Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Play_Boy007

دل کے دورے سے بچنے کا آسان نسخہ: کھانے میں نم

Recommended Posts

کھانے میں نمک کی مقدار معمولی کم کر دینے سے دور رس طبی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک میں روزانہ نمک کی مقدار میں تین گرام، یعنی صرف ایک چمچہ، کم کرنے سے سالانہ 32ہزار فالج کے حملے اور 54ہزار دل کے دوروں کو روکا جا سکتا ہے۔ فالج یا سٹروک میں رگوں کے اندر خون کا لوتھڑا جم جانے کی وجہ سے دماغ کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے، جس سے جسم کا کوئی حصہ مفلوج ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے نمک کی کمی کے طبی اثرات کے بارے میں پیش گوئی کے لیے ایک اچھوتا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے۔ ماہرین نے اس پروگرام کی مدد سے 35 سے 84 برس کی عمر کے دل کی بیماری میں مبتلا افراد پر ریسرچ کے بعد یہ پتا چلایا کہ اگر روزانہ نمک کے استعمال کی مقدار میں صرف ایک گرام (یعنی ایک تہائی چمچ) ہی کمی کر دی جائے تو اگلے دس سال کے لیے ہائی بلڈ پریشر کا علاج سستی ترین گولی پر اٹھنے والے خرچ سے بھی سستا ہو جائے گا۔

بہت سے لوگ صحت بخش خوراک کھانے کے حوالے سے صرف کیلوریز کا خیال رکھتے ہیں لیکن نمک کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ نمک کے استعمال میں کمی کی کوئی ہدایت سامنے آئی ہے۔ گذشتہ نومبر کو میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والے ایک جائزے میں کہا گیا تھا کہ اگر ہر شخص اپنی خوراک میں نمک کی مقدار آدھی کر دے یعنی لگ بھگ پانچ گرام یومیہ، تو اس سے فالج کی شرح میں 23 فیصد اور دل کی بیماری میں مجموعی طور پر 17 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔

بہت سے مغربی ملکوں کی طرح امریکہ کے باشندے اوسطاً لگ بھگ دس گرام نمک روزانہ کھاتے ہیں جب کہ صحت کا عالمی ادارہ صرف پانچ گرام اور امریکی محکمہٴ زراعت ساڑھے پانچ گرام نمک روزانہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

نمک کے استعمال میں کمی سے اور بھی بہت سے فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔ایک نئے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ خوراک میں سے روزانہ تین گرام نمک کم کرنے سے صحت کی نگہداشت کے اخراجات میں سالانہ دس ارب سے24 ارب تک کی بچت ہو سکتی ہے۔ جب کہ نمک کی صرف ایک گرام مزید کمی ہائی بلڈ پریشر کے تمام مریضوں کے لیے ادویات کے استعمال سے سستا علاج ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اب تک سامنے آنے والے جائزوں کے نتائج قومی پالیسی میں تبدیلی کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

نمک کی کمی کے فائدے اپنی جگہ لیکن اپنی خوراک میں نمک کی مقدار میں کمی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ یہ درست ہے کہ تین گرام نمک لگ بھگ ایک چائے کے چمچے کے برابر ہو تا ہے ۔ اس لیے نمک کی مقدار میں مطلوبہ کمی کے لیے قومی پیمانے پر بھرپور کوشش کی ضرورت ہے۔

Please login or register to see this image.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×