Jump to content
URDU FUN CLUB
khoobsooratdil

رام لال کی خواہش

Recommended Posts

پارٹ 1

حریر کراچی کے ایک پوش علاقے میں رہنے والے ہندو بزنس مین رام لال اس کی بیوی آشا ‘ ایک مسلمان بزنس مین دوست ارشداور اس کی بیوی ارم کے بارے میں ہے میں یہ تحریر باری باری تمام لوگوں کی زبانی آپ لوگوں کے سامنے پیش کروں گا امید ہے کہ آپ کو یہ پسند آئے گی

میرا نام رام لال ہے اور میں اندرون سندھ کا رہنے والا ہوںابتدائی تعلیم اپنے شہر سے حاصل کی اور پھر آبائی کاروبار سنبھال لیا میں نے اپنے بزنس کو وسعت دینے کے لئے کچھ عرصہ قبل کراچی کا رخ کیا جہاں سے مجھے بہت اچھا رسپانس ملا جس پر میں نے اپنا تمام بزنس کراچی منتقل کردیا اور پھر خود بھی اپنی بیوی آشا کے ساتھ کراچی شفٹ ہوگیا میری عمر 32 سال ہے اور میں اوسط درجے کی شکل وصورت کا مالک ہوں قد درمیانہ جسم پتلا اور نین نقش بھی اوسط درجے کے ہیں میری تین سال پہلے اپنی ایک کزن آشا کے ساتھ شادی ہوئی جس کے نین نقش تیکھے ہیں اور رنگ سانولہ ہے آشا ایک خوب صورت جسم کی مالک ہے اور کٹر قسم کی مذہبی خاتون ہے جبکہ میں مذہب کے بارے میں تھوڑا لبرل ہوں شادی سے پہلے مجھے سیکسی فلمیں دیکھنے کا بہت شوق تھا اور تقریباً ہر روز میں نت نئی سیکسی فلمیں دیکھا کرتا تھا شادی کے بعد یہ شوق مزید بڑھ گیا اور میں اب بھی تقریباً ہر روز ہی سیکسی فلمیں دیکھتا ہوںاس کے علاوہ میں نیٹ پر لوگوں کی سیکسی سٹوریاں بھی پڑھتا رہتا ہوں مجھے زیادہ تر گینگ بینگ اور سویپ سٹوریاں پسند ہیں اور میں انہیں بہت شوق سے پڑھتا ہوں ان سٹوریوں کو پڑھنے کے بعد مجھے بھی اپنی بیوی کے ساتھ گینگ بینگ اور سویپ کا شوق پیدا ہوا اور میں اکثر اس بارے میں سوچا کرتا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے میں نے کئی بار اپنی بیوی آشا سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی لیکن پھر ہمت نہ پڑی کہ اس سے اس بارے میں بات کروں جس کی وجہ سے اکثر میں چپ رہتا لیکن ہم بستری کے وقت اکثر میں اپنے ذہن میں سوچ لیتا کہ میں آشا کی جگہ کسی اور کے ساتھ ہم بستری کررہا ہوں جس سے مجھے ایک عجیب قسم کی لذت ملتی جیسے جیسے وقت گزرتا گیا میری خواہش مزید بڑھتی گئی ایک روز میں نے نیٹ پر بلیو فلم لگا کر آشا کو بھی ساتھ بٹھا لیا لیکن وہ کہنے لگی کہ کیا بکواس دیکھ رہے ہو کچھ اور نہیں دیکھ سکتے لیکن میں نے اس کو اپنے ساتھ بٹھائے رکھا فلم دیکھتے ہوئے وہ کافی گرم ہوگئی اس رات ہم بستری کے دوران آشا کافی حد تک گرم محسوس ہوئی جس پر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی کی ایک کرن نظر آئی یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری سمجھوں گا کہ میری بیوی روٹین کے طریقوں سے ہٹ کر کسی اور طریقے سے سیکس کرنے کو بھی برا سمجھتی تھی جس پر میں کافی بور ہوتا تھا جس روز ہم نے اکٹھے فلم دیکھی اس روز ہم نے فلم میں دیکھنے والے ایک نئے طریقے سے بھی سیکس کیا جس کو میرے علاوہ آشا نے بھی بہت انجوائے کیا اگلے روز میں نے اس کو پاس بٹھا کر ایک گینگ بینگ سٹوری پڑھنا شروع کردی پہلے تو وہ ایسے ہی بیٹھی رہی جیسے کہ میرے کہنے پر بیٹھی ہے اسے اس سٹوری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن جیسے جیسے سٹوری میں کلائمیکس آتا گیا وہ صوفے پر کھسک کھسک کر میرے ساتھ ہوتی گئی پھر اس نے میری کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور پھر مجھے سٹوری مکمل کئے بغیر ہی اس کے ساتھ سونا پڑا اس رات سیکس کے دوران میں نے رک گیا اوراس سے سٹوری کے کرداروں کے بارے میں باتیں کرنے لگا کہ دیکھو یہ لوگ کتنا انجوائے کرتے ہوں گے تو کہنے لگی کہ ایسی باتیں صرف سٹوریوں کی حد تک ہوتی ہیں حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں تو میں نے کہا کہ نہیں ایسا حقیقت میں بھی ہوتا ہے تو کہنے لگی کہ یہ حقیقت ہے تو رہے ہمیں کیا لینا دینا ایسی باتوں سے ‘ میں نے پھر اس سے کہا کہ کاش میں اور ایک ہی کمرے میں ایک اور جوڑے کے ساتھ مل کر سیکس کریں جس میں تم کسی اور مرد کے ساتھ اور میں اس مرد کی بیوی کے ساتھ سیکس کروں تو اس نے مجھے سختی سے منع کردیا کہ آئندہ کبھی بھی ایسی بات نہ کروں ورنہ بہت برا ہوگا لیکن میں نے بات جاری رکھی جس کے نتیجے میں نہ صرف اس دن ہم لوگ سیکس مکمل نہ کرسکے بلکہ اگلے دو تین روز تک آشا نے سیدھے منہ میرے ساتھ بات بھی نہ کی تیسرے دن رات کے کھانے کے بعد میں بستر پر آشا دوسری طرف منہ کرکے لیٹی تو میں نے کندھے سے پکڑ کر اس کا منہ اپنی طرف کیا اور اس سے کہا کہ ناراضگی کس بات کی ہے تو اس نے کچھ کہے بغیر ہی دوبارہ منہ دوسری طرف کرلیا میں نے پھر اس کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا کہ بات اتنی بڑی نہیں ہے جتنا کہ تم نے بنا لی ہے تو کہنے لگی کہ تمہارے نزدیک بڑی نہیں ہوگی میرے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے مجھے آپ کی ذہنیت پر افسوس ہورہا ہے کہ آپ کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ میں نے تو صرف تمہارے ساتھ بات کی ہے حقیقت میں ایسا تھوڑا کررہے ہیں تو کہنے لگی کہ مجھے ایسی باتیں بھی پسند نہیں خیر میں نے اس روز اس کو کئی جتن کرکے منا لیا اور پھر سیکس کے لئے اس کو تیار کیا اس روز بھی سیکس کے دوران میں نے اپنے ذہن میں کسی اجنبی خاتون کو رکھا اور اس کے ساتھ سیکس کرتا رہا جب ہم دونوں فارغ ہونے لگے تو میں پھر رک گیا اور اس سے کہا کہ آشا صرف چند لمحوں کے لئے سوچو کے تم کسی انجانے مرد کے ساتھ سیکس کررہی ہو دیکھنا کتنا مزہ آتا ہے تو کہنے لگی پھر وہی بات اگر ایسی بات کرنی ہے تو میں واپس گاوں چلی جاتی ہوں میں نے اس سے کہا کہ میں نے حقیقت میں ایسا کرنے کو تو نہیں کہا میں تو صرف چند لمحوں کے لئے سوچنے کو کہا ہے تو کہنے لگی میں نہیں سوچتی ایسی باتیں ‘ میں نے اس سے کہا کہ میرے لئے صرف آج۔ میری بات سن کر اس نے آنکھیں بند کرلیںمیں سمجھ گیا کہ اب یہ ضرور کسی اور کے بارے میں اپنے ذہن میں خیال لائے گی اس دن جب ہم دونوں فارغ ہوئے تو کہنے لگی کہ آئندہ میں کبھی بھی آپ کے ساتھ ہم بستری نہیں کروں گی میں نے اس کو بہت سمجھایا لیکن وہ میری بات سننے کو بھی تیار نہ تھی خیر میں اگلے کئی روز تک اسی طرح کرتا رہا سیکس کے دوران اس کو بار بار کہتا اور وہ انکار کردیتی ایک روز جب میں نے حسب معمول اور حسب عادت سیکس کے دوران اس کو کسی اور کے بارے میں سوچنے کو کہا تو کہنے لگی

” کیا ہر روز آپ ایک ہی بات کہتے ہیں میں نے جب پہلے دن ہی آپ کو کہہ دیا تھا کہ میں ایسا نہیں کرسکتی تو آپ مجھے کیوں مجبور کرتے ہیںآپ جانتے ہیں کہ یہ بہت بڑا پاپ ہے“

”میری جان میں تم کو حقیقت میں ایسا کرنے کو تو نہیں کہہ رہا ہمیں اپنی لائف کوانجوائے کرنا چاہئے“

مجھے نہیں کرنا انجوائے میں خیال میں بھی کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی

”میری جان میری خاطر“ میں نے اس کی کس کرتے ہوئے کہا تو اس کے چہرے کے تاثرات جو پہلے بہت خطرناک تھے تھوڑے سے کم ہوگئے اور کہنے لگی

اگر میں نے ایسا کیا تو پھر آپ مجھے حقیقت میں بھی ایسا کرنے کو کہو گے

نہیں کہوں گا پرامس

ایک پرامس آپ کو میرے ساتھ اور کرنا ہوگا کہ آپ آج کے بعد مجھے دوبارہ ایسی بات بھی نہیں کرو گے

ٹھیک ہے ‘ میں نے اس کی ایک اور کس کی اور پھر اس نے آنکھیں بند کرلیں میں نے اس سے کہا کہ ذہن میں سوچو کہ کوئی اجنبی تمہارے ساتھ سیکس کررہا ہے تو اس نے ایک بار آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور ہاں میں سر ہلا کر پھر آنکھیں بند کرلیں

میں نے اس کو پھر کہا کہ جس شخص کے ساتھ تم سیکس کررہی ہو اس کو ایک فرضی نام بھی دو اور سیکس کے دوران اس کو پکارو بھی تو اس نے ایک بار پھر آنکھیں کھول دیں اور کہنے لگی

دیکھو رام لال جی اب آپ جو کہہ رہے ہو مجھ سے نہیں ہوگا میں کسی اور کا نام نہیں پکارسکتی

میری جان یہ سب کچھ ہمیں آج ہی کرنا ہے اس کے بعد نہیں آج جو میں کہتا ہوں ویسا ہی کرو دیکھنا بہت انجوائے کریں گے

ہووووووں ‘ اس نے روہانسی سی صورت بنا کر مجھے دیکھا

صرف آج اس کے بعد کبھی نہیں

ٹھیک ہے مجھے بتاو کیا نام پکارنا ہے

جو تم کو اچھا لگے

ٹھیک ہے آپ کرو میں نام بھی پکاروں گی ‘ اس کی بات سن کر میں نے دوبارہ سے سیکس سٹارٹ کیا میں نے اپنا رکن جو پہلے ہی اس کی پھدی میں تھا اس کو آہستہ آہستہ سے حرکت دینا شروع کردی جس پر آشا آہیں بھرنے لگی آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ اس کی آنکھیں بدستور بند تھیں اور وہ اپنی زبان ہونٹوں پر پھیر رہی تھی

میں نے حرکت تیز کی تو اس کی آہیں بھی تیز ہوگئیں اور اس نے کہا شکیل تھوڑا اور تیز کرو‘ تھوڑا اور تیز۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ

میں نے حرکت مزید تیز کردی اس کی آہوں میں بھی تیزی آگئی ہاں اور تیز اور تیز۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نیچے سے ہل ہل کر میرا رکن مزید اندر تک لے جانے کی کوشش کررہی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر کے گرد لپیٹ لئے اور انگلیاں میری کمر پر پھیرنے لگی میں جیسے جیسے اپنا رکن اس کے اندر باہر کررہا تھا وہ آہیں بھرنے کے ساتھ ساتھ شکیل کو مزید تیزی سے جھٹکے مارنے کو کہہ رہی تھی جس سے مجھے اور زیادہ جوش آرہا تھا میں بھی آنکھیں بند کئے خیالوں میں کسی اجنبی خاتون کے ساتھ لگا ہوا تھا تقریباً پندرہ منٹ بعد جب ہم دونوں اکٹھے فارغ ہوئے تو اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑ دیئے اور میں اس کے اندر ہی فارغ ہوکر اس کے اوپر لیٹ گیا اس کی آنکھیں بدستور بند تھیں میں نے اس کو کس کیا اور پھر اس کے اوپر سے ہٹ کر اس کے ساتھ لیٹ گیا اور اس سے پوچھنے لگا

کیا ایک بات پوچھوں “ اس نے ایک بار آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا

” سچ بتانا کہ آج مزہ آیا“ اس نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور آنکھیں بند کرکے لیٹی رہی تھوڑی دیر بعد میرا رکن پھر سے متحرک ہونے لگا میں نے اس کو ایک بار پھر سے کسنگ کرنا شروع کردی اور وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی میں نے اب کی بار اس کو اپنے اوپر آکر کرنے کو کہا تو وہ مجھے نیچے لٹا کر میرے اوپر آگئی میں نے اس سے پھر کہا کہ اس بار بھی وہ پہلے کی طرح ذہن میں کسی غیر مرد کو رکھ کرے تو کہنے لگی کہ اب نہیں آپ نے پرامس کیا تھا کہ پھر کبھی نہیں کریں گے تو میں نے کہا کہ آج کے بعد نہیں کہنا آج تو تم کو میری بات ماننی ہی پڑے گی تو اس نے آنکھیں بند کیں اور میرا رکن اپنی پھدی میں لے کر میرے اوپر بیٹھ گئی تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھنے کے بعد اس نے اوپر نیچے ہوکر میرے رکن کو اندر باہر کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی ساتھ آہیں بھرنے لگی

میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی چھاتی پر رکھے ہوئے تھے وہ جیسے ہی میرے رکن کو اندر کرتی میں اس کی چھاتیاں دباتا جس سے اس کی آہ نکل جاتی اور وہ آہ ہ ہ ہ ہ شکیل تھوڑا آرام سے۔۔۔۔۔۔ درد ہوتا ہے۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی وہ اوپر کو ہوتی اور میرا رکن اس کی پھدی سے باہر نکلتا تو میں اس کی چھاتی پر ہاتھوں کی گرفت نرم کردیتا اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھے ہوئے تھے اور آنکھیں بند کئے اوپر نیچے ہورہی تھی اور ساتھ میں شکیل کو پکار رہی تھی تقریباً دس منٹ کے بعد وہ فارغ ہوگئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں اب تھک گئی ہوں تم اوپر آکر کرو میں نے اس کو نیچے لٹایا اور اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ کر اپنا رکن اس کے اندر کیا اور جھٹکے دینے لگا وہ پھر سے آہیں بھرنے لگی اور شکیل شکیل کہنے لگی دس پندر ہ منٹ وہ دوسری بار فارغ ہوگئی اور ساتھ میں میں بھی چھوٹ گیا میں نے اس کو کس کیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا میں نے اس سے پوچھا کہ بتاو آج انجوائے کیا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا میں نے پھر پوچھا تو کہنے لگی کہ کیا بتانا ضروری ہے تو میں نے کہا کہ ہاں تو کہنے لگی ہاں کیا ہے لیکن اب مجھے شرمندگی بھی ہورہی ہے کہ ایسا کیوں کیا ہے

اس میں شرمندگی کی کون سی بات ہے تم نے میرے ساتھ کیا ہے کوئی پاپ تھوڑی کیا ہے

ہاں یہ پاپ ہی ہے

میری جان یہ کوئی پا پ نہیں ہے

آج تو میں نے آپ کی بات مان لی ہے لیکن پھر کبھی نہیں ایسا کروں گی

اوکے لیکن یہ تو بتاو کہ کیا فیل کیا

اس نے پھر آنکھیں بند کرلیں جیسا کہ بتانا نہیں چاہتی میں نے بھی زیادہ اس ٹاپک پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھی کیوں اب مجھے اپنی خواہش پوری ہوتی دکھائی دے رہی تھی اس کو تنگ کرتا تو وہ چڑ جاتی جس سے اس بات کا امکان تھا کہ وہ آئندہ میرا کہنا نہ مانتی اس رات کے دو تین دن تک ہم لوگوں نے روٹین میں ہم بستری کی اور میں نے بھی اس کو کوئی فرمائش نہ کی تین چار روز بعد ویک اینڈ پر اس نے مجھے کہا کہ آج کھانا باہر کھائیں گے ہم لوگ کلفٹن کے علاقے میں ایک ریسٹورنٹ پر چلے گئے جہاں ہم لوگوں نے کھانا کھایا اور پھر واپس آگئے راستے میں میں گاڑی چلا رہا تھا اور اس نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا اور ایک ہاتھ سے میری شرٹ کے بٹن کھول کر میری چھاتی کے بالوں سے کھیلنے لگی میں سمجھ گیا کہ آج یہ اچھے موڈ میں ہے گھر پہنچے تو اس نے بیڈ روم میں جاتے ہی میری شرٹ اور پھر پینٹ اور اس کے بعد انڈر ویئر اتار کر مجھے بیڈ پر دھکا دے دیا اور پھر اپنے کپڑے بھی اتار کر بیڈ پر آگئی اور مجھے کسنگ کرنے لگی آج میں حیران تھا کہ آشا کو کیا ہوگیا ہے مجھے یاد تھا کہ شادی کے بعد سے اب تک کبھی بھی اس نے پہل نہیں کی تھی ہمیشہ میں ہی اس کو تیار کرتا تھا خیر میں نے بھی اس کا اسی گرم جوشی سے ساتھ دیا آج اس نے میرے کہے بغیر ہی مجھے نیچے لٹا دیا اور میرے اوپر آگئی اس نے ایک ہاتھ سے میرا رکن اپنی پھدی پر سیٹ کرنے لگی جیسے ہی میرا رکن اس کی پھدی پر سیٹ ہوا میں نے نیچے سے ایک جھٹکا دیا اور میرا پورا رکن اس کی پھدی کے اندر چلا گیا اور اس کی آہ نکل گئی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھے اور جیسے ہی اوپر نیچے ہونے لگی میں نے سوچا آج لوہا گرم ہے چوٹ دے دی جائے میں نے اس کو روک لیا اور کہا

جان آج پھر اس دن کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔میرا جملہ ابھی ادھورا ہی تھا تو کہنے لگی نہیں اب نہیں آپ نے وعدہ کیا تھا کہ پھر کبھی نہیں کہو گے

میری جان انجوائے کرو اگر اس دن انجوائے نہیں کیا تھا تو آج نہ کرو لیکن اگر اس دن انجوائے کیا تھا تو آج بھی کرو‘ میری بات سن کر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اوپر نیچے ہونے لگی چند سیکنڈ کے بعد اس نے تیزی سے اوپر نیچے ہونا شروع کردیا اور ساتھ میں شکیل کو پکارنے لگی میں نے آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے میری چھاتی پر ہاتھ رکھے اوپر نیچے ہورہی تھی اور ساتھ میں شکیل کو پکار رہی تھی آج اس کے جھٹکوں میں بہت زیادہ تیزی تھی وہ میری چھاتی کے بالوں کو پکڑ کر نوچ بھی رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر بھی پھیر رہی تھی چند جھٹکے لے کر وہ رکتی اور میرے ہونٹوں پر کس کرنے کے بعد پھر اوپر نیچے ہونا شروع ہوجاتی اور شکیل کو پکارتی جب وہ میرا رکن اپنے اندر لینے کے لئے نیچے ہوتی تو میں بھی نیچے سے جھٹکا دیتا اور میرا رکن جڑ تک اس کے اندر چلا جاتا اور وہ شکیل کو پکارتی اس کا جوش مزید بڑھتا جارہا تھا چند منٹ بعد اس کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکلا اور وہ ٹھنڈی ہوکر میرے اوپر لیٹ گئی جبکہ میں ابھی فارغ نہیں ہواتھا اس کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں چند منٹ بعد وہ پھر سے سیدھی ہوئی اور اوپر نیچے ہونے لگی اور شکیل شکیل کہنے لگی میں بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہنے لگی کہ اب آپ اوپر آجا? میں اس کے اوپر ہوکر کرنے لگا اس روز ہم نے ایک بہت مزے دار سیشن کیا اور پھر باتیں کرتے کرتے ننگے ہی سو گئے اس سے اگلے روز اس کو مینسز ہوگئے اور پورا ہفتہ ہم لوگ کچھ نہ کرسکے جس روز اس کے مینسز ختم ہوئے اس روز پھر ہم لوگوں نے اجنبی لوگوں کو ذہن میں رکھ کر ہم بستری کی اب ہماری روٹین بن گئی تھی کہ ہم ہر روز کسی اور کو ذہن میں رکھ کر سیکس کیا کرتے ایک روز میں نے اس سے کہا کہ کیوں نہ حقیقت میں ایسا کیا جائے تو وہ کہنے لگی

رام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہو

میں کہہ رہا ہوں کیوں نہ ایک بار اجنبی جوڑے کے ساتھ رات بسر کی جائے جو کام ہم لوگ خیالوں میں کرتے ہیں حقیقت میں بھی کرکے دیکھیں

ام پاسیبل۔۔۔۔

کچھ بھی ام پاسیبل نہیں ہے

لیکن میں ایسا کچھ نہیں کروں گی

میری جان ایک بار صرف میری خاطر

رام آپ کیوں خواہ مخواہ ضد کرتے ہو

جان تھوڑی سی زندگی ہے اس کو انجوائے کرنا چاہئے

رام میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم حقیقت میں بھی ایسا کرنے کو کہو گے تو آپ نے کہا تھا کہ نہیں کہوں گا اب آپ اپنا پرامس توڑ رہے ہو

میری جان ایک بار صرف ایک بار

لیکن ایسا کریں گے کس کے ساتھ

تم بس حامی بھرو اس کا بھی انتظام کرلیں گے

دیکھو رام کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہوجائے اگر کسی کو علم ہوگیا تو بہت بدنامی ہوگی

نہیں ہوتی کوئی بھی گڑ بڑ

ٹھیک ہے لیکن صرف ایک بار پھر ایسا نہیں کہو گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

اس نے حامی بھر لی تو میں خوش ہوگیا اس رات ہم نے دو بھرپور سیشن کئے اور ہم دونوں کی گرم جوشی میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا سیکس کے بعد لیٹے لیٹے میں سوچنے لگا کہ اس کام کے لئے کس کو منتخب کیا جائے اب میرا امتحان تھا کسی بھی شخص کے ساتھ ایسی بات کرنے کا مطلب اپنی بدنامی تھا بہت سوچ بچار کے بعد اگلے روز میں نے ایک سیکسی سٹوریوں کی ویب سائٹ پر فرضی نام سے Gang Bng کے لئے جوڑوں کو دعوت دی تو کئی لوگوں نے مجھے کنٹیکٹ کیا میں نے آشا کے ساتھ مل کر کراچی کے ہی ایک بزنس مین ارشد کو منتخب کیا اور اس سے میل پر رابطہ کیا اگلے روز اس کا جواب آیا اور اس نے ملنے کو کہا میں نے پہلے اس سے کہا کہ وہ اپنی تصویریں مجھے SEND کرے تو اس نے اگلے روز مجھے اپنی اور اپنی بیوی کی تصویریں میل کردیں ان تصویروں میں چہرے واضح نہیں تھے اب اس نے بھی مجھ سے تصویرں مانگیں تو میں نے بھی اس کو چہرے دھندلے کرکے تصویریں میل کردیں اس کے بعد اس نے اپنا فون نمبر مجھے میل کیا میں نے بازار سے ایک نئی سم خریدیں اور اس سے اس کو فون کیا فون پر اس سے بات چیت ہوئی اور اگلے روز اس سے ہوٹل میں ملاقات کا وقت طے ہوگیا میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ میں لے کر آئے میں بھی لے آوں گا تو اس نے حامی بھر لی اگلے روز شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں ہم چاروں کی ملاقات ہوئی پہلے میں نے اپنی بیوی آشا کا ان دونوں سے تعارف کروایا اور پھر اس نے اپنی بیوی ارم کے بارے میں ہمیں بتایا ارم نے برقعہ پہن رکھا تھا اور اس کا رنگ صاف گورا چٹا ‘ قد درمیانہ تھا برقعے کی وجہ سے اس کی فگر نظر نہیں آرہے تھے میں نوٹ کررہا تھا کہ آشا اور ارم دونوں نگاہیں نیچی کئے بیٹھی تھیں جبکہ میں اور ارشد آپ میں ادھر ادھر کی باتیں کررہے تھے ارشد بار بار آشا کو دیکھ رہا تھا جبکہ میں ارم کو ‘ کھانے کے بعد ہم لوگوں نے طے کیا کہ کسی دوسرے ریسٹورنٹ میں جاکر چائے پی جائے اور ایک گاڑی میں دونوں خواتین جبکہ دوسری گاڑی میں ہم دونوں مرد جائیں گے آشا اورارم نے چپ چاپ ہاں میں سر ہلایا اور ایک گاڑی میں بیٹھ گئیں آشا ڈرائیونگ سیٹ پر جبکہ ارم اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی جبکہ دوسری گاڑی کو ارشد چلا رہا تھا اور میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا راسے میں ارشد نے بتایا کہ ارم بیڈ پر بہت سیکسی ہے لیکن Gang Bang کے لئے تیار نہیں تھی بڑی مشکل سے تیار کیا ہے میں نے بھی اسے بتایا کہ آشا بھی بڑی مشکل سے مانی ہے ہم لوگوں نے طے کیا کہ دو دن بعد ویک اینڈ ہے اس روز ہم لوگ ارشد کے گھر آئیں گے تھوڑی دیر بعد ہم لوگ ایک ہوٹل پر پہنچے جہاں ہم نے چائے پی اس دوران دونوں خواتین آپس میں کبھی کبھی ادھر ادھر کی بات کررہی تھیں اس کا مطلب تھا کہ گاڑی میں دونوں آپس میں کسی حد تک گھل مل گئی ہیں واپسی پر میں نے تجویز دی کہ آشا ارشد کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے گی اور ارم میرے ساتھ میری تجویز پر آشا نے غصے سے میری طرف دیکھا لیکن بولی کچھ نہ میں نے اس کو آنکھ سے اشارہ کیا تو وہ تھوڑا شانت ہوگئی جبکہ دوسری طرف ارم نے بھی ارشد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ہاں ہاں یہ ٹھیک رہے گا پروگرام کے مطابق پہلے ہم نے ارشد وغیرہ کے گھر جانا تھا اس کے بعد میں اور آشا اپنے گھر چلے جاتے میں پہلے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ارشد نے فرنٹ ڈور کھول کر ارم کو بیٹھنے کی دعوت دی ارم نے ایک بار پھر ارشد کی طرف دیکھا اور پھر جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی میں نے گاڑی چلا دی اور پیچھے ارشد کے ساتھ آشا گاڑی میں آرہی تھی راستے میں ارم مسلسل گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی اس کے دونوں ہاتھ اس کی گود میں تھے میں نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے اس کو کہا

آپ بہت خوب صورت ہیں آشا کی نسبت آپ کا چہرہ بہت ہی خوب صورت ہے

جی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک دم سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا

میں نے کہا ہے کہ آپ بہت خوب صورت ہیں “ وہ میری بات سن کر خاموش رہی اور نیچے دیکھنے لگی میں نے اس کو پھر مخاطب کیا اور پوچھا کہ آپ کی گھر میں کیا مصروفیت ہے تو کہنے لگی

کچھ خاص نہیں بس تھوڑا بہت گھر کا کام کاج کرکے ٹائم گزارتی ہوں

آپ کی آشا کے ساتھ بات چیت ہوئی آپ کو کیسی لگی آشا

اچھی ہے

اور آپ بھی بہت اچھی ہیں

وہ پھر خاموش ہوگئی اب میں نے اپنا ایک ہاتھا اس کے ہاتھ پر رکھ کر تھوڑا دبایا تو اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہورہا تھا اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن پھر مزاحمت ترک کردی وہ مسلسل اپنے پاوں کی طرف دیکھ رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو بھی اس نے نگاہیں نیچی ہی رکھیں میں گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا جبکہ میری گاڑی کے پیچھے پیچھے ارشد بھی آہستہ آہستہ آرہا تھا میں نے ایک دو بار ارم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی بھی جواب نہ دیا جس پر میں سمجھ گیا کہ ابھی شرمندگی سے چپ ہے خیر تھوڑی دیر بعد ارشد کا گھر آگیا میں نے ارم کو ڈراپ کیا اور آشا دوسری گاڑی سے اتر کر میرے ساتھ آبیٹھی راستے میں آشا چپ چپ رہی میں نے ایک دو بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا گھر جاکر بھی آشا چپ چاپ بیڈ پر جالیٹی میں نے اس کو بلایا تو کہنے لگی

رام۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے

کچھ نہیں ہوگا میں تمہارے ساتھ ہوں

نہیں رام۔۔۔ یہ سب غلط ہے مجھ سے نہیں ہوگا پلیز

کچھ بھی غلط نہیں ہے

میری بات سن کر آشا چپ ہوگئی میں نے اس کو تیار کرنا چاہا تو اس نے پہلے سرد مہری دکھائی لیکن پھر تیار ہوگئی اس رات میں نے اس کو کہا کہ وہ ارشد کو ذہن میں رکھ کر کرے تو وہ پہلے انکار کرنے لگی پھر مان گئی اور دوران سیکس ارشد کو پکارنے لگی اس رات بھی ہم لوگوں نے دو بھرپور سیشن کئے اور دو دن بعد میں آفس سے جلدی گھر آگیا اور آشا کو تیار ہونے کو کہا تو ایک بار پھر سے آشا نے کہا کہ اس سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا لیکن میرے اصرار پر چپ چاپ باتھ روم میں گھس گئی میں اسے یہ کہہ کر کہ بازار جارہا ہوں باہر نکل گیا جب واپس آیا تو آشا پنک کلر کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی اس نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور غضب ڈھا رہی تھی پہلے میرا دل کیا کہ پروگرام جائے بھاڑ میں پہلے میں آشا کے ساتھ کچھ کرلوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ بڑی مشکل سے مانی ہے کہیں آڑ نہ جائے میں نے اس سے پوچھا کہ چلیں تو کہنے لگی رام ایک بار پھر سوچ لو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے

ڈر کیسا میں بھی تو تمہارے ساتھ ہوں

میری بات سن کر وہ چپ چاپ باہر کو چل دی اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ ارشد کے گھر پہنچ گئے گاڑی کے ہارن پر ارشد نے دروازہ کھولا اور ارم اس کے ساتھ کھڑی تھی ارم نے ریڈ کلر کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور قیامت ڈھا رہی تھی میں نے گاڑی پورچ میں پارک کی ارشد نے آشا کی طرف والا دروازہ کھولا اور آشا گاڑی سے باہر نکل آئی اس نے آشا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر ارم نے اسے گلے لگایا اور پھر میں ارشد اور ارم سے ملا ہم چاروں ڈرائنگ روم میں چلے آئے جہاں ایک صوفے پر میں اور آشا جبکہ سامنے والے پر ارشد بیٹھ گیا ارم چائے وغیرہ لینے کچن میں چلی گئی تھوڑی دیر بعد چائے اور بسکٹس وغیرہ لے کر آگئی اور سب کو چائے سرو کرنے کے بعد ارشد کے ساتھ بیٹھنے لگی تو ارشد نے اس کو کہا کہ سامنے رام جی کے ساتھ بیٹھ جاو اور آشا آپ میرے ساتھ ادھر صوفے پر آجاو “ اس نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میں نے بھی اس کی بات کی تائید کی ارم نے ارشد اور آشا نے میری طرف دیکھا اور پھر دونوں نے ایک دوسری کی جگہ لے لی چاروں نے مل کر چائے پی اور پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد ارشد نے آشا سے کہا کہ ہم دونوں تھوڑی دیر باہر تازہ ہوا کھالیں اتنی دیر رام جی ارم کے ساتھ باتیں کرتے ہیں آشا نے میری طرف دیکھا تو میں نے ہاں میں اشارہ کردیا آشا جھجکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ارشد نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال لیا اور دونوں باہر چلے گئے جبکہ ارم ان کو دیکھتی رہی ان کے جانے کے بعد میں نے ارم کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اس کو نزدیک کیا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور چہرہ اپنی طرف کرلیا ارم بدستور نگاہیں نیچی کئے ہوئے دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ اور کان شرم کے مارے سرخ ہورہے تھے میں نے اس کو ہونٹوں پر کس کیا پہلے اس نے اپنے ہونٹ بھنچ لئے لیکن میںنے کو کس کرتا رہا پھر اس نے اپنے ہونٹ ڈھیلے چھوڑ دیئے اور میں نے اس کا نیچے والا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کردیا اس کے ہونٹ بہت رسیلے تھے تھوڑی دیر بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کردیا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا اور کسنگ کرتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے گردن کے گرد لپیٹ دیئے اور اپنے ہاتھ بھی اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر اس کو کسنگ کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور وہ میری زبان کو چوسنے لگی چند منٹ کی کسنگ کی تھی کہ مجھے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی میں نے دیکھا تو دروازے پر ارشد ہنستے ہوئے ہمیں دیکھ رہا تھا جبکہ آشا اس کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی وہ دونوں بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے اور آپس میں کسنگ کرنے لگے ارشد کا ایک ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھا اور دوسرا اس کے گلے میں وہ ایک ہاتھ سے آشا کے ممے کو دبا رہا تھا میں بھی ارم کے ساتھ کسنگ کرنے لگا ارم نے ایک بار پھر میرا ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر میرا ساتھ دینے لگی چند منٹ کے بعد ارشد کھڑا ہوگیا اور اس نے آشا کو بھی بازو سے پکڑ کر کھڑا کرلیا اور اس کی

قمیص اتارنے لگا آشا نے تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی لیکن پھر شانت ہوگئی اب آشا شلوار اور بریزئیر میں کھڑی تھی اس کے بعد ارشد نے آشا کے بریزئیر کی ہک بھی کھول دی اور بریزئیراتار کر صوفے پر پھینک دیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی پر رکھ لئے ارشد نے نیچے کی طرف جھک کر اس کی شلوار بھی آدھی سے زیادہ ٹانگوں سے نیچی کردی پھر اس نے اس کی دونوں ٹانگیں ایک ایک کرکے شلوار سے نکالیں آشا شرم سے سرخ ہورہی تھی ارشد نے آشاکو صوفے پر بٹھایا اور اس کے ایک ممے کو منہ میں لے کر چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے دوسرا مما دبانے لگا پھر اس نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا جبکہ میں اور ارم یہ سارا منظر اپنا کام چھوڑ کر دیکھ رہے تھے کچھ دیر بعد میں نے بھی ارم کو کھڑا کیا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا پہلے اس کی قمیص اتاری پھر برا اتار دیا اف کیا منظر تھا ارم کے ممے 38 سائز کے ہوں گے اور ایک دم ٹائٹ ‘ جبکہ اس کے مقابلے میں آشا کے ممے 34 سائز کے تھے اور وہ اس کی نسبت کم ٹائٹ تھے میں نے ایک بھرپور نظر ارم کے مموں پر ڈالی اور پھر اس کی شلوار اتار دی آشا کی پھدی بالوں سے پاک تھی ایسا لگ رہا تھا چند گھنٹے پہلے ہی اس نے نیچے سے بال صاف کئے تھے جبکہ آشا اپنی پھدی کے بال صاف نہیں کرتی تھی میں نے ارم کی بالوں سے بغیر پھدی پر ہاتھ پھیرا تو وہ اتنی چکنی تھی کہ میرا ہاتھ پھسلتا جارہا تھا اس کی پھدی سے ہلکا ہلکا سا پانی بھی نکل رہا تھا ارم ایک دم نیچے بیٹھ گئی اور اس نے اپنی ٹانگیں سکیڑ لیں اور اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ لئے میں بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک کس کی پھر اس کے ایک ممے کے پنک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا جبکہ دوسرے کے نپل کو اپنی انگلیوں میں پکڑ کر مسلنے لگا

آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے آہ نکل گئی

اس کے مموں کے نپلز سخت ہوتے جارہے تھے اور ہر لمحے یہ سختی بڑھتی جارہی تھی

تھوڑی دیر بعد میں نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا تو ارم سسکاریاں بھرنے لگی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھے ہوئے تھے اور وہ میرے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے ارشد اور آشا کی طرف دیکھا تو آشا صوفے پر لیٹی ہوئی تھی اور ارشد اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کررہا تھا میں نے ان کی طرف سے نظر ہٹائی اور ارم کے ساتھ لگ گیا چند منٹ کے بعد ارشد نے آواز دی اور کہنے لگا کہ اب اندر بیڈ روم میں چلتے ہیں اس نے آشا کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا اور ساتھ لے کر چل پڑا اس کے پیچھے پیچھے میں اور ارم بھی چل پڑے بیڈ روم میں جاکر ارشد آشا کو چھوڑ کر ارم کے پاس آگیا اور اس کو ایک زور دار جپھی ڈالی اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا پھر چند سیکنڈ کے بعد اس سے علیحدہ ہوکر کہنے لگا ”انجوائے ٹونائٹ ویری مچ“ اور آشا کے پاس چلا گیا اور ارم کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا رام جی اور میں نے ابھی تک کپڑے پہنے ہوئے ہیں جس پر ارم نے جھجکتے جھجکتے میرے اور آشا نے ارشد کے کپڑے اتار دیئے ارشد کا رکن ایک عام سائز کا یعنی تقریباً5 انچ کے قریب ہوگا جبکہ میرا رکن 7 انچ سے بھی بڑا اور کافی زیادہ موٹا تھا ہم دونوں کے رکن پوری طرح کھڑے ہوئے تھے ارم کے علاوہ ارشد بھی میرے رکن کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے خیر ارشد نے آشا کو بیڈ پر لٹا دیا اور خود اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اس کی ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لپیٹ کر بیٹھ گئے اور ہمیں کہنے لگے کہ چلو آپ بھی آجاو اکٹھے ہی شروع کرتے ہیں میں نے بھی ارم کو جو ابھی تک میرے رکن کو حیرت سے دیکھ رہی تھی پکڑ کر بیڈ پر لٹایا اور اس کے ٹانگوں کو پھیلا کر اس کی بالوں سے پاک پھدی کے ہونٹ پھیلائے اور اپنا رکن اس کی پھدی پر فٹ کردیا ارشد نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا رام جی آپ کا رکن بہت بڑا ہے ذرا آرام سے میری بیوی کو تکلیف نہ ہو جس پر ارشد کے نیچے پڑی آشا مسکرانے لگی جبکہ ارم کے چہرے پر خوف تاری تھا ارشد نے آشا کے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے اپنا رکن آہستہ سے اس کے اندر کردیاآشا نے ایک آہ لی اور پھر اپنے دونوں ہاتھ ارشد کی کمر کے گرد لپیٹ کر اس کی کمر پر پھیرنے لگی میںان دونوں کی طرف اور ارم میرے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ارشد نے چند سکینڈ کے بعد اپنا رکن آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا اس کے دونوں ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھے پھر اچانک وہ رک گیا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا رام جی کیا ہوا آپ نہیں کررہے آپ بھی کرو یہ کہہ کر اس نے اپنا رکن پھر سے آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا جبکہ آشا نیچے سے اپنی پیٹھ کو اوپر کرکے اس کا ساتھ دینے لگی اس کے بعد میں نے ارم کے ہونٹوں پر ایک کس کی اور ہلکا سا زور لگا کر اپنا آدھا رکن ارم کی پھدی کے اندر کردیامیرا رکن بہت پھس کر اس کی پھدی میں گیا تھا ارم نے آہستہ سے آہ ہ ہ ہ ہ بھری اور آنکھیں بند کرلیں میں نے رک کر اس کے ہونٹوں پر ایک اور کس کی اور پھر سیدھا ہوکر اپنا رکن باہر لے آیا اس کے بعد میں نے تھوڑا زیادہ زور لگا کر جھٹکا دیا اور میرا رکن تھوڑا اور اندر چلا گیا لیکن پورا نہیں گیا تھا ارم نے ایک ہلکی سی چیخ ماری تو ارشد جو آشا کے ساتھ Bussy تھا رک کر دیکھنے لگا اور پھر مجھ سے اس نے کہا رام جی تھوڑا پیار سے پہلے پیار سے اندر کرلیں پھر جیسے مرضی کریں میں اپنی پیاری بیوی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا میں نے ایک لمحے کے لئے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا ارشد پھر سے Bussy ہوگیا تو میں نے اپنا رکن ایک بار پھر سے باہر نکالا اور پہلے کی نسبت تھوڑا اور زور سے جھٹکا دیا میرا رکن جڑ تک ارم کی پھدی میں چلا گیا

”ہائے میں ں ں ں ں ں مرررررررر گئی ی ی ی ی ی ی “ارم کے منہ سے تکلیف کے مارے چیخ نکل گئی اس نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا لئے اور نیچے سے گھسک گئی جس سے میرا لن اس کی پھدی سے باہر نکل گیا اس سے پہلے کہ میں اپنا لن اس کی پھدی پر پھر سے سیٹ کرتا اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتی سے لگا لیاارم کی چیخ سن کرارشد ہماری طرف متوجہ ہوگیا

”رام لال جی۔۔۔تھوڑا سا خیال کریں “ ارشد نے پھر سے مجھے التجا کی

”سوری۔۔لیکن میں تو آرام سے کررہا تھا اگر تکلیف ہوئی ہے تو معافی چاہتا ہوں اب آہستہ کروں گا “

”اوکے“ ارشد نے کہا اور پھر سے آشا کو جھٹکے دینے لگا جبکہ آشا نیچے سے آہ ہ ہ ہ ہ اوئی ی ی ی ی ‘ آہ ہ ہ ہ ‘ تھوڑا اور اندر کرو نا‘ ہاں ں ںںںںں‘ ارشد تھوڑا اور ررررر‘ ہاںںںںں‘

چند سیکنڈ کے بعد ارم نے میری کمر پر اپنے ہاتھوں کی گرفت تھوڑا نرم کی تو میں نے پھر سے سیدھے ہوکر اپنا رکن اس کی پھدی پرتھوڑا سا رگڑا اور پھر اس کے دھانے پر سیٹ کیااور اس کو اشارے سے پوچھا کہ تیار ہے تو اس نے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا

میں نے آہستہ آہستہ سے اپنے رکن پر دباو بڑھایا اور اس کو پورا پھدی کے اندر داخل کردیا اس کی پھدی اتنی گرم تھی کہ جیسے تندور ہو میں نے ارشد اور آشا کی طرف دھیان دیا تو وہ دونوں اپنے کام میں مست تھے آشا کی آنکھیں بند اور منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی جبکہ ارشد بھی ہر جھٹکے کے ساتھ اوں اوں ںںںں کی آواز نکال کر اپنے جھٹکے کو مزید تیز کرنے کی کوشش کرتا ان دونوں کی آوازوں سے میری شہوت بھی بڑھ رہی تھی میں نے ارم کے اوپر جھک کر اس کے رسیلے ہونٹوں کو ایک بار پھر سے کس کیا اور پھر کانوں کے قریب اپنا منہ لے جاکر سرگوشی کی

”کیا موڈ ہے “

”ہووووووں“اس نے اپنا سر ہلاتے ہوئے منہ سے نکالا

میں نے پھر سے خود کو سیدھا کیا اور اپنا رکن اس کی پھدی سے باہر نکال کر اس کو پہلے کی نسبت تھوڑا کم جھٹکے سے اندر کیا

”آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ ‘ارم نے مزے کی ایک سسکاری لی

”تھوڑا اور تیزی سے “ساتھ ہی آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی

”آئی ایم کمنگ گ گ گ گ گ“ارشد نے آشا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا

”چند سکینڈ اور“آشا بھی فارغ ہونے کے قریب تھی اس نے ارشد کو جواب دیا ”آخری جھٹکے پورے زور کے ساتھ “ ”ہاں اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ں ںں ںںں آہ ہ ہ ہ ہ ہ “ اور آشا بھی فارغ ہوگئی ساتھ ہی ارشد اس کے اوپر لیٹ گیا جبکہ دوسری طرف ابھی تک میں نے اپنا کام شروع بھی نہیں کیا تھا

”کیوں بھئی آپ کہاں تک پہنچے“ارشد نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا

”ہم تو ابھی سفر شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں“ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا

”مجھے لگتا ہے آپ اگلے ایک گھنٹے میں منزل پر پہنچو گے“ آشا جو ابھی تک ارشد کے نیچے لیٹی ہوئی تھی کھلکھلاتے ہوئے بولی

”سفر شروع ہوگیا تو منزل دور نہیںہے“ میں نے جواب دیا

”تو کرو شروع‘ لیکن آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔۔“ ارشد نے کہا

”کیا خیال ہے کریںسٹارٹ۔۔۔۔۔ میں نے ارم کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا

”ہوںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔۔ ارم نے سر ہلاتے ہوئے آواز نکالی

”آپ لوگ سٹارٹ کرو ہم تمہاری مدد کرتے ہیں“ آشا نے ارشد کے نیچے سے نکلتے ہوئے کہااور پھر وہ بیڈ پر اس طرح اوندھی لیٹ گئی کہ اس کا منہ ارم کی چھاتی کے قریب آگیا اور اس نے ارشد کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی لیٹ جائے اور اپنا منہ ارم کے منہ کے پاس لے جائے اور اس کی کسنگ شروع کرے ارشد نے ایسا ہی کیا اور وہ بھی اوندھا لیٹ گیا اور اس نے ارم کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر ان کو چوسنا شروع کردیا جبکہ آشا نے کہنیوں کے بل ہو کر ارم کا ایک مما اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی

”م م م م م م م م م م م م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے چند سیکنڈ بعد ہی ارم کا مما منہ سے نکال دیا

”مزہ آگیا۔۔۔۔۔۔“اس نے فقرہ کسا تو ارشد جو ارم کے ہونٹ چوس رہا تھا وہ بھی اپنا منہ علیحدہ کرکے ہنسنے لگا اور ارم بھی مسکرا دی میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور آہستہ سے اپنا رکن اس کی پھدی کے اندر کردیا

س س س س س س س س س آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ارم نے یک دم اندر کو سانس لیا اور پھر میں نے جیسے ہی اپنا رکن باہر نکالا ارم نے باہر کو سانس لیا

”مزے ے ے ے ے ے کرووووووو۔۔۔۔۔۔آشا نے ارم کا مما منہ سے نکالتے ہوئے کہا

ابھی تو تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے جواب دیا

تکلیف ختم ہونے والی ہے پھر مزے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے ہنستے ہوئے کہا

جانو و و و و و و و انجوائے ئے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔ارشد نے بھی لقمہ دیا

میں نے پھر سے اپنا رکن اندر باہر کرنا شروع کیا دو تین بار اندر باہر کرنے سے میرا رکن جو پہلے بہت مشکل سے اندر جاتا تھا اب آسانی کے ساتھ حرکت کرنے لگا آشا نے پھر سے ارم کا مما منہ میں لے لیا جبکہ ارشد اس کے ہونٹ چوسنے لگا میں نے اپنے جھٹکوں میں تیزی کردی اب ارم جس کے منہ پر ارشد کا منہ تھا اس کے ناک سے آواز آرہی تھی جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ اب مزے میں ہے میں اپنی رفتار بتدریج بڑھا رہا تھا اچانک ارشد نے اپنے ہونٹ ارم کے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا میں نے اپنا کام جاری رکھا جبکہ آشا اس کو دیکھنے لگی کہ کیا کرنے لگا ہے ارشد نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھ دئےے اور جیسے ہی میں نے اپنا رکن باہر نکالا اور پھر جھٹکے سے اندر کرنے لگا ارشد نے مجھے پیچھے سے زور سے آگے کی طرف جھٹکا دیا میںنے بھی اپنی سپیڈ پہلے سے بڑھا دی تھی ارشد کے دھکا لگانے سے طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا اور میرا رکن بڑی تیزی سے اندر کو گیا

ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔ارم کے منہ سے پھر چیخ نکل گئی

اب رکنا نہیں رام لال جی۔۔۔۔ ارشد نے پیچھے سے آواز دی

میرا رکن جتنی تیزی سے اندر کی طرف گیا تھا میں نے اسی تیزی سے اس کو باہر نکالا ارم نے نیچے سے کھسکنے کی کوشش کی لیکن آشا نے اس کے کولہے مضبوطی سے پکڑ لئے اور وہ نیچے سے ہل نہ سکی میں ابھی دوسرا جھٹکا مارنے کی تیاری میں تھا کہ ارشد نے پیچھے سے مجھے دھکا دیا اورساتھ میں میں نے بھی اپنا پورا زور لگایا

ہائے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم پھر چیخی

آشا نے اس کے کولہے مزید مضبوطی سے پکڑ لئے اور میرے جھٹکوں میں بھی تیزی آگئی لیکن جیسے جیسے جھٹکے تیز ہورہے تھے ارم کی ہائے میں نرمی آتی جارہی تھی چند جھٹکوں کے بعد اس نے تکلیف دہ آوازوں کی بجائے مزے کی سسکاریاں بھرنا شروع کردیںاس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھی اور اپنا نیچے والا ہونٹ کبھی کبھی اپنے دانتوں کے نیچے لے کر چباتی اور پھر جیسے ہی اپنا ہونٹ چھوڑتی ایک لمبی سی آہ لے کر اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیرنے لگتی ارشد جو میرے پیچھے کھڑا مجھے دھکے دے رہا تھا اس کا رکن بھی متحرک ہورہا تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اس کو پھر سے شہوت ہورہی ہے چند منٹ تک ایسے ہی سفر کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ ارم کی منزل قریب آرہی ہے اچانک اس کا جسم اکڑنے لگا اور پھر یک دم میرے نیچے لیٹے لیٹے اس کے جسم نے ہلکے ہلکے سے چار پانچ جھٹکے لئے اور پھر اس کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکل آیا میں نے اپنا سفر روک دیا لیکن میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی کے اندر تھا ارشد جو میرے پیچھے کھڑا تھا وہ بھی بیڈ کے اوپر آکر بیٹھ گیا اور چند سکینڈ کے بعد میں نے اپنا رکن ارم کی پھدی سے نکالا اور ارم نے بیڈ شیٹ سے اپنی پھدی کو صاف کیا میں اپنا رکن پھر سے اس کے اندر کرنے لگا تو ارشد بول پڑا

” اب سٹائل چینج کرلو “

میں ‘ آشا اور ارم اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے توا س نے کہا کہ بہتر ہے کہ اب رام لال جی نیچے لیٹ جائیں اور ارم ان کے اوپر آجائے

” مجھ میں اوپر آکر کرنے کی ہمت نہیں ہے“ ارم نے نیچے لیٹے لیٹے کہا

ہمت کرو گی تو مزہ بھی آئے گا‘ ارشد نے جواب دیا

میں بیڈ کے اوپر سیدھا لیٹ گیا اور ارم ناگواری سے اٹھ کر میرے اوپر آگئی

”آشا جی آپ بھی میرے اوپر آجاو“ارشد نے میرے پہلو میں سیدھے لیٹتے ہوئے آشا کو بازو سے پکڑ کر کہا

آشا بھی شائد تیار ہوچکی تھی وہ فوری طورپر ارشد کے اوپر آ بیٹھی اور اس نے ارشد کے رکن کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلانا شروع کردیا میں نے دیکھا کہ ارشد کا رکن جس کے ختنے ہوئے ہوئے تھے سفید رنگ کا اور بالوں سے پاک تھا اس کے علاوہ بالکل سیدھا تھا اس کے رکن کے نیچے دونوں ٹٹے بھی سفید کلر کے تھے اس کے برعکس میرا رکن ارشد کی نسبت لمبا اور موٹا ضرور تھا لیکن کالے رنگ کا تھا اور ٹیڑھا بھی تھا شائد اوائل عمری میں مشت زنی کی وجہ سے ٹیڑھا ہوگیا تھا اس کے علاوہ میرے ٹٹے بھی کالے رنگ کے تھے اور رکن کے اوپر اور ٹٹوں پر بال بھی بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے خوب صورت بھی نہیں لگتا تھا جبکہ میرے رکن کے ختنے بھی نہیں ہوئے تھے یہ بھی اس کی بدصورتی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے

”دیکھو رام لال جی یہ کتنا خوب صورت دکھتا ہے “ آشا نے اپنے انگوٹھے اور انگلی کی انگوٹھی بنا کر ارشد کے لن کو جڑسے اوپر کرتے ہوئے کہا

میرا دھیان جو پہلے ہی ارشد کے رکن کی طرف تھا اپنی بیوی کا تبصرہ سننے پر میرے ذہن میں جیلسی سی فیل ہونے لگی جبکہ ارم جو میرے رکن کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کے دہانے پر سیٹ کررہی تھی وہ بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئی جبکہ ارشد جو آنکھیں بند کئے نیچے لیٹا تھا آنکھیں کھول کر فخر سے مسکراتے ہوئے میری اور ارم کی طرف دیکھنے لگا آشا نے دو تین بار اپنی انگلیوں کی انگوٹھی سے ارشد کے رکن کو جڑ سے نوک تک سہلایا اور اس کا منہ ارشد کے رکن کے بالکل قریب تھا یقینا اس کو ارشد کے رکن سے نکلنے والے مادے کی بو بھی آرہی ہوگی اچانک اس نے اپنی انگلیاں اس کے رکن کی جڑ پر کیں

مم مم م م م م ہ ہ ہ ہ ہ‘ آشا نے ارشد کے رکن کی نوک پر ایک ہلکی سی کس کردی

میں حیران رہ گیا آج تک اس نے میرے رکن کو اس طرح کس نہیں کیا تھا اور آج میں ایک غیر مرد کے رکن کے ساتھ ایسا کررہی تھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن میں کچھ نہ بولا اور منہ دوسری طرف کرلیا جبکہ ارشد جو پہلے مسکرا رہا تھا اب ہلکا سا ہنس پڑا۔

م م م م م ہ ہ ہ ہ ہ آشا نے ایک اور کس کردی میں نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا اس نے میری طرف دیکھے بغیر اپنی زبان منہ سے نکالی اور ارشد کے رکن کی نوک پر پھیرنے لگی ارشد کا رکن جو پہلے ہی پوری طرح اکڑا ہوا تھا اس کی نوک مزید پھول گئی میں نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور ارم کے ممے پکڑ کر دبانے لگا ارم نے اپنے ایک ہاتھ سے میرا رکن جڑ سے پکڑا اور میرے اوپر بیٹھے بیٹھے اپنی پھدی پر پھیرنے لگی پھر اس نے میرے رکن کی نوک اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کی اور میرا رکن چھوڑ کر اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آرام سے پورا رکن اپنی پھدی کے اندر لے گئی اور میرے اوپر لیٹ کر دیوانوں کی طرح میرے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں مجھے اس کی پھدی بہت ٹائٹ محسوس ہورہی تھی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور پھر سیدھی ہوکر اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آہستہ سے اوپر کو ہوئی میرا رکن اس کی پھدی سے باہر نکلا اور پھر اس نے قدرے تیزے کے ساتھ نیچے کو حرکت کی میرا رکن پھر اس کی پھدی میں چلا گیا

”اس کو لالی پاپ کی طرح چوسو۔۔۔۔۔ارشد کی آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں نے ان کو دیکھنے کے لئے اپنا منہ دوسری طرف کرنا چاہا لیکن ارم جو میرے اوپر بیٹھی تھی اس نے میرا رکن اپنی پھدی کے اندر کیا اور اپنے ہاتھ میری چھاتی سے اٹھا کر میرے دونوں گالوں پر رکھ کر میرے اوپر ہوگئی اور میرے ہونٹ چومنے لگی میری نظر تو ارشد اور آشا کی طرف نہ جاسکی لیکن خیال ان کی طرف ہی تھا

ہاں ں ں ں ں ں اس کو پورا اپنے منہ میں لے لو۔ ارشد کی آواز پھر میرے کانوں میں پڑی میں نے اپنا منہ ان کی طرف کرنے کی کوشش کی لیکن ارم نے اپنے ہاتھ میں میرا چہرہ لیا ہوا تھا اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی میں نے اس کو چوسنا شروع کردیا

آ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہواوں میں اڑنے لگا ہوں “ ارشد پھر بولا اب میں نے ان کی طرف دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی

ارم نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے رکن پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اس نے دوبارہ اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھے اور اوپر نیچے ہونے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اپنی انگلیوں سے اس کے مموں کے نپلز کو مسلنے لگا ارم کی سپیڈ بتدریج بڑھ رہی تھی وہ اوپر ہوتی تو میرے رکن کی نوک کا کچھ حصہ ہی اس کی پھدی کے اندر ہوتا جب وہ نیچے ہوتی تو جڑ تک اندر چلا جاتا وہ اوپر نیچے ہوتے ہوئے سسکاریاں بھی بھر رہی تھی جب وہ میرا رکن اپنے اندر لیتی تو ساتھ میں میرے چھاتی پر دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بھی لیتی پھر اوپر ہوتی تو چٹکیاں چھوڑ دیتی

”آج مزے کی ایک نئی دنیا میں آگیا ہوں۔۔۔ ارشد کی آواز پر میں نے اپنا منہ ان کی طرف کیا تو ارم رک گئی اور غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں نیچے آجاتی ہوں آپ ان کی طرف دیکھ لیں جب وہ کرلیں گے تو پھر ہم شروع کریں گے

میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف کیا اور پھر سے اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیں ارم پھر سے اوپر نیچے ہونے لگی چند منٹ بعد اس نے پھر جھٹکے لئے اور فارغ ہونے لگی جب مکمل ہو کر آہستہ ہوئی تو میں نے اس کے مموں سے پکڑ کر اس کو تیز ہونے کا اشارہ کیا اور ساتھ میں کہا سپیڈ کم نہ کرنا میں بھی آرہا ہوں

میرے اندر نہ فارغ ہوجانا۔۔۔۔۔۔اس نے التجا کی

کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ میں نے جواب دیا تو وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگی

اندر ہی فارغ ہوجاو۔۔۔۔۔۔۔ ارشد جو آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا

نہیں رام لال جی ایسا نہ کرنا۔ ارم نے پھر کہا

میں نے جو کہا وہی کرنا میں بھی تو آشا جی کے اندر ہی چھوٹا ہوں۔ارشد کاجواب سن کر ارم چپ ہوگئی اور اس نے پھر سے اوپر نیچے ہونا شروع کردیا

آہ آہ آہ آہ ارم کی آوازیں اور ساتھ میں ایک دو تین اور میرے رکن نے جھٹکے لئے اور ساتھ میں اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا ارم مسلسل اوپر نیچے ہورہی تھی میرے رکن کی سختی ابھی تک برقرار تھی ارم نے اپنی حرکت کم کی اور پھر میرے اوپر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی اس کا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اس کے ہونٹ خشک ہوچکے تھے میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی میں ہی تھا اس نے اپنی ٹانگیں بھی سیدھی کرلیں اور میرے اوپر اوندھی لیٹی رہی میرا رکن ابھی بھی اس کے اندر تھا اب اس کی سختی کم ہونے لگی تھی

اب تم لیٹو میں کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ارشد کی آواز آئی

میں نے ان کی طرف نہ دیکھا اور ارم بھی اسی طرح لیٹی رہی ہم دونوں نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی میرے رکن سے نکلنے والا مادہ اور ارم کی پھدی سے خارج ہونے والا پانی مکس ہوکر میرے ٹٹوں پر سے ہوکر نیچے بیڈ پر جارہا تھا جس کے قطرے مجھے ٹھنڈے ٹھنڈے محسوس ہورہے تھے اور بیڈ شیٹ بھی گیلی ہوگئی تھی

ہاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔۔ اور اندر کرو۔آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے ان کی طرف نہ دیکھا

اپنی پوری زبان میری پھدی کے اندر کردو۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر کہا

ہاں اور اندر ررررر۔۔۔۔۔۔۔ اور اندر۔۔۔۔۔۔۔ بس س س س س س۔۔۔۔۔۔ میں مرررررررر گئی ی ی ی ی۔۔۔۔ بس س س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔ آشا کی آوازوں سے میں ان کی طرف دیکھنے کو بے چین تھا لیکن جس طرف یہ دونوں لیٹے تھے اس طرف کے کندھے پر ارم کا سر تھا اس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر ان دونوں کی طرف دیکھا تو میں نے بھی گردن گھما کر ادھر کی آشا کے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ کے ساتھ لگے ہوئے تھے اور وہ اپنا سر ادھر ادھر مار رہی تھی جبکہ ارشد نظر نہیں آرہا تھا میں نے سر کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور دھیان کیا تو ارشد کا منہ آشا کی پھدی پر تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آشا کی ٹانگیں علیحدہ کررکھی تھی اور وحشیوں کی طرح اس کی پھدی چاٹ رہا تھا

ام م م م م م م م۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے پھر نکلا

ارشد نے تیزی سے منہ مارنا شروع کردیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بال پکڑ رکھے تھے

بس س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گئی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ارشد نے اپنا منہ اوپر نہ اٹھایا

آشا نے ادھر ادھر سر مارنا بندکردیا اور اس کے بال بھی ہاتھوں سے چھوڑ کر بیڈ پر ڈھیلے کردیئے اس کی ٹانگیں بھی ڈھیلی ہوگئیں ارشد نے منہ اوپر کیا اور بیڈ پر پڑا تولیہ لے کر اپنا منہ صاف کرنے لگا میں سمجھ گیا آشا کی پھدی سے نکلنے والا پانی ارشد کے منہ پر گرا ہے میں تھوڑا اور اوپر ہوا اور دیکھا آشا کی پھدی کے گرد گھنے بال گیلے ہوچکے تھے

اخ خ خ خ تھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے نفرت سے بیڈ کی دوسری طرف تھوک دیا

تم کو کیا معلوم سیکس کیا ہوتا ہے‘ ارشد نے ارم کو تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا

میں نے آشا کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے ایک گال پر کچھ مادہ لگا ہوا تھا میں سمجھ گیا یہ مادہ ارشد کے رکن سے نکلا ہوا ہے ارشد کا رکن ڈھیلا پڑ گیا تھا اور سکڑ کر صرف دو اڑھائی انچ کا ہوگیا تھا میرا رکن ابھی تک ارم کی پھدی کے اندر تھا اور مکمل طورپر ڈھیلا ہوچکا تھا مگر ارم کی پھدی سے ابھی تک ہلکا ہلکا سا پانی نکل رہا تھا وہ پھر میرے اوپر لیٹ گئی چند سیکنڈ بعد اٹھی اور بیڈ پر میرے ساتھ میرے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی

دوسری طرف ارشد اور آشا بھی لیٹے ہوئے تھے ارشد آشا کے مموں سے کھیل رہا تھا جبکہ آشا کے ہاتھ ارشد کے سر پر تھے اور وہ اپنی انگلیوں سے اس کی کنگھی کررہی تھی میں ارم کے ساتھ لیٹا ہوا تھا لیکن میرا ذہن کہیں اور تھا میں اپنی بیوی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ جس نے اپنے پتی کے رکن کو کبھی منہ میں نہیں لیا آج کسی غیر مرد کے رکن کو منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوس رہی تھی جبکہ ارم جو میری چھاتی پر ہاتھ پھیر رہی تھی وہ بھی خیالوں میں کھوئی ہوئی

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Part 2

اس سے آگے یہ کہانی آپ ارم کی زبانی سنیں گے

پہلی بار سیکس کے بعد میں رام لال جی کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی میں نے پہلی بار اپنے خاوند کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ سیکس کیا تھا اور میں نے رئیل میں اس کو انجوائے کیا تھا ارشد کے ساتھ سیکس ایک روٹین بن کر رہ گیا تھا آج میری سیکس لائف میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئی تھی جسے میں ابھی تک محسو س کررہی تھی اور شائد آئندہ بھی ساری عمر اس کو محسوس کرتی رہوں چند گھنٹے پہلے میں کافی زیادہ نروس تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ میں ایسا کروںلیکن ارشد کی طرف سے علیحدگی کی دھمکیوں کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑا اس سے پہلے کبھی میرے ذہن میں خیال بھی نہیں آیا تھاکہ میں کسی اور کے ساتھ اس حد تک آگے جاوں گی لیکن آج میں نے اس کو بہت زیادہ انجوائے کیا تھا میں اس کی چھاتی کے بالوں سے کھیل رہی تھی اور مجھے ایک مرتبہ پھر سے اپنے جسم میں تناﺅ محسوس ہونے لگا میں نے رام لال کے لن کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا دوچار منٹ میں رام لال کا لن بھی تناﺅ میں آنے لگا میں تھوڑا شرما بھی رہی تھی کہ ارشد اور آشا بھی ہمارے ساتھ موجود تھے میں سوچ رہی تھی کہ میں نے دوبارہ سے خود رام لال کے ساتھ سیکس کے لئے اس کو تیار کیا تو ارشد کیا سوچے گا کہ پہلے تو یہ مانتی نہیں تھی اب خود کررہی ہے جب رام لال کے لن نے حرکت شروع کی تو آشا نے جو ارشد کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی ارشد کی توجہ ہماری طرف مبذول کروائی

دیکھو دونوں پھر سے تیار ہورہے ہیں ‘آشا کی بات سن کر میراہاتھ چلتے چلتے رک گیا جبکہ دونوں ہنسنے لگے اور میں شرم سے پانی پانی ہوگئی میرا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہورہا تھا جبکہ کان بھی لال ہوگئے تھے مجھے شرمندہ ہوتے دیکھ کر آشا اٹھ بیٹھی اور کہنے ارشد آئیے ہم دونوں دوسرے کمرے میں چلتے ہیں ارم شائد گھبرا رہی ہے ان دونوں کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں جس پر ارشد بھی اٹھ گیا اور دونوں کمرے سے باہر چلے گئے

ان دونوں کے کمرے سے چلے جانے کے بعد میں نے پھر سے رام لال کے لن کو مساج کرنا شروع کردیا جس پر رام لال کا لن پھر سے کھڑا ہوگیا ایک دم میرے ذہن میں خیال آیا کہ لن کو چوسنے میں بھی یقینا بہت مزہ آتا ہوگا میں بھی ایک بار کرکے دیکھتی ہوں ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ رام لال نے تھوڑا اوپر ہوکر مجھے کسنگ شروع کردی میں نے اپنا منہ تھوڑا پیچھے کیا اور کہا کہ لائٹ آف کردوں

کیوں کیا ہوا

کچھ نہیں

تو لائٹ کیوں آف کرنی ہے ‘ رام لال نے استفسار کیا

بس ایسے ہی مجھے شرم محسوس ہوتی ہے‘ میری بات سن کر رام لال تھوڑاسامسکرایا اور کہنے لگا کہ کردو میں اٹھی لائٹ اور کمرے کا دروازہ بند کرکے پھر آکر بیڈ پر لیٹ گئی میں نے پھر سے رام لال کا لن ہاتھ میں پکڑ کر اس کو سہلانا شروع کردیا اور سوچ رہی تھی کہ رام لال کا لن منہ میں لے کر چوسوںیا نہیں کہ رام لال نے مجھے کسنگ شروع کردی میں نے اپنی آنکھیں بند کردیں اور اس کا ساتھ دینے لگی پھر میں نے اپنا منہ تھوڑا سا پیچھے کیا اور رام لال کی گردن اور پھر کانوں کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگی پھر میں تھوڑا سا نیچے ہوئی اور رام لال کی چھاتی پر اپنا منہ لے آئی ابھی کچھ کرنے ہی والی تھی کہ کمرے کی لائٹ آن ہوگئی

میں ایک دم پیچھے ہوگئی دیکھا تو ارشد اور آشا دروازے پر کھڑے ہنس رہے تھے میں نے شرم کے مارے اپنا منہ رام لال کی چھاتی میں چھپانے کی کوشش کی اور ایک ہاتھ سے بیڈ شیٹ اپنے اوپر لینے لگی تو ارشد بول پڑا

رک کیوں گئی کرتی رہوں اب شرم کس بات کی ہے

نہیں یار اب رہنے دو اب میرا بھی دل نہیں کررہا باقی کا پروگرام نیکسڈ میٹنگ پر رکھتے ہیں ‘ رام لال نے کہا

نہیں اگر آپ لوگ کہو تو ہم کمرے سے باہر چلے جاتے ہیں‘ ارشد نے کہا

نہیں آپ لوگ آجاﺅ اب میرا من چائے پینے کو کررہا ہے‘ رام لال کہنے لگا

آپ لوگ اپنا کام جاری رکھوآشا اور میں چائے تیار کرتے ہیں‘ ارشد نے کہا اور آشا کا بازو پکڑ کر کمرے کا دروازہ بند کرکے کچن کی طرف چل دیئے مگر میں نے ان کے جانے کے بعد پھر سے اپنا کام سٹارٹ کرنے کی بجائے اٹھ کر کپڑے پہننا شروع کردیئے

کیا ہوا‘ رام لال نے مجھے کپڑے پہنتے دیکھ کر استفسار کیا

کچھ نہیں اب اور کچھ نہیں کرنا میں بہت تھک گئی ہوں‘ میں نے جواب دیا میری بات سن کر رام لال بھی اٹھا اور کپڑے پہننے لگا میں کپڑے پہن کر باتھ روم چلی گئی اور فوری طورپر باتھ لے کر باہر آئی تو رام لال کمرے میں موجود نہیں تھا میں کمرے سے باہر نکلی تو مجھے ڈرائنگ روم سے بولنے کی آوازیں آئیں میں ڈرائنگ روم میں گئی تو وہاں ارشد اور آشا بالکل ننگے جبکہ رام لال کپڑے پہنے بیٹھا ہوا تھا میں بھی ان کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی اورچائے پینے لگی چائے کے بعد رام لال نے کہا کہ اب ہم لوگ چلتے ہیں جس پر آشا اور ارشد نے بھی کپڑے پہنے اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے جبکہ میں اور ارشد کمرے میں آکر لیٹ گئے

کیوں انجوائے کیا‘ ارشد نے مجھ سے کہاتو میں جواب میں بالکل چپ رہی

میں پوچھ رہا ہوں کہ انجوائے کیا یا نہیں ‘ ارشد نے میرا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا تو میں نے سر ہاں میں ہلا دیا جس پر ارشد مسکرا دیا اور پھر ہم لوگ سو گئے

چار پانچ دن بعد ایک روز دوپہر کے وقت مجھے فون آیا میں نے فون اٹینڈ کیا تو دوسری طرف آشا تھی

ہیلو ۔۔۔ارم ہاو آر یو

آئی ایم فائن‘

اس دن تم نے کیسا فیل کیا

اچھا فیل کیا اور تم نے

صرف اچھا یا بہت اچھا ‘ میں نے تو بہت ہی اچھا فیل کیا تھا میں تو ایک بار پھر کرنے کا سوچ رہی ہوں ‘ میں اس کی بات سن کر چپ ہوگئی تو اس نے مجھے بتایا کہ رام لال نے مجھے کہا ہے کہ اب نیکسٹ پروگرام کب کا بنائیںاس لئے میں نے فون کیا ہے ‘ میں اب بھی خاموش تھی جس پر اس نے مجھے ایک بار پھر پوچھا تو میں نے کہا کہ ارشد سے بات کرلیں تو اس نے ٹھیک ہے کہ کر فون بند کردیا

شام کو ارشد گھر آیا تو اس نے بتایا کہ رام لال اور آشا کا فون آیا تھا وہ دوبارہ پروگرام بنانے کا کہہ رہے تھے تو تم کیا کہتی ہو میں نے کہا جو مرضی کرلیں ‘ مجھے اس کی بات سن کر بہت خوشی ہورہی تھی

اس نے کہا کہ دو دن بعد مجھے تین دن کے لئے اسلام آباد جانا ہے سوچ رہا ہوں کہ آشا کو ساتھ لے جاﺅں اور تم ان دنوں میں رام لال کے ساتھ وقت گزارنا ، میں نے اس کی بات کاکوئی جواب نہ دیا تو اس نے فوری طورپر رام لال کو فون ملادیا اور اس کو پروگرام سے آگاہ کردیا پھر شائد فون پر آشا تھی ارشد نے پھر سے اپنے پروگرام کے بارے میں بتایا تو دوسری طرف سے اوکے ہوگیا جس پر اس نے مزید دو تین منٹ بات کی اور فون بند کرکے مجھے کسنگ کرنے لگا اور کہنے لگا کہ پروگرام فائنل ہوگیا ہے پرسوں ہم لوگ اسلام آباد کے لئے فلائی کرجائیں گے اور تم کل رام لال کو فون کر کے اپنا پروگرام سیٹ کرلینا اس کے بعد ہم لوگ بستر پر آگئے اور ہم دونوں نے ایک بھرپور قسم کا سیکس کیا لیکن مجھے وہ مزہ نہیں آیا جو رام لال کے ساتھ کرنے میں آیا تھا اگلے روز مجھے دوپہر کو رام لال کا فون آیا اور اس نے مجھے پوچھا کہ کیا پروگرام ہے تو میں نے اس سے کہا کہ جو مرضی آپ بنالیں تو کہنے لگا کہ پھر تین دن کے لئے تم میرے گھر آجانا میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے پھر دو چار ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد فون بند ہوگیا اگلے روز شام کو آشا اور رام لال ہمارے گھر آئے اور پھر ہم چاروں رام لال کی گاڑی میں آشا اورارشد کو ائیر پورٹ چھوڑ کر سیدھا رام لال کے گھر چلے گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

Part 3

رام لال اور میں گھر جاتے ہوئے راستے میں بات چیت کرتے گئے گفتگو مختلف موضوعات سیاست‘ شوبز‘ گھریلو مصروفیات اور پسند نا پسند پر تھی جبکہ اس دوران رام لال ہنسی مذاق بھی کرتا رہا جس پر میں کافی حد تک رام لال سے کھل گئی تھی چند روز پہلے رام لال کے ساتھ سیکس کرنے کے باوجود میں آج ائیر پورٹ پر رام لال کے ساتھ گفتگو کرنے سے کترا رہی تھی اور اس کی باتوں کا جواب صرف ہاں یا ناں تک محدود کررکھا تھا لیکن راستے میں کی جانے والی گفتگو کا اثر کافی ہوا اور میں اس کے ساتھ اوپن ہوگئی تھی گھر پہنچ کر ہم لوگ سیدھا بیڈ روم میں چلے گئے

تم نے کبھی جینز اور ٹی شرٹ پہنی ہے‘ رام لال نے بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی مجھ سے سوال کیا

نہیں ! ۔۔۔۔کیوں ! ۔۔۔۔ کیا مجھے برقعہ اورشلوار قمیص اچھی نہیںلگتی ‘ میں نے اس کو جواب دینے کے ساتھ ہی ایک ساتھ دو سوال بھی کردئےے

نہیں ایسی کوئی بات نہیں تم برقعہ میں بہت اچھی لگتی ہو لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ تم جینز اور ٹی شرٹ میں اس سے بھی زیادہ اچھی لگو گی‘ کیوں کہ تمہارا فگر بہت ہی زبردست ہے‘ رام لال نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

میں اس کی بات سن کر تھوڑا سا شرما گئی

میں تم کو آشا کا ٹراوزر اورٹی شرٹ دیتا ہوں تم پہن کر دکھاﺅ کہ کیسی لگتی ہو‘ رام لال نے مجھ سے کہا اور کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا جہاں سے اس نے ایک بلیو کلر کا ٹراﺅزر اور آف وائٹ کلر کی ایک ٹی شرٹ نکالی اور مجھے تھما دی میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاتھ سے کپڑے لے لئے اور اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگی

کیا ہوا‘ رام لال نے مجھے حیرت سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس کے جواب میں میں نے کچھ نہ کہا تو کہنے لگا کہ کیا ان کپڑوں کو پہنتے ہوئے شرم آرہی ہے لیکن میںچپ رہی تو اس نے ایک بار پھر کہا کہ یہ کپڑے پہن کر دکھاﺅ جس پر میں کپڑے لے کر باتھ روم کی طرف جانے لگی تو اس نے مجھے پکڑ لیا اور کہنے لگا کہ میرے سامنے چینج کرو

مجھے شرم آتی ہے‘ میں نے سر کو جھکاتے ہوئے کہا

اس شرم کو دور کرنے کے لئے ہی تو کہہ رہا ہوں کہ میرے سامنے چینج کرو بلکہ میں چینج کرنے میں تمہاری ہیلپ بھی کرتا ہوں‘ رام لال نے ہنستے ہوئے کہا

میں ابھی بت بنی کھڑی ہوئی تھی کہ رام لال میرے قریب آگیا اور میرا برقعہ اتارنے کی کوشش کرنے لگا جس میں میں نے خود ہی برقعہ اتار دیا اس کے بعد حجاب بھی اتار دیا اب میں شلوار قمیص میں اس کے سامنے کھڑی تھی اس کے بعد مجھ میں قمیص اورشلوار اتارنے کی مجھ میں ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ رام لال پھر سے بول پڑا

اب ان کو بھی اتار دو یا میں اتاروں‘

میں باتھ روم میں چینج کرکے آتی ہوں ‘ میں دوبارہ باتھ روم میں طرف جانے لگی تو اس نے پھر مجھے روک لیا اور میری قمیص اتارنے کی کوشش کرنے لگا

میں نے اس کو پیچھے کیا اور ہمت کرکے اپنی قمیص اتار دی اور ٹی شرٹ اٹھا کر پہننے لگی تو اس نے ٹی شرٹ میرے ہاتھ سے لے کر میرے بریزیئر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

اسے بھی اتار دو‘

میں تھوڑا سا ہچکچائی مگر اتنی دیر میں رام لال نے میرے پیچھے ہوکر بریزئیر کا ہک کھول دیا اور اس کو میرے جسم سے علیحدہ کردیا اب میں صرف شلوار پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی میں نے لاشعوری طورپر اپنے ہاتھ مموں پررکھ لئے جیسے کہ اپنے ممے اس سے چھپانے کی کوشش کررہی ہوں رام لال مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا اور اس نے مجھے ٹی شرٹ تھما دی میں نے اس سے ٹی شرٹ لے کر پہن لی اور پھر میں نے شلوار بھی اتار کر ٹراﺅزر پہن لیا

اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ کیابات ہے ‘ رام لال میری طرف دیکھتے ہوئے بولا

میں شرم سے پانی پانی ہورہی تھی اس نے میرا بازو پکڑا اور سامنے لگے بڑے آئینے کے سامنے لے جاکر کھڑا کردیا میں نے اپنی آنکھیں نیچی کررکھی تھی

اب خود کو دیکھو کیسی لگ رہی ہو‘ رام لال کی بات سن کر جیسے ہی میں نے شیشے کی طرف دیکھا پہلے لمحے میں نے خود کو پہچانا ہی نہیں مجھے خود کو دیکھ کر خوش کن حیرانگی ہورہی تھی میں شیشے کے سامنے کھڑی اتھلیٹ لگ رہی تھی میرے ممے بہت ہی ٹائٹ تھے اور شرٹ سے باہر آنے کو بے قرار ہورہے تھے سکن ٹائٹ ٹی شرٹ ہونے کے باعث بہت ہی نمایا ں ہورہے تھے میرے مموں کے نپلز شرٹ کے اندر سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے میری گوشت سے بھری ہوئی گول گول ٹانگیں بھی ٹراﺅزر میں پھنسی ہوئی تھی مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ میں ہی ہوںرام لال میرے پیچھے کھڑا ہوا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا اس نے مجھے پیچھے سے جپھی ڈال اور اور میرے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر میرے ساتھ پیچھے سے چپک گیا میں نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اس نے مجھے گردن پر کسنگ شروع کردی اس کا لن اس کی جینز میں سے بھی مجھے کھڑا ہوا محسوس ہورہا تھا اس نے یہاں چند لمحے کھڑے کھڑے گردن پر کسنگ کی اور پھر میرا چہرہ اپنی طرف کرکے میرے ہونٹوں پر بھی کسنگ کرنے لگا پھر مجھے پکڑ کر کمرے سے باہر لے گیا باہر کوئی بھی نہیں تھا لیکن میں بہت زیادہ شرما رہی تھی جیسے کہ ہوا ‘ آسمان اور دیواریں مجھے اس حالت میں دیکھ رہی ہوں

اندر چلو باہر کیوں آگئے ہو‘ میں نے رام لال سے کہا

تھوڑی دیر باہر بیٹھ کر موسم کو انجوائے کرتے ہیں‘ اندر کے لئے ابھی بہت زیادہ وقت ہے ابھی تین چار دن تم میرے پاس ہی ہو‘ رام لال نے مجھے سے کہا اور پھر ہم دونوں لان میں گھاس پر پڑی کرسیوں پر بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے تھوڑی دیر بعد اندھیرا چھا گیا تو رام لال کہنے لگا کہ ابھی بھوک بھی لگ رہی ہے کیوں نہ کسی اچھے سے ریسٹورنٹ پر جاکر کھانا کھائیں

ٹھیک ہے میں کپڑے چینج کرلوں پھر چلتے ہیں ‘ میں اٹھنے لگی تو اس نے پکڑ کر مجھے پھر بٹھا دیا

کیوں ان کپڑوں کو کیا ہوا ہے‘ رام لال نے کہا

کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ان کپڑوں میں باہر جاﺅں گی ‘ ام پاسیبل‘ میں نے رام لال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

کیوں ام پاسیبل ہے ‘ رام لال نے کہا

اچھا نہیں لگتا‘ میں نے کہا

سب کچھ اچھا لگے گا ‘ میں بھی ٹراﺅزر اور ٹی شرٹ پہن لیتا ہوں یہ کہہ کر وہ مجھے یہیں چھوڑ کر اندر چلا گیا اور چند منٹ کے بعد ٹی شرٹ اور ٹراﺅزر میں واپس آگیا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر مجھے بھی آواز دی میں بھی ہچکچاتے ہوئے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اور ہم لوگ ایک ریسٹورنٹ میں چلے گئے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ارم تم ٹی وی لگا کر دیکھو میں ٹوائلٹ سے ہوکر آتا ہوں‘ رام لال کمرے میں داخل ہوتے ہی باتھ روم کی طرف بڑھ گیا

میں نے کمرے میں پڑا ٹی وی آن کیا ایک دو چینل بدلی کئے مگر وہی گھسے پٹے گانے‘ فلاپ فلمیں اور خبروں کے چینل تھے جن کو دیکھ دیکھ کر میں اکتا چکی تھیمیں نے ٹی وی بند کردیا اور صوفے پر بیٹھ گئی

ٹی وی کیوں نہیں لگایا‘ رام لال نے ٹی وی بند دیکھ کر مجھ سے پوچھا

ٹی وی پر کیا ہے وہی پرانے گھسے پٹے گانے‘ فلاپ فلمیں اور خبروں کے چینل اسے بند ہی رہنے دو‘ میں نے جواب دیا

تم تھوڑا فریش ہوجاﺅ میںکوئی اچھی سی سی ڈی لگاتا ہوں‘ رام لال نے مجھے کہا اور میں اٹھ کر باتھ روم چلی گئی منہ ہاتھ دھو کر کمرے میں آئی تو ٹی وی پر بلیو فلم چل رہی تھی جس میں ایک نوعمر لڑکی ایک عمر رسیدہ شخص کے لن کو منہ میں ڈالے آگے پیچھے ہورہی تھی میں بلیو فلم دیکھ کر ٹھٹھک گئی

کیا ہوا ادھر آﺅ تم کو فلاپ فلمیں اور گھسے پٹے گانے اچھے نہیں لگتے میں نے تمہاری پسند کی چیز لگا دی ہے رام لال جو سی ڈی لگا کر ٹی وی سے پیچھے ہٹ رہا تھا پکڑ کر مجھے بیڈ پر لے گیا اور ہم دونوں بیڈ پر بیٹھ گئے جیسے جیسے فلم دیکھ رہی تھی ویسے ویسے میرے اندر ایک آگ سی جل رہی تھی پہلے ہی ریسٹورنٹ میں پیش آنے والے واقعہ سے میں بہت اپ سیٹ ہوچکی تھی اور میرا دل کررہا تھا کہ کوئی جم کر میری چدائی کرے گھر آکر میرا دل بھی کیا کہ میں رام لال سے کہوں کہ دوسرے کام چھوڑو اور پہلے ”مطلب“کاکام کریں لیکن روائتی ہچکچاہٹ کی وجہ سے میں اس کو نہ کہہ سکی اوپر سے بلیو فلم نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور میرے اندر شہوت کی آگ مزید بھڑکنے لگی میں بلیو فلم میں اتنا مگن ہوگئی تھی کہ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ فلم کی ہیرﺅئن میں ہوں اور بڈھا اس لڑکی کو نہیں مجھے چود رہا ہے فلم دیکھتے دیکھتے رام لال نے اپنا ایک ہاتھ میرا کندھے پر رکھا اور میرا منہ اپنی طرف موڑ لیا اور میرے ہونٹوں پر کس کرنے لگا میں نے اپنے جسم کو مکمل طورپر ڈھیلا چھوڑ دیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیںوہ میرے ہونٹوں کو مسلسل چوس رہا تھا پھر اس نے اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی اور میں نے اس کو چوسنا شروع کردیا مجھے اس کی زبان چوسنے میں عجیب سی لذت محسوس ہورہی تھی اچانک اس نے اپنی زبان میرے منہ سے نکال لی اور میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اس نے میری زبان چوسنا شروع کردی

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ ٹی وی پر چل رہی فلم کی ہیروئن کی چدائی شروع ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ آہیں بھرنے لگی تھی جس سے میرا جوش مزید بڑھ گیا

رام لال نے میری زبان چوسنا بند کی اور میری ٹی شرٹ میرے بدن سے اتار دی اور پھر مجھے لٹا کر میرا ٹراﺅزر بھی اتار دیا میں نے اپنی آنکھیں مسلسل بند کررکھی تھیں ٹی وی پر مسلسل بلیو فلم چل رہی تھی رام لال نے میرے اوپر جھک کر ایک بار پھر میرے ہونٹوں کی کسنگ شروع کردی تھوڑی دیر کے بعد اس نے میرے ہونٹوں پر سے اپنے ہونٹ ہٹائے اور اپنا منہ اوپر کر کے میرے مموں پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا میں مزنے سے آہیں بھر رہی تھی پھر اس نے میرے ایک ممے کے نپل پر اپنی زبان پھیرنا شروع کردی اور دوسرے ممے پر مسلسل اپنا ہاتھ پھیر رہا تھا اس نے پھر دوسرے ممے کے نپل کو چوسنا شروع کیا اس نے میرے نپل پر ہلکی سی کاٹی کردی

آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔ایسا نہ کرو مجھے درد ہوتا ہے‘ میں نے ایک لمحے کے لئے اپنی آنکھیں کھولیں اور پھر بند کردی

رام لال نے میری بات کو کوئی ترجیح نہ دی اور اپنے کام میں مگن رہا وہ مما چوستے چوستے کبھی کبھی میرے ممے پر اپنے دانتوں سے کاٹ بھی لیتا جس سے مجھے درد کے ساتھ عجیب سا مزہ بھی آرہا تھا اس کے بعد اس نے اپنا چہرہ تھوڑا سا نیچے کیا اور میرے پیٹ پر کسنگ کرنے ہوئے اپنے ہونٹ میری ناف تک لے آیا اور میری ناف کے گرد اپنی زبان پھیرنے لگایہ بھی ایک عجیب سا مزہ تھا جس سے میں آج تک نا آشنا تھی اس کے بعد وہ اٹھ کر سیدھا ہوا اور میری ٹانگوں کو کھول کر ان کے درمیان میں آگیا میں سمجھی کہ اب چدائی شروع کرنے لگا ہے لیکن مجھے کیا معلوم کہ ”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں“ اس نے میری ٹانگوں کو مزید کھلا کیا اور تھوڑا سا جھک کر اپنی زبان کو میری پھدی کے ہونٹوں پر پھیرنے لگا مجھے ایسے لگا جیسے کہ کسی نے مجھے 440 وولٹ بجلی کا جھٹکا دیا ہو میں ایک دم سے پیچھے ہو گئی اور رام لال کا منہ میری پھدی سے دور ہوگیا میں آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھنے لگی تو اس نے میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا ہوا

یہ سب کیا ہے‘ میں نے اس سے پوچھا

کچھ نہیں تم بس انجوائے کرو‘ اس نے جواب دیا

میں نے ایک لمحے کے لئے سوچا کہ ابھی تک رام لال نے جو بھی کچھ کہا ہے اس سے مجھے بہت زیادہ مزہ آیا ہے اب بھی دیکھتی ہوں کہ کیا مزہ آتا ہے یہ سوچ کر میں نے اپنی آنکھیں پھر سے بند کرلیں اور رام لال نے اپنی انگلیوں سے میری پھدی کے ہونٹوں کو چھوا اور پھر سے ان پر زبان پھیرنے لگا مجھے پہلے تو بہت عجیب سا فیل ہوا لیکن چند لمحوں میں ہی میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئی رام لال اب میری پھدی کے اندر اپنی زبان کو داخل کرکے اس کو اندر باہر کررہا تھا اور میں مزے سے اپنے سر کو بستر پر ادھر ادھر مار رہی تھی میں نے اپنے دونوں ہاتھوںسے رام لال کے سر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس کو اپنی پھدی کے اندر مزید دھکیل رہی تھی اچانک میرا جسم اکڑنے لگا اور پھر چند لمحے بعد میرے جسم کو دوتین جھٹکے لگے اور میرے پھدی نے پانی کا ایک چھینٹا مارا اور میں فارغ ہوگئی میری پھدی سے نکلنے والا پانی رام لال کے منہ پر ہی گرا تھا میرے فارغ ہوتے ہی رام لال میرے ساتھ آکر لیٹ گیا اور آہستہ سے مجھے کہنے لگا

اب تمہاری باری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب تمہاری باری ہے‘ رام لال نے میری بغل میں لیٹتے ہوئے کہا

میری باری‘ میں نے دل میں سوچا اور اٹھ کر بیٹھ گئی رام لال آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا میں نے بیٹھ کر اس کے لن کو غور سے دیکھا آج میں پہلی بار کسی غیر مرد بلکہ کسی غیر مسلم کے لن کو غور سے دیکھ رہی تھی(اس سے پہلے جب ارشد اور آشا بھی ساتھ تھے میں رام لال کے لن کو غور سے نہیں دیکھ پائی تھ) اس کا لن گھنگریالے بالوں سے بھرا پڑا تھا کالے رنگ کا لن جس کے ختنے بھی نہیں ہوئے تھے ارشد کے لن سے کم از کم دو انچ بڑا ہوگااس کی موٹائی بھی قابل رشک تھی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ اس کو منہ میں لوں لیکن آج میں سیکس کو پوری طرح سے انجوائے کرنا چاہتی تھی میں نے رام لال کے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کو ادھر ادھر گھمانے لگی جس سے وہ مزید ٹائٹ ہونے لگا اس کی ٹوپی دیکھتے ہی دیکھتے مزید بڑی ہوگئی میں نے تھوڑا سا نیچے ہوکر اس کے لن کی ایک کس کی اورپھر اوپر کو ہوگئی

کیا ہوا پیچھے کیوں ہوگئی‘ رام لال نے کہا

کچھ نہیں آپ بس لیٹے رہواپنی باری پر تم نے اپنی مرضی سے سب کچھ کیا اب میری باری ہے اور میری ہی مرضی ہوگی میں جو چاہوں گی کروں گی تم بس آنکھیں بند کرلوں اور خاموشی لیٹے رہو ‘ میں نے رام لال کو جواب دیا اور پھر سے لن پر جھک گئی

میں نے اپنی زبان اپنے منہ سے باہر نکالی اور اس کی نوک رام لال کے لن کی ٹوپی پر پھیرنے لگی پھر میں نے رام لال کے لن کی ٹوپی کو اپنے منہ میں لے لیا اس کا لن اتنا بڑا تھا کہ اس کی ٹوپی ہی میرے منہ میں جاسکی تھی میرے منہ میں جاکر اس کے لن کی ٹوپی مزید بڑی ہوگئی میں نے اس کے لن کی ٹوپی کو چوسنا شروع کردیا جس سے مجھے بھی مزہ آرہا تھا یقینا رام لال بھی اس کو انجوائے کررہا ہوگا وہ بس اپنی آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا

بے بی اس کواپنے منہ میں تھوڑا سا آگے کرو‘ رام لال نے لیٹے لیٹے مجھے کہا

میں نے اس کے لن کو اپنے منہ میں تھوڑا سا اور لینے کی کوشش کی لیکن کام یاب نہ ہوسکی رام لال نے میرے سر کو پکڑ کر نیچے دبایا اور اس کا لن میرے حلق سے جالگا میں نے اس کے ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے مجھے چھوڑنے کی بجائے لگاتار میرے سر کو اوپر نیچے کرنا شروع کردیا اس کا لن بار بار میرے حلق کے اندر تک جارہا تھا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا وہ میرے سر کو مضبوطی سے پکڑے اپنے لن کے اوپر دبا رہا تھا چند منٹ بعد اس نے اپنی گرفت میرے سر سے تھوڑی سی نرم کی تو میں نے اس کے لن کو فوری طورپر باہر نکال دیا اور زور زور سے کھانسنے لگی مجھے قے آنے کو تھی لیکن قے نہ ہوئی میں چند منٹ تک کھانستی رہی جب کھانسی رکی تو میں نے رام لال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں جب میں خودکررہی تھی تو آپ کو میرے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئے تھی

آئی ایم سوری ‘ رام لال نے کہا

میںپوری طرح نڈھال ہوچکی تھی میں بیڈ پر لیٹ گئی رام لال نے میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اور میرے مموں کو اپنے ہاتھوں سے دبانا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد مجھے مزہ آنے لگا اور میں اس کے ساتھ چمٹ گئی وہ اپنا ہاتھ میرے مموں پر پھیرتے پھیرتے میری پھدی تک لے گیا اور میری پھدی کے ہونٹوں کو انگلیوں سے علیحدہ کرکے اس نے اپنی ایک انگلی میری پھدی میں ڈال دی میری پھدی سے ہلکا ہلکا سا پانی نکل رہا تھا اس کے بعد وہ اٹھ کر بیٹھ گیا

آج ڈوگی سٹائل میں کرتے ہیں‘ رام لال نے بیٹھتے ہی کہا

میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے الٹی ہوکر اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل ہوگئی اس نے اپنے ایک ہاتھ سے اپنا لن میری پھدی کے دہانے پر سیٹ کیا اور پھر اپنے دونوں ہاتھ میرے گرد حائل کرکے میرے ممے پکڑ لئے پھر ایک زور دھار جھٹکا دیا اور اپنا پورا لن میری پھدی کے اندر ڈال دیا

مزے اور ہلکی سی درد کی ملی جلی کیفیت سے میرے منہ سے ایک لمبی سی آہ نکلی اس نے اپنے لن کو فوری طورپر باہر نکالا اور پھر ایک اور زور دار جھٹکا دے کر اپنا لن میری پھدی میں ڈال دیا جیسے ہی اس نے جھٹکے اپنا لن اندر کیا اس نے میرے مموں پر اپنی گرفت بھی مضبوط کرلی اس کا جھٹکا اتنی زور کا تھا کہ میں آگے کو گرنے لگی لیکن اس کے ہاتھ مموں پر ہونے اور گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے میں نہ گر سکی اس نے اپنے جھٹکے مسلسل جاری رکھے اب مجھے بہت زیادہ مزہ آرہا تھا اور میرا دل کررہا تھا کہ اس کا لن میری پھدی کے مزید اندر تک جائے جس کے لئے جیسے ہی وہ اپنے لن کو باہر نکالنے کے بعد اندر کو جھٹکا دیتا میں پیچھے کی طرف زور لگاتی تاکہ اس کا لن میرے مزید اندر جائے اسی طرح پانچ چھ منٹ کی چدائی کے بعد میں اپنی منزل کو پہنچ گئی جس پر رام لال نے جھٹکے دینا بند کردیئے اور اپنے لن کو بھی باہر نکال لیا اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے مموں سے بھی ہٹا لئے تھے جب میں پوری طرح سے فارغ ہوگئے تو اس نے بیڈ شیٹ سے میری پھدی کو صاف کیا اور پھر سے اپنے لن کو میری پھدی میں ڈال کر اندر باہر کرنے لگا دس منٹ تک چدائی کے بعد وہ میری پھدی کے اندر ہی چھوٹ گیا اس دوران میں دو مرتبہ مزید چھوٹی اس کے فارغ ہونے کے بعد میں بیڈ پر اوندھے منہ ہی لیٹ گئی اور زور زور سے سانس لینے لگی جیسے میلوں بھاگ کر آئی ہوں چند منٹ بعد نارمل ہوئی تو سیدھی ہوکر لیٹ گئی اور رام لال کے ساتھ باتیں کرنے لگی رام لال نے دس پندرہ منٹ باتیں کرنے کے بعد ایک بار پھر سیکس کی خواہش ظاہر کی لیکن میں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اب مجھ میں ہمت نہیں جس پر اس نے بھی اصرار نہ کیا اور ہم دونوں ننگے ہی بیڈ پر سوگئے صبح میری آنکھ اس وقت کھلی جب تکیے کے نیچے پڑے میرے موبائل پر بیل ہوئی میں نے نمبر دیکھے بغیر ہی اس کو اٹینڈ کیا

ہیلو‘ میری جان کیسی ہے‘ دوسری طرف سے ارشد بول رہا تھا

ہیلو میں ٹھیک ہوں‘ میں نے جواب دیا

ڈارلنگ انجوائے کررہی ہو‘ ارشد نے پوچھا

ہووووووووووں‘ میں نے نیند سے بوجھل آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا

لگتا ہے رات کو دیر تک جاگتی رہی ہو اور ابھی تک بیڈ پر ہی ہواوکے انجوائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشد نے کہا اورفون بند کردیا

اگلے دوروز میں ہم نے مزید مزے کئے اور تیسرے دن دوپہر کے وقت ارشد اور آشا دونوں واپس آگئے اس رات کو ہم چاروں نے اکٹھے کھانا کھایا اور پھر میں ارشد کے ساتھ واپس گھر آگئی

ڈارلنگ انجوائے کیا تم نے ‘ ارشد نے بیڈ روم میں داخل ہوتے ہی مجھ سے سوال کیا

ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے جواب دیا

کتنا‘ ارشد نے ایک بار پھر مجھ سے سوال کیا

کافی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ نے ‘ میں نے ارشد کو جواب دینے کے ساتھ ہی ایک سوال بھی کردیا

ڈارلنگ کچھ نہ پوچھو میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی اتنا انجوائے نہیں کیا جتنا ان تین دنوں میں کیا ہے‘ ارشد نے جواب دیا پھر اس موضوع پر کافی دیر باتیں ہوتی رہیں اور ہم رات کو بھرپور قسم کی ہم بستری کے بعد سوگئے اس رات ارشد میں عجیب قسم کا جوشیلا پن تھا جو اس سے پہلے کبھی بھی سیکس کے دوران میں نے محسوس نہ کیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

ارشد کے اسلام آباد سے واپسی کے بعد ہم دونوں ہر روز ایک بار پھر سے پرجوش طریقے سے سیکس کرنے لگے میں سیکس کو پہلے سے بہت زیادہ انجوائے کررہی تھی یقینا ارشد بھی اس کو زیادہ انجوائے کررہا تھا اس امر کا اظہار ہم دونوں نے ایک دوسرے سے کیا بھی تھا لیکن یہاں یہ بات بھی ضرور تھی کہ جو مزہ مجھے رام لال کے ساتھ تین روز گزارنے میں آیا وہ پہلے کبھی ملا تھا اور نہ اب مل رہا تھا ارشد نے ایک دو بار رام لال اور آشا کے بارے میں بات شروع کی لیکن میں نے اس کو منع کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے ذہن کے کسی کونے میں اس فعل پر پشیمانی تھی اور میں اس کام کو دوبارہ نہیں کرنا چاہتی تھی اس دوران کئی بار مجھے اور ارشد کو رام لال اور آشا کا فون بھی آیا ارشد نے مجھ سے رائے بھی لی لیکن میں نے انکار کردیا اور کہا کہ میں پھر ایسا نہیں کرسکتی اور پلیز مجھے پھر اس پر فورس نہ کرنا تقریباً پندرہ روز گزرے ہوں گے جب ایک روز ارشد آفس سے جلدی واپس آگیا اور ہم نے جلدی ہی کھانا کھالیا ارشد لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا اس نے مجھے چائے لانے کو کہا میں چائے لے کر آئی تو اس نے مجھے کہا کہ یہیں بیٹھ جاﺅ میں اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گئی اس نے اپنی گود میں لیپ ٹاپ رکھا ہوا تھا اس نے یاہو چیٹ روم کے مین پیج پر بڑے فاﺅنٹ میں ”اینی باڈی انٹرسٹڈ ان تھری سم ‘ ای گڈ لوکنگ کپل ہیر“لکھا

یہ کیا کررہے ہیں آپ‘ میں نے اس سے پوچھا

تم بس چپ کرکے بیٹھی دیکھتی رہو‘ اس نے جواب دیا اور پھر سے کمپیوٹر کی سکرین پر اپنی نظریں جما دیں

ایک دم سے درجنوں لوگوں نے رپلائی کیا اور سب اپنی اپنی asl بتانے لگے ارشد نے بھی سب کو اپنی ایج اور دیگر معلومات فراہم کیں میں نے ایک بار پھر ارشد کو ٹوکا لیکن وہ باز نہ آیا جس پر میں خاموش ہوگئی دس پندرہ منٹ بعد ارشد نے دولوگوں کے علاوہ دیگر تمام لوگوں سے بات چیت بند کردی یہ دونوں اب میرے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے ارشد نے ان دونوں کو میری ایج‘ لک‘ فگر اور دیگر جو بھی باتیں ان لوگوں نے پوچھیں بتائیں کچھ دیر بعد ان لوگوں نے میری تصویر دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن ارشد نے کہا کہ پہلے آپ لوگ اپنی تصاویر بھیجو جس پر ان دونوں نے اپنی اپنی تصاویر بھیجیں ارشد نے دونوں کی تصاویر کمپیوٹر میں سیف کرلیں میں نے ان دونوں کی تصاویر پر کوئی دھیان نہیں دیا ارشد نے ان کو کہا کہ کل رات کو نو بجے پھر آن لائن ہوں پھر بات ہوگی اس کے بعد ارشد نے اپنا آئی ڈی لاگ آف کردیااور میرے ساتھ بات چیت شروع کردی

ارشد دیکھو میں پہلے بھی آپ کی بات مان کر رام لال سے ملی تھی حالانکہ میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی اور آپ نے وعدہ بھی کیا تھا کہ آئندہ پھرکبھی نہیں کہو گے اب پھر آپ کو کیا ہوگیا ہے‘ میں نے ارشد کو غصے والے انداز میں کہا

یار کیا ہوگیا ہے تم کو بات چیت کرنے میں کیا حرج ہے ہم کون سا ان لوگوں سے واقعی رئیل میں مل رہے ہیں‘ ارشد نے مجھے تسلی دی

ارشد میں آپ کو پھرکہہ رہی ہوں کہ اب میں آپ کی بات نہیں مانوں گی‘ میں نے اس کو دو ٹوک انداز میں کہا

کیوں نہیں مانو گی میری بات‘ ارشد نے ایک دم اپنی ٹیون چینج کی

ارشد آپ سمجھتے کیوں نہیں یہ بہت غلط کام ہے اگر کسی کو معلوم ہوگیا تو بہت غضب ہوجائے گاہم لوگ بدنام ہوجائیں گے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے‘ میں نے ارشد کی منت سماجت شروع کردی

اچھا چلو اب اس ٹاپک کو چھوڑو جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا‘ ارشد نے مجھے کہا اور پھر اٹھ کر باتھ روم چلا گیا

اس رات پھر ہم دونوں نے پھر بھرپور سیکس کا مزہ لیا اگلے روز شام کو پھر ارشد لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا مجھے اندازہ ہوگیا کہ ارشد کے ارادے کچھ اور ہی ہیں جس پر میں نے سوچا کہ ارشد نے جو سوچا ہے وہ پورا کرکے ہی دم لے گا لہذا بہتر یہی ہوگا کہ جو وہ کہتا ہے اسی طرح کروں اس روز بھی ارشد نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور لاگ آن ہونے سے پہلے اس نے دونوں کی تصاویر اوپن کیں اور مجھے دکھائیں اور کہنے لگا ان دونوں میں سے پسند کرو کون سا بہتر ہے میں نے اس کو دکھانے کے لئے غصے والے انداز میں بات کی اور انکار کیا لیکن ایک دم ارشد نے غصیلی نگاہوں سے میری طرف دیکھا تو میں نے منت سماجت والے لہجے میں اس سے کہا

ارشد ایک بار پھر سوچ لو یہ اچھی بات نہیں ہے ہم جس لائن پر چل نکلے ہیں اگر کسی کومعلوم ہوگیا تو بہت برا ہوجائے گا‘

کچھ نہیں ہوتا بس جیسا میں کہتا ہوں تم ویسا ہی کرو‘ ارشد نے جواب دیا اور پھر دونوں تصاویر میں سے مجھے کسی ایک کو پسند کرنے کے لئے کہا

جس کو مرضی منتخب کرلو ‘ میں نے ارشد کو جواب دیا اور خود چائے بنانے کے لئے کچن میں چلی گئی واپس آئی تو ارشد کسی سے فون پر بات کررہا تھا اس نے بات کرتے کرتے فون اچانک میرے ہاتھ میں دے دیا

ہائے ‘ میں آصف ہوں‘ دوسری طرف سے آواز آئی

میں نے کئی جواب نہ دیا اور سوالیہ نگاہوں سے ارشد کی طرف دیکھنے لگی

ہاں ہاں بات کرو نا‘ ارشد نے مجھے کہا

آپ میری بات سن رہی ہیں نہ‘ دوسری طرف سے آواز آئی

جی میں سن رہی ہوں‘ میں نے کہا

آپ کیسی ہیں‘

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو

میں بھی ٹھیک ہوں خرم صاحب(ارشد نے اس کو اپنا نام خرم بتایا تھا بعد میں ارشد نے مجھے بتایا ) نے آپ کے فگر بتائے ہیں لگتا ہے آپ بہت خوب صورت ہیں اور آواز بھی آپ کی بہت سریلی ہے رئیل میں ملیں گے تو پھر بہت مستی کریں گے آپ بھی مزہ کریں گی‘ دوسری طرف سے آواز آئی

میں نے جواب میں کچھ نہ کہا اور فوری طورپر فون بند کرکے ارشد کو دے دیا پھر کچھ دیر تک ارشد نے اس کے ساتھ نیٹ پر چیٹ کی میں نے ان دونوں کی چیٹ پر کوئی توجہ نہ دی پھر ارشد نے اس کو اگلے دن نو بجے پھر آن لائن ہونے کا کہا اور لاگ آف ہوگیا اس کے بعد ارشد نے مجھے تصویر دکھائی کہ اس سے بات ہورہی تھی اس نے بیس بائیس سال عمر کے لڑکے کی تصویر مجھے دکھائی اس کے بعد ہم دونوں نے چائے پی اور بستر پر آگئے میں ساری رات سوچتی رہی کہ میں کس چنگل میں پھستی جارہی ہوں اور ارشد مجھے کس سمت میں لے جارہا ہے مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب کیا کیا جائے آخر میں میں نے فیصلہ کیا کہ خود کو حالات پر چھوڑ دیا جائے اگلے روز رات کو پھر آصف سے بات چیت ہوئی اس وقت ارشد نے مجھے بھی پاس بٹھا لیا آصف سے بات چیت کے دوران ارشد نے یاہو چیٹ روم میں پھر لوگوں کو ”تھری سم“کی دعوت دے دی

جب آپ نے اس کو منتخب کرلیا ہے تو اور لوگوں کو کیوں کہہ رہے ہو‘ میں نے ارشد سے پوچھا

چیٹ کرنے میں کیا حرج ہے ‘ ارشد نے جواب دیا اور پھر کئی لوگوں سے بات چیت کرنے لگا اس دوران ایک شخص جس نے اپنی ایج 35 سال بتائی کو ارشد نے منتخب کرکے اپنے یاہو مسنجر میں ایڈ کرلیا اور پھر اس سے بات چیت کرنے لگا میں ان دونوں کی چیٹ کو پڑھ رہی تھی اس نے بتایا کہ وہ طلاق یافتہ ہے اس نے اپنا نام نومی بتایا

ارشد ‘ آپ نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی

نومی‘ روزانہ میرا لن نہیں لے سکتی تھی چدائی سے تنگ آکر اس نے خود طلاق لے لی

ارشد‘ حیرانگی والی بات ہے وہ تنگ کیوں آئی تھی

نومی ‘ وہ چدائی سے تو تنگ نہیں تھی اسے میرے لن کے سائز پر اعتراض تھا

ارشد‘ اسے کیا اعتراض تھا

نومی ‘ کہتی تھی کہ سائز بہت بڑا ہے اور مجھ سے برداشت نہیں ہوتا

ارشد‘ آپ کاسائز کیا ہے

نومی‘ آٹھ انچ ہوگا

ارشد ‘ رئیلی

نومی‘ اگر کوئی شک ہے تو کیم آن کرکے دکھا دوں

ارشد‘ ہاں ہاں کیوں نہیں

ارشد کے جواب پر اس نے چند لمحوں میں اپنا کیم آن کیا تو اس کا چہرہ دکھائی دیا بہت بدصورت دکھائی دے رہا تھا مجھے ایک نظر بھی نہیں بھایا اس کا رنگ حبشیوں جیسا کالا تھا ناک اور لب بہت موٹے تھے اس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیںاس نے چند سیکنڈ کے بعد کیم کارخ نیچے کی طرف کیا اور اپنی شلوار اتار کر اپنے لن کو دکھانے لگا اس کا لن واقعی بہت بڑا تھا میں نے فلموں میں بھی اتنا بڑا لن کبھی کسی کا نہیں دیکھا تھا ابھی فل ایکشن میں نہ ہونے کے باوجود بہت بڑا دکھائی دے رہا تھا اور موٹا بھی کافی تھا اس نے اپنے ایک ہاتھ سے لن کو پکڑ کر ادھر ادھر گھما کر کیم میں ہم کو دکھایا اور پھر کیم بند کردیا اس کے لن کو دیکھ کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور میرے پسینے چھوٹ گئے کہ اتنا بڑالن میں کیسے لے سکوں گی

ونڈر فل ‘ ارشد نے اس کو کہا

پسند آیا تم کو میرا لن‘ نومی نے پوچھا

بہت اچھا ہے ‘

تو پھر کب مل رہے ہو ‘ اس نے ارشد سے پوچھا

اگلے ہفتے کسی دن کا پروگرام بنا لیتے ہیں ‘ ارشد نے جواب دیا اور پھر دونوں نے اپنے موبائل نمبرز کا تبادلہ کیا اور ارشد لاگ آف ہوگیااور ہم دونوں بیڈ پر لیٹ گئے میرے حواس پر ابھی تک اس کا لن چھایا ہوا تھا

ارشد مجھے یہ نومی کوئی اچھا آدمی نہیں لگتا‘ آپ نے اگر یہ کام کرنا ہی ہے تو آصف سے آپ کی بات ہورہی ہے وہی ٹھیک ہے‘ میں نے ارشد سے کہا

تجھے کیا سمجھ آدمیوں کی جانوں اس آصف میں کیا ہے بائیس تیئس سال کا ہے کوئی تجربہ بھی نہیں ہے نومی کی ایج 35 سال ہے اور مچیور بھی ہے اور اس کا لن دیکھا ہے کتنا بڑا ہے مزہ آئے گا اس سے ملنے میں‘ ارشد نے مجھے جواب دیا اور میں اس کی بات سن کر خاموش ہوگئی تھوڑی دیر بعد ارشد سو گیا لیکن میرے حواس پر ابھی بھی خوف طاری تھا کہ کچھ غلط ہونے والا ہے میرا دل کہہ رہا تھا کہ یہ نومی ٹھیک آدمی نہیں ہے اس رات میں سو نہیں سکی صبح ارشد کو ناشتہ دے کر پھر بستر پر آگئی تو سوچتے سوچتے نیند آگئی شام کو ارشد نے ہی آکر جگایا میں نے اس کو کھانا دیا اور پھر اس نے مجھے اپنے پاس بٹھا کر چیٹ شروع کردی اس روز ارشد نے اس سے ہفتے والے دن ملنے کا پروگرام بنا لیا اس روز جمعہ تھا یعنی ہمیں اگلے روز نومی کو ملنا تھا پروگرام کے مطابق نومی نے شام کو سات بجے ارشد کو فون کرے گا اور ارشد اس کو اس کے گھر کے قریب سے پک کے گا اور گھر لے آئے گا اگلے روز صبح سویرے مجھے مینسز ہوگئے صبح اٹھے تو ارشد نے مجھے یاد کروایا کہ آج نومی نے آنا ہے تم تیار رہنا اور کوئی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہئے میں نے ارشد کو بتایا کہ مجھے مینسز ہوگئے ہیں پروگرام کینسل کردو تو مجھ پر غصہ ہونے لگا کہ تم نے بتایا کیوں نہیں اب نومی کو کہا تو وہ ناراض ہوجائے گا خیر ارشد مجھے برا بھلا کہتے ہوئے آفس چلا گیا اور میں دل ہی دل میں خوش ہوگئی کہ اس بلا سے جان چھوٹ گئی دو بجے کے قریب ارشد نے مجھے فون کرکے بتایا کہ چار بجے رام لال اور آشا آرہی ہیں ان کو چائے وغیرہ دو میں بھی تھوڑی دیر میں پہنچ جاﺅں گا

اب وہ کیا لینے آرہے ہیں‘ میں نے ارشد سے سوال کیا

وہ میں بعد میں بتاﺅں گا ارشد نے مجھے کہا

میں اٹھ کر باتھ روم میں چلی گئی اور ہاتھ منہ دھو کر کپڑے چینج کئے اتنی دیر میں میرے موبائل پر بیل ہوئی میں نے دیکھا تو آشا کا فون آرہا تھا میں نے فون اٹینڈ کیا

ہیلو ! میں آشا بول رہی ہوں کیا حال ہے‘

میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں‘ میں نے جواب دیا

ارشد کا تھوڑی دیر پہلے فون آیا تھا اور ہم لوگوں کو اس نے انوائٹ کیا ہے میری رام لال جی سے بات ہوئی ہے وہ آفس سے نکل آئے ہیں جیسے ہی گھر آتے ہیں ہم سیدھا آپ کی طرف ہی آرہے ہیں‘ آشا نے کہا

ہاں ارشد نے مجھے بھی بتایا ہے میں آپ کا انتظار کررہی ہوں‘ میں نے جواب دیا

آپ اچھی سی کافی کا انتظام کریں ہم بس تھوڑی دیر میں آپ کی طرف آرہے ہیں‘ آشا نے کہا

تھوڑی دیر بعد آشا اور رام لال جی بھی آگئے اور میں ان کے لئے کافی تیار کررہی تھی کہ ارشد بھی آگیا ہم کافی پینے لگے

آپ لوگوں کے ساتھ توبہت ٹریجڈی ہوگئی کہ آپ لوگوں نے سپیشل پروگرام بنایا اور پھر یک دم کون سی آفت آگئی ‘ رام لال نے ہنستے ہوئے میری طرف دیکھ کر کہا

مجھے اس کی بات سمجھ نہ آئی کہ اس کے کہنے کا مطلب کیا ہے میں سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھنے لگی

بس یار کچھ نہ پوچھیں اس میں سارا قصوراس کا ہے اس کو چاہئے تھا کہ پروگرام بنانے سے پہلے بتا دیتی لیکن اس نے نہیں بتایا اور سارے پروگرام کا بیڑا غرق کردیا ‘ ارشد نے میری طرف اشارہ کرکے کہا

کوئی بات نہیں آپ آشا کے ساتھ انجوائے کریں میں اور ارم تھوڑی آﺅٹنگ کرلیں گے‘ رام لال نے کہا

ہم چاروں دو گھنٹے تک باتیں کرتے رہے اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ ارشد نے فون کرکے رام لال اور آشا کوآصف اور نومی کے ساتھ ہونے والی چیٹ کے بارے میں بتایا اور پھر نومی کے ساتھ آج کے پروگرام کے بارے میں بھی بتایا اور میرے مینسز کے بارے میں بھی بات کی جس پر رام لال نے آشا کو اس سپیشل پروگرام کو انجوائے کرنے کو کہا جس پر وہ تیار ہوگئی اور وہ لوگ ادھر آئے میں اس ساری صورت حال کو جاننے کے بعد کافی شرمندہ سی ہوگئی تھی لیکن باتیں جاری رہیں سات بجے کے قریب ارشد کے فون پر بیل ہوئی

ہیلو۔۔۔۔۔ جی ہم لوگ ریڈی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں دس پندرہ منٹ میں پہنچتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے کپڑے کون سے پہنے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٹھیک ہے میں ابھی نکلتا ہوں‘ ارشد نے فون پر کسی سے بات کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ دوسری طرف نومی بول رہا تھا اس کے بعد ارشد نے رام لال کو کہا کہ اب میں چلتا ہوں آپ لوگ بھی انجوائے کریں رام لال نے ارشد سے آصف کا نمبر لیا اور میں رام لال کے ساتھ چل پڑی جبکہ ارشد آشاکو کچھ ہدایات دینے کے بعد گاڑی میں نومی کو لینے کے لئے نکل گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں اور رام لال گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکل آئے

تم نے آج پھر برقعہ پہن لیا ہے‘ رام لال نے گھر سے نکلتے ہی مجھ سے سوال کیا

مجھے برقعہ کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی عادت نہیں ہے‘ میں نے جواب دیا

ویسے تم برقعہ میں بہت زیادہ سیکسی لگتی ہو‘ رام لال نے میری طرف بغور دیکھتے ہوئے کہا

میں تھوڑا شرما گئی اور کچھ نہ بولی

آج کہاں چلیں‘ رام لال نے مجھ سے رائے لی

جہاں آپ کی مرضی‘ میں نے کہا

لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں

جیسے آپ کی مرضی

یہ آصف کون ہے اورکیسا لڑکا ہے‘ رام لال نے مجھ سے پوچھا

معلوم نہیں ارشد نے ہی اس سے بات کی تھی ‘ میں نے تھوڑا جھجکتے ہوئے جواب دیا

تم نے اس کی تصویر دیکھی ہے!

ہاں کمپیوٹر پر دیکھی تھی

کیسا لگا تم کو

دیکھنے میں تو اچھا تھا

اس کو بھی ساتھ لے لیں ‘ رام لال نے کہا

مرضی ہے آپ کی جیسے آپ چاہیں‘ میں نے اس کو جواب دیا

اس کو فون کرو‘ رام لال نے اپنا فون میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا

میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے فون پکڑنے سے پہلے حیرانگی سے کہا

ہاں تم اور کون۔۔۔۔۔۔۔۔رام لال

میں نہیں کروں گی ا س کو فون

رام لال نے اپنے موبائل پر اس کا نمبر ڈائل کیا اور send کا بٹن دبا کر میری طرف بڑھا دیا

کرو بات اس سے وہ تم کو فون سے باہر نکل کر پکڑ نہیں لے گا‘ رام لال نے فون مجھے پکڑاتے ہوئے کہا

ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے جیسے ہی فون کان کو لگایا دوسری طرف سے آواز آئی

ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ارم بول رہی ہوں‘ میں نے کہا

ارم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون ارم‘ دوسری طرف سے بولنے والا شائد مجھے پہچان نہیں سکا

آپ آصف ہی بول رہے ہو ناں۔ میںنے اس سے پوچھا

ہاں ہاں میں آصف ہی بول رہا ہوں‘ دوسری طرف سے آواز آئی

ارم ۔۔۔۔۔خرم کی وائف۔۔۔۔۔۔کل تم سے نیٹ پر بات ہوئی تھی‘ میں نے اس کو یاد دلاتے ہوئے کہا

خرم م م م کی وائف ف ف ۔۔۔۔۔۔جی ارم صاحبہ کیا حال ہے آپ کا‘ دوسری طرف سے بولنے والے نے مجھے پہچان لیا تھا

میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہو۔

میں بھی ٹھیک ہوں

ابھی کیا کررہے ہو

کچھ بھی نہیں

کیا ابھی مل سکتے ہو‘ میں نے اس سے پوچھا

ہاں ہاں کیوں نہیں کہاں ہیں آپ لوگ اس وقت اور مجھے کہاں آنا ہے‘ دوسری طرف سے بولنے والے نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا

ہم لوگ گاڑی میں لانگ ڈرائیو پر جارہے ہیں آپ کہاں ہو ہم آپ کو پک کرلیتے ہیں‘ میں نے اس سے کہاتو اس نے اپنی لوکیشن بتائی میں نے رام لال کو لوکیشن بتائی تو اس نے کہا کہ ہم لوگ دس بارہ منٹ میں پہنچ جائیں گے دس پندرہ منٹ میں ہم لوگ مقررہ جگہ پہنچے اور آصف کو وہاں سے پک کرلیا آصف گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا رام لال نے گاڑی چلانے سے پہلے مجھے بھی کہا کہ تم بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاﺅ اور آصف سے گپ شپ کرو میں بھی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور آصف سے بات چیت کرنے لگی آصف بیس بائیس سال کا لڑکا اور بہت ہی کیوٹ شکل کا مالک تھا اس کا قد پانچ فٹ چھ انچ کے قریب ہوگا اورشکل سے سلجھا ہوا لگتا تھا رنگ صاف اورنین نقش تیکھے تھے مجھے پہلی نظر میں ہی آصف اچھا لگا بعد میں بات چیت کے دوران آصف مجھے کافی حد تک بھا گیا ہم لوگ کافی دیر گاڑی میں بیٹھے شہر کی مختلف سڑکوں پر پھرتے رہے پھر رام لال نے ساحل سمندر پر بنے ایک ریسٹورنٹ پر چائے کے لئے گاڑی روک دی جہاں میں نے رام لال کا تعارف اپنے شوہر خرم کے طورپر کرایا اور یہاں بیٹھ کر بھی آدھ گھنٹہ تک بات چیت ہوتی رہی آصف نے بتایا کہ وہ ایم ایس سی کیمسٹری کررہا ہے اور فائنل ایئر میں ہے رام لال نے بھی آصف کو پسند کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کچھ حالات آشا کی زبانی بھی سنتے ہیں

اسلام آباد میں ارشد کے ساتھ تین دن گزارنے کے بعد میں پھر سے اس کو ملنے کے لئے بے تاب تھی ارشد میں ایک خاص قسم کی سیکس اٹریکشن تھی جس کے باعث میں اس کی طرف کھچی چلی جارہی تھی روز بروز اس سے ملنے کی خواہش بڑھتی جارہی تھی جس کا تذکرہ میں نے رام لال سے بھی کیا ہم نے دو تین بارارشد اور ارم سے فون پر بات کرکے ان سے ملنے کی خواہش بھی ظاہر کی لیکن ملاقات نہیں ہوپارہی تھی آج صبح رام لال کے آفس جانے کے بعد گھر کے کام کاج نمٹائے اور بستر پر لیٹ گئی دوپہر کے وقت رام لال کا فون آگیا

یار سینڈوچ بنو گی‘ رام لال نے مجھ سے پوچھا

یہ سینڈوچ کیا ہوتا ہے‘ میں نے حیرانگی سے اس سے دریافت کیا

یہ سب تم کو ارشد بتا دیتا ہے اس کا ابھی مجھے فون آیا تھا وہ آج تم سے ملنا چاہتا ہے‘ اس سے بات کرلو اگر ملنا ہوتو مجھے بتا دینا میں بھی جلدی آجاﺅں گا پھر دونوں اس کے گھر چلیں گے‘ رام لال نے مجھے بتایا اور فون بند کردیا میں رام لال کی بات سن کر خوش ہوگئی چند لمحوں کے بعد ارشد کا فون آگیا حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے بتایا کہ ان لوگوں نے تھری سم کا پروگرام بنایا تھا اور آج ایک بندے سے ملنا بھی تھا لیکن ارم کو مینسز ہونے کی وجہ سے پروگرام کینسل کرنا پڑ رہا ہے اس لئے اس نے فون کیا ہے کہ اگر

میں اس کے راضی ہوجاﺅں تو آپ لوگ میرے گھر آجائیں امید ہے کہ اس سے میں بہت انجوائے کروں گی میں نے ارشد سے کہا کہ میں رام لال سے پوچھ کر بتاتی ہوں میں نے پھر رام لال سے بات کی اور اس کو بتایا تو اس نے کہا کہ اگر دل کرتا ہے تو ہاں کردو ویسے میرے خیال میں تم ہاں کرہی دو تو اچھا ہے ایسے مواقع بار بار نہیں ملتے تم اس سے یقینا انجوائے کرو گی جس پر میں نے ارشد کو فون کرکے ہاں کردی چار بجے کے قریب میں اور رام لال ارشد کے گھر چلے گئے جہاں تھوڑی دیر بات چیت کے دوران طے پایا کہ رام لال اور ارم دونوں باہر چلے جائیں گے جبکہ میں ارشد کے ساتھ اس کی بیوی بن کر پروگرام کے مطابق تھری سم کروں گی نومی کا فون آنے کے بعد رام لال ارم کو لے کر گاڑی میں باہر چلا گیا اور ارشد مجھے چائے وغیرہ کا انتظام کرنے کا کہہ کر نومی کو لینے کے لئے چلا گیا آدھ گھنٹے کے بعد ارشد نومی کو لے کر گھر آگیا اور اس کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا میں چائے لے کر ڈرائنگ روم میں گئی جہاں ایک باڈی بلڈر ٹائپ ایک لمبا تڑنگا کالے رنگ کا شخص ارشد کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کررہا تھا میں دروازے سے اندر داخل ہوئی تو وہ شخص میری طرف مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا مجھے اس کی نظروں سے تھوڑا خوف بھی آیا لیکن میں ان لوگوں کے ساتھ چائے پینے بیٹھ گئی چائے کے دوران ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر نومی بولا

کیا پروگرام ہے صرف باتیں ہی کرنی ہیںیا کچھ اور بھی کرنا ہے‘ نومی نے پہلے ارشد اور پھر میری طرف ہنستے ہوئے دیکھ کر کہا

چلو اندر چلتے ہیں‘ ارشد نومی کی بات سن کر اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ میں اور نومی بھی کھڑے ہوگئے ارشد ہم لوگوں کو لے کر بیڈ روم میں چلا گیا جہاں وہ نومی کے ساتھ باتیں کرنے لگا

باس آج اس طرح کرنا ہے کہ مدتوں تک یاد رہے‘ ارشد نے نومی کو کہا اور پھر دانت نکال کر ہنسنے لگا

میں اس رنڈی کو آج اس طرح چودوں گا کہ دوہفتے تک چل نہیں سکے گی‘ نومی کے بولنے کا انداز ایک دم تبدیل ہوگیا اس نے مجھے رنڈی کہا تھا جس کا مجھے بہت برا لگالیکن میں کچھ نہ بولی

بس تو دیکھتے جانا آج میں اس رنڈی کی چوت بھی کیسے پھاڑتا ہوں اور گانڈ کے بھی پرخچے اڑا دوں گا‘ نومی نے پھر ارشد کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر میری طر ف دیکھنے لگا

نومی کی بات سن کر ارشد بھی تھوڑا کنفیوز ہوگیا لیکن پھر بھی ہنستا رہا

تو بس کرسی لے کے یہاں بیڈ کے پاس بیٹھ جا اور دیکھتا جا کہ آج تیری رنڈی بیوی کس طرح چدتی ہے‘ نومی نے ارشد کو اشارہ کرتے ہوئے کہا

کیا میں بیٹھ جاﺅں میں نے تو تم کو تھری سم کے لئے بلایا تھا‘ ارشد نے کہا

ہاں تھری سم کے لئے ہی بلایا تھا لیکن تو نے اور تیری رنڈی بیوی نے مزہ لینا ہے تو پہلے میں کرتا ہوں پھر تو کرلینا

ہاں یہ ٹھیک ہے‘ ارشد نے کہا اور پھر پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا تو نومی میری طرف بڑھا اور مجھے کہنے لگا چل اے رنڈی اپنے کپڑے اتار جس پر میں نا چاہتے ہوئے بھی اپنے کپڑے اتارنے لگی میں نے اپنی شلوار اور قمیص اتار دی اس دوران اس نے بھی اپنی شرٹ اور پینٹ اتار دی اور پھر ارشد کو مخاطب کرکے کہنے لگا

چل سالے اب اپنی رنڈی بیوی کا بریزیئر اور انڈر ویئر بھی اتار ‘

ارشد اور میں دونوں اس کی باتوں سے حیران بھی تھے اورپریشان بھی لیکن دونوں کچھ نہ بولے ارشد چپ چاپ میری طرف بڑھا اور پیچھے سے آکر میرے بریزئیر کا ہک کھول کر میرے جسم سے علیحدہ کردیا اور پھر میرا انڈر ویئر بھی اس نے اتار دیا پھر نومی نے مجھے بازو سے پکڑکر اپنے پاس کیا اور مجھے حکم دیا کہ چل رنڈی اب میری چڈی بھی اتار

میں اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے نیچے ہوگئی اور اس کی چڈی اتاری دی جبکہ ارشد ابھی تک پاس ہی کھڑا حیرانگی سے سارا منظر دیکھ رہا تھا نومی نے اس کو دھکا دیتے ہوئے کہا سالے تو یہاں کیا کررہا ہے چل جاکے صوفے پر بیٹھ ‘ جس پر ارشد چپ چاپ جاکر صوفے پر بیٹھ گیا

نومی نے میرا سر اپنے ہاتھ سے اوپر کیا اور دو تین منٹ تک مجھے گھورتا رہا پھر اچانک اس نے میرا چہرہ تھوڑا اور کیا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ان کو چوسنے لگا اس دوران وہ میرے ہونٹوں پر دانتوں سے کاٹ بھی رہا تھا وہ مسلسل مجھے کسنگ کررہا تھا جبکہ مجھے اس سے گھن آرہی تھی میں اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف دھیکیل رہی تھی لیکن اس نے مجھے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا جس پر میں نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھوڑی دیر بعد مجھے بھی مزہ آنے لگا او ر میں بھی رسپانس دیتے ہوئے اس کو کسنگ کرنے لگی اس دوران میں نے ارشد کی طرف دیکھا جو بڑی حیرانگی سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا تھوڑی دیر بعدکسنگ کے بعد نومی نے میرے منہ سے اپنا منہ پیچھے کیا اور میرے دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر ان کو زور سے دبانا شروع کردیا جس پر میرے منہ سے چیخ نکل گئی

نومی تھوڑا آہستاااااااااااااااااا۔۔۔۔۔

چپ رنڈی اب کی بار اتنا چیخی تو تیرا منہ بھی پھاڑ ڈالوں گا ‘ جتنی زور سے میری چیخ نکلی تھی اتنی ہی زور سے نومی بھی چلایا اور میں چپ ہوگئی نومی نے میرے ممے پھر سے دبانا شروع کردیئے اور میرے نپلز بھی دبانے لگا مجھے بہت درد ہورہا تھا لیکن میں چپ چاپ آنکھیں بند کئے برداشت کرتی رہی دو چار منٹ کے بعد نومی نے میرے ممے چھوڑ دیئے اور مجھے کہنے لگا

چل رانڈ اب نیچے بیٹھ جا

میں اس کی بات سن کر فوری طورپر نیچے اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گئی جیسے ہی میری نظر اس کی ٹانگوں کے درمیان لٹکتے ہوئے لن پر پڑی میں حیران اور پریشان ہوگئی یہ کسی انسان کا نہیں کسی گدھے کا لن لگ رہا تھا کم از کم بھی نو انچ کا ہوگا اور موٹائی میں مجھے اندازہ نہیں کہ کتنا ہوگالیکن رام لال کے لن کی موٹائی اس سے آدھی ہوگی میرے دل کی دھڑکن رکنے لگی تھی اور میں بہت زیادہ گھبرا گئی تھی اتنی دیر میںمیرے کانوں میں نومی کی آواز گونجی

اس کو دیکھ کیا رہی ہے اس کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر‘

میں نے اس کا حکم سنتے ہی اس کا لن ایک ہاتھ سے پکڑا اور اس کو منہ میں لینے کے لئے اپنا منہ اس کے قریب لے گئی تو مجھے اس کے لن اور ارد گرد کی جگہ سے بہت گندی بدبو آنے لگی جس پر میں نے اپنا منہ پیچھے کرلیا

کیا ہوا منہ کیوں پیچھے لے آئی‘ نومی نے ہنستے ہوئے پوچھا

مجھے بو آرہی ہے‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا

رنڈی میں نے کل سے اپنے لن کو دھویا نہیں کیوں کہ میں چاہتا تھا کہ تو اس کو چاٹ کر صاف کرے‘ چل اب اس کو منہ میں لے اور چوس بھی اورصاف بھی کر‘ نومی ہنستے ہوئے بولا

میں تھوڑا ہچکچائی تو وہ پھر بول پڑا

چل اب نخرے مت کر اور اس کو منہ میں لے کر چوسنا شروع کر‘ اس کی بات سن کر میں پھر بھی آگے نہ ہوئی تو نومی نے ارشد کی طرف دیکھ کر اسے کہا

چل اوئے سالے اپنے رنڈی بیوی کو کہہ کہ اس کو منہ میں لے ‘

جس پر ارشد نے مجھے اس کو منہ میں لینے کا کہا میں نے روہانسی سی صورت بنا کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنا منہ اس کے لن کے قریب لے گئی میں نے اپنا سانس روک کر نومی کا لن اپنے منہ میں لے لیا

میں نے اس کا لن اپنے پورے میں لے لیا لیکن اس کا لن صرف تین چار انچ تک ہی میرے منہ میں گیا ہوگامیں نے دل نہ کرنے کے باوجود اس کو چوسنا شروع کردیا جبکہ نومی مجھے پھر کہنے لگا اس کو اور اندر لے ناں اگر خود نہ اندر لیا تو مجھے زبردستی کرنا پڑے گی میں نے اس کو مزید اپنے منہ میں لینے کی کوشش کی لیکن تمام کوشش ناکام گئی اس کے بعد نومی نے میرے سر کو پکڑ کر اپنے لن کے اوپر زور سے دبایا اور اس کا لن میرے حلق میں جالگا میں نے لن کو باہر نکال کر چیخنا چاہا لیکن اس نے میرا سر مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا میں صرف ناک سے خووووووں خوووووں کی آواز نکال کر اس سے احتجاج کررہی تھی جب میں نے دیکھا کہ نومی مجھے نہیں چھوڑے گا تو میں نے ارشد کی طرف دیکھا کہ شائد ابھی میری مدد کے لئے آئے لیکن وہ صوفے پر بیٹھا آنکھیں پھاڑے ہماری طرف دیکھ رہا تھا وہ بھی شائد اتنے بڑے لن سے خوف زدہ ہوگیا تھا خیر چند سیکنڈ بعد نومی نے میرے سر پر اپنی گرفت تھوڑی نرمی کی لیکن سر کو چھوڑا نہیں اور پھر کہنے لگا اس کو چوسو میں نے اس کو اپنے منہ میں اندر باہر کرنا شروع کردیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا لن مزید سخت ہونے لگا ابھی مجھے بھی تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگا تھا کہ اس نے مجھے کہا کہ چل اب اس کو اپنے منہ سے نکال دے اور پھر مجھے بیڈ پر لیٹنے کو کہا میں بیڈ پر لیٹ گئی تو اس نے میری دونوں ٹانگیں کھولیں اورپھر ارشد کو پاس بلایا،

یہاں آکر دیکھ تیری رنڈی بیوی کی چوت میرا لن چوس کر کیسے گیلی ہوگئی ہے‘ رام لال نے مسکراتے ہوئے میری پھدی کی طرف اشارہ کرکے کہا

ارشد اس کی بات سن کر پاس آیا

یہاں آکر اور پاس ہوکر غور سے دیکھ ‘ نومی نے ارشد کو بازو سے پکڑ کر میرے اورقریب کردیا نومی کی بات سن کر میں تھوڑا سا شرما گئی اور اپنی نگاہیں نیچی کرلیں جبکہ ارشد نے پاس ہوکر میری پھدی کا بغور جائزہ لیا اور پھر نومی نے اس ہاتھ سے پیچھے ہٹا دیا اور کہنے لگا اب ہٹ بھی جا اور مجھے کچھ کرنے بھی دے پھر نومی نے میری دونوں ٹانگیں اپنے ہاتھوں سے پھیلائیں اور اپنا منہ میری پھدی پر چپکا دیا اور اسے چاٹنے لگا میری پھدی جو پہلے ہی پانی چھوڑ چکی تھی اس سے ”شڑپ شڑپ “ کی آواز آنے لگی وہ کتے کی طرح میری پھدی چاٹ رہا تھا وہ زور زور سے اپنی زبان میری پھدی کے اندر باہر کررہا تھا میں تو مزے سے پاگل ہوئے جارہی تھی تین چار منٹ میں میں جھڑ گئی اور نومی نے میری پھدی سے نکلنے والا پانی چاٹ کر میری پھدی صاف کردی پھر اس نے اپنا منہ اوپر کیا اور میرے منہ کو چاٹنے لگا اس نے پھر اس نے میرے ممے پکڑ لئے اور ان کو دبانا شروع کردیا اب مجھے مزے کی جگہ درد ہونے لگی تھی تھوڑی دیر کے بعد نومی نے سیدھے ہوکر میری ٹانگیں دوبارہ پھیلائیں اور انکے درمیان بیٹھ گیا اس نے ایک ہاتھ سے اپنا لن میری پھدی پر سیٹ کیا اور اس کو میری پھدی پر رگڑنے لگا

نومی بھائی اب تھوڑا آرام سے کرنا‘ صوفے پر بیٹھے ہوئے ارشد نے آواز دی

چل سالے کتے کے بچے چپ ہوجا‘ نومی نے اس کی طرف دیکھے بنا ہی جواب دیا اور پھر میری پھدی پر اپنا لن رگڑنا شروع کردیا میری پھدی سے ایک بار پھر پانی بہنے لگا تھا پھر نومی نے اپنے لن کی ٹوپی میری پھدی کے دہانے پر سیٹ کی اور آہستہ آہستہ سے اس کو اندر دھکیلنے لگا پھر اس نے اچانک ایک زور کا جھٹکا مارا ‘ مجھے اتنی درد ہوئی کہ جیسے ابھی میں مر جاﺅں گی میں اس کے نیچے سے نکلنے کی جدوجہد کرنے لگی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس نے میرے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لئے اور مجھے بے بس کردیا اب نومی اسی حالت میں کچھ دیر تک ساکت رہا اس نے اپنے لن کو مزید حرکت نہ دی اور اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر چوسنے لگا جبکہ مجھ سے اس کا لن سہا نہیں جارہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ کسی نے لوہے کا گرم راڈ میری پھدی کے اند ر ڈال دیا ہے جو میری پھدی پھاڑ کر اندر گھس گیا ہے میری چوت کے اندر جلن بھی ہورہی تھی میںنومی کو زور کے ساتھ لپٹ گئی تاکہ وہ مزید حرکت نہ کرے ایک منٹ کے بعد اس نے مجھے خود سے علیحدہ کیا اور اپنے لن کو تھوڑا سا موو کرنے لگا اور پھر ایک دم سے اس نے ایک اور جھٹکا دیا اور میری آنکھوں سے سامنے اندھیرا چھا گیا چند لمحوں کے لئے مجھے یاد نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہوگیا ہے میرا پورا جسم کپکپانے لگا تھا نومی نے پھر اپنی حرکت روک دی کچھ دیر کے بعد مجھے تھوڑا درد کم ہوا لیکن محسوس یہی ہورہا تھا کہ اس کا لن میری پھدی کے اندر پھس چکا ہے اور حرکت نہیں کرے گا پھر اس نے اپنے لن کو تھوڑی سی حرکت دی اور مجھے پھر درد زیادہ ہونے لگا میں نے پھر نومی کی کمر کے گرد اپنی باہیں ڈال کر اس کو سختی سے اپنے ساتھ لگا لیا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے میری گرفت چھڑوا دی اور اپنے لن کو تھوڑی سی حرکت دی چند بار اس نے اپنے لن کو اندر باہر کیا تو مجھے درد اچھا لگنے لگا پھر نومی نے میری پھدی سے کافی سارا لن باہر نکال لیا لیکن ابھی بھی اس کی ٹوپی یقینا میری پھدی کے اندر ہی ہوگی اس نے اپنے لن کو باہر نکال کر ایک بار آہستہ سے اندر کیا اور پھر باہر لے آیا اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس نے ایک اور جھٹکا دیا

ہائے امی جی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔اس کو باہر نکالو میں مر جاﺅں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے میں مرررررگئی ی ی ی ی ی ‘ میرے منہ سے چیخیں نکل گئیں اس کا لن میری پھدی کو چیرتا ہوا آگے تک نکل گیا تھا ایسے لگ رہا تھا کہ اس کا لن میرے کلیجے سے جاٹکرایا ہے اب مجھے اس کا لن اپنے پیٹ کے آدھے سے زیادہ حصے تک اندر محسوس ہورہا تھا میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے اور میں درد کی شدت سے اپنے سر کو بستر پر ادھر ادھر ماررہی تھی میں نے ایک بار پھر اس کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس نے اپنا پورا وزن میرے جسم پر ڈال دیا تھا اس نے اپنا جسم ڈھیلا بھی چھوڑ دیا تھا لیکن اس کا لن پہلے سے بھی زیادہ سخت ہوگیا تھا اور میری چوت کے اندر موجود تھا میری چوت میں ہونے والی جلن ابھی ناقابل برداشت ہورہی تھی اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور پھر ان کو چوسنا شروع کردیا میرا دماغ کام نہیں کررہا تھامجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میرے ساتھ کیا ہوگیا ہے تھوڑی دیر بعد میرے حواس بحال ہوئے تو نومی میرے ہونٹوں کو چوس رہا تھا میں نے اس کا چہرہ پیچھے کرکے اس کو کہا کہ پلیز اس کو باہر نکالو میں مرجاﺅں گی

تو نہیں مرتی چپ ہوجا اب مزے کرے گی‘ نومی نے مجھے کہا

میں پھر خاموش ہوگئی تو نومی سیدھا ہوکر بیٹھ گیا اب اس نے اپنی کمر کے گرد لپٹی میری ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لیں اور میرے دونوں ہاتھ بیڈ پر میرے سر کے قریب رکھ کر ان پر اپنے ہاتھ رکھ کر ان کو مضبوطی سے پکڑ لیا جبکہ اس کا لن اب بھی اتنا ہی میری پھدی کے اندر تھا جتنا کہ چند لمحے پہلے اس نے اس کو تھوڑا سا باہر کیا تو مجھے تھوڑا سا سکون ہوا پھر اس نے اپنے لن کو آہستہ سے اندرکیا تو میرا سانس ایک بار پھر رک گیا اب نومی نے میری پھدی کے اندر باہر کرنا شروع کردیا لیکن اس کی سپیڈ نہ ہونے کے برابر تھی دو تین منٹ ایسے ہی کرنے کے بعد مجھے درد کا احساس کم اور مزہ زیادہ آنے لگا اس نے اب اپنی سپیڈ تھوڑی سی زیادہ کرلی اور اپنے لن کو اندر باہر کرتا رہا پھر اس نے اپنی سپیڈ مزید بڑھائی اور پانچ منٹ میں وہ زور زور سے جھٹکے دینے لگا جس سے میرا سانس پھر سے رکنے لگا لیکن نومی نہ رکا چند لمحے مزید ایسے ہی گزرے تو میں تھوڑا نارمل ہوگئی اور مجھے مزہ آنے لگا جب نومی اپنا لن باہر نکالتا تو اس کا جسم میرے جسم کے ساتھ ٹچ بھی نہ ہوتا تھا صرف میری ٹانگیں اس کے کندھوں پر رہتیں جب وہ جھٹکا دے کر اپنا لن میری پھدی میں ڈالتا تو اپنے جسم کا پورا وزن مجھ پر ڈال دیتا میری ٹانگیں میرے کانوں کو جالگتی تھیں میرا مزہ بڑھنے لگا تھا اب جس وقت نومی جھٹکا دیتا تو میں بھی اپنے گانڈ کو نیچے سے حرکت دیتی اور اس کے لن کو اپنے اندر تک لے جانے کی کوشش کرتی اب بھی اس کا لن میرے کلیجے کے ساتھ جا کر ٹکراتا تھا لیکن اب درد کم اور مزہ زیادہ آرہا تھا تقریباً پانچ منٹ ایسے ہی چدائی کے بعد میں چھوٹ گئی لیکن نومی کب چھوٹے گا اس کا مجھے معلوم نہیں تھا نومی نے اپنی سپیڈ اور بڑھا دی تھی دس منٹ بعد نومی بلٹ ٹرین کی سپیڈ کے ساتھ مجھے جھٹکے دے رہا تھا اور میں بھی اس کے ساتھ اسی سپیڈ سے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کررہی تھی وہ پسینے سے شرابور ہوچکا تھا لیکن اس نے اپنی سپیڈ کم نہ کی تھی اس کا لن ابھی بھی میری پھدی کی دیواروں سے زبردست رگڑ کھا کر اندر جاتا تھا جس سے مجھے ایسے محسوس ہورہاتھا کہ میری پھدی چھل چکی ہوگی میری پھدی میں ابھی بھی بہت جلن ہورہی تھی لیکن میں اس جلن کو مزے کی خاطر برداشت کررہی تھی میں اپنی زبان ہونٹوں پر پھیر رہی تھی اور کبھی کبھی اپنی زبان کو دانتوںتلے دبا لیتی تھی تقریباً بیس منٹ کی مزید چدائی کے بعد اس نے جب اپنا لن باہر نکالا تو ایک دوسیکنڈ کے لئے دم لینے کو رکا اور پھر اس نے اپنے جسم کی پوری طاقت جمع کرکے اپنے لن کو میرے اندر دھکیلا اور پھر باہر نہ نکالا اس کے جسم نے دو تین جھٹکے لئے اور پھر مجھے اپنی پھدی میں کوئی گرم لاوا نکلتے ہوئے محسوس ہونے لگا اب میں ایک بار پھر چھوٹ گئی تھی اس کا لن ابھی بھی اسی طرح سخت تھا جیسے کہ شروع میں تھا اس کا جسم ٹھنڈا ہونا شروع ہوگیا اور وہ گہری سانسیں لینے لگا میرے جسم کا بھی یہی حال تھا میں لمبی لمبی سانسیں لے کر اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی مجھے اپنی پھدی اس کے لن سے نکلنے والے مادے سے بھری ہوئی محسوس ہورہی تھی لیکن یہ مادہ باہر کیسے آتا میری پھدی کے دہانے کو تو نومی نے اپنے لن سے بند کررکھا تھا میری پھدی کے اندر موجود مادے نے اندر ایک طوفان برپا کررکھا تھا پھر کچھ دیر بعد نومی کے لن کی سختی نرمی میں تبدیل ہونے لگی اور اس کا لن سکڑنے لگا اور وہ میرے اوپر سے ہٹ کر میرے ساتھ بیڈ پر آکر لیٹ گیا میری پھدی سے ایک دم پانی نکل کر میری ٹانگوں سے ہوتا ہوا نیچے بیڈ پر جاتا محسوس ہورہاتھا مجھ سے اپنی ٹانگیں سیدھی نہیں کی جارہی تھیں چند سیکنڈ ایسے ہی لیٹے رہنے کے بعد نومی نے اپنا سر اوپر اٹھا کر ارشد کی طرف دیکھا اور کہنے لگا

ادھر آ بھڑوے اور دیکھ میں نے تیری بیوی کی چوت کا کیا حال کردیا ہے

نومی اس کی بات سن کر فوری طورپر پاس آگیا اور میری پھدی کو غور سے دیکھنے لگا جو ابھی تک کھلی ہوئی تھی

چل اب اس کو چاٹ کر صاف کرتو کہتا تھا نہ کہ مل کر چدائی کریں گے تیرے لن میں اتنی طاقت نہیں کہ تو میرے ساتھ مل کر کسی عورت کی چدائی کرسکے اس لئے تو اپنے لن کی بجائے اپنی زبان کو چلا‘ نومی نے ارشد کو حکم دیا ارشد تھوڑا سا ہچکچایا لیکن نومی نے پھر اس سے کہا چل دیکھ کیا رہا ہے اس کو چاٹنا شروع کر‘ نومی کی بات سن کر ارشد نے میری پھدی کو زبان کے ساتھ چاٹنا شروع کیا اور نومی کی منی اور میری پھدی سے نکلنے والے پانی کے مسکچرکو چاٹ کر اس نے پھدی کو خشک کردیا تھوڑی دیر کے بعد میں اٹھی اور باتھ روم میں چلی گئی نومی بھی میرے پیچھے ہی باتھ روم میں آگیا اور پھر میں نے اپنی پھدی پہلے اور بعد میں نومی کے لن کو گرم پانی سے صاف کیا گرم پانی سے میری پھدی کو تھوڑا سا سکون ملا اور میں پھر بیڈ پر آکر لیٹ گئی مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے کہ میرے جسم کا سارا خون نچڑ گیا ہے مجھ سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا تھوڑی دیر کے لئے کھڑی ہوئی تھی تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا میں بیڈ پر آکر لیٹی تو نومی بھی پاس آکر لیٹ گیا میں نے اس کو اپنے جسم کے ساتھ چپکا لیا جس پر نومی بولا

دیکھ گانڈو ایسی چدائی کے بعد عورت کا پیار‘ کیا تجھے اس نے چدائی کے بعد ایسی جپھی ڈالی ہے سالے تم جیسے کمزرو مرد عورت کو کیا چودو گے تم کمزور مرد عورت کی ضرورت پوری نہیں کرسکتے ‘ نومی نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشد کو کہا اس کی یہ بات سن کر بھی میں نے اس کے گرد اپنی گرفت ڈھیلی نہ کی لیکن ارشد چپ رہا میں نے ارشد کی طرف دیکھا تو وہ تھوڑا شرمندہ سا ہوگیا

نومی نے پھر ارشد کو مخاطب کیا اور کہا کہ اب کیا مجھ سے صرف اپنی بیوی چدانی ہی تھی کچھ کھلائے پلائے گا نہیں

ارشد نے میری طرف دیکھتے ہوئے مجھے کھانا لانے کا کہا لیکن نومی کہنے لگا چل سالے تجھے شرم نہیں آتی تیری بیوی نے ابھی چدائی کروائی ہے اور تو اب اس کو کھانا لانے کے لئے کہہ رہا ہے چل خود جاکر بازار سے مچھلی لے کے آ میری توانائی تھوڑی سی بحال ہو جس پر ارشد کمرے سے نکل گیا میں نومی کے سینے سے چمٹی رہی نومی نے دو تین بار مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن میں چپ چاپ آنکھیں بند کئے اس کے ساتھ چمٹی رہی

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ارشد کے جانے کے بعدبھی میں نومی کے کندھے پر سر رکھ کر لیٹی رہی میں نے اپنی ایک ٹانگ نومی کی دونوں ٹانگوں کے اوپر رکھی ہوئی تھی اور آنکھیں بند کی ہوئی تھیں

مزہ آیا مجھ سے چدائی کرانے کا؟‘ نومی نے مجھ سے لیٹے لیٹے سوال کیا

ہوووووں‘ میں نے صرف ناک سے آواز نکال کر اس کی بات کا جواب دینے پر اکتفا کیا میں اس وقت آرام کے موڈ میں تھی اور چاہتی تھی کہ چپ چاپ لیٹی رہوں مجھے حقیقت میں اس وقت کافی سکون مل رہا تھا آدھے پونے گھنٹے کی لگاتار چدائی کے بعد میرا بولنے کا بالکل بھی موڈ نہیں تھا

ہوووووں کیا صاف صاف کہو ناں‘ نومی نے پھر سے کہا

ہاں آیا ہے‘ میں نے اسے جواب دیا

کتنا ؟‘ اس نے ایک بار پھر مجھے کہالیکن اب میں خاموش رہی اور آنکھیں بند کئے لیٹی رہی پھر اس نے ایک دو بار مجھے بلانے کی کوشش کی لیکن میں خاموشی سے لیٹی رہی جس کے بعد وہ بھی خاموش ہوگیا اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا اس کے کھردرے ہاتھوں سے میرے جسم میں ایک بار پھر تھرتھلی مچلنے لگی لیکن میں نے اس کو کوئی ایسا سگنل نہیں دیا کہ میرے اندر کیا تحریک چل رہی ہے اور اس کو ایسا ہی ظاہر کیا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا لیکن وہ بھی پرانا کھلاڑی تھا اس نے اپنے ہاتھ جیسے ہی میرے رانوں پر پھیرنا شروع کئے میرے اندر ایک کرنٹ سا دوڑ گیا میں نے اس کا ہاتھ روک لیا

کیا ہوا؟‘ اس نے پوچھا

کچھ نہیں تھوڑی دیر ٹھہر جاو‘ میں نے اس کا ہاتھ اپنی ٹانگ سے ہٹاتے ہوئے اس کو جواب دیا جس پر وہ مسکرا دیا لیکن پھر بھی وہ میرے جسم کے اوپر والے حصے پر چھیڑ خانی کرتا رہا اور میں خاموشی سے مزے میں لیٹی رہی

تقریباً آدھے ارشد ہاتھ میں ایک شاپر پکڑے بیڈ روم میں داخل ہوا اور اس کو ایک ٹیبل پر رکھ کر مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا

اس کو پلیٹ میں ڈال کر لے آﺅ‘

ابے کتی کے بچے تم کو شرم نہیں آتی ابھی تمہاری رنڈی بیوی چدائی کرواکے بے حال پڑی ہے اور تم اس کو کھانا لگانے کا آرڈر کررہے ہو جاﺅ خود پلیٹ میں ڈال کرلے آﺅ‘ نومی نے اس کو چھاڑ پلاتے ہوئے کہا جس پر وہ منہ میں کچھ بولتے ہوئے شاپنگ بیگ پکڑے کچن کی طرف چل دیا اور چند منٹ بعد دوپلیٹوں میں مچھلی اور نان لے کر کمرے میں داخل ہوا اور پلیٹیں میز پر رکھ کر کرسیاں پاس کرنے لگا

کسی حرامی کی اولاد کھانا ادھر لے آﺅ بیڈ پر تمہاری بیوی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اٹھ کر وہاں جائے ‘ نومی نے ایک بار پھر گندی زبان میں ارشد کو حکم دیا جس پر وہ پلیٹیں اٹھا کر بیڈ پر لے آیا ‘ میں اور نومی اٹھ کر بیٹھ گئے جبکہ ارشد ابھی بیٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ نومی نے ایک بار پھر اسے کہا

”چل حرامی ہمارے لئے کوک بھی لے کر آ‘ ‘

نومی کی بات سن کر ارشد آگ بگولا ہوگیا لیکن زبان سے ایک لفظ نکالے بغیر ہی کمرے سے پھر نکل گیا اور تھوڑی دیر بعد کو ک اور گلاس لے آیا پھر بیڈ پر بیٹھ گیا اور ہم تینوں نے کھانا کھایا اور پھر نومی نے اسے کہا کہ چل برتن اٹھا کر کچن میں رکھ کے آ اور ارشد برتن لے کر کچن میں چلا گیا

ڈارلنگ اب میں تیری گانڈ لینے والا ہوں‘ نومی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا

میں نومی کی زبان سے گانڈ کا لفظ سنتے ہی کانپ اٹھی اور چلاتے ہوئے کہا ”نہیں نومی گانڈ نہیں پلیز بہت بڑا ہے تمہارا لن میری گانڈ پھٹ جائے گی پلیز ایسا مت کرنا‘

ڈرو مت ڈارلنگ تمہاری چوت بھی بہت چھوٹی تھی لیکن پھر بھی اتنا بڑا لن تم نے لے ہی لیا میں بڑے آرام سے تمہاری گانڈ لوں گا تم کو مزہ آئے گا‘ نومی نے مجھے پچکارتے ہوئے کہا

کچھ نہیں ہوتا ڈارلنگ‘ ارشد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا

میرا دل بہت ڈر رہا تھا اور جسم کانپنے لگا تھا کہ اب میری خیر نہیں ہے اچانک نومی نے ارشد کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور اس کو کہنے لگا

چل اوئے تو میرا لن چوس‘

میں تمہارا لن چوسوں‘ ارشد نے اپنا منہ بگاڑتے ہوئے کہا جیسے کہ اسے نومی کی بات کا یقین ہی نہ آرہا ہو

ہاں تم چوسو‘ تم نے ہی تو کہا تھا کہ تھری سم کرنا ہے اب تو اپنی رنڈی بیوی کی لینے کے قابل تو ہے نہیں اس لئے میرا لن چوس کر تھری سم میں شامل ہوجا‘ نومی نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا

نہیں میں نہیں چوس سکتا تمہارا لن‘ ارشد نے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا

ارشد کی بات سنتے ہی نومی اٹھ کھڑا ہوا اور تڑاخ کی آواز کمرے میں گونج اٹھی ‘ نومی نے ارشد کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کردیا تھا ابھی وہ سنبھلابھی نہیں تھا کہ ایک بار پھر تڑاخ کی آواز آئی اور نومی نے ارشد کا سر پکڑ کر اپنے لن کے قریب کردیا‘ چل اس کو چوس مادر چود حرامی کی اولاد ‘ نومی کے اس روئےے کو دیکھ کر میں مزید ڈر گئی اور لیٹے لیٹے ہی کانپنے لگی میرا دل بلٹ ٹرین کی رفتار سے دھڑک رہا تھا

ارشد نے نومی کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور مجھے دیکھنے لگا

ادھر کیا دیکھ رہا ہے چل دھیان سے اپنا کام کر جو میں نے کہا ہے‘ نومی نے ارشد کا منہ اپنے لن کی طرف کرتے ہوئے کہا

ارشد نے اس کاادھ کھڑا لن اپنے منہ میں ڈال لیا اور اس کو چوسنے لگااس وقت نومی بیڈ کے قریب فرش پر کھڑا ہوا تھا جبکہ ارشد اس کے سامنے گھوڑی بن کر اس کے لن کو منہ میں ڈالے چوس رہا تھا

چل رنڈی تو بھی ادھر آجا اور تو اپنے کھسم کا لن چوس پورا تھری سم کریں‘ ارشد نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا

میں اس کی آواز سن کو فوری طورپر بیڈ کے نیچے آگئی اور ارشد جو گھوڑی بنا ہوا تھا اس کے نیچے گھس کر اس کے لن کو اپنے منہ میں ڈال کر چوسنے لگی نومی بار بار ارشد کی کمر پر ہلکے ہلکے تھپڑ مار رہا تھا

اوئے حرامی تو بھی مجھے گانڈو ہی لگتا ہے تو تو مجھے اپنی رنڈی بیوی سے بھی زیادہ مزہ دے رہا ہے‘ نومی نے ارشد کو کہا

تقریباً دس منٹ تک ایسے ہی رہنے کے بعد نومی نے ارشد کو لن اپنے منہ سے نکالنے کا حکم دیا اور ارشد نے یقینا شکر کیا ہوگا میں نے بھی ارشد کا لن منہ سے نکال دیا اور ارشد کھڑا ہوگیا جبکہ میں اسی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی نومی نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی طرف میرا منہ کیا میں نے دیکھا نومی کا لن پہلے سے بھی زیادہ اکڑا ہوا تھا نومی نے مجھے پکڑ کر کھڑا کیا اور مجھے بیڈ کے قریب کرکے اس نے مجھے اس طرح کھڑا کیا کہ میرے بازو بیڈ کے اوپر لگا کر اس نے مجھے گھوڑی بنا لیا اور پھر خود میرے پیچھے آکھڑا ہوا

چل بھڑوے ادھر آ اور میرا لن پکڑ کر اپنی رنڈی بیوی کی گانڈ میں ڈال‘ نومی نے پھر ارشد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس پر ارشد فوری طورپر آگے بڑھا اور اس نے نومی کا لن پکڑ کر میری گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا

چل اس کو اپنی بیوی کی گانڈ پر رگڑ ‘ نومی نے اس کو ایک اور حکم دیا جس پر اس نے نومی کا لن میری گانڈ پر رگڑنا شروع کردیا اس کے لن کی ٹوپی میری گانڈ پر جیسے جیسے رگڑ کھا رہی تھی میرے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی میں یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میرے جسم میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ میں یہاں سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹوں پھر ارشد نے نومی کے لن کی ٹوپی میری گانڈ کے سوراخ کے عین اوپر رکھ دی اور خود پیچھے ہٹ گیا

نومی بھائی تھوڑا تیل لگا لو بیچاری کو بہت تکلیف ہوگی‘ ارشد نے ڈرتے ڈرتے نومی سے التجا کی

چل پیچھے ہٹ بھڑوے کیا یہ تیری بہن ہے جو تجھے اتنی تکلیف ہورہی ہے اگر اتنا ہی ڈر لگ رہا تھا تو پہلے مجھے بلایا ہی کیوں تھا‘ نومی نے ایک بار پھر اپنی گندی زبان بولنا شروع کردی

نومی بھیا پلیز تھوڑا سا تیل لگا لو بیچاری مرجائے گی‘ ارشد نے ایک بار پھر نومی کی منت کی

چل پیچھے ہٹ ‘ مجھے اتنی دیر مزہ ہی نہیں آتا جب تک عورت تکلیف سے مرنے والی نہ ہوجائے‘مجھے عورتوں کی چیخیں سننے میں مزہ آتا ہے‘اسے جتنازیادہ درد ہوگا اتنا ہی چیخے گی اور مجھے اتنا ہی مزہ آئے گا اور میرا لن اتنی ہی بے رحمی سے اسے چودے گا‘ نومی نے ارشد کو ہاتھ سے پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا اس کی بات سن کر میرا پورا جسم ٹھنڈا ہوگیا اور میرے جسم کی دھڑکن مزید تیز ہوگئی لیکن اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی

اب نومی نے ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑا اور دوسرا ہاتھ میری پیٹھ کے پیچھے سے آگے کی طرف لا کر پیٹ پر رکھ کر مجھے مضبوطی سے تھام لیااور اپنے لن پر دباو بڑھانے لگا لیکن میری گانڈ کا سوراخ بہت چھوٹا تھا اور اس میں بظاہر نومی کا لن جانا ناممکن دکھائی دے رہا تھا پھر بھی نومی اس کو زبردستی اندرکرنے کی کوشش کررہا تھا اب اس نے میرا ایک مما اپنے ہاتھ پکڑ کر اس کو زور زور سے دبانا شروع کردیا

اس کو تو چھوڑ دو‘ میں تکلیف کے مارے اپنا مما اس کے ہاتھ سے چھڑانے لگی

چل حرامی زادی اپنا ہاتھ پیچھے کر‘ نومی نے میری گانڈ پر ایک زور دار تھپڑ لگاتے ہوئے کہا جس سے میں تڑپ اٹھی لیکن اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور مزید کچھ نہ بولی نومی نے پھر میری گانڈ پر اپنے لن کا دباﺅ بڑھانا شروع کیا جس سے مجھے درد ہونے لگا کچھ دیر بعد درد کی شدت بڑھ گئی اور مجھے محسوس ہونے لگا کہ کوئی موٹا سا ڈنڈا میری گانڈ کے اندر گھسا جارہا ہے اورمیری گانڈ چھری سے چیری جارہی ہے اب میری چوت سے بھی پانی نکلنے لگا تھا پھر نومی نے ارشد کو اپنے پاس بلایا اور اسے کہا کہ اپنی رنڈی بیوی کی گانڈ مارنے کے لئے میری مدد کر تو اس طرح تھری سم بھی ہوجائے گااور تیری بیوی کی گانڈ میں میرا لن بھی چلا جائے گا ارشد نے میری کمر مضبوطی سے پکڑ لی اور نومی نے میری گانڈ میں اپنا لن پھر سے کھسانا شروع کردیا اب مجھے مزید درد ہونے لگا تھا مجھے لگا کہ اس کے لن کا کچھ حصہ میری گانڈ کے اندر چلا گیا ہے وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا اور میرے چوتڑوں پر ہلکے ہلکے سے تھپڑ مارنے لگا اس کے بعد اس نے ارشد سے کہا کہ چل اپنی بیوی کی چوت میں انگلی ڈال جس پر ارشد نے اسی حالت میں کھڑے کھڑے میری چوت میں اپنی انگلی ڈال کر اس کو اندر باہر کرنا شروع کردیا جس سے مجھے تھوڑا مزہ بھی آنے لگا جبکہ درد اسی شدت سے ہورہا تھا پھر چند سیکنڈ کے بعد نومی نے ارشد کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور اپنے لن کو تھوڑا سا پیچھے کر کے ایک زور دار جھٹکا دیا اور اس کا لن میری گانڈ کی مزید گہرائیوں تک چلا گیا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا نومی کے جھٹکے کے ساتھ ہی ارشد نے میری کمر پر اپنی گرفت بھی مضبوط کرلی تھی جس کے باعث میں بیڈ پر منہ کے بل گرنے سے بچ گئی تھی میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے

نومی پلیز اس کو باہر نکالو میں مر جاﺅں گی پلیز اس کو نکالو مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے ‘ میں اپنے سر کو ادھر ادھر مارتے ہوئے چیخ رہی تھی

لیکن نومی نے میری بات سنی ہی نہیں اور اپنے لن کو میری گانڈ کے اندر اسی حالت میں رکھ کر میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ پھیرنے لگا اس کی ٹانگیں میرے چوتڑوں سے ساتھ نہیں لگ رہی تھیں جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کا پورا لن ابھی میری گانڈ میں نہیں گیا میں مسلسل چیخ رہی تھی جبکہ نومی کے کان پر جوں تک نہ رینگ رہی تھی میں نے خود کو آگے کرکے اس کا لن اپنی گانڈ سے نکالنے کی کوشش کی لیکن ارشد نے مجھے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا جس کی وجہ سے میں ہلنے کے قابل بھی نہ تھی چند لمحے رکنے کے بعد نومی نے پھر اپنے لن کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور ایک اور زور کا جھٹکا دیا اور اس کا لن میری گانڈ کو چیرتا پھاڑتا اور تباہی مچاتا جڑ تک اندر گھس گیا میں درد کی شدت سے رونے لگی تھی میں نے دو تین بار ارشد کو بھی کہا کہ مجھے چھوڑ دو لیکن اس نے بھی میری بات نہ سنی جبکہ نومی تو پہلے ہی کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا

نومی پلیز اس کو باہر نکال لو یہ اژدھا مجھے مارڈالے گا مجھ پر رحم کرو تمہیں تمہاری ماں کی قسم ‘ میں مسلسل چیخ رہی تھی لیکن نومی نے میری بات نہ سنی اور اپنے لن کو میری گانڈ کے اندر باہر کرنے لگا مجھے لگ رہا تھا کہ اس کا لن میری گانڈ سے اندر گھسا ہے اور ابھی اندر چیر پھاڑ کرتا ہوا پھدی کے راستے باہر نکل آئے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور نومی کی حرکت جاری رہی جبکہ میں مسلسل چیخ رہی تھی میری چیخوں کے ساتھ ساتھ نومی کے جھٹکوں کی رفتار بھی بڑھتی جارہی تھی اور ارشد کی پکڑ بھی مزید مضبوط ہورہی تھی اب نومی پھر پہلے کی طرح بڑی برق رفتاری سے میری گانڈ کے اندر باہر کررہا تھا میری تکلیف کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی تھی میں مسلسل چیخ رہی تھی جبکہ نومی اپنے کام میں مگن تھا اس کو میری چیخوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی تقریباً پندرہ منٹ تک اسی رفتار سے چدائی کے بعد نومی نے اپنا پورا لن میری گانڈ کے اندر کیا اور ارشد کو پیچھے دھکیل کر میری کمر مضبوطی سے پکڑ لی اس کا لن میری گانڈ کے اندر جاتے ہی ہلکے ہلکے سے جھٹکے لینے لگا پھر ایک دو تین اس نے زور زور سے دو تین جھٹکے لئے اور اس کے لن سے نکلنے والا گرم لاوہ میرے پورے جسم میں پھیل گیا چند لمحے کے بعد نومی نے اپنا لن میری گانڈ سے نکال لیا اور مجھے چھوڑ دیا میں اسی لمحے منہ کے بل بیڈ پر گر گئی میری ٹانگیں بیڈ کے نیچے جبکہ دھڑ بیڈ کے اوپر تھا میرا جسم بالکل بے جان ہوچکا تھا جبکہ میری گانڈ سے اس کے لن سے نکلنے والا مادہ رس کر قطرہ قطرہ باہر آرہا تھا میں کچھ دیر تک ایسے ہی رہی نومی اور ارشد آپس میں کچھ بات چیت کررہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کیا باتیں کررہے ہیں چند منٹ بعد مجھے نومی اور ارشد دونوں نے پکڑ کر سیدھا کیا اور باتھ روم کے دروازے پر لاکھڑا کیا نومی یہاں مجھے چھوڑ کر واپس بیڈ پر جابیٹھا اور ارشد نے مجھے باتھ روم کے اندر کیا اور پانی سے میری گانڈ دھونے لگا جیسے ہی پانی میری گانڈ کو لگا مجھے ایک دم درد کی ٹیس سی اٹھی اور میں چلا اٹھی میں نے اپنا ایک ہاتھ گانڈ پر لگایا تو میری گانڈ کھلی ہوئی تھی اس کے اندر دو تین انگلیاں آسانی سے جاسکتی تھیں ارشد نے میری گانڈ دھو کر تولیے سے صاف کی اور اسی طرح میری گانڈ پر تولیہ رکھے ہوئے مجھے پکڑ کر باہر لاکر بیڈ پر لٹا دیا مجھے نہیں ہوش رہا کہ میں کہاں ہوں اور میرے ساتھ کیا ہورہا ہے جیسے بے ہوش ہوگئی ہوں مجھے ہوش اس وقت آیا جب ارشد مجھے مموں سے پکڑ کر ہلا رہا تھا میں نے آنکھ کھولی تو پوری ننگی بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور میرے جسم پر کمبل پڑا ہوا تھا میرا جسم بری طرح گرم تھا اور میں اپنے جسم میں بہت زیادہ کمزوری محسوس کررہی تھی ارشد ہاتھ میں دودھ کا گلا س پکڑے کھڑا تھا

چلو جلد ی سے اٹھ کر کپڑے پہن لو‘ رام لال اور ارم آرہے ہیں‘ میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن مجھ سے اٹھا نہ گیا ارشد نے گلا س بیڈ کے پاس ٹیبل پر رکھا اور مجھے پکڑ کر سیدھا کیا مجھے اپنی گانڈ میں ابھی بھی تکلیف ہورہی تھی میں نے اپنے ہاتھ سے گانڈ کو چھوا تو اس کے اوپر تولیہ لگا ہوا تھا میں نے تولیہ باہر نکال کر دیکھا تو اس پر بہت سا خون لگا ہوا تھا میں نے تولیہ بیڈ کے نیچے پھینک دیا اور پھر اپنا ہاتھ گانڈ کی طرف لے گئی میری گانڈ سوجھی ہوئی تھی پھر میں نے محسوس کیا کہ میری چوت کے اندر بھی جلن ہورہی ہے میں نے اپنی چوت کو ہاتھ لگا یا تو وہ بھی سوجی ہوئی تھی گانڈ میں اتنی درد ہورہی تھی کہ مجھ سے بیٹھا نہیں جارہا تھا خیر میں نے اٹھ کر کپڑے پہنے اور پھر بیڈ پر لیٹ گئی ارشد نے پکڑ کر مجھے سیدھا کیا اور دودھ کا گلاس میرے منہ کو لگا دیا میں نے دودھ پیا اور پھر لیٹ گئی کچھ دیر بعد ارم اور رام لال بھی آگئے

ہائے میں مرجاﺅںکیا ہوگیا آشا تم کو ‘ ارم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی کہا اور دوڑتے ہوئے میرے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی

میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا لیکن اس کو دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے میں نے اپنے چہرے کودوسری طرف موڑ لیا اس نے میرا چہرہ اپنی طرف کیا اور پھر مجھ سے پوچھنے لگی جبکہ رام لال بھی پریشان ہوگیا اور وہ بھی بیڈ پر آکر بیٹھ گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا میں کچھ نہ بولی تو دونوں نے ارشد سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ارشد نے ان کو تمام واقعہ سے آگاہ کیا لیکن اس نے رات کو ہونے والے واقعہ میں سے کئی ”راز کی باتیں“ چھپا لیں اور ان دونوں کو نہ بتائیں پھر دونوں ارشد کو کوسنے لگے میں آنکھیں بند کئے لیٹی رہی میری آنکھوں سے آنسو خود بخود نکل رہے تھے تھوڑی دیر کے بعد ارم نے کافی بنائی اور سب نے میرے پاس بیٹھ کر پی کافی پینے کے بعد رام لال نے مجھے چلنے کو کہا میں اٹھنے لگی تو ارم نے مجھے روک دیا اور کہنے لگی کہ تم دو تین دن ادھر ہی رہو ٹھیک ہوجاﺅ گی تو چلی جانا پھر ارشد نے رام لال سے بھی کہا کہ وہ دو تین دن ادھر ہی رہ جائے جس پر ہم دونوں مزید تین دن ادھر ہی رہے رام لال صبح سویرے آفس نکل جاتا اور شام کو ادھر ہی آجاتا ارم کو تو مینسز ہوئے تھے جبکہ میں ویسے ہی اس قابل نہ تھی کہ کچھ کرسکتی جس پر ان تین دنوں میں چاروں کپڑے اتار کر اکٹھے ایک ہی بیڈ پر لیٹتے رہے اور ایک دوسرے کے جسم سے چھیڑ خانی کرتے رہے لیکن اس دوران کسی نے باقاعدہ سیکس نہ کیا چوتھے روز صبح سویرے رام لال مجھے لے کر گھر آگیا

اب کچھ حالات اور واقعات ارم کی زبانی جانتے ہیں

میں اور رام لال آصف کو لے کر گاڑی میں لانگ ڈرائیو پر چلے گئے راستے میں ایک ہوٹل پر بیٹھ کر ہم لوگوں نے تھوڑی دیر گپ شپ کی اس دوران مجھے آصف بہت اچھا اور سلجھا ہوا لگا میرے دل میں خواہش پیدا ہوگئی کہ آصف کو بھی اس “گیم” میں شامل کرنا چاہئے تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد ہم لوگ گاڑی میں آبیٹھے اور چل پڑے میں گاڑی ڈرائیو کررہی تھی جبکہ رام لال میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا آصف بیک سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار عقبی شیشے سے آصف کی طرف دیکھ رہی تھی اور کچھ دیر بعد رام لال کو بھی دیکھ لیتی کہ اس کا دھیان کس طرف ہے جبکہ رام لال گاڑی میں میری طرف ہی دیکھ رہا تھا رام لال نے جیسے میرے دل کی بات بوجھ لی تھی راستے میں جاتے جاتے بار بار اشاروں میں مجھ سے آصف کے بارے میں پوچھتا جارہا تھا لیکن میں ہر بار مسکرا کر چپ رہتی

کیوں نہ تینوں گھر چلیں وہاں جاکر گپ شپ کریں گے‘ رام لال نے راستے میں آصف سے پوچھا

جیسے آپ کی مرضی‘ آصف نے جواب دیا

اگر رات ہماری طرف ٹھہر جاﺅ تو کوئی حرج تو نہیں‘ رام لال نے آصف سے پوچھا

نہیں کوئی حرج نہیں میں گھر میں فون کردیتا ہوں‘ آصف نے جواب دیا اور پھر اس نے اپنے موبائل سے کال کرکے اپنے گھر والوں کو کہا کہ وہ ایک دوست کے ساتھ ہے اور رات اس کے پا س ہی ٹھہرے گا صبح گھر آجائے گا پھر فون رکھ کے رام لال کی طرف دیکھنے لگا

رام لال نے مجھے گھر کی طرف موڑنے کے لئے کہا اور میں نے ایسا ہی کیا کچھ دیر بعد ہم لوگ گھر پہنچ گئے اور سیدھے بیڈ روم میں چلے گئے میں اس طرح سب سے آگے چل رہی تھی جیسے کہ یہ میرا اپنا گھر ہو مجھے اس گھر میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہورہی تھی اور نہ ہی مجھے غیر محرم مردوں کے ساتھ کسی غیر جگہ پر اکیلے جانے پر کوئی ڈر محسوس ہورہا تھا میں اپنی اس بے باکی پر خود بھی حیران تھی خیر ہم لوگ بیڈ روم میں چلے گئے بیڈ روم میں جاتے ہی میں نے برقعہ اتار دیا اور بیڈ پر بیٹھ گئی رام لال بھی بیڈ پر آگیا جبکہ آصف پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

تم وہاں کیوں بیٹھے ہوادھر آﺅ بیڈ پر ‘ رام لال نے اسے کہا

رام لال کی بات سن کر آصف اٹھ کر بیڈ کی طرف آیا تو رام لال اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اس نے الماری سے ایک ٹراﺅزر اور ٹی شرٹ نکال کر آصف کودی اور کہا کہ جاﺅ باتھ روم میں چینج کرلو جس پر آصف نے کپڑے پکڑے اور باتھ روم کی طرف چلا گیا اس کے جاتے ہی رام لال بیڈ پر آگیا اور آتے ہی اس نے مجھے کسنگ کرنا شروع کردی میں بھی بھرپور طریقے سے اس کا ساتھ دینے لگی چند منٹ بعد آصف بھی باتھ روم سے نکل آیا ہمیں کسنگ کرتے دیکھ کر ایک دم باتھ روم کے دروازے پر ہی ٹھٹھک گیا رام لال نے اسے کہا رک کیوں گئے آجاﺅ جس پر وہ جھجکتے ہوئے بیڈ پر میری طرف آگیا اور سمٹ کر بیٹھ گیا وہ کافی شرم محسوس کررہا تھا رام لال نے اس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اس کو مزید آگے ہونے کو کہا جس پر وہ اور آگے ہوگیا لیکن ابھی بھی وہ مجھ سے کافی دور تھا رام لال نے مجھے پھر کسنگ کرنا شروع کردی اور پھر ایک لمحے کے لئے رکا اور آصف کو کہنے لگا جھجک کیوں رہے ہو چلو شروع ہوجاﺅ جس پر آصف نے تھوڑا سا حوصلہ پکڑا اور پیچھے سے میرے ساتھ چپک گیا اس نے میری گردن پر کسنگ شروع کردی رام لال نے اسے دیکھ کر کہا کہ آپ دونوں انجوائے کروں میں باتھ روم میں جارہا ہوں اس کے بیڈ سے اترتے ہی میں نے منہ آصف کی طرف کرلیا اور ہم دونوں نے کسنگ شروع کردی مجھے ابھی تک آصف کے اندر جھجک محسوس ہورہی تھی وہ بہت سافٹ طریقے سے کسنگ کررہا تھا میں بھی اسی طریقہ سے اس کا ساتھ دے رہی تھی تھوڑی دیر بعد رام لال کمرے میں آگیا اور اس نے مجھے کھڑا کرکے میری قمیض اور بریزئیر اتار دیا اب میرے سفید سفید ممے اور گلابی نپلز آصف کے سامنے تھے وہ آنکھیں پھاڑے میری طرف دیکھ رہا تھا رام لال نے مجھے بیڈ پر بٹھا دیااور پھر اپنے سارے کپڑے اتار دیئے اس کے بعد اس نے آصف کو بھی اپنے کپڑے اتارنے کو کہا جس نے تھوڑا سا جھجکنے کے بعد اپنا ٹراﺅزر اور شرٹ اتاردی اب میں صرف شلوار میں ملبوس تھی جبکہ دونوں مرد بالکل ننگے تھے اب رام لال مجھے کسنگ کرنے لگا جبکہ آصف ہماری طرف دیکھ رہا تھا رام لال نے کسنگ کرتے کرتے آصف کا ہاتھ پکڑ کر میرے ممے پر رکھ دیا جس پر اس نے دوسرا ہاتھ خود میرے دوسرے ممے پر رکھ دیا اور ان کو آہستہ آہستہ دبانے لگا آصف کے ہاتھ بہت نرم تھے لیکن ان کی موومنٹ ایسی تھی کہ مجھے میرے جسم میں ایک کرنٹ دوڑتا ہوا محسوس ہورہا تھا تھوڑی دیر بعد رام لال نے اپنا منہ تھوڑا پیچھے کیا اور آصف سے کہنے لگا

آصف ڈرتے کیوں ہو ان کے ساتھ کھیلو ان کو چوسو‘

رام لال کی بات سن کر میں بیڈ پر لیٹ گئی اور ایک مما رام لال نے اپنے منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کردیا جبکہ دوسرا مما آصف کے منہ میں تھا رام لال میرے مموں کو برے طریقے سے چوس رہا تھا جبکہ آصف میرے نپل کو اپنے ہونٹوں میں دبائے ان پر اپنی زبان پھیر رہا تھا دونوں مموں پر دو الگ الگ مرد الگ الگ طریقوں سے کسنگ کررہے تھے جس سے میں مزے کی ایک نئی دنیا میں پہنچ گئی رام لال میرے ممے کو چوستے چوستے کبھی کبھی میرے ممے پر اپنے دانتوں سے ہلکی سی کاٹی کرلیتا جس سے میرے منہ سے آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ نکل جاتی جبکہ دوسری طرف آصف بڑے پیار سے میرے نپل کو چوس رہا تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد میرے نپل کو اپنے منہ سے نکالتا اور اس کو غور سے دیکھنے کے بعد پھر اس کو منہ میں لے لیتا میں بالکل سیدھا لیٹی ہوئی تھی میرا ایک ہاتھ رام لال جبکہ دوسرا ہاتھ آصف کے سر پر تھا اور میں دونوں کے بالوں میں کنگھی کررہی تھی دونوں کے سر آپس میں جڑے ہوئے تھے میری ایک ٹانگ پر رام لال نے اپنی ٹانگ رکھی ہوئی تھی جبکہ دوسری پر آصف اپنا قبضہ کئے بیٹھا تھا دونوں اپنی ٹانگوں کو میری ٹانگوں پر رگڑ رہے تھے ایک ٹانگ پر بھاری بھرکم جبکہ دوسری ٹانگ پر پتلی سی ٹانگ حرکت کررہی تھی جس سے مجھے ایسا مزہ آرہا تھا کہ مجھے اسے بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں مل رہے مجھے دونوں کے لن اپنی ٹانگوں کے ساتھ لگے ہوئے اکڑتے محسوس ہورہے تھے تھوڑی دیر بعد آصف کے لن سے ہلکا ہلکا سا مادہ نکلنے لگا لیکن وہ میرے ساتھ چمٹا رہا تھوڑی دیر کسنگ کے بعد رام لال نے میرے ممے کو منہ سے نکال دیا اسے دیکھ کر آصف نے بھی اپنا منہ پیچھے کرلیا اور تھوڑا سا پیچھے ہوگیا رام لال نے مجھے بھی بازو سے پکڑ کر اٹھا کر بٹھا دیا اور آصف کے لن کی طرف اشارہ کرکے مسکرانے لگا میں نے اس طرف دھیان دیاتو وہ پوری طرح کھڑا ہوا تھا آصف کا لن لمبائی میں ارشد اوررام لال کے مقابلے میں چھوٹا اور موٹائی بھی کم تھی لیکن اس کی شکل اس طرح کی تھی کہ وہ بالکل سیدھا تھا اور جڑ سے لے کر ٹوپی تک اس کی موٹائی برابر تھی اور اس میں ٹیڑھا پن بھی نہیں تھا ارشد اور رام لال دونوں کے لن ٹیڑھے تھے اور جڑوں سے موٹے اور درمیان سے پتلے ہونے کے بعد ٹوپی سے ان کی موٹائی پھر زیادہ تھی جبکہ آصف کے لن کی موٹائی جڑ سے ٹوپی تک بالکل برابر تھی اور دیکھنے میں بہت خوب صورت تھا اس کے لن کا رنگ بھی گورا تھا اور اس کے ٹٹے بھی اچھی شیپ کے تھے اور زیادہ لٹکے ہوئے نہیں تھے اس کے لن کے گرد اور ٹٹوں پر ہلکے ہلکے سے بال تھے ایسا لگ رہا تھا جیسا کہ چار پانچ دن پہلے ہی اس نے بال صاف کئے تھے میں ابھی اس کے لن کا جائز ہ ہی لے رہی تھی کہ رام لال بول پڑا

اس کو دیکھتی ہی رہو گی یا کچھ کرنا بھی ہے

اس کی بات سن کر میں تھوڑا سا نیچے ہوئی اور اس کا لن اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کردیا اس کا لن لمبائی اور موٹائی میں کم ہونے کی وجہ سے مجھے چوسنے میں آسانی اور مزہ آرہا تھا میں اس کے پورے لن کو آسان کے ساتھ اپنے منہ میں جڑ تک لے جاتی اور پر باہر لے آتی پھر میں نے اس کے ٹٹوں پر بھی اپنی زبان پھیرنا شروع کردی ابھی ٹٹوں پر اپنی زبان پھیر رہی تھی کہ آصف کے لن نے میرے منہ پر منی کا ایک فوارہ چھوڑ دیا اس کی ساری منی میرے چہرے پرپڑ گئی میں نے پیچھے ہوکر اپنی قمیض اٹھائی اور اس سے اپنا چہرہ صاف کیا اور پھر رام لال کے لن کو منہ میں لینے کے لئے اس طرف مڑی

نہیں میں آج کچھ اورکرنے کے موڈ میں ہوں‘ رام لال نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیااور خود آصف کی طرف بڑھ گیا اس نے آصف کے پاس جاکر اپنا لن اس کی ٹانگوں پر رگڑنا شروع کردیا جس پر آصف حیرانگی سے کبھی میری طرف اور کبھی رام لال کی طرف دیکھنے لگا پھر اس کا دھیان جیسے ہی رام لال کے ختنوں کے بغیر بڑے اور موٹے لن کی طرف گیا اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ تھوڑا سا پیچھے کو ہٹا جبکہ رام لال نے اسے پکڑ کر پھر اپنے پاس کیا میں سمجھ نہیں پارہی تھی کہ رام لال کیا کرنے والا ہے جبکہ آصف شائد خطرے سے آگاہ ہوچکا تھا

سر کیا کررہے ہیں‘ آصف نے رام لال سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا

کچھ نہیں تم پیچھے کیوں جارہے ہو‘ رام لال نے اس کو بازو سے پکڑ کر اپنے پاس کیا اور پھر اس کو سر سے پکڑ کر اس کا منہ اپنے لن کے پاس کرتے ہوئے کہا”چلو اس کو اپنے منہ میںلو“

سرررررررررر‘ آصف کے منہ سے خوف کے مارے نکلا

کیا سرررررر جو کہا ہے کرو‘ رام لال نے اس کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا

سر مجھ سے نہیں ہوگا یہ ‘ کیوں نہیں ہوگا کیا دوسروں کی بیویوں کو مفت میں ہی چودا جاتا ہے‘ رام لال نے اسے کہا جس پر آصف نے ملتجانہ نظروں سے میری طرف دیکھا

میں آصف کو رام لال سے چھڑانے کے لئے تھوڑا آگے بڑھ لیکن رام لال نے مجھے کہا ”تم جاﺅ کچن سے چائے لے کر آﺅ“ جس پر میں کمرے سے باہر نکل گئی دروازے کے پاس ایک لمحے کے لئے رک کر پیچھے دیکھا تو رام لال نے اس کو پکڑ کر اپنے پاس کرلیا تھا میں بغیر قمیض پہنے ہی کچن میں چلی گئی اور چائے بنانے لگی چائے لے کر واپس آئی تو رام لال کمرے کے وسط میں کھڑا ہوا تھا جبکہ آصف اس کی ٹانگوں کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا اس نے رام لال کا لن اپنے منہ میں ڈالا ہوا تھا جو کہ آدھے سے زیادہ اس کے منہ سے باہر تھا رام لال نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے سر کو پکڑ رکھا تھا اور آنکھیں بند کر کے اس کے سر کو آگے پیچھے کررہا تھا آصف کے ناک سے

غووووو‘ غوووں ‘ غووووں کی آوازیں آرہی تھیں اور وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا میں جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی رام لال نے اس کاسر چھوڑ دیا اور مجھے باتھ روم سے تیل کی شیشی پکڑ کر لانے کو کہا میں نے چائے ٹیبل پر رکھی اور باتھ روم میں چلی گئی اور تیل کی بوتل اٹھا کر واپس آگئی

نہیں سر پلیزززززززززززززز‘ آصف جس کو رام لال پکڑ کر بیڈ کی طرف اس کا منہ کررہا تھا اور وہ پیچھے منہ کرکے بول رہا تھا

میں نے کہا ناں ادھر کو منہ کرو‘ رام لال نے آصف کو دھکیل کر بیڈ کے پاس کردیا اور اس کو گردن سے پکڑ کر آگے کی طرف جھکا دیامیں ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ رام لال کیا کرنے والا ہے

ہاں شاباش یہاں اپنے دونوں ہاتھ بیڈ پر رکھو اورہاں پیچھے سے تھوڑا اوپر کرو‘ رام لال نے آصف کے کولہوں سے پکڑ کر اس کے چوتڑ تھوڑا سا اوپر کئے اب آصف گھوڑی بن گیا تھا اور میں بھی سمجھ گئی کہ رام لال کیا کرنے والا ہے

لاﺅ ادھر لاﺅ جلدی سے اور اس کو کھول کر تیل یہاں لگاﺅ‘ رام لال نے اپنی انگلی آصف کی گانڈ کے سوراخ پر رکھتے ہوئے مجھے کہا

آصف بار بار اپنا چہرہ پیچھے کرکے دیکھ رہا تھا میں اس کے قریب جاکر ایک لمحہ کے لئے رکی اور پھر تیل کی شیشی کھول کر اس میں سے تھوڑا سا تیل اپنی ہتھیلی پر انڈیلا اور اس میں اپنی انگلی بھگو کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر لگانے لگی

اندر کی طرف بھی لگاﺅ باہر لگانے کا کیا فائدہ‘ رام لال نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھ کر کہا

میڈم پلیزززززززززززز‘ آصف نے میری طرف گردن گھما کر دیکھااور جان چھڑانے کی درخواست کرنے لگا

میڈم کو کیا کہہ رہے ہو چپ چاپ اسی طرح کھڑے رہو‘ اور تم کیا اس کی بات سن رہی ہو جلدی سے تیل لگاﺅ‘ رام لال نے پہلے آصف کی گردن سیدھی کرتے ہوئے اسے کہا پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا

میں نے چپ چاپ اپنی انگلی کو پھر سے تیل میں بھگویا اور اس کی گانڈ کی طرف کی تو رام لال نے میری انگلی کو پکڑ کرآصف کی گانڈ کے اندر گھسا دیا

اسس س س سس س س ‘ سر پلیززززززز‘ مجھے جانے دیں‘ آصف نے پھر سے منت سماجت شروع کردی

اور لگاﺅ تیل‘ رام لال نے میرا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا میں نے تیل نکالنے کے لئے بوتل کو بیڈ سے اٹھایا تو اس نے بوتل میرے ہاتھ سے لے کر اس کو انڈیل کر آصف کی گانڈ کے سوراخ پر تیل پھینک دیا اور مجھے کہا کہ اس کو اچھی طرح سے اوپر اور اندر کی طرف لگاﺅ

تم اپنی گانڈ کو تھوڑا سا کھولو‘ رام لال نے آصف کے دونوں چوتڑ اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر ان کو کھولتے ہوئے آصف کو کہا

سر پلیززززز‘ میں نے کبھی پہلے ایسا نہیں کیا مجھے جانے دیں‘ آصف نے پھر کہا

چپ کرو میں تیل اس لئے لگوا رہا ہوں کہ تم کو تکلیف نہ ہو اگر تم نہیں چاہتے تو میں تیل صاف کرکے تمہاری خشک گانڈ ہی مارلوں گا پھر تم کو زیادہ تکلیف ہوگی بہتر ہے چپ چاپ منہ آگے کی طرف کئے رکھو اور زبان بند رکھو‘ رام لال نے اس ایک بار پھر تنبیہ کی اور پھر مجھے کہا کہ تیل کو گانڈ کے سوراخ کے باہر اور اندر اچھی طرح لگا دواس کا لن پوری طرح کھڑا ہوا تھا میں نے اپنی ایک انگلی سے اچھی طرح آصف کی گانڈ کے باہر اور اندر تیل لگایا پہلے اس کی گانڈ میں میری انگلی پھنس پھنس کر جارہی تھی جس پر آصف کے منہ سے ہلکی سی سسسسکاری نکلتی تھی اب آسانی کے ساتھ اندر جارہی تھی لیکن آصف اب بھی آہ ہ ہ ہ ہ کررہا تھا

اب اپنی دوانگلیاں اندر کرو‘ رام لال نے مجھے کہا

میں نے اس کے حکم پر اپنی دوانگلیاں اس کی گانڈ میں گھسا دیں اب آصف کی گانڈ تھوڑا نرم ہوچکی تھی پھر رام لال نے مجھے کہا کہ تم بیڈ پر آصف کے سامنے منہ کرکے لیٹ جاﺅ اور اس کو کسنگ کرو میں نے تیل کی شیشی بیڈ سے نیچے رکھی اور بیڈ پر اس طرح سیدھی لیٹ گئی کہ میرا منہ آصف کے منہ کے عین نیچے آگیا میں نے اپنے دونوں ہاتھ آصف کی گردن کے گرد ڈال لئے اور اس کا چہرہ تھوڑا سا نیچے کرکے اس کے ہونٹ چوسنے لگی

س س سس س س س رررر‘ آصف نے دو لمحے بعد ہی اپنا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا میں نے پھر اس کا چہرہ نیچے کیا اور اس کو کسنگ کرنے لگی

ایک دو لمحے بعد آصف نے پھر اپنا چہرہ اوپر کیا اور اپنے دونوں ہونٹ اپنے دانتوں کے نیچے دبا لئے اس کے چہرے سے تکلیف کے آثار دکھائی دے رہے تھے لیکن اس بار وہ بولا کچھ نہیں تھا میں نے اس کو پھر نیچے کیا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنے لگی چند لمحے بعد آصف کے جسم یک دم آگے کی طرف جھکااور اس کے منہ سے ہائے ئے ئے ئے ئے ئے ئے کی آواز نکلی اور پھر اس نے خود ہی اپنا چہرہ نیچے کرکے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے چند لمحے اس کا جسم ساکت رہا پھر آہستہ آہستہ سے اس کا جسم آگے پیچھے ہونے لگا اس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھی اور میرے ہونٹوں کو برے طریقے سے چوس رہا تھا پھر تھوڑی دیر بعد اس کا جسم ایک بار پھر ایک لمحے کے لئے ساکت ہوا اور پھر وہ یک دم آگے کی طرف منہ کے بل میرے اوپر گرتے گرتے سنبھل گیا اس نے ایک اور ہلکی سی آہ بھری اور پھر میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ جما دیئے تھے میں نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھی اور اس کا جسم پھر آہستہ آہستہ آگے پیچھے ہونے لگا تھا پھر آصف نے میرے ایک ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا جو ادھ کھڑا ہوا تھا اور اس کی ٹوپی میں سے لیس دار مادہ نکل رہا تھا میں نے اس کے لن کو پکڑ کر اس کی مٹھ لگانا شروع کردی جبکہ اس کا جسم آہستہ آہستہ آگے پیچھے ہورہا تھا رام لال نے اس کے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ جما رکھے تھے کبھی کبھی آصف کے جسم کو زور کا جھٹکا لگتا تو وہ اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے پیچھے کرکے ایک ہلکی سی آہ بھرتا اورپھر آنکھیں بند کئے میرے ہونٹ چوسنے لگتا اب آہستہ آہستہ اس کا جسم تیزی سے آگے پیچھے ہونے لگااب وہ میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہی تھا کہ اس کا جسم جھٹکا لیتا اور اس کا منہ میرے کان کے قریب چلا جاتا اب اس نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنے دونوں ہونٹ اپنے دانتوں تلے دبا رکھے تھے میں نے ابھی تک اس کی گردن کے گرد دونوں بازو حائل کررکھے تھے

تم اٹھ کر ادھر آجاﺅ‘ رام لال نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا اب آصف کا جسم حرکت نہیں کررہا تھا میں اٹھ کر آصف کی پیٹھ کی طرف چلی گئی جہاں رام لال اس کے چوتڑوں پر ہلکے ہلکے سے تھپڑ مارہا تھا اور ان کو کھول کر آصف کی گانڈ کو مزید کھولنے کی کوشش کررہا تھا اس کا پورا لن آصف کی گانڈ کے اندر تھا میں حیران رہ گئی کہ جو لن میں اپنی پھدی میں پہلی بار آسانی کے ساتھ نہیں لے پائی تھی وہ آصف پہلی بار ہی اپنی گانڈ میں کس طرح لینے میں کام یاب ہوگیا میں رام لال کے پاس کھڑی ہوگئی تو اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے مجھے ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کر لانے کو کہا میں سمجھ گئی کہ رام لال کیا چاہتا ہے میں نے موبائل پکڑا اور اس کا کیمرہ آن کر کے آصف کی چدائی کی فلم بنانے لگی میں نے اس کو ہر زاوئےے سے کیمرے میں محفوظ کیا رام لال کو جھٹکا دے کر لن اندر کرتے‘ باہر نکالتے‘ جب رام لال کا لن اس کی گانڈ میں جاتا اور باہر آتا اس کے چہرے کے تاثرات اس کے جسم کی حرکت سب کچھ اب رام لال قدرے تیزی سے آصف کی گانڈ کے اندر اور باہر اپنے لن کو حرکت دے رہا تھا میں نے دیکھا کہ رام لال کا لن جب باہر کی طرف آتا تو اس کے اوپر تھوڑا سا خون بھی لگا ہوا ہوتا جس سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ خون آصف کی گانڈ سے نکلا ہے اب جب رام لال کا لن آصف کی گانڈ کے اندر جاتا آصف اپنا سانس اندر کو کھینچ کر روک لیتا اور اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہوجاتے جب رام لال کا لن باہر نکلتا تو آصف سانس باہر نکالتا اور اس کے چہرے پر تکلیف کی جگہ سکون کے آثار آجاتے آصف ابھی تک اپنے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبائے ہوئے آنکھیں بند کئے رام لال کے جھٹکوں کے ساتھ آگے پیچھے ہورہا تھا تقریباً پندرہ منٹ کے بعد رام لال نے آصف کو پیٹ سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا اور جھٹکا لگا کر اپنے لن کو جڑ تک اندر کردیا اور پھر باہر نہیں نکالا اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور پھر چند لمحے بعد اس نے آصف کے پیٹ پر گرفت چھوڑ دی اور آصف آگے کی طرف بیڈ پر منہ کے بل لیٹ گیا جبکہ رام لال نے اپنا لن اس کی گانڈ سے باہر نکال لیا میں نے کیمرے سے پہلے رام لال کے لن کو آصف کی گانڈ سے باہر نکلتے ہوئے شارٹ لیا پھر موبائل کے کیمرے کا رخ آصف کی گانڈ کی طرف کردیا جس کے سوراخ کے ارد گرد سے ہلکا ہلکا سا خون نکل رہا تھا اور پھر اس کی گانڈکے سوراخ کے اندر سے خون اور رام لال کے لن سے نکلنے والے مادے کا مکسچر بہہ کر نکل رہا تھا یہ سارا سین کیمرے میں محفوظ ہورہا تھا رام لال نے اپنا لن باہر نکالا اور سیدھا باتھ روم میں چلا گیا واپس آیا تو اس نے آصف کو بھی باتھ روم جانے کے لئے کہا آصف بیڈ سے اٹھا اور باتھ روم کی طرف چل دیا میں نے نوٹ کیا کہ اس سے ٹھیک طریقے سے چلا نہیں جارہا تھا وہ اپنے ٹانگوں کو معمول سے زیادہ کھول کھول کر چل رہا تھا اس نے باتھ روم میں جانے کے بعد دروازہ بند کیا تو میں رام لال کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جس پر اس نے کہا

جان مجھے معلوم ہے کہ یہ لڑکا اچھا ہے لیکن اس کو ہم لوگ اپنا راز دار بنا رہے ہیں اگر اس نے کسی کو بتا دیا تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے اس کی گانڈ اس لئے ماری ہے کہ اب یہ کسی کو بھی نہیں بتائے گا اور فلم بھی اسی لئے بنائی ہےکہ اب یہ کسی کو بتائے گا نہیں اب یہ ہمارا اور ہم اس کے راز دان بن گئے ہیں

ابھی ہم لوگ باتیں کررہے تھے کہ آصف باتھ روم سے نکل آیا اس سے ابھی بھی ٹھیک طریقے سے نہیں چلا جارہا تھا وہ آتے ہی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا ارشد نے میری توجہ اس کی طرف مبذول کروائی اور ہنستے ہوئے کہنے لگا تم اس کے ساتھ گپ شپ لگاﺅ میں چائے لے کر آتا ہوں پہلے والی چائے ٹھنڈی ہوگئی ہے اس کے کچن میں جاتے ہی میں بیڈ پر آصف کے پاس جالیٹی اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا میرے ہاتھ لگتے ہی آصف سیدھا ہوگیا اور میرا ہاتھ جھٹک کر پیچھے کردیا

کیا اب اور کچھ کرنے والا بھی رہ گیا ہے میرے ساتھ ‘ تم نے دھوکے سے مجھے بلایا ہے اور میرے ساتھ جو کیا اس سے میں اپنی نظروں میں خود ہی گر گیا ہوں اگر کسی کو معلوم ہوگیا کہ میرے ساتھ یہاں کیا ہوا ہے تو میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا میرے پاس خود کشی کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں رہ جائے گا ‘ باتیں کرتے کرتے آصف کی آنکھوں سے یک دم آنسو جاری ہوگئے میں نے پیار سے اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو صاف کئے اور اسے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی کو کچھ معلوم ہوگا لیکن وہ پھر الٹا ہوکر لیٹ گیا میں نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنا دوبارہ شروع کیا تو وہ خاموشی سے لیٹا رہا میں نے اس کو سیدھا کیا تو پھر سے رونے لگا اس کی ہچکی بندھ چکی تھی اتنی دیر میں رام لال چائے لے کر کمرے میں داخل ہوگیا ابھی تک ہم سب اسی حالت میں تھے جس حالت میں تھوڑی دیر پہلے تھے یعنی میں شلوار میں جبکہ آصف اور رام لال بالکل ننگے تھے آصف نے رام لال کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں

اف ف ف ف ف ۔۔۔۔۔میرے ساتھ ایسے شخص نے بدفعلی کی ہے جس کے ختنے بھی نہیں ہوئے ہیں‘ آصف نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ہاتھ رکھتے ہوئے کہا مجھے اس کی یہ حرکت بہت اچھی لگی مجھے اس وقت آصف ایک معصوم سابچہ لگ رہا تھا میں نے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اور رام لال نے اس کو حقیقت سے آگاہ کیا کہ میں اس کی بیوی نہیں بلکہ اس کے دوست ارشد کی بیوی ہوں اور ارشد کی ہی اس کے ساتھ فون پر اور نیٹ پر بات ہوئی تھی اس وقت میری بیوی آشا ارشد کے پاس ہے جبکہ ارم کو مینسز ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی بجائے آصف کو “قربانی کا بکرہ” بننا پڑا اس نے آصف کو اٹھا کر بٹھایا اور کہا کہ اب ہم لوگ سب دوست ہیں اس نے آصف سے زبردستی کرنے پر معذرت بھی کی اور پھر ہم سب نے مل کر چائے پی پھر اسی حالت میں اسی بیڈ پر لیٹ گئے میں نے اس رات ایک بار پھر آصف کے لن کو منہ میں لے کر چوسا اور اس کو فارغ کیا صبح اٹھے تو آٹھ بج رہے تھے آصف نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور جانے کی تیاری کرنے لگا ہم نے اسے ناشتے کا کہا تو اس نے کہا کہ اس کو دیر ہورہی ہے اب اس کو جلد سے جلد گھر پہنچنا ہے جس پر رام لال نے اپنے پرس سے ایک ہزار روپے کا نوٹ نکال کر اسے دیا اور کہا کہ وہ اس کو ابھی ڈراپ کرنے نہیں جاسکتا وہ رکشہ پر چلا جائے اور اس کا کرایہ ادا کردے اور بازار سے اچھا سا ناشتہ بھی کرلے اس نے ایک دو بار انکار کیا اور پھر اس کو لے کر جیب میں رکھا اور پھر ملنے کا وعدہ کرکے چلا گیا

Share this post


Link to post
Share on other sites

1

Please login or register to see this link.

2

Please login or register to see this link.

3

Please login or register to see this link.

4

Please login or register to see this link.

Edited by khoobsooratdil
Font Size
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Edited by khoobsooratdil
Font Size
  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

Edited by khoobsooratdil
Font Size

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×