Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Play_Boy007

عورتوں کی زبان سیکھنے کی صلاحیت

Recommended Posts

مردوںکو زبان سیکھنے کیلئے عورتوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے

لندن۔ پچھلے کئی عشروں سے سائنسی مشاہدوں میں آتا رہا ہے کہ عورتوں کی زبان سیکھنے کی صلاحیت مردوں سے بہتر ہوتے ہیں، لیکن آج تک اس کی سائنسی توجیہ پیش نہیں کی جا سکی تھی۔ تاہم اب ایک تازہ ترین تحقیق میں اس بات کی سائنسی بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ شکاگو کے قریب واقع نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی کے ڈگلس برمن اور ان کے ساتھیوں نے نو سے 15 برس کے لڑکوں اور لڑکیوں پر ایک تجربہ کیا، جسے اس میدان میں سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ہم نے ڈاکٹر برمن سے ان کے تجربے کی تفصیلات جاننا چاہیں تو انھوں نے بتایا کہ پچھلے چالیس پچاس برسوں سے اس طرح کے مشاہدات سامنے آ رہے تھے کہ عورتوں کی زبان سیکھنے کی صلاحیت مردوں سے بہتر ہوتی ہے، لیکن ہماری تحقیق نے اسی بات کی حیاتیاتی وجوہات جاننے کی کوشش کی ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق اس تجربے کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کو نئے الفاظ سکھائے گئے۔ اس دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ لڑکیوں کے دماغ کے وہ حصے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جو خاص طور پر زبان سیکھنے کے عمل سے منسلک ہیں۔ یہ وہ حصے ہیں جو زبان کو تجریدی طور پر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر لڑکوں کے دماغوں میں الفاظ سیکھتے وقت ان حصوں میں زیادہ حرکت دیکھی گئی جو صوتی اور بصری حسیاست کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لڑکوں کو زبان سیکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے اور انھیں بصری اور اور صوتی حسوں سے بھی کام لینا پڑتا ہے، جب کہ لڑکیاں دماغ کے اندر موجود زبان کے لیے مخصوص مراکز سے کام لیتی ہیں۔ اس تحقیق سے سکولوں میں بھی کام لیا جا سکتا ہے اور لڑکوں کو الفاظ سکھانے کے لیے صوتی (مثال کے طور پر استاد کی آواز) اور بصری (مثال کے طور پر تختہ سیاہ پر لکھ کر) طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں لڑکیوں کو صرف ایک ہی طریقے سے (صوتی یا بصری) سے زبان سکھائی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر برمین اور ان کے ساتھیوں نے 31 لڑکوں اور 31 لڑکیوں پر یہ تجربہ کیا جن کی عمریں نو سے 15 برس کے درمیان تھیں۔ ان کے دماغوں کے ساتھ جدید ترین fMRI آلات نصب کیے گئے جس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی خاص کام کو کرتے ہوئے دماغ کو کون کون سے حصے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کی آنکھوں کے سامنے یا تو ایسے کارڈ لہرائے گئے جن پر دو الفاظ لکھے ہوئے تھے، یا انھیں وہی الفاظ سنائے گئے۔ اس کے بعد ان بچوں سے یہ پوچھا گیا کہ کیایہ الفاظ ملتے جلتے تھے، یا ہم قافیہ تھے، مثال کے طور پر pint اور mint یا پھر gate اور hate۔ کچھ الفاظ ایسے بھی تھے جن میں کوئی قدرِ مشترک نہیں تھی، جیسے jazz اور list۔ڈگلس برمین کہتے ہیں لڑکیوں کے دماغوں کے وہ حصے زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جو زبان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ان حصوں میں superior temporal gyrus شامل ہے جو سنے ہوئے الفاظ کو سمجھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب کہ inferior frontal gyrus سنی ہوئی زبان پر تعامل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور حصہ fusiform gyrus ہے جو الفاظ کے ہجے کرنے اور معنی اخذ کرنے کا کام کرتا ہے۔ برمین کہتے ہیں کہ مؤخرالذکر دو حصے لڑکیوں کی نسبتاً بہتر زبان دانی کی صلاحیت میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ لڑکیوں نے وہ لفظ سنا یا لکھا ہوا دیکھا۔ اس سے انداز ہوتا ہے کہ لڑکیوں زبان کو لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ تجریدی انداز سے سیکھتی ہیں۔ جب ہم نے ڈاکٹر برمین کی توجہ مشہور کتاب ’دی فیمیل برین‘ کی طرف دلائی جس کے تحت عورتیں دن میں 20 ہزار الفاظ بولتی ہیں اور مرد صرف سات ہزار الفاظ۔ تو ان کا کہنا تھاکہ یہ تحقیق متنازعہ ہے اور اصل بات یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت دن میں کتنے الفاظ بولتا ہے اس کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس قسم کے سماجی حالات میں رہ رہا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ’سوشل‘ ہوتی ہیں، اس لیے انھیں زیادہ بولنا پڑتا ہے اور قدرت نے اسی کام کے لیے انھیں خصوصی صلاحیتوں سے نوازا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×