Jump to content
URDU FUN CLUB
Horny Jasmin

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

Recommended Posts

مجھے حادثوں نے سجا سجا کے بہت حسیں بنا دیا

مرا دل بھی جیسے دلہن کا ہاتھ ہو، مہندیوں سے رچا ہوا

وہی شہر ہے،وہی راستے،وہی گھر ہے اور وہی لان بھی

مگر اس دریچے سے پوچھنا، وہ درخت انار کا کیا ہوا؟

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ohh maar dala zalim

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_biggrin.png" alt=":D" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/biggrin@2x.png 2x" width="20" height="20" /> kia kehny ha

Share this post


Link to post
Share on other sites

آداب آپ کو بھول جائیں ہم ، اتنے تو بےوفا نہیں

آپ سے کیا گلہ کریں آپ سے کچھ گلہ نہیں

شیشہِ دل کو توڑنا اُن کا تو ایک کھیل ہے

ہم سے ہی بھول ہوگئی اُن کی کوئی خطا نہیں

کاش وہ اپنے غم مجھے دے دے تو کچھ سکون ملے

وہ کتنا بدنصیب ہے غم ہی جسے ملا نہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

*اے محبت !

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے ہم سے دانا

جو کمالات کیا کرتے تھے

خشک مٹی کو امارات کیا کرتے تھے

اے محبت!

یہ تیرا بخت

کہ بن مول ملے ہم سے انمول

جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے

ہم سے منہ زور

جو بھونچال اُٹھا رکھتے تھے

اے محبت میری!

ہم تیرے مجرم ٹھہرے ،

ہم جیسے جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے

ہم جو سو باتوں کی ایک بات کیا کرتے تھے

تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک

ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے

ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے

اور !

اب تیری سخاوت کے گھنےسائے میں

خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے

جتنے الزام تھے

مقسوم ہمارا ٹھہرے

اے محبت !

ذرا انداز بدل لے اپنا

تجھہ کو آئندہ بھی عاشقوں کا خون پینا ہے

ہم تو مر جائیں گے ، تجھ کو مگر جینا ہے

اے محبت !

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے ہم سے انمول

ہم سے دانا۔۔۔۔۔

اے محبت!

Share this post


Link to post
Share on other sites

سورج کے بہتے خوں سے گلنار ہو گئے ہیں

وہ دھوپ کی صراحی ٹوٹی ہوئی پڑی ہے

پھر شام کی سیاہی دہلیز پر کھڑی ہے

کیا رات ہو گئی ہے

ڈرتے تھے جس سے سارے

وہ بات ہو گئی ہے

مہجور وادیوں میں

متروک راستوں پر

گمنام جنگلوں میں

روتی ہوئی شعاعیں اک خواب بُن رہی ہیں

ظلمت کی د استاں کا اک باب سن رہی ہیں

تیری تلاش میں پھر نکلیں گے چاند تارے

مجھ سے نہ جانے کتنے پھرتے ہیں مارے مارے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہم تو کل بھی کہتے تھے

اپنے عکس کی کالک

دُھل سکے تو دھو ڈالو

...عکس کی صباحت کو

’’ برص ‘‘ چاٹ لیتا ہے

ہم تو کل بھی کہتے تھے

اپنی ٹیڑھی آنکھوں کے

تِرچھے زاویے بدلو

زاویے جو تِرچھے ہوں

مستقیم راہوں کا

کب سُراغ ملتا ہے؟

آئینے کی عظمت سے

اب حقارتیں کیسی؟

عکس سے گُریزاں ہیں

اب بصارتیں کیسی؟

اپنے آپ سے کب تک؟

یوں نظر چراؤ گے

آئینہ جو توڑو گے

خود بھی ٹوٹ جاؤ گے

Share this post


Link to post
Share on other sites

میری موت ہے میری ہمسفر، میری زندگی بھی عجیب ہے

میرے چاروں طرف ہے جلوہ گر، تیری بے رُخی بھی عجیب ہے

میرا درد ہے لبِ آشنا، تیری رنجشوں کے عذاب سے

میرے شعر ہیں میرے چارہ گر، میری دل لگی بھی عجیب ہے

جو ہیں طعنہ زن میری ذات پر، مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں

مجھے جان سے وہ عزیز تر، میری دوستی بھی عجیب ہے

میں لہو جگر سے گداز کر، تجھے نقش کرتا ہوں ورق ورق

ہے قلم کی نوک سے مختصر، تیری آگہی بھی عجیب ہے

میں پہر کی تپتی ہواؤں سے، کڑی دھوپ میں کھڑا بے خبر

سرِ راہ گزر تیرا منتظر، میری بے بسی بھی عجیب ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

ایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں

میں تیرے سامنے انبار لگا دوں لیکن

کون سے رنگ کا پتھر تیرے کام آئے گا

سُرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیا

یا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھر

جس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورے

کیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہو گی

جس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہے

اِک وہ پتھر ہے جسے کہتے ہیں تہذیبِ سفید

اس کے مر مر میں سیہ خون جھلک جاتا ہے

ایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگر

ہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہے

جتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں

جتنے افکار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیں

شعر بھی رقص بھی تصویر و غنا بھی پتھر

میرا الہام تیرا ذہن رسا بھی پتھر

اس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہے

ہاتھ پتھر ہیں تیرے میری زباں پتھر ہے

ریت سے بت نہ بنا اے میرے اچھے فنکار

Share this post


Link to post
Share on other sites

نئی کونپل علامت زندگی کی....

نیا دن ھے عجب تحفہ خدا کا....

نیا سورج جواں ھونے سے پھلے...

علامت ھے اثر جیسے دعا کا....

نئی صبح کی شوخی اور سرخی...

ھو جیسے عکس سا اک دلربا کا...

سال نو نے اک امید بھر دی...

دلوں میں بھر دیا اک حوصلہ سا...

گزشتہ سال تھا طوفان میں ڈوبی...

اندھیری رات میں اک قمقمہ سا....

طلسم بڑھ رھا ھے صبح نو کا..

رھے سایہ محمد مصطفی کا...

Share this post


Link to post
Share on other sites

مجھے اپنے ضبط پے ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا ہوا

میری آنکھ کیسے چھلک گئی یہ دکھ ہے کہ بُرا ہوا

میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں

ابھی تیرگی ہے ابھی روشنی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہو ا

مجھے کیوں نہ سمجھ سکے یہ اپنے دل سے ہی پوچھیے

میری داستانِ حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا

مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی پختہ کارِ جفا ملا

نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا وار خطا ہوا

مجھے راستے میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا

کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسؤوں سے مٹا ہوا

جو نظر بچا کے گذر گئے میرے سامنے سے ابھی ابھی

یہ میرے شہر کے لوگ ہیں میرےگھر سےگھر ہے مِلا ہوا

مجھے ہمسفر بھی ملا تو ستم طریف میری طرح

کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں کا لُٹا ہوا

میرے اِک گوشہ فِکر میں میری زندگی سے عزیز تر

میرا اک ایسا بھی دوست ہے جو مِلا کبھی نہ جدا ہوا

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×