Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
zainkan

اے وطن کے سجیلے جوانو

Recommended Posts

Please login or register to see this link.

Please login or register to see this link.

فوج کے بارے میں جب بھی کوئی سنتا، پڑھتا، لکھتا یا بولتا ہے تو دو چار لطیفے ہیں جوذہن میں گھوم جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھلے لوگ کہتے ہیں کہ “فوجیوں کے دو ہی اصول ہیں: پہلا یہ کہ جو شے ساکن ہو اس پر چونا پھیر دو جبکہ جو متحرک دکھے اسے سیلوٹ ٹھوک دو۔”

اہل زبان سے معافی ان الفاظ کے لئے، کہ یہ الفاظ کچھ اتنے اچھے نہیں ہیں، جیسے چونا “پھیر” دینا اور سیلوٹ “ٹھوک” دینا، لیکن کیا کیجیے لطیفے کا اصل لطف یہی ہیں۔

نچلی رینک کے سپاہیوں کو ملاحظہ کیجیے، وہ سویرے تڑکے کے بیچ اٹھتے ہیں اور “ڈرل” کے لیے بھاگم بھاگ شروع کر دیتے ہیں۔ ناشتے میں نہ جانے کیا کھاتے ہوں گے لیکن بعد میں انھیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ منہ کی ایسے کہ ڈرل سے چھوٹے تو پریڈ اور پھر ایسی دوسری مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی ان کا “اصل” کام شروع ہوتا ہے۔ حکم ملتا ہے، آپ گڑھے کھودیے، گڑھے کی تہہ پر چونا ڈال کر پھر بھر دیجیے۔ گملوں پر چونا پھیریے۔ ٹرکوں، جیپوں وغیرہ کے ٹائروں کو چمکا کر ایک بار پھر چونا پھیر دیں۔ درختوں کے تنوں کو ناپ کے حساب سے ٹھیک تین فٹ اونچائی تک گولائی میں چونا پھیرتے جائیے۔ سڑکوں، راستوں اور پگڈنڈیوں کے دونوں کناروں پر چونا ایسے پھیریے کہ ان پر پھرنے والا یہ سمجھے وہ ناک کی “سیدھ” میں پھر رہا ہے۔

اس کے علاوہ جہاں آپ کو اس روز کے لیے تعینات کیا گیا ہے، وہاں بت بن کر کھڑے رہیے اور جب بھی کوئی پاس سے گذرے، چٹاخ سے سیلوٹ “ٹھوک” دیں۔ سیلوٹ ایسی ہونی چاہیے کہ آپ کا ہاتھ، آپ کا ماتھا ٹھونکے اور بوٹوں کی دھمک گذرنے والے کا دماغ شل کر جائے ۔ آپ کی بندوق فوجی افسر کو یاد دلائے کہ وہ “فرعون” ہے اور عام شخص کو یہ بندوق ایسے ڈرائے کہ جیسے موت۔ سیلوٹ کا نتیجہ کچھ ایسے برآمد ہونا چاہیے کہ گذرنے والا اپنے دفتر اور کام تک پہنچتے پہچنتے کسی سدھ بدھ کا نہ رہے۔ میری ناقص رائے میں اکثر فوجی افسران کے دماغ کا سوچنے اور پھر درست انداز میں کام کرنے سے عاری ہونے کا یہی سبب ہے۔ بس ایسی ہی کچھ اور مصروفیات کے بعد یہ نچلی رینک کے اصحاب سوچتے ہوں گے کہ انھیں دن بھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ بھلا یہ کیسا دن تھا، امید ہے ان میں سے اکثر اپنی ان بیوقوفیوں پر ہنستے بھی ہوں۔

فوجی افسران بھی ایسا ہی کرتے ہیں لیکن ان کا حال تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ وہ سوچنے کے قابل تو تب ہی نہیں رہتے جب ایبٹ آباد کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب صبح صبح آٹھ دس چوندی چوندی سیلوٹوں کی دھمک ان کے دماغ تک پہنچتی ہے۔ اس کے بعد وہ جو بھی کرتے ہیں اپنے کام اور قوم کو چونا پھیرنے اورباقیوں کا دماغ ٹھوکنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ سمجھنے کے لیے کوئی بھی اچھی سی غیرجانبدار تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیجیے۔

مجھے شرمندگی ہے کہ اس لطیفے سے کئی دوستوں کی دل آزاری ہوئی ہو گی۔ مجھے اس کا بھی دکھ ہے کہ یہ حقیقت ہے اور مجھے سب سے زیادہ افسوس فوجیوں کے اس رویے کا اس دن ہوا تھا جب زلزلے کے تیسرے دن معمولی بات پر تو تو میں میں ہوئی اور ایک لیفٹینیٹ نے کرنل کو مخاطب کیا اور میرے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہو کہا، “سر! اس کو اتنی تمیز نہیں کہ ایک فوجی افسر سے کیسے بات کی جاتی ہے؟” کرنل نے گردن کا سریا گھمایا تھا اور میرے بھائی نے ترکی بہ ترکی جواب دیا، “کرنل صاحب ! آپ کے جوانوں کو اتنی تمیز نہیں کہ سویلین سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”۔ یہ واقعہ ایک خلا کو ظاہر کرتا ہے، یہ اس دیوار کو ظاہر کرتا ہے جو ہم کیڑے مکوڑے “سویلین” اور سیاست کے جرنیلوں نے اپنے فرعون “جوانوں” کے بیچ کھینچ رکھی ہے۔

جتنا افسوس مجھے تب ہوا تھا اس سے بڑھ کر مجھے خوشی کل ہوئی ہے۔ ایبٹ آباد کے فوجی ہسپتال میں فوجی جوانوں اور فوجی میڈیکل سٹاف کا رویہ نہایت قابل تحسین تھا۔ وہ نہایت مہذب انداز میں پیش آتے ہیں اور آپ کو حتی المکان سہولت فراہم کرتے ہیں اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ اسی معاملے میں ایسا رویہ عوامی ہسپتالوں میں ناپید ہے۔ عوامی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا اکثریت رویہ درست ہوتا ہے لیکن باقی کے لوگ جیسے ڈسپنسر، نرسیں، قاصدین، خاکروب اور سیکورٹی کے افراد کچھ ایسا قابل تعریف رویہ روا نہیں رکھتے۔

سیاست کے جرنیل اور بندوق کی نال میں بندھے فوجی جوان بھی انسان ہیں، وہ بھی سوچتے ہیں لیکن کیا سوچتے ہیں؟ اس کا ثبوت ہماری تاریخ ہے۔ ہمارے اداروں کی دیواریں پھلانگتے فوجیوں کی وثق میں موجود تصاویر ہیں اور ایوان اقتدار میں بیٹھے رہے فرعون ہیں۔ ویسے ہمارے “سویلین” حکمران بھی کسی سے کم نہیں اور بس ایسے سمجھیے کہ اسی موقع پر بالا سطور میں بیان کیا گیا لطیفہ المیہ بن جاتا ہے جب میں سیاستدانوں کے قافلوں میں آگے پیچھے بندوق والوں کو دیکھتا ہوں۔ ان بندوقوں کی نالوں اور گاڑیوں کے ہوٹروں نے سیاستدانوں کے دماغوں کو بھی ایسے ہی بند کر رکھا ہے جیسے فوجی بوٹوں کی دھمک اور چونا پھیرنے کی عادت نے سیاست کے جرنیلوں کے دماغوں کا تیاپانچہ کر چھوڑا ہے۔

جاتے جاتے ایک اور لطیفہ بھی سنتے جائیے”دنیا کے تقریبا تمام ممالک کو فوج دستیاب ہوتی ہے۔ پاکستان کا حساب دوسرا ہے، یہاں کی فوج کو ایک ملک دستیاب ہے!”

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×