکریہ ۔ آج کچھ مصروف تھا 

کل کروں گا آپ ڈیٹ

جب بھی وقت ملے  اپڈیٹ کر دیجیے گا۔

بہر حال اچھا لکھ رہے ہیں  کہانی کو مکمل ضرو ر کرنا

شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Achi koshish h apki.. Lkin sex wala portion me expressions nahi thy thora deataild krain 

Share this post


Link to post
Share on other sites
1 hour ago, waji said:

Achi koshish h apki.. Lkin sex wala portion me expressions nahi thy thora deataild krain 

بھائی ۔ یہ بلکل سچی کہانی ہے ۔ اگلی کچھ قسطوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا 

کیونکہ میں تقریبا 35 کہانیاں شیر کروں گا جو بلکل سچ ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites
On 3/22/2019 at 12:23 AM, airborne said:

Keep it up

جانی آپ ڈیٹ کی ہے پر ابھی تک اس پر  لال رنگ  hidden ہے اور وہ 

Share this post


Link to post
Share on other sites
3 hours ago, Zaffar said:

جانی آپ ڈیٹ کی ہے پر ابھی تک اس پر  لال رنگ  hidden ہے اور وہ 

are bhai posts intazamia moderate krti hai phir approve hoti hai mujhe b yah hi masla drpaish hai 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×
×
  • Create New...