Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Horny Jasmin

MY OWN POetry ("" بس ٹھیک ہوں "")

Recommended Posts

میں نے سوچا

آج آپ آئیں گے تو رو دوں گی

آپ پوچھیں گے

تو سب حال میں کہہ دوں گی

کہہ دونگی کہ کتنے دن ہوئے سوئی نہیں

وہ کونسی بھول ہے جو مجھ سے ہوئی نہیں

کتاب فریج میں شیلف میں گلاس رکھا

پیر کا دن تھا خط میں جمعرات لکھا

سہیلی سے شکوہ کرنا تھا اسے پیار کیا

ٹی وی پر گیت تھا اذان نہیں

میں نے چونک کر آنچل سر پر رکھا

کیا حال کر دیا میرا

مجھے کسی کام کا نہیں رکھا

اور جب آپ آئے

آپ نے پوچھا

کیا حال ہے

تو میں صرف اتنا ہی کہہ سکی

"" بس ٹھیک ہوں ""

Share this post


Link to post
Share on other sites

Wah Jasmin! Ise Kehtay Hayn Shairee! Thts Great! Tum Nay Is Shairee Main Apnay Dil Ki Woh Baat Mujeh Bata Di Jo Shayed Main Jaan Hi Nahi Sakta Tha Agar Tum Yeh Thread Nahi Banateen! Ab Main Jab Bhi Awoon Ga Aur Poochon Ga Ke Kaisi Ho To Jawab Zara Khul Ke Dena. Nice Thread Keep Posting Dear!

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ooo achhaa means ap ko lagta hai ye ishaar mai nay ap k leay likhay hain

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_tongue.png" alt=":P" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/tongue@2x.png 2x" width="20" height="20" />:p

Share this post


Link to post
Share on other sites

بھولتا ہوں اسے یاد آئے مگر بول میں کیا کروں

جینے دیتی نہیں اس کی پہلی نظر بول میں کیا کروں

تیرگی خوب ہے، کوئی ہمدم نہیں، کوئی رہبر نہیں

مجھ کو درپیش ہے ایک لمبا سفر بول میں کیا کروں

خود سے ہی بھاگ کر میں کہاں جاؤں گا، یونہی مر جاؤں گا

کوئی صورت بھی آتی نہیں اب نظر بول میں کیا کروں

میری تنہائی نے مجھ کو رسوا کیا، گھر بھی زندان ہے

مجھ پہ ہنسنے لگے اب تو دیوار و در بول میں کیا کروں

اڑ بھی سکتا نہیں، آگ ایسی لگی، کس کو الزام دوں

دھیرے دھیرے جلے ہیں مرے بال و پر بول میں کیا کروں

تو مرا ہو گیا، میں ترا ہو گیا، اب کوئی غم نہیں

پھر بھی دل میں بچھڑنے کا رہتا ہے ڈر بول میں کیا کروں

Share this post


Link to post
Share on other sites

مری نظر نے خلا میں دراڑ ڈالی ہے

سکوں کی گم شدہ تصویر پھر سے پا لی ہے

خود اپنی اَور بچھائے ہیں غم کے اَنگارے

سکوتِ رنج سے میں نے نجات پا لی ہے

کدھر کو جائیں‘ کہاں ہم کریں تلاش کہ اب

سکوں کی دُھن میں بہت خاک چھان ڈالی ہے

میں کس یقیں پہ تحمل کو پائیدار کروں

مرا مزاج ازل ہی سے لاابالی ہے

مجھے یقیں نہ دلاؤ‘ میں جانتا ہوں‘ مگر

وفا کا لفظ تو عہدِ رواں میں گالی ہے

مِلا نہ جب تری قربت کی روشنی کا سُراغ

غموں کی لُو سے شبِ آرزو اُجالی ہے

کسی کے لب پہ چراغِ دُعا نہیں جلتا

ہر ایک شخص کی جیسے زبان کالی ہے

تھا سخت ہم پہ بھی شب خوں پہ آبرو کی قسم

متاعِ شیشہ و نقدِہُنر بچا لی ہے

وفا تو پہلے ہی عنقا تھی شہر میں احمد

سُنا ہے اب تو دُکھوں کی بھی قحط سالی ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

درد سہنے کی اب اور مجھ میں تاب نہیں

بس کر میرے محبوب ، اور عذاب نہیں

یوں نگاہیں مت پھیر ، اپنی محفل سے نہ اٹھا

تیرا عاشق ہوں میں مجرم سزا یاب نہیں

تجھے شاید میرے دل سے کوئی راہ ہی نہیں

میں ہوں بے تاب توکیوں تو بے تاب نہیں

یوں بے درد نہ بن، مجھے ٹھوکر تو نہ مار

میں انسان ہوں سنگ دل، کوئی کتاب نہیں

آج اتنی پلا ساقی کہ کوئی غم نہ رہے

مجھ سے مت کہہ مے خانے میں شراب نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں

پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب

میں ترے فقیروں میں، میں ترے غلاموں میں

جس طرح اس کا نام چُن لیا تم نے

اس نے بھی ہے چُن رکھا ایک نام ناموں میں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Woh Aksar Apnay Kaam Main Magan...

Baithay Baithay Mujhay Sochnay Lagta Hai...

Woh Sari Baatain Yaad Aati Hain Us Ko...

Woh Subhain , Woh Shamain...

Wohi Zindagi Ki Musafatain...

Jinhain Gin Gin Kay Guzara Kartay Thay...

Phir Jab...

Haqeeqaton Main Wapis Lout-Ta Hai...

To Muskura Daita Hai...

Aur Sar Jhatak Kay Kehta Hai...

PaGLi!!!!!!!

Share this post


Link to post
Share on other sites

عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا

کبھی جاں صدقے ہوتی ، کبھی دل نثار ہوتا

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا

تم ہی منصفی سے کہہ دو،تمہیں اعتبار ہوتا؟

یہ مزا تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

نہ مزہ ہے دشمنی میں نہ لطف ہے دوستی میں

کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا

ترے وعدے پہ ستم گر ابھی اور صبر کرتے

اگر اپنی زندگی کا ہمیں اعتبار ہوتا

تمہیں ناز ہو نہ کیوں کر کہ لیا ہے داغ کا دل

یہ رقم نہ ہا تھ لگتی ، نہ یہ اختیار ہوتا

Share this post


Link to post
Share on other sites

جُدائی کے بندی خانے میں

بس اب تو جینے کا ایک ہی سلسلہ ہے جاناں

تمہاری سوچوں میں ڈوبے رہنا

تمہارے خوابوں میں کھوئے رہنا

کسی طرح تم کو دیکھنے کی سبیل کرنا

تمہارے کوچے تک آنے کا کچھ بہانہ کرنا

ہر آتے جاتے سے خیریت کی نوید لینا

ہواؤں اورچاند اور پرندوں پہ رشک کرنا

میرا جو احوال پُوچھنا ہے تویہ ہے جاناں

کہ جانے کب سے

جُدائی کے بندی خانے میں بند

برف کی سِل پہ تنہا بیٹھی

حرارتِ زندگی سے کچھ ربط ڈھونڈتی ہوں

بدن کو اپنے

تمہارے ہاتھوں سے چُھو رہی ہوں

Share this post


Link to post
Share on other sites

اگروہ محبت کا اقرار کرتی

اسے اِس ادا پر میں بانہوں میں بھر کر

بہت پیار کرتا

اسے دل سنگھاسن پہ اپنے بٹھاتا

دمکتے یہ اشک اپنی پلکوں سے چُن کر میں

مالا پروتا

اسے نذر کرتا

لباس اپنے خوش رنگ ارمانوں کے

سب کے سب اس کو دیتا

مہکتے ہوئے پھول جذبوں سے اپنے

ہزاروں طرح کے میں گہنے بناتا

دلہن کی طرح پھر میں اس کو سجاتا

چبھوتا کوئی تیز تر درد ، دل میں

لہو سے پھر اپنے میں

مانگ اس کی بھرتا

دل و جان اس پر نچھاور میں کرتا

ثنا اس کی کرتا میں شعروں میں اپنے

مٹا دیتا خود کو ، امر اس کو کرتا

اگر وہ محبت کا اقرار کرتی

Share this post


Link to post
Share on other sites

تو پھر کیا سوچا تم نے؟

یوں ہی خود کو روکے

وقت کی سرحد پہ کھڑے رہنا ہے؟

تم نے سچ کہا

وقت کے صحرا میں

شام پڑ جائے تو

سحر یوں روٹھ جاتی ہے

جس طرح اپنے مصاحبوں کی ذرا سی لغزش پر

کبھی شہنشاہ روٹھ جاتے تھے

تم نے سچ کہا

وقت کی مسافت ختم نہیں ہوتی

یہ وہ صحرا ہے جس کی گرد

اپنے دامن سے جھاڑتے عمر کم پڑنے لگتی ہے

دامن سے لپٹے ہوئے سب خواب

ریت بننے لگتے ہیں

پائے امکاں جلنے لگتے ہیں

مگر ایسے میں

اے میرے ہم نفس

قدم روک لینے سے فائدہ کیا ہے

دوسرا اور کوئی راستہ کیا ہے

زندہ رہنے کا خراج ہر کسی کو بھرنا ہے

یہ فاصلہ

اپنے اندر تو بہرحال طے کرنا ہے

تو پھر اے ہمسفر

ہوا کے دوش پہ رقّم

نئی پرواز کرتے ہیں

وقت کے صحرا میں سفر آغاز کرتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں ، فرض کرو دیوانے ہوں

فرض کرو یہ دونوں باتیں جُهوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بِپتا ، جی سے جوڑ سنائی ہو

فرض کرو ابهی اور ہو اتنی، آدهی ہم نے چهپائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈهونڈے ہم نے بہانے ہوں

فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مئے خانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جُهوٹا، جُهوٹی پِیت ہماری ہو

فرض کرو اس پِیت کے روگ میں سانس بهی ہم پر بهاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈهونگ رچایا ہو

فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو

دیکھ میری جاں، کہہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے ہُو

بستی بستی صحرا صحرا، لاکهوں کریں دوانے ہو

جوگی بهی جو نگر نگر میں مارے مارے پهرتے ہیں

کاسہ لئے بهبوت رمائے سب کے دوارے پهرتے ہیں

شاعر بهی جو میٹهی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں

بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

ان میں سچے موتی بهی ہیں، ان میں کنکر پتهر بهی

ان میں اتهلے پانی بهی ہیں، ان میں گہرے ساگر بهی

گوری دیکھ کے آگے بڑهنا، سب کا جهوٹا سچا ، ہو

ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گهڑا تها جس کا کچہ، ہو

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×