Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Javaidbond

پنڈی کی گشتیاں

Recommended Posts

ہیلو دوستو میں اس فورم پر پہلی دفعہ ایک سٹوری پوسٹ کر رہا ہوں۔۔۔یہ سٹوری پرانی ہے لیکن میری اپنی لکھی ہوئی ہے۔۔۔بہرحال چونکہ پہلی دفعہ اس فورم پر آیا ہوں تو فلحال پرانی سٹوری اپلوڈ کر رہا ہوں۔۔۔بہت جلد ہی دوسری سٹوری بھی اپلوڈ کر دی جائے گی۔۔۔

تو آئیے چلتے ہیں سٹوری کی طرف۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

چونکہ اس فورم پر نیا ہوں تو شاید اپلوڈ کرنے میں کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے اس کیلئے ایڈوانس میں معذرت۔۔۔

 

پنڈی کی گشتیاں۔۔۔۔

 

دوستو میرا نام سمیر قریشی ہے اور میں ملتان کا رہنے والا ہوں۔۔۔


آج میں اپنی زندگی کے ان لمحات کو آپ کے سامنے رکھنے جا رہا ہوں جو کہ میری زندگی کا حاصل ہیں۔۔۔تو دوستو یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ میرے پاپا کے ماموں جو پنڈی میں رہتے ہیں انہوں نے اپنے بڑے بیٹے جو کے رشتے میں میرے چچا لگتے ہیں ان کی شادی کے دن رکھے اور سب کو شادی کے کارڈز بھیجے ہم لوگوں کو بھی شادی کا کارڈ موصول ہوا اور ہم لوگوں نے شادی میں جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔یہ چچا لوگوں کے گھر کے دوسرے لڑکے کی شادی تھی اور تیاریاں فل زوروں پر تھیں میرے لیے بھی نئے کپڑے لیے گئے اور ساری تیاریاں مکمل ہو گئیں۔مقررہ دن سے 2 دن پہلے ہم لوگ میں پاپا اور ماما بذریعہ بس رات کو پنڈی روانہ ہو گئے۔صبح کے وقت اندازاً 10 بجے ہم لوگ پنڈی چچا کے گھر پہنچ گئے۔سب لوگوں سے ملنے کے بعد میں گھر سے باہر نکل گیا کیونکہ وہاں پہلے میری دوستی صرف چچا کے چھوٹے بھائی آفتاب سے تھی تو باہر اس کو ڈھونڈنے لگا۔جب کافی دیر تک اس کو نا ڈھونڈ پایا تو واپس گھر کیطرف چلا گیا۔گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا میں نے بیل بجائی تو کچھ لمحات کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔میں اندر داخل ہوا تو سامنے موجود ایک لڑکی نے میرا راستہ روکا اور پوچھا جی آپ کی تعریف۔۔۔؟میں نے اپنا تعارف کروایا تو جھٹ سے اس لڑکی نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور میرے ہاتھ سے ہاتھ ملا کر بولی میرا نام ماہین ہے لیکن سب لوگ مجھے مومو کہہ کر بلاتے ہیں۔۔۔میں گم صُم سا کھڑا رہا کہ پہلی ملاقات میں اتنی بے تکلفی تو اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے ہلاتے ہوئے کہا سمیر صاحب کہاں گم ہو گئے اور اپنا ہاتھ چھڑا کر ہنستی ہوئی اندر چل دی۔۔۔میں اس کی معصوم اور پیاری باتوں میں کھویا رہا یہاں یہ بتاتا چلوں کے میں عمر کے جس حصے میں تھا اس عمر میں ہر لڑکی پری اور مہ جبیں ہی دکھائی دیتی ہے لیکن جس بے تکلفی اور اپنے پن سے اس لڑکی نے اپنا تعارف کروایا تھا میں اس اپنے پن کے سحر میں کھویا سارا دن اس لڑکی کو ہی تاڑتا رہا اور وہ لڑکی بھی کچھ کچھ میری آنکھوں کی تپش کو سمجھنے لگی۔۔۔


(اب میں اس کو مومو ہی کہہ کر پکاروں گا)


خیر سارا دن مومو میری آنکھوں کے سامنے آتی جاتی رہی اور میں بھی اس کو ہی دیکھتا اور تلاش کرتا رہا۔اسی طرح رات سر پر آگئی اور مومو غائب ہو گئی اور میں بے چینی سے اس کو ڈھونڈتا رہا کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن وہ نہ ملی۔رات کو آفتاب سے بھی ملاقات ہو گئی جو کہ بھائی کی شادی کیوجہ سے سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے پکڑا اور بولا چل یار سمیر تھوڑا کام ہے بڑی بھابھی کے گھر جانا ہے۔۔۔میں اس کے ساتھ ہو لیا۔اور بائیک پر ہم لوگ اس کی بھابھی کے گھر چل پڑے جو کہ وہاں سے 25 منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ہم لوگ ان کے گھر پہنچ گئے۔۔۔وہ لوگ کافی اوپن مانئڈڈ تھے۔۔۔اس لیے ہم سیدھا گھر کے اندر چلے گئے۔۔۔آفتاب کی بھابھی ایک بہت ہی پیاری اور متناسب جسم کی مالک لڑکی تھی۔۔۔ان سے ملاقات ہوئی اور وہ ہمیں اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔ہم لوگ وہاں صوفے پر بیٹھ گئے دعا سلام کے بعد آفتاب نے کہا کہ بھابھی امی نے کہا ہے کہ آپ نے جو لہنگا برات والے دن پہننا ہے وہ تھوڑی دیر کیلئے دے دیں۔امی کے پاس کچھ خواتین بیٹھی ہیں ان کو دکھانا ہے۔۔۔آفتاب کی بات سن کر بھابھی بولیں۔۔۔آفتاب وہ تو ابھی ٹیلر کے پاس ہی پڑا ہے بلکل تیار ہے بس وہاں سے اٹھانا ہے آج دوپہر ٹیلر کی کال بھی آئی تھی پر میں جا نہیں سکی۔۔۔میرے بھائی بھاگ کر جاؤ اور لے آؤ۔۔۔میں اتنی دیر میں اس کا میچنگ سامان نکال لیتی ہوں۔۔۔
بھابھی کی بات سن کر آفتاب نے میری طرف دیکھا اور بولا چل بھائی اٹھ جا مفت کی بیگار ابھی اور کاٹنی پڑے گی۔۔۔


مگر بھابھی اس کی بات کاٹ کر بولیں۔۔۔تم اکیلے چلے جاؤ نا یہ تو مہمان ہے۔۔پہلی دفعہ آیا ہے کچھ خاطر مدارت تو کرنے دو۔۔۔اور آفتاب دانے پیستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ایک تو بیچارہ صبح سے گھر کے کاموں میں پھنسا ہوا تھا اوپر سے بھابھی نے بھی اسے آگے بھیج دیا تو وہ تھوڑا چڑ گیا تھا۔۔۔
آفتاب کے جانے کے بعد بھابھی میری طرف متوجہ ہوئیں اور رسمی طور پر میرا نام پوچھا۔۔۔میں نے اپنا نام بتایا تو بھابھی نے مصافحے کیلئے ہاتھ بڑھا دیا۔اور بولیں میرا نام سدرہ ہے۔۔۔میں نے حیران ہوتے ہوئے مصافحہ کیا۔۔۔بھابھی بھی کافی براڈ مائنڈڈ لگتی تھیں۔۔۔بھابھی نے کسی کو کولڈ ڈرنک لانے کا بولا تھا۔تو ایک بچہ کولڈ ڈرنک والا گلاس ٹرے میں رکھے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے گلاس دے کر ٹرے ایک سائیڈ پر رکھ کر بچہ چلا گیا۔۔۔اور میں گلاس اٹھا کر کوڈ ڈرنک کے سپ لینے لگا۔۔۔اور سناؤ سمیر پہلے کبھی نہیں دیکھا آپ کو کہاں سے آئے ہو آپ۔۔۔اور میں جو بھابھی کی بولڈنس سے کنفیوز ہو رہا تھا ہکلاتے ہوئے بولا بس وہ بھابھی میں ملتان میں رہتا ہوں اور پہلی دفعہ راولپنڈی آیا ہوں ساتھ ہی میں نے اپنے ابو کا نام بتایا۔۔۔بھابھی ہنس کر رہ گئیں اور ساتھ ساتھ کپڑوں کی الماری میں سے کچھ کپڑے نکال کر باہر رکھنے لگیں۔۔۔میں نے پہلی دفعہ بھابھی کے سراپے پر غور کیا۔۔۔بھابھی نے بہت ٹائٹ اور ماڈرن سٹائل کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔۔۔ان کی ٹائٹ قمیض میں پھنسے ہوئے بڑے بڑے ممے دیکھ کر تو میرا حال خراب ہو گیا۔۔۔میں اپنی دونوں ٹانگیں دبا کر اپنے کھڑے لن کو چھپانے کی تگ دو میں لگا رہا۔۔۔اور جب کامیابی نہیں ملی تو پاس پڑے کشن کو اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔۔۔بھابھی الماری بند کر کے مڑیں اور میرے سامنے آ کر بیٹھ گئیں۔۔۔بھابھی نہایت کرید کرید کر مجھ سے میرے بارے اور میری فیملی بارے پوچھ رہی تھیں۔ان کے انداز میں ایک والہانہ پن تھا جو مجھے گھبرائے دے رہا تھا۔وہ اب ہنس ہنس کر مجھ سے باتیں کر رہی تھیں اور میں ہکلاتے ہوئے جواب دے رہا تھا۔میری ہکلاہٹ بھابھی سے چھپی نہیں تھی۔ بلکہ وہ میری اس کیفیت کو بھانپ کر جیسے مزہ لے رہی تھیں۔میری نظریں بار بار اٹھتیں اور سیدھا بھابھی کے جسم پر چپک جاتیں پھر میں گھبرا کر آنکھیں نیچے کر لیتا کہ کہیں بھابھی میری اس حرکت کو دیکھ نا لیں۔۔۔کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔۔۔اتنی دیر میں آفتاب واپس آ گیا اور بھابھی سے باقی سامان لے کر ہم لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔
ایک چیز میں نے نوٹ کی کہ آفتاب کے واپس آنے کے بعد بھابھی کی گفتگو میں ایک دم محتاط پن آ گیا۔۔۔ہم لوگ دعا سلام کے بعد وہاں سے نکلے اور گھر واپس پہنچ گئے۔۔۔اس رات میں بیٹھک میں ہی سو گیا اور ساری رات لڑکیوں کے سہانے خواب دیکھتا رہا اور دن چڑھے تک سوتا رہا نیند میں محسوس ہوا کوئی مجھے جھنجھوڑ رہا ہے۔آنکھ کھلی تو اس مہ وش مومو کو سامنے پایا جو بول رہی تھی کہ کب تک سوتے رہو گے بدھو اب اٹھ بھی جاؤ سب لوگ تیاریاں کر رہے ہیں۔میں جلدی سے اٹھا اور مومو کا ہاتھ پکڑ کر بولا یار تم رات کو کہاں چلی گئی تھی کافی دیر تک ڈھونڈتا رہا تو مومو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی کیوں ڈھونڈتے رہے اور میں نے بے اختیار آنکھیں نیچے کر لیں۔اب اس کا جواب میں اس کو کیا دیتا اور بولا بس ایسے ہی تو وہ مسکراتی ہوئی بولی ارے میں یہاں تھوڑی نہ رہتی ہوں میں اپنے گھر چلی گئی تھی اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ وہ میرے چچا لوگوں کے فیملی فرینڈز ہیں اور یہ بتا کر مومو کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔


مجھے یہ جان کر بہت اچھا لگا۔۔۔میں جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکلا تو پتا چلا امی لوگ ہم کو گھمانے کے لیے مری لیکر جانا چاہتے ہیں۔۔۔میں نے مومو کو پکڑا اور بتایا تو وہ بولی اب میں تو آپ لوگوں کے ساتھ جا نہیں سکتی۔۔۔انتظار کروں گی آپ کے آنے کا اور میں اس کی بات کو سن کر حیران رہ گیا کہ یار لڑکی کھلے ڈھلے الفاظ میں اظہار کر رہی ہے۔خیر ہم لوگ مری کے لیے روانہ ہوئے۔آفتاب بھی ساتھ تھا ہم لوگ مری پنڈی پوائنٹ گئے چئیر لفٹ لی ادھر ادھر گھومتے پھرے۔۔۔پھر مال روڈ پر کھانا کھایا۔۔۔کچھ تھوڑی بہت شاپنگ کی اور شام کو واپس گھر آ گئے۔۔۔واپس آتے ہی میری نگاہیں بے چینی سے مومو کو ڈھونڈنے لگیں لیکن وہ نہ ملی۔۔۔


اس رات آفتاب لوگوں نے پچھلی گلی میں موجود ایک فرنیچر فیکٹری کی چھت پر ہال نما کمرے میں مجرے کا پروگرام رکھا تھا۔۔۔بڑی خوبصورت لڑکیاں مجرہ کرنے آئی ہوئیں تھیں۔۔۔آٹھ بجے تک میں بھی تیار ہو کر وہاں ہال میں چلا آیا۔۔۔ہال میں پہنچا تو دیکھا کہ آفتاب اور اس کے بڑے بھائیوں ارمغان اور فاروق تینوں کے دوستوں سے ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا قریباً 20 کے قریب قریب لوگ تھے۔۔۔


یہاں میں بتاتا چلوں کے یہ سارا فنکشن فاروق کی شادی کا تھا۔۔۔جب کہ ارمغان کی شادی پہلے ہی ہو چکی تھی اور سدرہ ارمغان کی ہی بیوی ہے۔۔۔ہال میں نہایت ہی خوبصورت اور متناسب جسم کی مالک چار لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔آفتاب نے بتایا کہ یہ لڑکیاں ہی مجرہ کریں گی۔۔۔گورے رنگ۔۔۔مہکتے ہوئے بدن کی حامل یہ لڑکیاں نہایت بھڑکیلے اور سیکسی لباس پہنے ہوئے محفل میں چار چاند لگا رہی تھیں۔۔۔میں اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اس قسم کی مخلوط محفل میں شامل ہو رہا تھا اور اس طرح کی مخلوق پہلی دفعہ میرے سامنے آئی تھی تو میرا برا حال تھا میں بار بار اپنے لن کو کھجاتا رہا۔۔۔میں ہی کیا وہاں سب لوگوں کا یہی حال تھا۔۔۔چونکہ یہ بیچلر پارٹی تھی تو ہر بندہ ہر حرکت کیلئے آزاد تھا۔۔۔شراب کا بھی بھرپور انتظام کی گیا تھا۔۔۔یہ مکمل ورائٹی شو ارمغان کے دوستوں کی طرف سے ارینج ہوا تھا۔۔۔

دوستوں کی پرزور فرمائش پر مجرے کا آغاز کیا گیا اور انڈین گانوں پر مجرہ شروع ہو گیا۔۔۔پھر چاروں طرف ایک طوفانِ بدتمیزی کا آغاز ہو گیا۔۔۔سب نے ہی شراب پینا شروع کر دی۔۔۔لڑکے جام لنڈھا لنڈھا کر اٹھتے۔جیب سے پیسے نکالتے اور لڑکیوں پر لٹاتے ہوئے ان کے ساتھ ڈانس کرتے۔۔۔ڈانس کیا لن کرنا تھا بس ہر بندے کو ایک ہی شوق تھا کہ لڑکی کے ہونٹ چوم لیں اس کے ممے دبا لیں یا پھر اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر لیں۔۔۔مجھے یہ سب پروگرامِ بدتمیزی انتہائی گھٹیا لگ رہا تھا۔۔۔
ہاں البتہ ایک چیز جو مجھے اٹریکٹ کر رہی تھی وہ تھی ایک نیلی آنکھوں والی لڑکی کا بار بار مجھے دیکھنا۔بعد میں پتہ چلا اس نے کانٹیکٹ لینز لگائے ہوئے تھے۔۔۔میں بھی بار بار اسی کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔اب ان پیشہ ور لڑکیوں کے ہتھکنڈے تو میں نہیں جانتا تھا ناں۔۔۔تو اس کی آنکھوں کی اس کاروباری تپش کو سمجھ نا پایا۔۔۔میں نے باقی لوگوں کے رنگ میں خود کو رنگتے ہوئے شراب کا ایک پیگ اٹھا لیا۔۔۔جیسے ہی شراب کو حلق میں انڈھیلا تو اس کا ذائقہ نہایت ہی عجیب محسوس ہوا۔کچھ دیر ناچ گانا دیکھتا رہا اور پھر شوخی شوخی میں چار پانچ پیگ شراب کے لگا گیا۔۔۔شروع شروع میں تو یہی لگا کہ شراب اپنے لیے بھی پانی ہے لیکن آدھے گھنٹے میں ہی پھرکی گھوم گئی اور میں بھی اٹھ کر اس طوفانِ بد تمیزی کا حصہ بن گیا۔۔۔اب میں بھی سب کے ساتھ ملکر ناچ رہا تھا اور لڑکیوں کے جسم ٹٹول رہا تھا۔۔۔ان کی گانڈوں پر ہاتھ لگاتے لگاتے میرا لن فل اکڑ گیا۔۔۔اب وہی نیلی آنکھوں والی لڑکی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لپٹائے نچا رہی تھی۔۔۔

اس کے ساتھ ناچتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھا تو اس نے مجھے کھینچ کر اپنے ساتھ چپکاتے ہوئے میرا لن پکڑ لیا۔۔۔میں نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا تو سب لوگ اپنے اپنے حال میں مست تھے۔۔۔کچھ لوگ شراب اور چرس کے نشے میں تھے تو کچھ لوگ میری ہی طرح باقی لڑکیوں کے مموں اور گانڈوں کو دبا رہے تھے۔۔۔چند سیکنڈ اس لڑکی نے میرے لن کو سہلایا اور پھر چھوڑ دیا۔۔۔ان گشتیوں کا طریقہ واردات ہی یہی ہوتا ہے کہ بندے کو اکسا کر خود دو قدم پیچھے ہو جاتی ہیں تاکہ بندہ خود آگے ہو کر ان کی تمنا کرے اور یہ پیسے کی ڈیمانڈ کر سکیں۔۔۔

وہ لڑکی پھر پیچھے ہو کر ناچنے لگی اور وہاں موجود ایک اور لڑکے نے اسے پکڑ لیا۔۔۔اور اس کے ممے دبائے لیکن وہ چند سیکنڈ میں ہی ایک ادا دکھا کر اس کی گرفت سے بھی نکل آئی۔۔۔اتنی دیر میں سب لوگوں نے پیسے نکالے اور ان گشتیوں پر لٹانے شروع کر دیے۔۔۔میں نے بھی اپنی جیب ہلکی کی اور پیسے نکال کر اسی لڑکی پر لٹانے لگا۔۔۔غرض کے رات دو بجے تک یہی طوفانِ بدتمیزی برپا رہا۔۔۔دو بجے مجرے کا اختتام کر دیا گیا۔۔۔میں نے آفتاب کو پکڑا اور بولا یار آفتاب مجھے اس لڑکی کی لینی ہے۔۔۔آفتاب نے گھور کر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔جانی پہلے کبھی یہ کام کیا ہے تو میں نے کہا نہیں یار آج پہلی دفعہ ہو گا تو وہ بولا پھر اس چکر میں مت پڑ میں کل تجھے ایک اعلیٰ سوسائٹی گرلز کے کوٹھی خانے پر لے جاؤں گا۔وہاں ایک سے ایک بڑھ کر حسینہ موجود ہے۔وہاں جو دل چاہے کر لینا لیکن ان کے چکر میں مت پڑ۔۔۔مگر میں جو اس ٹائم نشے میں تھا۔۔۔ضدی لہجے میں بولا نہیں مجھے ابھی اور اسی وقت اس کی لینی ہے۔۔۔تو وہ کندھے اچکا کر اس لڑکی کے پاس گیا اور کچھ بات کرنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آیا اور ہم دونوں کو چھت پر ہی موجود ایک کمرے میں دھکیل کر بولا عیش کر یارا لیکن جلدی آ جانا اور خود واپس چلا گیا۔۔۔میں نے کمرے کا دروازہ بند کر کے لاک کیا اور مڑا تو اتنی دیر میں اس لڑکی نے پیچھے سے آ کر مجھے جھکڑ لیا اور اپنے ممے میری کمر پر دباتے ہوئے ہاتھ آگے کر کے میرا لن پکڑ کر ہلانے لگی۔۔۔اور ساتھ ہی اس نے اپنے ہونٹ میری گردن پر رکھ دیے۔۔۔


اس کی اس حرکت سے مجھے جھٹکا لگا اور میں نے وہیں کھڑے کھڑے مڑ کر اس کے مموں کو دبوچا اور مسلنے لگا۔۔۔میری بے چینی دیکھ کر اس نے مسکراتے ہوئے اپنی قمیض اتار دی۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے جیسے ہی میری نظروں کے سامنے آئے تو میں پاگلوں کی طرح وہیں اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔چند منٹ اس کے ممے چاٹنے اور نپلز چوسنے کے بعد اس نے مجھے پیچھے ہٹا کر میری شلوار پر ہاتھ ڈالا اور ازاد بند کھول کر میری شلوار اتار دی۔۔۔شلوار اتارنے کے بعد اس نے مجھے وہاں موجود صوفے پر بٹھایا اور خود میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنی زبان باہر نکالی اور میرے لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی۔۔۔ایک ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹے پکڑ لئے اور نرم نرم ہاتھوں سے ٹٹوں کا مساج کرتے ہوئے میرے لن کو چاٹتی رہی۔۔۔میں دوہرے مزے کی کیفیت میں تھا۔۔۔پہلی دفعہ میرے لن نے کسی زبان کا ٹچ محسوس کیا تھا۔۔۔اس لئے مسلسل جھٹکے کھاتے ہوئے مزی چھوڑ رہا تھا۔۔۔پھر اس نے میرا لن منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا اور دو منٹ کے جاندار چوپے لگانے کے بعد اس نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری ٹانگیں ہلکی سی اوپر اٹھا کر میرے ٹٹوں کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے سسکاری نکلی۔۔۔یہ دیکھ کر اس نے میرا ایک ٹٹہ اپنے منہ میں لیکر چوسا اور اپنی انگلی سے میری گانڈ کے سوراخ کو چھیڑا۔۔۔اس کی یہ حرکت مجھے بڑی عجیب لگی۔لیکن انتہائی مزے نے مجھے کچھ بھی بولنے سے عاری رکھا۔۔۔


میرا ٹٹہ منہ سے نکال کر اس نے اپنی زبان سے میری گانڈ کے سوراخ کو ٹچ کیا۔۔۔مجھے ایک عجیب سی سنسناہٹ جسم میں ابھرتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اب وہ میری گانڈ کے سوراخ کو لپالپ چاٹ رہی تھی۔۔۔وہ اپنے منہ میں تھوک اکٹھا کر کے میری گانڈ کے سوراخ پر پھینکتی اور پھر زور و شور سے چاٹنا شروع کر دیتی۔۔۔چاٹ چاٹ کر اس نے میری گانڈ کا سوراخ نرم کر دیا۔۔۔پھر اس میرے ٹٹوں اور گانڈ کے درمیانی حصے پر زبان پھیری تو مزے کی شدت سے میرا جسم جھنجھنا اٹھا اور اسی جھنجھناہت کے دوران ہی اس نے اپنی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباؤ ڈالا تو اس کی آدھی سے زیادہ انگلی میری گانڈ میں تھی۔۔۔میں تڑپ کر اٹھا اور جھٹکے سے اپنی گانڈ اوپر اچھال دی جس کیوجہ سے اس کی انگلی باہر نکل گئی۔۔۔پھر غصے سے بولا گشتیے۔۔۔میں ایتھے تیری پھدی مارن آیا بنڈ مران نئیں۔۔۔چل سیدھی ہو فٹافٹ تے شلوار لا اپنی۔۔۔
میری بات سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور ہنستی گئی ہنستی گئی جیسے اسے ہنسی کا دوری پڑ گیا ہو۔۔۔ہنستے ہنستے اس کے منہ سے نکلا،،،،پھدی،،،،اور وہ پھر ہنسنے لگی۔۔۔جبکہ میں اس کا منہ دیکھ رہا تھا۔۔۔اس کی ہنسی ختم ہوئی تو وہ بولی کاکے بنڈ مار لویں گا۔۔۔میں نے کچھ نا سمجھنے کے انداز میں کہا بنڈ۔۔۔؟
تو وہ اپنے سر پر ہاتھ مار کر بولی اچھا تینوں ہن سب کچھ دکھانا پوے گا۔۔۔یہ کہہ کر اس نے منہ دوسری طرف کیا اور کھڑے کھڑے اپنی شلوار اتار دی۔۔۔نیچے اس نے کالے رنگ کا انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔وہ بھی اس نے اتار دیا اور آہستہ سے میری طرف گھوم گئی۔۔۔
میرے منہ سے نکلا ارے۔۔۔
اس کی ماں کی چوت۔۔۔اس کے اوپر بڑے بڑے ممے اور نیچے میرے لن سے بھی دگنا لمبا اور موٹا لن۔۔۔میرے دماغ نے کہا خطرہ۔نسو پین چود اے تاں منڈا نکل آیا۔۔۔میں نے فوراً اپنے پاؤں میں پڑی اپنی شلوار اٹھائی اور پہنتے ہوئے وہاں سے بھاگا۔۔۔صحیح معنوں میں مجھے آج پتہ چلا کہ لینی کی دینی پڑ جائے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔۔اس نے مجھے روکنے کی بہت کوشش کی اور اپنے پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن میں وہاں سے جان چھڑا کر باہر نکلا اور سیدھا آفتاب کو جا پکڑا۔۔۔ارے یار اس پین چود کو پیسے دے اور میری جان چھڑوا۔۔۔آفتاب نے پوچھا کیا ہوا یار تو میں نے اسے بتایا یار وہ تو کھسرا ہے۔۔۔تو آفتاب بولا جگر تجھے منع کیا تھا میں نے کہ اس کو چھوڑ دے لیکن تو نہیں مانا۔۔۔اور یہ کھسرا نہیں مادر چود پورا لڑکا ہے۔۔۔شکل میں لڑکیوں جیسی شباہت تھی تو آپریشن کروا کر اس نے ممے بنوا لیے۔ باقی سارا کمال میک اپ اور اداؤں کا ہے۔۔۔یہ کہہ کر آفتاب باہر نکل گیا اور میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔۔۔پھر ادھر ہال روم میں ہی بیٹھ کر سگریٹ سلگا لیا۔۔۔میرا لن بے شک بیٹھ چکا تھا لیکن دماغ پر ابھی تک منی سوار تھی تو وہاں سے نکلا اور سیدھا گھر جا کر واش روم میں گھس گیا اور مٹھ ماری تو دماغ کو تھوڑا سکون ملا۔۔۔پھر کچھ دیر بعد میں آفتاب کے کمرے میں جا کر سو گیا۔۔


اگلی صبح میری آنکھ آفتاب کے ہلانے پر کھلی۔۔۔ٹائم دیکھا تو دس بج رہے تھے۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں اور آفتاب گاڑی لے کر باہر نکل گئے اور مہندی کے فنکشن کا سامان خریدنے لگے۔۔۔اسی شاپنگ میں ہمیں دوپہر کے دو بج گئے۔۔۔دو بجے کا کھانا ہم لوگوں نے فوڈ اسٹریٹ سیور فوڈز میں کھایا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد ہم سامان لیکر گھر پہنچ گئے اور سارا سامان آفتاب کی بہن کے حوالے کر کے ہم لوگ کمرے میں آ بیٹھے۔۔۔


تھوڑی دیر میں چائے بن کر آ گئی اور ہم چائے پینے لگے۔۔۔چائے پینے کے دوران آفتاب نے مجھ سے پوچھا ہاں جانی اب بتا کل رات کو کیا ہوا تھا۔۔۔میں نے کھسیاتے ہوئے اسے ساری سٹوری سنا دی۔۔۔چونکہ آفتاب بھی چدائی کا شوقین تھا۔۔۔اور میں اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اس لیے ہم دونوں آپس میں کھل کر بات کر رہے تھے۔۔۔باتیں کرتے کرتے اچانک میرے دل میں ایک خیال آیا۔۔۔میں نے آفتاب سے کہا یار رات کو وہ تم کہہ رہے تھے کہ یہاں کوئی ٹاپ سوسائٹی گرلز کا کوٹھی خانہ ہے۔۔۔ہاں نا یار بہت کمال کی جگہ ہے۔ایک سے ایک اعلیٰ۔۔۔کمال کی پوپٹ بچیاں ہیں وہاں۔آفتاب نے چسکے لے لے کر مجھے بتایا تو میرے دل میں کھلبلی مچنی شروع ہو گئی۔۔۔میں نے آفتاب کو کہا تو چل نا میرے بھائی ایک چکر لگاتے ہیں ویسے بھی کل رات میں کنوارہ ہی رہ گیا۔۔۔آفتاب کچھ سوچنے کے بعد اثبات میں گردن ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔چل میری جان آج تو بھی پیسٹری کاٹ ہی لے۔۔۔


پھر کمینگی سے ہنستے ہوئے بولا کہ آج تم پیسٹری کاٹ لو کل رات کو فاروق بھائی بھی کاٹ لیں گے۔۔۔اور اس کی بات سن کے میں بھی کِھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔


ہم لوگ گھر سے نکلے اور گاڑی سٹارٹ کر کے وہاں سے چل پڑے۔۔۔کوئی تیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ اسلام آباد جی نائن سیکٹر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔آفتاب تو وہاں کا رہنے والا تھا اس لیے اسے وہاں کا ہر راستہ ازبر تھا لیکن مجھے گلیوں کی بھول بلیوں میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم لوگ کس جگہ پر جا رہے ہیں۔۔۔اور جان کر کرتا بھی کیا۔۔۔میرے دماغ پر تو پھدی سوار تھی اور میں راولپنڈی صرف چار دن کیلئے ہی آیا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد ہی آفتاب نے گاڑی ایک بہت پیاری کوٹھی کے گیٹ کے سامنے لیجا کر روک دی۔ہارن مارنے پر گیٹ کی چھوٹی کھڑکی سے ایک آدمی باہر نکلا اور گاڑی کے پاس آیا۔۔۔پاس آ کر جیسے ہی اس نے آفتاب کو دیکھا تو اس کے چہرے پر شناسائی کے تاثرات ابھرے اور وہ واپس اندر چلا گیا اور ایک منٹ بعد ہی کوٹھی کا مین گیٹ بنا کسی آواز کے کھل گیا۔۔۔
آفتاب گاڑی کو اندر لے گیا اور پورچ میں گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا۔۔۔میں بھی اس کی تلقید میں گاڑی سے باہر نکلا اور آفتاب مجھے ساتھ لیکر سیدھا کوٹھی کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اندر جا کر سامنے ہی گیسٹ روم میں ہم لوگ بیٹھ گئے۔۔۔مجھے احساس ہو رہا تھا کہ آفتاب یہاں آتا جاتا رہتا ہے تبھی تو وہ سارے سسٹم کو جانتا تھا اور اتنے اطمینان سے ہم لوگ اندر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں بغلی دروازہ کھلا اور ایک تیس بتیس سال کی عورت اندر داخل ہوئی اور چلتی ہوئی ہمارے پاس آئی ہم دونوں سے ہاتھ ملایا اور سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔حال احوال پوچھنے کے بعد وہ آفتاب سے مخاطب ہوئی۔۔۔


آج تو کافی دنوں بعد درشن دیے آپ نے اور یہ آپ کے ساتھ نیا پنچھی کون ہے۔۔۔میں کافی نروس تھا۔اور یہ چیز اس عورت کی نگاہوں سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔آفتاب صوفے پر پاؤں پھیلاتے ہوئے بولا کیا بتاؤں خانم گھر میں بھائی کی شادی ہے اور پچھلے بیس دن سے گھِن چکر بنا ہوا ہوں۔۔۔یہ سمیر قریشی ہے۔میرا کزن ہے۔دوست ہے۔جگر ہے۔۔۔باہر سے آیا ہے۔بیچارہ پرسوں سے میرے ساتھ خجل ہو رہا تھا تو سوچا چلو خانم کے پاس چلتے ہیں ایک تو دیدارِ خانم ہو جائے گا دوسرا تھوڑی تھکاوٹ بھی اتر جائے گی۔۔۔


خانم جو کہ یقیناً وہاں کی نائیکہ تھی۔مسکرا کر بولی بلکل ذہنی آسودگی ہی اصل تھکان ہوتی ہے۔۔۔تو پھر بلاؤ لڑکیوں کو تھکاوٹ سے بدن ٹوٹ رہا ہے آفتاب بے چینی سے بولا اور خانم مسکراتے ہوئے اٹھ کر بغلی دروازے کی طرف چل دی۔۔


میں بغور خانم کاجائزہ لے رہا تھا اس نے جینز کی پینٹ اور بغیر بازوؤں کے ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ان کپڑوں میں اس کا جسم بہت سیکسی لگ رہا تھا۔۔۔آفتاب نے مجھے خانم کو یوں بھوکی نظروں سے دیکھتے پایا تو مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔نہیں یار اس کی طلب مت کرنا یہ خانم خود کسی کے ہاتھ نہیں آئی آج تک۔۔۔بس لڑکیوں سے دھندا کرواتی ہے اور یہ الگ بات ہے کہ لڑکی ایک سے بڑھ کر ایک ہوتی ہے۔۔۔ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ بغلی دروازہ پھر کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔اس کے پیچھے ایک لڑکی مشروبات کی ٹرے اٹھائے ہوئے وارد ہوئی۔خانم آ کر ہمارے سامنے ہی بیٹھ گئی جبکہ لڑکی نے ٹرے درمیان میں موجود ٹیبل پر رکھی اور ٹرے میں موجود بئیر گلاسوں میں ڈال کر ہمارے آگے سرو کر دی۔۔۔یہ لڑکی بھی قابلِ قبول تھی لیکن وہ رکی نہیں اور بئیر سرو کرنے کے بعد واپس اسی دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔خانم مسکراتے ہوئے اپنا گلاس اٹھا کر بولی لڑکیاں تیار ہو کر ابھی دس منٹ میں آتی ہیں اتنی دیر آپ لوگ شوق فرمائیں اور ہم دونوں نے اپنے اپنے گلاس اٹھا لئیے اور بئیر پینے لگے۔۔۔

ابھی بئیر کے گلاس ختم بھی نہیں ہوئے تھے کہ بغلی دروازہ دوبارہ کھلا اور چار لڑکیاں اندر داخل ہوئیں اور چلتی ہوئیں آ کر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں۔۔۔میں ان سب کو غور سے دیکھ رہا تھا۔واقعی ایک سے بڑھ کر ایک تھی۔۔۔
آفتاب اور خانم بغور میری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی میں نے لڑکیوں سے نظر ہٹا کر ان کی طرف دیکھا اور انہیں خود کو ایسے گھورتے پایا تو ایک دم کھسیا سا گیا۔۔۔خانم ہنستے ہوئے بولی لگتا ہے آپ پہلی دفعہ ایسی جگہ پر آئے ہو۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آفتاب نے فٹ سے جواب دیا۔۔۔ارے خانم جان یہ موصوف ابھی تک کنوارے ہیں۔۔۔لڑکی نام کی مخلوق کو ابھی تک ٹچ بھی نہیں کیا۔۔۔آفتاب کی بات سن کر خانم کی آنکھوں میں ایک لمحے کیلئے چمک سی ابھری اور فوراً ہی معدوم ہو گئی۔۔۔میں بھی چونکہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا اس لئے صرف میں ہی اس لمحاتی چمک کو نوٹ کر پایا۔۔۔آفتاب نے میری پیٹھ پر ایک ہاتھ جماتے ہوئے کہا چل جانی نکال لے اپنا پیس ان میں سے جو تجھے پسند آئے۔۔۔میں ہونقوں کی طرح منہ پھاڑے آفتاب کو دیکھنے لگا۔۔۔یہ ماحول میرے لیے بلکل نیا تھا۔تو تھوڑی جھجھک فطری تھی۔۔۔

میری جھجھک دیکھتے ہوئے خانم مسکرا کر اٹھی اور میرے پاس آ کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔اس کے نرم ملائم ہاتھ کو محسوس کرتے ہی میرے دل میں کھلبلی سی مچ گئی۔۔۔خانم نے ہاتھ پکڑتے ہوئے زور لگا کر مجھے اٹھایا اور چلاتے ہوئے لڑکیوں کے پاس لے جا کر تعارف کرواتے ہوئے ان کے خواص بتانے لگی۔۔۔پہلی لڑکی کے پاس پہنچے تو اس لڑکی نے اپنا ہاتھ مصافحے کیلئے بڑھا دیا میں نے ہاتھ ملایا تو وہ میرے ہاتھ کو دبا کر مسکرانے لگی۔۔۔خانم کی کمنٹری جاری ہو گئی۔۔۔
1: ریشم۔۔۔مساج بہت اچھا کرتی ہے اور بلکل پیار سے آپ کو سکون کی منزل تک پہنچائے گی۔۔میں نے خانم کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تو خانم مسکرا کر بولی،،نہیں میں نہیں٬٬صرف ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔۔۔یہ کہہ کر خانم کی کمنٹری پھر جاری ہو گئی۔۔۔
2: نازنین۔۔۔سیکس کی ماہر۔گانڈ مروانے کی شوقین اور سکنگ میں بھرپور مہارت۔۔۔
یہ سنتے ہی میں نے اس لڑکی نازنین کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔خانم نے مسکراتے ہوئے میرا ہاتھ چھوڑا اور نازنین کو بولی ان کو اوپر ٹیرس والے کمرے میں لے جاؤ۔۔۔آفتاب نے بھی ایک لڑکی کا انتخاب کیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔۔۔نازنین میرا ہاتھ پکڑے مجھے اسی بغلی دروازے سے اندر لے گئی۔۔۔اندر ایک راہداری تھی۔۔۔راہداری کے ساتھ ہی سیڑھیاں چڑھ کر ہم اوپر والے پورشن میں چلے گئے۔۔۔نازنین نے داہنی سائیڈ پر موجود کمرے کے دروازے کو ہلکا سا دبایا تو دروازہ کھل گیا اور وہ مجھے لیے کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔کمرے میں نہایت شاندار بیڈ موجود تھا اور بیڈ کے ساتھ ہی ایک بڑا کاؤچ نما صوفہ پڑا ہوا تھا۔۔۔

نازنین نے مجھے بیڈ پر بٹھایا اور ابھی پانچ منٹ میں آئی کا کہہ کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔میں اس کوٹھی کی شان و شوکت اور اس منظم کاروبار کے بارے میں سوچ سوچ کر حیران تھا کہ یہ خانم کتنے منظم طریقے سے یہاں بیٹھی ہے ضرور اس کی پشت پر کوئی اثرورسوخ والا بندہ ہو گا۔۔۔نازنین کو گئے ہوئے دس منٹ ہونے کو آئے تھے ابھی تک وہ واپس نہیں آئی تھی۔۔۔میں اٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور خانم اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے ایک لمبا اور ڈھیلا ڈھالا سا لبادہ پہنا ہوا تھا۔۔۔خانم کو دیکھ کر میں تھوڑا کنفیوز ہوا۔۔۔میری حالت دیکھ کر خانم بولی ایزی بوائے ایزی میں سب سمجھاتی ہوں۔۔دراصل ہر کسی کا اپنا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ابھی نازنین کے بارے میں تم نے چوپے اور گانڈ کا سن کر فوری اس کا ہاتھ پکڑ لیا اسی طرح لڑکیوں کی بھی اپنی اپنی چوائس ہوتی ہے۔۔وہاں نیچے کامن روم میں تم نے مجھے آفر کی تھی۔۔۔مجھے پہلے ہی کافی دفعہ آفتاب بھی کہہ چکا ہے لیکن میری بھی ایک چوائس ہے جس کی وجہ سے میں نے ہمیشہ آفتاب کو انکار کیا ہے لیکن تمہیں انکار نہیں کر سکوں گی کیونکہ تم میری چوائس کے عین مطابق ہو۔۔۔مگر خانم نیچے تو آپ نے مجھے انکار کر دیا تھا میں نے سوالیہ لہجے میں پوچھا تو خانم بولی یار نیچے آفتاب تھا نا اور میں اس کے ساتھ سیکس نہیں کر سکتی کیوں کہ وہ میری چوائس پر پورا نہیں اترتا۔۔۔


میں نے خانم پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا کہ آخر کیا ہے آپ کی چوائس خانم کچھ بتاؤ تو سہی اس بارے میں۔۔۔تو چند لمحوں کی خاموشی کے بعد خانم اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنا رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔پھر آہستہ سے خانم نے اپنا لبادہ ہٹایا اور اپنا ایک کندھا ننگا کیا تھوڑا سا سر گھما کر میری طرف دیکھتے ہوئے خانم نے دوسرا کندھا بھی ننگا کر دیا۔۔۔کندھے ننگے کرنے کے بعد خانم میری طرف مڑی اور پرشوق نگاہوں سے دیکھتی ہوئی دو قدم آگے آئی اور اپنا لبادہ ایک جھٹکے سے کھول کر نیچے اپنے قدموں میں پھینک دیا۔۔۔خانم کا جسم دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔کیا کمال کر فگر تھا۔۔۔یہ بڑے بڑے اور اکڑے ہوئے ممے۔۔۔خانم کی گول مٹول گانڈ اور بالوں سے پاک صاف پھدی جس کے ہونٹ تھوڑا باہر کی طرف نکلے ہوئے تھے۔۔۔خانم ایک بازو اٹھائے سر کے اوپر سے دوسرے کندھے کی طرف گزار کر دوسرے ہاتھ سے اس بازو کو پکڑے مجسمے کی طرح کھڑی تھی۔۔۔
یوں لگتا تھا کہ جیسے کسی مجسمہ تراش نے حسن کی مورت بنا ڈالی ہو۔۔۔


خانم کو ایسے دیکھ کر میرا لن فل تن کر اکیس توپوں کی سلامی دینے لگا۔۔۔خانم مجھے دیکھتے ہوئے نشیلے لہجے میں بولی میری چوائس ہے کنوارہ پن۔۔۔اور اسی وجہ سے اب میں تمہارے سامنے ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم آگے بڑھی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔میں نے بھی خانم کو اپنی بانہوں میں کَس لیا اور ہم دونوں لپٹ کر کسنگ کرتے رہے۔۔۔خانم کی گرم جوشی دیدنی تھی۔۔۔وہ بڑی شدت سے میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔اسے مجھ پر بڑا ہی پیار آ رہا تھا۔۔۔خانم نے مجھے کھڑا کر کے میرے کپڑے اتار دیے پھر دوبارہ مجھے لٹاتے ہوئے میرے اوپر آ گئی اور دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔اس نے میرے چہرے کو چوما۔۔۔ہونٹوں کو بے تحاشا چاٹا۔۔۔پھر وہ تھوڑا نیچے آ گئی۔جیسے ہی اس کی زبان کا لمس میں نے اپنی گردن پر محسوس کیا میرے جسم کو کرنٹ سا لگا اور میرا بدن کانپ گیا۔۔۔اب خانم اور نیچے جا رہی تھی۔۔۔اس نے میرے سینے پر بے تحاشا پیار کیا۔۔۔


مجھے اس کی یہ گرم جوشی بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔۔مزے کی لہریں میرے جسم میں سرایت کر گئیں۔۔۔اس وقت تو مجھے ایک جھٹکا لگا جب اس نے میرے چھوٹے سے دانے جیسے نپل کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کیا۔۔۔میں نے بے اختیار اسے روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکی اور نپلز چوستی رہی۔۔۔میں اپنی آنکھیں بند کر کے مزے کے اس طوفان کو برداشت کرنے لگا۔۔۔۔کچھ دیر میرے نپلز چوسنے کے بعد وہ تھوڑا نیچے آئی اور میرے پیٹ پر اپنی زبان پھیرتے ہوئے اور نیچے جانے لگی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ اب وہ میرا لن چوسے گی لیکن میرے زیرِ ناف حصے کو چاٹتے چاٹتے جیسے ہی وہ لن کے پاس پہنچی وہاں سے اس نے اپنا منہ ہٹایا اور میری رانوں کو چاٹنے لگی۔۔۔ہر لمحے ایک منفرد مزے کا احساس ہو رہا تھا۔میں خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔۔۔خانم آہستہ آہستہ سے میری پنڈلیوں پر زبان پھرتے ہوئے نیچے آئی اور میرے پاؤں تک پہنچ گئی یہاں خانم نے رک کر میری آنکھوں میں دیکھا اور میرے پاؤں کے انگوٹھے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔میں پھر سے مزے کے ایک نئے جہاں میں غوطے لینے لگا۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس چیز سے اتنا زیادہ مزہ ملتا ہے۔۔۔مزہ ہی اتنا تھا کہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔اب خانم میری دونوں ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خانم نے اپنا سر نیچے جھکایا اور اپنی لمبی سی زبان باہر نکال کر میرے لن کی ٹوپی کو چاٹ لیا۔۔۔میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا اور مزی کا ایک قطرہ لن کے سوراخ سے باہر نکل آیا۔۔۔خانم نے لن کے ارد گرد اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔۔۔وہ مزے مزے سے لن کی ٹوپی سے لے کر نیچے ٹٹوں تک اپنی زبان پھیرتی۔ساتھ ہی دوسرے ہاتھ سے اس نے میرے ٹٹوں کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں دوہرے مزے کا شکار ہونے لگا۔۔۔خانم کی مستیاں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔دو منٹ تک ایسے ہی لن کی کیپ کو سائیڈوں سے چاٹنے کے بعد خانم نے میری ٹانگیں اٹھا کو ہلکی سی کھول دیں۔۔۔

اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر منہ نیچے جھکایا اور میرے ٹٹوں کی جڑ میں گانڈ کے سوراخ کے پاس اپنی زبان کی نوک پھیری۔۔۔وہاں سے زبان پھیرتے ہوئے خانم اوپر کی طرف آتے ہوئے ٹٹوں کو چاٹتی گئی۔۔۔ٹٹوں سے ہوتے ہوئے لن کی جڑ سے سیدھا لن کی ٹوپی تک ایک چاٹا لگایا اور میرے لن کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔مجھے ایک منفرد مزے کا احساس ہوا۔۔۔خانم بڑی رغبت سے میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ اگر کچھ دیر اور اس نے ایسے ہی لن چوسا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔

اس لیے میں نے خانم کو روک دیا اور اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔خانم کے لبوں پر میری مزی کا قطرہ چمک رہا تھا جسے وہ زبان نکال کر چاٹ گئی۔۔۔

اب میں اگلے مرحلے یعنی چدائی کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔لیکن میرا لن ایسے جھٹکے کھا رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ اگر میں نے لن کو پھدی کے اوپر بھی رکھا تو چھوٹ جاؤں گا۔۔۔خانم کی جاندار چسائی نے میرا حال برا کر دیا تھا۔۔۔میں نے خانم کو کندھوں سے پکڑا اور بیڈ پر لٹاتے ہوئے خود خانم کے اوپر آ گیا۔اس کے شربتی ہونٹوں پر حملہ کیا اور انہیں چوسنے لگا۔۔۔خانم بھی مزے سے میرا ساتھ دینے لگی۔۔۔میں بڑی شدت سے اس کے ہونٹ چوس رہا تھا کبھی اوپر والا ہونٹ کبھی نیچے والا۔۔۔پھر میں نے خانم کی زبان پکڑ کر اسے چوسنا شروع کر دیا۔اور خانم کی بے قراریاں بڑھنے لگیں۔۔۔وہ بے خودی میں ڈوبنے لگی۔۔۔مزے کی اک لہر تھی جو کہ اس کی زبان سے دل و دماغ تک جا رہی تھی۔۔۔اچھی طرح ہونٹ اور زبان چوسنے کے بعد میں نے پیچھے ہو کر خانم کے دونوں مموں کو پکڑ لیا۔۔۔اف کیا خوب نظارہ تھا سخت سخت ممے اور ان کی گولائیاں،،ممے کے درمیان میں براؤن رنگ کا دائرہ اور اس دائرے میں اکڑے ہوئے پیارے سے نپلز۔غرض کہ کمال کا نظارہ تھا۔۔۔میں خانم کے ممے دبانے لگا۔۔۔مجھے بہت مزہ آ رہا تھا یہ سب کرنے میں۔۔۔پھر میں نے اپنا منہ خانم کے ایک ممے پر رکھا اور اوپر اوپر سے چاٹنے لگا۔خانم سِسک سی گئی۔پھر میں نے جگہ جگہ سے دونوں مموں کو اتنے زور شور سے چوسا کہ نشان پڑھ گئے۔مگر پرواہ کسے تھی۔میں نے ایک نپل کو اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔کبھی نپل کو چوستا تو کبھی اس کے ارد گرد اپنی زبان گھماتا۔۔۔خانم کی سسکاریاں بلند ہونے لگیں۔۔۔اور خانم آہ:اوہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ۔۔آہہہ کی آوازیں نکالنے لگی۔۔۔

میں بھی بلکل کسی بچے کی طرح ممے چوستا رہا۔میں دیوانہ وار خانم کے فل تنے ہوئے نپلز چوستا جا رہا تھا۔۔۔خانم نے بےخودی میں اپنا ہاتھ میں سر پر رکھا اور اسے دبانے لگی۔۔۔میں سمجھ گیا کہ خانم کو بھی فل مزہ آ رہا ہے۔تبھی میں نے اپنا ایک ہاتھ آہستہ سے نیچے لیجا کر خانم کی پھدی پر رکھ دیا۔اور اسے بھی ساتھ ساتھ مسلنے لگا۔۔۔خانم سے برداشت نہ ہوا تو اس نے ایک دم جھٹکا کھایا اور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔میں نے خانم کی آنکھوں میں دیکھا وہاں خماری ہی خماری تھی۔۔۔خانم نے مجھے دھکیل کر ایک سائیڈ پر کیا اور مجھے لٹا کر خود میرے اوپر آ گئی۔۔۔ایک ہاتھ نیچے لیجا کر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔

چونکہ خانم جانتی تھی کہ یہ میرا پہلی دفعہ ہے تو وہ بڑے صبر و تحمل سے پیار اور سکون سے سب کرنا چاہتی تھی۔خانم نے میرا لن اپنی پھدی کے نیچے اس انداز میں لیا کہ میرا لن میرے پیٹ پر لمبائی میں پیٹ اور اس کی پھدی کے درمیان پھنسا ہوا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ آہستہ لن پر اپنی پھدی کو رگڑنا شروع کیا تو میرے منہ سے بھی سسکی برآمد ہوئی۔۔۔آہ۔۔۔اف۔۔۔
چند سیکنڈز ایسے ہی رگڑائی کے بعد خانم تھوڑا اوپر ہوئی اور ایک ہاتھ نیچے لیجا کے لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں کے درمیان رکھا اور آہستہ سے اپنا وزن بڑھاتی گئی۔۔۔اور دس سیکنڈز میں ہی پورا لن اندر غروب ہو چکا تھا۔۔۔خانم نے آہستہ سے ہلنا شروع کیا اور آگے پیچھے ہونے لگی۔۔۔اس انداز میں لن اندر باہر تو نہیں ہو رہا تھا بس وہیں پر پھدی کے اندر ہی تھوڑا ہل رہا تھا۔۔۔مجھے بس یہ احساس ہی مزہ دیے جا رہا تھا کہ پہلی دفعہ میرا لن پھدی کے اندر ہے۔۔۔اور پھدی بھی خانم جیسی حسین لڑکی کی۔۔۔کچھ دیر خانم ایسے ہی مزہ لیتی رہی اور میری بے چینی سے لطف اندوز ہوتی رہی۔۔۔پھر خانم اٹھی اور میری سائیڈ پر لیٹ کر بولی اب تم اوپر آ جاؤ۔۔۔


میں نے خانم کے اوپر آ کر اس کے ٹانگیں اٹھائیں اور اپنی بغلوں سے گزار لیں جس سے پھدی تھوڑا کھل کر سامنے آ گئی۔۔۔میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں کے درمیان رکھ  کر دو چار رگڑے دیے تو آنکھیں بند کیے خانم مچل سی گئی۔۔۔

میرا لن اور خانم کی پھدی دونوں ہی فل گیلے تھے اس لیے لن بار بار پھسل رہا تھا۔میں نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے منہ پر رکھ کر تھوڑا سا زور لگایا تو ٹوپی اندر چلی گئی۔۔۔میں دباؤ ڈالتا گیا اور کچھ دیر میں ہی پورا لن اندر تھا۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے گھسے مارنے شروع کیے۔۔۔لن خانم کی پھدی کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر جا رہا تھا۔۔۔دونوں ہی مزے سے سرشار تھے۔۔۔میں نے اپنی رفتار تھوڑی سی بڑھائی تو کمرے میں پچک پچک کی آوازیں گونجنے لگیں۔۔۔ساتھ ہی کہیں کہیں خانم کی لذت آمیز سسکاریاں بھی گونجتی۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی چودائی کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔اور خانم کو گھوڑی بنا کر خود پیچھے آ گیا۔۔۔اور اپنا لن اس کی پھدی پر رگڑتے ہوئے چوتڑوں کو دونوں ہاتھوں میں دبوچ کر ایک زور دار جھٹکا مارا تو گھپ سے پورا لن اندر چلا گیا۔۔۔خانم کے منہ سے اونچی آواز میں نکلا۔۔۔آہ۔۔۔۔ہائے رے کنوارے پن کی بے چینیاں۔۔آہہہ۔۔آہ۔۔۔
میں گھسے مارتے ہوئے بولا خانم جی بس آپ کو دیکھ دیکھ کر صبر نئیں ہو رہا۔۔۔تو خانم الٹتی پتھلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ بولی۔میری جان روکا کس نے ہے جو جی میں آئے کرو۔۔۔
لگاتار گھسے مارنے کی وجہ سے کمرے میں دھپ دھپ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔بیڈ کی بھی چر چر سنائی دے رہی تھی۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی گئی۔۔میرے ہر گھسے پر خانم یوں اچھلتی جیسے نیچے سے سپرنگ اچھال رہے ہوں۔۔۔دونوں ہی مزے میں بے خود ہو رہے تھے۔۔۔میرا کنٹرول خود پر سے کھونے لگا۔۔۔میں نے اپنی رفتار بڑھا دی۔۔۔اور دو چار گھسوں کے بعد میں نے اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پوری جان سے گھسہ مرتے ہوئے جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔میرے لن سے منی کا اخراج اتنی شدت سے ہوا کہ جیسے ہی منی کی دھار خانم کی پھدی میں گری وہ بھی کانپتے ہوئے جھڑنے لگی۔۔۔اور میں خانم کے اوپر ہی گر گیا۔۔۔


پانچ منٹ ایسے ہی پڑے رہنے کے بعد خانم کسمسائی اور میں اس کے اوپر سے سائیڈ پر ہو گیا۔۔۔میرا لن اب جو کہ فارغ ہونے کے بعد چھوٹی سی للی میں تبدیل ہو چکا تھا۔۔۔ہم دونوں کے مکس پانی سے لتھڑا ہوا تھا۔۔۔
خانم نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور سہلاتے ہوئے بولی شہزادے ایک بات تو بتاؤ۔۔۔میں نے کہا پوچھو خانم کیا پوچھنا ہے تو خانم بولی وہ نیچے تم نے نازنین کا ہاتھ کیا سوچ کر تھاما تھا۔۔۔تو میں نے کہا کہ یار گانڈ تو آج تک ماری نہیں بس نازنین کے ممے کافی بڑے اور اٹریکٹو تھے۔۔۔اور چوپے کا سن کر تو میرے رگ پھڑک اٹھی تھی۔۔۔خانم بولی رک شہزادے ابھی کچھ کرتی ہوں۔اس سے پہلے میں کچھ کہتا خانم نے پاس پڑے انٹرکام کا رسیور اٹھایا اور بٹن دبا کر تحکمانہ لہجے میں بولی۔۔۔نازنین کو ریڈی کر کے بھیجو دو منٹ میں۔۔۔اور رسیور کریڈل پر رکھ کر خانم نے واپس میری طرف منہ کر لیا اور بولی شہزادے تمہاری چوائس ابھی آ رہی ہے جو چاہے کرنا۔۔۔
میرے دل میں خوشیوں کے جوار بھاٹا پھوٹ رہے تھے۔۔۔چپڑی ہوئیں اور دو دو۔۔۔

آنے والے لمحات کے بارے میں سوچتے ہی میرے لن میں ہلکا سا ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔ٹھیک تین منٹ بعد دروازہ ایک بار پھر کھلا اور نازنین اندر داخل ہوئی اور میں اس کو دیکھ کر ایک دم حیران ہو گیا۔۔۔کیونکہ وہ بلکل ننگی تھی۔۔۔اس نے لانگ شوز پہنے ہوئے تھے سر پر پی کیپ تھی۔۔۔ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے۔۔۔ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی۔۔۔بڑے بڑے ممے۔۔۔یہ بڑے ممے تو شاید ان گشتیوں کو وراثت میں ملتے ہیں۔۔۔مموں کے اوپر صاف شفاف نپلز۔۔۔میں سوچ رہا تھا شاید اتنی صفائی میک اپ کا کمال ہے۔۔۔نازنین سیدھا چلتی ہوئی خانم کے پاس آئی اور کھڑی ہو کر بولی میڈم حکم کریں۔۔۔
خانم والہانہ انداز میں بولی شہزادہ تمہارا تمنائی ہے۔۔۔نازنین نے اپنا سر جھکایا اور صرف اتنا بولی۔۔۔اوکے میڈم۔۔۔اس کے بعد نازنین نے کمرے میں آنے کے بعد پہلی دفعہ میری طرف دیکھا اور دو قدم بڑھا کر میرے پاس آئی اور بیڈ پر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئی۔۔۔میرے لن جس پر لگی ہوئی منی اب سوکھ رہی تھی کو پکڑا اور میری طرف دیکھتے ہوئے تھوڑا مسکرائی اور میرے لن کو پکڑ کر سہلاتی رہی۔۔۔پھر اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور لن کی ٹوپی اپنے منہ میں گھسا لی۔۔۔افففففف کیا ہاٹ اور گیلا منہ تھا نازنین کا۔میرے منہ سے ایک سسکی سی نکل گئی۔۔۔نازنین نے میری طرف دیکھا اور لن کو آہستہ سے منہ میں پورا گھسا لیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔۔۔اچانک میں نے دونوں ہاتھوں سے نازنین کے سر کو تھام کر اسے روک دیا تو اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا تو میں نے کہا یار مجھے بئیر کی طلب ہو رہی ہے۔۔۔


خانم کی کڑک دار آواز ابھری ناز۔اور نازنین اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑی جیسے ہی وہ مڑی میری اس کی گانڈ دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔اس کی گانڈ میں کچھ پھنسا ہوا تھا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا خانم جو کہ سگریٹ سلگا کر میری نظروں کا تعاقب کر رہی تھی بول پڑی شہزادے میں نے نیچے بتایا تھا نا کہ یہ لڑکی گانڈ مروانے کی بہت شوقین ہے اور ابھی انٹرکام پر میں نے اسے تیاری کا بولا تھا تو مقصد یہی تھا۔۔۔یہ ایک اینل ٹوائے ہوتا ہے۔۔۔جس کو جیل لگا کر اس نے اپنی گانڈ میں لیا ہوا ہے۔۔۔جیل کیوجہ سے گانڈ نرم اور ٹوائے کی وجہ سے گانڈ کھلی رہے گی۔۔۔مطلب ہر وقت گانڈ مروانے کیلئے بلکل ریڈی رہتی ہے یہ نازنین۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے پاس آ کر سلگتا ہوا سگریٹ میرے ہاتھ میں پکڑایا اور خود میری سائیڈ پر الٹی لیٹ کر میرا ادھ کھڑا لن منہ میں لے کر چوسنے لگی۔۔۔

میں نے مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔اس وقت میں خود کو راجہ اِندر سمجھ رہا تھا۔۔۔آخر پہلی دفعہ پھدی ملی وہ بھی چھپڑ پھاڑ کر ملی۔۔۔زندگی میں صرف سوچا ہی تھا کہ کبھی پھدی ماروں گا۔۔۔پر ایسے حسین انداز میں یہ میں نے سوچا نہ تھا۔۔۔میں سگریٹ کے کش لگاتا رہا اور خانم میرا لن منہ میں لیے لالی پاپ کی طرح چوستی رہی ٹھیک چار منٹ بعد دروازہ کھلا اور نازنین اندر داخل ہوئی اور دروازہ کھول کر سائیڈ پر ہو گئی۔۔۔پیچھے ٹرالی دھکیلتی ہوئی ایک اور لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔میں پرشوق نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔جب کہ خانم لن چسائی میں مگن رہی اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔۔۔

ٹرالی دھکیل کر لانے والی لڑکی بھی مادر ذات ننگی تھی۔۔۔اس کے ممے بھی بہت خوبصورت اور گول شیپ میں تھے۔۔اس لڑکی نے ٹرالی لا کر بیڈ کی سائیڈ میں روکی اور خود مڑ کر ٹرالی کے نچلے خانے سے دو گلاس نکالے۔۔۔گلاسوں میں آئس کیوبز ڈالنے کے بعد بئیر کے دو کین کھول کر دونوں گلاس لبالب بھر دیے۔۔۔میں پیچھے سے اس کی گانڈ دیکھ رہا تھا۔۔۔گلاس بھرنے کے بعد اس نے خالی کین نچلے خانے میں رکھے اور وہیں سے ڈرائی فروٹ کی ایک پلیٹ اٹھا کر اوپر والے خانے میں رکھ دی اور ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔

نازنین نے خانم کو مصروف دیکھا تو پاس آ کر مؤدبانہ انداز میں آہستہ سے بولی میڈم۔۔۔خانم نے اس کی آواز سنی تو میرا لن منہ میں لیے ہوئے گھوم کر اپنی پیٹھ نازنین کی طرف کر دی۔۔۔نازنین اس کا اشارہ سمجھ گئی اور وہیں پر پاس پڑی ہوئی ایک کرسی کھینچ لائی اور خانم کے پیچھے رکھ کر اس پر بیٹھتے ہوئے دوسری لڑکی کو جانے کا اشارہ کیا تو وہ چپ چاپ باہر نکل گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد نازنین نے میری طرف دیکھا اور منت بھرے انداز میں اپنا انگوٹھا منہ میں لے کر چوسنے کا اشارہ کیا اور اپنا منہ جھکا کر خود خانم کی پھدی چاٹنے لگی۔۔۔
پہلے تو میں سمجھ نہیں پایا کہ نازنین نے کیا اشارہ کیا ہے۔۔پھر اچانک جیسے میرا دماغ روشن ہوا اور میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔۔۔میں نے آہستگی سے خانم کے منہ پر ہاتھ رکھا تو خانم نے میرا لن منہ سے نکال کر مخمور نگاہوں سے میری طرف دیکھا تو میں بولا خانم نازنین آ گئی ہے اب اسے میرے پاس آنے دو نا۔۔۔خانم تھوڑا ہلی تو نازنین پیچھے سے اٹھ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔خانم نے اٹھ کر ایک گلاس بئیر کا اٹھایا اور مجھے پکڑا کر دوسرا گلاس خود پکڑ لیا اور سِپ لیتی ہوئی انٹرکام کا رسیور اٹھا کر بٹن دبا کر بولی۔راحت کو بھیجو۔انٹرکام کا رسیور واپس کریڈل پر رکھ کر خانم سامنے صوفے پر بیٹھ کر بئیر کے سِپ لینے لگی۔اور نازنین کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔نازنین آگے بڑھ کر بیڈ پر چڑھ آئی تو میں نے بئیر کا ایک گھونٹ بھر کا گلاس اسے تھما دیا۔۔۔اس نے گلاس پکڑ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور میری طرف دیکھنے لگی تو میں نے اشارے سے اسے پاس بلایا جیسے ہی وہ میرے قریب ہوئی میں نے اپنا دایاں ہاتھ اس کی گردن میں ڈالتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر چپکا دیے۔۔۔وہ بڑی شدت سے میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔بئیر کا گھونٹ بدستور میرے منہ میں موجود تھا جو کہ میں نے آہستہ آہستہ اس کو اپنے منہ سے ہی پلا دیا جسے وہ اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔

 

کچھ دیر کسنگ کے بعد نازنین میری گردن چاٹنے لگی۔۔۔کبھی دائیں کبھی بائیں۔۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور وہی ٹرالی والی لڑکی اندر داخل ہوئی۔۔۔خانم نے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔راحت چند قدم بڑھ کر آگے ہوئی تو خانم نے اپنی ٹانگیں دائیں بائیں کھول دیں۔۔۔یہ دیکھ کر راحت گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی اور اپنا منہ نیچے جھکا کر خانم کی پھدی چاٹنے لگی۔۔۔خانم نے بئیر کا گلاس نیچے قالین پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے راحت کا سر پکڑ کر اپنی پھدی پر دبانے لگی۔۔۔

میں تو جیسے مزے سے سرشار تھا۔۔۔تین ننگی لڑکیاں میرے سامنے موجود تھیں ایک مجھے مزہ دے رہی تھی اور دو آپس میں سیکس کر رہی تھیں مگر ان کا مزہ بھی مجھے ہی آ رہا تھا۔۔۔نازنین میرا بدن چاٹتی ہوئی نیچے جاتی گئی اور لن کے پاس پہنچ کر اس نے لن کو منہ میں لیا اور آہستہ سے اپنی گانڈ میری طرف گھما دی۔۔۔اب میں نے غور سے دیکھا تو واقعی خانم کی بات سچ تھی۔۔۔نازنین کے گانڈ میں ایک سیکس ٹوائے تھا۔۔۔نازنین جھک کر بہت پیار سے میرے لن پر اپنی زبان گھما رہی تھی۔پھر اس نے لن کی شافٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کر دی۔اب میرا لن اس کے چوپوں اور تھوک کی وجہ سے چمک رہا تھا اور نازنین کی آنکھوں میں میرے لن کیلئے پیار بڑھتا ہی جا رہا تھا۔پھر اس نے میرے لن کی ٹوپی منہ میں لیکر چوسنا شروع کی۔وہ تھوڑی دیر تک بہت پیار سے ٹوپی کو چوستی رہی۔پھر لن کو منہ سے نکال کر میرے ٹٹے چاٹنے لگی ساتھ ساتھ وہ ہلکے ہاتھ سے میرا لن بھی سہلاتی جارہی تھی اور میں اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔نازنین کے چوپے اور چاٹے وہ مزہ دے رہے تھے کہ بیان سے باہر ہے۔۔میرا لن اب فل اکڑ چکا تھا۔۔۔میں نے آہستہ سے ناز کی گانڈ میں موجود ٹوائے کو پکڑا اور ہلانے لگا۔یہ محسوس کر کے نازنین نے اپنی گانڈ تھوڑی ڈھیلی کر دی۔۔۔میں نے تھوڑا سا زور لگا کر کھینچا تو ٹوائے باہر نکل آیا۔۔۔اس کی گانڈ کا سوراخ کافی کھلا تھا اور اندر کی لالی باہر تک جھلک رہی تھی۔۔۔

میں نے اسے پیچھے ہٹایا اور تھوڑا ہٹ کر اپنے ساتھ ہی کھینچتے ہوئے بیڈ پر لٹا لیا۔۔۔وہ جیسے میرا لن لینے کیلئے تڑپ رہی تھی اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور میرے لن کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔۔میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر آہستہ سے اس کی ٹانگیں کھولیں اور اس کے تھوک سے اپنا گیلا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو لن اندر چلا گیا۔۔۔میں دباؤ ڈالتا گیا چند سیکنڈ میں ہی پورا لن اندر تھا۔۔۔میں نے وہیں پر رہتے ہوئے لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی پھدی اندر سے پوری طرح گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا لن با آسانی اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔میں نے گھسے مارتے ہوئے نیچے ہو کر اس کے مموں کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔مجھے خوشگوار حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔۔۔اس کے نپلز کا ذائقہ میٹھا میٹھا سا محسوس ہوا تھا۔۔۔میں نے حیرت سے نازنین کو پوچھا کہ یہ میٹھا میٹھا کیوں ہے۔۔۔نازنین سے پہلے خانم کی آواز آئی شہزادے یہاں کی ہر لڑکی صاف ستھری اور آلائش سے پاک ملے گی اور یہ مختلف قسم کی جیلی اور خوشنما ذائقہ دار کریم سے اپنے مموں پر اچھی طرح مساج کرتی ہیں۔۔۔اور میں سر ہلاتے ہوئے واپس اپنا منہ جھکا کر نپل چوستے ہوئے گھسے مارنے لگا۔۔۔میں ہر جھٹکے پر لن باہر نکالتا اور پھر کافی طاقت سے گھسہ مارتا اور لن پچک کی آواز کے ساتھ پھدی میں غروب ہو جاتا۔۔۔اس طریقے سے گھسے مارنے سے نازنین کو بھی مزہ آنے لگا۔۔۔میں نے اپنی سپیڈ تھوڑی اور تیز کر دی اور تیز تیز گھسے مارنے لگا۔۔۔


نازنین کے حلق سے سسکیاں نکلنے لگیں۔۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔آہہہ۔مممم۔اوہ۔۔۔اب اسے بھی فل مزہ آ رہا تھا اسی لیے وہ بیڈ سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرے دھکوں کا جواب دینے لگی۔۔۔تھوڑی دیر ایسے ہی چودنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا اور بیڈ شیٹ سے صاف کیا کیوں کہ لن کافی گیلا ہو چکا تھا۔۔۔اب کب صاف کرنے کے بعد دوبارہ اندر ڈالا تو رگڑ کھا کر جا رہا تھا۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ یہ مزے کی آخری حد ہے اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد میں نے لن باہر نکالا اور نازنین کو الٹا ہو کر گھوڑی بننے کو بولا تو وہ فوراً اٹھ کر گھوڑی بن گئی اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے چوتڑوں پر رکھ کر مخالف سمتوں میں کھینچتے ہوئے اپنی گانڈ کا سوراخ کھول کر دکھانے لگی۔۔۔ساتھ ہی نازنین نے اپنی گردن گھما کر مجھے دیکھا اور اپنے نچلے ہونٹ کا کنارہ اپنے دانتوں میں دبا کر ایک سیکسی سی سمائل دی۔۔۔


کمرے میں خانم کی آوازیں بھی گونج رہی تھیں۔۔۔ہاں راحت اور زور سے ہاں۔ہاں۔۔دانہ چوس۔۔کاٹ اسے اپنے ہونٹوں سے بھنبھوڑ ڈال۔۔۔آہ۔آہہہ۔آہہہ۔یس۔یس۔۔۔افففففف میری جان کمال کر رہی ہو۔۔۔اسی طرح آوازیں نکالتے ہوئے خانم نے میری طرف دیکھا اور مجھے نازنین کی گانڈ کا معائنہ کرتے دیکھ کر وہیں صوفے سے چلائی۔۔۔شہزادے ناز گانڈ مروائے بنا نہیں مانے گی۔۔۔کچھ نہیں ہو گا۔۔۔اور یقین مانو گانڈ کا سواد پھدی سے بھی ذیادہ ہو گا۔۔۔
میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ہوں کہا اور آگے ہو کر اپنا لن نازنین کی پھدی میں ڈالا اور ہلکی رفتار میں گھسے مارنے لگا ساتھ ہی میں نے اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کو تھوک سے تر کیا اور اس کی گانڈ میں گھسا دیں۔۔۔گانڈ میں کچھ جاتا محسوس کر کے جیسے اس کچھ سکون ہوا۔۔۔اور وہ اپنے جسم کے پیچھے دبا دبا کر میرے لن کے ساتھ اپنی پھدی کی تال ملانے لگی۔۔۔جیسے ہی میں آگے کو جھٹکا مارتا۔وہ زور سے اپنی پھدی کو پیچھے کی طرف دباتی اور لن جڑ تک اس کی پھدی میں گھس جاتا۔۔۔میرا لن اب اس کے جی سپاٹ کے ساتھ رگڑ کھا رہا تھا جس سے وہ مزے کی انتہاؤں پہ پہنچ گئی۔۔۔میں نے بھی زور لگا کر دونوں انگلیاں پوری رفتار سے اس کی گانڈ کے اندر باہر کرنا شروع کر دیں۔۔۔انگلیوں سے مجھے اپنا لن اس کی پھدی میں کے اندر بھی فیل ہو رہا تھا۔۔۔

میں اس کی گانڈ میں انگلیاں اندر باہر کرتے ہوئے اسے چود رہا تھا کہ دو منٹ بعد ہی اس کا جسم کانپنا شروع ہو گیا اور اس نے فل جان کے ساتھ پیچھے کو دھکا مارا تو میرا لن اس کی بچہ دانی سے جا ٹکرایا اور وہ لرزتے ہوئے منی چھوڑنے لگی۔۔۔کچھ دیر بعد وہ وہیں پر سکون ہو کر الٹی لیٹ گئی۔۔۔جبکہ میں ابھی تک چھوٹنے کے قریب بھی نہیں پہنچا تھا۔۔۔کیونکہ پہلے ایک دفعہ چھوٹ چکا تھا اس لیے دوسری بار تھوڑا ٹائم لگ رہا تھا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکال کر صاف کیا اور دوبارہ اندر ڈالنے لگا تو نازنین ملتجی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولی پلیز سر اس مرتبہ گانڈ میں ڈالیں اور میری پیاس بجھا دیں۔۔۔میں نے اس کو اٹھا کر واپس گھوڑی بنایا۔۔۔لن پر تھوڑا تھوک لگا کر لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کی اور ایک دھکا مارا تو پک کی آواز کے ساتھ لن کی ٹوپی اندر گھس گئی۔لن کو گانڈ میں محسوس کرتے ہی وہ تھوڑا آگے ہوئی میں سمجھا شاید درد کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اس لیے میں وہیں رک گیا۔۔۔ ابھی رکا ہی تھا کہ نازنین نے تھوڑا آگے ہو کر پوری جان کے ساتھ پیچھے کو دھکا مارا اور اپنے چوتڑ میرے جسم کے ساتھ جوڑ دیے۔۔۔اور میرا پورا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں چلا گیا۔۔۔
نازنین نے ایسے ٹھنڈی سانس لی کہ جیسے اسے ابدی سکون آ گیا ہو۔۔۔اور وہ منہ سے بولی سر ابھی ہلنا نہیں مجھے اس 
کو تھوڑی دیر محسوس کرنے دیں۔۔۔


دوسری طرف راحت مسلسل خانم کی پھدی کو چاٹ رہی تھی۔۔۔خانم ایک کہنی نیچے صوفے پر ٹکائے دوسرے ہاتھ سے اس کے سر کو اپنی پھدی پر دباتے ہوئے کراہ رہی تھی۔۔۔راحت نے اپنی دو انگلیاں خانم کی پھدی میں گھسائی ہوئی تھیں اور ساتھ ساتھ اسی ہاتھ کے انگوٹھے کو خانم کی گانڈ کے سوراخ میں ڈالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔جبکہ خانم کا کلٹ اس کے منہ میں تھا جس کو وہ اپنی زبان سے چاٹ رہی تھی اور ہونٹوں سے چوس رہی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر تک تو خانم کی گانڈ کے سوراخ نے اس کا راستہ روکے رکھا۔پھر آہستہ آہستہ اس نے انگوٹھے کو جگہ دے ہی دی۔۔۔اور راحت کا انگوٹھا خانم کی پیاری سی گانڈ میں داخل ہو گیا۔۔۔اب راحت نے زور زور سے خانم کی پھدی میں انگلیاں اندر باہر کرتے اور انگوٹھا گانڈ میں دباتے ہوئے خانم کا دانہ چوسنا جاری رکھا۔۔۔خانم مزے سے پاگل ہو رہی تھی۔۔۔وہ اس سہ طرفہ مزے کو سہہ نہیں پائی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا لیکن راحت بنا رکے اپنے کام میں جتی رہی۔۔۔خانم نے اپنی پھدی کو زور سے راحت کے منہ پر دبایا تا کہ مزہ دگنا ہو سکے اور ایک دم چیخ مار کر چھوٹ گئی۔۔۔فارغ ہونے کے بعد خانم نے راحت کو اٹھا کر اپنے گلے سے لگایا اور اس کے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔

ادھر نازنین نے اب ہلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔وہ میرا لن اپنی گانڈ میں لیے آہستہ سے آگے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔اس کی گانڈ بہت ہی زیادہ گرم تھی۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ اب میں زیادہ دیر برداشت نہیں کر پاؤں گا۔۔۔اب میں نے پورا لن باہر نکال کر جھٹکے سے اندر ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔میرے ہر جھٹکے پر نازنین کے منہ سے بے اختیار آواز نکلتی آہ۔۔۔۔اففففففففف۔۔ظالم مممم۔۔۔۔زور سے اور زور سے۔۔۔خانم اٹھی اور آ کر بیڈ پر نازنین کے سامنے سیدھی اس انداز میں لیٹ گئی کہ نازنین کے ممے خانم کے منہ پر جھول رہے تھے۔۔۔خانم نے اپنا منہ کھولا اور نازنین کے مموں کے نپلز کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔جبکہ اپنا ہاتھ نازنین کے پیچھے لے جا کر دو انگلیاں نیچے سے اس کی پھدی میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگی۔۔۔


نازنین فل مزے میں تھی گانڈ میں لن۔۔۔پھدی میں انگلیاں۔اور ممے میڈم کے منہ میں۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے کے آس پاس ہی ہوں۔اس لیے میرے گھسوں میں شدت آتی گئی۔۔۔اور نازنین اونچی آواز میں کراہنے لگی۔۔۔میں نے کہا کہ اب میں چھوٹنے والا ہوں اور فل رفتار سے گھسے مارنے لگا۔۔۔یہ سن کر خانم نے بھی اپنی انگلیوں کی رفتار بڑھا دی اور ساتھ ہی انگوٹھے سے نازنین کے کلٹ کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔میں نے تین چار گھسوں کے بعد اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور بدن کی پوری طاقت سے جھٹکا مارتے ہوئے لن کو گانڈ میں جڑ تک اتار کر رک گیا۔۔۔میرے لن سے منی ایک فوارے کی صورت میں نکلی اور نازنین کی گانڈ کو بھرنے لگی۔۔۔گرم گرم منی کی پچکاریاں گانڈ میں محسوس کرتے ہی نازنین کا جسم ایک دفعہ پھر تڑپا اور وہ بھی لرزتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔


ہم دونوں کے چھوٹنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکالا اور وہیں لیٹ گیا۔۔۔تو نازنین اٹھی اور میرے منی سے لتھڑے لن کو منہ میں لے کر اچھی طرح چوس چوس کر صاف کر دیا۔۔۔اور میری گال پر کس کر کے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔شکریہ سر۔۔۔یہ کہہ کر وہ اٹھی اور اپنے شوز پہن کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔اب خانم میرے پاس لیٹی ہوئی تھی جبکہ راحت ٹرالی میں سامان ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔خانم نے پوچھا کیوں شہزادے مزہ آیا گانڈ مار کے۔۔۔تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا بہت ذیادہ خانم۔۔۔یہ تو پھدی سے بھی ذیادہ مزہ دیتی ہے۔۔۔میری بات سن کر خانم مسکرا دی۔۔۔


اچانک مجھے کچھ یاد آیا اور میں نے خانم کو مخاطب کیا۔۔۔خانم آپ تو کہتی تھیں کہ آپ کو کنواراپن پسند ہے لیکن یہ لڑکی۔۔۔۔اتنا کہہ کر میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے چپ کر گیا۔۔۔خانم نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور آواز دی راحت۔۔۔وہ لڑکی فوراً ٹرالی چھوڑ کر پاس آئی اور بولی جی میڈم۔۔۔تو خانم نے کہا یہاں لیٹ جاؤ اور بیڈ کی طرف اشارہ کیا تو راحت فوراً بیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔اپنی ٹانگیں کھول دو۔۔۔خانم کے کہنے پر اس نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر کھول دیں۔۔۔خانم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا اور بولی اب یہاں دیکھو۔۔۔میں نے آگے ہو کر دیکھا تو راحت نے اپنی پھدی کے لبوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے دبا کر کھولا ہوا تھا۔۔۔اندر دو انچ کے فاصلے پر ایک باریک سا پردہ صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔خانم بولی شہزادے اس کو کنوارے پن کا پردہ کہتے ہیں۔۔۔یہ لڑکی ابھی تک سیل پیک ہے اور یہاں صرف میری خدمت پر معمور ہے۔۔۔میں جوش و جذبات میں بھی اپنے ہوش نہیں کھوتی۔۔۔میری پسند ہر لحاظ سے اول ہے۔۔۔اور میں حیرانگی سے خانم کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

خانم نے راحت کو جانے کا اشارہ کیا اور راحت اٹھ کر ٹرالی دھکیلتی ہوئی باہر نکل گئی۔۔۔اس کے جانے کے بعد خانم نے ایک سگریٹ سلگا کر مجھے دیا اور خود دوسرے کے کش لیتی ہوئی میرے پہلو میں بیٹھ گئی۔۔۔چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے آخر میں نے پوچھا خانم ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔تو خانم مسکرا کر بولی میری زندگی میں بہت کم ایسے لوگ آئے ہیں جنہوں نے مجھے ایسے اٹریکٹ کیا ہو جیسے تم دل میں کھب سے گئے ہو۔۔۔جب بھی یہاں آنا ہو میرے دروازے ہر وقت تمہارے لیے کھلے ہیں۔۔۔میں سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔دوستو سچی بات بتاؤں تو پانی نکل جانے کے بعد مجھے اب یہاں سے نکلنے کی جلدی تھی۔گھر پہنچنا تھا اور شادی کی باقی تیاری بھی کرنی تھی۔۔۔

خانم نے مجھے اٹھتے دیکھا تو بولی اب لازمی تمہیں جانا ہو گا۔۔۔تو میں مسکراتے ہوئے بولا خانم جاؤں گا تو دوبارہ آؤں گا نا۔۔۔خانم اٹھ کر کھڑی ہوئی مجھے سینے سے لگایا اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولی۔۔۔بلکل جب تمہارا دل چاہے آ جانا اور کسی بھی فارمیلٹی کی ضرورت نہیں ہے بس آنے سے پہلے کال کر دینا۔۔۔رکو میں اپنا فون نمبر تمہیں دیتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے سائیڈ الماری سے ایک خوبصورت سا کاپی پیڈ نکالا اور اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھے دے دیا۔۔۔میں وہاں سے نکلنے لگا تو خانم مجھے تاکید کرتے ہوئے بولی باقی جو مرضی آفتاب کو بتانا لیکن میرا قصہ گول کر جانا۔۔۔مجھے پتہ ہے تم لڑکوں کا حرامی پن۔۔۔لڑکی چودنے کے بعد بڑے مزے لے لے کر ایک دوسرے کو قصے سناتے ہو۔۔۔میں دھیمی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہاں سے باہر نکلا اور سیدھا سیڑھیاں اتر کر نیچے گیسٹ روم میں پہنچ گیا۔۔۔آفتاب وہیں موجود تھا مجھے دیکھتے ہی بولا۔۔۔ہاں جانی کجھ تسلی ہوئی کہ نہیں۔۔۔اور میں جھینپتے ہوئے بولا چل بھائی اب اٹھ جا بہت دیر ہو چکی ہے اب نکل چل۔اور میری بات سن کر آفتاب مسکراتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔چند منٹ بعد ہم واپس گھر کے طرف رواں دواں تھے۔۔۔راستے میں آفتاب کے استفسار پر میں نے اسے صرف نازنین کے ساتھ ہوئے سیکس کی کہانی سنا دی اور خانم کو سرے سے ہی گول کر گیا۔۔۔اگلے چند منٹ بعد ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر جا کر ٹائم دیکھا تو شام کے چھ بج رہے تھے۔میں سیدھا واش روم میں گھس گیا اور نہا دھو کر فریش ہو گیا۔۔۔


اسی طرح میرے بعد آفتاب بھی نہا کر فریش ہو گیا اور ہم لوگ گھر والوں کے ساتھ مل کر مہندی کے فنکشن کی تیاری کرنے لگے۔۔۔اسے طرح آگے پیچھے ہوتے ہوئے دو گھنٹے اور گزر گئے اور مہمانوں کیلئے رات کا کھانا کھلانے کے انتظامات شروع ہو گئے۔۔۔ٹھیک نو بجے رات کا کھانا شروع کیا اور تمام مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہوئے دس بج گئے۔۔۔چونکہ میں گھر کا ہی آدمی تھا تو تمام انتظامی امور میں آفتاب کے ساتھ پیش پیش تھا۔۔۔مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد ہم نے خود بھی کھانا کھایا۔۔۔ٹھیک گیارہ بجے مہندی کا فنکشن شروع ہو گیا۔۔۔جب سب کاموں سے فارغ ہو گئے تو میری بے چین نگاہیں مومو کو تلاشنے لگیں۔۔۔پر وہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔۔۔مہندی کے فنکشن کا انتظام ساتھ ہی قریبی پارک میں کیا گیا تھا۔۔۔ابھی فنکشن شروع ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مومو کی آمد ہوئی۔وہ اپنی والدہ اور والد کے ساتھ آئی تھی۔۔۔اس کے والد کافی متناسب جسم کے مالک تھے جبکہ والدہ کافی صحت مند اور فربہ مائل جسامت کی حامل تھیں۔۔۔یہاں مجھے پتہ چلا کہ میرے والدین اور مومو کے والدین آپس میں شناسائی رکھتے ہیں۔۔۔مجھے یہ بات جان کر بھی انتہائی مسرت ہوئی۔۔۔بہرحال مہندی کی رسم بخیرو عافیت اپنے انجام کو پہنچی اور فنکشن ختم ہونے کے بعد سب لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف چل دیے۔۔۔


ساری رات میں مومو سے صرف دو منٹ ہی بات کر پایا۔۔۔اور ان دو منٹوں میں یہ بات پتہ چلی۔۔۔بارات چونکہ پنڈی سے لاہور روانہ ہونی تھی تو مومو نے بتایا کہ وہ بھی ساتھ جا رہی ہے۔۔۔میری خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔اگلا سارا دن ریسٹ کا تھا۔۔۔آفتاب اور میں اس کے روم میں ہی سو گئے۔۔۔میں تو صبح دس بجے اٹھ گیا لیکن آفتاب چونکہ میرے سونے کے بعد بھی کافی دیر جاگتا رہا تو وہ ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔ناشتہ کرنے کے بعد میں منہ اٹھائے ادھر ادھر گھومتا رہا۔۔۔اچانک دل میں آئی کیوں نہ خانم کو کال کی جائے تو میں باہر پی سی او ڈھونڈے نکل کھڑا ہوا۔۔۔

(ان دنوں میرے موبائل کافی مہنگے ہوتے تھے تو میرے پاس موبائل نہیں تھا)

قریبی بازار میں ایک شاپ پر موجود پی سی او سے میں نے خانم کا دیا ہوا نمبر ملایا تو آگے سے نازنین نے ہی کال اٹینڈ کی۔۔۔میرے بارے میں جان کر وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ہیلو سر یقین کریں میں ابھی آپ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی۔۔۔کیسے مزاج ہیں۔۔۔میں نے حال احوال بتانے کے بعد خانم کا پوچھا تو وہ کہنے لگی ابھی لیجیے۔صرف ایک منٹ انتظار کریں خانم سے بات کرواتی ہوں۔۔۔خانم سے بات ہوئی تو میں نے بتایا کہ ملنے کو دل کر رہا ہے تو خانم بولی شہزادے میں نے کل ہی کہا تھا کہ میرے دروازے ہر وقت تمہارے لیے کھلے ہیں۔۔۔میں موجود ہوں یا نہیں تم کبھی بھی آ سکتے ہو۔لڑکیاں ہمیشہ تمہیں ویلکم کہیں گی۔۔۔اور ہر قسم کا خوف دل سے نکال کر آیا کرو یہ بہت اونچی گیم ہے یہاں کوئی بھی تمہارا بال بانکا نہیں کر پائے گا۔۔۔میں نے ہچکچاتے ہوئے خانم سے پوچھا وہ خانم میں پہلے کبھی بھی ایسی جگہ پر نہیں گیا۔۔۔آج بھی آفتاب کو بتائے بنا آؤں گا تو مجھے ان جگہوں کے آداب وشرائط بلکل بھی معلوم نہیں۔۔۔خانم میری بات سمجھ گئی کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں تو وہ ہنستے ہوئے بولی شہزادے تم دل کو اتنا پسند آئے ہو کہ تمہارے لیے کوئی فیس نہیں اور ویسے بھی مہمان ہو اور دل کے قریب ہو تو بس آ جایا کرو پیسوں کی فکر مت کرو۔۔۔جو جی میں آئے لڑکیوں کو دے دیا کرو اگر نہیں بھی دو گے تو چلے گا۔۔۔
میں خوشی سے لبریز ہو گیا۔۔۔پھر میں نے خانم سے پوچھا کہ خانم مجھے آپ کا ایڈریس نہیں معلوم تو خانم نے مجھے اپنا ایڈریس لکھوا دیا اور میں اختتامی جملے کہہ کر کال بند کر کے باہر نکل آیا۔۔۔باہر آ کر میں نے ایک ٹیکسی کو روکا اور اسے ایڈریس بتایا تو ٹیکسی چل پڑی اور میں سگریٹ سلگا کر آنے والے لمحات کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔


صبح کے ٹائم سڑکوں پر اتنا رش نہیں تھا تو بیس منٹ بعد میں خانم کی کوٹھی میں داخل ہو رہا تھا۔۔۔ٹیکسی والے کو میں اسی گلی کے کارنر پر فارغ کر چکا تھا تو پیدل ہی کوٹھی کے اندر چلا آیا۔۔۔گیٹ کیپر نے مجھے دیکھ کر گیٹ کھولا اور میں اندر چلا گیا۔۔۔نازنین نے ہی مجھے ویلکم کیا۔۔۔ایک ٹھنڈی بئیر کے ساتھ میری تواضع کرنے کے بعد نازنین مجھے سیدھا اوپر ایک کمرے میں لے گئی۔۔۔یہ کل والا کمرہ نہیں تھا بلکہ یہ اس سے بھی خوبصورت اور سجا سجایا روم تھا۔۔۔میں پرشوق نگاہوں سے کمرے کا جائزہ لینے لگا۔۔۔چاروں طرف دیواروں پر عریاں تصاویر چسپاں تھیں۔۔۔کہیں کوئی نوعمر ننگی لڑکی کا پورٹریٹ تھا تو کہیں نو عمر لڑکوں کے پورٹریٹ آویزاں تھے۔۔۔


نازنین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے سیدھا لےجا کر بیڈ پر بٹھا دیا۔۔۔اپنے ہاتھوں سے میرے جوتے اتارے اور اٹھ کر میرے گلے لگتے ہوئے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر ایک لمبی کس کی۔۔۔اسی وقت اٹیچ واش روم روم میں سے کھٹکے کی آواز سنائی دی تو نازنین ہڑبڑا کر مجھ سے الگ ہوئی اور ملتجیانہ انداز میں سرگوشی کی میڈم اندر واش روم میں ہیں۔۔۔آپ پلیز میری اس حرکت کے بارے میں ان سے بات مت کرنا اور یہ کہہ کر پیچھے ہٹ کر ایک سائیڈ پر کھڑی ہو گئی۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔دو منٹ بعد واش روم کا دروازہ کھلا اور خانم تولیے میں لپٹی ہوئے گیلے بدن کے ساتھ برآمد ہوئی۔۔۔مجھے دیکھتے ہی خانم نے نازنین کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور تیر کی طرح میری طرف آئی اور مجھے لیتے ہوئے بیڈ پر گر گئی۔۔۔خانم کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں پیوست ہو گئے اور وہ وارفتگی سے میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔نازنین کمرے سے جا چکی تھی۔۔۔کچھ دیر یونہی کسنگ کرنے کے بعد خانم مجھ سے علیحدہ ہو گئی۔۔۔کسنگ کے دوران ہی خانم کا تولیہ کھل چکا تھا لیکن خانم اس کی پرواہ کیے بنا ننگی اٹھی اور جا کر ڈریسنگ ٹیبل کا دراز کھول کر اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔۔۔وہاں سے خانم نے ایک پیکٹ نکالا اور لا کر اسے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔میں نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خانم کو پیچھے سے جھکڑا اور کھینچ کے بیڈ پر لے آیا۔۔۔بیڈ پر لٹا کر میں نے خانم کے مموں پر حملہ کیا اور اس کے نپلز کو باری باری منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ میں اس کی نرم سیکسی گانڈ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔کچھ دیر اس کے ممے چوسنے کے بعد میں اوپر ہوا اور اس کے اوپر لیٹ کر اسے کسنگ کرنا شروع کر دی۔۔۔اب ہونٹوں کے علاوہ میں اس کے گالوں پہ۔آنکھوں پہ۔اور گردن پہ پاگلوں کی طرح اپنی زبان پھیر رہا تھا۔۔۔اور وہ بھی مزے کی شدت سے مدہوش ہو رہی تھی۔۔۔اسی دوران خانم نے مجھے دھکیلتے ہوئے پیچھے ہٹایا اور سائیڈ پر دھکا دے کر بیڈ پر گراتے ہوئے خود میرے اوپر آ گئی۔۔۔بلکل میری ہی طرح پاگلوں کے سے انداز میں خانم نے میرے ہونٹوں۔۔۔گالوں۔۔۔کانوں کی لو۔۔۔گردن پہ چوما اور چاٹا۔۔۔اس کے بعد خانم نے مجھے سیدھا لیٹنے کو کہا۔میرے سیدھے لیٹنے پر خانم نے میری پینٹ کی زپ کو کھولا اور دونوں سائیڈوں سے تھام کر نیچے کھینچنا شروع کیا۔۔۔میں نے نیچے سے انڈر وئیر نہیں پہنا ہوا تھا۔۔۔


جیسے ہی اس نے میری پینٹ نیچے کی۔میرا لن کسی سانپ 🐍 کی طرح پھنکارتا ہوا باہر نکل آیا۔۔۔خانم میرے لن کو ایسے پیار سے دیکھ رہی تھی کہ جیسے کھا ہی جائے گی۔۔۔جب وہ کافی دیر تک ایسے ہی دیکھتی رہی تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔کیا ہوا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو خانم۔۔۔وہ پہلے تو مسکرائی اور پھر کہنے لگی کہ کتنا پیارا لن ہے تمہارا۔دیکھ دیکھ کر جی نہیں بھر رہا۔۔۔دیکھو کیسے سیدھا کھڑا ہے۔اوپر سے اس کی اتنی پیاری ٹوپی۔دل کرتا ہے کہ منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوستی جاؤں۔۔۔میں نے کہا جانم چوسو نا۔منع کس نے کیا ہے۔۔۔
یہ سن کر اس نے اپنا منہ کھولا اور بڑے پیار سے میرے لن کی شافٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی۔پھر اس نے پوری ٹوپی پر اپنی زبان گول گول گھمائی۔۔۔اب میرا لن خانم کے چاٹوں کیوجہ سے چمک رہا تھا۔۔۔جسے دیکھ کر خانم کی آنکھوں میں نشہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔اس طرح وہ پورے لن پر زبان پھیرتی ہوئی نیچے تک گئی اور میرے ٹٹے چاٹنے شروع کر دیے ساتھ ساتھ اس نے ہلکے ہاتھ سے میری مٹھ مارنی شروع کر دی۔۔۔اب میرا لن فل جوش میں آکر کر جھٹکے مار رہا تھا۔خانم نے ایک دم میرا لن منہ میں لے لیا اور ٹوپی چوستے ہوئے باقی لن کو ہاتھ سے سہلاتی رہی۔۔۔ایک منٹ تک چوسنے کے بعد خانم اٹھ کر بیٹھ گئی اور سائیڈ ٹیبل پر پڑے ہوئے پیکٹ کو کھولنے لگی۔۔۔اتنی دیر تک میں نے فٹا فٹ اپنے سارے کپڑے اتار دیے اور چِت لیٹ گیا۔۔۔خانم میری طرف واپس مڑی تو اس کے ہاتھوں میں ہینڈ کف کا ایک جوڑا لٹک رہا تھا۔۔۔میں نے حیرانی سے پوچھا کہ خانم یہ کیا ہے تو وہ بولی کہ اس ہتھکڑی سے میں تمہارے ہاتھ دونوں سائیڈوں پر بیڈ کے ساتھ کلپ کر دوں گی۔۔۔آج تم کچھ نہیں کرو گے جو بھی کرنا ہے میں کروں گی۔۔۔یہ کہہ کر خانم نے میرے دونوں ہاتھوں پر ہتھکڑیاں باندھیں اور دونوں ہاتھوں کو میرے سر کی طرف بیڈ کے کراؤن کے ساتھ مخالف سمتوں میں کھول کر بیڈ کنارے لگے ہوئے کنڈوں کے ساتھ کلپ کر دیا۔۔۔میرے بازو دونوں سائیڈوں پر بندھے ہوئے تھے پر اتنی لچک ضرور تھی کہ بازوؤں میں درد بلکل نہیں تھا۔۔۔مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی۔۔۔لیکن پھر جیسے ہی خانم نے بھوکی بلی کی طرح میرے لن کو منہ میں لیا میں تشویش بھول کر مزے کی انتہاؤں کو چھونے لگا۔۔۔
دو منٹ تک میرا لن چوسنے کے بعد خانم اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑی اور دروازے کے پاس پہنچ کر بولی میں ابھی آئی۔۔۔تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔

اتنا کہہ کر اس نے دروازہ پورا کھول دیا۔۔۔۔

دروازے پر کسی کو کھڑے دیکھ کر میری آنکھیں اتنی شدت سے پھٹیں کہ مجھے لگا اپنے حلقوں سے باہر آ جائیں گی۔۔۔

کیونکہ۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔

دروازے پر پنجاب کی ایک طاقتور سیاسی جماعت کا مشہور ممبر ننگا کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس کا قریباً ساڑھے چھ انچ لمبا اور اور موٹا تازہ لن کھڑا ہوا میں جھول رہا تھا۔۔۔میں نے ایک جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی۔اور میرے بازوؤں کو ایسا جھٹکا لگا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میرے بازو کندھوں سے اکھڑ جائیں گے۔۔۔میں کراہ کر رہ گیا۔۔۔میں نے ہکلاتے ہوئے خانم سے کہا۔۔۔
یہ۔
یہ۔
یہ کیا ہے خانم۔
یہ ایسے ننگے اندر کیوں آ رہے ہیں۔۔۔


خانم بولی۔شہزادے میری بات سنو۔۔۔یہ میرے بہت بڑے کرم فرما ہیں اور یہ کوٹھی خانہ بھی ان کے مرہونِ منت چل رہا ہے۔۔۔میرے اور ان کے درمیان ایک مماثلت بھی پائی جاتی ہے۔۔۔میں کنواروں سے چدنے کی شوقین ہوں تو یہ کنواروں کی گانڈ کو چودنے کے شوقین ہیں۔۔۔اب اگر آرام سکون سے مان جاؤ گے تو زیادہ درد برداشت نہیں کرنا پڑے گا لیکن اگر زیادہ اچھل کود کی تو تمہیں بہت ذیادہ درد ہو گا لیکن تیری گانڈ ہر صورت بجے گی۔۔۔


خانم کی بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔۔۔لیکن خانم۔۔ابھی بات میرے منہ میں ہی تھی کہ ایک زناٹے دار تھپڑ میرے منہ پر پڑا۔۔۔تھپڑ آنے والے نے مارا تھا۔۔۔میں یہاں اس شخصیت کے اصل نام کی بجائے حارث کے نام سے پکاروں گا۔۔۔

حارث نے میرے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور ساتھ ہی غرا کر بولا میری بات کان کھول کر سن لونڈے۔چپ چاپ پڑے رہو اب اگر زیادہ ہیچر میچر کی تو گانڈ میں گن ڈال کر پوری گن خالی کر دوں گا۔۔۔اور میں بے بسی کی شدت سے رونے لگا۔۔۔ابے چپ۔۔۔حارث کی دھاڑ سنائی دی تو میں سہم کر چپ کر گیا۔۔۔یہ دیکھ کر خانم بولی سر آپ مجھے دو منٹ دیں میں ابھی اس کو تیار کرتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر خانم میری طرف متوجہ ہو کر بولی۔۔۔سمیر کیوں اپنی جان پر ظلم کرتے ہو۔۔۔تھوڑا کو آپریٹ کرو۔تھوڑا برداشت کرو۔دس منٹ کی بات ہے اور پھر میں ہوں نا یہاں تمہیں مزے دینے کیلئے۔۔۔چلو شاباش اب اپنا موڈ ٹھیک کرو۔۔۔میں چپ کر گیا۔مگر دل میں اسے گالیاں دے رہا تھا کہ گشتی ماں کی بچی توں تو گانڈ مروانے کی عادی ہے تیرا کیا جائے گا پر مجھے اپنی گانڈ پھٹتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے۔۔۔ساتھ ہی میں اس وقت کو کوسنے لگا جب میں آفتاب کو بتائے بغیر یہاں آیا تھا۔۔۔
حارث نے آگے ہو کر اپنا لن خانم کی طرف کیا تو خانم فٹا فٹ اس کے قدموں میں بیٹھ کر اس کا لن چوسنے لگی۔۔۔چند منٹ تک اس کا لن چوسنے کے بعد خانم نے الماری سے آئل کی ایک شیشی اٹھا کر اسے دی اور خود میرے سینے پر چڑھ کر اس انداز میں بیٹھ گئی کہ خانم کا رخ میرے پاؤں کی طرف تھا اور میری دونوں ٹانگیں خانم نے اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیکر تھوڑا کھول دیں۔۔۔حارث نے اپنی ایک انگلی تیل میں اچھی طرح بھگو کر میری گانڈ کے سوراخ میں داخل کی اور اس کو اندر باہر کرتے ہوئے وہیں گھمانے لگا۔۔۔فلحال تو مجھے کسی قسم کا کوئی درد نہیں ہو رہا تھا۔لیکن آنے والے لمحات میرے لیے بہت دردناک ثابت ہونے والے تھے پر کیا کر سکتا تھا۔اب جو بھی تھا جھیلنا پڑے گا۔۔۔حارث نے اب میری گانڈ میں دو انگلیاں ڈال دیں تھیں اور انہیں گول گول گھما رہا تھا۔۔۔مجھے ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ میری گانڈ کا سوراخ چوڑا کر رہا ہے۔۔۔پھر اس نے کافی سارا تیل میری گانڈ پر گرا دیا اور تھوڑا سا تیل انگلی کی مدد سے میری گانڈ میں بھی ڈال دیا۔۔۔باقی ہاتھ پر لگا ہوا تیل اس نے اپنے لن پر مل لیا۔۔۔
پھر اس نے خانم کو کہا اس کی ٹانگیں اوپر اٹھاؤ تو خانم نے جان لگا کر میری دونوں ٹانگیں اوپر اٹھا دیں۔۔۔میرا جسم ڈر اور درد کی شدت سے کانپنے لگا پر حارث نے بنا رکے اور کچھ کہے اپنے لن کا ٹوپہ میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دباؤ ڈالا تو پچک کہ آواز کے ساتھ ہی ٹوپہ میری گانڈ میں گھس گیا۔۔۔میرے منہ سے درد کے مارے ایک دھاڑ نما چیخ نکلی اور کمرے میں گونج گئی۔۔۔میری چیخ سن کر حارث اونچی آواز میں ہنستے ہوئے بولا ہاں ہاں لونڈے چیخو اور زور سے چیخو۔۔جتنا چیخو گے مجھے اتنا مزہ آئے گا۔۔۔


درد ناقابلِ برداشت تھا۔۔۔میں نے اپنی ٹانگیں چھڑانے کی بہت کوشش کی پر میری ہر کوشش رائیگاں گئی۔۔۔خانم نے مجھے زور سے پکڑا ہوا تھا اور بول رہی تھی۔بس۔بس۔صبر۔صبر۔ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔میں درد سے مرا جا رہا تھا۔۔۔لگ رہا تھا کہ جیسے گانڈ پھٹ گئی ہے۔۔۔میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور میں سوچنے لگا کہ کس مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔۔۔پھر حارث نے تھوڑا سا لن اور اندر گھسایا۔میری اور چیخیں نکلنے لگیں اور میں بے اختیار کہہ اٹھا بس پلیز اور اندر مت کرو۔۔۔یہیں کر لو جو کرنا ہے۔۔۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ کسی نے موٹا تازہ ڈنڈا میری گانڈ میں دے دیا ہو۔۔۔پتہ نہیں یہ گشتیاں کیسے اتنے موٹے موٹے لن اپنی گانڈ میں آسانی سے لے لیتی ہیں۔میری تو گانڈ پھٹ رہی ہے۔میں چیختا چلاتا رہا پر میری وہاں کون سنتا۔۔۔دو منٹ میں ہی سارا لن اندر جا چکا تھا۔۔۔میں پسینے سے شرابور ہو گیا۔۔۔درد تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔خانم نے اپنی گانڈ پیچھے کی اور پھدی عین میرے منہ پر لا کے نیچے جھکتے ہوئے میرے لن کو اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔لن کہاں اب تو مادر چود للی تھی۔۔۔حارث نے دو منٹ تک انتظار کیا اتنی دیر میں خانم کے چوپوں نے میرے درد کی شدت میں تھوڑی کمی کر دی۔۔۔۔
حارث نے کہا دوست تمہاری گانڈ تو بہت ٹائٹ ہے۔۔۔تمہارا کنوارا پن ختم کرنے کا مزہ آ گیا۔۔۔اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔بس تھوڑا اور برداشت کرو آج سے میری تمہاری دوستی پکی۔۔۔اور یقین کرو میرے دوست بہت کم ہیں۔۔۔چلو شاباش اب تھوڑا ہمت کرو بس چند منٹ کی بات ہے۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنا لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پھر ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔۔۔مجھے لگا کہ جیسے در و دیوار ہل جائیں گے۔۔۔میں اتنی شدت سے گلا پھاڑ کر چیخا تھا کہ خانم بھی گھبراتے ہوئے میرا لن چھوڑ کر ایک دم سائیڈ پر ہو گئی۔۔۔پر حارث نہ رکا۔اب میری ٹانگیں اس نے خود سنبھال لی تھیں۔۔۔وہ مسلسل میری گانڈ میں اپنا لن اندر باہر کرتا رہا۔۔۔کچھ پانچ منٹ بعد میری تکلیف میں کمی آنی شروع ہوئی اور آہستہ آہستہ تکلیف کم ہوتی گئی۔۔۔اب حارث کا لن میری گانڈ میں اپنی پوری ایڈجسٹمنٹ کر چکا تھا۔۔۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میری گانڈ سن ہو گئی ہے۔۔۔اندازاً دس منٹ اور میری گانڈ کا چربہ بنانے کے بعد اس کی سپیڈ ایک دم تیز ہو گئی اور وہ آہ۔آہہہ۔آہہہ کرتے ہوئے میری گانڈ میں ہی فارغ ہو گیا۔۔۔اس کا گرم گرم منی مجھے اپنی گانڈ میں گرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔چھوٹنے کے بعد اس نے میری ٹانگیں چھوڑ دیں اور خود ایک سائیڈ پر ننگا ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔میری جیسے جان میں جان آئی۔لیکن گانڈ میں جلن ابھی بھی بہت ہو رہی تھی۔۔۔حارث نے صوفے کی سائیڈ پر موجود انٹرکام کا رسیور اٹھایا اور ایک لمحے بعد صرف ایک لفظ بولا نازنین۔۔۔اور رسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا۔۔۔

دو منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور نازنین ایک ٹرالی دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔اس نے ٹرالی حارث کے پاس لا کر روکی اور اس میں سے ایک چھوٹا سا گیلا تولیہ نکال کر اچھی طرح حارث کا لن صاف کیا۔۔۔میں خاموشی سے تکلیف برداشت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔حارث سے فارغ ہو کر نازنین میری طرف آئی اور گیلے تولیے سے اچھی طرح میری گانڈ صاف کی۔۔۔پھر میری ہتھکڑیاں کھول کر مجھے سہارا دے کر اٹھایا۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھا تو گانڈ میں ایک دفعہ پھر ٹھیسیں اٹھنے لگیں اور میرے منہ سے کراہ نکل گئی تو نازنین بولی سر آپ جلدی سے واش روم میں آئیں گرم پانی موجود ہے اس سے اچھی طرح صفائی اور ٹکور کر لیں۔۔۔پھر میں سپرے کر دیتی ہوں دو منٹ میں درد کا نام و نشان بھی نہیں رہے گا۔۔۔میں آہستہ سے چلتا ہوا واش روم میں گیا۔۔۔اتنی دیر تک نازنین ایک ٹب کو نیم گرم پانی سے بھر چکی تھی۔۔۔


مجھے ٹب میں بٹھایا۔۔۔گرم پانی کی وجہ سے درد میں نمایاں کمی ہوئی۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ یہ ساری ماں چدائی باقاعدہ پلاننگ کے تحت ہوئی ہے تبھی تو یہ سب انتظامات موجود ہیں۔۔۔میں پانچ منٹ پانی میں بیٹھنے کے بعد اٹھا تو نازنین نے فٹا فٹ تولیہ پکڑ کر میری گانڈ کو صاف کیا۔۔۔اور میرے پاس ہو کر سرگوشی میں بولی۔۔۔سر اگر حارث صاحب کچھ آفر دیں تو انکار کرنے کی بجائے اپنا دماغ استعمال کرنا۔۔۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی اور میں سوچتا ہوا چھوٹے قدموں کے ساتھ باہر نکل آیا۔۔۔


باہر نکلا تو دیکھا کہ خانم صوفے پر موجود حارث کے قدموں میں بیٹھی ہوئی اس کے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔میں آہستہ سے چلتا ہوا واپس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔بیٹھتے وقت ابھی بھی درد ہو رہی تھی۔۔۔نازنین ایک سپرے کی بوتل لے کر میرے پاس آئی اور مجھے بولی آپ الٹا لیٹ جائیں میں سپرے کر دیتی ہوں درد فورا ختم ہو جائے گا۔۔۔میں الٹا لیٹا تو نازنین نے میری گانڈ کے سوراخ کے آس پاس چوتڑوں پر اسپرے کیا تو واقعی مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے میرے زخموں پر کسی نے برف رکھ دی ہو۔۔۔عجیب سے ٹھنڈک کا احساس تھا۔۔۔ہھر چند لمحوں بعد درد جاتی رہی۔۔۔اور میں اٹھ کر سیدھا بیٹھ گیا۔۔۔اب خانم حارث کا لن چوس رہی تھی جبکہ نازنین اس کے ٹٹے چاٹ رہی تھی۔۔۔

مجھے پر سکون دیکھ کر حارث بولا دیکھو سمیر جو ہونا تھا اب ہو چکا۔۔۔تمہارے پاس دو راستے ہیں۔۔۔یا تو باہر جا کر شور مچاؤ پریس،،پولیس،،عدالت وغیرہ اور انہی کوششوں کے درمیان میں ہی کسی سڑک پر ایک ان دیکھی گولی کا شکار ہو کر کسی خارش زدہ کتے کی طرح مارے جاؤ۔۔۔دوسرا راستہ یہ کہ میرے دوست بن جاؤ اور دنیا تمہاری مٹھی تلے۔۔۔جب بھی پنڈی آؤ ہر قسم کا وی آئی پی پروٹوکول اور اعلیٰ درجے کی لڑکیاں تمہاری دسترس میں۔۔۔آج سے پہلے بھی کئی لڑکوں کو یہ آفر کی گئی لیکن سب نے پہلا آپشن چنا اور ان کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔۔۔اچھی طرح سوچ لو۔۔۔میرے دماغ میں نازنین کی کہی ہوئی بات گونجنے لگی۔۔۔دماغ استعمال کرنا،دماغ استعمال کرنا۔۔۔

میں نے دل میں ایک فیصلہ کیا اور اٹھ کر جارحانہ انداز میں ان کی طرف قدم اٹھائے
اور۔۔۔
اور۔۔۔
اور۔۔۔

 

میرے دماغ میں بار بار نازنین کی کہی ہوئی بات گونج رہی تھی۔۔۔دماغ استعمال کرنا،دماغ استعمال کرنا۔۔۔

میں نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کیا اور اٹھ کر ان کی طرف قدم اٹھانے لگا۔۔۔حارث بغور میری طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔چند قدم اٹھانے کے بعد میں جا کر اس کے پاس خانم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔۔۔اور حارث کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا کہ آپ نے کہا تھا کہ مجھے جو چاہیے ہوا میں مانگ لوں۔اور آپ انکار نہیں کریں گے۔۔۔۔تو حارث میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔دوست میری بات پتھر کی لکیر ہے مانگ لو جو مانگ سکتے ہو۔میں اپنے وعدے کا پابند ہوں۔اور تم دیکھو گے کہ ہم بے ایمان لوگ ایمان دار لوگوں سے زیادہ وعدے کی پاسداری کرتے ہیں۔تو میں نے اپنی آنکھیں خانم کی گانڈ پر گاڑتے ہوئے بولا کہ سب سے پہلے تو ابھی اور اسی وقت مجھے خانم کی گانڈ مارنی ہے۔۔۔


خانم جو کہ حارث کے چوپے لگا رہی تھی اس کے کانوں میں میری آواز پڑی تو وہ بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور بولی نہیں یہ نہیں ہو سکتا میں نے آج تک گانڈ نہیں مروائی۔۔۔اس سے پہلے میں کچھ بولتا۔کمرے میں حارث کی دھاڑ گونجی۔خانم۔۔۔رنڈی عورت۔۔۔اب تیری گانڈ کیا میری وعدے سے بڑی ہو گئی۔۔۔گشتی کی بچی۔۔۔چپ چاپ بیڈ پر جا اور اس کی خواہش کا احترام کر۔۔۔خانم کے پاس دوسرا کوئی لفظ نہیں تھا بولنے کے لیے تو وہ ستے ہوئے چہرے کے ساتھ اٹھی اور میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے مجھے واپس بیڈ پر لے گئی۔۔۔میں نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے تکیہ اپنے کندھوں کے نیچے رکھ لیا اور سلگتی ہوئی نگاہوں سے خانم کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔خانم نے بیڈ پر چڑھ کر میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میرا ڈھیلا لن ہاتھ میں پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔کچھ دیر تک لن پر ہاتھ چلانے کے بعد جب لن کھڑا ہو گیا تو وہ جھکی اور اپنی زبان سے لن کی ٹوپی پر مساج کرنے لگی۔۔۔
افففففف۔۔۔پھر اس نے اپنی زبان کو ٹوپی کے چاروں طرف گول گول گھمایا اور آہستہ آہستہ لن کو اپنے ہونٹوں میں لینا شروع کر دیا۔پھر وہ لن کو آہستہ آہستہ اپنے گیلے منہ میں ڈالتی گئی اور سارا لن اپنے منہ میں لے لیا۔اور منہ کے اندر ہی میرے لن پر اس نے اپنی زبان گھمانی شروع کر دی۔چوپے کے اس انداز نے مجھے میری ساری تکلیف بھلا دی اور میرا لن فل اکڑ گیا۔۔۔خانم جانتی تھی کہ چوپا میری کمزوری ہے اس لیے وہ جی جان سے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔حارث جو کہ وہیں بیٹھا نازنین سے اپنا لن چسوا رہا تھا۔میری طرف دیکھ کر اونچی آواز میں بولا دوست میں ایک دفعہ پھر دہرا رہا ہوں جو چاہیے مانگ لو لیکن دوسرا راستہ مت اختیار کرنا جو کے نقصان دہ ثابت ہو۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ چند سیکنڈ کیلئے خاموش ہوا اور پھر جیسے چٹخارہ لیکر بولا یار تیری گانڈ جیسی مکھن ملائی گانڈ آج تک کم ہی نصیب ہوئی ہے۔میں تم سے بہت خوش ہوں۔اسی لیے ایک تحفہ میری طرف سے بھی قبول کرو۔۔۔یہ کہہ کر اس نے انٹر کام کا رسیور اٹھایا اور ایک لفظ بولا راحت۔۔۔اور رسیور واپس کریڈل پر ڈال دیا۔۔۔ٹھیک پانچ منٹ بعد راحت کمرے میں داخل ہوئی اور سیدھا جا کر حارث کے پاس کھڑی ہو گئی۔۔۔لگتا تھا کہ یہاں سب لڑکیاں حارث کی اہمیت کو جانتی تھیں۔اسی لیے وہ خانم جیسی دبنگ عورت کی موجودگی میں ہی حارث کا ہر حکم مان رہی تھیں۔۔۔

حارث نے راحت کو دیکھا اور بولا جاؤ اس لڑکے کے پاس آج تمہارے کنوارے پن کا افتتاح یہ لڑکا ہی کرے گا۔۔۔راحت کی آنکھوں میں چند سیکنڈ کیلئے بے یقینی کے تاثرات ابھرے لیکن پھر وہ نارمل ہو کر میرے پاس آ گئی۔۔۔وہ خانم کی پسند تھی لیکن کیا کر سکتی تھی۔خانم خود حارث کی غلام تھی اور ویسے بھی کسی نا کسی دن تو یہ ہونا ہی تھا۔۔۔خانم نے ایک نظر راحت کی طرف دیکھا پھر حارث کی طرف دیکھا اور نظریں جھکا کر اپنے کام میں مگن ہو گئی۔۔۔


راحت نے میرے پاس آ کر اپنے کپڑے اتارے اور ایک سائیڈ پر پھینک کر ننگی بیڈ پر چڑھ آئی اور میرے داہنے ہاتھ پر لیٹ کر مجھ سے لپٹ گئی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے لگی۔۔۔تھوڑی دیر کسنگ کے بعد راحت بھی اٹھ کر نیچے ہوئی اور خانم کے ساتھ ملکر میرا لن چاٹنے لگی۔۔۔خانم پر تو مجھے غصہ تھا لیکن راحت کے لن کو منہ کے لگانے کی دیر تھی کہ میرے لن کو ایک جھٹکا لگا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں اور سہہ نہیں پاؤں گا۔۔۔میں نے راحت کو کھینچ کر ایک سائیڈ پر کیا اور خود اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔خانم جو کہ کہنیوں اور گھٹنوں کے بل جھک کر میرے چوپے لگا رہی تھی اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر خانم کے پیچھے آ گیا۔اور اس کی ننگی گانڈ کا نظارہ کرنے لگا۔۔۔یار جو بھی ہے خانم کی گانڈ کمال تھی۔۔۔ان ساری لڑکیوں میں کوئی ایک بھی اس کے پاسنگ نہیں تھی۔۔۔خانم کی گانڈ پر ایک بھی بال نہیں تھا۔میں نے تھوڑا تھوک اپنے لن پر لگایا اور کافی سارا تھوک خانم کی گانڈ کے سوراخ پر پھینکا۔۔۔مجھے خانم پر جتنا غصہ تھا میں نے خانم کی گانڈ کا سوراخ نرم کیے بغیر ہی اپنے لن کی ٹوپی اس کے سوراخ پر رکھی اور ایک زور کا دھکا مارا تو میرا لن اس کی گانڈ کو چیرتا ہوا آدھا اندر داخل ہو گیا۔۔۔خانم کے منہ سے دھاڑ نما چیخ نکلی اور وہ بے اختیار آگے ہو کر الٹی لیٹ گئی۔۔۔

میں جو پہلے سے ہی اس بات کیلئے تیار تھا جیسے ہی خانم آگے ہوئی میں نے لن باہر نہیں نکلنے دیا بلکہ پورا زور لگاتے ہوئے خود بھی خانم کے اوپر گرا اور اس کو اپنے بازوؤں اور ٹانگوں میں جھکڑ لیا۔۔۔خانم تڑپتے ہوئے مجھے گالیاں دے رہی تھی۔۔۔اور میں بلکل حارث کے سٹائل میں بولا۔۔۔ہاں ہاں چیخو اور چیخو۔۔۔کتیا جتنے زور سے چلاؤ گی مجھے اتنا زیادہ مزہ آئے گا۔۔۔میری بات سن کر حارث نے مجھے دیکھا اور مسکرا دیا۔۔۔حارث اس وقت نازنین کی گانڈ میں اپنا لن ڈالے جھٹکے مار رہا تھا۔۔۔میں نے خانم کو قابو کیے ہوئے زور زور سے جھٹکے مارنا شروع کر دیے۔۔۔مزے کی طرف تو میرا دھیان بلکل بھی نہیں تھا بس میرے دماغ پر چھپکلی سوار تھی۔کہ اس گشتی کی بچی سے بدلہ لینا ہے۔۔۔میں لگاتار جھٹکے مارتا گیا۔۔۔جس کو خانم سہہ نا سکی اور اس کے منہ سے خر،خر،کی آواز نکلی اور اس کا بدن ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔وہ بیہوش ہو چکی تھی۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی خون کے چار پانچ قطرے باہر نکل آئے۔۔۔اس کی گانڈ حقیقت میں پھٹ چکی تھی۔۔۔

میں نے لن باہر نکالا۔راحت کو کھینچ کر اپنے سامنے لٹایا اور اس پر جھک کر اس کے ممے چوسنے لگا۔۔۔کچھ دیر اس کے ممے چوسنے کے بعد میں نے اپنا منہ ہٹایا اور راحت کی ٹانگیں اٹھا کر اس کی گانڈ کا سوراخ نمایاں کیا۔۔۔راحت شاید میرے انداز کو سمجھ چکی تھی اس لیے اس نے سائیڈ ٹیبل پر موجود آئل کی شیشی اٹھا کر میری طرف کر دی۔۔۔میں نے تھوڑا سا آئل اس کی گانڈ پر گرایا اور انگلی کی مدد سے اس کی گانڈ میں تیل داخل کر کے اس کی گانڈ کا سوراخ کھلا کرنے لگا۔۔۔تھوڑا سوراخ کھلا اور نرم کرنے کے بعد میں نے کافی سارا تیل اپنے لن کی ٹوپی پر گرایا اور اچھی طرح تیل سے نہلا دیا۔۔۔میرے لن کی ٹوپی پر خانم کی گانڈ سے نکلا ہوا خون ابھی تک لگا ہوا تھا۔۔۔خانم اب نیم بیہوشی کی کیفیت میں کراہ رہی تھی۔۔۔


میں نے اپنا دھیان خانم کی طرف سے ہٹایا اور اپنا لن راحت کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی پلکیں لرز رہی تھیں۔۔۔اس کی آنکھوں میں موجود نمی میرے دل کو پگھلا گئی اور میں نے مزید انتقام کو مؤخر کرتے ہوئے آرام سے تھوڑا زور لگایا تو پچک کی آواز کے ساتھ ٹوپی گانڈ کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔راحت ایک دم اچھلی اور اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکلی اور میں وہیں رک گیا۔۔۔اس کی گانڈ اندر سے اتنی گرم تھی مجھے لگا کہ میرا لن کسی تندور کے گرم سوراخ میں داخل ہو گیا ہے۔۔۔میں نے کوئی بھی بات کیے بنا آہستہ سے دباؤ بڑھانا شروع کیا تو میرا لن اندر سرکنا شروع ہو گیا۔۔۔وہ ایک دم اوپر اچھلی لیکن میں رک رک کر دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔میری ہر دھکے پر وہ اوپر اچھلتی۔۔۔اس کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔مگر دوبارہ اس کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی کیونکہ اس نے اپنے منہ کو سختی سے بھینچا ہوا تھا۔۔۔میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی گانڈ میں اتر چکا تھا۔۔۔اب میں نے ایک زور کا گھسا مارا تو میرا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں اترتا چلا گیا۔۔۔


جیسے ہی لن راحت کی گانڈ کے اندر گیا۔۔۔اس کے منہ سے ایک دلدوز چیخ نکلی۔آہ۔اوئی ماں مر گئی۔۔۔پلیز اور نہیں کرنا رک جاؤ پلیز اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو جاری ہو گئے۔۔۔میں آگے جھک کر اس کے مموں کے نپلز کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔راحت کی باقاعدہ چیخ سن کر خانم بھی اپنے حواس میں آ گئی۔۔۔اور میرا لن راحت کی گانڈ میں دیکھ کر وہ باقاعدہ رونے لگی۔۔۔اب پتہ نہیں اپنی پسند چدتی دیکھ کر رو رہی تھی یا پھر اپنی گانڈ کے چربہ ہونے پر رو رہی تھی۔۔۔اس کے آنسو جیسے میرے اندر بھرے ہوئے لاوے پر پانی ڈالتے جا رہے تھے۔۔۔خانم نے روتے ہوئے حارث کی طرف دیکھا تو حارث کی آنکھوں میں سختی دیکھ کر وہیں پر لیٹ کر سرہانے میں منہ چھپا لیا۔۔۔

حارث نے نازنین کو صوفے پر ہی اوندھا کیا ہوا تھا اور اپنا لن اس کی گانڈ میں ڈالے پوری جان سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔اس کا سارا جسم پسینےمیں شرابور تھا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اب وہ منزل کے قریب ہی ہے۔۔۔نازنین اس کو مسلسل اکسا رہی تھی۔۔۔سر تیز اور تیز۔ہاں ایسے ہی۔اففففف۔پھاڑ ڈالیں میری گانڈ۔۔۔آہ۔آہہہ۔آہہہ۔ایسی سیکسی آوازیں سن کر حارث کا جنون بڑھ گیا اور اپنے بدن کی پوری طاقت سے گھسے مارتے ہوئے اس کی گانڈ میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔

میں اپنا لن راحت کی گانڈ میں ڈالے مسلسل اس کے نپلز چوس رہا تھا ایسا کرنے سے اس کی تکلیف میں واضح کمی آئی۔۔۔اور میں نے وہیں نپلز چوستے ہوئے اپنا لن آہستہ سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔حارث ہانپتی کانپتی ہوئی آواز میں بولا واہ دوست کمال کر دیا۔۔۔اتنا موٹا لن کیسی ٹیکنیک سے گانڈ میں ڈالا ورنہ میں تو سوچ رہا تھا کہ آج لڑکی کی گانڈ پھاڑ ہی ڈالو گے۔۔۔اسے شاید ابھی تک خانم کی گانڈ پھٹنے کا ادراک نہیں ہوا تھا۔۔۔میں صرف مسکرایا اور آہستہ سے اپنے لن کو حرکت دینا جاری رکھا۔۔۔راحت کی گانڈ اندر سے بڑی نرم اور گرم تھی۔۔۔اب اس کی گانڈ کے ٹشوز لن کے ساتھ ایڈجسٹ ہو چکے تھے۔۔۔میں اپنی رفتار بڑھانے لگا۔۔۔میں راحت کی گانڈ میں گھسے مارتا گیا۔مارتا گیا۔۔۔اب مجھے لگا کہ میرے بدن کا سارا خون میری ٹانگوں سے ہوتا ہوا میرے لن کی طرف بھاگے جا رہا ہے۔۔۔میں نے اپنا لن راحت کی گانڈ سے نکالا اور خانم کے پاس جا کر تیل میں لت پت لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کے خانم مجھے محسوس کر کے ہلتی۔۔۔میں نے پوری جان سے گھسہ مارا اور اپنا لن جڑ تک خانم کی گانڈ میں اتار کر اسے دونوں بازوؤں میں بھینچ لیا۔۔۔خانم اس اچانک افتاد پر تڑپنے لگی جبکہ میرے لن نے منی کی دھاریں خانم کی گانڈ میں چھوڑنا شروع کر دیں۔۔۔


منی کی دھاروں کو محسوس کر کے خانم کی اچھل کود میں کمی آ گئی۔۔۔منی کا آخری قطرہ بھی نچڑنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکالا اور اٹھ کر بیڈ سے نیچے کھڑا ہو گیا۔۔۔ادھر ادھر دیکھ کر اپنے کپڑے اٹھائے اور پہنتے ہوئے بولا واہ خانم تیری گانڈ نے بہت مزہ دیا۔۔۔لیکن خانم کچھ نہیں بولی۔۔۔حارث نے بھی کپڑے پہنے اور وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔اور مجھے بولا چلو نیچے چلتے ہیں۔یہ رنڈیاں خود ہی تھوڑی دیر میں اپنے آپ کو سنبھال لیں گی۔۔۔اتنا کہہ کر حارث اور میں آگے پیچھے کمرے سے باہر نکلے اور نیچے آ کر کامن روم میں بیٹھ گئے۔۔۔حارث اب میری طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔میں نے ہمت کی اور حارث سے مخاطب۔دیکھیں جناب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔۔۔لیکن اب میں آئندہ ادھر کا رخ نہیں کروں گا۔اور یہاں جو بھی ہوا اس کے بارے میں کسی سے بھی ذکر نہیں کروں گا۔۔۔میرا منہ ہمیشہ بند رہے گا۔۔۔اور آپ کی طرف سے بھی یہ چاہوں گا کہ آپ بھی کبھی مجھ سے ملاقات مت کریں۔نہ مجھے کسی سے کوئی تعلق رکھنا ہے اور نا ہی مجھے اس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔اتنا کہہ کر میں خاموش ہو گیا۔۔۔

حارث چپ چاپ بیٹھا میری طرف دیکھتا رہا۔۔۔چند منٹ کی خاموشی کے بعد حارث بولا اوکے دوست اگر تم بھی خاموش رہو گے تو میری طرف سے تمہیں کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی۔۔۔اس کے بعد حارث نے اپنی جیب سے ایک پرس نکالا اور اس میں سے ایک کارڈ نکال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا کہ سمیر یہ میرا کارڈ رکھ لو۔۔۔پھینکنا مت۔کبھی بھی کیسی بھی ضرورت ہو مجھے یاد کر لینا۔چند منٹوں میں تمہاری ضرورت پوری ہو جائے گی۔۔۔میں نے کارڈ پکڑ کر جیب میں ڈال لیا۔۔۔حارث اٹھتے ہوئے بولا کہ چلو آؤ میں تمہیں راستے میں کہیں چھوڑ دوں گا وہاں سے آگے ٹیکسی کر لینا۔۔۔میں چپ چاپ اٹھا اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے باہر نکلا۔۔۔باہر پورچ میں اس کی لینڈ کروزر میں بیٹھے اور حارث گاڑی چلاتا ہوا کوٹھی سے باہر نکل آیا۔۔۔قریبی چوک پر پہنچ کر جیسے ہی اس نے موڑ کاٹنے کیلئے گاڑی کی رفتار آہستہ کی۔میں بول اٹھا بس مجھے یہیں اتار دیں۔یہاں سے آگے میں چلا جاؤں گا۔۔۔حارث نے موڑ کاٹ کر گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کی اور اپنی جیب سے پین نکال کر پیپر پر مجھے ایک گولی لکھ کر دی کہ یہ مارکیٹ سے لے لینا ورنہ دوبارہ درد ہونے پر ڈاکٹر پاس گئے تو اسے کیا بتاؤ گے۔۔۔یہ زود اثر گولی ہے۔۔۔کھاتے ہی آرام آ جائے گا۔۔۔اسپرے کا اثر تھوڑی دیر تک ہوتا ہے جیسے ہی تم گانڈ کو دھو لو گے اس کا اثر ایک دم ختم ہو جائے گا۔۔۔اس لیے یہ گولی راستے میں لازمی خرید لینا۔۔۔میں نے پیپر بھی چپ چاپ جیب میں ڈال لیا۔۔۔حارث نے مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔میں ایک بار پھر دہراتا ہوں جو ہوا بھول جاؤ۔اور خود کو میرے دوستوں میں شمار کرو۔۔۔کبھی بھی کال کر سکتے ہو۔۔۔میں اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سے اتر گیا تو وہ گاڑی کو آگے بڑھا لے گیا۔۔۔تب میری جان میں جان آئی۔۔۔چوک سے میں نے ایک ٹیکسی پکڑی اور گھر پہنچ گیا۔۔۔

جب گھر پہنچا تو تین بج رہے تھے۔۔۔آفتاب اٹھ چکا تھا اور کسی کام سے باہر نکلا ہوا تھا۔۔۔میں نے سوچا چلو اتنی دیر تک نہا کر کپڑے بدل لیتا ہوں۔۔۔نہانے کے خیال کے ساتھ ہی گانڈ کا درد اور حارث کی بتائی ہوئی بولی یاد آئی تو میں گھر سے باہر نکلا اور قریبی فارمیسی سے اس ٹیبلیٹ کا ایک پتہ لے آیا۔۔۔گھر آ کر امی سے ملا تو امی نے پوچھا کہاں غائب ہو بیٹا اتنی دیر سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔تو میں نے امی کو جواب دیا کہ کچھ نہیں امی جان بس ویسے ہی ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔۔۔تو امی بولیں چلو میں نے تمہارے کپڑے پریس کر دیے ہیں وہ آفتاب کے کمرے میں ہینگر پر لٹک رہے ہیں۔۔۔نہا کر چینج کر لو۔۔۔اور میں جی اچھا کہہ کر کمرے کی جانب چل پڑا۔۔۔کمرے میں جا کر اندر سے بند کیا اور واش روم میں جا کر نہانے لگا۔۔۔نہانے کے بعد اچھی طرح تولیے سے اپنا جسم صاف کیا اور باہر نکل کر کپڑے پہن لیے۔۔۔کچھ دیر آرام کی نیت سے میں لیٹ گیا۔۔۔لیٹتے ہی مجھے گانڈ میں دوبارہ درد کی ہلکی ہلکی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔۔اور میں خانم اور حارث کو گالیاں دیتا ہوا اٹھ کر باہر نکلا اور فریج سے ایک گلاس پانی لیکر پانی کے ساتھ گولی کھائی اور واپس کمرے میں آ کر لیٹ گیا۔۔۔واقعی چند منٹ بعد درد میں افاقہ ہوا۔۔۔میں آج کے دن کے بارے میں سوچنے لگا۔اور خود سے تہیہ کیا کہ زندگی میں دوبارہ یہاں کیا کہیں بھی کسی رنڈی کے ڈیرے پر نہیں جانا۔۔۔میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ کچھ دیر بعد کمرے کا لاک کھلنے کی آواز آئی اور لاک کھول کر آفتاب اندر داخل ہوا۔۔۔مجھے دیکھ کر چلایا۔۔۔یار کہاں گم تھے تم اتنی دیر سے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔چونکہ مجھے اس کے اٹھنے کے ٹائم کے متعلق معلوم تھا تو جھوٹ بول دیا یار ابھی ایک بجے میں باہر نکلا تھا اور ساتھ والی گلی میں موجود سنوکر کلب میں وقت گزاری کر رہا تھا۔۔۔


میری بات سن کر آفتاب بولا چل گانڈ مار یار۔۔۔بھوک بہت لگی ہے چلو کھانا کھاتے ہیں۔۔۔بلکہ رک کھانا یہیں کھاتے ہیں۔باہر تو افراتفری مچی ہوئی ہے۔۔۔اتنا کہہ کر آفتاب باہر نکل گیا۔اور چند منٹ بعد کھانے کی ٹرے اٹھائے اندر داخل ہوا۔۔۔اتنی دیر تک میری گانڈ کا درد بلکل غائب ہو چکا تھا۔۔۔ہم دونوں نے ملکر کھانا کھایا۔۔۔پھر آفتاب تو کسی کام کے سلسلے میں باہر نکل گیا۔ جبکہ میں تھکاوٹ کا بہانہ کر کے وہیں پڑا رہا اور تھوڑی دیر میں ہی سو گیا۔۔۔شام کو سات بجے مجھے آفتاب نے ہی جگایا۔۔۔ابے اٹھ جا یار۔کیا مردوں سے شرط باندھ کر سویا تھا۔۔۔


میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا۔۔۔فریش ہونے کے بعد رات کا کھانا کھایا۔چونکہ رات لیٹ نائٹ بارات کی روانگی تھی تو سب لوگ سونے کی تیاری کرنے لگے تا کہ تھوڑا ریسٹ کر لیں۔۔۔میں کمرے سے باہر نکلا اور امی کو ڈھونڈ کر ان کے پاس جا بیٹھا۔۔۔امی کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔۔۔ابو کے متعلق پوچھا تو امی نے بتایا کہ جس دن سے آئے ہیں تمہارے ابو ہر وقت ماموں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔۔۔کیونکہ مامے بھتیجے کی کافی سالوں بعد ملاقات ہوئی تھی تو سارا وقت ایک ساتھ ہی گزار رہے تھے۔۔۔اسی دوران پہلو بدلتے ہوئے مجھے اپنی گانڈ میں ایک دفعہ پھر ہلکی سی درد کی ٹھیس اٹھی۔۔۔میں امی کے پاس سے اٹھ کر فریج کے پاس گیا۔۔۔پانی کا گلاس لیکر ایک گولی اور کھائی اور کمرے میں آ کر آفتاب کے کمپیوٹر پر وقت گزاری کرنے لگا۔۔۔انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی تو ایک سیکسی ویب سائٹ اوپن کر کے وڈیوز چیک کرنے لگا۔۔۔قریباً بیس منٹ تک میں مختلف سائٹس چیک کرتا رہا۔اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور سدرہ بھابھی اندر داخل ہوئیں۔۔۔میں نے مڑ کر انہیں دیکھا تو ہڑبڑا کر کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی اور اسی ہڑبڑاہٹ میں کرسی سے نیچے آن گرا۔۔۔بھابھی اتنی دیر تک کمرے کے وسط میں آ چکی تھی اور ان کی نظریں کمپیوٹر اسکرین پر ہی جمی ہوئی تھیں جہاں ایک ٹرپل ایکس مووی میں لڑکا لڑکی کے ممے چوس رہا ہوتا ہے۔۔۔میرے تو ٹٹے شاٹ ہو گئے۔۔۔میں نے فوراً اٹھ کر کمپیوٹر کی پاور سپلائی کیبل ہی نکال دی اور کمپیوٹر اسکرین ایک جھماکے سے بند ہو گئی۔۔۔میں نے ڈرتے ڈرتے بھابھی کی جانب دیکھا تو بھابھی لال سرخ چہرے کے ساتھ میری طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈز ایسے ہی خاموشی میں گزرے۔۔۔آخر کار میں نے خاموشی توڑی اور ہکلاتے ہوئے بولا۔۔۔بھابھی۔آ۔آپ۔آپ۔۔۔بھابھی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ممممممممم۔تو یہاں کمپیوٹر پر موویز دیکھی جا رہی ہیں۔۔۔سمیر میں تو آفتاب کو دیکھنے آئی تھی۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہاں تم بیٹھے ہو اور اس حال میں۔۔۔یہ کہہ کر بھابھی نے تپتی نگاہوں کے ساتھ مجھے گھورا۔اور مڑ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔میں پریشانی کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ اب کیا ہو گا۔۔۔کہیں بھابھی کسی کو بتا نہ دیں۔۔۔وغیرہ۔وغیرہ۔۔۔

انہی سوچوں میں کافی وقت نکل گیا پھر میں نے اپنا سر جھٹکا اور خود کلامی کے عالم میں کہا کہ جو ہو گا دیکھی جائے گی۔۔۔اب رات کے بارہ بج چکے تھے۔تبھی آفتاب کمرے میں داخل ہوا۔۔۔مجھے دیکھتے ہی بولا۔یار میں تجھے ہی تلاش کر رہا تھا۔چل ایک آخری کام کرنا باقی ہے وہ نبٹا لیں پھر تیار ہوتے ہیں۔۔۔

میں اٹھ کر اس کے ساتھ ہو لیا۔۔۔ہم لوگ گاڑی میں گھر سے نکلے اور سیدھا فیض آباد اڈے کی جانب چل پڑے۔راستے میں آفتاب بولا کہ یار بھوک لگ رہی ہے پہلے کچھ کھاتے ہیں۔۔۔میں کھانا تو کھا چکا تھا لیکن سوچا کہ چلو تھوڑا بہت آفتاب کا ساتھ دے دوں گا۔اس لیے میں نے بھی سر ہلا کر حامی بھر لی۔۔۔آفتاب نے گاڑی فوڈ اسٹریٹ کی طرف گھمائی اور ہم لوگوں نے وہاں ایک ہوٹل پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔۔۔کھانے کے بعد بل ادا کیا اور وہاں سے نکل کر فیض آباد اڈے پر پہنچ گئے۔۔۔پہلے سے طے شدہ پلان کے تحت گاڑی والے کو بڑی بس سمیت ساتھ لیا اور گھر پہنچ گئے۔۔۔اسی اثناء میں دو بج چکے تھے۔۔۔چونکہ بارات کی روانگی تین بجے کی طے تھی تو آفتاب فٹافٹ تیار ہو کر آیا۔۔۔ہم لوگوں نے سب مہمانوں کو گاڑی میں بٹھانا شروع کر دیا۔۔۔میں نے امی اور ابو کو بھی سامان سمیت گاڑی میں پہنچا دیا۔۔۔سب مہمانوں کے بیٹھ جانے کے بعد میں نے گاڑی میں نظر دوڑانا شروع کی تو مجھے مومو یا اس کی فیملی میں سے کوئی بھی نظر نہیں آیا۔میں اداسی کی کیفیت میں سامنے ڈرائیور کے پاس ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں ایک ہلکے نیلے رنگ کی شیورلیٹ پاس آ کر رکی جس کو ایک لڑکا چلا رہا تھا۔جو کہ بعد میں پتہ چلا مومو کا بڑا بھائی شاہد تھا۔۔۔


گاڑی میں سے مومو اور مومو کے ماما پاپا برآمد ہوئے اور انہوں نے بس کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔میں نے فوراً نظریں دوڑائیں تو بس کی پچھلی سائیڈ پر ساری سیٹیں خالی تھیں۔۔۔میں فٹا فٹ جا کر پیچھے ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گیا اور گردن اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا۔۔۔مومو کی والدہ کو شروع میں ہی عورتوں نے گھیر گھار کر اپنے پاس بٹھا لیا جبکہ اس کے والد کو آفتاب کے پاپا اور میرے ابو نے اپنے پاس کھینچ لیا۔۔۔مومو چلتی ہوئی پچھلی سیٹوں کی طرف آئی اور مجھ سے ایک سیٹ چھوڑ کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔اس کے ساتھ والی سیٹ خالی تھی۔۔۔دل تو میرا چاہ رہا تھا کہ میں وہاں جا کر اس کے ساتھ چپک کر بیٹھ جاؤں پر ہمت نہ پڑی کیونکہ بس میں سب لوگ موجود تھے۔۔۔چنانچہ میں اٹھ کر مومو کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔اسی دوران ایک ناخوشگوار واقعہ ہو گیا۔آفتاب اور بس والے کی کسی بات پر لڑائی ہو گئی۔۔۔لیکن سب نے سمجھا بجھا کر معاملہ رفع دفع کر دیا۔۔۔آفتاب بس میں اندر آیا اور آ کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔سب لوگوں کے بیٹھ جانے کے بعد آفتاب کے پاپا نے بس والے کو چلنے کا اشارہ کیا تو اس نے بس آگے بڑھا دی۔۔۔میں اور آفتاب کچھ دیر باتیں کرتے رہے۔۔۔پھر آفتاب کو نیند آنے لگی۔چونکہ وہ سارا دن کولہو کے بیل کی طرح بھاگتا پھرا تھا اب جیسے ہی بیٹھا تو نیند نے آن دبوچا۔۔۔مجھے بتا کر آفتاب اٹھا اور جا کے سب سے آخری سیٹ پر لیٹ کر سو گیا۔۔۔اب میرا دھیان مومو کی طرف تھا جو کے مجھ سے اگلی سیٹ پر بیٹھی کانوں میں ہینڈفری لگائے اپنے پاپا کے موبائل پر گانے سن رہی تھی۔۔۔اب میں سوچ رہا تھا کہ کیسے بات شروع کروں۔پر کچھ بھی سجھائی نہ دیا۔بس پیچھے بیٹھا مومو کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔مومو ایک خوبرو اور پرکشش لڑکی تھی۔۔۔اس کے چھوٹے چھوٹے بال جو کہ بامشکل اس کے کاندھوں تک آتے تھے بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔میں انہی سوچوں میں گم سوتا جاگتا رہا۔۔۔رات کا سفر تھا تو نیند میں سوتے جاگتے ہی گزر گیا۔۔۔جب جہلم کے پاس پہنچے تو مجھے لگا کہ مومو سو رہی ہے۔۔۔میرے دل میں آ رہا تھا کہ اس کو چھو لوں۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کو چھوا تو اس نے یک دم مڑ کر میری طرف دیکھا۔۔۔مجھے دیکھ کر وہ مسکرا دی لیکن منہ سے بولی کچھ نہیں۔۔۔میں پھر بھی کچھ بات نہ کر پایا۔۔۔

لاہور پہنچ کر بارات ایک کوٹھی میں رکی۔یہ صرف تیاری کرنے کی غرض سے جگہ مخصوص کی گئی تھی۔کیونکہ رات کا اور لمبا سفر تھا وہ بھی جی ٹی روڈ کے ذریعے تو سب لوگوں کے تیاری کرنے کیلئے اس جگہ کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔میں وہاں سے قریب ہی اپنی پھپھو کے گھر چلا گیا۔۔۔میری پھپھو لوگ بھی پوری فیملی کے ساتھ شادی پر انوائیٹ تھے۔۔۔میں وہاں تیار ہوا اور پھوپھو کی فیملی کے ساتھ ہی واپس اسی کوٹھی میں پہنچ گیا۔۔۔

پھوپھو کو امی لوگوں کے پاس چھوڑ کر میں باہر لان میں نکلا تو مومو وہاں ایک چئیر پر بیٹھی ہوئی تھی۔میں اس کے پاس جا کر ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔مومو نے لب کشائی کی۔ہاں تو سمیر آپ کی زندگی کی کیا مصروفیات ہیں۔۔۔میں نے اسے اپنے بارے میں بتایا۔اس وقت میں میٹرک کا طالب علم تھا۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی باتیں کرتے اور ایک دوسرے کے بارے میں جانتے رہے۔وہاں پر تھوڑا ریفریشمنٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔۔۔ہم لوگ وہیں بیٹھے کھا رہے تھے کہ اتنے میں مومو نے مجھ سے پانی کا گلاس مانگا۔۔۔پانی کا کولر میرے پاس ہی پڑا تھا۔میں نے پانی کا ایک گلاس بھر کر اسے تھمایا اور گلاس تھماتے وقت اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا۔۔۔مومو نے میری اس حرکت کو دیکھا اور مسکرا دی۔۔۔اتنی دیر میں سب لوگ تیار ہو کر باہر نکلنا شروع ہو گئے۔۔۔ہم لوگ بھی اٹھے اور گاڑی میں جا بیٹھے۔۔۔دلہے کی کار اور لاہور سے بھی کافی مہمان شامل ہوئے تھے سب کی گاڑیاں اور بس ایک ساتھ چلیں اور بیس منٹ کی ڈرائیو پر موجود شادی ہال میں پہنچ گئے۔۔۔شادی ہال میں مردوں اور عورتوں کیلئے بیٹھنے کا علیحدہ علیحدہ انتظام کیا گیا تھا۔۔۔نکاح ہوا پھر کھانا کھانے کے بعد میں لیڈیز سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔کیونکہ میں فیملی میں سے ہی تھا تو کسی نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔۔۔میں نے مومو کو پکڑا اور اپنے کزنز سے تعارف کروایا۔۔۔پھر میں۔میرا کزن علی۔اور علی کی دو بہنیں ہم لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔۔۔وہاں ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔۔۔میں نے موقع دیکھ کر مومو کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہہ دیا کہ تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔کیا میری دوست بنو گی۔۔۔تو مومو نے میرے گال پر چٹکی کاٹ کر کہا۔۔۔سمیر تم بہت اچھے ہو اور ہم دوست ہیں تو یوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔۔۔چلو ابھی سب لوگ واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔۔۔تم بس میں میرے ساتھ ہی بیٹھنا۔باقی باتیں ہم لوگ بس میں کریں گے۔۔۔میں نے بخوشی ہاں میں سر ہلایا اور اٹھ کر دوسری سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔شادی کی تمام رسومات پوری ہو چکی تھیں۔۔


میں مومو کے ساتھ دوستی کے نشے میں سرشار واپسی کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ پاپا نے میرے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔انہوں نے حکم صادر کیا کہ سمیر تم یہیں سے واپس ملتان چلے جاو۔۔۔میرے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے لیکن کیا کرتا مجبوری تھی۔۔۔گھر میں اچانک دادی امی کی طبیعت تھوڑی خراب ہو گئی تھی۔سو مجھے جانا تھا۔۔۔میں نے بہت کوشش کی کہ مومو کو اس افتاد کے بارے میں بتا سکوں۔اور اس کا کوئی کانٹیکٹ نمبر لے سکوں پر کامیاب نہ ہو پایا اور بارات واپس چلی گئی اور میں ناچار وہاں سے ملتان کی طرف نکل پڑا۔۔۔

گھر جا کر دادی کی خبر گیری کی۔معمولی سا بخار تھا۔۔۔پاپا خود آ جاتے لیکن دراصل پاپا کی اپنے ماموں کے ساتھ کچھ کھٹ پٹ تھی تو کافی عرصہ سے ان کی بول چال بند تھی اب شادی کے موقع پر عرصہ دراز بعد ملاقات ہوئی تھی تو اس لیے وہ خود نہیں آئے اور مجھے بھیج دیا۔۔۔دو دن بعد ماما پاپا بھی واپس آ گئے اور تب تک دادی بھی ہٹی کٹی ہو چکی تھیں۔۔۔مطلب ان کی طبیعت اب بلکل ٹھیک ہو چکی تھی۔۔۔لیکن میرے دل کی کیفیت بہت خراب تھی۔۔۔

ہر وقت مومو کے خیالوں میں کھویا رہتا تھا۔۔۔وہ تھی ہی اتنی پیاری اور پرکشش۔۔۔اتنے میں میرے پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آ گئی اور میں پیپرز کی تیاری میں جت گیا۔۔۔دن گزرتے گئے۔ پیپرز آئے اور چلے گئے۔۔۔کیونکہ تیاری بہت اچھی تھی اس لیے رزلٹ کی طرف سے میں بے فکر تھا۔۔۔

خانم کے ڈیرے پر ماری ہوئی پھدیاں بار بار یاد آتی تھیں۔۔۔میں نے ایک دن خانم کو کال ملائی تو پتہ چلا کہ وہ نمبر اب بند ہے۔۔۔میں نے آفتاب کو کال کی اور اس سے باتوں ہی باتوں میں خانم کا تذکرہ کیا تو وہ بھی ٹھنڈی سانس لے کر بولا کہ یار وہ بھی کیا دن تھے۔اعلیٰ سے اعلیٰ رنڈی ہوتی تھی۔اب تو وہ دن خواب ہو گئے۔۔۔میں نے پوچھا کیوں کیا اب وہاں نہیں جاتے تو اس نے مجھے بتایا نہیں یار خانم کے ساتھ تو بڑا سین ہو گیا تھا۔۔۔اس کا قتل ہو گیا۔سامنےتو یہی بات ہے کہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں ماری گئی لیکن اندر کھاتے کچھ لوگ بتاتے ہیں کہ کسی سیاسی بندے کے ساتھ ایک لڑکی کے چکر میں اس کا کوئی پھڈا ہو گیا تھا اور خانم نے اس بندے کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی اور کچھ دن بعد ہی کہیں سے آتے ہوئے راستے میں خانم کو قتل کر دیا گیا۔۔۔میں نے ادھر ادھر کی دو چار باتیں کر کے فون بند کر دیا۔۔۔چلو خانم والا باب تو بند ہوا۔۔۔


انہی دنوں محلے کی ایک دو لڑکیوں سے ہیلو ہائے ہونا شروع ہو گئی۔۔۔لیکن بات صرف ہیلو ہائے تک ہی رہی۔۔۔میرا لن مجھے مسلسل تنگ کر رہا تھا۔جب تک اسے پھدی کی خوراک نہیں ملی تھی مٹھ سے گزارا ہو رہا تھا مگر دبنگ دبنگ پھدیاں مارنے کے بعد اب تو مٹھ سے بھی گزارا نہیں ہوتا تھا۔۔۔میری گلی میں میرا دوست رہتا تھا جس کا نام نسیم تھا۔۔۔ہم دوستوں میں اس کے بڑے چرچے تھے کہ اس نے کئی لڑکیاں پھنسائی ہوئی ہیں اور وہ ان کی پھدی بھی مارتا ہے۔۔۔ایک دن لن کی حرکتوں سے تنگ آ کر میں نے اس سے کہا کہ نسیم یار کبھی ہمیں بھی پھدی کے درشن کروا دے۔۔۔قصہ مختصر نسیم نے تھوڑی سی ہیچر میچر کرنے کے بعد حامی بھر لی۔۔۔اس کے پاس چند ایسی لڑکیاں بھی آتی تھیں۔جو کہ شکل و صورت کے لحاظ سے تو کوئی خاص نہیں لیکن ایک چیز جو کمال تھی کہ وہ ابھی نوخیز تھیں۔۔۔کچی عمر میں ہی ٹوٹے دیکھ دیکھ کر ان میں آگ بھرتی جا رہی تھی۔اور وہ بلا معاوضہ مزے لینے آ جاتی تھیں۔۔۔یہ تین لڑکیوں کا ایک گروپ تھا۔۔۔نسیم نے آہستہ آہستہ مجھے اس گروپ سے متعارف کروا دیا۔۔۔ان تینوں لڑکیوں کی عمریں ابھی بارہ سے پندرہ سال کے درمیان تھیں۔۔۔دو لڑکیاں تو صرف ممے چسواتی اور چوپے لگا کر فارغ کر دیتی تھیں۔۔۔لیکن ان میں ایک لڑکی جو کہ ذرا سانولی سی تھی۔۔۔وہ ہر لڑکے کو پھدی دینے پر راضی ہو جاتی۔۔۔جیسے جیسے میں ان سے متعارف ہوتا گیا۔ان کی حرکتیں مجھ پر کھلتی گئیں۔۔۔اچھے بھلے گھرانوں کی لڑکیاں اور اس کام میں پڑی ہوئیں تھیں۔۔۔بلکل اوپن ماحول تھا ان کا۔۔۔دوستوں کے سارے گروپ کے پاس ان کا نمبر تھا۔جب بھی کسی کا دل کرتا وہ ان کو میسیج کر کے بلا لیتا اور دستیاب ٹائم پر اپنا پانی نکال لیتا۔۔۔میں نے ان میں سے صرف ایک لڑکی کے ساتھ دوستی بڑھائی اور صرف چوپے کی حد تک کام رکھا۔۔۔یعنی دیر سویر پانی نکلتا رہے۔۔۔اور میری یہ احتیاط ایک دن کام آ گئی۔۔۔ایک دن کسی دل جلے نے ان کے گھروں میں بتا دیا کہ یہ لڑکیاں کیسے لنوں کو چوستی پھرتی ہیں۔۔۔اس کے بعد یہ لڑکی بھی ہاتھ سے گئی۔۔۔میں جو کہ مومو کو بھولا ہوا تھا ایک دفعہ پھر شدت سے اس کی یادوں کے ناگ پھن اٹھانے لگے۔۔۔


جب تک لن کو منہ کی گرمی ملتی رہی۔مومو کی یاد بھی دبی رہی۔جیسے ہی چوپے کی سہولت ختم ہوئی۔مومو کی یادیں پھر سے تنگ کرنے لگیں۔۔۔میں نے مومو کے سلسلے میں آفتاب سے مدد لینے کی ٹھانی اور اس سے ساری بات کہہ کر مومو کے گھر کا پی ٹی سی ایل نمبر لے لیا۔ابھی تک یہ زمانہ تھا کہ میرے پاس موبائل فون نہیں تھا۔۔۔پی سی او سے ہی کال ملانی پڑتی تھی۔۔۔ایک دن میں نے مومو کے گھر کا نمبر ڈائل کیا تو کسی بوڑھی عورت نے فون کا رسیور اٹھایا۔۔۔میں نے بنا ہچکچائے کسی اور شخص کا نام لے کر پوچھا اور سوری رانگ نمبر کہہ کر کال کاٹ دی۔۔۔میں وقفہ دے دے کر کافی دن تک کال کرتا رہا لیکن مومو نے کال نہیں اٹھائی۔۔۔

میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چلا تھا۔۔۔لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔اور ایک دن پھر کال ملا دی۔۔۔دوسری طرف کی آواز سن کر میرا دل دھڑکا۔مومو نے کال اٹھائی تھی۔اس نے رسیور کان پر لگا کر پوچھا جی کون۔۔۔
تو میں تڑپتے ہوئے بولا۔مومو یہ میں ہوں یار سمیر قریشی ملتان سے۔اتنی دیر میں مومو کے پیچھے کسی مرد کی آواز سنائی دی جو کہ شاید اس کا بڑا بھائی تھا۔۔۔مومو فون پر کون ہے تو مومو بولی پتہ نہیں کون بدتمیز رانگ نمبر ملا بیٹھا تھا۔اب فون کٹ گیا ہے اور یہ کہہ کر مومو نے کال بند کر دی۔۔۔میری آنکھوں میں شدتِ بے بسی کے احساس سے آنسو آ گئے۔۔۔پھر کافی دن تک میں نے کال نہیں کی۔۔۔لیکن دل کی تڑپ مجھے مومو کی طرف کھینچ رہی تھی تو ایک دن اسی تڑپ کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر والوں کو بتا کر دس دن کیلئے میں پنڈی روانہ ہو گیا۔۔۔میں قریباً ایک سال بعد پنڈی واپس آیا تھا۔ایک بے بنیاد سی امید پر پتہ نہیں کیوں لیکن میں پنڈی پہنچ گیا۔۔۔سب گھر والوں سے ملا۔۔۔حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں آفتاب کے کمرے میں جا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔۔۔خیر کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ گھر سے نکلے اور پیر سوہاوہ چلے گئے۔۔۔کیونکہ میں پہلے پنڈی اسلام آباد کے ان مقامات کو نہیں دیکھ پایا تھا تو اس مرتبہ آفتاب کی معیت میں سارے مقامات کی تفریح کا پروگرام بنایا۔۔۔واپسی پر ہمیں شام کا وقت ہو گیا۔ہم واپسی آتے ہوئے دامنِ کوہ پر رکے۔۔۔وہاں کا منظر بہت پیارا تھا خاص طور پر وہاں موجود ایک لکھنوی پان والے سے میٹھا پان کھایا جو کہ اس نے بڑی نفاست سے بنا کر چاندی کے ورق میں پیش کیا۔۔۔اس پان کا ذائقہ آج بھی محسوس ہوتا ہے۔۔۔


اسی طرح تین دن گزر گئے۔لیکن مجھے سمجھ نا آئی کہ کیسے مومو کی خبر لگاوں۔۔۔پھر کوئی چارہ نہ پا کر میں نے آفتاب سے حالِ دل بیان کیا۔تو میری حالت دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔اس وقت ہم لوگ آفتاب کے کمرے میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔میری بات سن کر آفتاب حیرانگی سے بولا یار سمیر تجھے کیا ہو گیا ہے جگر۔تم تو مجنوں کو ٹکر دینے کے چکر میں ہو۔۔۔چلو میں کچھ سکیم لڑاتا ہوں۔اس کے بعد ہم لوگ کھانا کھا کر فارغ ہوئے تو آفتاب اپنے بڑے بھائی ارمغان کے ساتھ کسی ارجنٹ کام کیلئے نکل گیا۔۔انہوں نے گاڑی پر لاہور جانا تھا اور صبحِ کاذب ان کی واپسی متوقع تھی۔۔۔میں تھوڑی دیر آفتاب کے کمپیوٹر پر بیٹھا موویز سرچ کرتا رہا۔پھر جب سگریٹ کی طلب ہوئی تو اٹھ کر چھت کی طرف چل پڑا۔۔۔


آفتاب لوگوں کا گھر چار منزلہ تھا۔۔۔


پہلی منزل پر اس کے والدین۔۔۔۔
دوسری منزل پر فاروق اور آفتاب کا قبضہ تھا۔۔۔۔
تیسری منزل پر ارمغان اور سدرہ بھابھی رہتے تھے۔۔۔

میں سب سے اوپر کھلی چھت پر چلا گیا اور سگریٹ سلگا کر موجودہ حالات و واقعات کے متعلق سوچنے لگا۔۔۔ مجھے وہاں کھڑے ہوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ سدرہ بھابھی دو کپ اٹھائے چھت پر پہنچ گئیں۔۔۔چائے کی بھینی بھینی خوشبو نے مجھے مہکا دیا۔۔۔بھابھی نے چائے کا کپ میری طرف بڑھایا تو میں نے کہ اٹھاتے ہوئے کہا۔قسم سے بھابھی اس کی بہت ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں ہوں تو بھابھی میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولیں۔۔۔سمیر،،میں نے تم دونوں کی ساری باتیں سن لی ہیں۔میں کسی کام سے نیچے گئی تھی واپس آ رہی تھی تو دروازہ کھلا دیکھ کر جیسے ہی اندر داخل ہونے لگی تو مجھے تمہاری آواز سنائی دی تم آفتاب کو مومو کے بارے میں بتا رہے تھے۔۔۔تو میں نے ساری باتیں سن لیں۔۔۔میں بھابھی کی بات سن کر ہکا بکا رہ گیا۔۔۔پہلے آفتاب میری بات سن کر حیران ہوا تھا اب بھابھی کی باتیں سن کر میں پشیماں ہو گیا۔۔۔اسی تذبذب کی کیفیت میں کھڑا تھا کہ بھابھی پھر گویا ہوئیں۔۔۔سمیر،،میں تم دونوں کو ملوانے کی کوشش کرو گی۔۔۔پتہ کروں گی کہ مومو کی کہیں بات پکی ہوئی ہے یا نہیں۔یا اسے کوئی اور مجبوری تو نہیں ہے۔۔۔

بھابھی کی بات سن کر میں چند لمحے خاموش رہا۔پھر میں نے بھابھی سے پوچھا کہ بھابھی میری بپتا سننے کے بعد آپ کو میری مدد کرنے کی کیا سوجھی۔۔۔اس سے آپ کو کیا ملے گا۔۔۔یہ کہہ کر میں استجائیہ نظروں سے بھابھی کو دیکھنے لگا۔۔۔بھابھی نے گرم چائے کی ایک چسکی بھری اور ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولیں۔۔۔سمیر،،میں اور ارمغان سکول لیول سے یونیورسٹی لیول تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے۔۔۔سکول سے یونیورسٹی تک ساتھ رہنے سے پہلے دوستی اور پھر یہ دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی۔۔۔ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ ہم شادی کریں گے لیکن شادی تک ایک دوسرے کے درمیان فاصلے کو کم نہیں کریں گے۔۔۔اتنا کہہ کر بھابھی چپ ہو گئیں اور پاؤں کے انگوٹھے سے زمین کو کریدنے لگیں۔۔۔میں چائے کا کپ ختم کر چکا تھا۔۔۔میں نے بھابھی سے پوچھا اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو آگے بتائیں پھر کیا ہوا۔۔۔بھابھی چند لمحے اور خاموش رہنے کے بعد بولیں۔۔۔پھر ہم لوگوں نے اپنے گھر والوں کو مطلع کیا اور ان کی مرضی سے ہماری شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی۔جب سہاگ رات کو میں ارمغان کی دلہن بنی سہاگ کی سیج پر بیٹھی تھی۔تب ارمغان نے میرے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔۔۔***** نے ان کو وجاہت اور خوبصورتی تو بے تحاشا دی ہے لیکن ان کی مردانگی میرے آگے چند لمحے بھی ٹِک نہ پائی اور وہ ٹھس ہو گئے۔۔۔

جب ایک جگہ پر مرد اور عورت تنہائی میں ہوں تو ان کے درمیان شیطان آ ہی جاتا ہے۔

بھابھی کی باتیں سن کر میں کافی حیران تو ہوا لیکن ساتھ ساتھ ہی میرا لن بھی کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔۔۔میں نے ہاتھ نیچے کر کے لن کے ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی اور میری یہ حرکت بھابھی سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔میں نے بھابھی کی آنکھوں میں نظریں گاڑھتے ہوئے پوچھا کہ اب آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں۔۔۔بھابھی میری طرف دیکھنے کے بعد دوسری طرف مڑ گئیں اور بولیں۔۔۔
ایک رات کا ساتھی۔
ایک رات کا ہمسفر۔
مضبوط طاقتور ہمسفر۔

 

میں ایک دم لڑکھڑا گیا۔بھابھی نے بات ہی ایسی کی تھی۔۔۔اتنے ڈائریکٹ انداز میں کھلی ڈھلی بات سن کر مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔۔۔میں نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا۔۔۔لیکن بھابھی میں۔۔۔ابھی یہ الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ بھابھی نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور دو قدم بڑھ کر میرے پاس سے گزر کر نچلی سیڑھیوں کی طرف چل دی۔۔۔پھر جاتے جاتے مڑ کر بولیں۔میں انتظار کروں گی۔اتنا کہہ کر بھابھی سیڑھیاں اترتی چلی گئیں۔اور میں وہیں کھڑا منہ پھاڑے دیکھتا رہا۔۔۔بھابھی جا چکی تھیں اور میں وہیں کھڑا اس نئی افتاد کے بارے میں غور و فکر کرنے لگا۔۔۔کافی دیر سوچ بچار کرنے اور سگریٹ پھونکنے کے بعد میں نے دل میں یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ آج رات آفتاب نے تو آنا نہیں اس لیے رات چھت پر ہی گزاری جائے۔۔۔میں ادھر ادھر ٹہلتا رہا لیکن اگلے چالیس منٹ میں ہی سمجھ میں آ گیا کہ چھت پر رات گزارنا بہت مشکل ہے۔۔۔ہر طرف مچھر بھنبھنا رہے تھے۔۔۔مچھروں کی بھوں بھوں سے تنگ آ کر میں نے نیچے جانے کا سوچا اور پھر میں چھت سے نیچے اترنے لگا۔۔۔جیسے ہی میں تیسرے فلور پر مطلب سدرہ بھابھی والے فلور پر پہنچا۔تو دیکھا کہ پورے پورشن کی تمام لائٹس بند تھیں۔۔۔تمام کمرے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔۔میرے دل میں بہت سے خدشات جنم لے رہے تھے۔۔۔بھابھی کے کمرے کی دھیمی سی لائٹ یہ ظاہر کر رہی تھی کہ کمرے میں زیرو کا بلب چل رہا ہے۔۔۔میں نے سوچا کہ چلو ایک دفعہ بھابھی کا کمرہ دیکھتا ہوں پھر جا کر سو جاؤں گا کیونکہ کافی دیر ہو چکی ہے۔۔۔اور ہو سکتا ہے کہ اب تک بھابھی بھی سو چکی ہوں۔۔۔

میں نے بھابھی کے کمرے کے پاس جا کر کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا۔ہلکا سا دبانے پر ہی دروازہ کھلتا چلا گیا۔۔۔جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اے سی آن ہے۔۔۔بھابھی دلہن بنی سیج پر لیٹی ہوئی سو رہی تھیں۔۔۔میں بھابھی کے پاس چلا گیا۔بھابھی نے ہلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا۔اور اپنے تمام زیورات پہنے ہوئے تھے۔۔۔بھابھی کے چہرے پر پھیلی ہوئی پیاس دیکھ کر میرے دل میں نفس نے چوٹ لگائی۔۔۔ارے تو کیسا مرد ہے رے۔۔۔ایک پرائی عورت اپنی خود کی عزت جو کہ کسی دوسرے کی امانت ہے خود اپنے ہاتھوں تجھے سونپنے کیلئے۔دلہن بنی اپنی چوت میں تمہارا لن لینے کیلئے تیار ہے اور تم نامردوں کی طرح رات گزارتے چلے جا رہے ہو۔۔۔میں بیڈ کے اور پاس ہو گیا۔۔۔میرا دل کیا کہ ہاتھ بڑھا کر بھابھی کے گال چھو لوں۔۔۔میں نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بھابھی کے گالوں کو چھو لیا۔۔۔سیکس کی پیاس سے گال تپ رہے تھے۔۔۔جیسے ہی میں نے گال کو چھوا تو گال پر ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہی بھابھی کی آنکھ کھل گئی اور بھابھی نے ہاتھ بڑھا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔


میرا ہاتھ پکڑ کر بھابھی بولی۔۔۔سمیر میرا دل کہتا تھا تم ضرور آؤ گے۔۔۔میری برسوں کی پیاس بجھانے،میری روح کو سیراب کرنے ضرور آؤ گے۔۔۔یہ کہتے ہوئے بھابھی اٹھ کر بیڈ سے نیچے اتر کر میرے روبرو کھڑی ہو گئی۔۔۔میں ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔۔۔آخر جو بھی تھا یہ غلط تھا۔۔۔دل میں کہیں ایک کونے میں تھوڑی سی پشیمانگی تھی جو مجھے بھابھی کی طرف بڑھنے سے روک رہی تھی۔۔۔بھابھی نے جب یہ دیکھا کہ میں خیالوں کے بھنور میں غوطے لگا رہا ہوں تو آگے بڑھ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔اففففف بھابی کے ہونٹ تھے کہ جیسے گلاب کی پنکھڑیاں۔۔۔جیسے ہی بھابھی کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر ٹچ ہوئے میں سب صحیح غلط بھول گیا۔۔۔میری شہوت۔۔۔لن کو ہلا شیری دیتے ہوئے بولی۔۔۔قدم بڑھاؤ لن صاحب۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔لن نے جیسے سرگوشی کی۔۔۔اگر بھابھی کی مست پھدی لینی ہے تو آگے بڑھ۔۔۔ایک مست پھدی ایک قدم کی دوری پر۔۔۔ابھی یہ پھدی تیرے نیچے ہو گی۔۔۔لن کی سرگوشی سن کر میں نے اپنے اور بھابھی کے درمیان فاصلہ ختم کر دیا اور بھابھی کو اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔میری رضامندی دیکھ کر بھابھی نے پوری گرم جوشی کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے اپنی زبان میرے منہ میں داخل کر دی۔۔۔اور میں نے بھابھی کی زبان کو ویلکم کہتے ہوتے زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔مجھے لگا کہ میں شہد بھری کوئی میٹھی گولی چوس رہا ہوں۔۔۔ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے ہونٹ چوس رہے تھے۔۔۔ایک دوسرے سے زبانیں لڑا رہے تھے۔۔۔ایک دوسرے کے نشے میں چور ہو رہے تھے۔۔۔اففففف کیا ہاٹ اور گیلا منہ تھا بھابھی کا۔۔۔میں ساتھ ساتھ بھابھی کی گانڈ اور کمر پر ہاتھ پھیری جا رہا تھا۔۔۔بھابھی نے اپنے دونوں بازو کس کر میری کمر پر باندھ رکھے تھے اور ایڑھیاں اٹھا کر مجھے کس کر رہی تھی۔۔۔
اب جب بھابھی مجھ سے چدنے ہی والی تھی تو میں نے دل میں سوچا کہ اب بھابھی کہنا ٹھیک نہیں۔۔۔اب میں اسے اس کے نام سے ہی پکاروں گا۔۔۔

 دیر کسنگ کرنے کے بعد میں نے سدرہ کو کندھوں سے پکڑ کر پیچھے ہٹایا تو وہ الٹتی پتھلتی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر سدرہ کے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔۔۔چند سیکنڈ بعد سدرہ میرے سامنے مادر زاد ننگی کھڑی تھی۔۔۔سدرہ ایک بہت ہی سیکسی اور خوبصورت فگر والی لڑکی ثابت ہوئی۔۔۔اس کا فگر 37۔27۔36تھا۔۔۔
آنکھوں کا رنگ سیاہ۔بال بھی گھنے لمبے سیاہ۔اوپر سے سیکس کی بھوک نے اس کے چہرے پر ایسا نکھار ڈالا کہ میرا لن پورا اکڑ گیا۔اور ٹراؤزر میں ایک تمبو بن گیا۔۔۔جسے دیکھ کر سدرہ کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔۔۔اس نے آگے بڑھ کر ٹراؤزر کے اوپر سے ہی میرا لن اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور میرے ہونٹ کو چوم کر بولی اٹھ گیا میرا شیر۔۔۔آج زندگی میں پہلی بار مزہ آئے گا۔۔۔ارمغان کا تو اتنا موٹا اور لمبا نہیں ہے۔۔۔مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے آج میری پہلی چدائی ہو گی۔۔۔پھر کچھ دیر تک میرے لن کو مٹھیوں میں دباتے ہوئے بولی سمیر تمہارا لن تو بہت جاندار ہے جانو۔۔۔ایسے لن تو فلموں میں ہوتے ہیں بس۔۔۔میں نے حیرانگی سے کہا کہ سدرہ تم نے وہ فلمیں کہاں دیکھ لیں۔۔۔تو سدرہ سارے تکلفات کو بالائے تاک رکھ کر بولی۔۔۔وہ ارمغان ہے نا کنجری کا بچہ۔۔۔روزانہ تین چار سیکسی فلمیں مجھے دکھاتا ہے۔پھر اپنا لن چسوا کر مزہ لیتا ہے اور میری پھدی میں ڈال کر دس منٹ میں ہی گشتی کا بچہ فارغ ہو جاتا ہے۔۔۔اس کے منہ سے ایسی گالیاں سن کر میں اور حیران ہوا۔۔۔تو میں نے کہا کہ یار تم تو کہتی تھی کہ ارمغان سے بہت محبت ہے۔۔۔اب اتنی گندی گندی گالیاں دے رہی ہو۔۔۔تو وہ میری شرٹ اتارتے ہوئے بولی۔۔۔جانو یہ ساری عادتیں مجھے ارمغان نے ہی ڈالی ہیں۔۔۔اب جب تک سیکس کے ساتھ ساتھ گندی باتیں یا گالیاں نہیں نکالتے۔ہم لوگوں کو مزہ نہیں آتا۔۔۔


سدرہ کے منہ سے یہ باتیں سن کر مجھے ایک عجیب سا مزہ آ رہا تھا۔۔۔اسی دوران سدرہ میری شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک چکی تھی۔۔۔پھر اس نے اپنے ہاتھ میرے دونوں کولہوں کے پاس سے ٹراؤزر پر رکھے اور میری ٹانگوں کے درمیان زمین پر بیٹھتے ہوئے اس نے میرا ٹراؤزر اتار دیا۔۔۔انڈروئیر تو میں نے پہنا نہیں تھا۔۔۔اس لیے ٹراؤزر اترتے ہی لن ایک جھٹکا کھا کر سیدھا ہوا اور اس کے منہ کے سامنے جھومنے لگا۔۔۔یہ دیکھ کر سدرہ ایک دم اٹھی اور سوئچ بورڈ کے پاس جا کر اس نے ساری لائٹس آن کر دیں اور کمرے کے دروازے کو لاک لگا دیا۔۔۔بلا شبہ سدرہ جنسی لحاظ سے بڑے ہی پرکشش جسم کی مالک تھی۔۔۔اور ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم میں شہوانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔اففف کیا ممے تھے۔کیا گانڈ تھی۔۔۔نرم نرم چوتڑوں پر دل کرتا تھا دندی کاٹ لوں۔۔۔سدرہ چلتی ہوئی سامنے الماری کی طرف گئی اور وہاں سے ایک چھوٹی سی عجیب قسم کی شیشی اٹھا کر میرے پاس آئی اور میرے اکڑے ہوئے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر شیشی کا ڈھکن اتارا تو میں نے آخر پوچھ ہی لیا۔۔۔جانم کیا کرنے لگی ہو۔۔۔تو وہ بولی کہ اپنے ٹھوکو کے ساتھ اس سہاگ رات کو یادگار بنانے کیلئے اسپرے لگانے لگی ہوں۔۔۔اس سے تمہاری ٹائمنگ بڑھ جائے گی۔۔۔ہم لوگ خوب مزہ کریں گے۔۔۔میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ تم نے ارمغان پر آزمایا ہے تو وہ بولی نہیں جانو ابھی آج ہی تو ایک سہیلی دے کر گئی ہے۔۔۔اس کا عاشق اسے یہ اسپرے لگا کر چودتا ہے اور وہ بتا رہی تھی کہ کم از کم بھی آدھا گھنٹہ تو وہ صرف پھدی کی بینڈ بجاتا ہے۔۔۔یہ سن کر ایکسائٹمنٹ سے میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔سدرہ نے میرے لن کو ٹوپی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور لن کی نچلی جانب ٹوپی کے پاس دو بار اسپرے کیا اور انگلی کی مدد سے ہلکا ہلکا مساج کر دیا۔۔۔اسی طرح اس نے لن کی چاروں سائیڈوں پر ہلکا ہلکا اسپرے مار کے مساج کر دیا۔۔۔اور بولی اب اگلے بیس منٹ تک لن کی طرف دیکھنا بھی نہیں اس کا اثر بیس منٹ بعد شروع ہو گا۔۔۔اور وہ اسپرے کی شیشی ایک طرف سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے خود بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنے دونوں بازو کھول کر مجھے اشارہ کیا۔۔۔مجھے لن پر ہلکی ہلکی جلن ہو رہی تھی۔۔۔جس کا ذکر میں نے اس سے کیا تو اس نے بتایا کہ یہ نارمل ہے ایسا میری سہیلی نے بتایا تھا کہ یہ ہوتا ہے لیکن صرف تھوڑی دیر۔۔۔اس کے بعد لن ہلکا سا سن ہو جائے گا۔۔۔اور پھر بے شک جب تک دل کرے چدائی کرو۔۔۔اتنا کہہ کر پھر اس نے اپنے بازو کھول دیے اور میں اس کے اوپر لیٹ کر بازؤوں میں سما گیا۔۔۔جیسے ہی سدرہ کے اکڑے ہوئے نپلز میرے بالوں بھرے سینے سے لگے۔میرے اندر بجلی سی کوند گئی۔۔۔میں نے اپنی زبان باہر نکالی اور سدرہ کی گردن کو ایک ایک ملی میٹر سے چاٹنے لگا۔۔۔سدرہ نے میری زبان کا ٹچ اپنی گردن پر محسوس کرتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو میری کمر پر رکھتے ہوئے اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر پھیرتے ہوئے اپنے مموں کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے میرے سینے پر رگڑنے لگی۔۔۔

میرا لن پورے جوش میں آ کر سدرہ کی رانوں میں دبا ہوا تھا۔۔۔میں اس کی گردن کو چاٹتا ہوا نیچے اس کے کندھوں تک آیا اور وہاں سے اس کے مموں کی گولائیوں تک آ گیا۔۔۔پہلے میں دائیں ممے کو چاٹنے لگا۔۔۔پھر میں نے باری باری اس کے دونوں ممے چاٹ لیے لیکن نپلز کو بلکل نہیں چھیڑا۔۔۔میں جیسے ہی ممے کو چاٹتا ہوا نپلز تک پہنچتا۔تو اسے ٹچ کیے بنا دوسرے ممے کی گولائی کو چاٹنا شروع کر دیتا۔۔۔جب چار پانچ بار میں ایسی ہی کرنے کے بعد ممے کو چاٹتا ہوا نپل تک پہنچا تو سدرہ نے غصے سے میرے سر کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جھکڑا اور نیچے اپنے نپل کی طرف دبایا۔۔۔میرے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔۔۔میں جان چکا تھا کہ اب سدرہ مزے اور لذت میں پوری طرح سے خوار ہو چکی ہے۔۔۔


میں نے سدرہ کا ایک نپل منہ میں لے لیا۔۔۔۔۔واؤ۔۔۔۔۔اوووو۔۔۔۔نپل منہ میں لیتے ہی میرا لن پھنکاریں مارنے لگا۔۔۔میں باری باری دونوں نپل منہ میں لیکر چوسنے لگا۔۔۔اب سدرہ کے بدن میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔میری کوشش تھی کہ سدرہ کا پورا مما منہ میں لے لوں۔۔۔پر یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔کیونکہ میرا منہ بہت چھوٹا اور سدرہ کا مما منہ کی مناسبت کافی بڑا تھا۔اور اس ٹائم تو ویسے بھی سخت ہو رہا تھا۔۔۔میں نے نپل کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تو وہ کراہ اٹھی۔۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔سمیر۔۔۔۔ررر۔۔۔۔آرام سے۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔آرام سے۔میں نے سدرہ کے ممے چوستے ہوئے ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تنے ہوئے لن پر رکھ دیا۔۔۔اس نے فوراً ہی میرے لن کو مٹھی میں دبا لیا۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سدرہ کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔پھدی فل گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میں زور زور سے مموں کو چوسنے اور نپلز کو کاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ سے اس کی پھدی کو مسلنے لگا۔۔۔سدرہ یہ مزہ برداشت نہ کر سکی اور سسکنے لگی۔۔۔آہ۔ہ۔آہہہ۔۔۔سمیر۔۔۔ایسے ہی۔۔۔افففف۔۔۔میں نے اپنی دو انگلیاں پھدی کے اندر گھسا دیں اور زور زور سے پھدی کے دانے کو اپنے انگوٹھے سے مسلنے لگا۔۔۔سدرہ کیلئے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔شاید یہ کسی پرائے مرد سے سیکس کی شہوت تھی جو وہ اتنی جلدی منزل تک پہنچ گئی اور اس نے ایک جھٹکے سے اپنی دونوں ٹانگوں کو بھینچ لیا اور زور زور سے جھٹکے کھاتے ہوئے چھوٹ گئی اور اس کی پھدی سے پانی بہنے لگا۔۔۔چونکہ سدرہ کا کمرہ ساؤنڈ پروف تھا تو اس بات کا کوئی ڈر نہیں تھا کہ آواز کہیں باہر سنی جا سکتی ہے۔۔۔


سدرہ اب فارغ ہو چکی تھی۔۔۔جبکہ میرا لن اب فل جان پکڑ چکا تھا۔۔۔سدرہ اٹھی اور مجھے لٹاتے ہوئے خود میرے اوپر آ گئی۔اور چٹا چٹ میرے گالوں کے کئی بوسے لے ڈالے۔۔۔پھر بولی سمیر میری جان میں بہت خوش ہوں کہ تم نے مجھے اتنا مزہ دیا۔۔۔اب میری باری ہے کہ میں تمہیں مزہ دوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کے میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔مجھے تمہارا لن بہت پسند آیا ہے۔۔۔کچھ دیر تو وہ میرے لن کو ایسے ہی سہلاتی رہی۔۔۔پھر جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے آگے لن کی طرف دبایا تو وہ سمجھ گئی کہ میں کیا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے دیکھتے ہوئے وہ بولی کہ لگتا ہے جانو کو اپنا لن چسوانا ہے۔۔۔میں نے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔پھر اس نے اپنا پورا منہ کھولا اور میرے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ کے اندر لے لیا۔۔۔میرے منہ سے مزے کی شدت سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔سدرہ نے میرا لن منہ سے باہر نکالا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے اپنی لمبی زبان باہر نکالی اور اس کی نوک سے میرے لن کے سوراخ کے اندرونی حصے کو چھیڑنے لگی۔۔۔کچھ دیر ایسے ہی چھڑنے کے بعد سدرہ نے دوبارہ میرا لن منہ میں ڈال لیا اور بڑے پیار سے چوسنے لگی۔۔۔اس کے منہ کی گرمی کو اپنے لن پر محسوس کر کے میری حالت خراب ہو گئی۔۔۔اس نے میرے لن کی صرف ٹوپی اپنے منہ میں رکھی اور اپنے ہونٹوں کو بند کر کے منہ کے اندر سے ہی لن کے سوراخ اور ٹوپی پر اپنی زبان گھمانے لگی۔۔۔میں لذت کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔۔۔اس کے منہ کی گرمی سے اتنا مزہ مل رہا تھا کہ میں نے ایسا مزہ پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔۔۔حالانکہ اس سے پہلے خانم اور نازنین اور اپنے محلے میں بھی رنڈیوں سے چوپے لگوائے تھے۔۔۔پر اس رنڈی کے چوپے میں جو چاہت تھی۔۔۔جو مزہ تھا۔۔۔وہ کہیں نہیں ملا۔۔۔اس کے علاوہ اصل مزہ ان فیلنگز کا تھا کہ سدرہ بھابھی ارمغان کی بیوی تھی اور اس کو اپنے نیچے لٹانے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتا تھا۔۔۔اور آج وہ رنڈی کی طرح سچ مچ پوری ننگی میرے سامنے موجود میرے لن کے چوپے لگا رہی تھی۔۔۔

 اصل چیز یہ احساس تھا جو میرے مزے کو بڑھا رہا تھا۔۔۔سدرہ کچھ دیر اسی طرح میرے لن کی ٹوپی کو چوستی رہی۔۔۔پھر آہستہ سے اپنا تھوڑا منہ اور کھولا اور میرے لن کو اپنے منہ کے اندر اتارنا شروع کر دیا۔۔۔جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا اتنا لینے کے بعد اس نے تھوڑا زور لگایا تو لن کی ٹوپی اس کے حلق کو جا لگی جس کیوجہ سے اسے ابکائی سی آئی اور اس نے فوراً ہی میرا لن باہر نکال دیا۔۔۔پھر میری طرف دیکھ کر بولی سوری جانو وہ دراصل آج تک چھوٹا لن چوسنے کی عادت تھی نا تو وہ حلق تک کبھی پہنچ ہی نہیں پایا۔۔۔پر تمہارا شاندار لن تو لگتا ہے آج میرے سارے کس بل ادھیڑ ڈالے گا۔۔۔پھر اس نے دوبارہ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے کر چوسا اور اوپر سے لے کر جڑ تک لن کو چاٹا۔۔۔اسی طرح چاٹنے کے بعد اس نے جتنا لن منہ میں جا سکتا تھا لے لیا اور باقی لن کو ہاتھ کی گرفت میں رکھتے ہوئے پوری شدت سے چوسنے لگی۔۔۔اس انداز میں چوسنے سے اس کا گال پِچک کر اندر ہو جاتے۔اور اس کا چہرہ لال ہو جاتا تھا۔۔۔وہ اب اتنی طاقت سے چوپا لگا رہی تھی کہ مجھے صاف محسوس ہوا کہ میرے لن سے مزی کا ایک قطرہ پوری شدت سے رگڑ کھاتا ہوا باہر جا رہا ہے۔۔۔جیسے ہی وہ قطرہ باہر آیا تو سدرہ نے اپنی زبان سے اس قطرے کو لپیٹا اور منہ میں لیکر ایسے چسکے لینے لگی جیسے کسی چیز کی مٹھاس یا کھٹاس چیک کی جاتی ہے۔۔۔کچھ دیر لن چوسنے کے بعد سدرہ اٹھی اور میرے سینے کے اوپر بیٹھ گئی۔۔۔چند لمحے وہ میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر اپنی دونوں ٹانگیں کھول کر اپنی ہاتھ کی دو انگلیاں اپنی پھدی میں ڈال کر بولی دیکھو کیسے لیک کر رہی ہے۔۔۔میں نے سدرہ کی گانڈ کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے اور اسے آہستہ سے اپنی طرف کھینچا تو وہ میرے اتنے قریب آ گئی کہ اس کی پھدی میرے منہ سے صرف دو انچ کے فاصلے پر تھی۔۔۔میں نے اسے اور آگے کھینچا اور اس کی پھدی پر ناک لگا کر اس کی مہک لینے لگا۔۔۔سدرہ میری حرکتوں کو غور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ بولی سمیر کبھی پہلے پھدی ماری ہے سچ سچ بتانا تو میں نے کہا ہاں ماری ہے۔۔۔تو لازمی تم نے پھدی چاٹی بھی ہو گی تو میں نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا کہ وہ پھدیاں چاٹنے والے نہیں تھیں۔۔۔تو سدرہ اپنی پھدی کے لبوں کو کھینچ کر بولی میری چوت کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔شہوت کے ڈورے اس کی آنکھوں کو لال کر رہے تھے۔۔۔سدرہ کی پھدی کے اوپری حصے پر چھوٹے چھوٹے بال تھے۔۔۔ایسا لگتا تھا کہ جیسے ایک دن پہلے ہی شیو کی گئی ہو۔۔۔بال جہاں ختم ہوتے تھے وہاں سے ہی پھدی سٹارٹ ہو رہی تھی۔۔۔پھدی کے ہونٹ کافی پھولے ہوئے تھے۔۔۔پھدی کے شروع میں ہلکا سا گوشت ابھرا ہوا تھا جہاں پھدی کا دانہ صاف پھولا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔میرے ہاتھ نے سدرہ کی پھدی کے دانے کو ٹچ کیا تو اس کا جسم ایک دم مچلا اور اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میرے لن کو پکڑا اور سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔سمیر۔۔۔۔۔۔جانو۔۔۔۔میری پھدی چاٹو اور مجھے پوری طرح سے مزہ دو۔۔۔۔میں نے سدرہ کو اپنے اوپر سے اٹھایا اور بیڈ پر سیدھا لٹاتے ہوئے اس کے اوپر لیٹ کر ایک دفعہ اس کے ہونٹوں کو چوما اور سیدھا اس کے مموں پر حملہ آور ہوا۔۔۔اب میں اس کے دونوں مموں کو اپنے ہاتھوں سے مسل رہا تھا اور ایک ممے کے نپل کو منہ میں لیکر چوس رہا تھا۔۔۔میرے زور زور سے نپل چوسنے پر اس کے حلق سے سسکیاں برآمد ہو رہی تھیں۔اور وہ اپنے دونوں ممے باری باری اٹھا کر ایسے میرے منہ میں دے رہی تھی کہ جیسے اس کا دل کر رہا ہو کہ اپنا پورا مما میرے منہ میں ڈال دے۔۔۔تھوڑی دیر ایسے ہی ممے چوسنے کے بعد میں نے اس کے مموں کو چھوڑا اور تھوڑا نیچے ہوتے ہوئے اس کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اوپر کرتے ہوئے مخالف سمتوں میں کھول دیں۔۔۔سدرہ نے میری مدد کرتے ہوئے اپنی دونوں ٹانگوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے پکڑ لیا۔اس طرح اس کی پھدی میرے منہ کے بلکل سامنے آ گئی۔۔۔


میں اس کی بالوں سے صاف اور چھوٹی سی پھدی کو دیکھنے لگا۔اس کی پھدی پانی نکلنے کی وجہ سے کافی گیلی ہو رہی تھی۔اور تھوڑا سا پانی نیچے اس کی گانڈ کی طرف بھی گیا ہوا تھا۔۔۔میں نے آہستہ سے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کی پھدی کو چاٹ لیا جس سے سدرہ پوری کی پوری کانپ گئی۔۔۔اس کے پانی کا ذائقہ ہلکا سا ترش تھا لیکن مجھے بہت اچھا لگا۔۔۔میں نے اس کی پھدی کا ایک لب اپنے ہونٹوں میں لیکر چوس لیا۔سدرہ کے جسم کو ایک اور جھٹکا لگا اور اس کی پھدی نے تھوڑا سا پانی اور چھوڑ دیا۔۔۔میں نے دوسرے لب کو بھی ایسے ہی چوسا اور پھر اس کے اندر والے لبوں پہ زبان پھیرنے لگا۔۔۔سدرہ تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے مزے سے پاگل ہونے والی ہے۔۔۔ایک دفعہ تو مجھے ایسا لگا کہ وہ چھوٹنے والی ہے تو اسی وقت میں نے اپنا منہ اس کی پھدی سے ہٹا لیا اور زور سے ایک تھپڑ اس کی پھدی پر رسید کیا۔۔۔تکلیف کی وجہ سے اس کا مزہ کچھ کم ہوا اور وہ چیخ پڑی۔۔۔آ۔۔۔آؤچ۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو سمیر۔۔میرا پانی نکلنے دو۔۔۔یہ کہہ کر اس نے میرے سر کو اپنے ہاتھ سے پھدی کی طرف دبا دیا۔۔۔میں نے دوبارہ سے اس کی پھدی کے باہر والے لبوں پر زبان پھیرنی شروع کر دی۔۔۔جب مجھے لگا کہ اس کا مزہ تھوڑا کم ہو گیا ہے۔۔۔تو میں نے دوبارہ سے اس کی پھدی کے اندرونی لبوں کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔سدرہ کو دوبارہ مزہ آنا شروع ہو گیا اور اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر پھدی چٹوانے لگی۔۔۔میں نے اٹھ کر سدرہ کے اوپر لیٹتے ہوئے اپنا اکڑا ہوا لن اس کے منہ میں دیا اور 69 پوزیشن میں خود اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔وہ میرے لن کو ایسے چوس رہی تھی کہ جیسے کھا ہی جائے گی۔۔۔جب مجھے دوبارہ لگا کہ اب وہ پھر چھوٹنے کے قریب ہے تو میں اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا اور لن کو پکڑ کر پوری طرح گیلی پھدی پر رگڑنے لگا۔۔۔
پھر اس کی پھدی کے دانے کو رگڑتے ہوئے محسوس ہوا کہ جیسے ب وہ منزل کے بلکل پاس ہے تو میں نے آخری دفعہ اس کی پھدی کے دانے کو رگڑا اور لن کو پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔سدرہ کی آنکھیں مزے سے بند تھیں اور وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر ایسے ہلا رہی تھی کہ کسی بھی طرح لن پھدی کے اندر چلا جائے۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں تھوڑا اور اوپر اٹھائی اور لن کو پھدی پر سیٹ کرتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا۔اور لن اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔سدرہ کیلئے بھی یہ جھٹکا آخری ثابت ہوا اور اس کی پھدی نے لرزتے ہوئے فوارے کی طرح پانی چھوڑ دیا۔۔۔سدرہ اتنی زور سے چھوٹی تھی کہ اس کی آنکھیں اوپر چڑھ گئیں اور پاؤں کی انگلیاں اکڑ گئی تھیں۔۔۔

سدرہ کے اس طرح چھوٹنے سے اتنا پانی نکلا کہ میرے ٹٹوں تک کو بھگو گیا۔۔۔اس کی اپنی پھدی کا بھی برا حال تھا۔۔۔میں نے ٹشو لیکر اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔کیونکہ مجھے گیلی پھدی کا مزہ نہیں آتا۔۔۔بلکہ اس کے برعکس اگر لن رگڑ کھا کر اندر اور باہر آئے تب مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔۔۔پھدی کو صاف کرتے ہوئے جیسے ہی میرے ہاتھ نے اس کے دانے کو چھوا تو سدرہ کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔۔۔کیونکہ دو دفعہ اور اتنا زیادہ چھوٹنے کے بعد اس کا دانہ بہت نازک ہو چلا تھا۔۔۔میں نے لن کو صاف کر کے دوبارہ اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔ابھی تھوڑا لن باہر ہی تھا کہ مجھے لگا کہ جیسے لن کسی نرم دیوار سے ٹکرا گیا ہے۔۔۔ساتھ ہی سدرہ کے منہ سے دوبارہ سسکیاں جاری ہو گئیں۔۔۔اففففف۔آہہہ۔آہہہ۔۔۔میرا اندازہ تھا کہ یہ ضرور سدرہ کی بچہ دانی ہو گی۔جس سے میرا لن ٹکرا کر رک رہا ہے۔۔۔


میں نے وہیں پہ رہ کر لن اندر باہر کرتے ہوئےسدرہ سے پوچھا۔۔۔کیا ہوا جان۔تکلیف ذیادہ ہو رہی ہے۔۔۔تو وہ بولی۔۔۔پین چود۔۔۔درد ہووے یا نہ ہووے۔توں اج رکنا نئیں۔اج اس پھدی دا پھدا بنا دے۔۔۔او ارمغان گشتی دا بچہ چھوٹی للی آلا۔۔۔کچھ وی نئیں کر پاوے گا۔۔۔میں ہمیشہ تڑپدی رہ جاندی آں۔۔۔اج پہلی واری تیرے تگڑے لن نے میری پھدی نوں سلامی دتی اے۔۔۔تے ہن توں بنڈ آلا زور لا کے لن اندر پا دے۔۔۔میری فکر نا کرِیں۔۔آج مینوں ایداں چود کہ میری پھدی پھاٹ جاوے۔۔۔میری پھدی دا شوربہ بنا دے۔۔۔۔ہن دیر نا کر۔۔۔کتے دیا پترا۔۔۔میری پھدی مار۔۔۔مینوں چود۔۔۔کس کس کے گھسے مار۔۔۔یہہ کہ تہہ لا دے۔۔۔


اسی طرح وہ شہوت کے زیرِ اثر بے ربط گندی زبان استعمال کرتی رہی۔۔۔لیکن حیرت کی بات تھی کہ اس کی گالیاں سن کر بھی میں بدمزہ نہیں ہوا۔۔۔بلکہ مجھے اپنے لن میں اکڑاہٹ بڑھتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔اور میں پورے جوش کے ساتھ اس کے گھسے مارنے لگا۔۔۔میرے ہر جھٹکے کے جواب میں وہ صرف ایک بات ہی کہتی۔۔۔چود مینوں۔۔۔میری پھدی مار۔۔۔مینوں چود۔۔۔اس کی یہ بات سن سن کر میرے کان پک گئے اور مجھے بھی تاؤ آ گیا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا۔۔۔پاس پڑا ہوا ایک چھوٹا تکیہ کھینچ کر اس کی گانڈ کے نیچے رکھ کر اس کی ٹانگیں اس شدت کے ساتھ اٹھائیں کہ سدرہ کے گھٹنے اس کے کندھوں کے ساتھ جا لگے۔۔۔میں نے پھر سے لن اندر ڈالا اور سٹارٹ سے ہی فل سپیڈ میں دھکے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے طاقتور گھسوں کی وجہ سے میرے ٹوپے کی نوک بار بار سدرہ کی بچہ دانی کے ساتھ ٹکرا رہی تھی۔۔۔اور پھر جیسے ہی میرا لن سدرہ بھابھی کی بچہ دانی پر ٹھوکر مارتا۔۔۔نیچے سے وہ تڑپ سی جاتی اور پھر پہلے سے بھی ذیادہ سیکسی انداز میں وہی لذت آمیز راگ الاپتی کہ جسے سن کر میرا جوش مزید بڑھ جاتا۔۔۔اب مجھے سدرہ کو چودتے ہوئے چھ،سات منٹ گزر چکے تھے۔۔۔ہر گھسے پر ایسا لگتا کہ جیسے سدرہ کی پھدی میرے لن کو اندر سے جھکڑ رہی ہے۔۔۔اور ایک بار پھر اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا۔۔۔میں نے اس کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑا اور ساتھ ہی اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جھکڑ کر پوری جان سے ایک گھسہ مارا۔۔۔اس گھسے سے یہ ہوا کہ میرا لن پوری طاقت کے ساتھ جڑ تک اندر گیا اور لن کی ٹوپی سدرہ کی بچہ دانی کے اندر جا گھسی۔۔۔سدرہ کے منہ سے ایک لرزہ خیز چیخ نکلی جو کہ ہونٹ دبے ہونے کیوجہ سے میرے منہ کے اندر ہی دم توڑ گئی۔۔۔سدرہ کا جسم فل اکڑ چکا تھا۔۔۔میں چند سیکنڈ وہیں پر رک کر اس کے مموں کو مسلتا اور چوستا رہا جس سے اس کی سانس میں دوبارہ تھوڑی بحالی ہوئی اور اس نے زور سے مجھ اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔سدرہ اب اتنی چودائی کے بعد کافی تھک چکی تھی۔۔۔میں نے خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کروایا اور اپنا لن باہر نکال کر اس کو ڈوگی سٹائل میں ہونے کو کہا۔۔۔وہ کافی تھک چکی تھی اور درد بھی محسوس کر رہی تھی اس لیئے فوراً اٹھ کر ڈوگی سٹائل میں آ گئی اور اپنے گھٹنے تھوڑے سے آگے کر کے اپنی گانڈ کو باہر نکال دیا۔۔۔واہ۔ہ۔ہ۔۔۔کیا نظارہ میرے سامنے تھا۔۔۔سدرہ کی موٹی سیکسی گانڈ بلکل میرے سامنے تھی۔۔۔اس کے گول مٹول گورے گورے چوتڑ مجھے اپنی طرف بلا رہے تھے۔۔۔اس کی گانڈ کا چھوٹا سا سوراخ اتنا سیکسی اور پیارا لگ رہا تھا کہ میں نے بے اختیار اس پہ اپنا انگوٹھا پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔سدرہ کی گانڈ اور پھدی اب دونوں میرے سامنے تھیں اور مجھے اپنی طرف بلا رہی تھیں۔کہ آ جاؤ ہمیں چود ڈالو۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کے چوتڑوں کو کھول لیا اور اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال دیا۔سدرہ کے منہ سے مزے اور درد سے ملی سسکی نکل گئی۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔میں نے پہلے سدرہ کو آہستہ آہستہ چودنا شروع کیا پھر اپنی سپیڈ بڑھاتا گیا۔۔۔مجھے اب اس کی پھدی میں اپنا لن جاتا بھی نظر آ رہا تھا اور اس کی گانڈ کا سوراخ بھی نظروں کے سامنے تھا۔اب سدرہ بھی فل مزے میں آ گئی تھی اور میرے ہر گھسے کے جواب میں اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف دھکیلتی تھی۔۔۔لن جب پھدی سے باہر آتا تو اس کے پانی سے لتھڑا ہوتا تھا۔۔۔ایک دفعہ پھر مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس کی پھدی میرے لن کو اندر سے پکڑ رہی ہے۔لیکن لن اس میں سے پھسلتا ہوا بچہ دانی سے ٹکرا جاتا اور ٹوپی بچہ دانی کے اندر تک چلی جاتی۔۔۔
سدرہ کی گانڈ کا کھلتا،بند ہوتا ہوا سوراخ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔میرا دل چاہا اور کچھ نہیں تو اس میں اپنی ایک انگلی ہی ڈال کر دیکھوں کہ کتنی ٹائٹ ہے۔۔۔سدرہ اب فل تھک چکی تھی اس لیے اس نے اپنا سر آگے بیڈ پر ڈال دیا جس سے اس کی گانڈ اور باہر کو نکل آئی اور اس کا سوراخ میرے جی کو للچا گیا۔۔۔مجھ سے اب برداشت نہیں ہوا تو میں نے اپنی انگلی کو تھوڑا سا تھوک لگا کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر انگلی تھوڑی اندر کر دی۔۔۔پہلے تو اسے تھوڑا سا شاک لگا اور اس نے مڑ کر میری آنکھوں میں دیکھا لیکن پھر وہ اپنا سر آگے کر کے دوبارہ پیچھے کو دھکے مارنے لگی۔۔۔اب وہ مزے کی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی اور پتہ نہیں کیا اول فول بک رہی تھی۔۔۔اہسا لگ رہا تھا کہ جیسے دارو کے نشے میں بول رہی ہے۔۔۔ہاں سمیر۔۔۔ایداں ای۔۔۔پورا پا دے اندر۔۔۔ویکھ لے کوئی شے باہر نہ رہ جاوے۔۔۔پھاڑ دے میری پھدی۔۔۔بنڈ اچ زور نال انگل مار۔۔۔آہ۔۔۔آہہہ۔آہہہ۔۔۔اپنا موٹا،جبرو،لن زور نال اندر پا۔۔۔ہر واری ایداں ای مینوں ٹھوکیں۔۔۔اپنی رنڈی بنا،گشتی بنا،پر ایداں ای مینوں چودی جاویں۔۔۔اففففف۔۔۔میں مر گئی۔۔۔صواد آ گیا۔۔۔


اب مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میں چھوٹنے کے قریب ہوں۔اور سدرہ کی یہ باتیں میرے لیے سونے پر سہاگا ثابت ہوئیں۔۔۔میں نے طوفانی رفتار سے گھسے مارتے ہوئے ایک دفعہ اپنا لن باہر نکالا اور حقیقتاً بنڈ والا زور لگا کر پورا لن اندر گھسا دیا۔اور ساتھ ہی سدرہ کے کندھوں کو پکڑ کر اپنی طرف دبایا جس سے لن اس کی بچہ دانی میں گھس گیا۔۔۔سدرہ کیلئے بھی یہ آخری جھٹکا ثابت ہوا اور اس نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ساتھ ہی میرے لن نے منی کی پہلی پچکاری ماری اور پھر مارتا ہی گیا۔۔۔سدرہ کی بچہ دانی منی سے بھرنا شروع ہو گئی۔مجھے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے منی کا دریا بہہ رہا ہو۔۔۔جیسے ہی لن سے منی کا آخری قطرہ نکلا۔میں نے سدرہ کے کندھوں کو چھوڑ دیا اور وہ بے سدھ ہو کر آگے گر گئی۔۔۔میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد میں اٹھا اور ٹشو سے اس کی پھدی اور اپنے لن کو صاف کیا۔۔۔پھر میں نے سدرہ کو ہلایا تو وہ جیسے نشے میں بولی۔۔۔ہوں۔اوں۔۔۔میں نے کہا سدرہ میں جا رہا ہوں کافی دیر ہو گئی ہے ارمغان لوگ کسی بھی ٹائم واپس آتے ہوں گے۔۔۔تو سدرہ نے آنکھیں کھولیں اور مجھے پکڑ کر اپنے اوپر گراتے ہوئے بولی۔۔۔نہیں جان وہ نہیں آئیں گے۔۔۔تمہارے آنے سے پہلے میری ارمغان سے بات ہو چکی ہے وہ لوگ اب کل شام میں واپس آئیں گے۔۔۔اس کا مطلب ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں تم یہاں ہی میرے ساتھ سو سکتے ہو۔۔۔ویسے بھی گھر والے تو سب دس بجے کے بعد ہی اٹھیں گے اور اس لیے بے فکر رہو۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا تو دو بج رہے تھے۔۔۔مطلب اس چدائی کھیل میں ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔میں سدرہ کو ایک طرف کھسکا کر اس کی سائیڈ میں ہی لیٹ گیا۔۔۔مجھے لیٹتا دیکھ کر سدرہ نے کروٹ بدلی اور اپنا سر میرے بازو پہ رکھتے ہوئے مجھ سے لپٹ کر سو گئی۔۔۔میں بھی کافی تھک گیا تھا۔اس لئیے کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔

دوبارہ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سدرہ دوسری طرف منہ کیے سو رہی ہے۔۔۔اور اس کی سیکسی گانڈ میری طرف تھی۔۔۔اس کی گانڈ کو دیکھتے ہی میرا لن پھر سے سر اٹھانے لگا۔۔۔میں نے اپنے لن کو تھوک لگایا اور اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر تھوڑی آگے کو کی اور لن کو اس کی پھدی کی لکیر میں پھیرنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ اس کے مموں اور گانڈ پر بھی ہاتھ پھیرتا رہا۔۔۔سدرہ شاید کوئی سیکسی خواب دیکھ رہی تھی یا پھر میری حرکتوں کو ہی خواب سمجھ رہی تھی۔۔۔اس لیے اس کی پھدی کافی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میں نے سدرہ کی اوپر والی ٹانگ کو تھوڑا اور آگے کیا اور اپنے لن کو اچھی طرح سے تھوک لگا کر ایک ہاتھ سے اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے نپل کو مسلتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو نیند میں ہی اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔۔۔اور ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی پہلے تو اس نے بجلی کی سی تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ کی گرفت نے اسے اٹھنے سے روک دیا۔۔۔اتنی دیر میں وہ بھی ساری سچویشن کو سمجھ چکی تھی تو سی سی کرتے ہوئے مجھے لن باہر نکالنے کو بولا۔۔۔جیسے ہی میں نے لن باہر نکالا تو وہ میری طرف مڑی اور کھٹکنی بلی کی طرح دانت نکوستے ہوئے مجھے دونوں ہاتھوں سے مارنے لگی۔۔۔
کمینے،پین چود،گانڈو،۔۔۔یہ کیا حرکت تھی۔۔۔کیا میں نے منع کیا تھا جو ایسے حملہ کیا۔۔۔میں نے اس کے ہاتھوں کی ضربوں سے خود کو بچاتے ہوئے کہا۔۔۔جانو کیا کرتا۔۔۔سوتے ہوئے تیری گانڈ میں طرف ہو گئی تھی تو میرے لن نے مجھے جگا دیا۔۔۔اور اتنی چکنی اور خوبصورت گانڈ دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔


لڑکی کی تعریف جس چیز کی بھی کرو وہ خوش ہی ہوتی ہے۔چاہے گانڈ کی ہی تعریف کرو۔۔۔


سدرہ اپنی تعریف سن کر تھوڑا ٹھنڈی ہوئی لیکن پھر بھی آنکھیں نکالتے ہوئے بولی۔۔۔گانڈو لن تو تم نے پھدی میں ڈالا ہے۔۔۔تعریف گانڈ کی کر رہے ہو۔مطلب جھوٹی تعریف کر کے بچنا چاہتے ہو۔۔۔تو میں نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا جانو میں سچ کہہ رہا ہوں آج تک اتنی پیاری گانڈ نہیں دیکھی۔۔۔میرا بہت دل کیا تیری گانڈ مارنے کو پر دماغ نے سمجھایا کہ نہیں پہلے اپنی جان کی پھدی کی پیاس بجھا دو۔۔۔اپنا شوق پھر پورا کر لینا۔اس لیے دماغ کی سنی اور لن کو پھدی میں پیل دیا۔۔۔سدرہ نے میری بات سنی تو خوشی سے پھول گئی اور ہاتھ نیچے کر کے میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی سمیر صاحب آپ ہوا کے جھونکے کی طرح آئے ہیں اور واپس چلے جائیں گے۔۔۔میں تمہیں تمہاری مرضی ضرور کرنے دیتی پر مجھے میرا انعام چاہیے۔۔۔یاد ہے نا رات کو ذکر ہوا تھا۔۔۔تو وہ انعام یہی ہے کہ میں اپنا پہلا بچہ تم سے چاہتی ہوں۔۔۔تو جتنے دن بھی تم یہاں ہو مجھے روزانہ کم از کم ایک دفعہ ضرور چودو۔۔۔میری پھدی میں روزانہ اپنا پانی نکالو۔۔۔مجھے تمہارے بچے کی ماں بننا ہے۔۔۔پہلا حمل تم سے کروانا چاہتی ہوں۔۔۔
یہ کہہ کر سدرہ اٹھی اور میری ٹانگوں کے بیچ لیٹتے ہوئے میرے لن کو منہ میں لے کر قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔اور میں دل میں سوچ رہا تھا کہ بچے وچے کا تو مجھے نہیں پتہ پر بھابھی تجھے چودوں گا تو ایسے کہ مدتوں یاد رکھو گی۔۔۔کچھ دو منٹ تک میرے لن کو مسلسل چوسنے کے بعد سدرہ اٹھی اور میری سائیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں نے اس کے اوپر آتے ہوئے اس کی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور سائیڈوں پر کھولتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال دیا۔۔۔لن کی ٹوپی اس کی پھدی کو چیرتی ہوئی اس کی بچہ دانی میں گھس گئی۔اور سدرہ کے منہ سے مزے کی وجہ سے اففففففففف نکل گیا۔۔۔


میں نے گھسے مارنے شروع کیے تو اس نے بھی نیچے سے اپنی گانڈ ہلا ہلا کر پھدی کی تال میرے لن کے ساتھ ملانا شروع کر دی۔۔۔اس کی پھدی کافی گیلی ہو چکی تھی جس کیوجہ سے اسے مزہ آنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔تھوڑی دیر ایسے ہی چودنے کے بعد میں نے سدرہ کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر لن اندر ڈالا اور دوبار گھسوں کی پمپ ایکشن چلا دی۔۔۔سدرہ کی پھدی کے ہونٹ اتنی چدائی کی وجہ سے تھوڑا سوج چکے تھے۔۔۔اب تو میں جیسے ہی گھسہ مارتا اس کے منہ سے بے اختیار نکل جاتا۔۔۔افففففففف۔ظا۔۔۔۔ظالم۔۔م۔م۔م۔۔۔۔پھاڑ دتی میری پھدی۔۔۔ہائے نی ماں میں لوڑے لگ گئی۔۔۔میری پھدی دا پھدا بنا چھڈیا۔۔۔افففففف۔۔۔سمیر جانو۔۔۔تیرا تگڑا لن میری پھدی دا حشر خراب کیتی جاندا۔۔۔ٹھوک اس پین چود نوں۔۔۔وجا۔۔۔وجا۔۔۔ہور۔۔۔۔وجا۔۔۔۔اپنے سوٹے ورگے لن نال سٹاں مار مار۔۔۔پھدی پولی کر دے۔۔۔ ہائےماں۔۔۔۔مر گئی۔۔۔۔۔


سدرہ کی یہ سیکسی باتیں مجھے اور بڑھاوا دے رہی تھیں اور میرے گھسے مارنے کی سپیڈ نوے تک پہنچ گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی سدرہ کہنے لگی۔۔۔سمیر زور دی۔۔۔میں چھٹن لگی۔۔۔۔آں۔۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ اب میرا بھی پانی نکلنے لگا ہے۔اوپر سے سدرہ کی سیکسی باتیں سنتے ہی میرا لن ہار مان گیا اور اس کی بچہ دانی کو منی سے بھرنے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی میں سدرہ کے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔اس وقت صبح کے چھ بج رہے تھے۔تو آفتاب کے کمرے میں جا کر میں سو گیا۔۔۔دوبارہ میری آنکھ 9 بجے کھلی۔۔۔نہا دھو کر میں نیچے آیا تو سب لوگ ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔میں بھی ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور گھر والوں کے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔۔۔ناشتے کے بعد آفتاب کے پاپا مجھ سے گھر کے متعلق اور دادی امی کے بارے میں خیر و عافیت پوچھنے لگے۔۔۔اس کے بعد خاندان کے متعلق باتیں ہوتی رہیں تو ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا اور ٹھیک بارہ بجے جب ہم لوگ چائے پی رہے تھے۔۔۔آفتاب اور ارمغان گھر میں داخل ہوئے۔۔۔اس وقت آفتاب کے پاپا ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی اور اٹھ کر اوپر آفتاب کے کمرے میں چلا گیا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ آفتاب سیدھا اوپر ہی آئے گا۔۔۔اور وہی ہوا تھوڑی دیر بعد ہی آفتاب کمرے میں داخل ہوا اور تھکا ماندا میرے ساتھ ہی لیٹ گیا۔۔۔چند سیکنڈز کی خاموشی کے بعد آفتاب بولا سوری جگر کام کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ مجھے جانا پڑا لیکن تم بے فکر رہو آج ہی میں کچھ جگاڑ لگاتا ہوا اور تیری مومو کی خبر نکالے دیتا ہوں۔۔۔میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔چونکہ وہ سفر سے آیا تھا تو جلد ہی سو گیا اور میں کمپیوٹر آن کر کے موویز دیکھنے لگا۔۔۔اسی طرح موویز دیکھتے ہوئے میں نے کافی ٹائم گزار لیا۔۔۔شام پانچ بجے آفتاب نیند سے جاگا اور نہا دھو کر فریش ہوا۔۔۔تو بولا کہ چل جانی بھوک بہت لگی ہے۔۔۔صبح سے ناشتہ کیا ہوا ہے۔۔۔

میں جل کر بولا ہاں۔۔۔ہاں بھائی میرے لیے تو پی سی ہوٹل،،،پرل کانٹی نینٹل،،،سے کھانا آیا تھا ناں دوپہر کو۔۔۔تو وہ فوراً اٹھ کر بولا اوہ یار تم کھا لیتے۔بلاوجہ ہی بھوکے رہے۔۔۔چل اب اٹھ جا فٹا فٹ۔۔۔ہم دونوں گھر سے نکلے اور قریبی ریسٹورنٹ میں جا پہنچے۔۔۔کھانا کھانے کے بعد آفتاب کچھ سوچتے ہوئے بولا چل جانی سیدھا مومو کے گھر ہی چلتے ہیں۔۔۔ میں ایک دم گڑبڑا گیا اور بولا کہ میں کیسے جا سکتا ہوں۔۔۔


کھانا کھانے کے بعد آفتاب کچھ سوچتے ہوئے بولا چل جانی سیدھا مومو کے گھر ہی چلتے ہیں۔۔۔
میں ایک دم گڑبڑا گیا اور بولا کہ میں کیسے جا سکتا ہوں۔۔۔تو آفتاب نے کہا چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔۔۔مومو کا بھائی ریحان میرا دوست ہے اور اس نے مجھے کچھ فلموں کی سی ڈیز لانے کو بولا تھا۔۔۔وہ دینے کے بہانے چلتے ہیں اور میں کوشش کروں گا کہ تم مومو کو دیکھ اور بات کر سکو۔۔۔
میں اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔ہم لوگ وہاں سے آفتاب کے گھر پہنچے۔۔۔آفتاب نے اپنا سی ڈی بیگ اٹھایا اور ہم لوگ دس منٹ کی ڈرائیو پر موجود مومو کے گھر جا پہنچے۔۔۔جہاں مجھے گیسٹ روم میں بٹھا کر خود آفتاب گھر کی اندرونی سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ اب کیا ہو گا کچھ دیر میں مجھے مومو کی آواز سنائی دی۔۔۔جو کہ کسی کو بول رہی تھی کہ جاؤ ذرا اندر چائے دے آؤ۔۔۔
میں اس کو دیکھنے کیلئے بے چین ہو گیا ایک بچہ اندر آیا جو کہ مومو کا چھوٹا بھائی عمیر تھا۔۔۔مجھے چائے کا کپ تھما کر چلا گیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد آفتاب آیا اور مجھے لیکر وہاں سے چل دیا۔۔۔
باہر جا کر بائیک پر بیٹھ کر ہم وہاں سے نکلے اور پاس ہی کمرشل ایریا میں موجود ایک پبلک پارک میں چلے گئے۔۔۔میں انتظار میں تھا کہ وہ کچھ بولے گا۔۔۔لیکن کمینہ چسکے کی خاطر چپ رہا۔۔۔
میں بھی پکے ارادے کے ساتھ خاموش تھا کہ چوتیا خود ہی کچھ بولے گا۔۔۔اور پھر چند منٹ کی خاموشی اور دو سگریٹ ادھیڑنے کے بعد وہ بولا ہاں سمیر ابھی کدھر کھانا کھلائے گا۔۔۔
میں بولا بھائی پہلے بتاؤ تو سہی ہوا کیا لیکن وہ کمینے پن سے کھانے کی بات کرنے لگا۔۔۔تو میں نے کہا بھائی کھانا بھی کھا لینا اور بھی جو بولو کر لیں گے۔۔۔لیکن کچھ بتاؤ تو سہی تو اس نے مجھے بتایا کہ مومو نے کل ملنے بلایا ہے صبح دس بجے۔۔۔
یہ سننا تھا کہ میں اچانک اس سے لپٹ گیا اور خوشی خوشی میں چٹا چٹ اس کی چار پانچ چمیاں لے ڈالیں۔۔۔ خیر ہم نے وہاں بیٹھ کر اگلے دن کا پروگرام ترتیب دیا اور کچھ دیر بعد گھر واپس چلے گئے۔۔۔۔
گھر جا کر سب کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی۔۔۔اسی دوران سدرہ نے مجھے آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔۔میں واش روم جانے کے بہانے سے اٹھا اور سست روی سے چلتا ہوا سیڑھیاں چھڑ کر اوپر آفتاب کے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔
میں سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ سدرہ بھی اوپر کمرے آ گئی اور آتے ہی اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔
ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے میرے لن اور ٹٹوں کو سہلانے لگی۔۔۔چند سیکنڈ کی کس کے بعد سدرہ نیچے بیٹھی اور فٹا فٹ میرا لن باہر نکال کر اس کو منہ میں بھر لیا۔۔۔

سدرہ کے اس اقدام پر میری گانڈ پھٹ گئی اور میں دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔بہن چود ادھر سب لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔آفتاب کسی وقت بھی اوپر آ سکتا ہے اور ارمغان بھی تو ہے۔۔۔یہ کہہ کر میں نے زبردستی اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اس دھکیل کر پیچھے کر دیا۔۔۔
لن اندر کر کے پینٹ کی زپ بند کی اور سدرہ کو گھورنے لگا جو کہ ابھی تک اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مجھے جوابی طور پر گھور رہی تھی۔۔۔چند سیکنڈز کی خاموشی کے بعد سدرہ بولی ایک تو تم لونڈوں کی بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔گانڈو پہلے پھدی لینے کیلئے پہاڑ چڑھنے پر مان جاتے ہو پھر ڈر سے گانڈ بھی پھٹتی ہے۔۔۔
میں دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔سدرہ کی بچی باز آ جاؤ ابھی آفتاب یا ارمغان میں سے کوئی اوپر آ گیا ناں تو پمپ ایکشن تیری گانڈ میں ڈال کر سیدھا فائر مار دینا انہوں نے۔۔۔تو آگے سے وہ بولی ارمغان کی فکر مت کرو کل اور آج کام کر کر کے تھک گیا ہے تو اب نیند کی گولی کھا کر سو جائے گا۔۔۔پھر صبح سے پہلے اس کو ہوش نہیں آنے والی۔۔۔رہ گیا آفتاب تو اس کے لیے بھی میں نے ایک کام نکال کر رکھا ہوا ہے۔۔۔بے فکر رہو وہ بھی چلا جائے گا بس تم کوئی بہانا کر کے رک جانا۔۔۔
پھر اتنا ٹائم تو مل ہی جائے گا کہ تم۔۔۔۔یہ کہہ کر سدرہ نے آگے ہو کر پھر میرا لن پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی پھدی کھجاتے ہوئے بولی۔۔۔۔تم اپنے اس پمپ ایکشن سے میری اس پیاسی چوت میں فائر کر سکو۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ باہر نکلنے کیلئے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔پھر دروازے کے پاس رک کر ایک انگلی دکھاتے ہوئے مجھے تنبیہی انداز میں اشارہ کیا اور دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر دائرہ بنایا اور اس میں انگلی گھسا کر مجھے دکھائی اور باہر نکل گئی۔۔۔
میں اس کا مطلب سمجھ گیا تھا۔۔۔وہ اشاروں میں یہ کہہ گئی تھی کہ اگر تم نے کوئی گڑبڑ کی یا آفتاب کے ساتھ باہر چلے گئے۔۔۔تو یہ انگلی تیری گانڈ میں گھسیڑ دوں گی۔۔۔
مجھے سدرہ کی اس حرکت سے بے اختیار خانم کا ڈیرہ،حارث،اور اپنی گانڈ مروائی یاد آ گئی۔۔۔
بے اختیار میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا پرس نکالا اور حارث کا دیا ہوا کارڈ تلاشنے لگا۔۔۔جو کہ ایک سائیڈ پر پڑا ہوا مل گیا۔۔۔
میں چاہتے ہوئے بھی اسے نہ پھینک پایا۔۔۔اور واپس پرس میں ڈال لیا۔۔۔ابھی میں اسی سوچ و بچار میں تھا کہ آفتاب کمرے میں داخل ہوا اور ہم لوگ ادھر ادھر کی ہانکنے لگے۔۔۔ظاہری سی بات ہے دو جوان لڑکوں کی باتوں میں لڑکیوں کا ہی ذکر ہو گا۔۔۔
میں اور آفتاب اپنے اپنے کھاتے بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سناتے رہے۔۔۔کچھ دیر بعد آفتاب فریج سے بئیر کے دو کین اٹھا لایا۔۔۔
ہم باتیں کرتے ہوئے بئیر کے سپ لینے لگے۔۔۔اب میرا دھیان باتوں کی طرف کم تھا اور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کیا بہانہ ماروں جو آفتاب کے ساتھ نہ جانا پڑے۔۔۔اب رات بج چکے تھے ہم لوگوں  کھانا کمرے میں ہی کھایا اور کھانے کے بعد قریباً دس بجے کمرے میں ہی بیٹھ کر کمپیوٹر پر گیم کھیل رہے تھے۔۔۔
کہ اچانک مجھے واش روم کی ضرورت محسوس ہوئی۔۔۔میں اٹھ کر واش روم میں چلا گیا۔۔۔


ضرورت سے فارغ ہو کر باہر نکلنے کیلئے دروازہ کھولا تو مجھے سدرہ کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ آفتاب کو کہہ رہی تھی کہ آفتاب بھائی میرا ایک کام کر دو گے۔۔۔
آفتاب بولا ہاں بھابھی بولو کیا کام ہے۔۔۔تو سدرہ بولی تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ امی سانس کی مریض ہیں تو آج ارمغان لاہور سے امی کیلئے انہیلر لائے ہیں جو کہ انہوں نے سعودی عرب سے کسی دوست کے ہاتھ منگوایا ہے۔۔۔اب اچانک امی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔۔۔
ارمغان تو نیند کی گولی کھا کر سو چکے ہیں تم میرے بھائی جاؤ اور امی کو انہیلر دے آؤ پلیز۔۔۔ آفتاب نے جی ضرور بھابھی اتنا کہہ کر آواز لگائی اوئے سمیر کیا سو گیا اندر جا کے تو میں جو کہ سدرہ کی باتیں سن کر دماغ میں کوئی ترکیب سوچ رہا تھا مجھے اور تو کچھ سجھائی نہ دیا۔فوراً پیٹ کر ہاتھ رکھ کر واش روم سے باہر نکلا اور دھیمے قدموں سے چلتا ہوا بستر پر لیٹ کر بولا۔۔۔
یار آفتاب ایک دم پیٹ میں گڑبڑ ہو گئی۔۔۔اور ہلکا سا درد بھی ہو رہا ہے۔۔۔تو آفتاب فوراً بولا چل آ میں بھابھی کی طرف جا رہا ہوں واپسی پر ڈاکٹر سے تیری دوائی لیتے آئیں گے۔۔۔
سدرہ اپنے پلان کو فیل ہوتا دیکھ کر بولی ارے اس کو کہاں لے جا رہے ہو۔۔۔اسے یہیں رہنے دو ابھی میں دودھ گرم کر کے دیتی ہوں تھوڑی ہی دیر میں ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
آفتاب سر ہلاتا ہوا موٹر بائیک کی چابی اٹھا کر کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔سدرہ بھی اس کے ساتھ ہی نکل گئی۔۔۔میں ابھی لیٹا ہوا آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا۔۔۔

کہ چند منٹ بعد ہی سدرہ کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر کے اس نے اپنی شلوار اتاری اور سیدھا آ کر میرے منہ پر اپنی پھدی رکھتے ہوئے بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں سے میرے بالوں کو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے ہوس سے بھرپور لہجے میں بولی۔۔۔

چل سمیر جلدی کر میری جان۔۔۔چھیتی نال میری پھدی چٹ۔۔۔ویکھ کداں آگ لگی ہوئی اندر۔۔۔

میں نے صرف منہ سے ایک لفظ نکالا کہ آفتاب تو وہ بولی۔۔۔فکر نا کر او اوتھوں واپس آندے ہوئے مینوں پہلے فون کرے گا ویسے وی اونوں بار کڈ کے میں گیٹ لاک کر کے اندروں وڈی کنڈی مار آئی آں۔۔۔
ہن بوہتیاں گلاں ناں کر پین چودا۔۔۔فٹا فٹ میری پھدی چٹ۔۔۔
یہ سن کر میں نے مطمئن ہوتے ہوئے اس کی پھدی جانب توجہ دی تو واقعی وہ اتنی بری طرح سے گیلی ہو رہی تھی کہ جیسے ابھی پانی باہر نکل پڑے گا۔۔۔

اور اس کا دانہ اتنا پھولا ہوا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ سدرہ کافی دیر سے دانے کو مسل رہی تھی۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹوں میں دانے کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرا منہ اس کی پھدی کو لگا تو اس نے میرے بالوں کو چھوڑ دیا اور اپنی قمیض اتار دی۔۔۔
اسی طرح چند منٹ کی چوت چٹائی اور لن چوسائی کے بعد میں نے سدرہ کی ٹانگیں اٹھائیں اور اپنے لن کو اندر کی راہ دکھائی۔۔۔سدرہ بہت گرم ہو رہی تھی۔۔۔
میں نے شروع سے ہی تھوڑی سپیڈ پکڑی اور لن اندر باہر کرنے لگا۔۔۔سدرہ سرگوشیوں میں سسک رہی تھی۔۔۔

اور آہستہ آہستہ شہوت کے زیرِ اثر اپنی عادت سے مجبور فل مزے میں بول رہی تھی۔۔۔
ہور زور نال۔۔۔گھسہ مار۔۔۔کنجرا پورا لن اندر پا۔۔۔۔آہہہ۔۔۔آہ۔آففففف۔۔۔۔مار میری پھدی۔۔۔۔کس کس کے مار۔۔۔۔
سپرے وپرے تو لگایا نہیں تھا جو زیادہ ٹائم نکال پاتا۔۔۔بس چند منٹ بعد ہی مجھے محسوس ہوا کہ اب میرا جسم اکڑنا شروع ہو رہا ہے تو میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔سدرہ نے اپنی آوازیں روکیں اور غصے سے بولی۔۔۔
بار کیوں کڈیا ای۔۔۔کتی دیا پترا۔۔۔جدوں مزہ تی 30 تے ہویا تے توں بار کڈ لیا۔۔۔پہلی بار مجھے اس کی گالی پر غصہ آیا۔۔۔

میں نے غصے میں اس کو بالوں سے پکڑا اور اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا اور ایک چماٹ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔
گشتی دی بچی۔۔۔بہت اگ لگی تیرے کوسے اچ۔۔۔
کنجری۔۔۔پتہ نئیں کتھوں کتھوں یوا کے آئی تے مینوں گلاں سنان دئی۔۔۔رک ہنے ای تیری ماں دے کوسے اچ وڑداں۔۔۔
اتنا کہہ کر شاک کی کیفیت میں کھڑی سدرہ کو میں نے الٹا کیا اور اس کی گانڈ باہر نکالتے ہوئے۔۔۔
اپنا لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال کر زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔
سدرہ کی منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی۔۔۔میں نے اس کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا اور بولا۔۔۔
تیری پین نوں لن ماراں۔۔۔جے ہن تیری آواز آئی تے۔۔۔تیری بنڈ پھاڑ دینی میں۔۔۔ساتھ ہی متواتر جھٹکے مارتا گیا۔۔۔
غصے کے زیرِ اثر میری ٹائمنگ تھوڑی بڑھ گئی تھی۔۔۔
میں مسلسل گھسے مارتے ہوئے گالیاں بک رہا تھا۔۔۔رک تیری پھدی دا پھدا نا بنا دتا اج تے فیر آکھیں۔۔۔
تیرے پین دے کوسے اچ چھلیاں دی ریڑھی لاواں۔۔۔ہیرا منڈی دِیے گشتِیے۔۔۔کسے فینسی ٹیکسی دِیے۔۔۔
جے ہن اگوں چوں چراں کیتی تے تیری بنڈ اچ باں تن دینی۔۔۔تے جے اگر میری ہتھ تے بندھی گھڑی اندر رہ گئی تے تیرے کوسے اچوں اودے پیسے وصولاں گا۔۔۔
سدرہ بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی زور نال ہور۔۔۔زور نال۔۔۔اب مسلسل لن رگڑائی سے مجھے بھی اپنی رگوں میں جما ہوا خون انتہائی سپیڈ سے اچانک ٹانگوں کی طرف دوڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
میں گھسے مارتے مارتے اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے منی کی پہلی دھار ماری اس کے منہ سے بھی نکلا۔۔۔۔او گیا ای۔۔۔۔
ساتھ ہی اس کی پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا اور وہ آگے کی طرف گر گئی اور میں اس کے اوپر ہی ڈھے گیا۔۔۔
میں چند سیکنڈ ایسے ہی لن اس کے اندر کیے اس کے اوپر لیٹا رہا۔۔۔پھر جیسے ہی میں نے اپنا لن اس کی پھدی سے باہر نکالا وہ بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے منی سے لتھڑے لن کو منہ میں لے لیا اور انتہائی تیز رفتاری سے چوسنے لگی۔۔۔

چند سیکنڈ میں اس نے سارا لن منی سے صاف کر دیا۔۔۔اور اٹھ کر میرے سامنے بیٹھ کر بولی۔۔

سمیر آج جو تم نے مزہ دیا ہے یہ میں زندگی بھر نہیں بھول پاؤں گی۔۔۔
افففف اب تو سیکس کے دوران تم بھی گالیاں دینے لگے۔۔۔اور میں جو دل میں تھوڑا پشیماں تھا۔۔۔اس کی بات سن کر مسکرا دیا۔۔۔
وہ اٹھی اور فٹا فٹ اپنے کپڑے پہنتے ہوئے بولی کہ تم ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی اور میں وہیں بستر پر لیٹ گیا۔۔۔چند منٹ بعد اس کی واپسی ہوئی تو اس کے ہاتھ میں۔۔۔اس کا موبائل۔۔۔اور ایک اور موبائل کا ڈبہ اور دودھ کا گلاس تھا۔۔۔
دونوں موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے دودھ کا گلاس مجھے پکڑایا اور پینے کا بول کر خود دوبارہ میری ٹانگوں کے درمیان لیٹ کر میرا لن چوسنے لگی۔۔۔

میں نے دو منٹ میں دودھ کا گلاس ختم کیا اور سدرہ کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔۔۔اپنی بانہوں میں کس کر اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔
وہ فل گرم تو پہلے سے ہی تھی اس لئیے پورے جوش سے میری کس کا جواب دینے لگی۔۔۔کتنی دیر تک تو ہم لوگ صرف ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے۔۔۔اور زبانیں لڑاتے رہے۔۔۔وہ مسلسل میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔
جب وہ زبان چوس چوس کر تھک گئی۔۔۔تو میں نے اپنی زبان واپس اپنے منہ میں کھینچ لی۔۔۔
ابھی میں منہ بند بھی نہیں کر پایا تھی کہ اس نے اپنی زبان فوراً ہی میرے منہ کے اندر گھسا ڈالی۔۔۔
میں اس کی شہد بھری زبان کو چوسنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ میرے ہاتھ اس کے مموں کو مسلتے رہے۔۔۔زبان چوسنے کے بعد میں نے اس کی قمیض اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی اور زور و شور سے اس کے ممے چوسنے شروع کر دہے۔۔۔
اس کے نپل اکڑ کر فل سخت ہو چکے تھے۔۔۔
اب چونکہ ٹائم کم تھا اور میں چاہتا تھا کہ ایک دفعہ پھر اپنا پانی نکال لوں۔۔۔
تو میں نے سدرہ کو اٹھا کر گھٹنوں کے بل نیچے قالین پر بٹھایا اور خود اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر اپنا لن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے منہ کو ہی چودنا شروع کر دیا۔۔۔

دو منٹ منہ چدائی کے بعد میں نے سدرہ کو اٹھا کر بیڈ پر ڈوگی سٹائل میں کیا اور اس کی شلوار تھوڑی سی نیچے کر دی صرف اتنی کہ اس کی گانڈ اور پھدی کا سوراخ نظر آ رہا تھا۔۔۔

میں نے اپنا گیلا لن اس کی پھدی میں ڈال کر پوری رفتار سے اس کی پھدی کا بینڈ بجانا شروع کر دیا۔۔۔
دو منٹ تک گھسے مارنے کے بعد میں نے لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پوری جان سے گھسہ مارا۔۔۔سدرہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔۔آہ۔۔۔بلکل ایسے ہی جان۔۔۔

چند گھسوں بعد ہی سدرہ کا جسم اکڑا اور اس کی پھدی نے ہار مان لی۔۔۔سدرہ نے کچھ کہا اور ہلنے کی کوشش کی۔۔۔لیکن میں نے اس کی سنی ان سنی کر کے اس کو ہلنے سے روکا اور زور دار جھٹکے مارنے جاری رکھے۔۔۔


پانچ منٹ تک اور چودنے کے بعد میں نے سدرہ کو نیچے قالین پر ہی لٹاتے ہوئے اس کی پوری شلوار اتار کر پھینک دی۔۔۔اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر میں نے ایک زور دار گھسہ مارا تو میرا لن جڑ تک سدرہ کی پھدی میں داخل ہو گیا۔۔۔
میں نے پوری جان سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے لن کی ٹوپی ہر گھسے کے ساتھ سدرہ کی بچہ دانی میں گھس جاتی۔۔۔اور سدرہ کے منہ سے آہہہ۔۔۔آہہہ کی آواز نکل جاتی۔۔۔مسلسل پانچ منٹ تک اسی انداز میں گھسے مارنے کے بعد میرا جسم بھی اکڑنا شروع ہو گیا تو میں نے کہا سدرہ میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔
تو سدرہ نے اپنے دونوں ہاتھ میری گانڈ کے پیچھے رکھتے ہوئے مجھے اپنی پھدی کے اوپر دبا دیا۔۔۔
آخری گھسہ میں نے فل جان سے مارا اور میرے لن کی ٹوپی ایک دفعہ پھر اس کی بچہ دانی میں جا گھسی اور میرا لن وہیں اس کی بچہ دانی میں منی کی دھاریں چھوڑنے لگا۔۔۔
چند منٹ تک میں اور سدرہ ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے پڑے رہے۔۔۔پھر کچھ دیر بعد سدرہ نیچے سے ہلی تو میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔
سدرہ نے اٹھ کر میرے لن کو چوس کر صاف کیا۔۔۔فٹا فٹ اپنے کپڑے پہنے۔۔۔کمرے کا ایگزاسٹ فین چلایا۔۔۔اور روم سپرے سے اچھی طرح کمرے کو مہکا دیا۔۔۔
بستر کو چیک کیا کہ کہیں منی کا کوئی قطرہ نہ گرا ہو۔۔۔ایک دو جگہ پر ہلکا سا نشان تھا اس کو گیلے ٹشوز سے صاف کیا اور ٹشوز باہر پھینک کر کمرے کا دروازہ کھول دیا کہ کسی قسم کی مہک باقی نا رہے۔۔۔

پھر اس نے پاس پڑا موبائل کا ڈبہ اٹھا کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔۔سمیر یہ ایک چھوٹا سا تحفہ تمہاری جان کی طرف سے۔۔۔میں نےغور سے دیکھا۔۔۔وہ نوکیا 7210 موبائل تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے کہا۔۔۔جان اس کی کیا ضرورت تھی تو وہ کہنے لگی۔۔۔بس میں اپنے دل سے دے رہی ہوں۔۔۔بس اس کو فٹافٹ چھپا لو۔۔۔آفتاب آنے والا ہو گا۔۔۔

اتنی دیر میں سدرہ کا موبائل بجا۔۔۔آفتاب کی کال تھی۔۔۔اس سے بات کر کے سدرہ نے مجھے اپنا موبائل نمبر یاد کرواتے ہوئے بتایا کہ بس آفتاب اگلے دس منٹ میں پہنچ جائے گا۔۔۔
اس لیے میں اب جاتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ میرے اوپر جھکی اور میرے ہونٹوں کو چوم کر باہر نکل گئی۔۔۔


میں نے موبائل اپنے بیگ میں چھپا دیا اور ماچس جلا کر ایک سگریٹ سلگا لیا۔۔۔ماچس کی تیلی جلنے کی بو کمرے میں ہر سو پھیل گئی۔۔۔اور ہر قسم کی سمیل کے اوپر حاوی ہو گئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آفتاب کمرے میں آیا تو آتے ہی مجھ سے طبیعت بارے پوچھا تو میں نے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھابھی نے دودھ گرم کر کے دیا تھا تب سے آرام محسوس کر رہا ہوں۔۔۔
آفتاب کپڑے بدل کر لیٹ گیا۔۔۔تبھی دروازہ کھول کر سدرہ اندر آئی اور آفتاب کو دکھانے کیلئے مجھ سے پوچھا۔۔۔
ہاں سمیر اب بتاؤ طبیعت کیسی ہے تو میں نے جواب دیا بھابھی آپ نے جو گرما گرم دودھ پلایا ہے اس کے بعد اب کافی بہتر ہے۔۔۔
باقی اب آرام کروں گا تو صبح تک ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔۔
میری بات سن کر بھابھی نے گلاس اٹھایا اور گڈ نائیٹ بول کر باہر نکل گئیں۔۔۔میں اور آفتاب تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد سو گئے۔۔۔

اگلے دن صبح جلدی اٹھے۔۔۔چونکہ میں پچھلے روز ہی سب کو بتا چکا تھا کہ کل کچھ کام نبٹانے کے بعد میری ملتان واپسی ہے۔۔۔
تو صبح سدرہ بھابھی نے ناشتہ جلدی تیار کر دیا تھا۔۔۔9:45 پر ہم لوگ گھر سے نکلے اور پاس ہی ایک مشہور پلازہ کے پاس مومو کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
کیونکہ مومو نے یہی بولا تھا۔۔۔پورے دس بجے وہ ایک ٹیکسی میں آئی۔۔۔میں آفتاب کو الوداع کہہ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔ہم لوگ چل پڑے۔۔۔

کچھ دیر کے بعد ہم لوگ پاس ہی موجود کمرشل مارکیٹ میں اتر گئے۔۔۔وہاں مومو نے ایک دوکان سے کچھ شاعری کی کتابیں خرید کر مجھے گفٹ کیں اور کچھ کارڈز بھی لیے۔۔۔پھر اس نے وہ کارڈز میرے لیے لکھے اور مجھے دے دیے اور بعد میں کھولنے کا بولا۔۔۔
مومو کی معیت میں وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا اور شام کا وقت ہو گیا۔۔۔
میں واپس ملتان روانگی کیلیئے تیار ہو گیا۔۔۔لیکن نکلنے سے پہلے مومو سے اس کا موبائل نمبر لینا نہیں بھولا۔۔۔
حالانکہ میرے پاس ان دنوں موبائل نہیں ہوتا تھا۔۔۔واپس ملتان آ کر کارڈز کھولے تو دیکھا ان کارڈز میں چند اشعار لکھے تھے عاشقی معشوقی والے۔۔۔

نہایت معصومانہ انداز میں لکھی گئی تحاریر مجھے دلی طور پر متاثر کر گئیں۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ شاید مجھے اس لڑکی سے پیار ہو گیا ہے۔۔۔اسی طرح یادوں میں ٹائم گزرتا گیا اور میری مومو سے موبائل پر بات ہوتی رہی۔۔۔
کچھ دن بعد مومو نے مجھے ٹیلی نار کی ایک سم ٹی سی ایس کی۔۔۔جو کے میں نے اپنے ایک دوست کے ایڈریس پر منگوائی تھی۔۔۔
خود مومو نے بھی ٹیلی نار کی ایک سم لے لی۔۔۔ان دنوں ٹیلی نار کا ایک رات والا اچھا پیکج چل رہا تھا۔۔۔
ہم لوگ ساری ساری رات باتیں کرتے تھے اور کبھی کبھی سارا دن چیٹ کرتے تھے۔۔۔
سدرہ کے ساتھ بھی اس کے دیے ہوئے موبائل کے ذریعے اکثر بات ہو جاتی تھی۔۔۔
اب میرے لیے مومو سے بات کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ ہماری بات چیت میں سیکس کا موضوع بھی شامل ہوتا گیا۔۔۔ظاہر ہے کہ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے پیار میں ہوں تو ہر قسم کی دوری زہر لگتی ہے۔۔۔
اب ہم لوگ فون پر ہی سیکس کرنا شروع ہو گئے۔۔۔
پنڈی سے واپس آنے کے قریباً تین،ساڑھے تین مہینے بعد کی بات ہے کہ ہمارے گھر میں چاچی آئی ہوئی تھیں۔۔۔امی اور چاچی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔تبھی ان کی باتوں میں سدرہ کا ذکر آیا تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔
چاچی بتا رہی تھیں کہ سدرہ امید سے ہے۔۔۔اس کا تیسرا مہینہ شروع ہوا ہے۔۔۔
بچے کی ولادت کی خبر ملی تو پاپا مٹھائیوں سے لدے پھندے پنڈی روانہ ہو گئے۔۔۔
لیکن میں نہیں جا سکا۔۔۔۔ان دنوں میں کالج کے ایک ٹرپ کے ساتھ گیا ہوا تھا۔۔۔واپس آیا تو یہ ساری بات گھر سے پتہ چلی۔۔۔
دن پر لگا کر اڑتے گئے اور مجھے پنڈی سے واپس آئے ہوئے چودہ مہینے گزر چکے تھے۔۔۔پھر چند دن بعد میں کچھ دن کیلئے راولپنڈی گیا۔۔۔

ادھر پہنچتے ہی مجھے بخار ہو گیا اور 3 دن تک میں بخار میں مبتلا رہا۔۔۔
چوتھے دن میری طبیعت بہتر ہوئی اور میں مومو سے ملنے نکل پڑا۔۔۔اس کے بتائے ہوئے راستے سے ہو کر مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا۔۔۔
مومو نے مجھے اسی کے علاقے میں ایک مشہور پلازہ کے پاس ایک گلی میں آنے کو بولا تھا۔۔۔

میں بہت بے چینی سے مومو کا انتظار کر رہا تھا۔۔کچھ پانچ منٹ بعد میں نے سامنے سے مومو کو آتے ہوئے دیکھا۔۔۔اس نے ٹراؤزر کے ساتھ چیک والی کنٹراس میں قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔اس سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
وہ میرے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور ہم لوگ چل پڑے۔۔۔پھر سارا دن ٹیکسی میں ہی ادھر ادھر گھومتے پھرے اور باتیں کرتے رہے۔۔۔
اگلے دن ہم لوگ فیصل مسجد کی طرف نکل گئے۔۔۔دل تو ہم دونوں کا کر رہا تھا کہ سب فاصلے مٹا کر ایک دوسرے میں گم ہو جائیں پر کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔۔۔اور ہوٹلوں میں جانے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔ہوٹلز کا سوچ کر ہی ہم دونوں کی پھٹتی تھی۔۔۔
ہم لوگ مسجد کے پیچھے پہاڑ کی سائیڈ پر جانے لگے تو ایک پولیس والے نے بولا ادھر کیا لینے جا رہے ہو۔۔۔تو ہم نے بولا کہ بس ویسے ہے گھوم پھر رہے ہیں۔۔۔اس نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا اس طرف نہیں جا سکتے واپس جاؤ۔۔۔اور ہم لوگ ناکام اور نامراد واپس آگئے۔۔۔اسی طرح گھوم پھر کر اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔۔۔
رات کو پھر مومو سے کال پر بات ہوئی تو اس نے اگلے دن کا پلان بتایا۔۔۔
اگلے دن ہم لوگ کمرشل مارکیٹ کے پاس ایک پبلک پارک میں بیٹھ گئے۔۔۔اس دن آفتاب بھی ہمارے ساتھ تھا۔۔۔میں نے آئسکریم آرڈر کی۔۔۔اتنے میں آفتاب بولا تم لوگ باتیں کرو میں آتا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ اپنے موبائل پر کسی سے بات کرتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔۔۔


میں اور مومو آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔میں اس کی طرف یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔

میری آنکھوں کی تپش سے شرما کر اس نے اپنا منہ نیچے کر لیا اور بولی۔۔۔
کیا ہے سمیر کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو۔۔۔مجھے ایسے مت گھورو۔۔۔
ایک تو تمہارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے مجھے لیجانے کیلئے۔۔۔اوپر سے تم ایسی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہو تو میرا دل کرتا ہے کہ سب کچھ بھول کر یہیں تم پر ٹوٹ پڑوں۔۔۔
بہتر ہو گا کہ میری حالت پر رحم کرو۔۔۔اور یہاں سے اٹھو۔۔۔میں نے کہا جان اٹھ کر جائیں بھی تو کدھر جائیں گے۔۔۔
تو وہ بولی ہم شکر پڑیاں زیرو پوائنٹ چلتے ہیں۔۔۔لیکن پہلے یہ آفتاب سے پیچھا چھڑواؤ۔۔۔

میں وہاں سے اٹھا اور آفتاب کو بتایا کہ ہم لوگ شکر پڑیاں جا رہے ہیں۔۔۔اس نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی کہ بھائی اکیلے مت جاؤ۔۔۔تو میں سڑ کر بولا تو کیا باجی کا گارڈ بن کے ساتھ جائے گا۔۔۔
بہرکیف جیسے تیسے کر کے آفتاب سے جان چھڑائی اور ہم لوگ ٹیکسی میں شکرپڑیاں پہنچ گئے۔۔۔
وہاں ادھر ادھر گھومتے رہے اور ہم دونوں ہی کوئی مناسب جگہ ڈھونڈتے رہے پر ہر جگہ کوئی نا کوئی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
اسی طرح ہم چلتے چلتے پارک کے آخری کونے پر چلے گئے۔۔۔ وہاں سے چند سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں۔۔۔یہی کوئی 6 سٹیپ ہوں گے۔۔۔اور اس کے بعد ایک پگڈنڈی تھی جو کہ گھومتی ہوئی نیچے کیطرف جا رہی تھی۔۔۔
ہم اس راستے پر اتر گئے بلاشبہ وہاں نہ بندہ تھا اور نہ کوئی ذی روح۔۔۔صرف ہم دو تھے۔۔۔
ہم اس راستے پر اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر چلنے لگے۔۔۔ہم دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے چلتے رہے۔۔۔
دونوں کا دل کر رہا کہ اور کچھ نہیں تو گلے ہی مل لیں اور کم از کم لبوں کی پیاس تو بجھا لیں۔۔۔پر ایک انجانا سا خوف طاری تھا۔۔۔جیسے کوئی غیر مرئی طاقت ہمیں دیکھ رہی ہے۔۔۔
ہم لوگ وہاں کوئی ایک گھنٹہ ٹہلتے باتیں کرتے رہے۔۔۔
پھر اوپر پارک میں واپس آ گئے اور پارک کی ایک کٹی ہوئی سائیڈ پر بنی ہوئی پہاڑی ڈھلوان پر بیٹھ گئے۔۔۔
یہ علاقہ بھی عام نظروں سے اوجھل تھا۔۔۔مومو بیٹھ گئی اور میں اس کی گود میں سر رکھ کر ڈھلوان پر ہی لیٹ گیا ۔۔۔میں اس کی نزاکت،اس کے مہکتے بدن کی لپلپاہٹیں محسوس کرتے ہوئے مدہوش ہونے لگا۔۔۔


بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔دل کرتا تھا کہ وقت یونہی ٹھہر جائے اور ہم دونوں ایسے ہی پیار میں کھوئے رہیں۔۔۔لیکن برا ہو زمانے کا۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ ابھی ہمیں بیٹھے ہوئے کچھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک مومو بولی سمیر پولیس۔۔۔میں سمجھا مزاق کر رہی ہے لیکن جیسے ہی میں نے مڑ کر دیکھا تو میری اپنی بنڈ بندوق ہو گئی۔۔۔
نیلی وردیوں میں ملبوس دو پولیس والے ہمارے پاس آئے اور سخت لہجے میں بولے یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر کہا کہ بس بیٹھے ہیں باتیں کر رہے ہیں۔۔۔کیوں کیا بات ہے۔۔۔
تو اس نے بتایا کہ قانون کے مطابق لڑکا اور لڑکی اکیلے نہیں گھوم سکتے۔۔۔اگر آپ میاں بیوی ہو تو نکاح نامہ شو کرو۔۔۔میں نے بولا کہ یہ میری کزن ہے۔۔۔
لیکن وہ نہ مانے اور ہماری تلاشی لے کر ہمارے موبائل قبضے میں لیے۔۔۔اور یہ بول کر چلے گئے۔۔۔اگر ہم آپ کو پکڑ کر لے گئے۔۔۔تو سب لوگوں کو پتہ چلے گا۔۔۔تم دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔۔۔

چپ چاپ باہر پولیس چیک پوسٹ پر آ جاؤ پھر بات کرتے ہیں اور آپ کے موبائل ضمانت کے طور پر ہمارے پاس ضبط ہیں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ دونوں مڑے اور واپس چلے گئے۔۔۔ہم دونوں تھر تھر کانپ رہے تھے۔۔۔
میں نے وہاں سے بھاگنے کا راستہ سوچتے ہوئے مومو سے پوچھا تو وہ بولی نہیں سمیر بھاگ کر نہیں جا سکتے۔۔۔میرے موبائل میں پوری فیملی کی تصاویر اور نمبرز سیو ہیں۔۔۔اگر کچھ غلط ہو گیا تو۔۔۔
میں نے چند لمحے سوچا اور پھر حوصلہ کر کے ہم لوگ باہر چیک پوسٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔
میرا ذہن تیزی کے ساتھ بچاؤ کے راستے سوچ رہا تھا۔۔۔
کیا کروں۔۔۔۔
کیا کروں۔۔۔۔
کیسے بچیں۔۔۔۔
یہ سوچتے سوچتے اچانک چھن سے میرے دماغ میں حارث کا نام گونجا۔۔۔

جی ہاں دوستو آپ لوگ ٹھیک سمجھے۔۔۔
حارث۔۔۔
وہی حارث جس نے زبردستی میری گانڈ ماری تھی۔۔۔وہ پنجاب کا ایک طاقتور ترین بندہ تھا۔۔۔
میں نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا پرس نکالا اور پرس میں موجود اس کا کارڈ باہر نکالا۔۔۔

اس وقت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف مجھے اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے حارث سے بات کرنے کی ٹھان لی۔۔۔
تین سال پرانی بات پتہ نہیں اسے یاد بھی ہو گی کہ نہیں۔۔۔مگر میرے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔۔۔


دس منٹ بعد ہم لوگ چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔۔۔میں نے پلسیے کو بولا کہ مجھے دو منٹ کیلئے میرا موبائل دیں مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔
میں اپنے بڑے بھائی کو بلاتا ہوں۔۔۔اس نے گہری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے میرا موبائل میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔میں نے چند قدم پیچھے ہٹتے ہوئے جیب سے حارث کا کارڈ نکالا۔۔۔
نمبر ڈائل کیا۔۔۔
چند گھنٹیوں کے بعد کال اٹھا لی گئی اور آگے سے آواز آئی۔۔۔ہیلو۔۔۔شاید کال اس کے سیکرٹری نے اٹھائی تھی۔۔۔
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔جی میں سمیر بول رہا ہوں ملتان سے حارث صاحب کا دوست۔۔۔مجھے حارث صاحب سے بات کرنی ہے۔۔۔
آگے سے جواب دیا گیا کہ جی اچھا چند لمحے انتظار فرمائیے۔۔۔چند لمحات کے بعد حارث کی آواز سنائی دی۔۔۔ہاں بھئی کون بول رہا ہے۔۔۔
تو میں نے کہا حارث صاحب میں ہوں سمیر ملتان سے۔۔۔خانم کے کوٹھی خانے پر۔۔۔ابھی بات میرے منہ میں ہی تھی۔۔۔اچانک وہ بولا۔۔۔آہا سمیر کیسے ہو دوست۔۔۔آج کیسے میری یاد آ گئی۔۔۔
میں نے اسے ساری بات حرف بہ حرف سچ سچ بتا دی۔۔۔تو آگے سے وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کھوتے معشوق کو لیکر میرے پاس آ جاتا۔۔۔
ادھر ادھر کیوں بھٹک رہا تھا۔۔۔دراصل آج کل پنڈی اسلام آباد میں بہت سختی ہے۔۔۔
اس کیوجہ یہ ہے کہ چند لڑکوں نے اپنی معشوقاؤں کی سیکس وڈیوز لیک کر دیں ہیں۔۔۔جس کیوجہ سے چار لڑکیوں نے خودکشی کر لی۔۔۔
ان لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کسی سیاسی بندے کی بیٹی تھی۔۔۔تبھی اتنا شور مچا ہوا ہے۔۔۔باقی یار کوئی گل ای نئیں تیرے واسطے جان وی حاضر۔۔۔

تم اس آفیسر سے میری بات کرواؤ ذرا۔۔۔میں نے آفیسر کو بات کرنے کو بولا تو اس نے کہا کہ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔جس نے آنا یہاں آئے۔۔۔

میں نے یہی بات حارث کو بتائی تو اس نے کہا کہ اس کے سینے پر لگی پٹی سے اس کا نام پڑھ کر بتا دو۔۔۔
میں نے نام پڑھ کر بتایا تو حارث نے اوکے بول کر کہا کہ تم انتظار کرو۔۔۔یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔
اور میں نے موبائل واپس آفیسر کی ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔چند منٹ بعد ہی آفیسر کی جیب میں موجود موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا۔۔۔اور آگے سے کسی کی آواز سن کر ایک دم بوکھلا گیا۔۔۔
جی سر۔۔۔
جی سر۔۔۔
ہاں جی سر۔۔۔
ایک لڑکا اور لڑکی۔۔۔
سوری سر۔۔۔
غلطی ہو گئی جناب۔۔
ابھی لیں۔۔۔
بات کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا۔۔۔کال ختم ہونے کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور بولا سوری دوست سب غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔۔۔
پھر ہم دونوں کے موبائل پکڑاتے ہوئے بولا کہ آپ جا سکتے ہیں۔۔۔اور میں مومو کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔


تھوڑی دور آ کر ہم ٹیکسی میں بیٹھے اور واپس چل دیے۔۔۔ٹیکسی میں بیٹھتے ہی میں نے ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے حارث کو کال ملائی اور اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
تو اس نے کہا شکریہ کی کوئی بات نہیں تم دوست ہو میرے۔۔۔کبھی بھی کوئی مصیبت آن پڑے تو لازم یاد کرنا۔۔۔اور ادھر ادھر کی چند باتیں کر کے کال بند کر دی۔۔۔
میں نے مومو کو اس کے گھر سے تھوڑا دور اتارا اور خود آفتاب کی طرف چل پڑا۔۔۔
آج کے واقعے نے مجھے بہت ڈرا دیا تھا۔۔۔بال بال بچ گئے۔۔۔اگر بات آگے نکل جاتی تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔
گھر پہنچ کر کھانا کھایا اور آفتاب کے ساتھ گپیں لگانے لگا۔۔۔
سدرہ بھابھی کے بیٹا پیدا ہوا تھا میں نے بھی سب کے سامنے سدرہ کو دیور کی طرح ہی مبارک باد دی تھی۔۔۔
لیکن مجھے واضح محسوس ہو رہا تھا کہ سدرہ مجھ سے کچھ کھنچی کھنچی سی ہے۔۔۔

میں نے سدرہ کو اشاروں کنایوں سے کریدنے کی کوشش کی۔۔۔مگر اس نے کوئی جواب نئیں دیا۔۔۔
بس مجھے گھورنے پر اکتفاء کیا۔۔۔
پھر رات کو جب میں سو رہا تھا۔۔۔نیند کے دوران مجھے پاؤں پر تیز چبن کا احساس ہوا۔۔۔
تکلیف سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔دیکھا تو سدرہ سامنے کھڑی تھی۔۔۔اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہتے ہوئے اٹھ کر باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
اور خود باہر چلی گئی۔۔۔چند لمحوں بعد میں باہر نکلا اور سدرہ کے پیچھے چلتا ہوا۔۔۔اوپر چھت پر پہنچ گیا۔۔۔
اوپر جاتے ہی سدرہ نے بھاگ کر مجھے اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔
دس منٹ تک تو ہم ایک دوسرے کے ہونٹ ہی چوستے رہے۔۔۔
پتہ نہیں کیا بات تھی کہ جب بھی میں سدرہ کے ہونٹوں کو چوستا تھا۔۔۔مجھے ہمیشہ ایک نیا مزہ ملتا تھا۔۔۔
اس کے ہونٹ تھے ہی گلاب کی پنکھڑیوں جیسے۔۔۔اور ان ہونٹوں کی گولائیاں ایسی ظالم تھیں۔۔۔کہ مانو یہ ہونٹ بنے ہی چوپا لگانے کیلئے ہیں۔۔۔مسلسل چوما چاٹی کے بعد میں نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر سدرہ کو دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کی قمیض گلے تک اوپر چڑھا دی۔۔۔اس نے برا نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔
سدرہ کے بمب شیل ممے دیکھ کر میرا لن ایک دم پھنکاریں مارتا ہوا اٹھا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ میں سے ہوتا ہوا۔۔۔سدرہ کی پھدی کے لبوں پر دستک دینے لگا۔۔۔

میں نے سدرہ کے نپلز کو چوستے ہوئے اس کے مموں کو مسلنا شروع کر دیا۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میرا ٹراؤزر نیچے اتار کر میرے لن کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور آہستہ آہستہ دبانے لگی۔۔۔
میں نے اس کے ممے چوستے ہوئے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی شلوار کو آہستگی سے گھٹنوں تک نیچے اتار کر۔۔۔اسی ہاتھ سے اس کی گرما گرم پھدی کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیا۔۔۔
سدرہ ہونٹ بھینچے اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔اس کی پھدی فل گیلی ہو چکی تھی۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں تھوڑی سی کھول کر اپنا لن سامنے سے ہی اس کی پھدی کی لکیر میں رکھا۔۔۔اور اس کو ٹانگیں بند کرنے کا کہا۔۔۔
اس نے ٹانگیں بند کیں تو میں نے اس کے ممے چھوڑ کر دوبارہ اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے۔۔۔اپنا لن اس کی پھدی کی لکیر پر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔
میرے لن کی رگڑ سے سدرہ کے منہ سے سسکیوں کا نا رکنے والا طوفان جاری ہو گیا۔۔۔اور اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑھ دیے۔۔۔پھر اس نے دیوانوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے میرے سر کو پکڑا۔۔۔اور میرے ہونٹوں کو بھنبھوڑتے ہوئے۔۔۔آہیں بھرنے لگی۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ اپنی ٹانگیں سکوڑے۔۔۔خود ہی اپنی گانڈ کو آگے پیچھے ہلانا شروع ہو گئی۔۔۔
میرے لن کی رگڑ نے جیسے اس کے اندر آگ بھر دی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد سدرہ ساتھ والی منڈیر پر جھکی ہوئی میرا لن اپنی پھدی میں لیے آہیں بھرتے ہوئے مجھے مومو کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔آہہہ آہہہ۔۔۔سمیر۔۔۔ممم۔۔۔میں نے مومو کے بارے میں۔۔۔۔افففف۔۔۔سب پتہ کیا ہے۔۔۔آہ۔آہ۔یس۔۔۔۔۔
ابھی تک اس کی کہیں بھی منگنی نہیں ہوئی اور نا ہی اس کے گھر والوں کا فلحال ایسا کوئی ارادہ ہے۔۔۔یہ کہتے ہی سدرہ نے زور زور سے اپنی گانڈ گول گول گھمانی شروع کر دی۔۔۔ایک بچہ پیدا کرنے کے باوجود اس کی پھدی پہلے کی طرح ہی ٹائٹ تھی۔۔۔اب اس کی آہیں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میرا پانی اب تب میں نکلنے ہی والا ہے۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو پکڑا اور چند زور دار گھسوں کے بعد میں اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔میری منی کی پہلی دھار ہی اس کو منزل تک پہنچا گئی۔۔۔اور وہ بھی ہانپتی ہوئی جھڑنے لگی۔۔۔ہم دونوں کا پانی مکس ہو کر اس کی پھدی سے باہر رس رہا تھا۔۔۔سدرہ ایک دم مڑی اور مجھ سے لپٹ کر دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔
آہ۔۔۔تم کیا ہو سمیر۔۔۔اتنا مزہ دیتے ہو میری جان۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک دفعہ پھر میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے۔۔۔
چند منٹ کس کرنے کے بعد سدرہ نے اپنی گھٹنوں تک اتری ہوئی شلوار اوپر کی اور بولی۔۔۔
سمیر باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن مومو کا چال چلن کچھ اچھا نہیں محسوس ہو رہا۔۔۔
میری معلومات کے مطابق وہ انتہائی بولڈ لڑکی ہے اور اس طرح کی لڑکی کا ایک افئیر کے ساتھ گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔تم ضرور جاؤ اور اس سے ملو۔۔۔مستی کرو۔۔۔لیکن تھوڑا احتیاط کرنا۔۔۔
تب تک میں اور معلومات نکالنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔۔پھر نیچے جاتے ہوئے راستے میں رک کر بولی۔۔۔
سنو میں نے تمہارے بیٹے کا نام شہہ زور رکھا ہے۔۔۔

میں نے چونک کر سدرہ کا بازو تھام کر پوچھا۔۔۔کیا کہا تم نے۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔
تو وہ بولی ہاں جب تم پچھلے سال آئے تھے تو تمہارے جانے کے چند دن بعد ہی مجھے حمل ٹھہر گیا تھا۔۔۔اور یہ شہہ زور تمہارا ہی بیٹا ہے یہ میں جانتی ہوں یا تم۔۔۔
اس لحاظ سے تم سے ناتا اب اور پکا ہو گیا۔۔۔
یہ کہہ کر سدرہ نیچے چلی گئی اور میں بھی نیچے جا کر واپس سو گیا۔۔۔
اگلے دن صبح ناشتے کے بعد میں نے سب کے سامنے سدرہ کے بیٹے کو اٹھایا۔۔۔وہ کہتے ہیں ناں کہ خون کشش مارتا ہے۔۔۔تو اس وقت میرے ہاتھوں میں میرا اپنا خون تھا۔۔۔میرا اپنا لختِ جگر۔۔۔میں پاگلوں کی طرح اس کو پیار کر رہا تھا۔۔۔چھوٹا سا پیارا سا بچہ آنکھوں کے راستے میرے دل میں کھب گیا۔۔۔
سدرہ سب کو سنانے کیلئے مجھے بولی۔۔۔کیا بات ہے سمیر۔۔۔چاچو کو بہت پیار آ رہا ہے بھتیجے پر۔۔۔تو میں بھی اسی ٹون میں بولا۔۔۔
بھابھی یہ میرا بھتیجا نہیں یہ تو میرا بیٹا ہے۔۔۔میرا پیارا سا ننھا منا سا بیٹا۔۔۔ساتھ ہی میں نے جیب سے کچھ پیسے نکال کر بیٹے کی نظر اتاری اور بچہ سدرہ کو پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔لیں بھابھی اپنا بیٹا سنبھالیں اور یہ پیسے بھی کسی غریب کو دے دیجیئے گا۔۔۔
میں نے پیسے اور بچہ دونوں سدرہ کو پکڑاتے اور واپس کمرے میں چلا گیا۔۔۔اپنے بیٹے کو پکڑ کر میرے دل کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔دل بار بار بچے کی جانب کھینچا چلا جا رہا تھا۔۔۔
گیارہ بجے مومو کی کال آئی اور اس نے دوبارہ ملنے بلایا۔۔۔میں تیار ہو کر چلا گیا۔۔۔
اس کو مقررہ جگہ سے اٹھایا اور مومو نے ہی ٹیکسی والے کو 6 روڈ کی طرف چلنے کا کہا۔۔۔ٹھیک پندرہ منٹ بعد ہم دونوں 6 روڈ کے کارنر پر موجود ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔
ہم لوگ سیدھا نیچے بیسمنٹ میں چلے گئے۔۔۔جہاں کیبن بنے ہوئے تھے۔۔۔ہم لوگ ایک کیبن میں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں ویٹر آ گیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا۔۔۔مومو نے دو ایپل جوس کا آرڈر دے دیا۔۔۔
ویٹر کے جانے کے بعد میں نے مومو کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اٹھ کر میری گود میں ہی آن بیٹھی۔۔۔میں نے بنا وقت ضائع کیے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دیے اور اس کے ہونٹوں کی چاشنی کشید کرنا شروع کر دی۔۔۔
دو منٹ کی کس کرنے کے بعد مومو نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلا اور اٹھ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
میں یک ٹک مومو کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ اپنی آنکھیں اوپر اٹھاتی مجھے دیکھتی اور پھر شرما کر نظریں جھکا لیتی۔۔۔قسم سے یارو اس کی یہ معصوم ادائیں دل کو کھینچتی تھیں۔۔۔
مجھے لگا کہ سدرہ نے مومو کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔۔۔مومو غلط لڑکی نہیں ہو سکتی۔۔۔


اتنی دیر میں ویٹر نے آ کر جوس سرو کر دیا۔۔۔میں نے ویٹر کو بولا کہ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود بتا دوں گا۔۔۔
اور وہ حرامی چہرے پر مسکان لیے واپس مڑ گیا۔۔۔شاید اس لیے کہ یہ فقرہ وہ دن میں پچاسوں بار سنتا ہو گا۔۔۔
بہرحال مجھے کیا۔۔۔
ماں چداوے جو مرضی سوچے۔۔۔

میں نے دوبارہ اپنا فوکس مومو کی طرف کرتے ہوئے جوس کا گلاس اٹھایا۔۔۔
اتنے میں مومو بولی ٹھہرو تم کو جوس میں خود پلاتی ہوں۔۔۔اس کے لہجے میں کچھ بات تھی۔۔میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ اٹھی اور میرے گلاس سے جوس کا ایک گھونٹ بھر کر گلاس ٹیبل پر رکھا اور خود آ کر میری گود میں بیٹھتے ہوئے اپنے منہ سے مجھے جوس پلانے لگی۔۔۔

مومو کے اس انداز نے مجھے اتنا ایکسائیٹڈ کیا کہ جینز کی پینٹ میں میرا لن اکڑنے لگا۔۔۔
ہم نے دونوں گلاس ایسے ہی خالی کیے۔۔۔پہلے وہ مجھے پلاتی رہی پھر میں اسے پلاتا رہا۔۔۔
جوس ختم ہونے کے بعد بھی ہم دونوں مسلسل ایک دوسرے کے ہونٹ بھنبھوڑتے رہے۔۔۔
اس کی خوشبو دار سانسیں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔میں کبھی اس کا نچلا ہونٹ چوستا تو کبھی اوپر والا۔۔۔وہ بھی اپنے ہونٹوں کا دباؤ بڑھا رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اس کی زبان میرے ہونٹوں کی گرفت میں آ گئی۔۔۔میں نے نرمی سے اس کی زبان کو ہونٹوں میں لے کر شد مد سے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔
میں مدہوش سا ہو رہا تھا۔۔۔ایک شہد کا دریا سا پھوٹ پڑا تھا۔۔۔جس کی مٹھاس میرے رگ و پے میں اتر کے فرحت بخش رہی تھی۔۔۔
میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے بتیس سائز کے گول مٹول ممے کو پکڑ لیا۔۔۔یکبارگی مومو نے اپنی زبان میری گرفت سے چھڑوائی اور میری گود سے اٹھ کر اپنی کرسی کی جانب بڑھی تو میں نے پیچھے سے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے واپس اپنی گود میں کھینچ لیا۔۔۔اب سچویشن یہ تھی کہ مومو میری گود میں تھی اور اس کا منہ بھی دوسری طرف تھا۔۔۔
میں اس کی گردن کو چوم رہا تھا اور میرے دونوں ہاتھ اس کے مموں کا احاطہ کیے ہوئے گستاخیوں پر آمادہ تھے۔۔۔

مومو گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر مومو کی پھدی پر رکھا تو وہاں چپچہاہٹ محسوس ہوئی۔۔۔
اپنی پھدی پر میرا ہاتھ محسوس کر کے وہ ایک دم لرز گئی اور زور لگا کر خود کو مجھ سے چھڑوایا اور سامنے موجود دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
وہ پوری طرح گرم ہو چکی تھی لیکن یہاں اس جگہ پر چدائی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مومو کو اس کے سٹاپ پر اتار کر میں ٹیکسی میں ہی واپس گھر چل پڑا۔۔۔
آفتاب اور ارمغان گھر موجود نہیں تھے۔۔۔وہ کسی کام کیلئے گئے ہوئے تھے۔۔۔گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اچانک مجھے ٹٹوں میں درد ہونا شروع ہو گیا۔۔۔
ایسا لگتا تھا کہ جیسے ٹٹے منوں وزنی ہو گئے ہوں۔۔۔میں کچھ دیر تو اس دیر کو برداشت کرتا رہا۔۔۔
پھر جب تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں نے سوچا کہ باہر جا کر کسی قریبی ڈاکٹر سے کنسلٹ کرتا ہوں۔۔۔
ابھی میں اٹھ کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔میری شکل پر تکلیف کے آثار دیکھ کر وہ فکر مندی سے بولی۔۔۔
سمیر۔۔۔کیا ہوا۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔
میں نے اسے اپنی تکلیف کے متعلق بتایا تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔پاگل جب بھی ڈیٹ پر جاؤ۔۔۔شلوار قمیض پہن کر جایا کرو۔۔۔پھر میں لن کی طرف اشارہ کر کے بولی۔۔۔
ایسے اس بے چارے پر ظلم کرو گے تو بعد میں درد تو ہو گا ہی ناں۔۔۔
تم ایسا کرو کہ لیٹ جاؤ میں ابھی اس کا علاج کرتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے مجھے دھکیلتے ہوئے بستر پر گرایا اور لٹا دیا۔۔۔ساتھ ہی میری پینٹ اتار کر میرے پاؤں سے نکال دی۔۔۔میں نے کہا سدرہ دروازہ لاک کر لو۔۔۔

تو وہ بولی ابھی کون حرامی ادھر آئے گا۔۔۔بس چپ چاپ لیٹ جاؤ اور میرے کسی بھی کام میں دخل اندازی مت کرو۔۔۔

یہ کہہ کر سدرہ نے میرے لن پر جھکتے ہوئے اسے منہ میں بھر لیا اور آہستہ آہستہ سے چوسنے لگی۔۔۔
حیرت انگیز طور پر لن کھڑا ہوتے ہی درد میں واضح کمی محسوس ہوئی اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
مجھے یوں اٹھتے دیکھ کر سدرہ نے لن منہ سے باہر نکالا اور بولی کیا ہوا۔۔۔میں نے کہا کچھ نہیں تم اپنا کام جاری رکھو۔۔۔اور وہ دوبارہ لن کو چوسنے لگی۔۔۔
مومو سے ملاقات کے دوران لن کافی دیر کھڑا رہا تھا۔۔۔اس لیے ذیادہ دیر نہیں لگی۔۔۔اور میرا جسم اکڑنے لگا۔۔۔
سدرہ کے جاندار چوپوں نے پانچ منٹ میں ہی میرے لن کو ہار ماننے پر مجبور کر دیا۔۔۔
میرے لن نے منی کی دھاریں خارج کرنا شروع کیں جن کو سدرہ اپنے حلق سے نیچے اتارتی گئی۔۔۔


منی نکلنے کے بعد مجھے اپنے ٹٹوں میں ٹھنڈک سی پھیلتی محسوس ہوئی اور درد کا شائبہ تک نہیں رہا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میں بلکل ہشاش بشاش تھا۔۔۔سدرہ شرارتی انداز میں بولی ہاں اب بتاؤ درد کدھر گیا۔۔۔
تو میں بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔۔کونسا درد میری رانی۔۔۔
یہ کہہ کر میں نے سدرہ کو دبوچ کر اپنے اوپر گرا لیا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد سدرہ کی قمیض گلے تک چڑھی ہوئی تھی اور شلوار ایک سائیڈ پہ زمین پر پڑی ہوئی تھی۔۔۔
میری پینٹ تو پہلے ہی اتری ہوئی تھی۔۔۔میں مسلسل سدرہ کے نپلز چوس رہا تھا۔۔۔اور سدرہ آہہہ۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔کرتے ہوئے مزے اور مستی میں سر کو ادھر ادھر ہلا رہی تھی۔۔۔
کمرے میں تھاہ۔۔۔تھپ۔۔۔تھاہ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔میں اپنا لن سدرہ کی پھدی میں ڈالے پوری رفتار سے اسے چود رہا تھا۔۔۔
اور یہ آوازیں میرے اور اس کے جسم کے ٹکرانے سے پیدا ہورہی تھیں۔۔۔ایک زبردست چدائی کے بعد ہم دونوں فارغ ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

=©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©=

دوبارہ آنکھ کھلی تو دیکھا کہ سدرہ دوسری طرف منہ کیے سو رہی ہے۔۔۔اور اس کی سیکسی گانڈ میری طرف تھی۔۔۔اس کی گانڈ کو دیکھتے ہی میرا لن پھر سے سر اٹھانے لگا۔۔۔میں نے اپنے لن کو تھوک لگایا اور اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر تھوڑی آگے کو کی اور لن کو اس کی پھدی کی لکیر میں پھیرنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ اس کے مموں اور گانڈ پر بھی ہاتھ پھیرتا رہا۔۔۔سدرہ شاید کوئی سیکسی خواب دیکھ رہی تھی یا پھر میری حرکتوں کو ہی خواب سمجھ رہی تھی۔۔۔اس لیے اس کی پھدی کافی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔میں نے سدرہ کی اوپر والی ٹانگ کو تھوڑا اور آگے کیا اور اپنے لن کو اچھی طرح سے تھوک لگا کر ایک ہاتھ سے اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کے نپل کو مسلتے ہوئے ایک زور کا گھسہ مارا تو نیند میں ہی اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔۔۔اور ساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئی پہلے تو اس نے بجلی کی سی تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ کی گرفت نے اسے اٹھنے سے روک دیا۔۔۔اتنی دیر میں وہ بھی ساری سچویشن کو سمجھ چکی تھی تو سی سی کرتے ہوئے مجھے لن باہر نکالنے کو بولا۔۔۔جیسے ہی میں نے لن باہر نکالا تو وہ میری طرف مڑی اور کھٹکنی بلی کی طرح دانت نکوستے ہوئے مجھے دونوں ہاتھوں سے مارنے لگی۔۔۔
کمینے،پین چود،گانڈو،۔۔۔یہ کیا حرکت تھی۔۔۔کیا میں نے منع کیا تھا جو ایسے حملہ کیا۔۔۔میں نے اس کے ہاتھوں کی ضربوں سے خود کو بچاتے ہوئے کہا۔۔۔جانو کیا کرتا۔۔۔سوتے ہوئے تیری گانڈ میں طرف ہو گئی تھی تو میرے لن نے مجھے جگا دیا۔۔۔اور اتنی چکنی اور خوبصورت گانڈ دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔


لڑکی کی تعریف جس چیز کی بھی کرو وہ خوش ہی ہوتی ہے۔چاہے گانڈ کی ہی تعریف کرو۔۔۔


سدرہ اپنی تعریف سن کر تھوڑا ٹھنڈی ہوئی لیکن پھر بھی آنکھیں نکالتے ہوئے بولی۔۔۔گانڈو لن تو تم نے پھدی میں ڈالا ہے۔۔۔تعریف گانڈ کی کر رہے ہو۔مطلب جھوٹی تعریف کر کے بچنا چاہتے ہو۔۔۔تو میں نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا جانو میں سچ کہہ رہا ہوں آج تک اتنی پیاری گانڈ نہیں دیکھی۔۔۔میرا بہت دل کیا تیری گانڈ مارنے کو پر دماغ نے سمجھایا کہ نہیں پہلے اپنی جان کی پھدی کی پیاس بجھا دو۔۔۔اپنا شوق پھر پورا کر لینا۔اس لیے دماغ کی سنی اور لن کو پھدی میں پیل دیا۔۔۔سدرہ نے میری بات سنی تو خوشی سے پھول گئی اور ہاتھ نیچے کر کے میرے لن کو سہلاتے ہوئے بولی سمیر صاحب آپ ہوا کے جھونکے کی طرح آئے ہیں اور واپس چلے جائیں گے۔۔۔میں تمہیں تمہاری مرضی ضرور کرنے دیتی پر مجھے میرا انعام چاہیے۔۔۔یاد ہے نا رات کو ذکر ہوا تھا۔۔۔تو وہ انعام یہی ہے کہ میں اپنا پہلا بچہ تم سے چاہتی ہوں۔۔۔تو جتنے دن بھی تم یہاں ہو مجھے روزانہ کم از کم ایک دفعہ ضرور چودو۔۔۔میری پھدی میں روزانہ اپنا پانی نکالو۔۔۔مجھے تمہارے بچے کی ماں بننا ہے۔۔۔پہلا حمل تم سے کروانا چاہتی ہوں۔۔۔
یہ کہہ کر سدرہ اٹھی اور میری ٹانگوں کے بیچ لیٹتے ہوئے میرے لن کو منہ میں لے کر قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔اور میں دل میں سوچ رہا تھا کہ بچے وچے کا تو مجھے نہیں پتہ پر بھابھی تجھے چودوں گا تو ایسے کہ مدتوں یاد رکھو گی۔۔۔کچھ دو منٹ تک میرے لن کو مسلسل چوسنے کے بعد سدرہ اٹھی اور میری سائیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے اوپر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں نے اس کے اوپر آتے ہوئے اس کی دونوں ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور سائیڈوں پر کھولتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال دیا۔۔۔لن کی ٹوپی اس کی پھدی کو چیرتی ہوئی اس کی بچہ دانی میں گھس گئی۔اور سدرہ کے منہ سے مزے کی وجہ سے اففففففففف نکل گیا۔۔۔


میں نے گھسے مارنے شروع کیے تو اس نے بھی نیچے سے اپنی گانڈ ہلا ہلا کر پھدی کی تال میرے لن کے ساتھ ملانا شروع کر دی۔۔۔اس کی پھدی کافی گیلی ہو چکی تھی جس کیوجہ سے اسے مزہ آنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔تھوڑی دیر ایسے ہی چودنے کے بعد میں نے سدرہ کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر لن اندر ڈالا اور دوبار گھسوں کی پمپ ایکشن چلا دی۔۔۔سدرہ کی پھدی کے ہونٹ اتنی چدائی کی وجہ سے تھوڑا سوج چکے تھے۔۔۔اب تو میں جیسے ہی گھسہ مارتا اس کے منہ سے بے اختیار نکل جاتا۔۔۔افففففففف۔ظا۔۔۔۔ظالم۔۔م۔م۔م۔۔۔۔پھاڑ دتی میری پھدی۔۔۔ہائے نی ماں میں لوڑے لگ گئی۔۔۔میری پھدی دا پھدا بنا چھڈیا۔۔۔افففففف۔۔۔سمیر جانو۔۔۔تیرا تگڑا لن میری پھدی دا حشر خراب کیتی جاندا۔۔۔ٹھوک اس پین چود نوں۔۔۔وجا۔۔۔وجا۔۔۔ہور۔۔۔۔وجا۔۔۔۔اپنے سوٹے ورگے لن نال سٹاں مار مار۔۔۔پھدی پولی کر دے۔۔۔ ہائےماں۔۔۔۔مر گئی۔۔۔۔۔


سدرہ کی یہ سیکسی باتیں مجھے اور بڑھاوا دے رہی تھیں اور میرے گھسے مارنے کی سپیڈ نوے تک پہنچ گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی سدرہ کہنے لگی۔۔۔سمیر زور دی۔۔۔میں چھٹن لگی۔۔۔۔آں۔۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ اب میرا بھی پانی نکلنے لگا ہے۔اوپر سے سدرہ کی سیکسی باتیں سنتے ہی میرا لن ہار مان گیا اور اس کی بچہ دانی کو منی سے بھرنے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی میں سدرہ کے کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔اس وقت صبح کے چھ بج رہے تھے۔تو آفتاب کے کمرے میں جا کر میں سو گیا۔۔۔دوبارہ میری آنکھ 9 بجے کھلی۔۔۔نہا دھو کر میں نیچے آیا تو سب لوگ ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔میں بھی ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھ گیا اور گھر والوں کے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔۔۔ناشتے کے بعد آفتاب کے پاپا مجھ سے گھر کے متعلق اور دادی امی کے بارے میں خیر و عافیت پوچھنے لگے۔۔۔اس کے بعد خاندان کے متعلق باتیں ہوتی رہیں تو ٹائم کا پتہ ہی نہیں چلا اور ٹھیک بارہ بجے جب ہم لوگ چائے پی رہے تھے۔۔۔آفتاب اور ارمغان گھر میں داخل ہوئے۔۔۔اس وقت آفتاب کے پاپا ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت جانی اور اٹھ کر اوپر آفتاب کے کمرے میں چلا گیا۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ آفتاب سیدھا اوپر ہی آئے گا۔۔۔اور وہی ہوا تھوڑی دیر بعد ہی آفتاب کمرے میں داخل ہوا اور تھکا ماندا میرے ساتھ ہی لیٹ گیا۔۔۔چند سیکنڈز کی خاموشی کے بعد آفتاب بولا سوری جگر کام کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ مجھے جانا پڑا لیکن تم بے فکر رہو آج ہی میں کچھ جگاڑ لگاتا ہوا اور تیری مومو کی خبر نکالے دیتا ہوں۔۔۔میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔چونکہ وہ سفر سے آیا تھا تو جلد ہی سو گیا اور میں کمپیوٹر آن کر کے موویز دیکھنے لگا۔۔۔اسی طرح موویز دیکھتے ہوئے میں نے کافی ٹائم گزار لیا۔۔۔شام پانچ بجے آفتاب نیند سے جاگا اور نہا دھو کر فریش ہوا۔۔۔تو بولا کہ چل جانی بھوک بہت لگی ہے۔۔۔صبح سے ناشتہ کیا ہوا ہے۔۔۔

میں جل کر بولا ہاں۔۔۔ہاں بھائی میرے لیے تو پی سی ہوٹل،،،پرل کانٹی نینٹل،،،سے کھانا آیا تھا ناں دوپہر کو۔۔۔تو وہ فوراً اٹھ کر بولا اوہ یار تم کھا لیتے۔بلاوجہ ہی بھوکے رہے۔۔۔چل اب اٹھ جا فٹا فٹ۔۔۔ہم دونوں گھر سے نکلے اور قریبی ریسٹورنٹ میں جا پہنچے۔۔۔کھانا کھانے کے بعد آفتاب کچھ سوچتے ہوئے بولا چل جانی سیدھا مومو کے گھر ہی چلتے ہیں۔۔۔ میں ایک دم گڑبڑا گیا اور بولا کہ میں کیسے جا سکتا ہوں۔۔۔


کھانا کھانے کے بعد آفتاب کچھ سوچتے ہوئے بولا چل جانی سیدھا مومو کے گھر ہی چلتے ہیں۔۔۔
میں ایک دم گڑبڑا گیا اور بولا کہ میں کیسے جا سکتا ہوں۔۔۔تو آفتاب نے کہا چپ چاپ میرے ساتھ چلو۔۔۔مومو کا بھائی ریحان میرا دوست ہے اور اس نے مجھے کچھ فلموں کی سی ڈیز لانے کو بولا تھا۔۔۔وہ دینے کے بہانے چلتے ہیں اور میں کوشش کروں گا کہ تم مومو کو دیکھ اور بات کر سکو۔۔۔
میں اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔ہم لوگ وہاں سے آفتاب کے گھر پہنچے۔۔۔آفتاب نے اپنا سی ڈی بیگ اٹھایا اور ہم لوگ دس منٹ کی ڈرائیو پر موجود مومو کے گھر جا پہنچے۔۔۔جہاں مجھے گیسٹ روم میں بٹھا کر خود آفتاب گھر کی اندرونی سائیڈ پر چلا گیا۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ اب کیا ہو گا کچھ دیر میں مجھے مومو کی آواز سنائی دی۔۔۔جو کہ کسی کو بول رہی تھی کہ جاؤ ذرا اندر چائے دے آؤ۔۔۔
میں اس کو دیکھنے کیلئے بے چین ہو گیا ایک بچہ اندر آیا جو کہ مومو کا چھوٹا بھائی عمیر تھا۔۔۔مجھے چائے کا کپ تھما کر چلا گیا۔۔۔تھوڑی دیر بعد آفتاب آیا اور مجھے لیکر وہاں سے چل دیا۔۔۔
باہر جا کر بائیک پر بیٹھ کر ہم وہاں سے نکلے اور پاس ہی کمرشل ایریا میں موجود ایک پبلک پارک میں چلے گئے۔۔۔میں انتظار میں تھا کہ وہ کچھ بولے گا۔۔۔لیکن کمینہ چسکے کی خاطر چپ رہا۔۔۔
میں بھی پکے ارادے کے ساتھ خاموش تھا کہ چوتیا خود ہی کچھ بولے گا۔۔۔اور پھر چند منٹ کی خاموشی اور دو سگریٹ ادھیڑنے کے بعد وہ بولا ہاں سمیر ابھی کدھر کھانا کھلائے گا۔۔۔
میں بولا بھائی پہلے بتاؤ تو سہی ہوا کیا لیکن وہ کمینے پن سے کھانے کی بات کرنے لگا۔۔۔تو میں نے کہا بھائی کھانا بھی کھا لینا اور بھی جو بولو کر لیں گے۔۔۔لیکن کچھ بتاؤ تو سہی تو اس نے مجھے بتایا کہ مومو نے کل ملنے بلایا ہے صبح دس بجے۔۔۔
یہ سننا تھا کہ میں اچانک اس سے لپٹ گیا اور خوشی خوشی میں چٹا چٹ اس کی چار پانچ چمیاں لے ڈالیں۔۔۔ خیر ہم نے وہاں بیٹھ کر اگلے دن کا پروگرام ترتیب دیا اور کچھ دیر بعد گھر واپس چلے گئے۔۔۔۔
گھر جا کر سب کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی۔۔۔اسی دوران سدرہ نے مجھے آنکھوں سے اشارہ کیا۔۔۔میں واش روم جانے کے بہانے سے اٹھا اور سست روی سے چلتا ہوا سیڑھیاں چھڑ کر اوپر آفتاب کے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔
میں سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ سدرہ بھی اوپر کمرے آ گئی اور آتے ہی اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔
ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے میرے لن اور ٹٹوں کو سہلانے لگی۔۔۔چند سیکنڈ کی کس کے بعد سدرہ نیچے بیٹھی اور فٹا فٹ میرا لن باہر نکال کر اس کو منہ میں بھر لیا۔۔۔

سدرہ کے اس اقدام پر میری گانڈ پھٹ گئی اور میں دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔بہن چود ادھر سب لوگ بیٹھے ہیں۔۔۔آفتاب کسی وقت بھی اوپر آ سکتا ہے اور ارمغان بھی تو ہے۔۔۔یہ کہہ کر میں نے زبردستی اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالا اور اس دھکیل کر پیچھے کر دیا۔۔۔
لن اندر کر کے پینٹ کی زپ بند کی اور سدرہ کو گھورنے لگا جو کہ ابھی تک اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مجھے جوابی طور پر گھور رہی تھی۔۔۔چند سیکنڈز کی خاموشی کے بعد سدرہ بولی ایک تو تم لونڈوں کی بھی سمجھ نہیں آتی۔۔۔گانڈو پہلے پھدی لینے کیلئے پہاڑ چڑھنے پر مان جاتے ہو پھر ڈر سے گانڈ بھی پھٹتی ہے۔۔۔
میں دانت پیستے ہوئے بولا۔۔۔سدرہ کی بچی باز آ جاؤ ابھی آفتاب یا ارمغان میں سے کوئی اوپر آ گیا ناں تو پمپ ایکشن تیری گانڈ میں ڈال کر سیدھا فائر مار دینا انہوں نے۔۔۔تو آگے سے وہ بولی ارمغان کی فکر مت کرو کل اور آج کام کر کر کے تھک گیا ہے تو اب نیند کی گولی کھا کر سو جائے گا۔۔۔پھر صبح سے پہلے اس کو ہوش نہیں آنے والی۔۔۔رہ گیا آفتاب تو اس کے لیے بھی میں نے ایک کام نکال کر رکھا ہوا ہے۔۔۔بے فکر رہو وہ بھی چلا جائے گا بس تم کوئی بہانا کر کے رک جانا۔۔۔
پھر اتنا ٹائم تو مل ہی جائے گا کہ تم۔۔۔۔یہ کہہ کر سدرہ نے آگے ہو کر پھر میرا لن پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اپنی پھدی کھجاتے ہوئے بولی۔۔۔۔تم اپنے اس پمپ ایکشن سے میری اس پیاسی چوت میں فائر کر سکو۔۔۔ اتنا کہہ کر وہ باہر نکلنے کیلئے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔پھر دروازے کے پاس رک کر ایک انگلی دکھاتے ہوئے مجھے تنبیہی انداز میں اشارہ کیا اور دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر دائرہ بنایا اور اس میں انگلی گھسا کر مجھے دکھائی اور باہر نکل گئی۔۔۔
میں اس کا مطلب سمجھ گیا تھا۔۔۔وہ اشاروں میں یہ کہہ گئی تھی کہ اگر تم نے کوئی گڑبڑ کی یا آفتاب کے ساتھ باہر چلے گئے۔۔۔تو یہ انگلی تیری گانڈ میں گھسیڑ دوں گی۔۔۔
مجھے سدرہ کی اس حرکت سے بے اختیار خانم کا ڈیرہ،حارث،اور اپنی گانڈ مروائی یاد آ گئی۔۔۔
بے اختیار میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا پرس نکالا اور حارث کا دیا ہوا کارڈ تلاشنے لگا۔۔۔جو کہ ایک سائیڈ پر پڑا ہوا مل گیا۔۔۔
میں چاہتے ہوئے بھی اسے نہ پھینک پایا۔۔۔اور واپس پرس میں ڈال لیا۔۔۔ابھی میں اسی سوچ و بچار میں تھا کہ آفتاب کمرے میں داخل ہوا اور ہم لوگ ادھر ادھر کی ہانکنے لگے۔۔۔ظاہری سی بات ہے دو جوان لڑکوں کی باتوں میں لڑکیوں کا ہی ذکر ہو گا۔۔۔
میں اور آفتاب اپنے اپنے کھاتے بڑھا چڑھا کر ایک دوسرے کو سناتے رہے۔۔۔کچھ دیر بعد آفتاب فریج سے بئیر کے دو کین اٹھا لایا۔۔۔
ہم باتیں کرتے ہوئے بئیر کے سپ لینے لگے۔۔۔اب میرا دھیان باتوں کی طرف کم تھا اور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کیا بہانہ ماروں جو آفتاب کے ساتھ نہ جانا پڑے۔۔۔اب رات بج چکے تھے ہم لوگوں  کھانا کمرے میں ہی کھایا اور کھانے کے بعد قریباً دس بجے کمرے میں ہی بیٹھ کر کمپیوٹر پر گیم کھیل رہے تھے۔۔۔
کہ اچانک مجھے واش روم کی ضرورت محسوس ہوئی۔۔۔میں اٹھ کر واش روم میں چلا گیا۔۔۔


ضرورت سے فارغ ہو کر باہر نکلنے کیلئے دروازہ کھولا تو مجھے سدرہ کی آواز سنائی دی۔۔۔وہ آفتاب کو کہہ رہی تھی کہ آفتاب بھائی میرا ایک کام کر دو گے۔۔۔
آفتاب بولا ہاں بھابھی بولو کیا کام ہے۔۔۔تو سدرہ بولی تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ امی سانس کی مریض ہیں تو آج ارمغان لاہور سے امی کیلئے انہیلر لائے ہیں جو کہ انہوں نے سعودی عرب سے کسی دوست کے ہاتھ منگوایا ہے۔۔۔اب اچانک امی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے۔۔۔
ارمغان تو نیند کی گولی کھا کر سو چکے ہیں تم میرے بھائی جاؤ اور امی کو انہیلر دے آؤ پلیز۔۔۔ آفتاب نے جی ضرور بھابھی اتنا کہہ کر آواز لگائی اوئے سمیر کیا سو گیا اندر جا کے تو میں جو کہ سدرہ کی باتیں سن کر دماغ میں کوئی ترکیب سوچ رہا تھا مجھے اور تو کچھ سجھائی نہ دیا۔فوراً پیٹ کر ہاتھ رکھ کر واش روم سے باہر نکلا اور دھیمے قدموں سے چلتا ہوا بستر پر لیٹ کر بولا۔۔۔
یار آفتاب ایک دم پیٹ میں گڑبڑ ہو گئی۔۔۔اور ہلکا سا درد بھی ہو رہا ہے۔۔۔تو آفتاب فوراً بولا چل آ میں بھابھی کی طرف جا رہا ہوں واپسی پر ڈاکٹر سے تیری دوائی لیتے آئیں گے۔۔۔
سدرہ اپنے پلان کو فیل ہوتا دیکھ کر بولی ارے اس کو کہاں لے جا رہے ہو۔۔۔اسے یہیں رہنے دو ابھی میں دودھ گرم کر کے دیتی ہوں تھوڑی ہی دیر میں ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔
آفتاب سر ہلاتا ہوا موٹر بائیک کی چابی اٹھا کر کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔سدرہ بھی اس کے ساتھ ہی نکل گئی۔۔۔میں ابھی لیٹا ہوا آنے والے لمحات کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا۔۔۔

کہ چند منٹ بعد ہی سدرہ کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر کے اس نے اپنی شلوار اتاری اور سیدھا آ کر میرے منہ پر اپنی پھدی رکھتے ہوئے بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں سے میرے بالوں کو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے ہوس سے بھرپور لہجے میں بولی۔۔۔

چل سمیر جلدی کر میری جان۔۔۔چھیتی نال میری پھدی چٹ۔۔۔ویکھ کداں آگ لگی ہوئی اندر۔۔۔

میں نے صرف منہ سے ایک لفظ نکالا کہ آفتاب تو وہ بولی۔۔۔فکر نا کر او اوتھوں واپس آندے ہوئے مینوں پہلے فون کرے گا ویسے وی اونوں بار کڈ کے میں گیٹ لاک کر کے اندروں وڈی کنڈی مار آئی آں۔۔۔
ہن بوہتیاں گلاں ناں کر پین چودا۔۔۔فٹا فٹ میری پھدی چٹ۔۔۔
یہ سن کر میں نے مطمئن ہوتے ہوئے اس کی پھدی جانب توجہ دی تو واقعی وہ اتنی بری طرح سے گیلی ہو رہی تھی کہ جیسے ابھی پانی باہر نکل پڑے گا۔۔۔

اور اس کا دانہ اتنا پھولا ہوا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ سدرہ کافی دیر سے دانے کو مسل رہی تھی۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹوں میں دانے کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرا منہ اس کی پھدی کو لگا تو اس نے میرے بالوں کو چھوڑ دیا اور اپنی قمیض اتار دی۔۔۔
اسی طرح چند منٹ کی چوت چٹائی اور لن چوسائی کے بعد میں نے سدرہ کی ٹانگیں اٹھائیں اور اپنے لن کو اندر کی راہ دکھائی۔۔۔سدرہ بہت گرم ہو رہی تھی۔۔۔
میں نے شروع سے ہی تھوڑی سپیڈ پکڑی اور لن اندر باہر کرنے لگا۔۔۔سدرہ سرگوشیوں میں سسک رہی تھی۔۔۔

اور آہستہ آہستہ شہوت کے زیرِ اثر اپنی عادت سے مجبور فل مزے میں بول رہی تھی۔۔۔
ہور زور نال۔۔۔گھسہ مار۔۔۔کنجرا پورا لن اندر پا۔۔۔۔آہہہ۔۔۔آہ۔آففففف۔۔۔۔مار میری پھدی۔۔۔۔کس کس کے مار۔۔۔۔
سپرے وپرے تو لگایا نہیں تھا جو زیادہ ٹائم نکال پاتا۔۔۔بس چند منٹ بعد ہی مجھے محسوس ہوا کہ اب میرا جسم اکڑنا شروع ہو رہا ہے تو میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔سدرہ نے اپنی آوازیں روکیں اور غصے سے بولی۔۔۔
بار کیوں کڈیا ای۔۔۔کتی دیا پترا۔۔۔جدوں مزہ تی 30 تے ہویا تے توں بار کڈ لیا۔۔۔پہلی بار مجھے اس کی گالی پر غصہ آیا۔۔۔

میں نے غصے میں اس کو بالوں سے پکڑا اور اٹھا کر اپنے سامنے کھڑا کیا اور ایک چماٹ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔
گشتی دی بچی۔۔۔بہت اگ لگی تیرے کوسے اچ۔۔۔
کنجری۔۔۔پتہ نئیں کتھوں کتھوں یوا کے آئی تے مینوں گلاں سنان دئی۔۔۔رک ہنے ای تیری ماں دے کوسے اچ وڑداں۔۔۔
اتنا کہہ کر شاک کی کیفیت میں کھڑی سدرہ کو میں نے الٹا کیا اور اس کی گانڈ باہر نکالتے ہوئے۔۔۔
اپنا لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا اور ایک جھٹکے میں پورا لن اندر ڈال کر زور زور سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔
سدرہ کی منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی۔۔۔میں نے اس کے بالوں کو پکڑ کر کھینچا اور بولا۔۔۔
تیری پین نوں لن ماراں۔۔۔جے ہن تیری آواز آئی تے۔۔۔تیری بنڈ پھاڑ دینی میں۔۔۔ساتھ ہی متواتر جھٹکے مارتا گیا۔۔۔
غصے کے زیرِ اثر میری ٹائمنگ تھوڑی بڑھ گئی تھی۔۔۔
میں مسلسل گھسے مارتے ہوئے گالیاں بک رہا تھا۔۔۔رک تیری پھدی دا پھدا نا بنا دتا اج تے فیر آکھیں۔۔۔
تیرے پین دے کوسے اچ چھلیاں دی ریڑھی لاواں۔۔۔ہیرا منڈی دِیے گشتِیے۔۔۔کسے فینسی ٹیکسی دِیے۔۔۔
جے ہن اگوں چوں چراں کیتی تے تیری بنڈ اچ باں تن دینی۔۔۔تے جے اگر میری ہتھ تے بندھی گھڑی اندر رہ گئی تے تیرے کوسے اچوں اودے پیسے وصولاں گا۔۔۔
سدرہ بس ایک ہی بات کہہ رہی تھی زور نال ہور۔۔۔زور نال۔۔۔اب مسلسل لن رگڑائی سے مجھے بھی اپنی رگوں میں جما ہوا خون انتہائی سپیڈ سے اچانک ٹانگوں کی طرف دوڑتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
میں گھسے مارتے مارتے اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔جیسے ہی میرے لن نے منی کی پہلی دھار ماری اس کے منہ سے بھی نکلا۔۔۔۔او گیا ای۔۔۔۔
ساتھ ہی اس کی پھدی نے بھی پانی چھوڑ دیا اور وہ آگے کی طرف گر گئی اور میں اس کے اوپر ہی ڈھے گیا۔۔۔
میں چند سیکنڈ ایسے ہی لن اس کے اندر کیے اس کے اوپر لیٹا رہا۔۔۔پھر جیسے ہی میں نے اپنا لن اس کی پھدی سے باہر نکالا وہ بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور میرے منی سے لتھڑے لن کو منہ میں لے لیا اور انتہائی تیز رفتاری سے چوسنے لگی۔۔۔

چند سیکنڈ میں اس نے سارا لن منی سے صاف کر دیا۔۔۔اور اٹھ کر میرے سامنے بیٹھ کر بولی۔۔

سمیر آج جو تم نے مزہ دیا ہے یہ میں زندگی بھر نہیں بھول پاؤں گی۔۔۔
افففف اب تو سیکس کے دوران تم بھی گالیاں دینے لگے۔۔۔اور میں جو دل میں تھوڑا پشیماں تھا۔۔۔اس کی بات سن کر مسکرا دیا۔۔۔
وہ اٹھی اور فٹا فٹ اپنے کپڑے پہنتے ہوئے بولی کہ تم ٹھہرو میں ابھی آتی ہوں۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی اور میں وہیں بستر پر لیٹ گیا۔۔۔چند منٹ بعد اس کی واپسی ہوئی تو اس کے ہاتھ میں۔۔۔اس کا موبائل۔۔۔اور ایک اور موبائل کا ڈبہ اور دودھ کا گلاس تھا۔۔۔
دونوں موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اس نے دودھ کا گلاس مجھے پکڑایا اور پینے کا بول کر خود دوبارہ میری ٹانگوں کے درمیان لیٹ کر میرا لن چوسنے لگی۔۔۔

میں نے دو منٹ میں دودھ کا گلاس ختم کیا اور سدرہ کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔۔۔اپنی بانہوں میں کس کر اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔
وہ فل گرم تو پہلے سے ہی تھی اس لئیے پورے جوش سے میری کس کا جواب دینے لگی۔۔۔کتنی دیر تک تو ہم لوگ صرف ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے رہے۔۔۔اور زبانیں لڑاتے رہے۔۔۔وہ مسلسل میری زبان چوس رہی تھی۔۔۔
جب وہ زبان چوس چوس کر تھک گئی۔۔۔تو میں نے اپنی زبان واپس اپنے منہ میں کھینچ لی۔۔۔
ابھی میں منہ بند بھی نہیں کر پایا تھی کہ اس نے اپنی زبان فوراً ہی میرے منہ کے اندر گھسا ڈالی۔۔۔
میں اس کی شہد بھری زبان کو چوسنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ میرے ہاتھ اس کے مموں کو مسلتے رہے۔۔۔زبان چوسنے کے بعد میں نے اس کی قمیض اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی اور زور و شور سے اس کے ممے چوسنے شروع کر دہے۔۔۔
اس کے نپل اکڑ کر فل سخت ہو چکے تھے۔۔۔
اب چونکہ ٹائم کم تھا اور میں چاہتا تھا کہ ایک دفعہ پھر اپنا پانی نکال لوں۔۔۔
تو میں نے سدرہ کو اٹھا کر گھٹنوں کے بل نیچے قالین پر بٹھایا اور خود اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ کر اپنا لن اس کے منہ میں ڈال کر اس کے منہ کو ہی چودنا شروع کر دیا۔۔۔

دو منٹ منہ چدائی کے بعد میں نے سدرہ کو اٹھا کر بیڈ پر ڈوگی سٹائل میں کیا اور اس کی شلوار تھوڑی سی نیچے کر دی صرف اتنی کہ اس کی گانڈ اور پھدی کا سوراخ نظر آ رہا تھا۔۔۔

میں نے اپنا گیلا لن اس کی پھدی میں ڈال کر پوری رفتار سے اس کی پھدی کا بینڈ بجانا شروع کر دیا۔۔۔
دو منٹ تک گھسے مارنے کے بعد میں نے لن ٹوپی تک باہر نکالا اور پوری جان سے گھسہ مارا۔۔۔سدرہ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔۔۔۔آہ۔۔۔بلکل ایسے ہی جان۔۔۔

چند گھسوں بعد ہی سدرہ کا جسم اکڑا اور اس کی پھدی نے ہار مان لی۔۔۔سدرہ نے کچھ کہا اور ہلنے کی کوشش کی۔۔۔لیکن میں نے اس کی سنی ان سنی کر کے اس کو ہلنے سے روکا اور زور دار جھٹکے مارنے جاری رکھے۔۔۔


پانچ منٹ تک اور چودنے کے بعد میں نے سدرہ کو نیچے قالین پر ہی لٹاتے ہوئے اس کی پوری شلوار اتار کر پھینک دی۔۔۔اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر میں نے ایک زور دار گھسہ مارا تو میرا لن جڑ تک سدرہ کی پھدی میں داخل ہو گیا۔۔۔
میں نے پوری جان سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔میرے لن کی ٹوپی ہر گھسے کے ساتھ سدرہ کی بچہ دانی میں گھس جاتی۔۔۔اور سدرہ کے منہ سے آہہہ۔۔۔آہہہ کی آواز نکل جاتی۔۔۔مسلسل پانچ منٹ تک اسی انداز میں گھسے مارنے کے بعد میرا جسم بھی اکڑنا شروع ہو گیا تو میں نے کہا سدرہ میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔
تو سدرہ نے اپنے دونوں ہاتھ میری گانڈ کے پیچھے رکھتے ہوئے مجھے اپنی پھدی کے اوپر دبا دیا۔۔۔
آخری گھسہ میں نے فل جان سے مارا اور میرے لن کی ٹوپی ایک دفعہ پھر اس کی بچہ دانی میں جا گھسی اور میرا لن وہیں اس کی بچہ دانی میں منی کی دھاریں چھوڑنے لگا۔۔۔
چند منٹ تک میں اور سدرہ ایسے ہی ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے پڑے رہے۔۔۔پھر کچھ دیر بعد سدرہ نیچے سے ہلی تو میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔
سدرہ نے اٹھ کر میرے لن کو چوس کر صاف کیا۔۔۔فٹا فٹ اپنے کپڑے پہنے۔۔۔کمرے کا ایگزاسٹ فین چلایا۔۔۔اور روم سپرے سے اچھی طرح کمرے کو مہکا دیا۔۔۔
بستر کو چیک کیا کہ کہیں منی کا کوئی قطرہ نہ گرا ہو۔۔۔ایک دو جگہ پر ہلکا سا نشان تھا اس کو گیلے ٹشوز سے صاف کیا اور ٹشوز باہر پھینک کر کمرے کا دروازہ کھول دیا کہ کسی قسم کی مہک باقی نا رہے۔۔۔

پھر اس نے پاس پڑا موبائل کا ڈبہ اٹھا کر مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔۔سمیر یہ ایک چھوٹا سا تحفہ تمہاری جان کی طرف سے۔۔۔میں نےغور سے دیکھا۔۔۔وہ نوکیا 7210 موبائل تھا۔۔۔میں نے حیرانگی سے کہا۔۔۔جان اس کی کیا ضرورت تھی تو وہ کہنے لگی۔۔۔بس میں اپنے دل سے دے رہی ہوں۔۔۔بس اس کو فٹافٹ چھپا لو۔۔۔آفتاب آنے والا ہو گا۔۔۔

اتنی دیر میں سدرہ کا موبائل بجا۔۔۔آفتاب کی کال تھی۔۔۔اس سے بات کر کے سدرہ نے مجھے اپنا موبائل نمبر یاد کرواتے ہوئے بتایا کہ بس آفتاب اگلے دس منٹ میں پہنچ جائے گا۔۔۔
اس لیے میں اب جاتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ میرے اوپر جھکی اور میرے ہونٹوں کو چوم کر باہر نکل گئی۔۔۔


میں نے موبائل اپنے بیگ میں چھپا دیا اور ماچس جلا کر ایک سگریٹ سلگا لیا۔۔۔ماچس کی تیلی جلنے کی بو کمرے میں ہر سو پھیل گئی۔۔۔اور ہر قسم کی سمیل کے اوپر حاوی ہو گئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آفتاب کمرے میں آیا تو آتے ہی مجھ سے طبیعت بارے پوچھا تو میں نے گلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھابھی نے دودھ گرم کر کے دیا تھا تب سے آرام محسوس کر رہا ہوں۔۔۔
آفتاب کپڑے بدل کر لیٹ گیا۔۔۔تبھی دروازہ کھول کر سدرہ اندر آئی اور آفتاب کو دکھانے کیلئے مجھ سے پوچھا۔۔۔
ہاں سمیر اب بتاؤ طبیعت کیسی ہے تو میں نے جواب دیا بھابھی آپ نے جو گرما گرم دودھ پلایا ہے اس کے بعد اب کافی بہتر ہے۔۔۔
باقی اب آرام کروں گا تو صبح تک ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔۔
میری بات سن کر بھابھی نے گلاس اٹھایا اور گڈ نائیٹ بول کر باہر نکل گئیں۔۔۔میں اور آفتاب تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد سو گئے۔۔۔

اگلے دن صبح جلدی اٹھے۔۔۔چونکہ میں پچھلے روز ہی سب کو بتا چکا تھا کہ کل کچھ کام نبٹانے کے بعد میری ملتان واپسی ہے۔۔۔
تو صبح سدرہ بھابھی نے ناشتہ جلدی تیار کر دیا تھا۔۔۔9:45 پر ہم لوگ گھر سے نکلے اور پاس ہی ایک مشہور پلازہ کے پاس مومو کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
کیونکہ مومو نے یہی بولا تھا۔۔۔پورے دس بجے وہ ایک ٹیکسی میں آئی۔۔۔میں آفتاب کو الوداع کہہ کر اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔ہم لوگ چل پڑے۔۔۔

کچھ دیر کے بعد ہم لوگ پاس ہی موجود کمرشل مارکیٹ میں اتر گئے۔۔۔وہاں مومو نے ایک دوکان سے کچھ شاعری کی کتابیں خرید کر مجھے گفٹ کیں اور کچھ کارڈز بھی لیے۔۔۔پھر اس نے وہ کارڈز میرے لیے لکھے اور مجھے دے دیے اور بعد میں کھولنے کا بولا۔۔۔
مومو کی معیت میں وقت کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا اور شام کا وقت ہو گیا۔۔۔
میں واپس ملتان روانگی کیلیئے تیار ہو گیا۔۔۔لیکن نکلنے سے پہلے مومو سے اس کا موبائل نمبر لینا نہیں بھولا۔۔۔
حالانکہ میرے پاس ان دنوں موبائل نہیں ہوتا تھا۔۔۔واپس ملتان آ کر کارڈز کھولے تو دیکھا ان کارڈز میں چند اشعار لکھے تھے عاشقی معشوقی والے۔۔۔

نہایت معصومانہ انداز میں لکھی گئی تحاریر مجھے دلی طور پر متاثر کر گئیں۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ شاید مجھے اس لڑکی سے پیار ہو گیا ہے۔۔۔اسی طرح یادوں میں ٹائم گزرتا گیا اور میری مومو سے موبائل پر بات ہوتی رہی۔۔۔
کچھ دن بعد مومو نے مجھے ٹیلی نار کی ایک سم ٹی سی ایس کی۔۔۔جو کے میں نے اپنے ایک دوست کے ایڈریس پر منگوائی تھی۔۔۔
خود مومو نے بھی ٹیلی نار کی ایک سم لے لی۔۔۔ان دنوں ٹیلی نار کا ایک رات والا اچھا پیکج چل رہا تھا۔۔۔
ہم لوگ ساری ساری رات باتیں کرتے تھے اور کبھی کبھی سارا دن چیٹ کرتے تھے۔۔۔
سدرہ کے ساتھ بھی اس کے دیے ہوئے موبائل کے ذریعے اکثر بات ہو جاتی تھی۔۔۔
اب میرے لیے مومو سے بات کرنا بہت آسان ہو گیا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ ہماری بات چیت میں سیکس کا موضوع بھی شامل ہوتا گیا۔۔۔ظاہر ہے کہ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے پیار میں ہوں تو ہر قسم کی دوری زہر لگتی ہے۔۔۔
اب ہم لوگ فون پر ہی سیکس کرنا شروع ہو گئے۔۔۔
پنڈی سے واپس آنے کے قریباً تین،ساڑھے تین مہینے بعد کی بات ہے کہ ہمارے گھر میں چاچی آئی ہوئی تھیں۔۔۔امی اور چاچی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔تبھی ان کی باتوں میں سدرہ کا ذکر آیا تو میرے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔
چاچی بتا رہی تھیں کہ سدرہ امید سے ہے۔۔۔اس کا تیسرا مہینہ شروع ہوا ہے۔۔۔
بچے کی ولادت کی خبر ملی تو پاپا مٹھائیوں سے لدے پھندے پنڈی روانہ ہو گئے۔۔۔
لیکن میں نہیں جا سکا۔۔۔۔ان دنوں میں کالج کے ایک ٹرپ کے ساتھ گیا ہوا تھا۔۔۔واپس آیا تو یہ ساری بات گھر سے پتہ چلی۔۔۔
دن پر لگا کر اڑتے گئے اور مجھے پنڈی سے واپس آئے ہوئے چودہ مہینے گزر چکے تھے۔۔۔پھر چند دن بعد میں کچھ دن کیلئے راولپنڈی گیا۔۔۔

ادھر پہنچتے ہی مجھے بخار ہو گیا اور 3 دن تک میں بخار میں مبتلا رہا۔۔۔
چوتھے دن میری طبیعت بہتر ہوئی اور میں مومو سے ملنے نکل پڑا۔۔۔اس کے بتائے ہوئے راستے سے ہو کر مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا۔۔۔
مومو نے مجھے اسی کے علاقے میں ایک مشہور پلازہ کے پاس ایک گلی میں آنے کو بولا تھا۔۔۔

میں بہت بے چینی سے مومو کا انتظار کر رہا تھا۔۔کچھ پانچ منٹ بعد میں نے سامنے سے مومو کو آتے ہوئے دیکھا۔۔۔اس نے ٹراؤزر کے ساتھ چیک والی کنٹراس میں قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔اس سوٹ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
وہ میرے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ گئی اور ہم لوگ چل پڑے۔۔۔پھر سارا دن ٹیکسی میں ہی ادھر ادھر گھومتے پھرے اور باتیں کرتے رہے۔۔۔
اگلے دن ہم لوگ فیصل مسجد کی طرف نکل گئے۔۔۔دل تو ہم دونوں کا کر رہا تھا کہ سب فاصلے مٹا کر ایک دوسرے میں گم ہو جائیں پر کوئی مناسب جگہ نہیں مل رہی تھی۔۔۔اور ہوٹلوں میں جانے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔ہوٹلز کا سوچ کر ہی ہم دونوں کی پھٹتی تھی۔۔۔
ہم لوگ مسجد کے پیچھے پہاڑ کی سائیڈ پر جانے لگے تو ایک پولیس والے نے بولا ادھر کیا لینے جا رہے ہو۔۔۔تو ہم نے بولا کہ بس ویسے ہے گھوم پھر رہے ہیں۔۔۔اس نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا اس طرف نہیں جا سکتے واپس جاؤ۔۔۔اور ہم لوگ ناکام اور نامراد واپس آگئے۔۔۔اسی طرح گھوم پھر کر اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔۔۔
رات کو پھر مومو سے کال پر بات ہوئی تو اس نے اگلے دن کا پلان بتایا۔۔۔
اگلے دن ہم لوگ کمرشل مارکیٹ کے پاس ایک پبلک پارک میں بیٹھ گئے۔۔۔اس دن آفتاب بھی ہمارے ساتھ تھا۔۔۔میں نے آئسکریم آرڈر کی۔۔۔اتنے میں آفتاب بولا تم لوگ باتیں کرو میں آتا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وہ اپنے موبائل پر کسی سے بات کرتا ہوا ایک طرف چلا گیا۔۔۔


میں اور مومو آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔۔میں اس کی طرف یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔

میری آنکھوں کی تپش سے شرما کر اس نے اپنا منہ نیچے کر لیا اور بولی۔۔۔
کیا ہے سمیر کیوں مجھے پریشان کر رہے ہو۔۔۔مجھے ایسے مت گھورو۔۔۔
ایک تو تمہارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے مجھے لیجانے کیلئے۔۔۔اوپر سے تم ایسی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہو تو میرا دل کرتا ہے کہ سب کچھ بھول کر یہیں تم پر ٹوٹ پڑوں۔۔۔
بہتر ہو گا کہ میری حالت پر رحم کرو۔۔۔اور یہاں سے اٹھو۔۔۔میں نے کہا جان اٹھ کر جائیں بھی تو کدھر جائیں گے۔۔۔
تو وہ بولی ہم شکر پڑیاں زیرو پوائنٹ چلتے ہیں۔۔۔لیکن پہلے یہ آفتاب سے پیچھا چھڑواؤ۔۔۔

میں وہاں سے اٹھا اور آفتاب کو بتایا کہ ہم لوگ شکر پڑیاں جا رہے ہیں۔۔۔اس نے مجھے منع کرنے کی کوشش کی کہ بھائی اکیلے مت جاؤ۔۔۔تو میں سڑ کر بولا تو کیا باجی کا گارڈ بن کے ساتھ جائے گا۔۔۔
بہرکیف جیسے تیسے کر کے آفتاب سے جان چھڑائی اور ہم لوگ ٹیکسی میں شکرپڑیاں پہنچ گئے۔۔۔
وہاں ادھر ادھر گھومتے رہے اور ہم دونوں ہی کوئی مناسب جگہ ڈھونڈتے رہے پر ہر جگہ کوئی نا کوئی دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
اسی طرح ہم چلتے چلتے پارک کے آخری کونے پر چلے گئے۔۔۔ وہاں سے چند سیڑھیاں نیچے اترتی تھیں۔۔۔یہی کوئی 6 سٹیپ ہوں گے۔۔۔اور اس کے بعد ایک پگڈنڈی تھی جو کہ گھومتی ہوئی نیچے کیطرف جا رہی تھی۔۔۔
ہم اس راستے پر اتر گئے بلاشبہ وہاں نہ بندہ تھا اور نہ کوئی ذی روح۔۔۔صرف ہم دو تھے۔۔۔
ہم اس راستے پر اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر چلنے لگے۔۔۔ہم دونوں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے چلتے رہے۔۔۔
دونوں کا دل کر رہا کہ اور کچھ نہیں تو گلے ہی مل لیں اور کم از کم لبوں کی پیاس تو بجھا لیں۔۔۔پر ایک انجانا سا خوف طاری تھا۔۔۔جیسے کوئی غیر مرئی طاقت ہمیں دیکھ رہی ہے۔۔۔
ہم لوگ وہاں کوئی ایک گھنٹہ ٹہلتے باتیں کرتے رہے۔۔۔
پھر اوپر پارک میں واپس آ گئے اور پارک کی ایک کٹی ہوئی سائیڈ پر بنی ہوئی پہاڑی ڈھلوان پر بیٹھ گئے۔۔۔
یہ علاقہ بھی عام نظروں سے اوجھل تھا۔۔۔مومو بیٹھ گئی اور میں اس کی گود میں سر رکھ کر ڈھلوان پر ہی لیٹ گیا ۔۔۔میں اس کی نزاکت،اس کے مہکتے بدن کی لپلپاہٹیں محسوس کرتے ہوئے مدہوش ہونے لگا۔۔۔


بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔دل کرتا تھا کہ وقت یونہی ٹھہر جائے اور ہم دونوں ایسے ہی پیار میں کھوئے رہیں۔۔۔لیکن برا ہو زمانے کا۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ ابھی ہمیں بیٹھے ہوئے کچھ منٹ ہی ہوئے تھے کہ اچانک مومو بولی سمیر پولیس۔۔۔میں سمجھا مزاق کر رہی ہے لیکن جیسے ہی میں نے مڑ کر دیکھا تو میری اپنی بنڈ بندوق ہو گئی۔۔۔
نیلی وردیوں میں ملبوس دو پولیس والے ہمارے پاس آئے اور سخت لہجے میں بولے یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے اٹھ کر کہا کہ بس بیٹھے ہیں باتیں کر رہے ہیں۔۔۔کیوں کیا بات ہے۔۔۔
تو اس نے بتایا کہ قانون کے مطابق لڑکا اور لڑکی اکیلے نہیں گھوم سکتے۔۔۔اگر آپ میاں بیوی ہو تو نکاح نامہ شو کرو۔۔۔میں نے بولا کہ یہ میری کزن ہے۔۔۔
لیکن وہ نہ مانے اور ہماری تلاشی لے کر ہمارے موبائل قبضے میں لیے۔۔۔اور یہ بول کر چلے گئے۔۔۔اگر ہم آپ کو پکڑ کر لے گئے۔۔۔تو سب لوگوں کو پتہ چلے گا۔۔۔تم دونوں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے۔۔۔

چپ چاپ باہر پولیس چیک پوسٹ پر آ جاؤ پھر بات کرتے ہیں اور آپ کے موبائل ضمانت کے طور پر ہمارے پاس ضبط ہیں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ دونوں مڑے اور واپس چلے گئے۔۔۔ہم دونوں تھر تھر کانپ رہے تھے۔۔۔
میں نے وہاں سے بھاگنے کا راستہ سوچتے ہوئے مومو سے پوچھا تو وہ بولی نہیں سمیر بھاگ کر نہیں جا سکتے۔۔۔میرے موبائل میں پوری فیملی کی تصاویر اور نمبرز سیو ہیں۔۔۔اگر کچھ غلط ہو گیا تو۔۔۔
میں نے چند لمحے سوچا اور پھر حوصلہ کر کے ہم لوگ باہر چیک پوسٹ کی طرف چل پڑے۔۔۔
میرا ذہن تیزی کے ساتھ بچاؤ کے راستے سوچ رہا تھا۔۔۔
کیا کروں۔۔۔۔
کیا کروں۔۔۔۔
کیسے بچیں۔۔۔۔
یہ سوچتے سوچتے اچانک چھن سے میرے دماغ میں حارث کا نام گونجا۔۔۔

جی ہاں دوستو آپ لوگ ٹھیک سمجھے۔۔۔
حارث۔۔۔
وہی حارث جس نے زبردستی میری گانڈ ماری تھی۔۔۔وہ پنجاب کا ایک طاقتور ترین بندہ تھا۔۔۔
میں نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا پرس نکالا اور پرس میں موجود اس کا کارڈ باہر نکالا۔۔۔

اس وقت ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف مجھے اور کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے حارث سے بات کرنے کی ٹھان لی۔۔۔
تین سال پرانی بات پتہ نہیں اسے یاد بھی ہو گی کہ نہیں۔۔۔مگر میرے پاس اور کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔۔۔


دس منٹ بعد ہم لوگ چیک پوسٹ پر پہنچ گئے۔۔۔میں نے پلسیے کو بولا کہ مجھے دو منٹ کیلئے میرا موبائل دیں مجھے ایک کال کرنی ہے۔۔۔
میں اپنے بڑے بھائی کو بلاتا ہوں۔۔۔اس نے گہری نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے میرا موبائل میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔میں نے چند قدم پیچھے ہٹتے ہوئے جیب سے حارث کا کارڈ نکالا۔۔۔
نمبر ڈائل کیا۔۔۔
چند گھنٹیوں کے بعد کال اٹھا لی گئی اور آگے سے آواز آئی۔۔۔ہیلو۔۔۔شاید کال اس کے سیکرٹری نے اٹھائی تھی۔۔۔
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔جی میں سمیر بول رہا ہوں ملتان سے حارث صاحب کا دوست۔۔۔مجھے حارث صاحب سے بات کرنی ہے۔۔۔
آگے سے جواب دیا گیا کہ جی اچھا چند لمحے انتظار فرمائیے۔۔۔چند لمحات کے بعد حارث کی آواز سنائی دی۔۔۔ہاں بھئی کون بول رہا ہے۔۔۔
تو میں نے کہا حارث صاحب میں ہوں سمیر ملتان سے۔۔۔خانم کے کوٹھی خانے پر۔۔۔ابھی بات میرے منہ میں ہی تھی۔۔۔اچانک وہ بولا۔۔۔آہا سمیر کیسے ہو دوست۔۔۔آج کیسے میری یاد آ گئی۔۔۔
میں نے اسے ساری بات حرف بہ حرف سچ سچ بتا دی۔۔۔تو آگے سے وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔۔اوئے کھوتے معشوق کو لیکر میرے پاس آ جاتا۔۔۔
ادھر ادھر کیوں بھٹک رہا تھا۔۔۔دراصل آج کل پنڈی اسلام آباد میں بہت سختی ہے۔۔۔
اس کیوجہ یہ ہے کہ چند لڑکوں نے اپنی معشوقاؤں کی سیکس وڈیوز لیک کر دیں ہیں۔۔۔جس کیوجہ سے چار لڑکیوں نے خودکشی کر لی۔۔۔
ان لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کسی سیاسی بندے کی بیٹی تھی۔۔۔تبھی اتنا شور مچا ہوا ہے۔۔۔باقی یار کوئی گل ای نئیں تیرے واسطے جان وی حاضر۔۔۔

تم اس آفیسر سے میری بات کرواؤ ذرا۔۔۔میں نے آفیسر کو بات کرنے کو بولا تو اس نے کہا کہ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔جس نے آنا یہاں آئے۔۔۔

میں نے یہی بات حارث کو بتائی تو اس نے کہا کہ اس کے سینے پر لگی پٹی سے اس کا نام پڑھ کر بتا دو۔۔۔
میں نے نام پڑھ کر بتایا تو حارث نے اوکے بول کر کہا کہ تم انتظار کرو۔۔۔یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔
اور میں نے موبائل واپس آفیسر کی ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔چند منٹ بعد ہی آفیسر کی جیب میں موجود موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔اس نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا۔۔۔اور آگے سے کسی کی آواز سن کر ایک دم بوکھلا گیا۔۔۔
جی سر۔۔۔
جی سر۔۔۔
ہاں جی سر۔۔۔
ایک لڑکا اور لڑکی۔۔۔
سوری سر۔۔۔
غلطی ہو گئی جناب۔۔
ابھی لیں۔۔۔
بات کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا۔۔۔کال ختم ہونے کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور بولا سوری دوست سب غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔۔۔
پھر ہم دونوں کے موبائل پکڑاتے ہوئے بولا کہ آپ جا سکتے ہیں۔۔۔اور میں مومو کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔


تھوڑی دور آ کر ہم ٹیکسی میں بیٹھے اور واپس چل دیے۔۔۔ٹیکسی میں بیٹھتے ہی میں نے ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے حارث کو کال ملائی اور اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
تو اس نے کہا شکریہ کی کوئی بات نہیں تم دوست ہو میرے۔۔۔کبھی بھی کوئی مصیبت آن پڑے تو لازم یاد کرنا۔۔۔اور ادھر ادھر کی چند باتیں کر کے کال بند کر دی۔۔۔
میں نے مومو کو اس کے گھر سے تھوڑا دور اتارا اور خود آفتاب کی طرف چل پڑا۔۔۔
آج کے واقعے نے مجھے بہت ڈرا دیا تھا۔۔۔بال بال بچ گئے۔۔۔اگر بات آگے نکل جاتی تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔۔۔
گھر پہنچ کر کھانا کھایا اور آفتاب کے ساتھ گپیں لگانے لگا۔۔۔
سدرہ بھابھی کے بیٹا پیدا ہوا تھا میں نے بھی سب کے سامنے سدرہ کو دیور کی طرح ہی مبارک باد دی تھی۔۔۔
لیکن مجھے واضح محسوس ہو رہا تھا کہ سدرہ مجھ سے کچھ کھنچی کھنچی سی ہے۔۔۔

میں نے سدرہ کو اشاروں کنایوں سے کریدنے کی کوشش کی۔۔۔مگر اس نے کوئی جواب نئیں دیا۔۔۔
بس مجھے گھورنے پر اکتفاء کیا۔۔۔
پھر رات کو جب میں سو رہا تھا۔۔۔نیند کے دوران مجھے پاؤں پر تیز چبن کا احساس ہوا۔۔۔
تکلیف سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔دیکھا تو سدرہ سامنے کھڑی تھی۔۔۔اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش رہتے ہوئے اٹھ کر باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
اور خود باہر چلی گئی۔۔۔چند لمحوں بعد میں باہر نکلا اور سدرہ کے پیچھے چلتا ہوا۔۔۔اوپر چھت پر پہنچ گیا۔۔۔
اوپر جاتے ہی سدرہ نے بھاگ کر مجھے اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔
دس منٹ تک تو ہم ایک دوسرے کے ہونٹ ہی چوستے رہے۔۔۔
پتہ نہیں کیا بات تھی کہ جب بھی میں سدرہ کے ہونٹوں کو چوستا تھا۔۔۔مجھے ہمیشہ ایک نیا مزہ ملتا تھا۔۔۔
اس کے ہونٹ تھے ہی گلاب کی پنکھڑیوں جیسے۔۔۔اور ان ہونٹوں کی گولائیاں ایسی ظالم تھیں۔۔۔کہ مانو یہ ہونٹ بنے ہی چوپا لگانے کیلئے ہیں۔۔۔مسلسل چوما چاٹی کے بعد میں نے سیڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر سدرہ کو دیوار کے ساتھ لگایا اور اس کی قمیض گلے تک اوپر چڑھا دی۔۔۔اس نے برا نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔
سدرہ کے بمب شیل ممے دیکھ کر میرا لن ایک دم پھنکاریں مارتا ہوا اٹھا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ میں سے ہوتا ہوا۔۔۔سدرہ کی پھدی کے لبوں پر دستک دینے لگا۔۔۔

میں نے سدرہ کے نپلز کو چوستے ہوئے اس کے مموں کو مسلنا شروع کر دیا۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میرا ٹراؤزر نیچے اتار کر میرے لن کو اپنی مٹھی میں پکڑا اور آہستہ آہستہ دبانے لگی۔۔۔
میں نے اس کے ممے چوستے ہوئے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی شلوار کو آہستگی سے گھٹنوں تک نیچے اتار کر۔۔۔اسی ہاتھ سے اس کی گرما گرم پھدی کو اپنی مٹھی میں دبوچ لیا۔۔۔
سدرہ ہونٹ بھینچے اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔اس کی پھدی فل گیلی ہو چکی تھی۔۔۔میں نے اس کی ٹانگیں تھوڑی سی کھول کر اپنا لن سامنے سے ہی اس کی پھدی کی لکیر میں رکھا۔۔۔اور اس کو ٹانگیں بند کرنے کا کہا۔۔۔
اس نے ٹانگیں بند کیں تو میں نے اس کے ممے چھوڑ کر دوبارہ اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے۔۔۔اپنا لن اس کی پھدی کی لکیر پر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔
میرے لن کی رگڑ سے سدرہ کے منہ سے سسکیوں کا نا رکنے والا طوفان جاری ہو گیا۔۔۔اور اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑھ دیے۔۔۔پھر اس نے دیوانوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے میرے سر کو پکڑا۔۔۔اور میرے ہونٹوں کو بھنبھوڑتے ہوئے۔۔۔آہیں بھرنے لگی۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ اپنی ٹانگیں سکوڑے۔۔۔خود ہی اپنی گانڈ کو آگے پیچھے ہلانا شروع ہو گئی۔۔۔
میرے لن کی رگڑ نے جیسے اس کے اندر آگ بھر دی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد سدرہ ساتھ والی منڈیر پر جھکی ہوئی میرا لن اپنی پھدی میں لیے آہیں بھرتے ہوئے مجھے مومو کے بارے میں بتا رہی تھی۔۔۔آہہہ آہہہ۔۔۔سمیر۔۔۔ممم۔۔۔میں نے مومو کے بارے میں۔۔۔۔افففف۔۔۔سب پتہ کیا ہے۔۔۔آہ۔آہ۔یس۔۔۔۔۔
ابھی تک اس کی کہیں بھی منگنی نہیں ہوئی اور نا ہی اس کے گھر والوں کا فلحال ایسا کوئی ارادہ ہے۔۔۔یہ کہتے ہی سدرہ نے زور زور سے اپنی گانڈ گول گول گھمانی شروع کر دی۔۔۔ایک بچہ پیدا کرنے کے باوجود اس کی پھدی پہلے کی طرح ہی ٹائٹ تھی۔۔۔اب اس کی آہیں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔۔مجھے بھی لگ رہا تھا کہ میرا پانی اب تب میں نکلنے ہی والا ہے۔۔۔میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو پکڑا اور چند زور دار گھسوں کے بعد میں اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا۔۔۔میری منی کی پہلی دھار ہی اس کو منزل تک پہنچا گئی۔۔۔اور وہ بھی ہانپتی ہوئی جھڑنے لگی۔۔۔ہم دونوں کا پانی مکس ہو کر اس کی پھدی سے باہر رس رہا تھا۔۔۔سدرہ ایک دم مڑی اور مجھ سے لپٹ کر دیوانہ وار مجھے چومنے لگی۔۔۔
آہ۔۔۔تم کیا ہو سمیر۔۔۔اتنا مزہ دیتے ہو میری جان۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے ایک دفعہ پھر میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے۔۔۔
چند منٹ کس کرنے کے بعد سدرہ نے اپنی گھٹنوں تک اتری ہوئی شلوار اوپر کی اور بولی۔۔۔
سمیر باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن مومو کا چال چلن کچھ اچھا نہیں محسوس ہو رہا۔۔۔
میری معلومات کے مطابق وہ انتہائی بولڈ لڑکی ہے اور اس طرح کی لڑکی کا ایک افئیر کے ساتھ گزارہ نہیں ہوتا۔۔۔تم ضرور جاؤ اور اس سے ملو۔۔۔مستی کرو۔۔۔لیکن تھوڑا احتیاط کرنا۔۔۔
تب تک میں اور معلومات نکالنے کی کوشش کرتی ہوں۔۔۔پھر نیچے جاتے ہوئے راستے میں رک کر بولی۔۔۔
سنو میں نے تمہارے بیٹے کا نام شہہ زور رکھا ہے۔۔۔

میں نے چونک کر سدرہ کا بازو تھام کر پوچھا۔۔۔کیا کہا تم نے۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔
تو وہ بولی ہاں جب تم پچھلے سال آئے تھے تو تمہارے جانے کے چند دن بعد ہی مجھے حمل ٹھہر گیا تھا۔۔۔اور یہ شہہ زور تمہارا ہی بیٹا ہے یہ میں جانتی ہوں یا تم۔۔۔
اس لحاظ سے تم سے ناتا اب اور پکا ہو گیا۔۔۔
یہ کہہ کر سدرہ نیچے چلی گئی اور میں بھی نیچے جا کر واپس سو گیا۔۔۔
اگلے دن صبح ناشتے کے بعد میں نے سب کے سامنے سدرہ کے بیٹے کو اٹھایا۔۔۔وہ کہتے ہیں ناں کہ خون کشش مارتا ہے۔۔۔تو اس وقت میرے ہاتھوں میں میرا اپنا خون تھا۔۔۔میرا اپنا لختِ جگر۔۔۔میں پاگلوں کی طرح اس کو پیار کر رہا تھا۔۔۔چھوٹا سا پیارا سا بچہ آنکھوں کے راستے میرے دل میں کھب گیا۔۔۔
سدرہ سب کو سنانے کیلئے مجھے بولی۔۔۔کیا بات ہے سمیر۔۔۔چاچو کو بہت پیار آ رہا ہے بھتیجے پر۔۔۔تو میں بھی اسی ٹون میں بولا۔۔۔
بھابھی یہ میرا بھتیجا نہیں یہ تو میرا بیٹا ہے۔۔۔میرا پیارا سا ننھا منا سا بیٹا۔۔۔ساتھ ہی میں نے جیب سے کچھ پیسے نکال کر بیٹے کی نظر اتاری اور بچہ سدرہ کو پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔لیں بھابھی اپنا بیٹا سنبھالیں اور یہ پیسے بھی کسی غریب کو دے دیجیئے گا۔۔۔
میں نے پیسے اور بچہ دونوں سدرہ کو پکڑاتے اور واپس کمرے میں چلا گیا۔۔۔اپنے بیٹے کو پکڑ کر میرے دل کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔دل بار بار بچے کی جانب کھینچا چلا جا رہا تھا۔۔۔
گیارہ بجے مومو کی کال آئی اور اس نے دوبارہ ملنے بلایا۔۔۔میں تیار ہو کر چلا گیا۔۔۔
اس کو مقررہ جگہ سے اٹھایا اور مومو نے ہی ٹیکسی والے کو 6 روڈ کی طرف چلنے کا کہا۔۔۔ٹھیک پندرہ منٹ بعد ہم دونوں 6 روڈ کے کارنر پر موجود ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔
ہم لوگ سیدھا نیچے بیسمنٹ میں چلے گئے۔۔۔جہاں کیبن بنے ہوئے تھے۔۔۔ہم لوگ ایک کیبن میں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔۔۔اتنی دیر میں ویٹر آ گیا۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا۔۔۔مومو نے دو ایپل جوس کا آرڈر دے دیا۔۔۔
ویٹر کے جانے کے بعد میں نے مومو کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اٹھ کر میری گود میں ہی آن بیٹھی۔۔۔میں نے بنا وقت ضائع کیے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دیے اور اس کے ہونٹوں کی چاشنی کشید کرنا شروع کر دی۔۔۔
دو منٹ کی کس کرنے کے بعد مومو نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر مجھے پیچھے دھکیلا اور اٹھ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
میں یک ٹک مومو کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ اپنی آنکھیں اوپر اٹھاتی مجھے دیکھتی اور پھر شرما کر نظریں جھکا لیتی۔۔۔قسم سے یارو اس کی یہ معصوم ادائیں دل کو کھینچتی تھیں۔۔۔
مجھے لگا کہ سدرہ نے مومو کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے۔۔۔مومو غلط لڑکی نہیں ہو سکتی۔۔۔


اتنی دیر میں ویٹر نے آ کر جوس سرو کر دیا۔۔۔میں نے ویٹر کو بولا کہ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود بتا دوں گا۔۔۔
اور وہ حرامی چہرے پر مسکان لیے واپس مڑ گیا۔۔۔شاید اس لیے کہ یہ فقرہ وہ دن میں پچاسوں بار سنتا ہو گا۔۔۔
بہرحال مجھے کیا۔۔۔
ماں چداوے جو مرضی سوچے۔۔۔

میں نے دوبارہ اپنا فوکس مومو کی طرف کرتے ہوئے جوس کا گلاس اٹھایا۔۔۔
اتنے میں مومو بولی ٹھہرو تم کو جوس میں خود پلاتی ہوں۔۔۔اس کے لہجے میں کچھ بات تھی۔۔میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ اٹھی اور میرے گلاس سے جوس کا ایک گھونٹ بھر کر گلاس ٹیبل پر رکھا اور خود آ کر میری گود میں بیٹھتے ہوئے اپنے منہ سے مجھے جوس پلانے لگی۔۔۔

مومو کے اس انداز نے مجھے اتنا ایکسائیٹڈ کیا کہ جینز کی پینٹ میں میرا لن اکڑنے لگا۔۔۔
ہم نے دونوں گلاس ایسے ہی خالی کیے۔۔۔پہلے وہ مجھے پلاتی رہی پھر میں اسے پلاتا رہا۔۔۔
جوس ختم ہونے کے بعد بھی ہم دونوں مسلسل ایک دوسرے کے ہونٹ بھنبھوڑتے رہے۔۔۔
اس کی خوشبو دار سانسیں مجھے دیوانہ بنا رہی تھیں۔۔۔میں کبھی اس کا نچلا ہونٹ چوستا تو کبھی اوپر والا۔۔۔وہ بھی اپنے ہونٹوں کا دباؤ بڑھا رہی تھی۔۔۔
دفعتاً اس کی زبان میرے ہونٹوں کی گرفت میں آ گئی۔۔۔میں نے نرمی سے اس کی زبان کو ہونٹوں میں لے کر شد مد سے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔
میں مدہوش سا ہو رہا تھا۔۔۔ایک شہد کا دریا سا پھوٹ پڑا تھا۔۔۔جس کی مٹھاس میرے رگ و پے میں اتر کے فرحت بخش رہی تھی۔۔۔
میں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے بتیس سائز کے گول مٹول ممے کو پکڑ لیا۔۔۔یکبارگی مومو نے اپنی زبان میری گرفت سے چھڑوائی اور میری گود سے اٹھ کر اپنی کرسی کی جانب بڑھی تو میں نے پیچھے سے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے واپس اپنی گود میں کھینچ لیا۔۔۔اب سچویشن یہ تھی کہ مومو میری گود میں تھی اور اس کا منہ بھی دوسری طرف تھا۔۔۔
میں اس کی گردن کو چوم رہا تھا اور میرے دونوں ہاتھ اس کے مموں کا احاطہ کیے ہوئے گستاخیوں پر آمادہ تھے۔۔۔

مومو گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔میں نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر مومو کی پھدی پر رکھا تو وہاں چپچہاہٹ محسوس ہوئی۔۔۔
اپنی پھدی پر میرا ہاتھ محسوس کر کے وہ ایک دم لرز گئی اور زور لگا کر خود کو مجھ سے چھڑوایا اور سامنے موجود دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
وہ پوری طرح گرم ہو چکی تھی لیکن یہاں اس جگہ پر چدائی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مومو کو اس کے سٹاپ پر اتار کر میں ٹیکسی میں ہی واپس گھر چل پڑا۔۔۔
آفتاب اور ارمغان گھر موجود نہیں تھے۔۔۔وہ کسی کام کیلئے گئے ہوئے تھے۔۔۔گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اچانک مجھے ٹٹوں میں درد ہونا شروع ہو گیا۔۔۔
ایسا لگتا تھا کہ جیسے ٹٹے منوں وزنی ہو گئے ہوں۔۔۔میں کچھ دیر تو اس دیر کو برداشت کرتا رہا۔۔۔
پھر جب تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں نے سوچا کہ باہر جا کر کسی قریبی ڈاکٹر سے کنسلٹ کرتا ہوں۔۔۔
ابھی میں اٹھ کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔میری شکل پر تکلیف کے آثار دیکھ کر وہ فکر مندی سے بولی۔۔۔
سمیر۔۔۔کیا ہوا۔۔۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔
میں نے اسے اپنی تکلیف کے متعلق بتایا تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔پاگل جب بھی ڈیٹ پر جاؤ۔۔۔شلوار قمیض پہن کر جایا کرو۔۔۔پھر میں لن کی طرف اشارہ کر کے بولی۔۔۔
ایسے اس بے چارے پر ظلم کرو گے تو بعد میں درد تو ہو گا ہی ناں۔۔۔
تم ایسا کرو کہ لیٹ جاؤ میں ابھی اس کا علاج کرتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے مجھے دھکیلتے ہوئے بستر پر گرایا اور لٹا دیا۔۔۔ساتھ ہی میری پینٹ اتار کر میرے پاؤں سے نکال دی۔۔۔میں نے کہا سدرہ دروازہ لاک کر لو۔۔۔

تو وہ بولی ابھی کون حرامی ادھر آئے گا۔۔۔بس چپ چاپ لیٹ جاؤ اور میرے کسی بھی کام میں دخل اندازی مت کرو۔۔۔

یہ کہہ کر سدرہ نے میرے لن پر جھکتے ہوئے اسے منہ میں بھر لیا اور آہستہ آہستہ سے چوسنے لگی۔۔۔
حیرت انگیز طور پر لن کھڑا ہوتے ہی درد میں واضح کمی محسوس ہوئی اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
مجھے یوں اٹھتے دیکھ کر سدرہ نے لن منہ سے باہر نکالا اور بولی کیا ہوا۔۔۔میں نے کہا کچھ نہیں تم اپنا کام جاری رکھو۔۔۔اور وہ دوبارہ لن کو چوسنے لگی۔۔۔
مومو سے ملاقات کے دوران لن کافی دیر کھڑا رہا تھا۔۔۔اس لیے ذیادہ دیر نہیں لگی۔۔۔اور میرا جسم اکڑنے لگا۔۔۔
سدرہ کے جاندار چوپوں نے پانچ منٹ میں ہی میرے لن کو ہار ماننے پر مجبور کر دیا۔۔۔
میرے لن نے منی کی دھاریں خارج کرنا شروع کیں جن کو سدرہ اپنے حلق سے نیچے اتارتی گئی۔۔۔


منی نکلنے کے بعد مجھے اپنے ٹٹوں میں ٹھنڈک سی پھیلتی محسوس ہوئی اور درد کا شائبہ تک نہیں رہا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میں بلکل ہشاش بشاش تھا۔۔۔سدرہ شرارتی انداز میں بولی ہاں اب بتاؤ درد کدھر گیا۔۔۔
تو میں بھی اسی کے انداز میں بولا۔۔۔کونسا درد میری رانی۔۔۔
یہ کہہ کر میں نے سدرہ کو دبوچ کر اپنے اوپر گرا لیا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد سدرہ کی قمیض گلے تک چڑھی ہوئی تھی اور شلوار ایک سائیڈ پہ زمین پر پڑی ہوئی تھی۔۔۔
میری پینٹ تو پہلے ہی اتری ہوئی تھی۔۔۔میں مسلسل سدرہ کے نپلز چوس رہا تھا۔۔۔اور سدرہ آہہہ۔۔۔آہ۔آہہہ۔۔۔کرتے ہوئے مزے اور مستی میں سر کو ادھر ادھر ہلا رہی تھی۔۔۔
کمرے میں تھاہ۔۔۔تھپ۔۔۔تھاہ کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔میں اپنا لن سدرہ کی پھدی میں ڈالے پوری رفتار سے اسے چود رہا تھا۔۔۔
اور یہ آوازیں میرے اور اس کے جسم کے ٹکرانے سے پیدا ہورہی تھیں۔۔۔ایک زبردست چدائی کے بعد ہم دونوں فارغ ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

=©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©©=

 

اگلے دن مومو سے ملنے کا پلان تھا۔۔۔
لیکن صبح صبح پاپا کی کال آئی اور ان کے حکمِ نادر شاہی کے زیرِ اثر مجھے واپس ملتان روانہ ہونا پڑا۔۔۔
اب روزانہ ہی ہماری فون پر بات ہوتی تھی۔۔۔کبھی کبھار سارا دن ہم لوگ ایس ایم ایس کے ذریعے چیٹ کرتے تھے۔۔۔اور رات کو اکثر کال پر سیکسی باتیں کرتے تھے۔۔۔
سیکس کی خواہش ہم دونوں میں زور و شور سے بھڑکنے لگی۔۔۔
اور ہم لوگ موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔۔۔
مجھےپنڈی سے واپس آئے ہوئے ایک سال سے اوپر ہو گیا تھا۔۔۔اسی دوران سدرہ نے ایک اور بچے کو جنم دے دیا۔۔۔میں نے کال کر کے اسے مبارک باد دی۔۔۔تو سدرہ نے بڑے لاڈ سے پوچھا سمیر اپنے دوسرے بیٹے کو دیکھنے کب آؤ گے۔۔۔
میں نے جواب دیا۔۔۔میری جان دل تو کر رہا ہے کہ اڑ کر آ جاؤں۔۔۔پر ابھی میرے پیپرز ہو رہے ہیں۔۔۔تھوڑا انتظار کرو۔۔۔بہت جلد ہی میں کوئی موقع بنا کر اپنی جان کو پیار کرنے اور اپنے بیٹے کو سینے سے لگانے کیلئے آ رہا ہوں۔۔۔
میری بات سن کر سدرہ خفگی سے بولی۔۔۔کیسے باپ ہو تم۔۔۔تمہارے دل میں اپنے بیٹے سے ملنے کی ذرا بھی تڑپ نہیں ہے۔۔۔
میں نے بڑی مشکل سے لاڈ پیار سے اسے سمجھایا کہ جان جلد ہی کوئی نا کوئی ترکیب لڑا کر اپنی جان کے پاس پہنچ جاؤں گا۔۔۔پھر ادھر ادھر کی باتیں کر کے۔۔۔اور سدرہ کو اپنا خیال رکھنے کا کہہ کر میں نے کال بند کر دی۔۔۔
سچ جانو تو دوسرے بیٹے کا سن کر میرے دل کی کیفیت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔

لیکن ذیادہ دیر اس کیفیت کے زیرِ اثر نہیں رہ پایا۔۔۔کیونکہ مومو کی پھدی مارنے کی خواہش اور من و عن سے شور مچانے لگی۔۔۔
اس ایک سال کے دوران میں نے کافی پھدیاں ماریں۔۔۔لیکن وہ ساری کی ساری وقتی آسرا تھیں۔۔۔
پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے پرانی یادوں میں دھکیل دیا۔۔۔

ہوا کچھ یوں کہ میں اپنے ایک دوست راجو کی دکان پر روز چلا جاتا تھا اور ہم لوگ بیٹھ کر دنیا جہان کی ہانکتے تھے۔۔۔
راجو کی موبائل شاپ تھی۔۔۔ایک دن میں راجو سے ملنے گیا تو سلام دعا کے بعد ابھی ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ راجو کو گھر سے کال آ گئی۔۔۔فون سننے کے بعد راجو نے کہا۔۔۔سمیر جانی تم تھوڑی دیر دکان سنبھالو میں ابھی گھر سے ہو کر آتا ہوں۔۔۔
گھر میں مہمان آئے ہیں تو امی نے کچھ سودا سلف منگوایا ہے۔۔۔
میں یوں گیا اور یوں آیا۔۔۔
میں نے اسے یاد کروایا کہ واپسی پر آتے ہوئے بئیر لیتا آئے۔۔۔تو وہ سر ہلا کر موٹر سائیکل پر روانہ ہو گیا۔۔۔اس کے جانے کے بعد میں کمپیوٹر پر ایک گیم فائنل فائٹ لگا کر کھیلنا شروع ہو گیا۔۔۔
تبھی پندرہ منٹ بعد دکان میں ایک نقاب پوش لڑکی داخل ہوئی۔۔۔اور آ کر کاؤنٹر کی داہنی سمت ایک کارنر میں کھڑی ہو گئی۔۔۔
میں نے گیم سٹاپ کی اور اس کی طرف گہری نظر سے دیکھا اس نے نہایت ڈھیلا ڈھالا عبایا پہنا ہوا تھا۔۔۔
جس کی وجہ سے اس کے جسم کے خد و خال چھپے ہوئے تھے۔۔۔
میں نے پوچھا۔۔۔جی بولیں کیا چاہیے آپ کو۔۔۔۔
تو وہ لڑکی بولی مجھے صرف ایک ہزار روپیہ چاہیے۔۔۔۔میں حیرانگی سے بولا۔۔۔جی کیا کہا آپ نے۔۔۔
تو وہ دوبارہ بولی مجھے ایک ہزار روپیہ چاہیے۔۔۔اس کے عوض آپ یہ میرا موبائل رکھ لیں۔۔۔
میں دو دن بعد پیسے واپس دے کر اپنا موبائل لے جاؤں گی۔۔۔ساتھ ہی اس نے اپنا سفید مخروطی ہاتھ آگے بڑھایا اور ایک موبائل میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔نوکیا 1210 موبائل کافی پرانی کنڈیشن میں تھا۔۔۔
میں نے موبائل کو ہاتھ لگائے بغیر کہا۔۔۔محترمہ ایسے تو ہم کسی کو پیسے نہیں دے سکتے۔۔۔
ہاں اگر آپ موبائل بیچنا چاہیں تو میں چیک کر کے اس کی کنڈیشن اور ویلیو کے مطابق پیسے دے سکتا ہوں۔۔۔
تو وہ لڑکی اضطراب کی کیفیت میں اپنے گورے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولی۔۔۔
نہیں موبائل میں بیچ نہیں سکتی یہ میرے پاس آخری سہارا ہے اور پیسے بھی لازمی چاہیے۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے مجھ سے پوچھا۔۔۔کیا ایک گلاس پانی ملے گا۔۔۔میں نے ساتھ پڑے ہوئے کولر سے ایک گلاس پانی بھر کر اسے دیا۔۔۔تو اس نے گلاس اٹھاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اپنا نقاب کھول دیا۔۔۔شدید شاک کی کیفیت میں میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔
وہ لڑکی۔۔۔
وہ لڑکی۔۔۔
نازنین تھی۔۔۔
جی ہاں دوستو اگر آپ بھول نہیں گئے ہوں تو تھوڑا پیچھے چلے جائیں۔۔۔آپ کو خانم کے کوٹھی خانے پر نازنین یاد آ جائے گی۔۔۔

میں نے حیرانی سے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
نازنین تم یہاں۔۔۔
اور اس حال میں۔۔۔
تو نازنین نے پانی پینے کے بعد میری طرف اداس نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا جی سر۔۔۔
یہ میں ہی ہوں بدنصیب نازنین۔۔۔
جن دنوں آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔۔۔
انہی دنوں میں خانم کے کوٹھی خانے سی ایک لڑکے کے ساتھ نکل بھاگی تھی۔۔۔
وہ لڑکا بھی ملتان کا ہی تھا۔۔۔مجھ جیسی لڑکیوں کے ماں باپ تو ہوتے نہیں۔۔۔
ایک حادثہ ہی مجھے خانم کے کوٹھی خانے تک لایا تھا اور ایک حادثہ ہی مجھے وہاں سے نکال کر لے آیا۔۔۔
میں نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔رکو نازنین ابھی نہیں بس چند منٹ انتظار کرو پھر کہیں چلتے ہیں اور جا کر کسی پر سکون جگہ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔
یہ کہہ کر میں نے راجو کو کال ملائی ہی تھی کہ وہ موٹر سائیکل پر سامنے آن موجود ہوا۔۔۔
میں نے چھلانگ ماری اور کاؤنٹر پھلانگتے ہوئے باہر نکلا اور دکان کے باہر ہی اس کو جا لیا۔۔۔
یار راجو ایک نہایت ایمرجنسی ہے۔۔۔بعد میں ساری تفصیل سمجھا دوں گا۔۔۔
فلحال مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔اس نے دکان کے اندر آ کر نازنین کی طرف دیکھا جو کہ اتنی دیر تک نقاب واپس چڑھا چکی تھی۔۔۔
راجو نے اپنے پرس سے ہزار والے چار نوٹ نکال کر میری طرف بڑھائے اور بولا سمیر سب خیریت ہے ناں۔۔۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ سب خیریت ہی ہے۔۔۔فلحال میں جلدی میں ہوں باقی باتیں بعد میں سمجھا دوں گا۔۔۔ابھی مجھے اپنی موٹر سائیکل کی چابی دے دو۔۔۔
چابی پکڑ کر میں نے نازنین کو کہا کہ ناز تم ساتھ والی گلی میں آہستہ آہستہ چلتی جاؤ میں ابھی تمہیں اٹھاتا ہوں۔۔۔میری بات سن کر نازنین نے اپنا موبائل اٹھایا اور سست روی سے چلتی ہوئی دکان سے نکل کر ساتھ والی گلی میں داخل ہو گئی۔۔۔
میں نے راجو کو کہا کہ راجو یار یہ میری بہت پرانی جاننے والی ہے بس آج اچانک ہی ملاقات ہو گئی اور بے چاری کسی مصیبت میں ہے۔۔۔
میں تمہیں دو چار گھنٹوں میں ملتا ہوں یہ کہہ کر میں باہر نکلا۔۔۔موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور ساتھ والی گلی میں چلتی ہوئی نازنین کے پاس جا کر روکی۔۔۔
وہ اچک کر میرے پیچھے بیٹھ گئی اور میں نے بائیک آگے بڑھا دی۔۔۔

نازنین کو پیچھے بٹھائے میں وہاں سے نکلا اور شہر سے قریباً سات کلومیٹر دور ایک گاؤں میں موجود اپنے ایک دوست کے ڈیرے پر جا پہنچا۔۔۔
راستے میں ایک ہوٹل سے میں نے کھانا پیک کروا لیا تھا۔۔۔ڈیرے پر صرف مالی موجود تھا جو کہ مجھے بھی جانتا تھا اور ہماری حرکتوں کو بھی جانتا تھا۔۔۔

کیونکہ اکثر ہم دوست وہاں لڑکیاں لا کر چودا کرتے تھی۔۔۔تھی تو نازنین بھی ایک چدکڑ ہی ناں۔۔۔
اس لیے اسے وہاں لے کر جاتے ہوئے میں ذرا بھی نہیں ہچکچایا۔۔۔
ڈیرے پر ایک سائیڈ میں دو نہایت آرام دہ کمرے بنے ہوئے تھے۔۔۔اندر بیڈ،،صوفے،،کرسیاں،،ٹی وی،،فریج۔۔۔ہر چیز موجود تھی۔۔۔
میں نے سب سے پہلے نازنین کو کمرے میں پہنچایا اور پھر کھانا پلیٹوں میں سجا کر خود بھی کمرے میں چلا آیا۔۔۔
ہم دونوں نے کھانا کھایا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد نازنین نے اپنا عبایا اتار کر ایک سائیڈ پر رکھا اور میرے سامنے بیٹھ کر چپ چاپ مجھے دیکھنے لگی۔۔۔
میں نے ایک سگریٹ سلگا کر اسے دیا اور دوسرا سگریٹ اپنے لیے سلگاتے ہوئے بولا۔۔۔ہاں نازنین اب اپنی بپتا بتاؤ۔۔۔نازنین سگریٹ کا کش لیتی ہوئی مجھے گھورتی رہی۔۔۔
پھر ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔۔۔بس سر کیا بتاؤں۔۔۔میری آپ سے ملاقات خانم کے کوٹھی خانے پر ہوئی تھی۔۔۔اس سے پہلے میں کیا تھی۔۔۔کہاں تھی۔۔۔یہ جاننا ضروری نہیں ہے۔۔

بس اتنا بتا دیتی ہوں۔۔۔میرے ماں باپ نہایت شریف لوگ تھے۔۔۔میں کچی عمر میں ہی ایک لڑکے کے پیار میں پڑ گئی اور اس کے دکھائے ہوئے سبز باغ مجھے بہت دور تک لے گئے۔۔۔انہی خوابوں کے زیرِ اثر میں ایک دن گھر سے اپنی ماں کے چند زیورات اور رقم جو کہ اس نے شاید میری شادی کیلئے ہی جوڑ کر رکھی تھی۔۔۔
لے کر ماں کے نام ایک خط لکھ چھوڑا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے پیار کے ساتھ جا رہی ہوں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔پھر وہاں سے اس لڑکے کے ساتھ اڑنچھو ہو گئی۔۔۔وہ لڑکا مجھے لے کر اسلام آباد پہنچ گیا اور وہاں ایک چھوٹے سے کرایے کے مکان میں ہم لوگ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے لگے۔۔۔
میرا کنوارا پن وہیں اس نے ختم کیا اور چار دن بعد ہی مجھے دھوکے سے خانم کے کوٹھی خانے پر لے گیا۔۔۔
مجھے اس نے یہی بتایا کہ یہ اس کی خالہ کی کوٹھی ہے۔۔۔موصوف نے وہاں ایک رات اور میری پھدی ماری اور اگلے دن خانم سے میرا معاوضہ وصول کر کے چلتا بنا۔۔۔
یہ ساری باتیں بعد میں مجھے پتہ چلیں۔۔۔میں بہت تڑپی۔۔۔چیخی چلائی۔۔۔
پر خانم۔۔۔
وہ کتیا کی بچی۔۔۔
ماں کی لوڑی بہت ظالم اور جابر عورت ہے۔۔۔ظلم و ستم کی انتہاء کر دیتی ہے۔۔۔
اس نے مجھے دو دن تک بھوکا پیاسا باندھ کر رکھا۔۔۔اور خود ایک پلاسٹک کا لن اسٹریپس کے ساتھ باندھ کر سب لڑکیوں کے سامنے۔۔۔لگاتار میری گانڈ اور پھدی کو کھلا کرتی رہی۔۔۔
آخرکار میں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے کہ جو تم کہو گی وہ میں کروں گی بس مجھے چھوڑ دو۔۔۔
اب تمہاری کسی بات سے انکار نہیں کروں گی۔۔۔عجیب جنونی عورت ہے وہ گشتی کی بچی۔۔۔
اس کے بعد میں وہاں اس کے ساتھ سیٹ ہو گئی۔۔۔اس نے باقاعدہ مجھے چدائی کی تربیت دی۔۔۔
مردوں کو لبھانے اور سکون آور منزل تک پہنچانے کے سب طور طریقے سکھلائے۔۔۔
پھر ایک دن آپ سے وہاں ملاقات ہو گئی۔۔۔جب آپ سے ملاقات ہوئی تب مجھے خانم کے پاس ایک سال ہو چکا تھا۔۔۔آپ کے اوپر جو بیتی سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔اورنا صرف آپ بلکہ اور پتہ نہیں کتنے لڑکے اور لڑکیاں اس نے اسی طرح بڑے لوگوں کی طبع جولانی کی بھینٹ چڑھا دیں۔۔۔
ان میں سے جن لوگوں نے بغاوت کی ان کا واقعی نام و نشان نہیں ملا۔۔۔آپ کے جانے کے بعد ذیشان نام کا ایک لڑکا وہاں آیا۔۔۔وہ مجھے دیکھتے ہی میرے اوپر مر مٹا۔۔۔

اس کے ساتھ کافی دفعہ ملاقات ہوئی۔۔۔وہ جب بھی آتا میری ڈیمانڈ کرتا تھا۔۔۔پھر آہستہ آہستہ میں ایک بار پھر اس لڑکے کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی۔۔۔
اور میں نے اہنی زندگی کا دوسرا جوا کھیلنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ایک دن دوپہر کے وقت جب خانم موجود نہیں تھی۔۔۔میں خانم کی سیف الماری سے اس کے زیورات اور کافی ساری رقم لے کر ذیشان کے ساتھ وہاں سے بھاگ نکلی۔۔۔
ہم دونوں وہاں سے لاہور پہنچ گئے۔۔۔میں زندگی میں پہلی دفعہ لاہور آئی تھی اس لیے لاہور کے حالات و واقعات سے نا واقف تھی۔۔۔
اور وہ ماں کا لنڈ پہلی ہی رات میں مجھے خواب آور گولیاں کھلا کر میرا سب کچھ سمیٹتے ہوئے مجھے ہیرا منڈی کی ایک نائکہ کو بیچ کر بھاگ گیا۔۔۔

مجھے جب ہوش آیا اور میں اپنے حالات و واقعات سے با خبر ہوئی تو بڑا روئی پیٹی۔۔۔
اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی تھی۔۔۔یقین مانیں سر لاہور میں گزرا وقت میری زندگی کا انتہائی خوفناک دور تھا۔۔۔یہاں اس نائکہ نے تین تین سو روپے میں میری پھدی مروائی۔۔۔
انتہائی غلیظ اور بدبودار لوگوں کے نیچے لیٹنا پڑا۔۔۔پھر میں موقع دیکھ کر کل رات وہاں سے بھی بھاگ نکلی۔۔۔
اور ایک موہوم سے سراغ کا دامن پکڑ کر ذیشان کو ڈھونڈنے یہاں چلی آئی۔۔۔۔
پر یہاں آ کر پتہ چلا کہ اس کنجر نے اپنا ایڈریس بھی غلط دیا تھا۔۔۔اب میں سوچتی ہوں کہ خانم کا کوٹھی خانہ ہی بہتر تھا۔۔۔ایویں ای وہاں سی بھاگی۔۔۔
شروع میں جو بھی تھا بعد میں وہاں سیٹنگ ہو گئی تھی۔۔۔بس اس حرامی کی باتوں میں آ گئی اور اپنا وہ ٹھکانہ بھی چھوڑ بیٹھی۔۔۔اب واپس لاہور تو کسی صورت بھی نہیں جانا۔۔۔اس سے اچھا ہے کہ کسی گاڑی کے نیچے آ کر خود کا خاتمہ کر لوں۔۔۔

پھر خانم کے پاس جانے کا بھی تصور نہیں کر سکتی۔۔۔اس کنجری نے پتہ نہیں کہاں کہاں مجھے ڈھونڈا ہو گا۔۔۔اس کے ہتھے چڑھ گئی تو زندہ جلا دے گی۔۔۔
ماں باپ کے پاس جا نہیں سکتی وہ پتہ نہیں وہاں ہوں گے بھی کہ نہیں اور اگر ہوئے بھی تو مجھے قبول کریں گے بھی کہ نہیں۔۔۔
تنگ آ کر میں نے سوچا کہ چلو اپنی ایک ساتھی کے گھر لاہور جاتی ہوں۔۔۔وہاں چھپ کر کچھ دن گزاروں گی۔۔۔اور اس کیلئے مجھے پیسے چاہیے تھے تو سوچا چلو کسی دکان پر جاتی ہوں اور جلوے دکھا کر چار پیسے اینٹھ کر لاہور جانے کا کرایہ بناتی ہوں۔۔۔
لیکن پہلی ہی دکان پر آپ کو دیکھ کر مجھے جھٹکا لگا اور پھر پتہ نہیں میں کیا کیا بولتی گئی۔۔۔آخرکار میں نے خود کو ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا اور نقاب اتار دیا۔۔۔باقی آپ کے سامنے ہے۔۔۔

میں جو چپ چاپ اس کی رام لیلا سن رہا تھا۔۔۔اب دل میں سوچ رہا تھا کہ اس کو ابھی پتہ نہیں کہ خانم کے ساتھ کیا ہوا ہے۔۔۔
میں نے سکوت توڑتے ہوئے اسے کیونکہ نازنین پیسوں کی کوئی بات نہیں جان۔۔۔یہ پیسے میں دوست سے تمہارے لیے ہی پکڑ کر لایا ہوں۔۔۔لیکن تم خود سوچو کہ یہ کوئی حل تو نہیں ہے ناں۔۔۔آگے کا سوچو کہ کیا کرو گی۔۔۔
اتنا کہہ کر میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔وہ اداس لہجے میں بولی۔۔۔سارا کچھ تو آپ کو بتا چکی ہوں اگر آپ کے پاس کوئی بہتر یا متبادل آپشن ہے تو بتائیں۔۔۔
میں نے کہا ہاں ہے اک آپشن۔۔۔پر پتہ نہیں وہ کام بھی کرے گا کہ نہیں۔۔۔وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔۔۔تو میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔۔۔نازنین اگر میں کہوں کہ خانم اس دنیا میں نہیں رہی تو۔۔۔۔میری بات سن کر بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا وہ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھتی رہی۔۔۔
تو میں نے کہا۔۔۔ہاں دوست خانم کا کچھ عرصہ پہلے قتل ہو گیا ہے۔۔۔اور خانم والی واردات اسے بتا دی۔۔۔
میری بات سن کر وہ خوشی سے اچھل پڑی اور خوشی سے لرزتے ہوئے بولی کہ اگر یہ بات ہے تو میں واپس پنڈی جا سکتی ہوں اور وہاں کسی نا کسی کوٹھی خانے میں ایڈجسٹ ہو جاؤں گی۔۔۔
ایک دو رابطے میرے پاس موجود ہیں۔۔۔اور پھر کچھ وقت وہاں گزار کر میں اپنا ایک چھوٹا سا کوٹھی خانہ چلانے کی داغ بیل ڈالی دوں گی۔۔۔
میں نے کہا رکو شاید میں کچھ کر پاؤں۔۔۔وہ نا سمجھنے کے انداز میں مجھے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے جیب سے اپنا موبائل نکالا اور پہلے سے محفوظ حارث کا نمبر ملایا۔۔۔
چند لمحوں بعد ہی حارث سے بات ہو رہی تھی۔۔۔میں نے حارث کو نازنین کا یاد دلاتے ہوئے اس کی ساری بپتا سنائی اور کہا کہ اب آپ بتائیں اس معاملے میں آپ کیا کر سکتے ہیں۔۔۔حارث نے کہا۔۔۔
شہزادے شاید تم نہیں جانتے خانم میری وجہ سے ہی خانم تھی۔۔۔تم نازنین کو میرا نمبر دے کر اسلام آباد روانہ کر دو اور تاکید کرو کہ یہاں پہنچتے ہی مجھ سے رابطہ کرے۔۔۔خانم کے بعد وہ کوٹھی خانہ اور ساری لڑکیاں بے کار پڑی ہیں۔۔۔
اب نازنین خانم بنے گی۔۔۔

وہ کوٹھی میری اپنی ذاتی کوٹھی ہے۔۔۔تھوڑی دیر تک ساری باتیں اور معاملات طے کرنے کے بعد میں نے کال کاٹ دی۔۔۔نازنین میرے سر کے ساتھ سر جوڑے باتیں سننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
میں نے کال کاٹنے کے بعد اس کو ساری باتیں تفصیل سے سمجھائیں تو اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور وہ روتے روتے میرے گلے لگ کر کہنے لگی۔۔۔
کون کہتا ہے کہ رشتہ بس جسم کا ہوتا ہے۔۔۔نہیں دوست تعلق دوستی کا بھی ہوتا ہے۔۔۔جسم تو صرف ایک ضرورت ہے۔۔۔
میں نے اسے چپ کرواتے ہوئے اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے صاف کر دیے۔۔۔پھر میں نے جیب سے پیسے نکالے اور سارے پیسے اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیسے رکھو اپنے پاس۔۔۔اب یہاں سے چلتے ہیں اور میں تمہیں اسلام آباد جانے والی گاڑی پر بٹھا دیتا ہوں۔۔۔
ساتھ ہی ایک کارڈ پر میں نے اپنا اور حارث کا نمبر لکھ کر دیا۔۔۔اور اسے سمجھایا کہ وہاں گاڑی سے اترتے ہی حارث سے رابطہ کر لینا۔۔۔
تو وہ میری بات کاٹ کر بولی۔۔۔بے فکر رہو میرے دوست اب چونکہ تم نے مجھے راستہ دکھا دیا ہے تو باقی کا کھیل میں خود سمجھ لوں گی۔۔۔
اور ہاں حالات سیٹ ہوتے ہی تم سے رابطہ کروں گی اور اگر قسمت نے ساتھ دیا تو تمہاری نازنین تمہیں خود بلائے گی۔۔۔اور شایانِ شان تمہارا استقبال کرے گی۔۔۔
یہ کہہ کر وہ ایک دفعہ پھر میرے گلے لگ گئی اور زور سے مجھے اپنے جسم میں بھینچ لیا۔۔۔اب چونکہ سارا مسئلہ حل ہو چکا تھا تو اس کے ممے میرے سینے کے ساتھ ٹکراتے ہی میرے لن نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان ہی اکڑنا شروع ہو گیا۔۔۔


اس اکڑاہٹ کو نازنین نے بھی محسوس کر لیا۔۔۔وہ آہستہ سے پیچھے ہٹی اور ایک سائیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔
چند لمحے خاموشی کے بعد نازنین یاس بھرے لہجے میں بولی۔۔۔دوست کیا اب کی بار مجھے اپنی قربت سے نہیں نوازو گے۔۔۔

میں نے کہا کہ میں تو کب سے سوچ رہا ہوں کہ تمہارے مموں کا دیدار کر لوں۔۔۔
تمہیں خود میں سمو لوں۔۔۔پر ہمت نہیں ہو رہی۔۔۔
کہیں تم ایسا نہ سوچو کہ اپنے احسان کی قیمت وصول کر رہا ہے۔۔۔میرا یہ کہنا تھا کہ نازنین نے پلٹی کھائی اور میرے اوپر آ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔
میں دیوانہ وار اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔
چند منٹ کی کسنگ کے بعد نازنین پیچھے ہوئی اور بولی۔۔۔سمیر کیا یہاں کوئی غسل خانہ ہے۔۔۔مجے دس منٹ دو تا کہ میں اپنے شہزادے کیلئے تھوڑا صاف ستھری ہو جاؤں۔۔۔
میں نے اسے غسل خانے کی راہ دکھائی۔۔۔وہ چلتی ہوئی غسل خانے میں چلی گئی۔۔۔
ٹھیک دس منٹ بعد وہ غسل خانے سے برآمد ہوئی۔۔۔اس کو دیکھتے ہی میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
اس نے اپنے کپڑے اتارے ہوئے تھے اور گیلے جسم پر تولیہ باندھا ہوا تھا۔۔۔بیڈ کے پاس آ کر اس نے تولیہ اتار کر اپنے بال خشک کرنے شروع کر دیے۔۔۔

مجھ سے اب برداشت نہیں ہوا۔۔۔میں نے فٹافٹ اپنے کپڑے اتارے اور پیچھے سے جا کر اسے اپنی بانہوں میں کس لیا۔۔۔اس کی گردن کو چومتے ہوئے میں نے اسے پیچھے بیڈ کی طرف کھینچا اور اپنے اوپر لیے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔پھر اس کے نچلے ہونٹ کو چوسنے لگا۔۔۔
اس کی گرم گرم سانسیں مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔بلا شبہ نازنین ایک سیکس طوفان کا نام تھا۔۔۔میرے دونوں ہاتھ مسلسل اس کی کمر پر چل رہے تھے۔۔۔میں اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتا ہوا اس کے چوتڑوں تک جا پہنچا۔۔۔میں اس کے چوتڑوں کو مسلتے ہوئے مسلسل اس کے ہونٹ چوس رہا تھا۔۔۔
نازنین میرے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی بولی۔۔۔سمیر۔۔۔۔کیا اپنی نازنین کا دودھ نہیں پیو گے۔۔۔
ان مموں کا تو میں عاشق تھا۔۔۔میں نے نازنین کو تھوڑا اوپر کی طرف کھینچا تو اس کے ممے عین میرے منہ کے سامنے آ گئے۔۔۔آج بھی ان مموں کی اٹھان ویسے ہی برقرار تھی۔۔۔
لگتا تھا کہ زمانے کے نرم گرم،،اتار چڑھاؤ نے ان پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔۔۔
میں نے اس کا ایک نپل منہ میں لے کر چوستے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اس کی سڈول اور خوب ابھری ہوئی گانڈ کو زور سے دبا دیا۔۔۔نازنین۔۔۔۔اوئی۔ی۔ی۔۔۔۔کیا کرتے ہو۔۔۔
آرام سے کرو ناں۔۔۔۔میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں۔۔۔

میں نے اس کو سیدھا بیڈ پر لٹایا اور خود اس کے اوپر آ گیا۔۔۔اس کے ممے دیکھ دیکھ کر میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔۔۔میرے منہ میں اتنا پانی آ رہا تھا کہ حقیقتاً میری رالیں بہہ رہی تھیں۔۔۔
میں نے اس کے مموں کو خوب چاٹا اور چوسا۔۔۔اس کے بعد میں نے اپنا ہاتھ اس کی سڈول رانوں پر پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔جیسے ہی میرے ہاتھ نے نازنین کی پھدی کے لبوں کو چھوا اس کے منہ سے سسکی سی نکل گئی۔۔۔
اور اس کا پورا جسم کانپ گیا۔۔۔میں نے اس کی پھدی کے ہونٹ کو دو انگلیوں میں پکڑا اور مسلنے لگا۔۔۔
نازنین کی حالت خراب ہورہی تھی۔۔۔وہ مچلنے لگی۔۔۔۔سمیرررررررر۔۔۔۔۔۔


مگر میں کہاں سننے والا تھا۔۔۔اہسے ہی کچھ دیر اس کے ممے چوسنے اور پھدی کو مسلنے کے بعد میں نے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر اپنا پوری طرح اکڑا ہوا لن اس کی پھدی کی لکیر میں رکھا اور تھوڑا سا دباؤ ڈالا تو لن بنا کسی رکاوٹ کے اندر چلا گیا۔۔۔
میں دباؤ بڑھاتا گیا اور چند سیکنڈز میں ہی پورا لن اندر غروب ہو چکا تھا۔۔۔
میں نے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔اس کی پھدی اندر سے پوری طرح گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا لن با آسانی اندر باہر جا رہا تھا۔۔۔میں نے گھسے مارتے ہوئے نیچے جھک کر اس کے نپل کو منہ میں بھر لیا۔۔۔
اور نپل چوستے ہوئے تھوڑی سپیڈ سے گھسے مارنے لگا۔۔۔لن پچک پچک کی آواز کے ساتھ اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔
نازنین فل مزے میں سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔آہ۔۔۔آہہہ۔۔۔آہہہ۔۔۔مممم۔آہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔
وہ بیڈ سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر میرے دھکوں کا جواب دے رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد میں نے ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد نازنین کو الٹا کیا اور گھوڑی بناتے ہوئے اس کی پھدی میں اپنا لن ڈال کر گھسے مارنے لگا۔۔۔ناز کی سسکاریاں اب پورے عروج پر تھیں۔۔۔
آہ۔۔آہہہ۔۔۔آہہہ۔۔یس۔۔یس۔۔۔اففففف۔۔۔میری جان کمال کر رہے ہو۔۔۔کب سے میں ترس رہی تھی۔۔۔
آہہہ۔۔۔آہہہ۔۔۔۔اور زور سے۔۔۔میں زور سے گھسے مارتے ہوئے اس کے چوتڑوں کو کھول کھول کر دیکھنے لگا۔۔۔
پھر میں نے اپنی دو انگلیوں پر تھوڑا تھوک لگایا اور اس کی گانڈ کے سوراخ میں گھسا دیں۔۔۔اس کی گانڈ آج بھی اندر سے اتنی ہی گرم تھی۔۔۔
میں اس کی گانڈ میں انگلیاں کرتے ہوئے اسے چودنے لگا۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کا جسم کانپنا شروع ہوا۔۔۔
اس نے پوری جان کے ساتھ پیچھے دھکا مارا تو میرا لن جڑ تک اس کی پھدی میں گھس گیا اور ٹوپی اس کی بچہ دانی کو چیرتی ہوئی اندر داخل ہو گئی۔۔۔
اسی لمحے نازنین نے لرزتے ہوئے پانی چھوڑ دیا۔۔۔
میں نے اپنا لن باہر نکال لیا کیونکہ مجھے لتھڑی ہوئی پھدی مارنے کا مزہ نہیں آتا تھا۔۔۔
میں نے اس کو کھینچ کر بیڈ کے کنارے کیا اور خود زمین پر کھڑا ہو کر اس کو کروٹ کے بل لٹاتے ہوئے اس کی گانڈ باہر نکال دی۔۔۔
پھر میں نے اپنا ایک گھٹنا بیڈ پر رکھ کر اور دوسرا پاؤں زمین جماتے ہوئے اس کی منی سے لتھڑے ہوئے لن کو اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ایک زور دار گھسہ مارا تو بھک کی آواز کے ساتھ میرا لن بڑی آسانی سے اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔
چونکہ ناز گانڈ مروانے کی شوقین لڑکی تھی تو اس کی گانڈ کا سوراخ کافی نرم تھا اس لیے میرا لن بنا کسی رکاوٹ کے جڑ تک اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔
میں نے آہستہ آہستہ سے ہلنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی گانڈ آج بھی بہت ذیادہ گرم تھی۔۔۔
امجھے لگ رہا تھا کہ میں بس ابھی گیا اور ابھی گیا۔۔۔میں نے ایک دم اپنی رفتار بڑھا دی اور پوری جان کے ساتھ گھسے مارنے لگا۔۔۔
میری رفتار کو محسوس کرتے ہی نازنین چلائی۔۔۔اندر نہیں چھوڑنا۔۔۔
کوئی پانچ گھسے اور مارنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔نازنین بجلی کی سی تیزی سے اٹھی اور مڑ کر میرا لن اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔
میں نے اس کے منہ کی گرمی محسوس کرتے ہی اس کے سر پر دونوں ہاتھ رکھ کر اپنے لن کی طرف دباتے ہوئے اک زور کا گھسہ مارا تو میرا لن اس کے حلق میں جا گھسا اور منی کی دھار چھوڑنے لگا۔۔۔
اس نے تڑپ کر ہلنے کی کوشش کی لیکن میں نے مضبوطی سے اس کا سر تھامے رکھا اور میرے لن نے اس کے حلق میں سارا منی انڈیل دیا۔۔۔
جو کہ اس کے حلق سے نیچے اتر گیا۔۔۔
پوری طرح نچڑنے کے بعد میں نے اپنا لن باہر نکالا تو اسے جیسے کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔۔۔اور وہ کھانستے ہوئے غسل خانے کی طرف بھاگی۔۔۔

کچھ دیر بعد میں اسے موٹر سائیکل پر بٹھائے کوہستان اڈے میں لے گیا اور اسلام آباد جانے والی گاڑی میں بٹھا کر واپس چلا آیا۔۔۔
ادھر میری اور مومو کی روزانہ بات چیت جاری تھی۔۔۔ہم لوگ آپس میں اتنا کھل چکے تھے کہ ایک دوسرے کے جسمانی اعضاء کے بارے میں کھل کر بات کرتے تھے۔۔۔
ایک دن مومو نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ سمیر میں ایک دفعہ تمہیں اپنانا چاہتی ہوں۔۔۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس نے یہی الفاظ بولے تھے۔۔۔پہلے پہل تو مجھ نالائق کو سمجھ نہ آئی۔۔۔
پھر مومو کے سمجھانے پر سمجھ گیا کہ وہ اب میرے لن کی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔۔۔۔
آخرکار ہمارا پروگرام بن ہی گیا۔۔۔وہ میرے لئے خوشیوں کا دن تھا۔۔۔جس دن مومو نے مجھے بتایا کہ ہر جمعرات کی صبح اس کے والدین پنڈی کے مضافات میں کسی پیر صاحب کو ملنے جاتے ہیں اور ان کی واپسی کسی طور بھی شام سے پہلے نہیں ہوتی۔۔۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق آنے والی جمعرات کے دن صبح گیارہ بجے سے پہلے ہر صورت میں مجھے پنڈی پہنچنا تھا۔۔۔ابھی جمعرات آنے میں پانچ دن پڑے تھے۔۔۔
خیر میں نے گھر میں بہانہ لگایا اور جمعرات کے دن صبح کاذِب میں راولپنڈی کیلئے روانہ ہو گیا۔۔۔ٹھیک 10:40 پر میں پنڈی کمرشل مارکیٹ میں کھڑا تھا۔۔۔


مومو نے کال پر بتایا کہ تھوڑا انتظار کرو۔۔۔ابھی امی ابو گھر سے نکلنے ہی والے ہیں۔۔۔
میں انتظار میں ادھر ادھر گھومنے لگا۔۔۔ٹھیک گیارہ بجے اس کی کال آئی اور اس نے مجھے اپنا ایڈریس سمجھایا۔۔۔میں ٹیکسی پکڑ کر اس کے بتلائے ایڈریس پر چل پڑا۔۔۔مطلوبہ جگہ پر اتر کر مومو کو کال کی تو اس نے مجھے راستہ سمجھانا شروع کر دیا۔۔۔
جیسے جیسے وہ سمجھاتی گئی۔۔۔ویسے ویسے میں گلیوں میں مڑتا ہوا چلتا گیا۔۔۔
لیکن اس کے گھر کے آس پاس آ کر گلیوں کے چکر میں پھنس کر الجھ گیا۔۔۔جب کچھ سجھائی نہ دیا تو مومو کو کال کر کے بتایا۔۔۔
اس نے مجھ سے آس پاس کی نشانیاں پوچھ کر کہا۔۔۔میں سمجھ گئی۔۔۔تم وہیں رکو۔۔۔
میں کسی کو بھیجتی ہوں۔۔۔میں نے کہا۔۔۔سنو۔۔۔کس کو بھیجو گی۔۔۔تو وہ کہنے لگی کہ ریحان بھائی کو ہی بھیجوں گی۔۔۔میں نے گھبرا کر کہا سالی کمینی۔۔۔
پاگل ہو کیا۔۔۔تو اس نے کہا کچھ بھی نہیں ہو گا۔۔۔تم چپ چاپ اس کے ساتھ چلے آنا۔۔۔
آخر مرتا کیا نا کرتا کے مترادف وہیں کھڑا رہا۔۔۔چند منٹ بعد ہی ایک لڑکا میرے پاس آیا۔۔۔
مجھ سے میرا نام پوچھا اور میرا نام جان کر مجھے ساتھ لے کر چل پڑا۔۔۔


ہم لوگ بلکل دو دوستوں کی مانند ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلتے ہوئے پاس کی گلی میں موجود ایک گھر میں داخل ہو گئے۔۔۔
مومو سامنے ہی کھڑی ہوئی تھی۔۔۔مومو نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور رسمی علیک سلیک کے بعد وہ میرا ہاتھ پکڑے ہوئے مجھے ایک کمرے میں لے گئی۔۔۔
وہاں موجود صوفہ پر بٹھا کر ابھی آئی کا کہہ کر باہر نکل گئی۔۔۔مومو کا بھائی ریحان پہلے ہی باہر رہ گیا تھا۔۔۔
چند منٹ بعد مومو چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔پاس پڑی تپائی کھینچ کر چائے کے برتن اس پر رکھے اور میرے پاس بیٹھ کر چائے کپ میں انڈیل کر مجھے دی اور دوسرا کپ خود اٹھا لیا۔۔۔
چائے پینے کے درمیان ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کیا۔۔۔ریحان باہر لاؤنج میں موجود ایک لڑکی کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔میں یہی سمجھا کہ وہ مومو کی بہن ہو گی۔۔۔
مومو نے اپنا کپ نیچے رکھا اور مجھے کہا کہ تم چائے پیو میں ابھی تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔
میں چائے پیتے ہوئے آنے والے لمحات کے تصور میں کھویا رہا۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر بعد میری پسندیدہ لڑکی میرے لن کے نیچے ہو گی۔۔۔
اچانک میری سوچوں کا رخ ریحان کی جانب بدل گیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ یار یہ کیسا بھائی ہے۔۔۔جو اپنی بہن کے یار کو خود باہر سے لا کر کمرے میں اپنی بہن کے پاس چھوڑ گیا۔۔۔
انہی سوچوں کے بھنور میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے پندرہ منٹ گزر گئے۔۔۔
میں سوچوں میں غلطاں تھا کہ اچانک مومو اندر داخل ہوئی۔۔۔

وہ نہا کر اور ہلکا سا میک اپ کر کے آئی تھی۔۔۔کمال کا سلونا سلونا حسن تھا۔۔۔
دل کر رہا تھا کہ ابھی ٹوٹ پروں۔۔۔پر سب کی موجودگی کا سوچ کر دل مسوس کر رہ گیا۔۔۔
مومو کمرے میں آئی اپنا موبائل چارجنگ پر لگا کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔پھر سیدھا ریحان اور اس لڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
چند لمحات ان سے کچھ بات کی اور پھر کمرے میں آ کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔پوری طرح تیار ہونے کے بعد ہلکا ہلکا میک اپ کیے وہ کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔میرا لن وہیں پر اکڑنے لگا۔۔۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور پاس والے دوسرے کمرے میں لے آئی۔۔۔
کمرے میں داخل ہونے کے بعد اس نے اپنا رخ بدلا اور کمرے کے دروازے کو لاک کرنے لگی۔۔۔
میں نے آگے بڑھ کر پیچھے سے اس کو جپھی ماری اور اپنے سینے سے لگا کر اس کی گردن کو چومنے لگا۔۔۔
ساتھ ساتھ میں نے اپنا اکڑا ہوا لن اس کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسا کر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی لن رگڑنے کے بعد میں نے مومو کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک سائیڈ پر پڑے ہوئے صوفے پر لے آیا۔۔۔
مومو کو اس پر لٹایا اور خود بھی ایک سائیڈ پر ہوتے ہوئے مومو کے چہرے پر جھکتا چلا گیا۔۔۔
میں اس کے ہونٹوں کو بے تابی سے چوم رہا تھا۔۔۔کبھی اوپر والا ہونٹ تو کبھی نیچے والا ہونٹ۔۔۔
وہ بھی بڑی شدت سے میرا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔اس کی زبان بار بار میرے منہ میں لپکتی۔۔۔
میں اسے قابو کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔پر وہ پھسل کر واپس نکل جاتی۔۔۔میں نے اب آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے مموں پر رکھا اور اس کے ممے سہلانے لگا۔۔۔
اس کے درمیانے سائز کے لیکن فل اکڑے ہوئے ممے اس وقت فل سختی اختیار کیے ہوئے تھے۔۔۔
میں آہستہ آہستہ اس کے مموں کو دباتے ہوئے ان کی گولائیوں کو محسوس کرنے لگا۔۔۔
مجھے مومو کا نیچے سے پہنا ہوا برا صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔میں نے ایک ہاتھ مومو کی گردن کے نیچے سے گزارتے ہوئے اس کے ممے کو پکڑا اور کسنگ جاری رکھتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کی تھائیز کو سہلانا شروع کر دیا۔۔۔
جیسے ہی میرے ہاتھ نے ٹراؤزر کے اوپر سے اس کی پھدی کو چھوا تو مومو کا جسم لرز اٹھا اور وہ پوری شدت سے کانپ گئی۔۔۔اسکی حالت کو دیکھ کر میں مسکرایا۔۔۔۔
اور اس کی پھدی کی لکیر میں اپنی انگلی پھیرنے لگا۔۔۔وہ مچلنے لگی۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جدا کیے اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے ہوچھا۔۔۔جان کیا ہوا۔۔۔
تو وہ لرزتے جسم کے ساتھ بس نہ نہ کا اشارہ کرتی رہی۔۔۔میں اب بے دردی سے اس کی چوت کو مسل رہا تھا۔۔۔
جس کی وجہ سے مجھے مومو کی چوت میں سے اس کا پانی نکل نکل کر اس کے ٹراؤزر کو گیلا کرتا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

میں نے اپنی ایک انگلی مومو کی پھدی کے درمیان موجود لکیر میں پھیرنی شروع کر دی۔۔۔

اوپر سے نیچے۔۔۔نیچے سے اوپر۔۔۔۔لذت کے مارے مومو کا برا حال تھا۔۔۔اس نے مضبوطی سے اپنا منہ بند کیا ہوا تھا۔۔۔جیسے اپنی سسکیاں روکنے کی ناکام سی کوشش کر رہی ہو۔۔۔میں نے مومو کو سیدھا کر کے بٹھایا اور اس کی قمیض کو پکڑ کر اوپر کی جانب کھینچنے لگا۔۔۔
مومو نے میرے ہاتھ پکڑ لیے۔۔۔میں نے اس کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھوں میں ایک ہلچل تھی۔۔۔
مگر پھر بھی وہ بار بار انکار میں سر ہلا رہی تھی۔۔۔میں نے مومو کی آنکھوں میں دیکھنا جاری رکھا تو اس نے آہستہ سے اپنے بازو اوپر اٹھا دیے۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس کی قمیض اوپر کی طرف سرکنے لگی۔۔۔دھیرے دھیرے مومو کا جسم ننگا ہونے لگا۔۔۔
سب سے پہلے اس کا گورا گورا۔۔۔۔سپاٹ۔۔۔۔شفاف پیٹ ننگا ہوا۔۔۔
پھر قمیض کے اور اوپر سرکنے پر مومو کے مموں پر لپٹی ہوئی سرخ رنگ کی برا ننگی ہو گئی۔۔۔
مومو کی بہکتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔
اب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو میں نے ایک ہی جھٹکے میں اس کی قمیض اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی۔۔۔


میں آنکھیں کھولے مومو کے ہوش ربا حسن اور حسین جسم کو اپنے سامنے نیم برہنہ حالت میں دیکھتا رہ گیا۔۔۔
میری نظریں نیچے سے اوپر۔۔۔اوپر سے نیچے۔۔۔مومو کے جسم کا جائزہ لینے لگیں۔۔۔
شرم کے مارے مومو اپنے آپ میں ہی سمٹ گئی۔۔۔اس کی برا کے رنگ کی طرح اس کے گالوں کا رنگ بھی سرخ ہو رہا تھا۔۔۔


اس نے شرما کر اپنی پیٹھ میری طرف کر دی۔۔۔میں اب اور برداشت نہیں کر پایا۔۔۔
ایک جھٹکے میں اپنی شرٹ اتاری پھینکی اور آگے بڑھ کر مومو کو اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا۔۔۔
میں نے اس کی گردن اور کاندھوں پر چومنا شروع کر دیا۔۔۔اور میرے ہاتھ اس کے مموں پر جا ٹکے۔۔۔
مومو کے مموں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر میں نے دبانا شروع کر دیا۔۔۔اب برداشت کرنا مومو کے بس سے بھی باہر تھا۔۔۔چنانچہ اس نے بھی سسکیاں بھرنی شروع کر دیں۔۔۔آہ۔۔۔آہہہ۔۔۔آہمممم۔۔۔۔مممم۔۔۔۔
میں نے اپنا دوسرا ہاتھ نیچے کیا اور سیدھا مومو کے ٹراؤزر میں ڈال دیا۔۔۔مومو کی پھدی بلکل ملائم اور چکنی تھی۔۔۔میں نے مومو کی پھدی کو اپنے ہاتھ میں بھر کر زور سے دبا دیا۔۔۔مومو اچانک میری بانہوں میں تڑپ کر گھوم گئی اور اپنے ہونٹوں سے مجھے جگہ جگہ سے چومنے لگی۔۔۔
اب اس کی پھدی فل رفتار سے لن کی ڈیمانڈ کر رہی تھی۔۔۔اس لیے وہ سب کچھ بھلا بیٹھی۔۔۔
مجھے نیچے گرا کر مومو میرے اوپر سوار ہو گئی اور میرے پورے جسم کو گردن سے لیکر پیٹ اور ناف تک چومنے چاٹنے لگی۔۔۔۔
وہ یہ بھی بھول گئی کہ باہر اسکا بھائی اور دوسرے بچے موجود ہیں۔۔۔
اب اس کو یاد تھا تو صرف۔۔۔
اس کی پھدی کی پکار۔۔۔
میرے لن کی للکار۔۔۔

میں نے مومو کی کمر کو سہلاتے ہوئے اس کی برا کا ہک کھول دیا۔۔۔پھر اس کو تھوڑا پیچھے ہٹاتے ہوئی برا اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی۔۔۔
میں ستائشی نظروں سے اس کے ممے دیکھنے لگا۔۔۔درمیانے سائز کے مموں کے اوپر بڑے بڑے نپلز۔۔۔
شان سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔۔۔شہوت کی وجہ سے اس کے نپلز فل اکڑے ہوئے تھے۔۔۔میں نے مومو کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔آمادگی محسوس کر کے۔۔۔
میں نے اس کے مموں کو چاٹنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔


دوستو یہاں ایک بات بتاتا چلوں۔۔۔دنیا کے تقریباً سبھی مردوں کو بڑے ممے پسند ہوتے ہیں۔۔۔لیکن جو مزہ بڑے نپلز چوسنے کا ہے۔۔۔وہ مزہ ان بڑے مموں میں نہیں ملتا۔۔۔ممے جتنے بڑے ہوں گے۔۔۔نپل اتنے ہی اندر دھنسے ہوتے ہیں۔۔۔

میں اس کے نپلز کو مسلسل چوس رہا تھا کبھی اپنے دانتوں سے کاٹ رہا تھا۔۔۔
مومو بے چینی سے سر ادھر ادھر ہلا۔رہی تھی۔۔۔آخر میں نے اس کی مشکل آسان کی اور اس کو پلٹا کر نیچے لٹاتے ہوئے خود اس کے اوپر آ گیا۔۔۔
اس کے مموں کو چاٹتا ہوا نیچے آیا اور اس کے پیٹ اور پھر ناف کو چوستا اور چاٹتا رہا۔۔۔اس وقت تک مومو پوری طرح سے لذت میں خوار ہو چکی تھی۔۔۔
اس نے میرے بال مٹھیوں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔۔۔میں سرکتا ہوا اور نیچے کی طرف آیا۔۔۔
اس کی گانڈ کی طرف سے چوتڑوں کے پاس اپنے دونوں ہاتھوں سے ٹراؤزر کو جھکڑا اور مضبوطی سے گرفت قائم رکھتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کے چند سیکنڈ کیلئے مومو کی ٹانگیں ہوا میں اٹھیں اور اس کا ٹراؤزر اس کے پیروں سے نکل گیا۔۔۔

مومو نے ہڑبڑا کر اپنے ہاتھوں سے اپنی پھدی چھپانے کی کوشش کی۔۔۔
پر اب میں اس کو کہاں موقع دینے والا تھا۔۔۔میں نے فوراً اس کے ہاتھوں کو پکڑتے ہوئے دونوں سائیڈوں پر کھولا اور اس کی پھدی پر نظریں جما دیں۔۔۔
مومو کی گوری گوری،چکنی پھدی میری نظروں کے سامنے تھی۔۔۔مجھے مومو کی پھدی میں سے پانی رستا ہوا نظر آ رہا تھا۔۔۔

میں ستائشی نظروں سے دیکھتا ہوا نیچے جھکا اور اپنے ہونٹ مومو کی گرم گرم پانی چھوڑتی ہوئی پھدی پر رکھ دیے۔۔۔میں نے جیسے ہی اس کی پھدی کو چاٹا۔۔۔
مومو نے تڑپ کر اپنے ہاتھ مجھ سے چھڑوائے۔۔۔
اور دونوں ہاتھوں کو میرے سر پر دباتی ہوئی۔۔۔زور زور سے اپنی پھدی کو اوپر نیچے حرکت دینے لگی۔۔۔

میں اب بنا رکے اس کے پھدی کو چاٹ رہا تھا۔۔۔پھر میں نے اپنی زبان اس کی پھدی کے اندر گھسائی اور لپالپ اس کی پھدی کی دیواروں کو چاٹنے لگا۔۔۔
میں لگاتار کسی کتے کی طرح مومو کی پھدی چاٹ رہا تھا۔۔۔اس کی پھدی کے پانی کو امرت دھارا سمجھ کر پیتا جا رہا تھا۔۔۔
مومو اپنی آنکھیں بند کیے اپنی گانڈ زور زور سے ہلاتے ہوئے۔۔۔۔تیز تیز سسکیاں بھر رہی تھی۔۔۔
اس کے ناخن میرے کندھے کو ادھیڑ رہے تھے۔۔۔پر میں ہر چیز سے بے نیاز اس کی پھدی کو منہ لگائے۔۔۔چاٹ رہا تھا۔۔۔اچانک مومو کا جسم لرزہ۔۔۔
اس کے منہ سے۔۔۔آہہہ کی آواز نکلی اور اس کی پھدی سے۔۔۔امرت کی آبشار بہنے لگی۔۔۔

میں اس امرت کا ایک ایک قطرہ پی گیا۔۔۔جیسے ہی مومو کا جسم ڈھیلا ہوا۔۔۔
وہ تیزی سے اٹھی اور اپنی لمبی زبان باہر نکال کر میرے منہ کو کسی کتیا کی طرح ہی چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔
اس کی منی میرے منہ پر چاروں سو پھیلی ہوئی تھی۔۔۔جسے چاٹ چاٹ کر وہ اپنے حلق سے نیچے اتار گئی۔۔۔
اچھی طرح چاٹنے کے بعد مومو نے وہیں مجھے کھڑا کیا اور خود زمین پر بیٹھ کر میری پینٹ اتار دی۔۔۔
پاوں سے نکالنے کے بعد مومو نے پینٹ ایک طرف پھینکی۔۔۔پھر میری آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کر بولی۔۔۔
آج تم نے مجھے زندگی کی اس رمز سے آگاہ کیا۔۔۔
جس سے میں انجان تھی۔۔۔اور آج میں بھی تمہیں وہ مزہ دوں گی۔۔۔جس سے تم انجان ہو۔۔۔
میرا لن اس کے منہ کے سامنے پھنکار رہا تھا۔۔۔میں سوچ رہا تھا کہ وہ اب میرا لن چوسے گی۔۔۔
پر وہ میری ٹانگوں کو تھوڑا کھولتے ہوئے نیچے ہوئی۔۔۔پھر سامنے سے ہی اپنا منہ سیدھا میری گانڈ کے ساتھ لگا دیا۔۔۔

اس کی لمبی زبان میری گانڈ کی دراڑ میں گھس گئی۔۔۔اور وہ کسی ہلکی ہوئی کتیا کی طرح میری گانڈ کے سوراخ کو چاٹنے لگی۔۔۔افففففف۔۔۔
ظالم نے کیا پینترہ بدلا تھا۔۔۔ایسا مزہ تو مجھے واقعی اپنی زندگی میں پہلی بار محسوس ہوا تھا۔۔۔
میرے لن نے بے اختیار ایک جھٹکا کھایا اور مزی کا ایک قطرہ باہر نکل آیا۔۔۔
دو منٹ تک اسی طرح میری گانڈ کو ٹٹوں تک چاٹنے کے بعد مومو نے مجھے۔۔۔
دھکا دے کر صوفے پر لٹایا اور میری ٹانگیں اوپر اٹھا کر ایک دفعہ پھر سے میری گانڈ کا سوراخ چاٹنے لگی۔۔۔

مجھے عجیب سے فیلنگز محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔وہ اپنی زبان کو رول کر کے میری گانڈ میں گھسانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔
جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئی تھی۔۔۔اب اس کی زبان کی نوک میری گانڈ کے اندر تک جاتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
اچانک مومو نے اپنا منہ میری گانڈ سے ہٹایا اور میرے جھٹکے مارتے لن کو پورا اپنے منہ میں سما لیا۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار مزے کی کیفیت میں آہہہ۔۔۔۔آہہہ برآمد ہوئی۔۔۔میں مومو کے اس انداز پر حیران بھی تھا۔۔۔
اور مزہ تھا کہ۔۔۔
ہر حد سے پار تھا۔۔۔


آج تک کوئی بھی لڑکی ایسے جڑ تک میرا لن اپنے منہ میں پہلی بار نہیں لے پائی تھی۔۔۔
اب مجھے ایک دم محسوس ہوا کہ سدرہ کی باتیں ٹھیک تھیں۔۔۔مومو پہلے سے ہی سب سیکھی سکھائی ہے۔۔۔
وہ تو اس کا لچکیلا بدن دھوکہ دے رہا تھا۔۔۔
جس کی وجہ سے اس کی پھدی نہایت چھوٹی سی لکیر کی طرح لگتی تھی۔۔۔

بہرحال میں نے یہ سب سوچیں بعد کے لیے چھوڑ دیں اور فلحال مومو کے چوپے پر دھیان دینے لگا۔۔۔

وہ میرا پورا لن اپنے منہ میں لیے اپنے حلق سے میرے لن کو چود رہی تھی۔۔۔
ساتھ ہی اس نے ایک عجیب حرکت کی۔۔۔میری گانڈ کا سوراخ تو پہلے ہی وہ چوس،چاٹ کر نرم کر چکی تھی۔۔۔اور اس کا تھوک بھی ڈھیروں کے حساب سے گانڈ پر پھیلا ہوا تھا۔۔۔اس نے اپنی ایک انگلی سے میری گانڈ کے سوراخ کو ٹٹولا۔۔۔اس سے پہلے میں کچھ سمجھتا۔۔۔
اس نے پوری انگلی اندر گھسا دی۔۔۔
اب صورتحال یہ تھی کہ میرے لن کی ٹوپی اس کے حلق میں پھنسی ہوئی تھی جس کو وہ اپنا حلق ٹائٹ کر کر کے چوس رہی تھی۔۔۔
اور اپنی انگلی تیزی سے میری گانڈ کر اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔مزہ تھا کہ مجھ سے روکا ہی نہیں جا رہا تھا۔۔۔
اچانک میں اپنے آپ پر کنٹرول کھو بیٹھا اور میرے لن نے اس کے حلق میں ہی ہار مان لی۔۔۔
منی کی پچکاریاں مسلسل اس کے حلق میں گر رہی تھیں۔۔۔جن کو وہ وہیں اپنے حلق سے نیچے اتارتی جا رہی تھی۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے میری گانڈ سے اپنی انگلی باہر نکال لی۔۔۔

میرا لن پورا نچوڑنے کے بعد اس نے لن کو حلق سے باہر نکالا تو ساتھ ہی اس کے منہ سے تھوک کا ایک گولا سا برآمد ہوا جو کہ میرے لن پر ہی پھیل گیا۔۔۔
مومو نے بڑی صفائی ہے وہ سارا تھوک واپس چاٹ لیا۔۔۔اور اٹھ کر میرے برابر لیٹ کر بولی۔۔۔
کیوں جانی ایسا مزہ کبھی زندگی میں ملا۔۔۔تو میں نے بے اختیار نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔

وہ اپنی زبان کو ہونٹوں پر پھیرتی ہوئی بولی۔۔۔ابھی تو شروعات ہے میری جان۔۔۔آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا۔۔۔میں چپ چاپ مومو کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ اٹھی اور سامنے موجود الماری تک گئی۔۔۔
جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں مکھن کی بوتل تھی۔۔۔وہ اس انداز میں میرے سینے پر بیٹھ گئی کہ اس کا رخ میرے لن کی طرف تھا اور اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔۔۔اس نے مکھن کی بوتل کھولی اور کافی سارا مکھن میرے لن پر لگا کر بوتل اس نے میری طرف بڑھائی اور خود جھک کر میرے لن کو چاٹنے لگی۔۔۔
میں اس کا مدعا سمجھ گیا۔۔۔اور بوتل سے مکھن لگ کر اس کی پھدی کے لبوں پر لگایا اور خود اس کی پھدی کے ہونٹ چوسنے لگا۔۔۔

یہ ایسا عجیب مزہ تھا کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔۔۔اس کے چند منٹ کے جاندار چوپوں نے میرا لن دوبارہ اکڑا دیا۔۔۔میں نے پلٹی مار کر اس کو نیچے گرایا اور خود اوپر آ کر اس کی پھدی چاٹنے لگا۔۔۔
اس نے تھوڑا سا مکھن بوتل سے اور نکالا اور میری گانڈ کے سوراخ پر لگا کر اسے چاٹنے لگی۔۔۔
اس کی دیکھا دیکھی میں نے بھی کافی سارا مکھن نکال کر اس کی گانڈ اور پھدی پر پھیلا دیا۔۔۔
پھر میں خود اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے بیچ میں آ گیا اور اس کی پھدی کے دانے سے لیکر اس کی گانڈ تک چاٹنے لگا۔۔۔

اس کے منہ سے بے اختیار آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔ہاں ہاں میری جان۔۔۔ایسے ہی چاٹو۔۔۔کھا جاؤ اپنی رنڈی کی پھدی۔۔۔میں نے چاٹ چاٹ کر اس کی پھدی اور گانڈ دونوں پر پھیلا ہوا مکھن صاف کر دیا۔۔۔
پھر میں نے اوپر اٹھ کر اس کے مموں کے نپلز پر کافی سارا مکھن لگایا اور اس کا ایک نپل میں میں بھر لیا۔۔۔
اور نیچے سے اپنا لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ کر ایک جھٹکا مارا تو میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدی میں غائب ہو گئی۔۔۔
اس کے منہ سے بے اختیار ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی۔۔۔آہ۔۔۔افففف۔۔۔ظالم۔۔۔۔جنگلی۔۔۔آرام سے ڈالو۔۔۔
کیا میری پھدی پھاڑنے کا ارادہ ہے۔۔۔
میرا لن اس کی پھدی کے پانی کی وجہ سے پھسلتا ہوا رک رک کر اندر جا رہا تھا۔۔۔
میں نے مومو کے مموں کو چھوڑا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں جھکڑتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا۔۔۔
میرا پورا لن جڑ تک مومو کی پھدی میں غائب ہو چکا تھا۔۔۔

مومو بے اختیار تڑپی اور اس کے منہ سے ایک واشگاف چیخ برآمد ہوئی۔۔۔جو کہ میرے منہ میں ہی گھوم کر رہ گئی۔۔۔میں نے وہیں رکتے ہوئے آہستہ آہستہ سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔
مومو کی آنکھوں میں آنسو ابھر آئے تھے۔۔۔تھوڑی دیر تک میں وہیں پر گھسے مارتا رہا۔۔۔
جب میں نے دیکھا کہ مومو تھوڑا ایزی فیل کر رہی ہے تو میں نے اپنا آدھا لن باہر نکالا اور جھٹکے سے اندر ڈال دیا۔۔۔اس مرتبہ اس نے ہلکی سی چیخ ماری۔۔۔
آہ۔۔۔آ۔آ۔آ۔۔۔آں۔۔۔لیکن اب میں نے اس کی چیخ پر کان دھرنے کی بجائے اس کی پھدی کی پٹائی شروع کر دی۔۔۔
بلا شبہ اس کی پھدی بہت ذیادہ ٹائٹ تھی۔۔۔
مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میں نے دہکتے ہوئے چولہے میں اپنا لن گھسا دیا ہو۔۔۔

میرا لن مسلسل رگڑ کھاتے ہوئے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں مومو نے اپنی ٹانگیں اوپر اٹھا کر میری کمر پر کس لیں۔۔۔۔یہ اس امر کا اشارہ تھا کہ وہ بھی اب فل گرم ہو چکی ہے۔۔۔اب میں ذرا سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔
میرا لن اس کی پھدی کہ گہرائیوں کو ماپ رہا تھا۔۔۔مومو کا مزے سے برا حال تھا۔۔۔
وہ بے چینی سے مجھے اپنی جانب کھینچتی۔۔۔اور میں بھی دے دھنا دھن اپنے لن سے اس کی پھدی کو پیل رہا تھا۔۔۔

مومو اتنی گرم ہو گئی تھی۔۔۔کہ میرے جسم کے لمس۔۔۔۔اور میرے لن کی ضربوں نے تیزی سے اسے منزل کی طرف بڑھانا شروع کر دیا۔۔۔
تین منٹ بعد ہی۔۔۔مومو نے سسکاریاں بھرتے ہوئے پانی چھوڑ دیا۔۔۔مجھے مومو کی پھدی اپنے لن کو بھینچتی۔۔۔۔دباتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
میں رک گیا۔۔۔۔میں نے گھسے مارنے بند کر دیے۔۔۔۔اور مومو کو اپنی منزل اور لذت پوری طرح سے پا لینے کا ٹائم دیا۔۔۔پھر میں دھیرے دھیرے اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا۔۔۔مومو پر بے خودی سی چھاتی گئی۔۔۔
میں نے ایک بار پھر اپنے لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔

چونکہ میں ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک بار چھوٹ چکا تھا۔۔۔تو اس بار چھوٹنے کا ابھی نام و نشان دور دور تک نہیں تھا۔۔۔

گھسے مارتے ہوئے میں نے دوبارہ نیچے جھک کر مومو کے مموں کو چاٹنا اور نپلز کو کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔
نیچے سے لن کا پمپ ایکشن بھرپور طریقے سے جاری تھا۔۔۔مومو کی پھدی ایک مرتبہ پھر گیلی ہونی شروع ہو گئی۔۔۔میں نے اس کے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔


میرا ردھم نیچے سے جاری تھا۔۔۔مومو اب چند سیکنڈز کے وقفے کے بعد۔۔۔۔سسسسس۔۔۔۔آہ۔۔۔۔کی آوازیں نکال دیتی۔۔۔مجھے لگ رہا تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر تیار ہو چکی ہے۔۔۔
میں نے چِت سیدھا لیٹتے ہوئے اسے اپنے اوپر سوار کروا دیا۔۔۔لن اب بھی اس کے اندر ہی تھا۔۔۔اس نے اپنے دونوں پاؤں۔۔۔میرے دائیں بائیں جمائے۔۔۔۔اور لن کی سواری شروع کر دی۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ میرے سینے پر ٹیک لگا چکے تھے۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔۔۔
اس کی آہیں بھی اب پہلے سے زیادہ اونچی اور گرم تھیں۔۔۔وہ اپنی مرضی سے لن اندر لے رہی تھی۔۔۔۔
اور اپنی مرضی سے گرم گرم آہیں بھر رہی تھی۔۔۔میں بھی اس کے ہاتھوں کے درمیان سے اپنے ہاتھ گزار کر۔۔۔۔اس کے مموں کو مسل رہا تھا۔۔۔۔
مومو کچھ دیر ایسے ہی اوپر نیچے ہوتی رہی۔۔۔پجر اس کی سپیڈ کم ہونے لگی۔۔۔۔
وہ اچھل اچھل کر تھک چکی تھی۔۔۔۔اب ایک بار پھر میری باری تھی۔۔۔۔اب کی بار میں نے دھواں دار ایکشن کا سوچ لیا تھا۔۔۔۔

میں نے مومو کو رکنے کا کہا اور اٹھنے لگا۔۔۔پھر میں نے جھک کر اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور لیجا کر پاس پڑے بیڈ پر لٹا دیا۔۔۔
لن پوری طرح سے تیار اور چمک رہا تھا۔۔۔میں نے پاؤں کے بل بیٹھتے ہوئے اس کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں۔۔۔اور انہیں تھوڑا اوپر اٹھا دیا۔۔۔
اس کے چوتڑ اب بیڈ پر نہیں۔۔۔بلکہ ہوا میں اٹھے ہوئے تھے۔۔۔ٹانگیں تو پہلے ہی اوپر اٹھی ہوئی تھیں۔۔۔
جنہیں میں نے اپنے کندھوں پر سنبھالا ہوا تھا۔۔۔مومو کے صرف کندھے اور تھوڑا سا کمر کا حصہ ہی بیڈ پر تھا۔۔۔مومو اب پوری طرح سنبھل چکی تھی۔۔۔
اور خود کو بھرپور پمپ ایکشن کیلئے تیار کرنے لگی۔۔۔جیسے ہی پوزیشن بنی۔۔۔
میں نے اپنا لن۔۔۔بلکل اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔میں نے ہلکا سا اپنی ٹانگوں کو نیچے کی طرف دبایا تو میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدی میں داخل ہو گئی۔۔۔
اس کے بعد دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔یہاں تک کہ پورا لن اندر داخل ہو گیا۔۔۔اور میری ٹانگیں اس کی گانڈ کے ساتھ جڑ گئیں۔۔۔

یعنی کہ سکن ٹو سکن فکنگ۔۔۔

پورا لن اندر ڈالنے کے بعد باہر نکالا اور صرف ٹوپی اندر رکھتے ہوئے۔۔۔ایک روز کا گھسہ مارا۔۔۔
مومو کے منہ سے۔۔۔اوئی۔ی۔ی۔۔۔کی آواز برآمد ہوئی۔۔۔اس نے بیڈ پر ہاتھ رکھ کر خود کو سنبھالا ہوا تھا۔۔۔
اس کے چھوٹے چھوٹے بال۔۔۔بیڈ پر بکھرے ہوئے تھے۔۔۔
وہ اپنی نشیلی آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔میں نے لن باہر کھینچا اور دوبارہ ایک زور دار گھسہ مارتے ہوئے اندر ڈال دیا۔۔۔
اب پہلے سے زیادہ جاندار گھسہ مارا تھا تو مومو کے منہ سے اففففف۔آہہہ۔۔۔کی آواز نکلی تھی۔۔۔
پھر میں شروع ہو گیا۔۔۔پہلے آہستہ آہستہ۔۔۔پھر ایک ردھم کے ساتھ۔۔۔ہر گھسے کے ساتھ بیڈ نیچے کو ہو کر اپنے اسپرنگ کے زور پر مجھے واپس اوپر اٹھاتا۔۔۔
اٹھ کر جب میں نیچے کو آتا تھا۔۔۔تو لن پوری رفتار کے ساتھ پھدی کے اندر گھستا تھا۔۔۔
مومو کے منہ سے ہر گھسے کے ساتھ۔۔۔۔افففف۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔

وہ پوری طرح سے مدہوش ہوچکی تھی۔۔۔میرے ہر گھسے پر اس کا منہ کھلتا اور بند ہوتا تھا۔۔۔
ساتھ ہی ہائے۔۔۔۔اففف۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔آہ۔۔۔۔کی آوازیں آتی تھیں۔۔۔میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی۔۔۔۔بیڈ کی چوں چوں بھی۔۔۔مومو کی آہ۔۔۔۔آئی۔۔۔۔میں شامل ہو چکی تھی۔۔۔
میرے گھسے بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔اور مومو کی سسکیاں۔۔۔کراہوں میں تبدیل ہوتی جا رہی تھیں۔۔۔
اس کی کراہیں مجھے اور اکسا رہی تھیں۔۔۔۔پانچ منٹ کے کمر توڑ،،،تابڑ توڑ گھسوں کے بعد میں نے اس کی ٹانگیں چھوڑ دیں۔۔۔اور اسے گھوڑی بننے کا کہا۔۔۔
وہ تھکے تھکے انداز میں مڑ کر گھوڑی بن گئی۔۔۔یہ میرا پسندیدہ سٹائل تھا۔۔۔
پتلی سی کمے کے نیچے گول مٹول گانڈ مستی میں جھوم رہی تھی۔۔۔
میں نے پوزیشن سنبھالتے ہوئے اپنا لن اس کی گانڈ کے درمیان سے گزار کر اس کی پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔۔اور ایک زور دار گھسہ مارا۔۔۔اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔۔۔۔اوئی۔۔۔۔سمیر آرام سے۔۔۔
میرا ایک اور گھسہ لگا تو وہ آگے کی طرف گرنے لگی تو میں نے دوبارہ اسے اپنے شکنجے میں کسا اور گھسوں کی مشین چلا دی۔۔۔
مومو اب مستقل اوئی۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔افففف کر رہی تھی۔۔۔۔وہ بار بار آگے کو گرتی اور پھر سنبھلتی۔۔۔اور پھر وہ وقت آ گیا۔۔۔جب اس کے منہ سے شہوت اور لذت سے بھرپور آواز نکلی۔۔۔۔آہہہ۔آہہہ۔۔۔سمیر میں گئی۔۔۔۔
میں نے آگے کو جھک کر اس کے ممے پکڑ لیے اور انہیں مسلتے ہوئے لگاتار گھسے مارتا گیا۔۔۔مارتا گیا۔۔۔اس کے نپلز سخت ہو کر اب اور بڑے لگ رہے تھے۔۔۔اس کی کمر پسینے سے شرابور تھی۔۔۔میرے ایک زور دار گھسے کی وجہ سے وہ آگے کو گری اور پھر اٹھ نہ سکی۔۔۔اور ویسے ہی لیٹی رہی۔۔۔اور پھر میں بھی اس کے اوپر دونوں ہاتھوں کے بل پوزیشن لے چکا تھا۔۔۔
مومو کی گول مٹول گانڈ میری ناف کے ساتھ ٹکرا کر۔۔۔کمرے میں تھپ تھپ کی آوازیں پیدا کر رہی تھی۔۔میرے گھسے اب آخری دموں پر تھے۔۔۔میرا فارغ ہونے کا ٹائم قریب ہی تھا۔۔۔مومو بھی اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی چادر کو جھکڑے۔۔۔سسکیاں بھرتی چلی جا رہی تھی۔۔۔مجھے ہر چیز سلو موشن کی بجائے فاسٹ موشن میں نظر آ رہی تھی۔۔۔صرف مومو کی سسکیاں اور اس کی پتلی کمر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی۔۔۔
مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ پورے جسم کا خون نیچے کی طرف اکٹھا ہو رہا ہے۔۔۔
آہ۔۔۔افففف کی آوازوں کے ساتھ مومو کی گانڈ بھی اوپر نیچے ہو رہی تھی۔۔۔پھر یک دم اس نے ایک لمبی سسکاری بھری اور پانی چھوڑ دیا۔۔۔
میں نے دو گھسے اور مارے۔۔۔پھر مومو کی پھدی میں ہی منی کی پچکاریاں مارنے لگا۔۔۔کچھ دیر تک میرا پانی نکلتا رہا۔۔۔پھر میں مومو کی کمر کے اوپر ہی گرتا چلا گیا۔۔۔کچھ دیر بعد ہم ایک دوسرے سے لپٹے۔۔۔ایک دوسرے کو چوم رہے تھے۔۔۔

مجھے اچھی طرح چومنے کے بعد مومو اٹھی اور مجھے بولی کہ میں واش روم سے ہو کر آتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے کپڑے پہنے اور باہر نکل کر دروازہ بند کر دیا۔۔۔میں ابھی ننگا ہی لیٹا ہوا تھا۔۔۔کہ ٹھیک دو منٹ بعد دروازہ کھلا۔۔۔اور کوئی اندر داخل ہوا۔۔۔
اس کو اندر آتے دیکھ کر میں نے چھلانگ ماری اور فٹافٹ اپنی شرٹ اٹھا کر خود کو ڈھانپ لیا کیونکہ آنے داخل ہونے والی شخصیت مومو کی نہیں تھی۔۔۔۔
بلکہ۔۔۔۔
بلکہ۔۔۔۔

اندر آنے والی مومو نہیں۔۔۔بلکہ وہ دوسری لڑکی تھی۔۔۔جو ریحان کے ساتھ باہر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اس نے جینز کی پینٹ اور ٹاپ پہنا ہوا تھا۔۔۔
وہ تیزی سے میرے پاس آئی۔۔۔اور مسکراتے ہوئی بولی۔۔۔پریشان مت ہو یار۔۔۔
میرا نام ارم ہے۔۔۔میں مومو کی بیسٹ فرینڈ ہوں۔۔۔اور ریحان کی گرل فرینڈ بھی ہوں۔۔۔اس لحاظ سے میں ان دونوں۔۔۔بہن بھائی کی رازدار بھی ہوں۔۔۔

میں بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔ٹھیک ہے لیکن ایسے ڈائیریکٹ اندر آ جانا کیا اچھی بات ہے۔۔۔
تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔میں نے کہا ناں کہ میں ان دونوں کی رازدار ہوں۔۔۔ویسے ایک مزے کی بات بتاؤں۔۔۔ابھی جو کچھ تم دونوں اندر کر رہے تھے۔۔۔
وہی سب کچھ میں اور ریحان۔۔۔ساتھ والے کمرے میں کر رہے تھے۔۔۔ابھی مومو واش روم میں اور ریحان ذرا گھر سے باہر نکلا ہے۔۔۔
اگر نہیں یقین تو یہ دیکھو۔۔۔اتنا کہہ کر اس نے دوسری طرف گھوم کر اپنی پینٹ نیچے گھٹنوں تک اتار کر گھوڑی بنتے ہوئے اپنے بھاری چوتڑوں کو کھول کر دکھایا۔۔۔
میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس کی گوری چٹی اور تباہ کن گانڈ کے نظارے کر رہا تھا۔۔۔
میرے لن نے ایک دم جھٹکا کھایا اور پھر سے سر اٹھانے لگا۔۔۔تبھی وہ جھکی جھکی بولی۔۔۔دیکھو ابھی بھی میری پھدی۔۔۔ریحان کے منی سے لبالب بھری ہوئی ہے۔۔۔
میں نے آگے ہو کر اس کے چوتڑوں کو کھول کر دیکھا تو واقعی اس کی چھوٹی سی پھدی کی لکیر میں سے منی رس رہا تھا۔۔۔میں نے اپنی ایک انگلی اندر گھسا دی۔۔۔افففف کیا ٹائٹ پھدی تھی۔۔۔
میرے انگلی گھساتے ہی وہ تیزی سے آگے کو ہوئی اور کچھ بولنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ اس کی نظر میرے اکڑتے ہوئے لن پر پڑی۔۔۔تو اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔واہ کیا شاندار لن ہے۔۔۔اس کو تو میں لازمی اپنی پھدی میں لوں گی۔۔۔

خیر چھوڑو میں اس وقت تم سے سے صرف ایک بات کرنے آئی ہوں۔۔۔
میری بات غور سے سنو۔۔۔آج شام یا کل صبح مجھے لازمی ملو۔۔۔میں تمہیں ایک بہت بڑے دھوکے سے بچانا چاہتی ہوں۔۔۔باقی باتیں ملاقات پر ہوں گی۔۔۔ابھی جلدی سے اپنا موبائل نمبر بتاو۔۔۔کہیں مومو یا ریحان نہ آ جائیں۔۔۔
میں نے جلدی سے اسے اپنا موبائل نمبر بتایا۔۔۔جسے وہ اپنے موبائل میں سیو کرتے ہوئے بولی۔۔۔میں تمہیں ایک میسیج کر رہی ہوں۔۔۔میرا نمبر سیو کر لینا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ واپس باہر جانے کیلئے مڑی۔۔۔دروازے کے پاس پہنچ کر ایک دم وہ مڑی۔۔۔اور میرے لن پر نظریں جماتے ہوئے بولی۔۔۔ملنا ضرور تمہارا ہی فائدہ ہے۔۔۔بلکہ دو فائدے ہوں گے۔۔۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔۔۔میں اس شاندار اور نئی پھدی کے اچانک نظارے کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔چند منٹ بعد مومو دوبارہ اندر داخل ہوئی اور آتے ہی سیدھا میرے اوپر الٹی ہو کر لیٹ گئی۔۔۔
اس دن دوپہر دو بجے تک میں مومو کے ساتھ اس کے گھر میں رہا۔۔۔اور اس دوران ایک دفعہ اور میں نے مومو کی پھدی ماری۔۔۔دو بجے مجھے مومو نے بڑے پیار سے رخصت کیا۔۔۔میں وہاں سے نکلا اور میں روڈ پر کھڑے ہو کر ٹیکسی کی تلاش میں نگاہیں دوڑا ہی رہا تھا کہ اچانک میرے موبائل کی گھنٹی بجی۔۔۔

میں نے موبائل نکال کر دیکھا تو ایک انجان نمبر سے کال آ رہی تھی۔۔۔میں نے کال اٹینڈ کی تو آگے سے کسی لڑکی کی آواز سنائی دی۔۔۔سمیر۔۔۔کیسے ہو دوست۔۔۔اچانک میرے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا۔۔۔میں پہچان چکا تھا۔۔۔نازنین مجھ سے مخاطب تھی۔۔۔حال احوال کے بعد نازنین بولی۔۔۔سمیر یہاں پنڈی میں کیا کر رہے ہو۔۔۔میں حیرانگی سے بولا کہ ناز تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں پنڈی میں ہوں۔۔۔تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔اب عاشقوں کی طرح میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔۔۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ٹائم میں تمہیں اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہی ہوں۔۔۔


میں نے بوکھلا کر ادھر ادھر نظریں گھمائیں تو کہیں بھی نازنین نظر نہیں آئی۔۔۔تو وہ ہنستے ہوئے بولی جان ایسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کیا ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔سڑک پار چلے آؤ۔۔۔میں نظر آ جاؤں گی۔۔۔میں نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو مجھے سامنے روڈ کی دوسری سائیڈ پر چند کاریں کھڑی دکھائی دیں۔۔۔جو کہ فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے احتیاط سے سڑک پار کی۔۔۔جیسے ہی میں سڑک پار پہنچا تو چند فٹ کی دوری پر کھڑی ایک کرولا کار آگے بڑھی اور رینگتی ہوئی میرے پاس آ کر رک گئی۔۔۔ساتھ ہی اس کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھلا۔۔۔۔میں نے جھک کر دیکھا تو نازنین اندر ایک اور خوبصورت نقوش والی لڑکی کے ساتھ براجمان تھی۔۔۔

کار رکتے ہی وہ خوبصورت لڑکی کار سے اتری اور مجھے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں اندر بیٹھ گیا تو لڑکی اگلی سیٹ پر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔نازنین نے ڈرائیور کر کہا۔۔۔پروگرام کینسل۔۔۔گاڑی واپس گھر کی طرف موڑ لو۔۔۔ڈرائیور نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھائی اور اگلے یو ٹرن سے گاڑی واپس گھما لی۔۔۔میں حیرانگی سے نازنین کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔نکھرا نکھرا روپ اور مہنگے کپڑے۔۔۔فل میک اپ کیا ہوا۔۔۔دونوں ہاتھوں پر مہندی لگی ہوئی تھی۔۔۔مجھے یوں اپنی طرح متوجہ دیکھا تو وہ اٹھلاتے ہوئے بولی۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو دوست۔۔۔میں نے ستائشی نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔یار میں تین مہینے پہلے والی نازنین کا آج والی سے موازنہ کر رہا ہوں۔۔۔تم تو پہچانی ہی نہیں جا رہی ہو۔۔۔


(نازنین کو ملتان سے نکلے ہوئے تین مہینے ہو چکے تھے)


وہ میرے دونوں ہاتھوں کو اپنے حنائی ہاتھوں میں پکڑ کر بولی۔۔۔دوست یہ سب تمہارا ہی تو دیا ہوا ہے۔۔۔میں کبھی بھی وہ وقت نہیں بھول سکتی۔۔۔جب پرانی شناسائی کے صرف چند لمحات کے بدلے تم نے مجھے فرش سے اٹھا کر اس مقام پر پہنچایا تھا۔۔۔اسی طرح باتیں کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں ہم کوٹھی خانے پہنچ گئے۔۔۔گاڑی پورچ میں رکی تو ہم تینوں اتر کر اندر کی جانب چل دیے۔۔۔اندر پہنچ کر ہم لوگ سیدھا لاؤنج میں پڑے صوفوں پر جا بیٹھے۔۔۔نازنین نے اس لڑکی کو کچھ اشارہ کیا تو وہ لڑکی اندر چلی گئی۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔ہاں اب بتاؤ اس دن تمہیں کسی قسم کی کوئی پریشانی تو نہیں اٹھانی پڑی۔۔۔تو وہ بڑے جوش و خروش سے بتانے لگی۔۔۔نہیں سمیر اس دن میں وہاں سے نکلی اور اسلام آباد پہنچ گئی۔۔۔بس اڈے پر پہنچنے سے پہلے ہی میں حارث صاحب کو کال کر چکی تھی۔۔۔ان کا ایک آدمی گاڑی کے ساتھ اڈے میں میرا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

حارث صاحب واقعی قدر دان ہیں۔۔۔انہوں نے مجھے بہت سپورٹ کی ہے۔۔۔یہ سارا کچھ انہی کا دیا ہوا ہے۔۔۔اب تو ویسے بھی پرانی لڑکیوں میں سے صرف ایک لڑکی ہے جو کہ رابطے میں تھی تو اس کو واپس یہاں بلا لیا۔۔۔باقی سب نئی لڑکیاں ہیں۔۔۔ابھی تھوڑی دیر بعد میں تمہیں ان سے ملواتی ہوں۔۔۔سب کی سب ٹاپ کلاس کی آئٹمز ہیں۔۔۔ایک سے بڑھ کر ایک۔۔۔ان لڑکیوں کا بندوبست بھی حارث صاحب نے کیا ہے۔۔۔میں نے کہا کہ اچھا تم یہ بتاؤ کہ تم خوش ہو نا۔۔۔تو وہ بولی دیکھ نہیں رہے ہو۔۔۔مجھے تو جیسے بادشاہت مل گئی ہے۔۔۔اور میں خانم کی طرح سخت مزاجی سے کام نہیں لیتی۔۔۔لڑکیوں کو فل آزادی دی ہوئی ہے۔۔۔وہ اندر باہر بھی جاتی ہیں۔۔۔اور میرے ساتھ پورا تعاون کرتی ہیں۔۔۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف اتنے سے دنوں میں ہی کام پہلے سے بھی ذیادہ رفتار سے چل نکلا ہے۔۔۔۔غرضیکہ دس کی دس کڑاہی میں ہیں۔۔۔


اچھا میری بات چھوڑو۔۔۔اپنی بتاؤ کہ تم یہاں راولپنڈی میں کیا کر رہے ہو۔۔۔کب آئے ہو۔۔۔کب تک رہو گے۔۔۔
میں نے اسے اپنے بازوؤں میں سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔ارے بابا چھری تلے سانس تو لو۔۔۔سب بتاتا ہوں۔۔۔
دراصل میں آج ہی آیا ہوں۔۔۔کچھ کام تھا۔۔۔اس وقت میں اپنی ایک دوست کی پھدی مارنے کے بعد وہاں سے نکلا تھا۔۔۔تبھی تم مل گئیں۔۔۔میری بات سن کر اس نے خود کو مجھ سے چھڑوایا اور بولی چلو فٹا فٹ اٹھو۔۔۔
اوپر کمرے میں چلو۔۔۔نہا دھو کر فریش ہو لو۔۔۔میں تمہارے لیے کھانا منگواتی ہوں۔۔۔ویسے بھوک مجھے بھی بہت لگی ہوئی ہے۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ مجھے کھینچتے ہوئی اوپر کمرے میں لے گئی۔۔۔
یہ وہی کمرہ تھا جہاں میں نے پہلی دفعہ خانم کی پھدی ماری تھی۔۔۔وہی پر تعیش ساز و سامان۔۔۔بس کمرے کی سیٹنگ تھوڑی بدلی بدلی سی تھی۔۔۔

مجھے کمرے میں لیجا کر نازنین بولی۔۔۔تم دس منٹ انتظار کرو۔۔۔میں اتنی دیر میں تھوڑے انتظامات کر لوں۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔کیسے انتظامات تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔میری جان تمہیں اپنی رعایا بھی تو دکھانی ہے نا۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے مجھے دھکا دے کر بیڈ پر گرایا اور خود ایک ادا سے گھوم کر باہر نکل گئی۔۔۔

میں سگریٹ سلگا کر سوچنے لگا۔۔۔اچانک مجھے مومو کی سہیلی ارم یاد آئی۔۔۔اس کا نام دماغ میں آتے ہی اس کی گانڈ کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔۔۔میں نے اپنا موبائل اٹھا کر اسے کال ملائی۔۔۔چند گھنٹیوں کے بعد اس نے کال اٹھا لی۔۔۔تو میں نے کہا۔۔۔
یہ میں ہوں سمیر۔۔۔وہ بڑی بے تکلفی سے بولی یار میں پہچان گئی ہوں۔۔۔کیونکہ تمہارا نمبر میرے پاس سیو ہے۔۔۔میں نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔ارم تم مجھے کیا بتانے والی تھی۔۔۔

آگے سے وہ نہایت شوخی سے بولی کہ یہ تو ملاقات ہونے پر ہی بتاؤں گی۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے کہا اوکے کل ملتے ہیں۔۔۔جگہ بتاؤ مجھے کہاں آنا ہے۔۔۔تو وہ فٹ سے بولی۔۔۔جگہ تم بتاؤ کہ میں کہاں پر آؤں۔۔۔

میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔اچانک میں دماغ میں ایک بات آئی تو میں نے ایک زور دار چپت اپنے ہی سر پر لگائی کہ جہاں اس وقت میں موجود ہوں۔۔۔اس سے اچھی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے۔۔۔
اوکے ڈن ہو گیا۔۔۔تم کل صبح دس بجے تیار رہنا تو وہ بولی دس نہیں نو بجے۔۔۔کیونکہ میں گھر سے کالج کے بہانے نکلوں گی۔۔۔میں نے کہا تو ٹھیک ہے پورے 8:45 پر میں تمہیں کال کروں گا۔۔۔تم مجھے بتانا کہ میں تمہیں کہاں سے پِک کروں۔۔۔پھر ہم چلیں گے۔۔۔
اس سے معاملات طے کرنے کے بعد میں نے کال کاٹ کر پھر ایک سگریٹ سلگایا اور کش لینے لگا۔۔۔اچانک دروازہ کھلا اور نازنین دو لڑکیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔وہ دونوں لڑکیاں گاؤن پہنے ہوئے تھیں۔۔۔جو کہ ان کی پنڈلیوں تک آتا تھا۔۔۔باقی پنڈلیوں سے نیچے کا حصہ ننگا تھا۔۔۔
مجھے شک ہوا کہ جیسے لباس کے نام پر اس وقت ان لڑکیوں کے جسموں پر صرف یہی گاؤن ہیں۔۔۔اندر آتے ہی نازنین نے مجھے اٹھایا۔۔۔اور میرے کپڑے اتارنے لگی۔۔۔
میں نے کہا۔۔۔ارے ارے یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔تو وہ مصنوعی غصے سے بولی۔۔۔چپ چاپ کھڑے رہو۔۔۔پروگرام میں تھوڑی تبدیلی کی ہے۔۔۔
میرے کپڑے اتارنے کے بعد نازنین نے اپنے کپڑے بھی اتارے۔۔۔اب ہم دونوں مادر ذات ننگے تھے۔۔۔نازنین نے لڑکیوں کو اشارہ کیا تو انہوں نے بھی اپنے لبادے اتار دیے اور فل ننگی ہو گئیں۔۔۔نازنین کا جسم تو میرا دیکھا بھالا تھا۔۔۔اس لیے میری نگاہیں ان لڑکیوں کے جسموں سے چپک سی گئیں۔۔۔کیا اٹھان تھی ان جسموں کی۔۔۔اس کوٹھی خانے کی روایت کے مطابق بڑے بڑے اور بھرپور ممے۔۔۔آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔۔۔
نازنین نے مجھے بازو سے پکڑ کر واش روم کی جانب دھکیلا اور خود بھی میرے ساتھ ہی واش روم کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔واش روم کے اندر داخل ہوتے ہی میری آنکھیں چمک اٹھیں۔۔۔جتنا بڑا یہ واش روم تھا۔۔۔
اتنے بڑے بڑے تو ہمارے گھروں کے کمرے تھے۔۔۔یہ ایک وسیع و عریض واش روم تھا۔۔۔جس میں جدید طرز کی تمام سہولیات میسر تھیں۔۔۔واش روم میں لگی ہوئی ٹائلز بہت ہی خوبصورت اور بیش قیمت تھیں۔۔۔ایک سائیڈ پر واش بیسن اور اس کی سائیڈ پر کموڈ لگا ہوا تھا۔۔۔
کموڈ کے دوسری جانب شیشے کی پارٹیشن تھی۔۔۔جس کے اندر کافی سارا ایریا غسل کیلئے چھوڑا گیا تھا۔۔۔یہاں ایک وقت میں ایک سے زائد لوگ نہا سکتے تھے۔۔۔چونکہ یہ گشتیوں کا اڈا تھا اس لیے یہ سب کسٹمرز کی ضرورت کے عین مطابق تھا۔۔۔


اندر ایک تالاب نما باتھ ٹب بنا ہوا تھا۔۔۔جو کہ خوبصورت پتھروں کو تراش کر بنایا گیا تھا۔۔۔اس میں نیلگوں پانی بھرا ہوا تھا۔۔۔ساتھ ہی ایک خوبصورت شاور بھی لگا ہوا تھا۔۔۔
نازنین میرا بازو تھامے اس ٹب میں اتر گئی۔۔۔اور وہ دونوں لڑکیاں آ کر ٹب کنارے بیٹھ کر میرے کندھوں اور گردن پر مساج کرنے لگیں۔۔۔
نازنین نے ایک شیمپو کی بوتل پکڑی اور کافی سارا شیمپو ٹب میں گرا کر جاگ بنا دی۔۔۔پھر اس نے ریک میں موجود ایک اسفنج اٹھایا اور رگڑ رگڑ کر مجھے نہلانے لگی۔۔۔میں نے ان دو لڑکیوں میں سے ایک کو کھینچ کر اپنے سامنے کیا اور اسے اپنے سینے پر گراتے ہوئے اس کے ممے چوسنے لگا۔۔۔میرا لن اب پوری طرح سے اکڑ چکا تھا۔۔۔اس الہڑ جوانی کا اچھی طرح سے رس چوسنے کے بعد میں نے اس لڑکی کو چھوڑا۔۔۔اتنی دیر تک نازنین نے اسفنج سے رگڑ رگڑ کر میرا جسم چمکا دیا تھا۔۔۔
اب میں نے آگے ہو کر نازنین کو پکڑ کر اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے۔۔۔نازنین نے دو منٹ کسنگ کے بعد کسمسا کر اپنا آپ چھڑوایا اور بولی۔۔۔ندیدے کہیں کے۔۔۔میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں جو اتنا اتاولے ہو رہے ہو۔۔۔چلو باہر نکلو یہاں سے۔۔۔ہم دونوں ٹب سے باہر نکل آئے۔۔۔اتنی دیر میں لڑکیوں نے شاور چلا دیا تھا۔۔۔اب میں اور نازنین شاور کے نیچے کھڑے تھے۔۔۔شاور کا پانی بارش کی بوندوں کی طرح چھما چھم ہمارے اوپر برس رہا تھا۔۔۔

وہ دونوں لڑکیاں اب ہمارے جسموں پر شیمپو لگا کر ہمیں اچھی طرح سے مل مل کر نہلا رہی تھیں۔۔۔ان کی مچلتی ہوئی گانڈیں دیکھ دیکھ کر میرا لن جھٹکے مارنا شروع ہو گیا تھا۔۔۔مجھ سے رہا نا گیا تو میں نے ایک لڑکی کو پکڑ کر اپنے سامنے کرتے ہوئے تھوڑا نیچے کی طرف جھکا کے کوڈا کر دیا۔۔۔اپنے ہاتھ کی انگلی کو میں نے نازنین کے منہ میں دیا جسے اس نے اچھی طرح تھوک سے تر کر دیا۔۔۔
میں نے وہ انگلی لڑکی کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر تھوڑا زور لگایا تو انگلی اندر داخل ہو گئی۔۔۔
آہ کی آواز کے ساتھ ہی لڑکی نے جھٹکا کھایا اور آگے بڑھی تو نازنین کڑک آواز کے ساتھ دھاڑی۔۔۔صوبیہ۔۔۔
سس۔۔۔سس۔۔۔سوری خانم۔۔۔وہ لڑکی ہکلائی اور دوبارہ سے پیچھے ہو کر جھک گئی۔۔۔میں نے اس کی گانڈ میں دوبارہ انگلی ڈال دی۔۔۔اور زور زور سے انگلی اندر گول گول گھمانے لگا۔۔۔نازنین نے دوسری لڑکی کو گردن میں ہاتھ ڈال کر جھکاتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا تو وہ لڑکی میری ٹانگوں کے درمیان فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔۔۔
نازنین نے آگے بڑھ کر میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔اب صورتحال یوں تھی کہ نازنین میرے ہونٹ چوس رہی تھی۔۔۔ایک لڑکی میرا لن چوس رہی تھی۔۔۔جبکہ دوسری لڑکی کی گانڈ میں میری دو انگلیاں پوری رفتار سے اندر باہر ہو رہی تھیں۔۔۔
واش روم اس وقت اس لڑکی کی کراہوں سے گونج رہا تھا۔۔۔میں نے اپنا لن پہلی لڑکی کے منہ سے نکالا اور اس کے تھوک سے لتھڑے ہوئے لن کو دوسری لڑکی صوبیہ کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا پش کیا تو میرے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔اس نے ایک دلکش چیخ ماری۔۔۔آئی۔ی۔ی۔ی۔۔۔۔افففف۔۔۔ساتھ ہی اس نے تھوڑا اوپر اٹھ کر اپنی گانڈ کو ٹائٹ کر لیا۔۔۔میں دھکا لگانے کی کوشش کرتا رہا پر نادار۔۔۔یہ دیکھ کر نازنین نے اس لڑکی کے بھاری چوتڑ پر زور کا ایک تھپڑ مارا تو تکلیف سے اس لڑکی کی اپنی گانڈ پر سے گرفت ختم ہو گئی۔۔۔
اسی وقت میں نے پوری جان سے گھسہ مارا۔۔۔تو میرا لن ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے جڑ تک اس کی گانڈ میں داخل ہو گیا۔۔۔اس کی چیخ نما دھاڑ سے واش روم گونج اٹھا۔۔۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن نازنین نے اس کی کمر کے اوپر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے جھکائے رکھا۔۔۔میں نے صوبیہ کے کولہے تھامتے ہوئے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔اتنی دیر میں دوسری لڑکی واش روم سے باہر نکل گئی۔۔۔
واش روم اب صوبیہ کی چیخوں سے گونج رہا تھا۔۔۔جبکہ میں ہر چیز سے بے نیاز اس کی گانڈ کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف تھا۔۔۔چند منٹ گھسے مارنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اب صوبیہ بری طرح سے کانپ رہی ہے تو میں نے اس کے کولہوں پر گرفت ختم کرتے ہوئے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔صوبیہ وہیں پر گر کر سسکنے لگی۔۔۔


میں نے جھک کر صوبیہ کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور باہر کی طرف چل دیا۔۔۔نازنین نے شاور بند کیا اور تولیہ اٹھا کر میرے ساتھ ہی باہر نکل آئی۔۔۔باہر لا کر میں نے صوبیہ کو نیچے قالین پر کھڑا کیا۔۔۔وہ تھوڑا ڈگمگائی پھر سنبھل گئی۔۔۔میں نے اس کے ہونٹ چومتے ہوئے پوچھا۔۔۔کیا درد ذیادہ ہو رہی ہے۔۔۔تو وہ شاکی نگاہوں سے دیکھ کر بولی۔۔۔
نن۔۔۔نہیں اب میں ٹھیک ہوں۔۔۔


نازنین نے تولیے سے میرا بدن خشک کرنا شروع کر دیا۔۔۔اتنی دیر میں دوسری لڑکی بھی کمرے میں داخل ہوئی اس نے ایک اور تہہ شدہ تولیہ اٹھا رکھا تھا۔۔۔اس تولیے سے اس نے نازنین کا بدن پونچھ دیا۔۔۔
میں نے آگے ہو کر نازنین کو اپنے بازوؤں میں جھکڑا اور اسے کھینچ کر بیڈ پر گراتے ہوئے خود اس کے اوپر لیٹ کر اس کے بھاری مموں کو بھنبھوڑنے لگا۔۔۔

میں گھٹنوں کے بل اوندھا ہو کر نازنین کے ممے چوس رہا تھا۔۔۔جبکہ میری گانڈ ہوا میں اٹھی ہوئی تھی۔۔۔تبھی مجھے اپنی گانڈ کے سوراخ پر لپلپاہٹ محسوس ہوئی۔۔۔
مڑ کر دیکھا تو دوسری لڑکی میری گانڈ کے سوراخ کر چاٹ رہی تھی۔۔۔
اتنی دیر میں صوبیہ نے نیچے لیٹ کر میرا لن اپنے منہ میں بھر لیا۔۔۔میں اس مزے کی شدت بیان نہیں کر سکتا۔۔۔
دو منٹ تک اسی پوزیشن میں مزے لینے کے بعد میں نے دونوں لڑکیوں کو پیچھے ہٹایا اور نازنین کی ٹانگیں اٹھا کر اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال کر گھسے مارنا شروع کر دیے۔۔۔چونکہ ابھی گھنٹہ پہلے ہی مومو کی پھدی میں دو دفعہ پانی نکال چکا تھا۔۔۔
اس لیے فلحال میرا لن اپنی جگہ جمائے ہوئے کسی پسٹن کی طرح نازنین کی پھدی کھود رہا تھا۔۔۔نازنین کی لذت سے بھرپور سسکاریاں گونج رہی تھیں۔۔۔اسی دوران مجھے صوبیہ کی سسکی سنائی دی۔۔۔
میں نے منہ موڑ کر دیکھا تو صوبیہ دوسری لڑکی کو گرا کر اس کے منہ پر بیٹھ کر گھسے مارتے ہوئے اپنی پھدی چٹوا رہی تھی۔۔۔
میں اور زیادہ ایکسائیٹڈ ہو کر گھسے مارنے لگا۔۔۔نازنین جو کہ کافی دیر سے خود پر قابو پائے ہوئے تھی۔۔۔لرزتے ہوئے اپنی پھدی کو ٹائٹ کرتی گئی اور ایک زور دار چیخ کے ساتھ اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔

میں نے اپنا لن باہر نکالا اور دوسری لڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔اس کے پاس پہنچ کر میں نے اس کے نپلز چوسنے کے بعد اس کی ٹانگیں اٹھائیں تو ایک دم میرے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔۔۔مجھے بے اختیار پہلے دن والی نازنین یاد آ گئی۔۔۔جب پہلی بار نازنین سے ملاقات ہوئی تھی تو اس نے اپنی گانڈ میں ایک سیکس ٹوائے لے رکھا تھا۔۔۔

آج اس لڑکی نے بھی وہی کام کیا تھا۔۔۔ایک عدد سیکس ٹوائے اس کی گانڈ میں موجود تھا۔۔۔نازنین جو میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔یہ شازیہ میری جانشین بنے گی۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے زور لگا کر اس کی گانڈ سے سیکس ٹوائے باہر نکالا۔۔۔اور اس کی ٹانگیں ہلکی سی اوپر اٹھا کر نازنین کی منی سے لتھڑا ہوا لن شازیہ کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر ہلکا سا دباؤ ڈالا تو میرا لن بڑی آسانی سے اس کی گانڈ میں اترتا چلا گیا۔۔۔میں نے سٹارٹ سے ہی تھوڑا زور سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔

صوبیہ اٹھی اور جا کر نازنین کی پھدی کو چاٹ چاٹ کر اس کی پھدی کا رس نچوڑنے لگی۔۔۔شازیہ کی گانڈ مکھن کی طرح نرم ملائم تھی۔۔۔
میں نے شازیہ کی دونوں ٹانگیں فل اٹھا کر اس کے مموں کے ساتھ لگائیں۔۔۔اور خود بھی اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔پھر میں نے اپنے تیز رفتا گھسوں سے شازیہ کی گانڈ کی کھدائی شروع کر دی۔۔۔چار پانچ منٹ تک میں ایسے ہی اس کی گانڈ مارتا گیا۔۔۔مارتا گیا۔۔

پھر شازیہ بولی۔۔۔آہ۔۔۔آہہہ۔۔۔سر اب میں تھک گئی ہوں۔۔۔پلیز پوزیشن چینج کر لیں۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا اور شازیہ کو الٹا کر گھوڑی بنا دیا۔۔۔اب شازیہ کے گول مٹول بھاری چوتڑ اور اس کی گانڈ کا دلکش براؤن رنگ کا سوراخ میری نظروں کے سامنے تھا۔۔۔مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔اتنی صاف شفاف گانڈ دیکھ کر مجھ پر ایک دفعہ پھر جنون سوار ہو گیا۔۔۔میں نے اپنا لن اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور ایک جھٹکے سے پورا لن اندر ڈال دیا۔۔۔


شازیہ اب میرے سامنے کتی بنی اپنی بڑی سی گانڈ کو مٹکا مٹکا کر میرے طاقتور گھسوں کا جواب دے رہی تھی۔۔۔میں وحشیوں کی طرح اس کی گانڈ مار رہا تھا۔۔۔اس کے باوجود وہ مجھے کہہ رہی تھی۔۔۔اور زور سے میری جان۔۔۔آہ۔۔۔۔آہہہ۔۔۔افففف۔۔۔۔اوہ۔۔۔اور زور سے سر۔۔۔آج میری گانڈ پھاڑ ڈالو۔۔۔زور سے چودو اپنی رنڈی کو۔۔۔اتنے زور سے گھسے مارو کہ میری گانڈ کا بھرتہ بنا ڈالو۔۔۔میں اور بھی طاقت سے اس کو چودتا گیا۔۔۔یہاں تک کہ مجھے اپنے جسم میں �� �� چیونٹیاں سی رینگتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔
شازیہ بھی پوری رفتار سے اپنے ایک ہاتھ کی تین انگلیاں اپنی پھدی میں گھسائے اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔گھسے مارتے مارتے اچانک اس کی گانڈ ایک دم بہت ذیادہ ٹائٹ ہوئی اور میرے لن کو جھکڑ لیا۔۔۔
اس کے ساتھ ہی ایک زور دار چیخ کے ساتھ شازیہ بڑی بری طرح سے چھوٹی اور اس کی پھدی سے رس بہہ نکلا۔۔۔پانی چھوڑتے ہوئے جھٹکوں کے ساتھ اس کی پھدی کھل اور بند ہو رہی تھی۔۔۔جس کا اثر اس کی گانڈ پر بھی ہو رہا تھا۔۔۔میں اور برداشت نہ کر پایا۔۔۔اور اپنا لن باہر نکال کر ایک دم کھڑا ہو کر ہاتھ میں پکڑتے ہوئے زور زور سے ہلانے لگا۔۔۔یہ دیکھ کر تینوں گشتیاں ایک دم اٹھیں اور میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے منہ کھول کر زبانیں باہر نکال لیں۔۔۔میں اب عروج پر پہنچ چکا تھا۔۔۔اچانک میرے جسم کو ایک زور کا جھٹکا لگا اور منی کی دھار نکل کر ان کی زبانوں پر پڑی۔۔۔پھر پڑی۔۔۔پھر پڑی۔۔۔
میرا سارا منی اب ان کے منہ پر چپکا ہوا تھا۔۔۔جیسے ہی میرا سارا لن نچڑ گیا۔۔۔مجھ پر ایک دم تھکاوٹ کا غلبہ جاری ہوا اور میں وہیں پیچھے ہو کر بیڈ پر گر گیا۔۔۔وہ تینوں کتیوں کی طرح ایک دوسرے کے منہ سے منی چاٹ رہی تھیں۔۔۔
اس کے بعد تینوں لڑکیاں اٹھ کر واش روم میں چلی گئیں۔۔۔میں وہیں نقاہت سے لیٹا رہا۔۔۔تینوں لڑکیاں واش روم سے فریش ہو کر واپس آئیں تو صوبیہ اور نازیہ بیڈ پر چڑھ کر میرے دائیں بائیں بیٹھ گئیں اور مجھے مساج دینا شروع کر دیا۔۔۔جبکہ نازنین ننگی ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد نازنین اسی ننگی حالت میں کمرے میں داخل ہوئی اس کے پیچھے ایک اور ننگی لڑکی ٹرالی دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔جس کو دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔وہ لڑکی راحت تھی۔۔۔راحت نے مجھے دیکھا تو ٹرالی ایک سائیڈ پر کھڑی کی اور آگے بڑھ کر میرے ہونٹوں کا ایک بوسہ لیا۔۔۔میں نے راحت کا حال احوال پوچھا۔۔۔نازنین اسی کی بات کر رہی تھی کہ ایک پرانی لڑکی بھی اس کے ساتھ ہے۔۔۔ٹرالی پر کھانے پینے کا سامان موجود تھا۔۔۔
راحت نے سب سے پہلے کپ میں کچھ انڈیل کر مجھے دیا۔۔۔میں نے کہا یار بھوک لگی ہوئی ہے اور تم مجھے یہ کیا پلا رہی ہو۔۔۔تو نازنین بولی۔۔۔میری جان اس کو چپ چاپ پی جاؤ۔۔۔اس کو پینے سے جسم میں موجود نقاہت جاتی رہے گی۔۔۔میں نے کپ پکڑا تو اس میں گرین قہوہ موجود تھا۔۔۔اتنی دیر تک لڑکیاں میرا اچھی طرح مساج کر چکی تھیں۔۔۔نازنین کے اشارے پر سب وہاں سے باہر نکل گئیں۔۔۔قہوہ پینے کے بعد واقعی جسم میں طاقت بحال ہوتی محسوس ہوئی اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
واش روم میں جا کر خود کو اچھی طرح صاف کیا پھر باہر آ کر کھانے پر ٹوٹ پڑا۔۔۔ہم دونوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔۔

کھانا کھانے کے بعد ہم دونوں نے کپڑے پہنے اور سگریٹ سلگا کر بیڈ پر ہی لیٹ گئے۔۔۔نازنین بھی میرے بازو میں موجود تھی۔۔۔
نازنین بولی۔۔۔ہاں میری جان اب بتاؤ۔۔۔کب تک یہاں پنڈی میں موجود ہو۔۔۔تو میں نے کہا یار آج ہی آیا ہوں ابھی گھر نہیں گیا۔۔۔یہاں سے سیدھا گھر جاؤں گا۔۔۔رات کو ایک اور پھدی مارنی ہے۔۔۔اس کے بعد کل دن میں دوبارہ تمہارے پاس آؤں گا۔۔۔لیکن اس وقت میں اکیلا نہیں ہوں گا۔۔۔میرے ساتھ میری ایک دوست بھی ہو گی۔۔۔
نازنین مجھے گھورتی ہوئی بولی یار اپنا خیال رکھو اتنا سیکس کر کر کے بیمار پڑ جاؤ گے۔۔۔میں نے جواب دیا۔۔۔نہیں جانم یہ ضروری ہے۔۔۔تو وہ بولی اچھا پھر واپس جاتے وقت میں تمہیں ایک میڈیسن کھلاؤں گی۔۔۔اس کے بعد تمہیں سیکس کے وقت کمزوری محسوس نہیں ہو گی۔۔۔
پھر کچھ دیر اور وہاں رکنے کے بعد میں واپسی کیلئے تیار ہو گیا۔۔۔جانے سے پہلے نازنین نے مجھے ایک گولی کھلائی اور خود مجھے آفتاب کے گھر کے پاس والے سٹاپ پر ڈرائیور کے ساتھ آ کر چھوڑ گئی۔۔۔اس وقت شام کے سات بج رہے تھے۔۔

میں چلتا ہوا آفتاب کے گھر پہنچ گیا۔۔۔
گھر میں سب سے ملاقات ہوئی۔۔۔پتہ چلا کہ آفتاب آسٹریلیا جا رہا ہے۔۔۔اسی سلسلے میں آفتاب اور ارمغان دونوں کراچی گئے ہوئے تھے۔۔۔فاروق اپنی وائف کے ساتھ لاہور اپنے سسرال گیا ہوا تھا۔۔۔تو گھر میں آفتاب کے پاپا،ماما اور سدرہ تھے۔۔۔میں سب کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
میل ملاقات ہوئی۔۔۔سب کے سامنے میں نے سدرہ کے بچوں کو بھی پیار کیا۔۔۔آفتاب کے پاپا باتوں کے رسیا تھے۔۔۔جتنی دیر بھی ان کے پاس بیٹھے رہو۔۔۔ان کی باتوں کا سٹاک ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔۔۔اتنی دیر میں چائے بن کر آ گئی۔۔۔کیونکہ صبح سفر اور اس کے بعد لگاتار چدائی نے مجھے تھکا دیا تھا۔۔۔تو چائے پینے کے بعد میں تھکاوٹ کا کہہ کر ریسٹ کرنے کیلئے آفتاب کے کمرے میں جا کر سو گیا۔۔۔میری آنکھ کسی کے جھنجھوڑنے پر کھلی۔۔۔
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سدرہ مجھے ہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اپنے بازو کھولے اور سدرہ میرے بازوؤں میں سما گئی۔۔۔چند منٹ تک ہم دو جسم اور ایک جان بنے رہے۔۔۔کچھ دیر بعد سدرہ پیچھے ہٹی اور میرے سینے پر مکے مارتے ہوئے بولی۔۔۔سمیر ایک تو اتنے دن بعد آئے ہو اور آتے ہی سو گئے۔۔۔میرا ذرا بھی خیال نہیں آیا۔۔۔
میں اس کے گال چومتے ہوئے بولا میری جان کو دوسرے بیٹے کی بہت بہت مبارک ہو۔۔۔
وہ ایک دم خوشی سے کھل گئی۔۔۔سچ سمیر تمہارا بیٹا بلکل تم پر گیا ہے۔۔۔ہر وقت اس کی آنکھوں میں ایک شرارت ناچتی رہتی ہے۔۔۔اس وقت تو بچے سو رہے ہیں۔۔۔صبح جلدی اٹھ جاتے ہیں تو میں تمہیں بھی اٹھا دوں گی۔۔۔پھر دیکھنا اپنے بیٹوں کی شرارتیں۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے اوپر جھکایا تو اس نے خود اپنے ہونٹ چومنے کیلئے مجھے دے دیے۔۔۔چند لمحے میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے متصل رہے۔۔۔اس کے بعد میں نے نرمی سے اس کے لبوں پر زبان پھیری۔۔


پھر زبان کی نوک سے اس کے ہونٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔۔۔اور بے تابی سے اس کے ہونٹوں کو چومنا اور چوسنا شروع کر دیا۔۔۔اس کے جسم سے ایک نہایت شہوت انگیز خوشبو آ رہی تھی۔۔۔جس نے میرے جنسی طلب اور سیکس کی بھوک کو اور بڑھا دیا تھا۔۔۔وہ لذت آمیز سسکاریاں بھر رہی تھی۔۔۔اس کے انگ انگ سے جیسے لطف اور سرور کے پھول برس رہے تھے۔۔۔جن کی مستی سے میری بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔


ہم دونوں ایک منٹ کیلئے اٹھے اور فٹا فٹ اپنے کپڑے اتار دیے۔۔۔پھر سدرہ نیچے لیٹ گئی اور میں نے اس کے اوپر لیٹ کے دھیرے سے اپنا لن اس کی گیلی پھدی میں گھسا کر گھسے مارتے ہوئے اس کے ممے چوسنے شروع کر دیے۔۔۔
میرا لن اس کی گیلی پھدی میں جڑ تک اندر جا رہا تھا۔۔۔سدرہ نے لذت سے ایک چیخ ماری اور ساتھ ہی نیچے سے اپنی گانڈ کو گول گول ہلانا شروع کر دیا۔۔۔اس کے اس طرح گانڈ ہلانے سے جہاں اسے لطف محسوس ہوا۔۔۔مجھے بھی بہت مزہ آیا۔۔۔اس کے گانڈ ہلانے سے لن اس کی پھدی کی دیواروں کے ساتھ مسلا جاتا۔۔۔سدرہ کے ساتھ ساتھ میں بھی مخمور ہو جاتا۔۔۔
سدرہ کی پھدی مارتے ہوئے اچانک ایک دفعہ پھر میری آنکھوں کے سامنے ارم کی گانڈ آ گئی۔۔۔اس بارے میں سوچتے ہی میرے لن میں جیسے اور اکڑاہٹ پیدا ہو گئی۔۔۔میں اور زور سے گھسے مارنے لگا۔۔۔
جہاں اس کی پھدی میں لن کی رگڑ لگتی۔۔۔وہیں مجھے اس کی نرم پھدی کے لبوں اور دیواروں کی پکڑ اپنے لن پر محسوس ہوتی۔۔۔ایک وقت ایسا آیا کہ میں لذت کی شدت سے بے حال ہونے لگا۔۔۔میں نے اپنا لن باہر نکالا اور سدرہ کو گھوڑی بنا کر پیچھے سے اپنا لن ایک جھٹکا مار کر اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔میرا لن پھسلتا ہوا اندر چلا گیا۔۔۔
سدرہ کے منہ سے ایک آہ نکلی جو اس امر کا واضح ثبوت تھی کہ جتنا مزہ مجھے آ رہا ہے اس سے دگنا لطف وہ اٹھا رہی ہے۔۔۔میری ساری توجہ اس وقت سدرہ کی گرم کمر اور نرم نرم چوتڑوں پر تھی۔۔۔میں اپنی ساری توانائی اس کی پھدی میں گھسے مارنے میں صرف کر رہا تھا۔۔۔
سدرہ کی آہوں اور سسکیوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔۔۔میں بھی گھسوں میں تیزی اور جوش لاتا گیا۔۔۔سدرہ چند ہی منٹوں میں اتنی بے خود ہو گئی کہ اس نے اپنی گانڈ کو گول گول گھماتے ہوئے بھینچنا شروع کر دیا۔۔۔اس نے یہ حرکت اس قدر تیزی اور مہارت سے کی کہ میں چند سیکنڈز میں ہی چھوٹنے والا ہو گیا۔۔۔
میں نے آخری چند گھسے پوری جان کے ساتھ مارے اور اپنے لن کو چھوٹ جانے دیا۔۔۔میرا منی جھٹکوں سے اس کی پھدی میں بہہ گیا اور وہ نڈھال سی ہو کر آگے گر گئی۔۔۔کچھ دیر بعد سدرہ اٹھی اور مجھے ساتھ لیکر اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔جاتے وقت ہم دونوں کپڑے پہننا نہیں بھولے۔۔۔میرے دونوں بیٹے بڑے آرام اور سکون کی نیند سو رہے تھے۔۔۔
میں نے جھک کر دونوں بچوں کو باری باری چوما اور پھر سدرہ کو بانہوں میں سمیٹ کر وہیں پاس پڑے صوفے پر سو گیا۔۔۔صبح بچوں کے رونے سے میری آنکھ کھلی۔۔۔میں نے دیکھا کہ سدرہ کمرے میں نہیں تھی۔۔۔میں اٹھ کر بیٹھا ہی تھا کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اس کے ہاتھ میں فیڈر تھا۔۔۔فیڈر اس نے بڑے بیٹے کہ منہ سے لگایا اور خود چھوٹے بیٹے کو اٹھا کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی قمیض اوپر کر کے ایک ممہ باہر نکالا اور نپل بیٹے کے منہ میں دے دیا۔۔۔

ماں کی گود کا لمس پاتے ہی بیٹا ہاتھ چلانے لگا۔۔۔اور نپل منہ میں محسوس کرتے ہی بیٹا لپ لپ دودھ پینے لگا۔۔۔میں نے ٹائم دیکھا تو سات بج چکے تھے۔۔۔میں فٹا فٹ اٹھا۔۔۔بچوں کو پیار کیا اور سدرہ کے ہونٹوں کو چوم کر بولا اچھا جانم مجھے ابھی ایک نہایت ضروری کام سے نکلنا ہے۔۔۔شام میں ملاقات ہوتی ہے۔۔۔یہ کہہ کر میں باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔
نیچے آفتاب کے کمرے میں آ کے میں نہا دھو کر فریش ہوا اور نکلنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اس نے کہا سمیر ناشتہ بلکل ریڈی ہے جلدی آ جاؤ۔۔۔
میں نے نیچے جا کر ناشتہ کیا۔۔۔باقی گھر والے ابھی سو رہے تھے۔۔۔ناشتہ کرنے کر بعد میں نے سدرہ کو ایک جپھی ماری اور وہاں سے نکل آیا۔۔۔


باہر آ کر ایک ٹیکسی پکڑی اور ارم کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔۔۔ابھی دس منٹ رہتے تھے۔۔۔میں ایک سگریٹ سلگا کر ارم کا انتظار کرنے لگا۔۔۔مقررہ ٹائم سے ٹھیک ایک منٹ پہلے ارم مجھے سامنے سے آتی دکھائی دی۔۔۔اس نے عبایا پہنا ہوا تھا جس نے اس کے پورے جسم کو کور کیا ہوا تھا۔۔۔لیکن اس کا منہ کھلا تھا۔۔۔مطلب اس نے نقاب نہیں کیا ہوا تھا۔۔۔تبھی تو میں نے اسے دور سے پہچان لیا۔۔۔میں نے اسے کال کر کے بتایا کہ میں فلاں گاڑی میں بیٹھا ہوں۔۔۔سیدھا گاڑی میں ہی آ جاؤ۔۔۔
وہ سیدھا آ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔میں نے ٹیکسی والے کو نازنین کی کوٹھی کے قریبی چوک کا بتایا تو ڈرائیور نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔ارم نے کچھ بولنا چاہا تو میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر ڈرائیور کی طرف دیکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
مطلوبہ جگہ پر ہم لوگ ٹیکسی سے اترے۔۔۔میں نے کرایہ ادا کیا اور ہم پیدل ہی نازنین کی کوٹھی کی جانب چل پڑے۔۔۔میں نے نازنین کو کال کر کے صورتحال سمجھائی تو اس نے کہا۔۔۔جانم بے فکر ہو کر چلے آؤ۔۔۔سب کو ہدایات دی جا چکی ہیں۔۔۔اپنی دوست کے ساتھ سیدھا اوپر کل والے کمرے میں ہی چلے جانا۔۔۔اور جب میری ضرورت پڑے مجھے انٹرکام پر بتا دینا۔۔۔ورنہ عیش کرو۔۔۔
واپس جانے سے پہلے لازمی مل کر جانا۔۔۔کہیں یہ نا ہو کہ مجھ سے ملے بغیر ہی واپس چلے جاؤ۔۔۔اتنی دیر میں کوٹھی کا صدر دروازہ آ چکا تھا۔۔۔میں نے اوکے کہہ کر کال بند کی اور کال بیل پر انگلی رکھ دی۔۔۔فوراً ہی ملحقہ کھڑکی کھلی اور چوکیدار نے سر باہر نکالا۔۔۔مجھے دیکھ کر اس نے راستہ دیا اور میں ارم کو ساتھ لیے اندر چلا گیا۔۔۔میں سیدھا کوٹھی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ارم بھی میری تلقید میں قدم بڑھاتی گئی۔۔۔چند لمحات کے بعد ہم دونوں کمرے میں بیڈ پر بیٹھے تھے۔۔۔
ارم کافی نروس تھی۔۔۔میں اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو وہ اسی نروس زدہ لہجے میں بولی۔۔۔سمیر یہ کس کی کوٹھی ہے۔۔۔تو میں نے جواب دیا۔۔۔یہ میرے ایک دوست کا گھر ہے۔۔۔تم بے فکر ہو کر بیٹھو۔۔۔کسی قسم کا تردد مت کرو۔۔۔یہاں بلکل آزادی سے بات کر سکتے ہیں۔۔۔

یہ کہہ کر میں نے اسے کھینچ کر اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔۔۔اس کے موٹے موٹے ممے میرے سینے کے ساتھ پریس ہوئے تو میرے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی۔۔۔وہ مجھے ہٹاتے ہوئے بولی۔۔۔توبہ ہے تھوڑا صبر تو کرو۔۔۔مجھے ریلیکس تو ہونے دو۔۔۔واش روم کہاں ہے۔۔۔میں نے واش روم کی طرف اشارہ کیا تو وہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔۔۔میری نظروں نے اس کا تعاقب کیا تو عبایا کے اوپر سے ہی اس کی تباہی کن ہلتی ہوئی گانڈ کے نظارے دیکھ کر میرا لن پوری طرح سے اکڑ گیا۔۔۔
میں اٹھا اور اپنے کپڑے اتار کر سائیڈ صوفے پر رکھے اور صرف انڈر وئیر پہنے واش روم کی سائیڈ پر کھڑا ہو گیا۔۔۔چند منٹ بعد وہ واش روم سے نکلی اور مجھے بیڈ پر موجود نہ پا کر وہ چلتے ہوئے کمرے کے وسط میں پہنچ گئی۔۔۔اور کمرے کی سجاوٹ کو دیکھنے لگی۔۔۔
اس نے عبایا اتار دیا تھا۔۔۔نیچے سے اس نے بڑی فٹ قسم کی ٹائٹ ٹراؤزر اور لمبی سٹائلش قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔جس میں اس کی گانڈ کے بھاری چوتڑ نمایاں سر اٹھائے کھڑے تھے۔۔۔اس کی گانڈ کا نظارہ دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا۔۔۔


میں دبے پاؤں آگے بڑھا اور پیچھے سے اسے اپنی بانہوں میں جھکڑ لیا۔۔۔اس کے منہ سے ایک دم ڈری ڈری سی چیخ نکلی۔۔۔پھر اس نے مڑ کر مجھے دیکھا تو ایک لمبا سانس لیا۔۔۔افففف پاگل۔۔۔یہ تم ہو۔میں تو ڈر ہی گئی تھی۔۔۔اچانک اسے محسوس ہوا کہ میں ننگا ہوں تو اس نے اوپر سے نیچے تک نظر دوڑائی۔۔۔میرا لن انڈروئیر کو پھاڑ کر باہر آنے کیلئے بے تاب تھا۔۔۔اس لیے کافی بڑا ابھار بنا ہوا تھا۔۔۔
میرے لن کا ابھار دیکھ کر اس کے گال شہوت سے ایک دم سرخ ہو گئے۔۔۔اس نے میری آنکھوں میں دیکھا اور اچانک آگے بڑھ کر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔میں نے اپنے ہونٹ اس کیلئے کھول دیے۔۔۔
سچ پوچھو تو یہ لڑکی مجھے بہت ذیادہ پسند آئی تھی۔۔۔

وجہ تھی اس کی بڑی سی تباہی کن گانڈ۔۔۔
اس کے موٹے موٹے ممے۔۔۔
اس کی بولڈنس۔۔۔

اب اس کی زبان دیوانہ وار میرے منہ میں گھوم رہی تھی اور میں اس کے ہونٹوں کا رس پی رہا تھا۔۔۔اس نے اپنی بانہیں میری کمر کے گرد باندھ کر خود کو کس کے میرے ساتھ جوڑ لیا۔۔۔وہ پورے جوش کے ساتھ اپنی زبان میری زبان کے ساتھ رگڑ رہی تھی۔۔۔


میں بھی فل جوش میں اس کا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔میں نے اس کے اسکارف کو اتار کر پھینکا اور سر کے پچھلے حصے کے بالوں کو پکڑ کر اس کو اور بھی قریب کر لیا۔۔۔اس طرح ہم دنیامافیا سے بے خبر ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس پینے میں مشغول تھے۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھتے ہوئے اس کے نرم نرم چوتڑوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ لیا۔۔۔ارم کی تو لذت سے آہ نکل گئی۔۔۔اسی دوران اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھتے ہوئے زور لگا کر مجھے خود سے پرے دھکیل دیا۔۔۔میں حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
وہ اپنے لال سرخ چہرے سے مجھے گھور رہی تھی۔۔۔اس کی تیز سانسوں کے ساتھ ساتھ اس کے بھاری ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے۔۔۔چند لمحے وہ مجھے یوں ہی دیکھتی رہی۔۔۔پھر اس نے دونوں ہاتھ اپنی قمیض کی دونوں سائیڈوں پر الٹی ڈائریکشن میں رکھے اور کھڑے کھڑے اپنی قمیض اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دی۔۔۔۔نیچے اس نے کالے رنگ کی برا پہنی ہوئی تھی۔۔۔میں ایک دم چونک گیا۔۔۔اور بے یقینی کی کیفیت میں اسے دیکھنے لگا۔۔۔اس کا کسا ہوا جسم،بھاری بھاری ممے،کسا ہوا پیٹ جس پر ہلکی سی بھی اضافی چربی نہیں تھی۔۔۔میری آنکھوں کو خیرہ کر رہے تھے۔۔۔وہ آگے بڑھی اور میرے ننگے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔
صرف دیکھتے ہی رہو گے یا مجھے پیار بھی کرو گے۔۔۔میں نے اسے پکڑ کر گھمایا اور اپنی بانہوں میں جھکڑتے ہوئے بیڈ پر الٹا لٹا دیا۔۔۔پھر بڑی بے چینی سے اس کی ٹائٹ ٹراؤزر کو اتار کر ایک سائیڈ پر پھینک دیا۔۔۔

افففف۔۔۔اس کی بڑی سی گانڈ۔۔۔بھاری بھاری چوتڑ میری آنکھوں کے سامنے تھے۔۔۔ان چوتڑوں نے پچھلے بیس گھنٹوں سے میرا جینا حرام کر رکھا تھا۔۔۔ارم نے کالے رنگ کی ہی پینٹی پہنی ہوئی تھی۔۔۔میں نے اس کی پینٹی اتار پھینکی اور بھوکے عقابوں کی طرح اس کے چوتڑوں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔
میں نے اس کے چوتڑوں کو چاٹتے ہوئے اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا کاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ میں چوتڑوں کو مسلتا بھی جاتا تھا۔۔۔
اس کی گانڈ تھی ہی اتنی خوبصورت۔۔۔دودھیا غلابی چوتڑ کسی بھی مرد کو ہوش و حواس سے بیگانہ کر دینے کیلئے کافی تھے۔۔۔ارم کو میرا چوتڑوں کو چاٹنا اور کاٹنا بڑا اچھا لگ رہا تھا۔۔۔میں نے اس کے چوتڑ تھوڑا سا کھولے تو اس کی چھوٹی سی پھدی اور اس کے اوپر ہلکے براؤن رنگ کا گانڈ کا سوراخ بہت پیارا لگ رہا تھا۔۔۔میں نے بے اختیار اپنی زبان سے اس کی گانڈ کے سوراخ پر مساج کرنا شروع کر دیا۔۔۔
کبھی میں اس کی پھدی پر زبان پھیرتا تو کبھی اس کی گانڈ کا سوراخ چاٹتا۔۔۔اس کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں۔۔۔ارم اب آسمانوں پر اڑ رہی تھی۔۔۔کچھ دیر تو وہ ایسے ہی سسکتی رہی۔۔۔پھر اس کی سسکیاں چیخوں میں تبدیل ہو گئیں۔۔۔لیکن اس نے اپنا منہ اپنے ہاتھوں سے بند کرنے کی کوشش کی۔۔۔
یہ دیکھ کر میں نے اپنا منہ اس کی گانڈ سے باہر نکالتے ہوئے کہا۔۔۔ارم جانی بے فکر ہو کر انجوائے کرو۔۔۔یہاں کوئی نہیں آئے گا۔۔۔یہ کہہ کر میں نے دوبارہ اپنا منہ اس کی گانڈ کی دراڑ میں گھسا دیا۔۔۔ارم نے بھی اب اپنے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا تھا اور چیخیں مار رہی تھی۔۔۔اچانک وہ سیدھی ہوئی اور اس نے مجھے نیچے لٹایا اور اپنی ٹانگیں میرے دونوں اطراف کھول کر میرے منہ کے بلکل اوپر اپنی پھدی لا کر اپنے پاؤں کے بل بیٹھ گئی۔۔۔اس انداز میں اس کی پھدی بلکل میرے منہ کے اوپر تھی اور اس کی گانڈ کا سوراخ بھی کھل گیا تھا۔۔۔میں نے پھر سے اس کی پھدی کو چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ساتھ میں اس کی گانڈ کا سوراخ بھی چاٹ رہا تھا۔۔۔اس کے منہ سے لذت بھری چیخیں پھر سے جاری ہو گئی تھیں۔۔۔اسی طرح مجھ سے اپنی گانڈ کا سوراخ اور پھدی چٹوانے ہوئے اس نے اپنی گانڈ میرے منہ پر دبا کر گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔


جب اس کی سسکیاں عروج پر پہنچ گئیں اور وہ ذیادہ جان سے دبانے لگی تو میں سمجھ گیا کہ اب وہ قریب ہی ہے۔۔۔میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھتے ہوئے زور لگا کر اسے اٹھا کے سائیڈ پر کر دیا۔۔۔وہ ایک دھماکے سے بیڈ کے اوپر گری۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی میں نے اٹھ کر اس کی ہلتی ہوئی ٹانگوں کو پکڑ کر سائیڈوں پر کھولتے ہوئے اس کی پھدی کو اپنے منہ میں بھر کر پوری جان سے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔وہ میرا یہ وار برداشت نہیں کر پائی اور اس کی منہ سے ایک چیخ نکلی۔۔۔ساتھ ہی وہ بولی ہائے میری جان میں گئی۔۔۔۔۔اس کی پھدی نے ہار مان لی تھی۔۔۔وہ اتنی شدت سے چھوٹی تھی کہ منی ایک ہلکی سی دھار کی شکل میں نکلی اور میرے منہ کو گیلا کر گئی۔۔۔
چھوٹنے کے بعد وہ تیزی سے اٹھی اور دونوں ہاتھوں سے میرا منہ پکڑ کر اپنی زبان سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔اچھی طرح چاٹنے کے بعد اس نے میرے ہونٹوں کو چوسا پھر اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر اس نے میرا لن انڈروئیر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا۔۔۔اور میرے لن کو سہلانے لگی۔۔۔
میں نے اسے خود سے الگ کیا اور اپنے گھٹنوں پر کھڑے ہوتے ہوئے اپنا انڈروئیر اتار دیا۔۔۔اب وہ میرے سامنے اس انداز میں گھوڑی بنی ہوئی تھی کہ اس کا منہ میری طرف تھا اور میرا لن اس کے منہ کے عین سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔ارم نے میرے لن کو اپنے سامنے دیکھا تو دلچسپی سے اس کی لمبائی ماپنے لگی۔۔۔پھر اس نے میرے لن کو منہ میں بھر لیا اور کسی بھوکی اور چداسی رنڈی کی طرح میرا لن چوسنے لگی۔۔۔وہ بہت کمال کا لن چوس رہی تھی۔۔۔


چند منٹ کے جاندار چوپوں کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ اب اگر اس نے اور لن چوسا تو میں خود کو روک نہیں پاؤں گا۔۔۔میں نے اپنا لن ارم کے منہ سے باہر نکال لیا۔۔۔
اس نے اپنا منہ اوپر اٹھاتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا اور شہوت انگیز لہجے میں بولی۔۔۔اب اور کتنا تڑپاؤ گے۔۔۔مجھے چود بھی ڈالو۔۔۔پتہ ہے میں کل سے تیرے لن کیلئے ترس رہی ہوں۔۔۔
میں نے پوچھا۔۔۔ابھی کل ہی تو ریحان سے چدی ہو۔۔۔کیا اس کے ساتھ مزہ نہیں آیا۔۔۔تو وہ بولی تم سے پہلے ریحان کے ساتھ مزہ آتا تھا لیکن تب تک کہ جب تک میں نے تمہارا لن نہیں دیکھا تھا۔۔۔اس کا لن لمبائی میں تمہارے لن سے تھوڑا ہی چھوٹا ہے۔۔۔پر تمہارا لن موٹائی چوڑائی دونوں میں اس سے ذیادہ ہے۔۔۔اب دیر مت کرو۔۔۔جلدی سے اس ڈنڈے کو میری پھدی میں ڈال کر میری آگ بجھا دو۔۔۔
میں نے کہا میری جان آج میں تمہیں اور تمہاری پھدی کو خود سے کیسے دور رکھ سکتا ہوں۔۔۔میں بھی تڑپ رہا ہوں تیری پھدی میں اپنا لن ڈالنے کیلئے۔۔۔ارم نے بنا کچھ کہے میرے سامنے بیڈ پر لیٹ کر اپنی ٹانگیں کھول دیں۔۔۔مجھے ارم واقعی بہت پسند آئی تھی۔۔۔میں نے جھک کر ارم کی پھدی پر ایک چما دیا اور اپنا لن اس کی پھدی کے لبوں پر رکھ کر رگڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی۔۔۔جان ڈال بھی دو اسے اب۔۔۔آج میری پھدی کو اپنے لن سے مومو کی پھدی کی طرح کھول دو۔۔۔پھاڑ دو۔۔۔وہ گشتی ابھی تک سیدھی طرح چل نہیں پا رہی۔۔۔
میں نے اس کی بات سن کر ایک زور کا گھسہ مارا تو میرے آدھے سے بھی ذیادہ لن ارم کی پھدی کو چیرتا ہوا اندر گھس گیا۔۔۔ارم کے منہ سے ایک چیخ نکلی۔۔۔میں وہیں رک گیا۔۔۔میں حالات کو سمجھ گیا کہ ارم کی پھدی صرف باہر سے ہی چھوٹی سی ٹائٹ نظر نہیں آتی بلکہ وہ اندر سے بھی بھرپور ٹائٹ ہے۔۔۔مجھے اتنی زور کا جھٹکا نہیں مارنا چاہیے تھا۔۔۔مگر مجھے اپنے لن سے ارم کی ٹائٹ پھدی کھولنے کا مزہ بھی بہت آیا تھا۔۔۔ارم آنکھوں میں آنسو چِھلک رہے تھے۔۔۔
وہ میرا لن اپنی پھدی میں لیے کچھ سیکنڈز کیلئے درد سے بری طرح مچل اٹھی تھی۔۔۔مگر پھر پرسکون ہو گئی۔۔۔میں نے اسی وقت ایک آخری مگر زور دار گھسہ مارا تو میرا لن اس کی پھدی کو چیرتا ہوا جڑ تک اندر داخل ہو گیا۔۔۔ارم ایک دفعہ پھر چلاتے ہوئے اچھلی تھی۔۔۔
مگر میں اس کے اوپر پورا وزن ڈالتے ہوئے لیٹ گیا۔۔۔اور اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔ارم کی پھدی سے میرا یہ آخری گھسہ برداشت نہیں ہوا تھا۔۔۔اس لیے وہ بڑی اونچی آواز میں چیخی تھی۔۔۔
آہ۔۔۔آؤچ۔۔۔سمیر۔۔۔افففف۔۔۔مار ڈالا۔۔۔سمیر میں مر جاؤں گی۔۔۔اوہ سمیر۔۔۔میں نے اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے کچھ دیر اس کے درد میں کمی آنے دی اور بنا ہلے جھلے اپنا لن اس کی پھدی کے اندر ہی رکھا۔۔۔

ارم کی چیخوں سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ آج صحیح معنوں میں اس کی پھدی پھاڑ دی گئی ہے۔۔۔کچھ ہی دیر بعد اس کے درد میں کمی آنا شروع ہو گئی اور وہ نارمل ہو گئی۔۔۔میں نے اٹھ کر آرام آرام سے اپنا لن اس کی پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔
پھر جب ارم میرے لن کو اپنی پھدی کے اندر صحیح انداز میں انجوائے کرنے لگی تو میں نے بھی اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی۔۔۔اب وہ میرے لن کو اپنی پھدی میں لیے ہوئے مزے کی بلندیوں پر پہنچ گئی تھی۔۔۔میں اپنے لن سے پوری طرح اسے چود رہا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ارم ایک دفعہ پھر چھوٹ گئی لیکن میری منزل ابھی تک دور تھی۔۔۔پھر میں اس سٹائل میں تھک گیا تو میں نے اسے گھوڑی بننے کا کہا۔۔۔وہ فٹا فٹ اٹھ کر گھوڑی بن گئی۔۔۔میں نے پیچھے سے اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال کر آہستہ رفتار سے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔
ارم کو اس سٹائل میں دیکھ کر میں بہت جوش میں آ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو بغور دیکھنے لگا۔۔۔ہلکے براؤن رنگ کا وہ سوراخ بار بار کھل اور بند ہو رہا تھا۔۔۔میں نے اپنی ایک انگلی کو تھوک لگا کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر دبایا تو میری انگلی بڑی آسانی سے اس کی مکھن جیسی گانڈ میں اتر گئی۔۔۔اس کے منہ سے مزے کی شدت سے آئی۔ی۔ی۔ی کی آواز نکلی اور اس نے منہ موڑ کر میری طرف دیکھا تو میں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔
ارم کیا تم نے کبھی گانڈ مروائی ہے تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔تو تمہیں کیا لگتا ہے یہ دیگ جیسی گانڈ ایسے ہی بن گئی۔۔۔ریحان نے دوسری چدائی میں ہی میری گانڈ مار لی تھی۔۔۔اور خوب کھول کھول کر ماری تھی۔۔۔جس طرح آج تم میری گانڈ کے پیچھے پڑے ہو۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ آج تم بھی اس پر ہاتھ ضرور صاف کرو گے۔۔۔تو میں نے کہا ہاں ارم تمہاری گانڈ دیکھ دیکھ کر تو میں پاگل ہوا جا رہا ہوں۔۔۔اگر اجازت ہو تو میں تمہاری گانڈ مار لوں۔۔۔وہ دلربائی سے بولی۔۔۔ہائے میری جان۔۔۔اتنا پیار سے پوچھو گے تو میں بھرے بازار میں بھی تم سے اپنی گانڈ مروا لوں گی۔۔۔میری جان سب تمہارا ہے۔۔۔آج میری گانڈ بھی ایسے ہی مارو جیسے پھدی ماری ہے۔۔۔
ویسے میری گانڈ کا سوراخ کتنا کھلا ہے۔۔۔میں جو اجازت ملنے پر خوش ہو رہا تھا۔۔۔ایک دم حیران ہو کر بولا۔۔۔کافی کھلا ہے کیوں تم یہ بات کیوں پوچھ رہی ہو تو وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔۔۔وہ اس لیے میرے ساجن کہ تیری مومو کی گانڈ کا سوراخ مجھ سے بھی ذیادہ کھلا ہے۔۔۔یہ بات سن کر میں واقعی سن ہو گیا۔۔۔
کیا مطلب تمہیں کیسے پتہ تو وہ بولی پہلے اپنا مزہ پورا کر لیں پھر تمہیں مومو کی ساری رام کتھا سناتی ہوں۔۔

میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی میں سے باہر نکالا اور تھوک کا ایک گولا اس کی گانڈ کے سوراخ پر پھینک کر انگلی سی اچھی طرح اس کی گانڈ کے سوراخ میں اندر تک اتار دیا۔۔۔پھر میں نے اپنے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھی اور دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔۔۔
میرا لن آہستہ سے اور آرام کے ساتھ اس کی مکھن ملائی گانڈ میں اترتا چلا گیا۔۔۔ارم کو تکلیف ہورہی تھی۔۔۔اور وہ سی۔سی۔سی۔سی کرتے ہوئے درد برداشت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔پھر جب میں نے اپنا پورا لن ارم کی گانڈ میں گھسا دیا تو وہ کچھ دیر درد سے بلبلائی مگر پھر آہستہ آہستہ نارمل ہو گئی۔۔۔

اب میں نے اس کی گانڈ مارنی سٹارٹ کی۔۔۔کچھ دیر بعد جب اس کی گانڈ پوری طرح سے میرے لن کے ساتھ نرمی سے ایڈجسٹ ہو چکی تھی تو میں نے اس کی گانڈ کے پرخچے اڑانے شروع کر دیے۔۔۔میں نے دل بھر کے اس کی گانڈ کو چودا۔۔۔وہ بھی خوب مزے سے اپنی گانڈ ہلا ہلا کر مزہ لے رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر بعد میں چھوٹنے والا ہو گیا۔۔۔میرے منہ سے نکلتی سسکیاں سن کر وہ سمجھ گئی کہ میں منزل کے پاس ہوں۔۔۔تو وہ چلائی سمیر گانڈ میں نہیں نکالنا۔۔۔پھدی میں پانی نکالو میں بھی پاس ہی ہوں۔۔۔
اس کی بات سن کر میں نے اپنا لن اس کی گانڈ سے باہر نکالا اور پھدی میں ڈال کر چند زور دار گھسے مارے اور پانی چھوڑ دیا۔۔۔میری منی کو اپنی پھدی میں بہتا ہوا محسوس کر کے وہ بھی آہیں بھرتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔چھوٹنے کے بعد وہ آگے کی طرف گر گئی۔۔۔میں بھی اس کے اوپر ڈھے گیا۔۔۔چند منٹ یونہی پڑے رہنے کے بعد میں اٹھا اور نڈھال ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

 

کچھ دیر یونہی پڑے رہنے کے بعد وہ اٹھی اور میرے ہونٹوں کو چوم کر بولی۔۔۔میں واش روم سے فریش ہو کر آتی ہوں۔۔۔وہ واش روم میں چلی گئی تو میں نے انٹرکام پر نازنین کو مخاطب کر کے کہا کہ جانم چائے ہی بھیج دو۔۔۔اس نے کہا کہ ابھی بندوبست ہو جاتا ہے۔۔۔ناشتے کے بعد ابھی تک میں نے بھی چائے نہیں پی۔۔۔میں نے کچھ لمحے سوچا پھر کہا۔۔۔یار تم بھی یہاں ہی آ جاؤ ساتھ ملکر چائے پیتے ہیں۔۔۔اور کال کاٹ دی۔۔۔ارم واش روم سے باہر نکل آئی۔۔۔
ہم دونوں نے کپڑے پہنے اور انسانیت کے جامے میں آ گئے۔۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور صوبیہ ٹرالی دھکیلتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ٹرالی میں چائے کی کیتلی اور کپ موجود تھے۔۔۔ساتھ میں کچھ اسنیکس وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔۔۔ارم کی نظریں چپ چاپ صوبیہ کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔صوبیہ نے ٹرالی وہاں کھڑی کی اور چپ چاپ واپس باہر نکل گئی۔۔۔اس کے جاتے ہی میں نے ارم کو مخاطب کیا۔۔۔

ارم میری جان جیسے تم میری دوست ہو یہ بھی ایک دوست کا گھر ہے۔۔۔یہاں سب مجھے جانتے ہیں اور جو ہو رہا وہ بھی جانتے ہیں۔۔۔ساری تفصیلات پھر بتاؤں گا۔۔۔ابھی بے فکر رہو۔۔۔ارم نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔


چند سیکنڈز بعد نازنین کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔میں اپنی جگہ سے اٹھا اور آگے بڑھ کر نازنین کو گلے لگا لیا۔۔۔وہ میرے ہونٹوں کو چوم کر بولی۔۔۔کیسے ہو میری جان۔۔۔پھر اس نے ارم سے ہاتھ ملایا اور ہمارے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔۔۔نازنین نے چائے کپوں میں ڈال کر ہم دونوں کو دی اور خود بھی چائے کا کپ لیکر سامنے بیٹھ گئی۔۔۔پھر میں نے نازنین اور ارم دونوں کا آپس میں تعارف کروایا۔۔۔نازنین کے رنڈی ہونے کی بات میں چھپا گیا۔۔۔بس ارم کو اتنا بتایا کہ یہ میری بہت اچھی دوست ہے۔۔۔اور اس کا خاوند کینیڈا میں ہوتا ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔۔چائے پینے اور کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد نازنین یہ کہتے ہوئے اٹھ گئی۔۔۔سمیر جانے سے پہلے مجھے مل کر جانا۔۔۔ابھی تم لوگ باتیں کرو۔۔۔مجھے تھوڑ سا کام کرنا ہے وہ کر لوں۔۔۔
میں جانتا تھا کہ کام وام کوئی نہیں بس وہ ہمیں تنہائی فراہم کرنا چاہتی تھی۔۔۔نازنین کے جانے کے بعد ارم میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔سمیر سچ سچ بتانا کیا تم اس کی پھدی مار چکے تو میں نے چند لمحے سوچنے کے بعد کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔اور ایک گہری سانس لے کر بولا تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔
وہ بولی اتنی سیکسی لڑکی کو تم چھوڑ دو یہ ہو ہی نہیں سکتا اور جو حالات میں دیکھ رہی ہوں مجھے لگتا ہے کہ اس لڑکی پر تمہارا گہرا اثر ہے۔۔۔میں نے کہانی کو توڑتے موڑتے ہوئے اسے بتایا کہ یہ لڑکی کوٹھی خانہ چلا رہی ہے۔۔۔اور یہاں اس کے علاوہ اور بھی لڑکیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔پھر میں نے اسے تفصیل سے سمجھایا کہ کوٹھی خانہ کیا ہوتا ہے۔۔۔میری بات سن کر وہ آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی۔۔۔سمیر سچ میں اس معاملے میں تم واقعی بہت لکی ہو۔۔۔اتنی خوبصورت لڑکیاں تمہاری دسترس میں ہیں۔۔۔تم جب چاہو جیسے چاہے کسی بھی پھدی کا بینڈ بجا سکتے ہو۔۔۔

اوہ ڈئیر آئی ایم سو ایکسائیٹڈ یار۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا ان باتوں کو چھوڑو۔۔۔اب اصل مدعے پر آؤ۔۔۔تم مجھے کچھ بتانے والی تھی۔۔۔اس نے سب سے پہلے مجھ سے سوال کیا۔۔۔سمیر پہلے مجھے یہ بتاو کہ تم مومو کے ساتھ خود کو کس حد تک انوالو پاتے ہو۔۔۔میں نے فوراً جواب دیا۔۔۔ارم میں مومو سے پیار کرتا ہوں یار۔۔۔میں اس سے شادی بھی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

تو وہ اپنا سر پکڑ کر رہ گئی۔۔۔چند لمحے بعد اس نے بتانا شروع کیا۔۔۔سمیر دراصل مومو بہت بڑی گشتی ہے۔۔۔لیکن اکثر لڑکے اس کی معصومیت بھری اداؤں سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔۔۔تم سے پہلے کم از کم میرے سامنے وہ چھ لڑکوں سے چدوا چکی ہے۔۔۔میں نے کہا مجھے نہیں لگتا کہ یہ سچ ہے۔۔۔کیونکہ۔۔۔بات ابھی میرے منہ میں ہی تھی تو وہ بولی پڑی۔۔۔میں بتاتی ہوں کہ تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے۔۔۔تم یہ کہنا چاہتے ہو نا کہ اس کہ پھدی بہت ٹائٹ ہے تو میری جان وہ ہر کسی سے پھدی نہیں بلکہ اپنی گانڈ مرواتی ہے۔۔۔
میں حیرانگی سے آنکھیں پھاڑے اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔ہاں سمیر پھدی وہ صرف اپنے بھائی ریحان سے مرواتی ہے۔۔۔میں خود ان دونوں بہن بھائیوں کے ساتھ کئی بار گروپ سیکس کر چکی ہوں۔۔۔یعنی میں مومو اور ریحان ملکر چدائی کرتے ہیں۔۔۔

اسی لیے وہ اپنے بھائی کی موجودگی میں تم سے چدوا رہی تھی۔۔۔تم نے دیکھا ہو گا کہ کمرے میں جانے سے پہلے وہ باہر ہمارے پاس چند منٹ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔اس وقت وہ یہی بتانے آئی تھی ریحان کو کہ ریحان یہ لڑکا ہر لحاظ سے بیسٹ ہے۔۔۔میں آج اس سے چدوا کر اس کو اپنا اسیر کرتی ہوں۔۔۔پھر کوئی چکر چلا کر شادی کیلئے راضی کر لوں گی۔۔۔وہ بھی مجھے بہت پسند کرتا ہے۔۔۔
مومو کو دراصل ایک ایسا لڑکا چاہیے تھا جو کہ بلکل اس کے معیار پر پورا اترے۔۔۔اور اس کی معصومیت سے دھوکہ کھا کر وہ اس کے ساتھ شادی کر سکے۔۔۔


وہ تم میں یہ ساری خوبیاں دیکھ رہی ہے کہ تم اس پر مرتے بھی ہو۔۔۔اور سیکس کے لحاظ سے بھی پاور فل ہو۔۔۔
میں جو چپ چاپ اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا۔۔۔لیکن ایک بات بتاؤ۔۔۔ارم تم یہ سب کچھ مجھے کیوں بتا رہی ہو۔۔۔اس میں تمہارا کیا مفاد ہے۔۔۔تم بھی تو ان کے ساتھ شامل تھی نا۔۔۔

میرے خاموش ہوتے ہی ارم بولی۔۔۔وہ اس لیے سمیر کیونکہ میں ان دونوں بہن بھائیوں سے بدلہ لینا چاہتی ہوں۔۔۔دونوں نے ملکر مجھے برباد کر دیا ہے۔۔۔مجھے گشتی بنا ڈالا ہے۔۔۔مومو نے میری چدائی کی وڈیو بنا کر مجھے بلیک میل کر کے اپنے باقی یاروں سے بھی چدوایا ہے۔۔۔
مومو کے یار جو کہ گانڈ کے عادی ہو چکے ہیں انہوں نے میری گانڈ مار مار کر مجھے بہت اذیتیں دی ہیں۔۔۔وہ ہمیشہ مومو کے کہنے پر میری گانڈ ہی مارتے ہیں۔۔۔جبکہ میری پھدی بھی صرف ریحان مارتا ہے۔۔۔
پھر جب انہوں نے دیکھا کہ میں اب خود شوق سے چدواتی ہوں۔۔۔تو انہوں نے میرے سامنے میری وڈیوز ڈیلیٹ کر دی تھیں۔۔۔نا بھی کی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا میرے پاس بھی ان کی وڈیوز موجود ہیں جن کی بنا پر میں بھی ان کا منہ بند کر سکتی ہوں۔۔۔اب میرا بدلہ اسی صورت میں پورا ہو گا کہ تمہیں لے کر جو پلان وہ بنا رہے ہیں میں اس کو پورا نہ ہونے دوں۔۔۔
اب ساری سچائی تمہارے سامنے ہے اور میں پورے ثبوت کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔اس وقت میرے موبائل میں مومو کی دو چدائیوں کی وڈیوز موجود ہیں جو کہ میں نے چھپ کر مومو وغیرہ کی لا علمی میں بنائی ہیں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے موبائل پر ایک وڈیو چلا کر میرے سامنے کر دی۔۔۔اس وڈیو میں مومو ایک لڑکے سے گانڈ مروا رہی تھی۔۔۔

دوسری وڈیو میں ریحان نے مومو کی پھدی میں لن ڈالا ہوا تھا اور مومو آہ۔۔آہ۔۔۔کرتے ہوئے پورے جوش سے چدوا رہی تھی۔۔۔یہ وڈیو پانچ منٹ کی تھی۔۔۔اسی وڈیو میں چدائی کے آخر میں ریحان نے اپنا سارا منی مومو کے منہ میں نکالا اور مومو کسی کتیا کی طرح اس کا سارا منی چاٹ گئی۔۔۔واقعی یہ ناقابلِ تردید ثبوت تھے۔۔۔
میں اپنا سر پکڑ کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔کچھ دیر بعد دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے ارم وہاں سے چلی گئی۔۔۔میرے کہنے پر نازنین کا ڈرائیور اسے کمرشل مارکیٹ میں اتارنے چلا گیا۔۔۔وہاں سے وہ خود ہی آگے گھر چلی جاتی۔۔۔

میں وہیں آنکھیں بند کیے ہوئے لیٹا ہوا تھا۔۔۔میرے دماغ میں دھماکے ہو رہے تھے۔۔۔کان سائیں سائیں کر رہے تھے۔۔۔مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب نازنین اندر داخل ہوئی۔۔۔اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے سر پر محسوس کر کے میں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھ کر پھر بند کر لیں۔۔۔میری حالت دیکھ کر وہ بہت پریشان ہوئی۔۔۔
پھر اس کے بے حد اصرار پر میں نے سارے حالات و واقعات اس کے گوشِ گزار کر دیے۔۔۔وہ بڑے پیار سے میرے سر میں انگلیاں پھیرتی رہی اور ساری بات سننے کے بعد اس نے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔۔۔کوئی بات نہیں سمیر دنیا رنگ برنگی ہے یار۔۔۔


ہم کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اندر سے کیسا ہے یا کیسی ہے۔۔۔اب تم اس بات کو دماغ پر سوار مت کرو میری جان۔۔۔آرام کر لو۔۔۔آؤ آج میں تمہیں اپنی بانہوں میں سلاتی ہوں۔۔۔یہ کہہ کر اس نے مجھے اپنی بانہوں میں لیا اور لیٹ گئی۔۔۔میں سوچنے لگا کہ ایک وہ لڑکی جسے میں نے پیار کیا۔۔۔اور ایک یہ رنڈی نازنین۔۔۔

دونوں کے ظاہر اور باطن میں کتنا فرق ہے۔۔۔مومو اپنی شیطانی چالوں کے ذریعے مجھے اپنا اسیر بنانا چاہتی ہے اور یہ رنڈی خلوص کا پیکر ہے۔۔۔اسی طرح کی متضاد سوچوں میں کافی وقت گزر گیا۔۔۔پھر میں اٹھا اور نازنین سے اجازت چاہی۔۔۔نازنین ناراضگی سے بولی ہرگز نہیں۔۔۔آج رات تک تم میرے ساتھ ہی رہو گے۔۔۔
بڑی مشکل سے اسے جھوٹی کہانیاں سنا کر پھر کبھی آنے کا وعدہ کر کے منایا۔۔۔پھر جا کر وہ مانی۔۔۔اس کے بعد میرے منع کرنے کے باوجود وہ مجھے اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ آفتاب کے گھر کے پاس والے سٹاپ پر چھوڑ گئی۔۔۔میں وہاں سے پیدل چلتا ہوا آفتاب کے گھر میں داخل ہوا۔۔۔دوپہر کا ایک بج رہا تھا تو کھانے کا ٹائم تھا۔۔۔

سب لوگ کھانا کھا رہے تھے۔۔۔میں بھی کھانے میں شریک ہو گیا۔۔۔کھانا کھانے کے بعد آفتاب کے ماما پاپا سے کافی دیر باتیں ہوتی رہیں۔۔۔
انہوں نے مجھ سے صبح کی غیر حاضری کے متعلق پوچھا تو میں نے ایک دوست سے ملاقات کا بہانہ بنا دیا۔۔۔


میرے دونوں بیٹے وہیں موجود تھے۔۔۔بڑا بیٹا کھلونوں سے کھیلنے میں مگن تھا جبکہ چھوٹا بیٹا کلکاریاں مار کر اپنے موجود ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔۔۔میں نے آگے ہو کر بچوں کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔۔۔آفتاب کی ماما مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔سمیر یہ شہہ زور تو بلکل تم پر گیا ہے۔۔۔بہت شرارتی ہے یہ۔۔۔جیسے تم بچپن میں شرارتیں کرتے تھے ویسے ہی یہ شرارتی ہے۔۔۔
میرے جی میں آئی کہ کہہ دوں کہ بیٹا باپ پر نہیں جائے گا تو ہمسائے پر جائے گا کیا۔۔۔لیکن منہ سے کچھ نہ بولا اور مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے سے کھیلتا رہا۔۔۔سدرہ بھی آتے جاتے کوئی نہ کوئی فقرہ کس دیتی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر تک دونوں بچے سو گئے تو سدرہ نے باقی لوگوں سے آنکھ بچا کر مجھے اشارہ کیا تو میں اس کے اشارے کو سمجھ اکر ٹھ کھڑا ہوا۔۔۔آفتاب کے پاپا نے پوچھا کہ اب کیا ہوا۔۔۔تو میں نے بتایا کہ وہ یو بی ایل بینک ملتان میں کچھ آسامیاں آئی ہوئی ہیں۔۔۔تو میں چاہتا ہوں کہ وہاں اپلائی کر دوں۔۔۔اسے سلسلے میں ایک دوست سے ملاقات طے ہے۔۔۔اسی سے ملنے جا رہا ہوں۔۔۔
انہوں نے مجھے رات کو جلدی آنے اور کھانا گھر آ کر کھانے کی تاکید کی۔۔۔میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکلا اور باقی لوگوں کو سنانے کیلئے تھوڑا بلند آواز سے بولا۔۔۔بھابھی یہ گیٹ لاک کر لیں میں جا رہا ہوں۔۔۔سدرہ ابھی آئی کہہ کر میرے پیچھے آئی۔۔۔میں نظریں بچا کر دبے پاؤں سیڑھیاں چڑھ کر تھوڑا اوپر کھڑا ہو گیا۔۔۔
سدرہ نے مجھے دیکھا تو زور سے گیٹ کو بند کیا اور لاک لگا کر مجھے اوپر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے واپس چلی گئی۔۔۔میں دبے پاؤں چلتا ہوا۔۔۔سیڑھیاں طے کر کے سب سے اوپر کھلی چھت پر پہنچ گیا۔۔

وہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے سگریٹ سلگایا اور سوچوں کے گھوڑے دوڑانے شروع کر دیے۔۔۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد سدرہ اوپر آئی تب تک میں دو تین سگریٹ پھونک چکا تھا۔۔۔سدرہ نے دروازے کی اوٹ میں کھڑے ہو کر آہستہ سے مجھے آواز دی۔۔۔میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔۔۔میں اٹھا اور اس کی تلقید میں چلتا ہوا سدرہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔

کمرے میں جاتے ہی سدرہ میرے گلے لگ گئی اور میرے ہونٹ چوم کر بولی۔۔۔کہاں رہے سارا دن۔۔۔کتنے کٹھور ہو گئے ہو۔۔۔یا کوئی اور ڈھونڈ لی ہے جو اب اپنی جان کی یاد نہیں آتی۔۔۔میں نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر سدرہ کو پیچھے ہٹایا۔۔۔پاس پڑے صوفے پر بیٹھ کر چند لمحے سوچتا رہا۔۔۔پھر میں نے فیصلہ کیا کہ سدرہ کو سب کچھ بتا دینا چاہیے۔۔۔میں نے ملتان سے آنے کی وجہ سے اب تک کا سارا کٹھہ چٹھہ سدرہ کے سامنے رکھ دیا۔۔۔صرف نازنین اور ارم کی چدائی کا قصہ گول کر گیا۔۔۔اس کی جگہ میں نے صرف یہ بتایا کہ ارم سے ایک آئسکریم پارلر میں ملاقات ہوئی۔۔۔اور وہیں پر ان ساری حقیقتوں سے آشنا ہوا۔۔۔
سددہ نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے میرا سر پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا اور بولی میری جان میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ اس کی شہرت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔چلو اچھا ہوا کہ اس کی حقیقت بہت جلد ہی سامنے آ گئی۔۔۔ویسے بھی اب تم اس کی پھدی مار ہی چکے ہو تو اب کس بات کی ٹینشن۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے اس کے ممے تھام کر کہا کہ ٹینشن تو اب ختم ہو گئی میری جان۔۔۔
بس ان حالات سے تمہیں واقف کرنا تھا کیونکہ دنیا میں ایک تم ہی تو میری گہری رازدار دوست ہو۔۔۔سدرہ نے خوش ہو کر میرے ہونٹوں کو چوم کر کہا۔۔۔اس بات پر اتنی خوشی ہوئی کہ ابھی میں اپنی جان کو اپنی پھدی کا تحفہ دیتی۔۔۔پر افسوس مجھے آج صبح ہی پریڈز ہو گئے ہیں۔۔۔اب تو ایسے ہی گزارا کرنا پڑے گا۔۔۔پھر اچانک اس کی آنکھیں جیسے کسی خیال سے چمک اٹھیں۔۔۔اور وہ بڑے جوش سے بولی۔۔۔سمیر تمہیں ایک بات بتانی تو میں بھول ہی گئی۔۔۔فاروق کی شادی پر میری ایک کزن نے تمہیں دیکھا تھا گوجرانولہ کی رہنے والی ہے۔۔۔

تم پہلی ہی نظر میں اس کو بھا گئے۔۔۔ابھی چند دن پہلے ہی وہ مجھ سے کرید کرید کر تمہارے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔مجھے شک ہوا تو میں نے بھی اسے تھوڑا کریدا تو وہ میرے سامنے کھل گئی اور اپنے دل کی بات بتائی۔۔۔تم اسے بہت پسند آئے ہو۔۔۔
وہ دل ہی دل میں تمہاری پوجا کر رہی ہے۔۔۔تم کہو تو اس سے تمہاری شادی کی بات چلائیں۔۔۔میں بڑی حیرانگی سے بولا۔۔۔سٹاپ مار بہن چود اتنا آگے نکل گئی ہو۔۔۔پہلے لڑکی دکھاؤ۔۔۔بات کرواؤ۔۔۔پتہ تو چلے کون ہے کیسی ہے۔۔۔پھر ابھی میرا صرف بی کام پورا ہوا ہے۔۔۔پہلے جاب ڈھونڈوں گا۔۔۔سیٹل ہو جاؤں گا۔۔۔پھر شادی کی بات آئے گی۔۔۔تم تو دو منٹ میں شادی تک پہنچ گئی ہو۔۔

میری بات سن کر وہ مصنوعی غصے سے بولی چوتیے کیا میری پسند پر اعتماد نہیں ہے تمہیں۔۔۔ویسے بھی میں تمہاری کمزوری جان گئی ہوں۔۔۔تمہیں چٹی دودھ اور بڑے مموں والی لڑکیاں پسند ہیں۔۔۔اور یقین مانو کہ وہ تمہاری پسند کے عین مطابق ہے۔۔۔اس کے ممے مجھ سے بڑے نہیں تو کسی طور بھی چھوٹے نہیں۔۔۔ابھی تک کنواری ہے اور اس کا کوئی معاشقہ بھی نہیں۔۔۔بلکل گھریلو لڑکی ہے۔۔۔پرائیویٹ بی اے کیا ہوا ہے۔۔۔رکو میں ابھی تمہیں اس کی تصویر دکھاتی ہوں۔۔۔
اس نے اٹھ کر اپنی الماری کھولی اور ایک البم لا کر میرے سامنے رکھ دیا۔۔۔یہ فاروق کی شادی کا البم ہے۔۔۔کل ہی یہ اٹھا کر میں اپنے پاس لے آئی تھی تاکہ تمہیں وہ لڑکی دکھاؤں گی۔۔۔اس کا نام سندس ہے۔۔۔

باتیں کرنے کے دوران وہ البم کے صفحات پلٹتی جا رہی تھی۔۔۔پھر اس نے ایک صفحہ پلٹا تو ایک نہایت خوبصورت لڑکی کی تصویر سامنے آ گئی۔۔۔
سدرہ بولی یہ ہے وہ لڑکی۔۔۔اس کے بعد جیسے میرے کان بند ہو گئے سدرہ پتہ نہیں کیا کیا بول رہی تھی جبکہ میں اس لڑکی کی تصویر میں کھویا ہوا تھا۔۔۔وہ تصویر میں دلہن کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔ہلکے سے سائیڈ پوز کیوجہ سے اس کا سارا بدن نظر آ رہا تھا۔۔۔
سندس ایک بہت خوبصورت اور سیکسی فگر والی لڑکی تھی۔۔۔اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں۔۔۔بھرے بھرے گال۔۔۔ستواں ناک۔۔۔لمبے گھنے سیاہ بال۔۔۔قمیض کے اندر سے کسے ہوئے بڑے بڑے ممے۔۔۔
دیکھنے میں بلکل سیکس بم لگ رہی تھی۔۔۔اوپر سے اس کی ڈریسنگ اتنی خوبصورت اور کمال کی تھی۔۔۔کہ تصویر دیکھتے ہی میرا لن کھڑا ہو گیا۔۔۔
تبھی سدرہ نے سیدھا ہاتھ میرے لن پر مارا۔۔۔اور بولی بہن چود کب سے میں بولی جا رہی ہوں۔۔۔سن بھی رہا ہے کہ نہیں۔۔۔تو میں نے سدرہ کے ہونٹوں کا ایک لمبا سا چما لیتے ہوئے کہا۔۔۔میری جان تم نے جو لڑکی دکھائی ہے اس کے سامنے دنیا کی کوئی بھی لڑکی ہیچ ہے۔۔۔

میری بات سن کر سدرہ نے مصنوعی غصے سے البم بند کیا اور بولی دفع دور کتے آدمی۔۔۔مادر چود میرے منہ پر ہی کسی اور کی تعریفیں کر رہے ہو۔۔۔تو میں نے اس کے ہونٹوں کو ایک بار پھر چومتے ہوئے کہا۔۔۔
ناں میری جان۔۔۔تیری قدر تو میری نظروں میں اور بڑھ گئی ہے۔۔۔خیر اب اکیلی اکیلی بات لکھنے بیٹھا تو بہت سے صفحات کالے کرنے پڑیں گے۔۔۔میں نے اس لڑکی سے شادی کی حامی بھر لی اور سدرہ کو کہا کہ میری جان یہ سب ہو گا کیسے تو سدرہ بولی بس دیکھتے جاؤ۔۔۔میں سب سنبھال لوں گی۔۔۔پھر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔۔۔رات کا کھانا میں نے سب کے ساتھ ہی کھایا۔۔۔
کھانے کے بعد میں سب کے سامنے اوپر آفتاب کے کمرے میں سونے چلا گیا۔۔۔پھر رات کو بارہ بجے سب کے سونے کے بعد سدرہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔
چونکہ سدرہ کو پریڈز ہوئے تھے لہٰذا یہ رات ہم نے نہایت شرافت سے باتوں میں گزار دی۔۔۔کافی دیر ہم باتیں کرتے رہے پھر سدرہ میری بانہوں میں لپٹ کر سو گئی۔۔۔صبح نو بجے اٹھ کر میں نیچے آفتاب کے کمرے میں چلا آیا۔۔۔
نہا دھو کر واپسی کی تیاری کی اور ناشتہ کرنے کے بعد سب کو مل کر گیارہ بجے فیض آباد اڈے میں پہنچا اور واپس ملتان کیلئے چل پڑا۔۔۔


ملتان میں یو بی ایل بینک میں واقعی آسامیاں آئی ہوئی تھیں۔۔۔اس لیے ملتان سے نکلتے وقت گھر میں یہی بہانہ بنا کر نکلا تھا کہ میں اسی سلسلہ میں ایک دوست کو ملنے جا رہا ہوں۔۔۔امی نے مجھ سے اس متعلق پوچھا تو میں نے انہیں کوئی کہانی سنا کر رام کر لیا۔۔۔

اب دوبارہ سے میں اپنی زندگی کے مشاغل میں کھو گیا۔۔۔کیونکہ میرے بی کام کے پیپرز ہو چکے تھے اور میں رزلٹ کے انتظار میں تھا۔۔۔اس لیے آج کل راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔۔۔
ایک دن میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایسے باتوں ہی باتوں میں تذکرہ چل پڑا تو میں نے کہا کہ یار اب کوئی نوکری ڈھونڈتا ہوں۔۔۔آخر کب تک فارغ رہوں گا۔۔۔
تو میرا دوست فہد بولا جانی کونسی نوکری کرنا چاہتا ہے تو بول میں چاچا کو کہہ کر تجھے ایڈجسٹ کروا دوں گا۔۔۔میرے دوست فہد کے چاچا پی ٹی سی ایل میں کسی بڑے عہدے پر فائز تھے۔۔۔
ویسے بھی ان کی سیاسی لوگوں کے ساتھ کافی جان پہچان تھی۔۔۔میں نے فہد کو کہا یار مجھے تو نوکری کرنی ہے کسی بھی محمکہ میں ہو جائے۔۔۔بس گورنمنٹ جاب ہونی چاہیے۔۔۔
فہد نے اپنا چچا سے بات کرنے کا وعدہ کیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔۔۔مجھے پنڈی سے واپس آئے ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔۔۔سدرہ اور مومو سے روٹین میں بات ہو رہی تھی۔۔۔
مومو سے ابھی تک اس لیے بات ہو رہی تھی کیونکہ میں کچھ ایسے انداز میں اس مسئلے کو ڈیل کرنا چاہتا تھا کہ مومو سے بھی جان چھوٹ جائے اور ارم بھی درمیان میں مت آئے۔۔۔ان دنوں میں جاب کیلئے بھی تھوڑا سا پریشان رہنے لگا تھا۔۔۔تبھی ایک دن کی بات ہے میں اپنے دوستوں کے ساتھ مٹر گشت پر نکلا ہوا تھا۔۔۔
شام کے وقت واپس گھر آیا تو ابو صحن میں ہی بیٹھے تھے۔۔۔سلام دعا کر کے میں اپنے کمرے میں جانے لگا تو ابو نے آواز دی۔۔۔سمیر بیٹا بات سنو۔۔۔
میں جی ابو کہہ کر ان کے ساتھ جا بیٹھا۔۔۔ابو نے میرا حال چال پوچھا۔۔۔دن بھر کی مصروفیات جاننے کے بعد ابو بولے۔۔۔بیٹا اب آگے کے بارے میں کیا سوچا ہے۔زندگی میں کیا کرو گے۔۔۔میں نے ابو کو بتایا کہ کس طرح میں اپنی جاب کیلئے لوگوں سے مل رہا ہوں۔۔۔
میری بات خاموشی سے سننے کے بعد ابو بولے۔۔۔سمیر تم باہر لوگوں سے جو مل کر اپنی نوکری کیلئے درخواستیں کرتے پھر رہے ہو۔۔۔میرے ساتھ ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔۔۔یار باپ ہوں تمہارا کم از کم ایک دفعہ بات تو کرتے۔۔۔میں تمہارے لیے اپنا سارا کچھ داؤ پر لگا دیتا۔۔۔میں شرمندہ شرمندہ سے نظریں جھکائے ان کے سامنے بیٹھا رہا۔۔۔ابو نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا سمیر بیٹا باپ کی شان ہوتا ہے یار۔۔۔
اب یوں منہ لٹکا کے مت بیٹھو۔۔۔میری بات غور سے سنو۔۔۔اب چونکہ میں بھی بوڑھا ہوچکا ہوں۔۔۔ذیادہ بھاگ دوڑ نہیں کر سکتا۔۔۔اس لیے بہت ذیادہ سوچ بچار کرنے اور دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ کیوں نہ کوئی کاروبار کیا جائے۔۔۔

گھر بار کی تو ذیادہ فکر نہیں ہے۔۔۔زمینوں سے ہی اتنا آ جاتا ہے کہ گھر کا دال دلیہ احسن طریقے سے چلتا رہے گا۔۔۔میرے پاس کچھ پیسے پڑے ہیں۔۔۔باقی کچھ زمین بیچتے ہیں اور ایک ریسٹورنٹ بناتے ہیں۔۔۔جو کہ اعلیٰ کوالٹی اور عمدہ کھانوں کا مرکز ہو۔۔۔ویسے بھی اپنے آس پاس ایسا کوئی کوالٹی کا ریسٹورینٹ نہیں ہے تو نا چلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔کیا بولتے ہو۔۔۔
اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔میں نے کچھ سوچنے کے بعد کہا ابو جان اگر آپ نے یہ فیصلہ لیا ہے تو میں ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔پوری محنت اور لگن سے ہم اس ریسٹورنٹ کو کامیاب بنائیں گے۔۔۔
لیکن صرف ایک چیز سے مجھے اختلاف ہے۔۔۔ابو نے دلچسپی سے پوچھا۔کس چیز سے اختلاف ہے سمیر کھل کر بتاؤ تمہارے ذہن میں کیا بات آئی ہے۔۔۔
میں نا اپنا گلا صاف کرتے ہوئے کہا ابو جان اس طرح کا کوئی بھی کاروبار کسٹمرز کی تعداد دلچسپی اور کھانے کی کوالٹی سے کامیاب ہو گا۔۔۔
اگر ہم نئی جگہ پر ریسٹورنٹ کھولتے ہیں۔۔بے شک ہمارے کھانوں کا معیار اور کوالٹی بیسٹ ہو پھر بھی کسٹمرز بناتے بناتے کافی وقت لگا جائے گا۔۔۔

تو کیوں نا ہم کسی ایسی جگہ پر ریسٹورنٹ کھولیں جہاں پہلے سے ہی کسٹمرز موجود ہوں۔۔۔

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس جگہ پر ریسٹورنٹ کی بنیاد رکھنی چاہیے جہاں آس پاس پہلے بھی ریسٹورنٹ ہوں کسٹمرز پہلے ہی وہاں موجود ہوں گے۔۔۔
ایک نیا ریسٹورنٹ دیکھ کر کسٹمر حضرات لازم متوجہ ہوں گے۔۔۔اور ہمارے کھانے کی کوالٹی اور معیار کو دیکھتے ہوئے جو ایک دفعہ آئے گا وہ پھر بار بار آئے گا۔۔۔اور ہمارا ریسٹورنٹ دیکھتے ہی دیکھتے پاپولر ہو جائے گا۔۔۔


ابو خاموشی سے میری بات سن رہے تھے۔۔۔جب میری بات ختم ہوئی تو فرطِ جذبات سے کانپتے ہوئے کھینچ کر ابو نے مجھے سینے سے لگا لیا اور بولے کاروبار بعد کی بات ہے۔۔۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرا بیٹا اب بڑا ہو گیا ہے اور اسے دنیا میں اپنی جگہ بنانے کا ڈھنگ آ گیا ہے۔۔۔کچھ دیر یوں ہی لپٹائے رکھنے کے ںعد ابو نے میرا ماتھا چوما اور بولے۔۔۔بس ٹھیک ہے سمیر لوکیشن تم ڈھونڈو اور مجھے بتاؤ۔۔۔پھر کام کو آگے بڑھاتے ہیں۔۔۔
تو میں نے کہا ابو جان لوکیشن میرے ذہن میں ہے تبھی تو یہ بات کی ہے۔۔۔ابو دراصل کل ہی ہم لوگ ژالہ بار ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئے تھے تو پتہ چلا کہ اس کا مالک اس کو بیچنا چاہ رہا ہے۔۔۔اس کا ایک ہی بیٹا تھا اور پچھلے دنوں وہ قتل کے مقدمے میں جیل چلا گیا۔۔۔
اب مقدمہ لڑنے کیلئے اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔تو وہ اپنا ریسٹورنٹ بیچ رہا ہے۔۔۔مارکیٹ میں آس پاس سب کو پتہ ہے کہ وہ کس مصیبت میں ہے تو لوگ اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ریسٹورنٹ کی بہت کم قیمت لگا رہے ہیں۔۔۔اگر ہم اس سے علیحدگی میں ملیں اور مناسب پیسوں پر بات چلائیں تو بات ہو سکتی ہے۔۔۔وہ بہت اچھا پوائنٹ ہے۔۔۔ریسٹورنٹ کی ایک سائیڈ پر گورنمنٹ کالج ہے۔۔۔دوسری سائیڈ ہے ایک لائن میں دو بینک ہیں۔۔۔


پاس ہی آدھے کلومیٹر کی مسافت پر فیکٹری ایریا ہے۔۔۔بس ہمیں اس ریسٹورنٹ کو فوری حاصل کرنا ہے باقی کام بعد میں بھی ہو جائیں گے۔۔۔
میری بات سن کر ابو نے کہا کہ اوکے پھر ڈن ہو گیا سمیر تو ہم کل صبح ہی اسے مل لیتے ہیں۔۔۔میں اثبات میں سر ہلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔پھر اپنے کمرے میں جا کر تھوڑی دیر موبائل پر باری باری سدرہ اور مومو سے بات ہوئی پھر میں سو گیا۔۔۔
اگلے دن ابو نے اپنے ایک دوست ریاض صاحب جو کہ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں انہیں ساتھ لیا اور ہم لوگ ژالہ بار ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔۔۔ہم نے وہاں ناشتہ کیا۔۔۔کھانے کا ذائقہ بہت اچھا تھا۔۔۔ابو جان کو بھی بہت پسند آیا۔۔۔ہم لوگ اندر آفس میں جا کر اس کے مالک سے ملے۔۔۔وہ بے چارہ بیٹے پر پڑی افتاد کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔۔۔
ہم لوگوں نے اس سے ساری بات کی اور کوئی ڈیڑھ گھنٹے کی مغز ماری کے بعد ایک مناسب اماؤنٹ پر ہماری ڈیل ڈن ہو گئی۔۔۔ابو نے اسی ٹائم مجھے بینک بھیجا اور پیسے منگوا کر بیعانہ کے طور پر تیس فیصد رقم ادا کر دی۔۔۔
جس کی باقاعدہ رایاض صاحب کی موجودگی اور مالک کے ساتھ ساتھ اس کے دو عدد قریبی دوستوں کی موجودگی میں لکھت پڑھت ہوئی۔۔۔
ایک معاہدہ طے پایا کہ بیس دن کے اندر ہمیں باقی کی ستر فیصد رقم ادا کرنی ہے۔۔۔ٹوٹل رقم ادا کرنے کے بعد ریسٹورنٹ کے جملہ حقوق ہمارے نام ہو جاتے۔۔۔
ہم لوگ وہاں سے نکلے اور ریاض صاحب کو ان کے آفس چھوڑ کر ان کا شکریہ ادا کرنے کے بعد گھر پہنچ گئے۔۔۔گھر پہنچ کر میں نے ابو سے پوچھا۔۔۔ابو جان اب باقی رقم کا کیسے بندوبست کریں گے تو ابو نے کہا بیٹا وہ تم مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔کچھ پیسے میرے پاس موجود ہیں۔۔۔
زمین کا گاہک بھی موجود ہے جو کہ نقد کیش لے کر میرے پیچھے گھوم رہا ہے۔۔۔میں آج ہی اس سے ملتا ہوں اور دو دن میں نقد رقم مل جائے گی۔۔۔
اگلے چند دن میں سارے معاملات طے پا گئے اور ہم نے ساری رقم ادا کر کے ریسٹورنٹ اپنے نام کروا لیا۔۔۔بیس دن کیلئے ریسٹورنٹ بند کر کے نئے سرے سے اس کی تیاری کی۔۔۔ابو اور دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے ریسٹورنٹ کا نام ،،ٹیسٹی کیفے ٹیریا،، تجویز کیا۔۔۔سارے اسٹاف کے ساتھ میٹنگ کی اور انہیں کسٹمرز کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آنے۔۔۔صفائی کا معیار صاف ستھرا رکھنے اور معیاری اشیاء کا استعمال کرنے کی ہدایات دیں۔۔۔سٹاف کیلئے وردی کا بھی انتخاب کیا گیا۔۔۔
میں نے سارا اسٹاف وہی پرانا ہی رکھا تھا۔۔۔صرف اپنے خانساماں اور اس کے معاون کو دس دن کی ٹریننگ کیلئے لاہور ایک انسٹیٹیوٹ میں بھیجا۔۔۔ریسٹورنٹ کی تیاری کے بعد اس کی بہترین سجاوٹ کی اور اکیسویں دن ریسٹورنٹ کھول دیا گیا۔۔۔
یہاں بتاتا چلوں کہ ان بیس دنوں میں لوکل اخبار سے لیکر قریبی ایریا کے تمام گھروں،فیکٹریوں اور مارکیٹوں میں اپنے ریسٹورنٹ کے تشہیری پمفلٹ تقسیم کیے جا چکے تھے۔۔۔اوپننگ کے پہلے ہی دن بہت اچھا رسپانس ملا۔۔۔سارا دن بہت مصروف گزرا۔۔۔
میں خود ہر ٹیبل پر جا کر کسٹمرز سے دو منٹ کی ملاقات کرتا اور انہیں اس ریسٹورنٹ کی خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی رائے پیش کرنے کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ دوبارہ آنے کی دعوت بھی دے دیتا۔۔۔

کسٹمرز کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے۔۔۔صرف یہ کہ کھانا معیاری اور لذت سے بھرپور ہو۔۔۔اسٹاف نہایت عزت کے ساتھ پیش آئے۔۔۔یہ خوبیاں تو میرے ریسٹورنٹ کی بنیاد تھیں۔۔۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے میرا ریسٹورنٹ چل پڑا۔۔۔اب میں سارا دن وہیں پر ڈیوٹی دیتا۔۔۔ابو جان بھی آتے جاتے رہتے۔۔۔میرے دوست لوگ بھی کھانا وہیں پر کھاتے تھے۔۔۔تین مینے تک میں بہت مصروف رہا۔۔۔صرف گھر سے ریسٹورنٹ اور ریسٹورنٹ سے گھر تک محدود رہا۔۔۔
میری اتنی محنت اور جانفشانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ریسٹورنٹ اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا اور خودکار طریقے سے کام چل پڑا۔۔۔ابو بھی اب زیادہ وقت یہیں گزارتے تھے۔۔۔صبح چھ بجے سے رات دس بجے تک ریسٹورنٹ کی ٹائمنگ تھی۔۔۔تین مہینے بعد میں نے اسٹاف پر چیک اینڈ بیلنس کیلئے ایک اور دوست ہارون کو ہائر کر لیا اس نے میرے ساتھ ہی بی کام کیا تھا اور میری طرح ہی فارغ البال گھوم رہا تھا۔۔۔
ہارون کے آنے کے بعد میری مصروفیت میں تھوڑی کمی واقع ہوئی۔۔۔اب ریسٹورنٹ پوری آب و تاب سے رواں تھا۔۔۔مومو سے کافی دن سے بات نہیں ہوئی تھی کیونکہ میں بہت مصروف تھا اور سچ پوچھو تو میں جلد از جلد اس سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن کوئی ترکیب سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔۔۔میری روزانہ کی بنیاد پر سدرہ سے بات ہو رہی تھی۔۔۔ایک دن سدرہ نے مجھے کال کی اور کہا سمیر ایک بڑی اہم خبر ملی ہے۔۔۔میں نے پوچھا ہاں بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔

اس نے کہا کہ مومو کے تعلقات اس کے ہمسائے کے ساتھ بھی تھے۔۔۔نادانی میں اس کو پتہ نہیں چلا کہ کب حمل ٹھہر گیا۔۔۔اس کے پریڈز مس ہوئے مگر اس نے ذیادہ خیال نہیں کیا۔۔۔جب دوسرے مہینے بھی یہی ہوا تو اس کو ٹینشن ہوئی۔۔۔وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر سے ملی اور اپنا چیک اپ کروایا تو پتہ چلا کہ وہ پریگنینٹ ہے۔۔۔
مومو نے ڈاکٹر سے التجا کی کہ اسے اس مسئلے سے چھٹکارا دلائے پر ڈاکٹر نے انکار کر دیا۔۔۔

نا صرف انکار بلکہ اس نے مومو کے گھر والوں کو بھی بلا کر سب سچ سچ بتا دیا۔۔۔چونکہ ہسپتال کے فارم پر مومو کا ایڈریس موجود تھا اس لیے ڈاکٹر کو اس کے گھر والوں تک رسائی حاصل کرنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آئی۔۔۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مومو اور ریحان کی خوب چھلائی ہوئی۔۔۔
پھر پتہ نہیں بات کیسے باہر نکلی مگر اب یہ معاملہ پورے ایریا میں مشہور ہوتا جا رہا ہے۔۔۔مومو کے والدین اپنا گھر بیچ کر فوری یہاں سے کہیں شفٹ ہو رہے ہیں۔۔۔اب خوش رہو تمہاری جان چھوٹ گئی۔۔۔اور ہاں مومو کو کال کرنے کی کوشش بلکل مت کرنا۔۔۔وہ خود تو ذلیل اور رسوا ہو چکی ہے کہیں تم بھی لپیٹے میں مت آ جاؤ۔۔۔
میں خوشی سے سرشار ہو گیا کہ چلو اس چکر سے تو جان چھوٹی۔۔۔چند دن بعد سدرہ نے بتایا کہ وہ ارمغان،اور ارمغان کے پاپا ہمارے گھر ملتان آ رہے ہیں۔۔۔

میرا ماتھا ٹھنکا۔۔۔پوچھنے پر سدرہ نے بتایا کہ سمیر میں نے سب کو تمہارے اور سندس کے رشتے کیلئے رام کر لیا ہے۔۔۔بس اب تمہارے گھر میں بات چلانی ہے۔۔۔ارمغان کے پاپا اسی لیے آ رہے ہیں تا کہ تمہارے ابو انہیں انکار مت کر سکیں۔۔۔آفتاب اس وقت تک آسٹریلیا جا چکا تھا۔۔۔خیر فرطِ جذبات سے میں نے فون پر ہی سدرہ کو ڈھیر ساری چمیاں ارسال کیں۔۔۔تو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔اب اتنا تو میں اپنے بچوں کے پاپا کیلئے کر ہی سکتی ہوں نا۔۔۔میں بھی کھلکھلا کر ہنس پڑا۔۔۔

ریسٹورنٹ سے بہت اچھی آمدنی ہو رہی تھی امی اور ابو بہت خوش تھے۔۔۔دن رات اپنی روٹین کے مطابق گزر رہے تھے۔۔۔پھر ایک سہانی صبح خوشیوں کی کرنوں کے ساتھ بیدار ہوئی اور سدرہ لوگوں کی ہمارے گھر آمد ہوئی۔۔۔میں اس وقت ریسٹورنٹ میں تھا۔۔۔کیونکہ ہارون کی ڈیوٹی دوپہر دو بجے شروع ہوتی تھی اور ابھی دو بجنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا تو میں نے ہارون کے اسسٹنٹ کو بلا کر سارا کام اس کو سونپا اور خود سب کیلئے کھانا پیک کروا کر گھر پہنچ گیا۔۔۔


گھر پہنچ کر سب سے ملا۔۔۔ہیلو ہائے کے بعد کھانا کھایا گیا۔۔۔سب نے کھانے کی بہت تعریف کی۔۔۔ابو سارا دن انہی کے ساتھ رہے جبکہ میں کسی نا کسی کام کے چکر میں اندر باہر آتا جاتا رہا۔۔۔مجھے بڑی بے چینی سے سدرہ کی کال کا انتظار تھا۔۔۔شام کے وقت میں گھر سے باہر تھا جب سدرہ نے مجھے کال کی۔۔۔
میں نے کال اٹینڈ کی اور چھوٹتے ہی پوچھا ہاں سدرہ کیا بات ہوئی تو وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی۔۔۔تمہارے پاپا نے ہاں کر دی ہے۔۔۔

مبارک ہو سمیر۔۔۔میری تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔پھر سدرہ بولی سمیر اب ہم لوگ کل صبح ہی تمہارے والدین کو لیکر گوجرانولہ جا رہے ہیں۔۔۔آخر کو انہیں لڑکی بھی تو دکھانی ہے نا۔۔۔
رات کو امی اور ابو نے مجھے اپنے کمرے میں بٹھا کر ساری بات بتائی کہ کیسے ارمغان لوگ میرے لیے ایک پروپوزل لے کر آئے ہیں۔۔۔میں نے ابو کے سامنے سر جھکاتے ہوئے کہا ابو جان مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے۔۔۔

اس رات میری سدرہ سے کوئی ملاقات نہیں ہو پائی۔۔۔ہم کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے تھے۔۔۔اگلے دن صبح امی اور ابو ان لوگوں کے ساتھ گوجرانولہ روانہ ہو گئے۔۔۔میرا سارا دن بڑی بے چینی سے گزرا۔۔۔
میں بار بار میسیج کر کے سدرہ سے اپڈیٹ مانگ رہا تھا۔۔۔شام کے وقت سدرہ مجھے کال کر کے غصے سے بولی کیا تکلیف ہے تمہیں چوتیے۔۔۔یہ سب ایک فارمیلٹی تھی کہ لڑکی تمہارے گھر والوں کو دکھائی جائے ورنہ وہ تو اسے تصویر دیکھ کر ہی پسند کر چکے ہیں۔۔۔
میں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا میری جان جلدی سے بتاؤ نہ کیا بات ہوئی۔۔۔میری جان سولی پر اٹکی ہوئی ہے تو وہ تاسف بھرے لہجے میں بولی۔۔۔
باقی سب تو ٹھیک ہے لڑکی والوں کو بھی ہاں بول دی گئی ہے۔۔۔پر تمہارے ابو نے ایک ایسی شرط رکھ دی ہے کہ جس نے سب کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔۔۔

میں نے بوکھلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔کک۔۔کک۔کیا شرط رکھی ہے تو سدرہ ایک دم کھلکھلا کر ہنستے ہوئے بولی۔۔۔ابے چوتیے انہوں نے ڈائیریکٹ تیری شادی کی ڈیٹ مانگ لی ہے۔۔۔وہ لڑکی اتنی پسند آئی انہیں کہ وہ ہتھے سے ہی اکھڑ گئے۔۔۔وہ تو کہہ رہے تھے ہم ابھی سمیر کو یہیں بلاتے ہیں تا کہ لڑکی والے لڑکا دیکھ لیں۔۔۔

لیکن چونکہ وہ پہلے ہی تمہیں پنڈی فاروق کی شادی میں دیکھ چکے ہیں اس لیے ضرورت محسوس نہیں کی۔۔۔اور باقی میں ہوں نا تمہاری وکیل۔۔۔
قصہ مختصر اگلے مہینے کی سولہ تاریخ کو تمہاری شادی کی ڈیٹ پکی ہو گئی مبارک ہو سمیر۔۔۔

میں منہ کھولے شاک کی کیفیت میں اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔ایک دم غصے سے بولا۔۔۔بڑی بہن چود عورت ہو تم۔۔۔ہر وقت مزاق سوجھتا ہے تمہیں۔۔۔میرا ذرا بھی خیال نہیں۔۔۔تو وہ آگے سے ہنستے ہنستے دوہری ہو گئی۔۔۔

میں نے غصے سے کال کاٹ دی۔۔۔ٹھیک دس منٹ بعد اس کی دوبارہ کال آئی اور وہ بڑی سنجیدگی سے بولی۔۔۔سمیر میں نے پہلے جو تمہیں بتایا ہے وہ حرف بہ حرف سچ ہے۔۔۔تمہارے والدین صبح ہی یہاں سے واپسی کیلئے نکلیں گے۔۔۔پھر سب کچھ تمہارے سامنے آ جائے گا۔۔۔
میں نے خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے کہا کہ سدرہ اگر یہ بات سچ نکلی تو میں تجھے موتیوں میں تول دوں گا۔۔۔تو سدرہ بولی جی نہیں۔۔۔

مائی ڈئیر ہینڈسم اور تقریباً تقریباً چارمنگ اینڈ آف ڈیوٹی ہزبینڈ جی۔۔۔

مجھے اپنی پسند کا گفٹ چاہیے۔۔۔میں نے کہا میری جان جو مانگو گی مل جائے گا۔۔۔بس میری شادی ہو جانے دو۔۔۔پھر ادھر ادھر کی دو چار باتیں کر کے کال بند کر دی۔۔۔

اگلے دن سدرہ لوگ وہیں سے راولپنڈی روانہ ہو گئے۔۔۔امی ابو واپس گھر آ گئے اور آتے ہی انہوں نے مجھے ساری باتیں بتائیں تو میں نے ایک شرمیلے بیٹے کی طرح ان کی ہر بات پر سر جھکا دیا۔۔۔ابو میرے سر پر ہاتھ پھیر کر بولے۔۔۔جیتے رہو بیٹا۔۔۔شادی کی تیاریاں شروع کر دو۔۔۔
پھر روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کے چکر لگنے لگے۔۔۔ہر وہ چیز خریدی گئی جو کہ ایسے موقع پر خریدی جاتی ہے۔۔۔دن پر لگا کر اڑ گئے اور میری شادی کا دن آ گیا۔۔۔
شادی سے دو دن پہلے ہی ارمغان اور سدرہ بچوں کے ساتھ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔ان کی فیملی میں یہ طے پایا گیا تھا کہ ارمغان اور سدرہ بچوں سمیت ہماری طرف سے شرکت کریں گے جبکہ باقی گھر والے لڑکی کی طرف سے شرکت کریں گے اور واپسی پر برات کے ساتھ ہی ملتان روانہ ہو جائیں گے۔۔۔


اسی رات کی بات ہے کہ دن بھر کے تھکے ماندے سب لوگ سو رہے تھے۔۔۔میں بھی اپنے کمرے میں لیٹا ہوا تھا کہ دروازہ کھلا اور سدرہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔سدرہ کو دیکھتے ہی میں اٹھ بیٹھا۔۔۔
وہ بھاگ کر میری آغوش میں آن گری اور اپنا چہرہ میرے سینے پر رگڑتے ہوئے بولی۔۔۔بڑے مصروف آدمی ہو گئے ہو۔۔۔اپنی شادی ہورہی ہے تو ہم کو بھول گئے۔۔۔
تو میں نے اسے اپنے اوپر کھینچ کر لیٹتے ہوئے کہا نہیں میری جان تمہیں بھلا میں بھول سکتا ہوں۔۔۔یہ سب تمہاری کوششوں کی وجہ سے ہی تو ممکن ہوا ہے۔۔۔
سدرہ کی ناک پر لگی لونگ چمک رہی تھی۔۔۔آف وائٹ کاٹن کے سوٹ میں وہ بلکل ایک پری لگ رہی تھی۔۔۔میں کروٹ لے کر اس کے اوپر آ گیا۔۔۔
ہماری سانسیں اور نظریں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔سدرہ بولی یاد ہے میں نے تم سے ایک گفٹ مانگا تھا تو میں نے کہا ہاں میری جان بلکل یاد ہے۔۔۔

بتاؤ تمہیں کیا چاہیے تو وہ بولی۔۔۔پرسوں تیری سہاگ رات ہے اس سے پہلے۔۔۔آج تم میرے ساتھ سہاگ رات مناؤ گے اور بس یہی میرا *گفٹ* ہو گا۔۔۔

میں نے اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے کہا کہ تیرے گانڈو شوہر کا کیا ہو گا وہ کہاں ہے۔۔۔تو بولی بے فکر رہو۔۔۔اس کی طبیعت تھوڑی اپ سیٹ تھی۔۔۔تو ابھی کچھ دیر پہلے اپنے ہاتھوں سے اسے نیند کی گولیاں کھلا کر آئی ہیں تا کہ وہ سکون سے سوتا رہے اور بچے بھی گہری نیند سو رہے ہیں۔۔۔اب ہمیں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔۔۔

یہ سن کر میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پہ رکھ کر انہیں چوسنا شروع کر دیا۔۔۔ساتھ ہی میں اپنے دونوں ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے چوتڑوں کو مسلنے لگا۔۔۔
اس کے گول مٹول ممے میرے سینے پر دبے ہوئے تھے۔۔۔صاف پتہ چل رہا تھا کہ اس نے نیچے کچھ نہیں پہنا ہوا ہے۔۔۔
میں نے اس کی شلوار کو تھوڑا نیچے اتار کر اپنے ہاتھوں سے اس کے چوتڑوں کو مسلنا جاری رکھا۔۔۔
سدرہ کے منہ سے ایک سسکی سی نکل گئی۔۔۔ساتھ ہی میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی جسے وہ شدت سے چوسنے لگی۔۔۔
اب میرا لن بھی انگڑائیاں لے رہا تھا۔۔۔پچھلے کافی مہینوں سے اس نے بھی کسی پھدی کی سیر نہیں کی تھی۔۔۔میں نے اپنی زبان اس کے منہ سے باہر نکالی اور اٹھ کر اپنے کپڑے اتار دیے پھر دوبارہ ننگا ہی لیٹ کر اس کے پورے چہرے کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ میں نے سدرہ کے مموں پر جما دیے۔۔۔سدرہ نے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر میرا لن پکڑ کر سہلانا شروع کر دیا۔۔۔جس کی وجہ سے میرے لن کی ہشیاری بڑھنے لگی۔۔۔
میں نے سدرہ کو تھوڑا سا اوپر اٹھا کر اس کی قمیض اتار دی۔۔۔اور اسے لٹا کر اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا۔۔۔
وہ بڑی نرمی سے میرے سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلا رہی تھی دوسرے ہاتھ سے لن کو سہلا رہی تھی۔۔۔میں نے اس کے ممے چوس چوس کر پہلے سے زیادہ لال گلابی کر دیے۔۔۔پھر نیچے سے میں نے اس کی شلوار بھی اتار دی۔۔۔
اب اس کی پیاری ریشم جیسی پھدی میری نگاہوں کے سامنے تھی۔۔۔

میں نے اس کی پھدی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔سدرہ نے سختی سے میرے بالوں کو اپنی مٹھی میں جھکڑ لیا۔۔۔میں نے اس کی پھدی کے دانے کو اپنی زبان سے مسلا۔۔۔پھر زبان اس کی پھدی میں ڈال کر اندر باہر کرنا شروع کر دی۔۔۔
سدرہ کے منہ سے نا تھمنے والا سسکیوں کا طوفان جاری ہو گیا۔۔۔مسلسل پانچ منٹ تک لگاتار میں اس کی پھدی کو چاٹتا اور اپنی زبان اندر باہر کرتا گیا۔۔۔

پھر اچانک اس کے ہاتھوں کی گرفت میرے سر پر ذیادہ ہونا شروع ہو گئی۔۔۔اس کی سس۔۔۔۔سس۔۔۔آہ۔۔۔۔آہ۔۔۔بھی بڑھ گئی تھی۔۔۔اچانک اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اس نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔۔۔
چند لمبی لمبی سانسیں لینے کے بعد سدرہ اٹھی اور مجھے گراتے ہوئے میرے اوپر آ کر میرے منہ کو چاٹنے لگی۔۔۔میں نے دبی دبی آواز میں اس کو تنبیہہ کی۔۔۔

سدرہ بہن چود یہ تمہارا ساؤنڈ پروف کمرہ نہیں ہے۔۔۔یہاں اپنی آوازوں پر کنٹرول رکھنا۔۔۔اس وقت وہ میرے نپل کو چوس رہی تھی۔۔۔اس نے ہلکے دانتوں کے ساتھ میرے نپل کو کاٹ لیا تو میرے منہ سے ہلکی سی چیخ برآمد ہوئی تو وہ دانت پیس کر بولی۔۔۔
چپ کر بھوسڑی کے۔۔۔یہ ساؤنڈ پروف کمرہ نہیں ہے۔۔۔اور میں دانت پیستے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
میری حالت دیکھ کر وہ محظوظ ہوئی اور نیچے جھک کر میرے اکڑے ہوئے لن کو چوسنے لگی۔۔۔
دو منٹ کے شاندار چوپوں کے بعد میرا لن اس کی پھدی کا بینڈ بجانے کیلئے تیار تھا۔۔۔میں نے سدرہ کو نیچے لٹایا اور ایک ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پر سیٹ کر کے ایک زور دار گھسہ مارا ساتھ ہی پہلے ہاتھ سے میں نے سدرہ کے منہ کو دبا دیا۔۔۔ورنہ سدرہ کے منہ سے نکلنے والی چیخ شاید رات کے سناٹے کو چیر دیتی۔۔۔


دو بچے پیدا کرنے کے بعد بھی اس کی پھدی پوری طرح فٹ تھی۔۔۔جس کی وجہ یہ تھی کہ سدرہ اپنی ڈائٹ کا بہت خیال رکھتی تھی اور شام کو روزانہ جم جاتی تھی۔۔۔کچھ دیر میں وہیں ٹکا رہا۔۔۔
سدرہ کی آہیں اب تھم رہی تھیں۔۔۔جیسے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کافی ریلیکس ہوگئی ہے تو میں نے اپنے لن سے ضربیں لگانی شروع کر دیں۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں سدرہ کی پھدی نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا اور وہ فل مزے میں گانڈ ہلا ہلا کر چدوانے لگی۔۔۔
اب اس کی سسکیاں اوہ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔اوہ۔۔۔۔آہ۔۔۔۔میں بدل چکی تھیں۔۔۔میں کچھ دیر تک اسی پوزیشن میں اسے چودتا گیا۔۔۔پھر میں نے اسے اٹھ کر نیچے قالین پر گھوڑی بننے کو کہا۔۔۔یہ میرا سب سے پسندیدہ سٹائل تھا۔۔۔
میں ہمیشہ اسی سٹائل میں پھدی مارتے ہوئے اپنا پانی نکالنا پسند کرتا تھا۔۔۔
میں نے سدرہ کے پیچھے آ کر اپنا لن اس کی پھدی میں ڈال کر فل سپیڈ میں گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔چند سیکنڈ بعد ہی وہ کانپتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔لیکن میں نے گھسے جاری رکھے۔۔۔میرے ہر گھسے پر وہ آگے کی طرف جھکتی اور اس کے منہ سے اوئی کی آواز برآمد ہوتی۔۔۔میں اسے اپنی طرف کھینچے لگاتار گھسے مار رہا تھا۔۔۔
پھر میری رگوں میں تپش بڑھنا شروع ہو گئی۔۔۔اور میں اپنی پوری جان کے ساتھ گھسے پر گھسہ مارتا گیا۔۔

میرا آخری گھسہ بہت زور کا تھا۔۔۔میں نے اپنا لن جڑ تک اس کی پھدی میں دھکیلا اور اس کے اوپر ہی لیٹتا چلا گیا۔۔۔میرے وزن کے ساتھ وہ بھی نیچے لیٹ گئی۔۔۔میرا لن پھولتے ہوئے اس کی پھدی کو منی سے بھر رہا تھا۔۔۔
اس رات سدرہ کی ایک دفعہ اور چدائی ہوئی پھر رات تین بجے وہ اپنے کپڑے پہن کے میرے ہونٹوں کو چوم کر چلی گئی اور میں ٹراؤزر پہن کر سو گیا۔۔۔

اگلا دن بھی مہندی کی تیاریوں میں گزر گیا۔۔۔گاؤں سے میرے تایا کی ساری فیملی اور پھوپھا اپنی فیملی سمیت آ چکے تھے۔۔۔گلی محلے کی لڑکیوں اور ساری کزنوں نے مل کر خوب ہلا گلا کیا۔۔۔
میں اور میرے دوست باہر مردانے میں بیٹھے ہلا گلا کرتے رہے۔۔۔چونکہ بارات کی روانگی صبح جلدی ہی ہو جانی تھی تو یہ طوفانِ ہلا گلا جلد ہی اختتام کو پہنچا اور سب لوگ دس بجے تک سو گئے۔۔۔
صبح چار بجے سب کو اٹھا دیا گیا اور تیار ہونے کے بعد چائے پلا کر سب کو گاڑیوں میں بٹھایا پھر چھ بجے تک بارات روانہ ہو چکی تھی۔۔۔راستے میں میرے ہی ریسٹورنٹ سے لایا گیا خوبصورت ڈبہ بند کھانا سب میں تقسیم کیا گیا۔۔۔سارا دن ہلے گلے میں گزر گیا اور میں سندس کو بیاہ کر واپس اپنے گھر ملتان پہنچ گیا۔۔۔
میرا کمرا اوپر والے فلور پر تھا۔۔۔میرے کمرے کو بڑی اچھی طرح سجایا گیا تھا یہ کام میں نے ہارون کے ذمہ لگایا تھا۔۔۔
بیڈ سے لیکر ہر چیز نئی اور خوشبوؤں سے مہکی ہوئی تھی۔۔۔بیڈ کے اوپر گلاب کے پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔۔۔جبکہ بیڈ کے چاروں طرف گلاب کے پھولوں کی ہی لڑیاں لگی ہوئی تھیں۔۔۔

میں ابھی نیچے دوستوں میں ہی گھرا ہوا تھا کہ سندس کو اوپر میرے کمرے میں پہنچا دیا گیا۔۔۔اس کے بعد سدرہ دودھ کا گلاس لے کر اوپر میرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔کافی دیر وہ سندس کے ساتھ باتیں کر کے اس کو ریلیکس کرتی رہی۔۔۔پھر سدرہ نے میسیج کر کے مجھے اوپر بلایا۔۔۔
میں دوستوں کو الوداع کر کے اوپر گیا تو کمرے سے باہر ہی مجھے سدرہ نے روک کر میرے ہاتھ میں ایک چیز تھما دی۔۔۔میں نے غور سے دیکھا تو یہ وہی سپرے تھا جو لگا کر میں نے پہلی دفعہ سدرہ کی پھدی کا افتتاح کیا تھا۔۔۔

سدرہ مسکراتے ہوئے بولی اب جاؤ اور اپنی سہاگ رات کو یادگار بناتے ہوئے اسے پہلی ہی رات میں اپنی گرویدہ کر لو۔۔۔لیکن خیال رکھنا۔۔۔بچی کنواری ہے۔۔۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا اور کسی کو نا پا کر سدرہ کے ہونٹ چوم کر اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔

اندر سرخ جوڑے میں ایک حور میری منتظر تھی۔۔۔دروازہ لاک کر کے میں بیڈ پر جا بیٹھا۔۔۔

سندس گھونگھٹ ڈالے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔میں نے اس کے قریب ہو کر آہستہ سے گھونگھٹ اٹھا دیا۔۔۔
جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ ایک چاند سا چہرہ میرے سامنے تھا۔۔۔میک اپ نے اس کے حسن کو دو آتشہ کر دیا تھا۔۔۔میں نے جیب سے ایک مخملی ڈبیاں نکال کر کھولی۔۔۔اس میں موجود انگوٹھی نکالی اور منہ دکھائی کے طور پر سندس کو پہنا دی۔۔۔
پھر میں نے دوسری جیب سے ایک لاکٹ نکالا اور وہ بھی منہ دکھائی کے طور پر سندس کو پہنا دیا۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور شرما گئی۔۔

اس کے بعد کچھ دیر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔۔۔میں نے کہا سندس مجھے سدرہ بھابھی سب کچھ بتا چکی ہیں۔۔۔تم نے جسے چاہا آخر اپنا بنا لیا۔۔۔
میں اپنی قسمت پر نازاں ہوں کہ مجھے تمہارے جیسی خوبصورت اور پیار کرنے والی بیوی ملی ہے۔۔۔مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ آج وہ دن چکا ہے کہ تم میری دلہن بنی میری نظروں کے سامنے بیٹھی ہو۔۔۔


کچھ دیر بعد میں نے سندس سے کہا کہ تم اپنی جیولری اتار کر فریش ہو جاؤ پھر آرام کرتے ہیں۔۔۔
وہ اٹھی اور اپنی جیولری اتار کر آنے لگی تو میں نے کہا کہ جانم کپڑے بھی چینج کر لو۔۔۔

اس نے الماری کھولی اور وہاں سے ایک ریڈ کلر کی نائٹی نکال کر واش روم میں چلی گئی۔۔۔دو منٹ بعد ہی وہ واش روم سے نائٹی پہنے برآمد ہوئی۔۔۔
سرخ رنگی نائٹی میں اس کا چاندی جیسا جسم چمک رہا تھا۔۔۔وہ میرے پاس آئی اور دودھ کا گلاس اٹھا کر مجھے پکڑایا۔۔۔میں نے آدھا دودھ پی کر آدھا اسے پلا دیا۔۔۔
کچھ دیر بعد ہم بیڈ پر لیٹے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔۔۔اس کی مہکی ہوئی سانسیں مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔۔۔اس کے حناء سجے ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے۔۔۔اس کی نشیلی آنکھیں دیکھ کر میں مدہوش ہوئے جا رہا تھا۔۔۔اس کا جسم مسلسل مجھے اپنی طرف پکار رہا تھا۔۔۔مگر ابھی وہاں تک پہنچنے میں تھوڑا ٹائم باقی تھا۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر چوما اور آنکھوں سے لگا کر بولا۔۔۔میری جان کو اب شرم تو نہیں آ رہی نا۔۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تو بہت شرما رہی تھی۔۔۔

وہ نظریں جھکا کر کہنے لگی۔۔۔اب میں آپ کی ہوں۔۔۔چاہے تو دل میں بسا لیں۔۔۔چاہے تو قدموں میں بٹھا دیں۔۔۔
میں نے اپنا ایک بازو پھیلا کر اس کا سر اپنے بازو پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اٹھاتے ہوئے گنگنایا۔۔۔


لطفِ خاص میں شامل ہے تشنگی ء حیات
میں سانس پی رہا ہوں تیرے لبوں کو چوم کر


یہ کہہ کر میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے جوڑ دیے۔۔۔اور ایک لمبی کس کی۔۔۔وہ بے اختیار کانپ اٹھی۔۔۔اس کے جسم کی گرمی مجھے جلائے جا رہی تھی۔۔۔میں نے اس کے حنائی ہاتھ کو پکڑ کر اس کی انگلیاں چوسنی شروع کر دیں۔۔۔یہ دیکھ کر اس کے کان اور گال شرم سے سرخ ہوتے گئے۔۔۔اس کے مہندی لگے ہاتھوں کی خوشبو میری ناک میں مہک رہی تھی۔۔۔
اچانک میں اسے چھوڑ کر اٹھ گیا۔۔۔وہ سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔میں نے کہا میری جان میں واش روم سے ہو کر ابھی آتا ہوں۔۔۔پھر مل کر اپنی اس رات کو یادگار بناتے ہیں۔۔۔اس نے شرما کر تکیے میں منہ چھپا لیا۔۔۔
میں نے اٹھ کر الماری سے اپنا ٹراؤزر نکالا اور واش روم میں گھس گیا۔۔۔
اندر جا کر میں نے کپڑے اتارے۔۔۔میں لن اب کافی حد تک اکڑ چکا تھا۔۔۔میں نے سپرے کی شیشی نکالی اور اچھی طرح سے لن پر سپرے کر دیا۔۔۔
سپرے کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے ایک سائیڈ پر ٹانگ دیے۔۔۔پھر ٹراؤزر پہن کر ہاتھ دھوئے اور باہر نکل آیا۔۔۔شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے باڈی سپرے اٹھایا اور اچھی طرح سے خود کو مہکا لیا۔۔۔
پھر بتی بجھا کر نائٹ بلب روشن کیا اور جا کر بیڈ پر اپنی جانِ متاع کے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔

میں نے دوبارہ سے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے۔۔۔کیونکہ اب سپرے لگایا تھا تو جیسے تیسے کر کے بیس منٹ گزارنے تھے۔۔۔۔پھر میں اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اپنی زبان کو اس کے منہ کے اندر ڈال کر گھمانے لگا۔۔۔ساتھ ہی میں نے اسے کھینچ کر اپنے پاس کر لیا اور دوسرا ہاتھ اس کی کمر سے لیکر گانڈ تک پھیرنے لگا۔۔۔
وہ تھوڑا کسمسائی اور خود میں سمٹ گئی۔۔۔میں اس کے ہونٹوں کو چھوڑ کر اٹھ بیٹھا اور اس کی نائٹی کی ڈوری کو کھول دیا۔۔۔وہ شرم سے سمٹتی جا رہی تھی۔۔۔
لیکن اب میں کہاں رکنے والا تھا۔۔۔چنانچہ کچھ ہی دیر میں اس کی نائٹی برا،پینٹی اتار کر ایک سائیڈ پر رکھ چکا تھا۔۔۔
اب وہ خود سے بھی شرما رہی تھی۔۔

میں نے اسے دوسری طرف کروٹ دلائی اور پیچھے سے اس کے بال ہٹا کر اس کی گردن اور کمر کو چومنا شروع کر دیا۔۔۔میں نے اپنی ٹانگ اٹھا کر اس کی ٹانگوں پر رکھ دی جس کی وجہ سے میرا لن اس کی گانڈ سے چپک گیا۔۔۔میرے لن کے لمس نے اس کو لرزا دیا۔۔۔

میں نے پیچھے سے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے گول شیپ ممے کو ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔اففف اس کے ممے کے میرے ہاتھ میں آنے کی دیر تھی کہ میرا لن اکڑ کر اس کی گانڈ میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے گوشت سے فل بھرے ہوئے تھے۔۔۔اور ہلکے گلابی رنگ کے نپلز فل اکڑ کے اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔۔۔

میرا ہاتھ اس کے ممے کو لگتے ہی وہ پوری جان سے کانپی تھی۔۔۔اب صورتحال یہ تھی کہ وہ دوسری طرف کروٹ لیے ہوئے تھی اور میرا بایاں بازو اس اس کی گردن کے نیچے تھا۔۔۔اسی ہاتھ سے میں اس کے ممے کو مسل رہا تھا۔۔۔جبکہ پیچھے سے مسلسل اس کی گردن کو چومتے ہوئے۔۔۔دائیں ہاتھ سے اس کے صاف شفاف پیٹ پر مساج کر رہا تھا۔۔۔

میں اس کے پیٹ سے ہوتے ہوئے اس کی ناف میں جا کر انگلی اندر دھنسا رہا تھا۔۔۔وہ مزید اپنے اندر سمٹ رہی تھی۔۔۔ٹانگیں ہلا ہلا کر میرا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔اوپر سے اس کی گانڈ کی دراڑ میں پھنسے میرے لن نے اس کو بے چین کیا ہوا تھا۔۔۔اس کی کوئی بھی کوشش سودمند نہیں ثابت ہوئی۔۔۔

میں نے اب سندس کو سیدھا لٹایا اور ڈریسنگ ٹیبل سے تیل کی شیشی اٹھا لایا۔۔۔تیل کی شیشی اپنے پاس رکھ کر میں اس کے اوپر جھکا اور اس کے ممے چوسنا شروع کر دیے۔۔۔
اس کے منہ سے لذت بھری آہ نکلی۔۔۔
مگر میں ہر چیز سے بے نیاز اس کے سنگترے جیسے ممے چوستا رہا۔۔۔کبھی ایک ممہ کبھی دوسرا ممہ چاٹتا رہا۔۔۔ساتھ ہی میں نے اپنا دایاں ہاتھ نیچے لیجا کر اس کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔میرے ہاتھ کو اپنی پھدی پر محسوس کرتے ہی وہ ایک دفعہ پھر کانپ سی گئی۔۔۔

میں نے اس کے دانے کو مسلا تو وہ اچھل سی گئی اور ایک سریلی سی اوئی اس کے لبوں سے برآمد ہوئی۔۔۔ایک انگلی میں نے تھوک لگا کر اچھی طرح گیلی کی اور اس کی پھدی میں ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔پھدی اتنی ٹائٹ تھی کہ انگلی بھی پھنس کر جا رہی تھی۔۔۔
اس کے منہ سے پھر اوئی کی آواز نکلی اور اس نے اپنی ٹانگیں سکوڑنے کی سعی کی لیکن لاسود۔۔۔سندس کی پھدی کے ہونٹ آپس میں چپکے ہوئے تھے۔۔۔میں نے انگلی اندر باہر کرنا شروع کی اور تیل کی بوتل کھول کر تھوڑا سا تیل اس کی پھدی پر گرا کر اندر کرنا شروع کر دیا۔۔۔اب اس کی پھدی فل گیلی ہو چکی تھی۔۔۔

میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بیڈ کی چادر کو زور سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔میں نے دوسری انگلی بھی ساتھ ملائی اور اندر گھسا دی۔۔۔اس کے منہ سے درد سے ایک ہلکی سی چیخ آئی۔ی۔ی۔ نکلی اور بیڈ کی چادر پر اس کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی۔۔۔
تیل اور مسلسل انگلیوں کی رگڑائی کی وجہ سے اس کی پھدی نرم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر بعد میری دونوں انگلیاں روانی سے اندر باہر آ جا رہی تھیں۔۔۔پھدی سے پانی بہہ رہا تھا۔۔۔جو کہ میرے ہاتھ کو گیلا کر رہا تھا۔۔

میں کچھ دیر ایسے ہی انگلیوں سے نرم کرنے کے بعد اوپر اٹھا اور ٹراؤزر اتار پھینکنے کے بعد اپنے لن کو اچھی طرح تیل میں بھگویا۔۔۔پھر سندس کے اوپر لیٹ کر اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں جھکڑتے ہوئے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پر رکھ کر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔

پھر میں نے اپنا لن پھدی کے سوراخ پر روک کر دباؤ ڈالنا شروع کیا تو لن سلپ ہو گیا۔۔۔سندس کا رنگ زرد ہو چکا تھا۔۔۔وہ لن کے لمس سے ہی کانپ رہی تھی۔۔۔

میں نے پھر سے لن کو پھدی کے ہونٹوں پر سیٹ کر کے دباؤ ڈالا تو پھدی تھوڑی سی کھلی اور باقی لن کی ٹوپی نے کھول دی۔۔۔سندس کے منہ سے ایک زوردار چیخ نکلی تھی۔۔۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھ کر دبا لیا۔۔۔میں وہیں رک کر ہاتھ سے اس کے دانے کو مسلنے لگا۔۔۔کچھ لمحات بعد سندس کی آہیں نکلنے لگیں۔۔۔میں نے تھوڑا سا دباؤ اور بڑھایا تو لن اندر کی طرف کھسکا۔۔۔میں آہستہ آہستہ دباؤ بڑھاتا گیا۔۔۔

ساتھ ساتھ سندس کی بھی سی۔سی۔سی بڑھتی گئی۔۔۔دو انچ لن اندر جانے کے بعد اس کی کنوارے پن کی جھلی آ چکی تھی۔۔۔میں نے اس جھلی کے اوپر بھی دباؤ بڑھانا جاری رکھا یہاں تک کہ میرا لن آدھے سے زیادہ اندر چلا گیا۔۔۔اس کا کنوارہ پن ختم ہو چکا تھا۔۔۔سندس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور ہلکی آواز میں چلانے لگی۔۔۔۔سمیر پلیز بس بس اور نہیں پلیز اسے باہر نکال لو۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔ساتھ ہی وہ رونے لگی۔۔۔

میں وہیں رک کر اس کے ہونٹ چومنے لگا۔۔۔ساتھ ساتھ ایک ہاتھ نیچے کر کے اس کے دانے کو بھی مسلتا رہا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جب وہ نارمل ہونے لگی تو میں نے پھر سے دباؤ ڈالنا شروع کیا اور دو منٹ بعد ہی میرا پورا لن اس کی پھدی کے اندر غروب ہو چکا تھا۔۔۔

میں نے اپنی جان کا چہرہ چوم لیا۔۔۔اس کی آنکھوں کے آنسو پی گیا۔۔۔پھر میں نے اس کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے سرگوشی کی۔۔۔بس میری جان بس بس۔۔۔تکلیف کا مرحلہ ختم ہو گیا۔۔۔اب مزہ آئے گا۔۔۔

مگر وہ مستقل انکار کرتی گئی نہیں اب مجھے اور نہیں کرنا۔۔۔باہر نکالو اسے۔۔۔پلیز بہت درد ہوتا ہے۔۔۔میں آہستہ آہستہ اس کے مموں کو مسلتے ہوئے ان کے نپلز کو پکڑ کر کھینچنے لگا۔۔۔وہ اب بھی سسک رہی تھی۔۔۔مجھے کس کے پکڑے ہوئے تھی۔۔۔

جب میں نے محسوس کیا کہ وہ کافی ریلیکس ہوگئی ہے تو میں نے ہلتے ہوئے اپنا لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔اس کی آنکھیں بند تھیں اور ہلتے ہوئے ممے آپس میں ٹکرا رہے تھے۔۔۔کھلے ہوئے منہ سے ہلکی پھلکی آہ۔۔۔آہ۔۔۔نکل رہی تھی۔۔۔


میں پانچ منٹ تک ایسے ہی آرام سے لن اندر باہر کرتا رہا۔۔۔پھر جب میرا لن پوری روانی سے اس کی پھدی کی سیر کرنے لگا اور اس کی تکلیف دہ سسکیاں بھی لذت بھری آہوں میں بدل گئیں تو میں نے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔
اس پر تھوڑا سا خون لگا ہوا تھا۔۔۔
میں نے اس کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھیں اور دوبارہ سے لن اس کی پھدی میں ڈال دیا۔۔۔اس کے منہ سے آں۔۔۔آں کی آواز نکلی۔۔۔پہلے میں نے آہستہ آہستہ لن اندر باہر کیا پھر اس کی ٹانگوں پر دباؤ ڈال کر اس کے اوپر جھکتے ہوئے تھوڑی سپیڈ سے گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔وہ ہر گھسے کے ساتھ آہ۔۔۔آہ۔۔۔آہہہ کر رہی تھی۔۔۔کبھی گھسہ زرا جان سے پڑتا تو بے اختیار اس کے منہ سے اففف۔۔۔مر گئی۔۔۔اوئی ماں۔۔۔افففف۔۔۔پلیز آہستہ برآمد ہوتا۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ بلکل نارمل ہوچکی تھی۔۔۔اب وہ اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر پورا لن اپنے اندر لے رہی تھی۔۔۔اس کے دونوں ہاتھ میرے کندھوں اور گردن کو مسل رہے تھے۔۔۔اس کی آہوں میں مزے کا عنصر نمایاں تھا۔۔۔اس کے مموں کا ہلنا جھلنا بڑھ گیا تھا۔۔۔دو منٹ بعد ہی اس کا جسم کانپا اور وہ پوری جان سے لرزتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔یہ اس کی زندگی کا پہلا آرگیزم تھا۔۔۔

سندس بری طرح سے کانپتے ہوئے پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔میرا لن ابھی تک خالی نہیں ہوا تھا۔۔۔میں نے اسے چومتے چاٹتے ہوئے گھوڑی بنایا اور پیچھے سے اس کی پھدی میں اپنا لن ڈال کر گھسے مارنے لگا۔۔۔وہ زندگی میں پہلی بار ایسی حالت میں جھکی ہوئی تھی۔۔۔
میں نے اپنی سپیڈ بڑھانی شروع کی۔۔۔بڑھاتا گیا بڑھاتا گیا۔۔۔کمرے میں لگاتار چوپ چوپ کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔۔۔یہ آوازیں میری ٹانگوں کے اس کی گانڈ سے ٹکرانے کی وجہ سے پیدا ہو رہی تھیں۔۔


میں اسی پوزیشن میں اسے پانچ منٹ تک لگاتار چودتا رہا۔۔۔میری رفتار کے ساتھ ساتھ سندس کی سسکیاں بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔میں نے اس کی کمر کو چھوڑ کر پیچھے سے اس کے بازوؤں کو پکڑ لیا اور اپنی پوری طاقت سے گھسے مارنے لگا۔۔۔

سندس کی بڑھتی ہوئی سسکیاں بتا رہی تھیں کہ وہ دوبارہ منزل کے قریب ہے۔۔۔کچھ دیر اور گھسے مارنے کے بعد میری طاقت بھی جواب دیتی گئی۔۔۔
میں نے آخری گھسہ پوری جان سے مارا تو میرا لن جڑ تک اندر گیا اور لن کی ٹوپی بچہ دانی میں گھس گئی۔۔۔اور میرے لن نے اس کی بچہ دانی پر منی کی برسات کر دی۔۔۔اس کی بچہ دانی پر جیسے ہی میرے گرم گرم منی کا چھڑکاؤ ہوا۔۔۔وہ بھی کانپتے ہوئے چھوٹ گئی۔۔۔فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹ کر سو گئے۔۔۔
اگلے دن ولیمہ ہوا۔۔۔سدرہ اشاروں کنایوں میں کبھی سندس کو اور کبھی سب سے نظریں بچا کر مجھے چھیڑ رہی تھی۔۔۔بہرحال شادی کی تمام تقریبات اپنے انجام کو پہنچ گئیں اور آہستہ آہستہ تمام مہمان اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔ہماری زندگی بھی بہت پیارے انداز سے چلنے لگی۔۔۔سندس ایک بہت ہی اچھی بیوی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھی بہو بھی ثابت ہوئی۔۔۔

اس نے سارے گھر کا نظام اپنے ہاتھ میں سنبھال لیا اور میری امی کو کسی بھی کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا۔۔۔اسی طرح ریسٹورنٹ کا سارا نظام میرے ہاتھ میں تھا۔۔۔ہاں یہ ضرور ہوتا تھا کہ میں ہر مہینے پورے مہینے کے حسابات ابو جان کے سامنے پیش کر دیتا تھا۔۔۔

یوں ہنستے ہنستے
ہم لگ گئے رستے

اب میں جب یہ سٹوری رائٹر کو قلم بند کروا رہا ہوں۔۔۔اس وقت میری شادی کو تین سال گزر چکے ہیں۔۔۔مومو پتہ نہیں کہاں ذلیل و خوار ہو رہی ہو گی۔۔۔میں دنیا والوں کے سامنے ایک بیٹی اور ایک بیٹے۔۔۔
جبکہ حقیقتاً چار بچوں کا باپ بن چکا ہوں۔۔۔اور عزت کی زندگی گزار رہا ہوں۔۔۔اب جب بھی سدرہ ملتی ہے سب کے سامنے بھابھی اور موقع پا کر اکیلے میں میرے بچوں کی مما بن کے چدتی ہے۔۔۔

                     ***ختم شد ***

Share this post


Link to post
Share on other sites

تقریباً ساڑھے تین سو ویوز پر صرف چار کمنٹس۔۔۔

اچھا ویلکم ہے یارو۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

 ہم مسٹر بانڈ کو یہاں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ کی پہلی مکمل کہانی واقعی دلچسپ اور مفصل ہے۔ ایک شادی کا حال اور وہ بھی اس قدر ہوشربا، واقعی کمال ہے۔

فورم میں ممبران کی تعداد کم ہے مگر جو ہیں وہ کہانیوں کے قدردان ہیں اور حقیقی معنی میں اچھی کہانی اور درمیانی کہانی کا فرق سمجھتے ہیں۔ ایسے ممبران بھی ہیں جو سالوں تک کہانیاں تو پڑھتے ہیں کمنٹ کی زحمت نہیں کرتے۔ خیر،ان کا الگ حساب ہو گا۔

آپ اپنی کہانی جاری رکھیں اور ایسے ہی ہمیں بہترین کہانیوں سے محظوظ کریں۔

میں جناب ایڈمن سے درخواست کروں گا کہ وہ رائیٹر کا لوگو آپ کی آئی ٖڈی کے ساتھ منسلک کر دیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

مسٹر بانڈ کو اردو فن کلب پر رائٹر فیملی میں شمولیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مسٹر بانڈ کو رائٹر گروپ میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ جو کہ ان کے یوزر نیم اسٹیٹس میں دیکھا جا سکتا ہے۔آپ کی کہانی قابل تعریف ہے۔مگر کیونکہ یہ آپ کی سابقہ کہانیوں میں سے ہے شاید اس لیے ممبرز کی دلچسپی کم ہے۔ آپ اپنی نئی کہانیوں کی ابتدا کریں اور پیڈ کلب کے بھی رائٹر بنیں ۔جہاں آپ کو مشاورت کی ضرورت ہو مجھے یا خان صاحب کو پرائیویٹ میسج کریں

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم ایڈمنسٹریٹر۔۔۔

میں اس نوازش پر آپ کا شکر گزار ہوں۔۔۔

نئیں تحریر ایک شروع کی ہوئی ہے اور اپلوڈ بھی کر رہا ہوں مجرم یا۔۔۔

بہت جلد ہی اس کی اپڈیٹس ایک ترتیب سے آتی رہیں گی۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Jaweed sab app ki ye story main app ki porni website par be pard chuka hon kindly kuch asa post kary yaha jo k new ho 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...