Jump to content
You are a guest user Click to join the site
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Doctor str

سہاگن

Recommended Posts

فرینڈز میرا نام عثمان ہے . . میرا تعلق لاہور پاکستان سے ہے اور جو کہانی آج میں آپ سے شیئر کرنے جا رہا ہوں وہ انفیکٹ ان سب نوجوانوں کے دِل کی آواز ہے جنہیں ان کی جوان بہن کی مدمست جوانی نے مجنوں بنا کر رکھ دیا ہے … جی میں انہی منچلوں کی بات کر رہا ہوں جن کا لن اپنی بہن کو دیکھتے ہی احتراما کھڑا ہو جاتا ہے … جتنے مرضی شرم و حیا کے پردے ہوں اور اِس سماج کی کتنی ہی دیواریں کیوں نا رستے میں حائل ہوں اِس لن نے اپنی من مانی کرنی ہوتی ہے اور پھر اگر لن کو اپنے ہی گھر میں شکار مل جائے تو پھر رہا کہاں جاتا ہے … یہ وہی نوجوان ہیں کہ جنکی اپنی بہن پہ ٹھرک کا آغاز تو باتھ روم میں اس کے اُترے ہوۓ کپڑے سونگھنے …اسکی برا کو اندر سے چوسنے اور پینٹی کو چاٹنے سے شروع ہوتا ہے اور یہ سلسلہ کہاں جا کر رکتا ہے یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے . یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ سگی بہن کے جوسی مموں کو تصور میں لا کر اس کے اُترے ہوۓ برا کو چُوسنے کا مزہ دنیا سے نرالا ہے اور وہ جو کبھی کبھار نمکین ذائقہ سا منه میں اترتا ہے وہ بہن کی رس بھری مسمیوں کا پسینہ ہوتا ہے …بھائی اب کچا دودھ میسر نہیں تو پسینہ ہی سہی … مگر خیر یہ تو ابتداء ہے … پھر کچھ خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں بہن کی پینٹی میں سے اسکی جھانٹ کا بال مل جاتا ہے … انکی منزل کے قریب ترین رہنے والی چیز کو دیکھتے ہی لن خوشی کے مارے منی کے آنسو رونے لگتا ہے … اب جب بہن پہ لٹو ہو ہی جائے تو آہستہ آہستہ اسکی ہر بات میں انٹرسٹ ڈیولپ ہوتا ہے اور اسکی ہر حرکت جان لیوا ثابت ہوتی ہے … وہ مسکرائی تو دل کیا لن نکا ل کر گالوں پہ رگڑ دیں … کہیں زرا جھکی تو قمیض میں یوں جھانکیں گے جیسے اندر کوئی خزانہ پڑا ہوا ہے … زرا بےدھیانی میں اسکی قمیض کمر پہ سے ہٹی . . دِل کیا دیوانہ وار اس کے بدن کو چومتے جائیں … سارا دن اس کے باتھ روم میں جانے کا انتظار کرنا تا کہ وہ نہا کر اپنے اُترے کپڑے واشروم میں چھوڑے تو یہ اس کے انڈر گارمنٹس پہ مٹھ کی برسات کر آئیں … کبھی بہن کو سوتے ہوۓ دیکھا تو لگے اسکی جوانی کو نہارنے … بس یونہی دن رات کٹتے ہیں اور پھر رات کو خواب میں بہن کی ٹھکائی علیحدہ سے … اور احتلام کی مصیبت علیحدہ … یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے مگر صرف یکطرفہ محبت کی طرح یکطرفہ ٹھرک … کیوں کہ بہن ہے کہ اپنے دبنگ ممے لیے گھر میں بے دھڑک گھومتی پھرتی رہتی ہے … اس کے سینے کا یہ حسن کب اس کے سگے بھائی کا سینے کا بوجھ بن گیا اس بیچاری کو کوئی خبر ہی نہیں … ٹائیٹ تنی ہوئی مگر کومل گانڈ علیحدہ قیامت ڈھاتی پھرتی ہے … اور اس کے چلنے سے اسکی گانڈ کے زیرو بم کس رشتے کے تقدس کو پامال کر جاتے ہیں وہ ان سب سے انجان ہوتی ہے … یا شاید جان کر انجان بنی رہتی ہے … شاید اسے بھی اپوزٹ سیکس کو ترسانے میں خوب مزہ آتا ہے چاھے وہ اسکا بھائی ہی کیوں نا ہو…خیر حاصل کلام یہ کہ جوانی میں پیر رکھنے کے بَعْد ان سب فیلنگز کا ذمے دَار نا تو بھائی ہوتا ہے نا ہی بہن بس سب نیچرل ہوتا ہے ہاں مگر کچھ لوگ اِس جوانی کی دہکتی آگ کو بجھانے کے لیے تھوڑی ہمت ضرور دکھاتے ہیں اور پھر جو کامیاب ہوتے ہیں انہیں کیسے اپنے گھر میں جنت ملتی ہے اور کیسے سچا پیار ملتا ہے اِس بات کا اندازہ آپکو اِس اسٹوری کو پڑھ کر ہو جائے گا … 

میری عمر ‫18 سال ہے … چھوٹی سی فیملی ہے . . فادر 50‬ سال ایک بزنس مین … موم 45 سال ایک سوشل ورکر . . ایکچولی فیملی چونکہ کھاتی پیتی ہے اِس لیے موم روایتی امیر بیگمات کی طرح سوسائٹی میں امیج پیدا کرنے میں لگی رہتی ہیں 45 کی ہو کر بھی وہ ایک دم ینگ ہیں . . خود کو خوب فٹ رکھا ہے انہوں نے … ہاں مگر کوئی 2 نمبر عورت نہیں . . ڈریسنگ بھی بالکل سلجھی ہوئی اور حرکتیں بھی … یعنی پیسے نے ہم لوگوں میں بگاڑ پیدا ہرگز نہیں کیا…موم تھوڑی موٹی ہیں مگر بے ڈھنگا جسم نہیں بلکہ متناسب بالکل ایک دم خوبصورت . ہاں مگر پاپا کافی موٹے ہیں اور پیٹ بھی نکلا ہوا ہے … خیر گھرمیں میری موم اور پاپا کے علاوہ اِس اسٹوری کا مین کردار میری ایک نازک سی دلکش اور معصوم سی پیاری سی بہنا بھی ہے … نام ہے حمائل اور عمر ہے 20 سال یعنی مجھ سے دو سال بڑی … میں کالج کا اسٹوڈنٹ ہوں اور وہ یونیورسٹی کی…حمائل کا رنگ بالکل دودھ کی طرح گورا چٹا ہے دودھ ۶۳ کے ہوں گے اور گانڈ 36 کی تقریباً …یوں تو بالکل نازک سی ہے مگر دودھ اور گانڈ دونوں صحتمند ہیں اس کی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی راؤنڈ شیپڈ ہے … کمر پتلی سی بازو بھی پتلے پتلے اور ہائٹ٥ فٹ ٥ انچ جو لوگ اسے اِمیجن کرنا چاہتے ہیں وہ فرینچ ایکٹریس کر ولینا کو مائنڈ میں رکھ لیں کیوں کہ اسکا فیس بالکل اس سے ملتا جھلتا ہے … خیر یہ تو ہے ہماری چھوٹی سی فیملی مگر یہاں میں آپ کو ایک بات بتا دوں مجھے پہلے پہل اِس ٹاپک سے کہ جس پے میں اسٹوری لکھ رہا ہوں شدید نفرت تھیل

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے پریمیم ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے پریمیم کلب میں شامل کر دی گئی ہے۔

وجہ بہت سمپل سی ہے بھلا کوئی بھی شخص اپنی سگی بہن کے بارے میں ایسے گندے خیالات کیسے رکھ سکتا ہے … بھائی تو بہنوں کی عزت کے رکھوالے ہوتے ہیں کوئی گھر سے باہر بازار میں بہن کو ذرا گندی نظر سے دیکھے تو اسکی آنکھیں نکا ل دیں … بہن کی گا لی تو تن بدن کو آگ لگا دیتی ہے … پتہ نہیں کس بیمار ذہن کے حامل لوگوں کی یہ سوچ ہوتی ہے … گھن آتی تھی مجھے ایسا سوچتے ہوۓ بھی … کوئی مجھ سے پہلے پُوچھتا کہ کوئی اپنی بہن سے سیکس کرنا چاہتا ہو تو اس کے بارے میں میری کیا رائے ہے تو میں تو ایسے بندے کو جان سے ما ر دینے کا کہتا … . ہاں مگر میری یہ سوچ بَعْد میں بَدَل گئی انفیکٹ ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے سوچ بدل دی… 

میں ایک دن اپنے گھر میں برآمدے میں لیٹا ہوا تھا چارپائی پہ … گرمیوں کے دن تھے اِس لیے ایک فرشی پنکھا میری رائٹ سائڈ پر چل رہا تھا چارپائی سے تھوڑا دور… امی ذرا ساتھ والی آنٹی کی طرف گئیں تھیں اور حمائل کچن میں روٹیاں بنا رہی تھی… لیٹے لیٹے میری ذرا آنکھ لگ گئی …خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ٹی وی پر سونگز دیکھ رہا ہوں اور وینا ملک ناچ رہی ہے …اسکا ڈریس خوب سیکسی تھا اور میرا لن فل جوبن پہ کھڑا ہوا تھا . . چونکہ یہ صرف اونگھ تھی اِس لیے میری چارپائی ہلکی سی ہلی تو میری آنکھ کھل گئی . . آنکھ کھلتے ہی جو میں نے منظر دیکھا وہ ناقابلِ یقین تھا میرے لئے … حمائل میری چارپائی کے لیفٹ سائڈ پہ کھڑی تھی اس نے پنک شلوار قمیض پہنی تھی جو کہ کافی باریک سی تھی… اس نے قمیض کا پلو آگے سے پکڑا ہوا تھا اور قمیض کو یوں اوپر اٹھایا ہوا تھا کہ اسکا چاندی سا چمکتا پیٹ آدھا ننگا ہو گیا تھا… میرا لن ابھی بھی تاؤ میں تھا… اسکی قمیض آگے ہونے کی وجہ سے میں قمیض کے نیچے آگیا تھا اور اسے میری آنکھ کے کھلنے کا پتہ نا چل سکا … میں آنکھ کھلتے ہی سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا… اور سچویشن سمجھنے میں مجھے زیادہ دیر نہیں لگی… ایکچولی ہوا یوں تھا کہ وہ کچن میں روٹیاں بنا رہی تھی اور اندر پنکھا تو چل نہیں رہا تھا اِس لیے گرمی بلا کی تھی … . وہ برآمدے میں پنکھے کے سامنے ذرا پسینہ سکھانے آئی اور پنکھے کے سامنے اِس لیے نہیں کھڑی ہوئی کہ کہیں ہوا کے رکنے کی وجہ سے میری آنکھ نا کھل جائے لہذا وہ میرے اور پنکھے کے بیچ میں آنے کی بجائے میری دوسری طرف ( لیفٹ سائڈ پہ ) آ کر کھڑی ہو گئی … اس نے یقینا اِس بات کی تسلی کی ھو گی کہ میں سو رہا ہوں یا نہیں اور پھر کنفرم کرنے کے بَعْد قمیض اٹھا کر پسینہ سکھانے لگی ہو گی … لیکن دلچسپ حرکت یہ ہوئی کہ اِس دوران اس نے ٹانگیں چارپائی سے لگا دیں اور اسی وجہ سے میری چارپائی میں ذرا جنبش ہوئی جسکا اسے تو پتہ نہیں چلا مگر میری آنکھ کھل گئی … اور یہ شاید بہن کی دہکتی جوانی کا اثر تھا کہ خواب بھی سیکسی آیا اور لن اسکی پُھدی سے اٹھتی ہوئی گرمی ( وارمتھ ) کے سگنلز کو کیچ کرنے لگا اور ایک دم کھڑا ہو گیا …خیر میں چُپ چاپ لیٹا یہ حَسِین نظارہ دیکھنے لگا… یہ سب اصولی طور پہ تو غلط لگا مگر جب لن بھی جوش میں ہو اور سامنے ایک سیکسی ان چھوا کومل بدن بے پردہ ہو تو انسان کی رائے بدل ہی جاتی ہے … اتنے میں حمائل آگے کو جھکی وہ پنکھے کی ہوا کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنا چاہتی تھی لہذا مجھ پر کسی کمان ( بو ) کی طرح سایہ کیے جھک گئی … اور پھر اس دلکش پری نےاپنی قمیض اور اوپر اُٹھائی ہوا کے جھونکے نے اسکی قمیض کے اگلے حصے کو خوب پھولا کر رکھ دیا جیسے کوئی بہت بڑا غبارہ ہو اور قمیض کا پچھلا حصہ ہوا میں جھنڈے کی طرح لہرانے لگا… 

لہذا دوستو اب نیچے لیٹے ہوۓ اِس بھائی کے لیے منظر کچھ یوں تھا کہ اسکی جوان اور پاکیزہ بہن اپنی شلوار کے اوپر سے اپنے مموں تک بالکل ننگی اپنے بھائی سے ڈیڑھ دو فٹ کی دوری پہ تھی… اسکن کلر کے برا میں قید ممے بھی نیچے سے خوب جچ رہے تھے … ایک آدھ بار بغل بھی دِکھ گئی … پیچھے سے بھی قمیض ہوا میں تھی… بس یوں سمجھ لیں کہ آپکی بہن آپ کے سامنے اچانک صرف شلوار اور برا میں آ جائے تو جو کیفیت آپ کی اس لمحے ھوگی وہی میری ہو گئی تھی… خیر جب وہ آگے کو جھکی تو ایک زبردست بات ہوئی … ہوا یہ کہ چونکہ وہ چارپائی سے چپکی ہوئی تھی اِس لیے اسکی شلوار میں کھچاؤ پیدا ہوا اور آگے جھکنے سے اس کی شلوار تھوڑی نیچے ہو گئی … یعنی ایک ہی وقت میں کھچاؤ کی وجہ سے ٹائیٹ بھی ہوئی اور پھر نیچے بھی … اسکی شلوار جو پہلے اسکی ناف سے 2 انچ نیچے تھی مزید ایک انچ نیچے ہو گئی … کیا کمال کا منظر تھا یوں لگا جیسے شلپا سیٹھی ساڑی باندھے سامنے کھڑی ہو… شلوار ٹائیٹ ہونے کی وجہ سے اسکی پھولی ہوئی چوت بھی واضح ہونے لگی پھر شلوار کے باریک ہونے کی وجہ سے جسم کی ہلکی ہلکی جھلک بھی دکھنے لگی… اس کے جھکنے کی وجہ سے اسکی پُھدی اور میرے کھڑے ہوۓ موٹے اور 8 انچ لمبے لن کے بیچ میں آدھے فٹ کا فاصلہ رہ گیا تھا… 

Share this post


Link to post
Share on other sites

یعنی وہ ذرا غیر متوازن ہو کر گرتی تو اسکی کنواری چوت سیدھا اس کے بھائی کے ٹوپے پہ ہوتی… یوں ایک خوشگوار حادثے کے نتیجے میں ایک بہن اپنے سگے بھائی سے اپنی سیل تڑوا بیٹھتی … آہ کاش… اتنے میں ڈور بیل بجی وہ فوراً مڑی میں نے بھی آنکھیں کلوز کر لیں پتہ نہیں جاتے جاتے اس نے میرا لن دیکھا یا نہیں … خیر میں اب اُلٹا لیٹ کر سوچنے لگا . . اُلٹا اِس لیے لیٹا کہ دروازے پہ امی نے ھونا تھا وہ اندر آتے ہی میرے لن کو اِس طرح کھڑا دیکھتی تو کیا سوچتی کہ گھر میں اسکی جوان بہن کے سوا تو کوئی ہے نہیں لہذا اسی کی چوت پہ ڈورے ڈال رہا ہو گا … یہ نہیں سوچیں گی کہ بہن نے ابھی کونسی قیامت کے جلوے دکھائے ہیں … اِس مسكین لن کی کوئی کہاں سنتا ہے …

خیر میں اُلٹا لیٹا سوچنے لگا… بھائی سچ تو یہ ہے کہ ہم لوگ انتہائی منافق ہیں … جب دیکھو ایک ڈرامہ رچایا ہوا ہے غیرت کا… بہن بھائی کے رشتے کےتقدس کا… بھلا مجھے ایک بات بتاؤ جب یہ بھائی اپنی نازوں پلی بہن کو کسی اجنبی کی ڈولی میں بٹھاتے ہیں تو انکی غیرت کو ٹھیس نہیں لگتی… یہ جانتے ہوۓ کہ یہ جو رشتہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بنا ہے جسے لڑکی کا باپ اپنا بیٹا کہہ رہا ہے یہ ہٹا کٹا جوان آج رات انکی بہن بیٹی کی جوانی کی دھجیاں اڑا دے گا … اس کے کانوں کی لو کو چوسے گا اس کے لبوں کو چومے گا … چوت پر تھپڑوں کی برسات کرے گا … بُنڈ پر چکیاں ڈالے گا … بغلوں میں لن رگڑے گا … بہن کی صراحی دار گردن پہ اپنی گرم سانسیں پھینکے گا … اور یہ بہن بھی کسی پروفیشنل رنڈی کی طرح اس کے نیچے دبی سسکاریاں لیتی ہوئی اسکی کمر کو نوچتی ، رس چھوڑتی رہے گی … مزے سے کانپے گی تو کبھی اس سے لپٹ جائے گی … سوچو ذرا یہ جو اب اسٹائل سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر كھانا کھاتی ہے سہاگ رات پہ پورا لن نگل جائے گی … تب کہاں جاتی ہے آپکی غیرت … جس نے اسے بچپن سے پالا اس کے لیے اس کے جسم کو چھونا غلط اور جو کچھ بھی نہیں لگتا وہ ایک رات میں نچوڑ ڈالے … یہ کہاں کا انصاف … پھر ذرا غور کریں ہماری بہن تقریباً 14 سال سے جوان ہو جاتی ہے اور شادی کب ہوتی ہے 24 25 یا اِس کے بھی بَعْد اتنے عرصے میں اسکی کتنی جسمانی ریکوائرمنٹس ہیں جو پوری ہونے سے رہ گئیں کبھی سوچا کسی نے … جب یہ جوان ہوئی اور ممّے سر اٹھانے لگے تو اِسے سینے میں گلٹیاں بننے کی وجہ سے کتنا دَرْد ہوا کبھی مسلا آپ نے اِس کے مموں کو… کبھی کوشش کی اِس کو آرام پوھنچانے کی… چھوٹی تھی تو باپ نے سینے سے لگا کر سلایا … جب سینے سے لگانے کی عمر ہوئی تو بستر علیحدہ کر دیا… بچپن میں پیار نا بھی کرتے تو خیر تھی لیکن جوانی میں ایک بار اسے مظبوط بانہوں میں جکڑنا ضروری تھا… . ایک کتیا جب گرم ہوتی ہے تو اسکا مالک اس کے لیے شہر بھر میں صحت مند سے صحت مند کتا چنتا ہے … آپکی بہن نے جوانی میں قدم رکھنے سے لے کر شادی تک ایسی کتنی راتیں جوانی کی گرمی میں جلتے ہوۓ بستر پر کروٹیں لے لے کر گزا ر دیں لیکن آپ نے کبھی اسکی آگ کو ٹھنڈا کرنا گوارہ نا کیا… سچ تو یہ ہے کہ یہ بھائی ہونے کے ناتے ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی کہ بہن کے جسم کی آگ کو ٹھنڈا اور بستر کو گرم رکھیں … اگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ہفتے میں ایک رات ایک بھائی کو اپنی بہن سے لپٹ کر سونا چاہیے … آج مغرب کی عورتیں اسی لیے کونفیڈنٹ ہیں کہ وہ کئی مردوں سے سچا پیار حاصل کر چکی ہیں …… ماہر نفسیات بھی یہی کہتے ہیں کہ لڑکیوں میں چڑچڑا پن اور کم برداشت کی وجہ سیکس کی کمی ہے … ایسے کئی خیالات میرے ذہن میں جنم لینے لگے اور میں شیطانی سوچ کے زیر اثر جانے لگا…

Share this post


Link to post
Share on other sites
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...