Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  

Recommended Posts

 پرانی یادیں قسط 1

 

 بچپن سے جوانی ، جوانی سے بڑھاپا. انسان اپنی زندگی میں بہت سارے لوگوں سے ملتا ہے یا بہت سارے واقعات ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے دماغوں پے نقش ہو جاتے ہیں. انسان بعض اوقات عمر کے اس حصے میں جب سردی بھی زیادہ لگتی ہے اور تنہائ بھی تو بہت سے ایسے لوگ یاد آتے ہیں جن سے بہت گہرے رشتے ہوتے ہیں. اور ان رشتوں سے جڑی ہوتی ہیں ہماری پرانی یادیں.. 

میں آپ کو اپنے متعلق بتاتا ہوں پہلے. میرا نام سہراش ہے اور میں پاکستان لاہور کا رہنے والا ہوں. میں ایک شادی شدہ اور 2 بچوں کا باپ ہوں. بارش کی ان بوندوں کے ساتھ کچھ رم جھم کرتی قطرہ  قطرہ برساتیں یادیں. آج جب یادیں دل میں پوری شدت کے ساتھ جمع ہوئیں تو سوچا کچھ کاغذ پر اتار لیا جائے. لیکن کچھ بھی لکھنے سے پہلے یہ بتا دوں کہ میں کوئی باقاعدہ لکھاری نہیں ہوں. اگر کچھ غلطی ہو تو معافی چاہتا ہوں ..... 

:gif45lx5:

کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب میں دوسری کلاس میں پڑھا کرتا تھا. ہمارے سکول کی دیواریں بوسیدہ سی ہوا کرتی تھیں. اور اگر کوئ کمرہ نہ ہو تو درحتوں کے نیچے بھی کلاسیں لگ  جاتی تھیں. شام کو 4 بجے ساتھ والی باجی کے گھر ٹیویشن لینے بھی جانا ہوتا تھا. ماں جی کی حالہ کے ساتھ اچھی بنتی تھی تو انہی کی بیٹی کے پاس بھیج دیا. وہ بھی بنا کسی فیس کے پڑھا دیتی تھیں. حالہ کا نام تو مجھے نہیں پتا بس  ہمیشہ حالہ ہی کہہ کر محاطب کیا کرتا تھا. حالہ کی بس دو ہی بیٹیاں تھیں. بڑہ نورین اور چھوٹی نسرین. نوریں باجی نے 8 تک پڑھائ کری اور نسرین نے 10 تک. ان کی عمریں بلترتیب 24 اور 22 سال ہو گی. اچھے جسموں کی مالک تھیں دونوں. ان کا سینہ بھرا ہوا تھا اور پیٹ بلکل سیدھا پھر نیچے ان کی کمر اور کولہوں کے ابھار. کالے کمر تک آتے نورین باجی کے بال جن کو وہ چٹیا کی شکل میں باندھ کر رکھتی اور ان کی گہری بڑی آنکھیں. قدرت کی ایک بہت حوبصورت تحلیق باجی نسرین کی چھاتی تھوڑی چھوٹی تھی لیکن سیڈول تھی. خالہ کی عمر لگ بگ 37یا 38 سال ہو گی لیکن ان کا جسم بھی بہت کسا ہوا تھا. اس بات کا اندازہ مجھے تب ہوا جب مجھے پہلی بار انہوں نے اپنے گلے سے لگایا. وہ مجھ سے بڑا پیار کرتی تھیں. جب بھی کھیر یا حلوہ بناتی میرے لیئے ضرور رکھتی. یا گھر لے آتیں. جب بھی کسی بات پے باجی سے ڈانٹ پڑتی حالہ ان کو ہمیشہ منع کر دیتی اور کہتی " میرے پتر نوں حبردار جے کجھ اکھیا تے" باجی کہتی" تسی "اینوں سر تے نہ چڑہاو کجھ پڑھ وی لین دیوں. مجھے جب بھی حالہ کے گلے لگتا مجھے ان کے نپلز اپنے ہونٹوں کے پاس محسوس ہوتے لیکن عمر کے اس حصے میں ان باتوں سے انجان میں ان کے سینے سے لگا رہتا اور باجی پر ہنسنے لگتا. دن یونہی پیار محبت سے گزرتے رہے. لیکن ایک بات ہمیشہ رہی کہ حالہ نے یا باجیوں نے کبھی میرے سامنے ڈوپٹہ یا چادر نہیں لی یا کسی حاص پردے کا حیال نہیں رکھا. بلکہ ایک دن تو جب میں ٹیوشن کے لئیے گیا صحن میں حالہ برتن دھو رہی تھیں اور کچھ پسینہ اور کچھ پانی کی وجہ سے ان کی قمیض پوری بھیگ گئ تھی. قمیض کے اندر سے ان کے بڑے بڑے دونوں پستان اور ان پر گہرے براؤن رنگ کے نپلز صاف دکھ رہے تھے. مانو جیسے حالہ  اوپر سے بلکل ننگی ہو کر برتن دھو رہی ہیں. زندگی میں پہلی مرتبہ ایک عورت کا ننگا جسم مجھ سے صرف ایک ہاتھ کی دوری پر تھا. میری للی شلوار میں فل اکڑ گئی تھی اور میری ٹانگوں میں کپکپاہٹ شروع ہو گئی. حالہ نے مجھے دیکھا تو بولی "آ گیا پتر. باجی آتے اپنے کمرے وچ آگ جا بولا لیا" لیکن انہوں نے اپنی حالت ویسی ہی رکھی. میرے منہ سے بمشکل نکلا جی حالہ. لیکن میری آواز جیسے میرے ہی کانوں تک رہی. میرا دل نہیں تھا جانے کا مجبورا جانا پڑا. میں اور رکنا چاہتا تھا. مجھے لگا اگر میں وہاں سے ہلا تو پھر کبھی یہ نہیں دکھے گا مجھے. ڈر بھی لگ رہا تھا کہ حالہ میری حالت پڑھ لیں تو غصہ نہ ہو جائیں. بادل ناحواستہ میں اوپر گیا اور باجی کو چھت پر بیٹھا دیکھا. ان دنوں اکثر لوگ گرمیوں میں اپنی چھت پر ہی سوتے تھے. باجی بھی شاید اپنے بستر ہی لگانے آئ تھیں. میں ان کو سلام کرا تو انہوں نے گردن گھما کر مجھے دیکھا. اور کہا نیچے ہی کتابیں کھول کر بیٹھو میں آتی ہوں چارپائ لگا کر. میں بھاگ کر نیچے آیا. میری قسمت کہ حالہ نے برتن دھو لیئے تھے اور وہ صحن میں پانی لگا رہی تھیں. ان کا بالائ جسم پیٹ تک ویسے ہی گیلا تھا اور ان کے ننگے پستان میرے سامنے. میں چور آنکھوں سے ان کو دیکھنے لگا. میرا کتابوں میں بلکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا. بس زور زور سے ڈھرک رہا تھا. کچھ دیر میں باجی نورین اور باجی نسرین دونوں ہی وہاں آ گئیں.  باجی نے اپنی امی کو دیکھا اور ان کی حالت سے بےنیاز ہو کر مجھے سکول کا سبق دکھانے کو بولا. میرا زہن بس خالہ کی طرف تھا میں بار بار چوری چوری ان کو دیکھتا رہا. میری للی شلوار میں پھر سے اکڑ گئ. باجی نے مجھے دیکھ کر بولا تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہے. اتنا پسینہ کیوں آیا ہوا تم کو؟ میں کچھ بول ہی نہ پایا. تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے مجھے بولا آج تم گھر جاو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی. کل پڑھ لینگے. میں جی باجی بول کر بستہ سمیٹنے لگا اور آٹھ کے جانے لگا تو خالہ نے پاس آ کر میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا. اور بولی "لگدا میرے پتر نوں بخار ہو گیا. جا پتر جا کے آرام کر. تے بار نہ کھیڈن ٹر جائین" میں اچھا خالہ بول کر ایک گہری نگاھ ان کے پستانوں پے ڈالی اور کانپتی ٹانگوں سے گھر آ گیا... 

گھر آ کر بھی میرا دھیان خالہ کی ننگی چھاتیوں پر ہی رہا. کھانا کھاتے ہوئے بھی وہی منظر میری آنکھوں کے سامنے رہا. کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا گیا مجھ سے. ماں جی نے پوچھا بھی سب ٹھیک آے پتر روٹی تے رج کے کھا. میں بولا میری  طبیعت ٹھیک نہیں اور اپنے کمرے میں آ گیا. لیکن ان مناظر کو یاد کرتا رہا. للی بار بار اکڑتی رہی. پھر انہی بے ترتیب حالتوں میں نہ جانے کب میں نیند کی وادیوں میں کھو گیا ....... 

 

جاری ہے...... 

 

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...