Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

کبھی تو خوشیاں ملیں گی

Recommended Posts

کبھی تو خوشیاں ملیں گی

وہ بے حد خوبصورت سیج پر دلہن بن کر بیٹھی ہوئی تھی ،دل میں نئی نویلی دلہنوں کی طرح جزبات کا طلاطم تھا نہ کوی خوبصورت احساس بس وہم اور ڈر و خوف کا بسیرا تھا،تھکن سے اکڑی ہوئی کمر سیدھی کرنے کی غرض سےسرہانے سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں کچھ سکون محسوس ہوا تو ذہن خود بخود چھے ماہ پہلے کی زندگی میں چلا گیا۔اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ۔ ۔ ۔

صبور صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھے۔زندگی بھر حق حلا ل کی کمائی سے انہوں نے گھر چلایا اور بہت اچھا چلایا خاندان میں وہ خاصے متمول گھرانوں میں شمار کیے جاتے تھےاور خاندان بھی کافی بڑا تھا۔بڑے بیٹی اور ؓییٹےکی شادی انہوں نے بڑی دھوم دھام سے خانداں میں ھی کی تھی ۔بڑے بیٹے کا ایک ھی بیٹا تھا جبران جبکہ بیٹی کی بھی ایک ہی بیٹی تھی رانیہ،جبرا ن اور رانیہ میں دو سال کا فرق تھا دونوں میں بھت دوستی تھی مگر دونوں کی لڑایاں بھی اتنی ھی ھوتی تھیں رانیہ غصے کی بھت تیز تھی اپنی چیز کسی کو دینا اسکی فطرت کے خلاف تھااکلوتی ہونے کی وجہ سے بگڑ بھی گی تھی جبکہ والدین کے پیارنے جبران کی شخصیت مکمل کر دی تھی اور کچھ وہ فطرتا" حساس اور نرم دل تھا۔جب بھی ان دونوں کی لڑای ھوتی تو جبران بھاگ کر چاچو کے پاس پہنچتا اور شکایت کی پٹاری کھل جاتی پھر چاچو ھی دونوں کی صلح کرواتے۔جبر ان چاچو سے بھت زیادہ لگا ھوا تھادونوں ایکدوسرے کے بنا رہتے نہیں تھے۔صبور صاحب چھوٹے بیٹےکمال کو بھی بھت چاہتے تھےایک تو وہ سب سے چھوٹا تھا دوسرااسکی شکل اپنے دادا جی سے بھت ملتی تھی صبور صاحب کہتےکمال کو دیکھوں تو ابا جی یاد آتے ہیں۔

زندگی اچھے سے چل رہی تھی جب کمال کی پڑھای ختم ھوی تو اس نے دوستوں کی دیکھا دیکھی امریکہ جا کر پڑھنے کی ضد کی اور اس ضد کے آگے صبور صاحب بےبس ہوگےتو انہوں نے ایک شرط رکھی کے اپنی بہن کی بیٹی سے کمال کی منگنی کریں گے۔ پھر ہی اسے جانے دیں گےاپنے شوق کی خاطر کمال مان تو گے مگر دل سے راضی نہ تھے تبھی امریکہ میں پڑھای کے دوران ایک انگریز نام نہاد مسلمان لڑکی سارہ کے عشق گرفتار ہوے اور اس سے شادی کرلی صبور صاحب زندگی بھر کسی کے آگے نہ جھکے تھے مگر لاڈلے بیٹے نے انھیں اپنی بہن کے آگے شرمندہ کر دیا وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکے اور سب کو روتا چھوڑ کر چلے گے،کمال نے سنا تو بھت پچھتایا مگر اب کیا ھوسکتا تھا بس پچھتاووں اورشرمندگی نے ایسا گھیرا کے عمر بھر پاکستان واپس نہ جانے کی قسم کھالی۔ادھر جبران چاچو کے جانے سے بھت اداس تھا پھر دادا کی حالت نے اور چاچو کی نافرمانی اور اس وجہ سے دادا کے انتقال نے اسکا دل چاچو سے برا کر دیا اور ان سب کی وجی وہ انگریز چاچی کو مانتا تھا اور بنا دیکھے ھی ان سے نفرت بھی کرتا تھا۔

دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے اس بیچ معلوم ہوا کہ کمال کے ہان بیٹی کی پیداش ہوی ھے کمال گھر فون کرتے تو تھے مگر ھمیشہ بےحد شرمندہ اور دکھی لگتے تھے اسی وجہ سے آہستہ آہستہ انھیں سب نے معاف کر دیا مگر وہ خود کو کبھی معاف نہ کر سکے۔اسی لیے پاکستان نہیں آتے تھے۔

دیکھتے دیکھتے انکی بیٹی" دیا" بھی اب بڑی ہو گی تھی حسن اس نے مغرب کا اور اخلاق مشرق کا لیا تھا اسکی تربیت باپ نے ہی کی تھی ماں مسلمان ہونے کے باوجود اسلام اور اخلاق سے کوسوں دور تھی سو یہ زمہداری باپ نے ہی اٹھای اور خوب ھی اٹھای انہوں نےہر طرح سے مکمل تربیت کی کوشش کی تھی

دیا اب بیس سال کی ہو گی تھی تو کمال صاحب کو اسکی شادی کی فکر ستانے لگی ادھر انکی بیوی سارہ کا بھی کوی کزن سنی آجکل گھر کے بھت چکر لگا رہا تھا سارہ نے اسکو بیٹی دینے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر وہ کہیں سے اس اہم زمہداری کو اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔پورا دن فضول حرکتوں مین وقت کی بربادی اور ادھار پر اسکا گزارہ ہوتاتھا۔کم ال دیا کو اس سے بچانا چاہتے تھے

ایک دن فون بات کرتے ہوے بھای سے تذکرہ کیا توبڑے بھای نے انھیں دیا کو پاکستان بھیجنے کی بات کی وہ بھای بھاوج کی چاہت اور اخلاق کے ھمیشہ متعرف رہے تھے سو انھوں نے دیا کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا اس بیچ ایک دن سنی کی حد سے بڑھتی ہوی جرات نے دیا کوبھت خوفزدہ کر دیا تھا وہ سنی کو بھت برا سمجھتی تھی اسکی حرکتیں بھی ایسی ہی تھیں اب تو وہ نشہ بھی کرنے لگا تھا اسے دیکھ کر دیا کو کراہت کا احساس ہوتا تھا،وہ جلد سے جلد اس مصیبت سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی تبھی جوں ہی کمال نے بیٹی سے پاکستان جانے کی بات کی تو وہ فورا" راضی ھو گی اور ماں سے چھپ کر تیاری کی اور باپ کی شفقت کے چھاوں تلے امریکہ سے پاکستان آگی پاکستان آتے ہوے وہ بھت پریشان تھی کہ جانے سبکا رویہ کیسا ہو مگر یہاں سب نے ہی اسے بھت محبت دی سواے رانیہ اور جبران کے, رانیہ کو ناجانے کیوں اس سے چڑ تھی اور جبران تو شہر سے باہر ھوتا تھا۔دیا فطرتا"محبت کرنے والی اور نرم دل حساس طبیعت لڑکی تھی اسے رانیہ کےروییے کا اندازہ نہیں ہوا رانیہ بھی جب اس سے ملتی تو اچھے سے ہی ملتی تھی اسلیےدیا کو احساس ہی نہ ہو سکا کہ رانیہ دل میں اسکے لیے کیسے جزبات رکھتی ہےباقی تو سب نے ہی دیا کو پسند کیااور اس نےبھی بھت جلد اپنی معصومیت اور اچھی فطرت کے باعث سب کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔تای سے ملکر اسے ممتا کا احساس ہوا وہ اکثر سوچتی کہ ممی کے اندر کبھی ایسی محبت کیوں محسوس نہ ہوی۔

جاری ہے

Edited by Guru Samrat

Share this post


Link to post
Share on other sites

Guru Jee, Nihayat hi Achhote Mozoo per likha hai aapne, Diaar e Ghair may basne waale Pakistani Shuru Shuru may to bohat hi Khush Hote hain Lykin Jab unki Aulaad Jawan hone lagti hai to Phir Unko Pakistan ki Yaad sataane lagti hai aur apni Daughters ke Haath Peele Karne ka Khiaal bhi sataane lagta hai.....

Waiting for Updates

Share this post


Link to post
Share on other sites

تایا جان اور تای جان نے اسے بھو بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا پھر کمال صاحب سے فون پر رضامندی لی گی تو انھوں نے اللہ توکل کرکے ہامی بھر لی ۔ ادھرجبران نے بھی رضامندی دے دی جبکہ دیا نے اب تک جبران کو دیکھا تک نہ تھا جبکہ رانیہ سے سنتی آی تھی کہ جبران نہ صرف چاچا چاچی سے بلکہ انکی وجہ سے سارے امریکیوں سے ہی نفرت کرتا ہےاور کبھی بھی ماں باپ کی بات پہ راضی نہ ہوگا ،دیا ڈرتی تھی کہ کہیں جبران اسے نا پسند نہ کر دے مگر کسی سے کچھ کہ نہیں سکتی تھی بس وہ اتنے دنوں میں تای جان سے ہی قریب ہوی تھی مگر اس خوف کا اظہار وہ ان سے بھی نہ کر سکتی تھی۔بات پکی ہونے کے تیسرے دن تای جان نے اسے پریشان دیکھا تو اسے سمجھانے کی کوشش کی اور بتایا کہ جبران دل کا برا نہیں ہے بس غصے کا تیز ہے اور کچھ اثر گزری باتو ں کا ابھی تک ہے لیکن ذرا سی برداشت سے سارے مسلے حل ہو جایں گے وہ کہتیں تھیں کہ دیا اتنی اچھی ہے کہ سب خود ہی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر بھلا جبران کیوں نہیں سو دیا کو کچھ امید تو تھی مگر دل میں ڈر بھی تھا شادی سے دو دن پہلے جبران آگیا تھا

دیا نے دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھا تھا لمبا چوڑا ساننولی رنگت والا جبران اسکے من کو بھا گیا تھا اونہہ ابھی نہیں ابھی میں اسے اپنے دل میں جگہ کیسے دے دوں نجانے اسکے دل میں کیا ہے۔اس نے خود کو سرزنش کی اور ڈھیروں اداسی من میں سما گی۔دونوں ایک دوسرے سے ملے بھی مگر سبکی موجودگی میں سب کے ہنسی مذاق کا نشانہ بنتے رہے اور بات نہ ہو سکی دیا کے سارے خوف جوں کے توں دل میں موجود تھے اور آج سجی ہوی سیج پر وہ جبران کے نام ہو کر بیٹھی تھی مگر بھت ڈری ھوی ہراساں سی اچانک درواذے پر دستک ہوی تو وہ جلدی سے سنبھل کر بیٹھ گی اتنے میں تای جان کی آواز نے اسے حیران کر دیا۔تای جان نے بتایا کہ رانیہ کی طبیعت اچانک خراب ہوگی ہے جبران اسے لیکر اسپتال گیا ھے پھپا جان اور سارے مرد ادھر ہی ھیں ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ رانیہ نے کسی بات کی ٹینشن لی ھے جسکی وجہ سے نروس بریک ڈاون کا خطرہ تھا مگر شکر ہیکہ اب وہ خطرے سے باہر ہے اور ایڈمٹ ہے جبران وہیں ہے دیا کو بھت افسوس ہوا کہ اچانک رانیہ کو کیا ہو گیا لیکن وہ اسکے لیے دعا کرتے کرتے سو گی۔

صبح آنکھ کھلی تو دن چڑھ آیا تھا معلوم ہوا جبران وہیں ہے رانیہ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گی تھی مگر اب ٹھیک ھے۔آج تو انکا ولیمہ تھا کیونکہ دعوت دی جا چکی تھی اسلیے سب شریک ہوے اور دعوت ختم ہو گی آج بھی پورا دن جبران سے بس سرسری سی بات ہوی اور رات کو وہ پھر اسپتال چلا گیا دوسرے دن رانیہ کی طبیعت کچھ ٹھیک ہوی تو وہ لوگ سب گھر واپس آے پھر رات تک پھپو کے پورشن میں رہے اگلے دن جبران اور دیا کی روانگی تھی سب اپنی اپنی تیاریوں میں تھے جب رانیہ دیا کہ پاس آی

"دیا بولی: رانیہ تم ارے مجھے بلا لیتیں تو میں آجاتی کیا ہوا کچھ چاھییے کیا

رانیہ بھت عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ

رہی تھی دیا گھبرا سی گی۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×