Jump to content
URDU FUN CLUB
Guru Samrat

کوا چلا ہنس کی چال

Recommended Posts

"اچھا میری بات غور سے سنو"۔ عامر اپنی نئی نویلی دلہن ایمن کو "سمجھاتے ہوئے بولا!
"تمھیں آج سے بہت سے نئے سبق سیکھنا ہوں گے۔ یہاں جاب پر لوگ تمھاری خوبصورتی کی تعریف کریں گے تو برا مان کر چانٹا مت مار دینا اور نہ ہی بدلے میں یہ کہنے لگ جانا پلیزکہ " گھر میں تمھاری ماں بہنیں نہیں ہیں کیا وغیرہ وغیرہ " ۔
وہ ایمن کو بہت رسان سے نئے ملک میں رہنے کے طریقے سمجھا رہا تھا۔
"دیکھو یہ امریکہ ہے اور یہاں کا سسٹم بالکل الٹ ہے پاکستان سے، یہاں بات بات میں دوسرے کی تعریف کرنےکا بہت رواج ہے ۔اس تعریف میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی نہ ہی تمھاری تعریف کرنے والے کا مطلب تم سے کوئی فلرٹ کرنا ہو گا ، بس یہ لوگ یوں ہی ہر خوبصورت چیز کی تعریف کر دیتے ہیں اور چونکہ تم بہت خوبصورت ہو تو پہلے سے اسکے لئے ذہنی طور پر تیار رہو۔ تمھیں جواب میں مسکرا کر صرف سب کو شکریہ کہنا ہے اور کچھ نہیں ۔ اگر اس ملک میں سروائیو کرنا چاہتی ہو تو تمھیں اپنے آپ کو بہت بدلنا پڑے گا اور یہی تمام امریکی مینرز تمھیں فوراً سیکھنے ہونگے" ۔

وہ ذرا سا سانس لینے کو رکا اور اسے پیار سے دیکھتے ہوئے دوبارہ گویا ہوا۔

"مجھے دبو قسم کی جی حضوری کرنے والی لڑکیاں بالکل پسند نہیں۔۔ میں چاہتا ہوں مجھے تم پر اور تمھارے اپنی ذات پر اعتماد سے فخر محسوس ہو اور سب لوگ میری بیوی کی تعریف کریں۔ ویسے بھی اصل اہمیت تو یہاں صرف تمھارے کام کی ہی ہو نے والی ہے ، تمھاری صورت کی نہیں کیونکہ وہ سب ثانوی باتیں ہیں تو گیند تمھارے کورٹ میں ہے اب اور دیکھنا یہ ہے کہ تم کونسے کونسے نئے سبق کتنی جلدی سیکھتی ہو"۔


٭٭٭٭٭٭٭٭

عامر ایک اینٹرنیشل کمپنی میں کام کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ عورت صلاحتیوں میں مرد کے برابر ہے اور اِسے اسکے اظہار کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے، اسی لئے وہ کھبی بھی کسی بھی موقعے پر خود کو بہت جدت پسند کہلوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا اور خود اپنی بیوی پر بے جا پابندیوں کا قائل بھی ہرگز نہیں تھا۔



آج وہ اپنی بیوی کو اپنے آفس میں کام کرنے کے طریقے بتا رہا جسے وہ اپنے آفس میں خالی ہونے والی ویکینسی کے انٹرویو کے لئے لایا تھا اور اتفاق سے وہ فوراً ہی اسکے آفس میں اسی دن اپائینٹ بھی کر لی گء تھی گو کہ ان دونوں کا ڈیپارٹمنٹ الگ الگ تھا مگر انکے آفس ساتھ ساتھ تھے اور بیچ میں شیشے کی دیواریں تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو سن تو نہیں سکتے تھے مگر سارا دن اشاروں کی زبان اور چہرے کے اتار چڑھاؤ کی مدد سے ایک دوسرے کی حالت سے باخبر رہا کرتے تھے
٭٭٭٭٭٭٭٭
شروع شروع میں ایمن کو بہت مشکل ہو رہی تھی کیونکہ وہ پاکستان میں ایک قدامت پسند فیملی سے تعلق رکھتی تھی مگر اسکو زندگی بھر یہی بتایا گیا تھا کہ اسے ایک مشرقی بیوی کی طرح آنکھیں بند کر کے صرف اپنے شوہر کا کہا ماننا ہے۔ ایمن خود کو اس نئے معاشرے میں ڈھالنے کے لئے اور اپنے شوہر کی خوشی کی خاطر یہ سب نا پسندیدہ کام بھی کرتی جا رہی تھی اور تیزی سے خود کو اسی جدید طرز زندگی کا عادی بنا رہی تھی ۔
آفس میں کوئی بھی مرد یا عورت ایسا نہ تھا جس نے ایمن کی حسن اور ذہانت کی تعریف نا کی ہو اور سب لوگ بار بار عامر کو بہت خوش قسمت بھی کہتے جسکی بیوی نہ صرف بہت ذہین و فطین اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوش اخلاق تھی بلکہ بچوں کی طرح جاب پر عامر کا خیال بھی رکھتی تھی۔ کبھی اسکے لئے کام کے دوران کچن سے چائے بنا کر لا دیتی اور کبھی لنچ گرم کر کے ٹرے میں رکھ کر اسکے آفس میں رکھ آتی ۔ سب لوگ عامر کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایمن تمھاری بیوی سے ذیادہ تمھاری بےبی سٹیر لگتی ہے۔ کتنے لکی ہو تم! کاش ہم کو و بھی ایسی بیوی مل سکتی لائف میں مگر امریکن کلچر میں یہ تو ناممکن ہے۔

عامر یہ سب سن کر خوشی سے پھولے نا سماتا اور بہت غرور سے اپنی پیاری بیوی کو دیکھتا جو اسکی پسند تھی اور کتنی قربانیاں دینے کے بعد اسکو ملی تھی۔ پورے خاندان کو ناراض کرنے کے بعد کہیں اسکو پا سکا تھا۔ اب وہ ڈھیروں خوشیاں ایمن کی گود میں بھر دینا چاہتا تھا اور پہلا ثبوت یہی تھا کہ اس نے ایمن کو اپنے آفس میں بالکل اپنی برابری کی سطح پرلا بٹھایا تھا اور اب پورے عالم میں ایمن کی شکل میں اسکی پسند کا ڈنکا بج رہا تھا اس لئے اسکا فخر کرنا اتنا بےجا بھی نہیں تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
عامر نے ایمن کی وارڈروب امریکن کپڑوں سے بھر دی اور صبح شام اسے امریکن لہجے میں انگلش بولنا سیکھا رہا تھا۔ کھبی تو خود اسکو لڑکیوں والے کپڑے پہن کر اٹھنا بیٹھنا اور چلنا سیکھاتا اور کھبی کسی ماڈل کی طرح فائلیں پکڑے امریکن لہجے میں انگلش بول بول کر آداب گفتگو سمجھانے کی کوشش کرتا۔

کھبی ایمن سنجیدگی سے عامر کو سنتی اور کھبی اسکی ایسی حرکتوں پر ہنستے ہنستےلوٹ پوٹ ہو جاتی۔ ایک دن ایسے ہی صبح صبح جب ان دونوں کے علاوہ آفس میں ابھی کوئی بھی نہیں آیا تھا اور موقع سے فائدہ اٹھا کر وہ اسکو ایکہ ہاتھ میں فائل پکڑے اور دوسرے میں کافی کے کپ میں پانی بھر کے اس کپ کو بڑی ادا سے پکڑے آہستگی سے چلتے ہوئے ارد گرد بیٹھے لوگوں کو مسکرا مسکرا کر گڈ مارننگ کہنا سیکھا رہا تھا کہ جذبات میں بظاہر سامنے نظر نا آنے والی شیشے کی دیوار کو خالی جگہ سمجھ کر دھم سے ٹکرا گیا اور کافی کے کپ والا سارا پانی بھی اسکے کپڑوں پر گر گیا اور خود بھی چاروں شانے چت ہو گیا۔

ایمن کو پہلے تو سمجھ نا آیا کہ اس بات پر ہنسے یا جا کر اسکو اٹھائے ۔ پہلے تو وہ جی بھر کے ہنستی رہی اور پھر جب عامر کی تکلیف کا احساس ہوا تو اسکو اٹھانےکے لئے بھاگی اور جب نیچے جھکی تو اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔
"عامر ! یہ مت بھول جانا کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہیں گے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسے ملک کے کپڑے پہنیں اور کونسے لہجے میں انگلش بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔"۔


جاری ہے

Edited by Administrator

Share this post


Link to post
Share on other sites

بہت خوب گرو سمراٹ جی بہت خوب!۔

ایک اچھے موضوع پر کہانی لکھی گئی ہے۔

جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

ایسی ہی اچھی اچھی اور چھوٹی چھوٹی مناسب کہانیاں پوسٹ کرتے رہا کریں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

Dears Mujhy afsoos hai k app main se koi kahani ko samjh nahin saka

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_sad.png" alt=":(" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/sad@2x.png 2x" width="20" height="20" /> kahani to abhi start main hai

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_tongue.png" alt=":P" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/tongue@2x.png 2x" width="20" height="20" /> agy agy dekhin hota hai kia

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_tongue.png" alt=":P" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/tongue@2x.png 2x" width="20" height="20" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

دن تیزی سے پر لگا کر اڑنے لگے۔ اب تو ایسا لگتا تھا جیسے عامر کہیں پس پشت چلا گیا ہے۔ دور بہت دور کہیں پیچھے رہ گیا ہے، پورے آفس میں ایمن کی ذہانت اور خوبصورتی کا سکہ چلنے لگا تھا ۔ وہ صرف اپنی من موہنی صورت سے ہی نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور انتہائی محنتی ہونے کی وجہ سے بہت جلدی ترقی کی منزلیں طے کر تے کرتے جب ایک سال بعد ہی عامر کی باس کے عہدے پر فائز ہوئی تو پہلی دفعہ جیسے عامر کے اندر ایک چھناکہ سا ہوا اور اسکی انا اور خود داری کا بت جیسے تڑاخ سے ٹوٹ گیا۔
بجائے خوش ہونے کے وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا، وہ یہ بات برداشت نہیں کر سکتا تھا جسکو ہاتھ پکڑ کر قدم قدم چلنا سیکھایا تھا وہی اسکی بیوی جو گھر میں اسکے جوتے پالش کرتی تھی اسکے کپڑے دھوتی تھی اور اکثر اسکے پیروں سے موزے بھی اتارتی تھی-------۔اب وہی بیوی آفس میں باس بن کر اس کو بتانے والی تھی کہ تمہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں اور کونسا کام کس طرح سے کرنا ہے۔

_______ پیتھیٹیک---------- وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور ناراضگی کے اظہار کے طور پر زور سے ایک مکہ میز پر مارا اور دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بات عامر کی برداشت سے باہر تھی اور وہ کسی بھی طرح خود کو اسکے لئے تیار نہیں کر پا رہا تھا۔ عامر کو ایسا لگتا تھا جیسے پہلے اسکی مردانگی کالے ناگ کے پھن کی طرح بڑے غرور سے پھیلی ہوئی تھی اور وہ خود ایمن جیسی مستانی بین پر مست ہو ہو کر پھنکارا کرتا تھا مگر اب ہر لمحے جیسے وہی مستانی بین ایک بھیانک جوتے کی نوک میں بدل گئی تھی جو ہر گھڑی اس مردانہ پھن کو اپنے اعتماد کے زنانہ بوجھ تلے کچلتی جا رہی تھی ۔ ایمن کا وہی اعتماد جو کھبی اسکے شوہر کی پہلی آرزو ہوتا تھا اب اس کے شوہر پر بار ناتواں بن چکا تھا۔
عامر جتنی بار بھی سوچتا اتنی بار تیز درد کی ایک لہر جیسے دل میں اٹھتی اور ہر بار وآپس جاتے ہوئے ایمن کے لئے اسکے دل میں موجود پرانے پیار کا کچھ حصہ اپنے ساتھ بہا لے جاتی تھی اور اسکے بدلے میں کچھ شکوک و شبہات نفرت اور بےزاری کا جھاڑ جھنکار محبت کے ساحل پر چھوڑ جاتی تھی۔
یہ اذیت ناک عمل دن میں کء بار دہرایا جاتا ۔ وہ جب بھی اپنی تمام تر بچی کھچی ہمت جمع کر کےاپنی انا کے اس پھن کو لہرانے کی کوشش کرتا تو بدلے میں ایسا لگتا جیسے ایمن کی طرف سے ہر بار پہلے سے بھی زیادہ بے دردی سے اس پھن کو اپنے جوتے کی نوک تلے کچلنے کا عمل دہرایا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اب تو عامر کی پرغرور پھنکاریں بھی جیسے کراہوں میں بدلنے لگی تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

گرو جی! آپ کا انویٹیشن ملا تھا تھریڈ وزٹ کرنے کا تو ہم نے سوچا کہ کہانی ختم ہوگئی ہے اور آپ کو کمنٹس کا انتظار ہے۔ لہٰذہ ہم نے آنکھ بند کر کے کمنٹس کر دیے لیکن ہاں آنکھیں ہم نے پوری پوسٹ پڑھنے کے بعد ہی بند کی تھیں (ہی ہی ہی ہی) اور اب آپ نے مزید اس کو آگے جاری رکھا ہے اب یہ سمجھ میں نہیں آرہاکہ کیا لکھوں؟ تعریف تو پہلے ہی کر چکے ہیں اور رہی بات یہ کہ اب یہ کہانی ختم اگر ہو گئی ہے تو نیچے ختم شد کا اضافہ فرما دیں نہیں تو پوسٹ کے آخر میں جاری ہے ضرور لکھا کریں۔ امید ہے آپ برا نہیں منائیں گے۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

Dear Guru g ap ne bhi to ''Jaari ha '' Nahi Likha na and hum ne to Jitni post hoi ha us k mutabiq jo Sabaq nazer aaya us per baat ki ha ab daikhty han aagy kia hota ha

Share this post


Link to post
Share on other sites

Guru G Buhat Nice Janb Ap Ne Aik Ache Topic Par Aik Achi Kahani Likhi Hai Nice Janb..

Thats Reallity Ke Hum Apna Asal Nahi Chupa Sakty Chay Kitny Bhi advance Kyu Na Ho Jain...

Thanks For Really Nice Story ...

Waiting For Updates ..

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

thanks dear main khyal rahon ga magar app jesa great writer agr ye na jaan sake k kahani abhi baqi hai ya ...........baat kuch sajmjh nahin aai:((

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_emo_cry.gif" alt=":((" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

ڈئیر گرو جی! اجی ہم کہاں کے گریٹ رائٹر!؟؟؟؟؟؟؟

اب آپ ہم کو اتنا سمجھتے ہیں تو یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے ورنہ بندہ کیا چیز ہے؟

ہاں جی تو اب چونکہ کہانی ایسے موڑ پر آکر ختم ہوگئی ہے جہاں پورا پورا احتمال ہے کہ کہانی واقعی ختم ہو گئی ہے گو کہ آپ نے (ختم شد) لکھا تو نہیں لیکن پیرائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی اب ختم ہو گئی ہے اور عامر کو اچھا خاصہ سبق بھی مل گیا ہے اپنی بیوی کو نئے رنگ میں ڈھالنے کا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس کہانی کو آپ اپنے تئیں آگے بڑھاتے ہیں یا اس کو یہیں پر دی اینڈ کا بورڈ لگا دیتے ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Story Ka Aaghaz Bohat Acha Interesting Lag Raha Hai, Dekhte Hain Aage Kya Hota Hai :)

Waise Agar Woh Wife Ko Really Apne Baraber Ka Samjhta Tha To Office Main Wife Ki Better Position Se Use Upset Nahi Hona Chahye Tha

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_tongue.png" alt=":P" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/tongue@2x.png 2x" width="20" height="20" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

Achhi Kahani Hai Guru,

Aamir bechaare ne to apni biwi k liye bohat mehnat ki hai Lykin aakhir kaar Aamir bhi to ek Mard hi hai na, Bechara kaise bardasht kar le ke Uski hi biwi Uski Boss ban jaai, Lykin Jab Kawwa Hans ki Chaal Chalta hai aur apni Chaal ko bhi Bhool jaai to Aisa hi hota hai.....

Nice Story Guru

Waiting for Updates

Share this post


Link to post
Share on other sites

tammam doston ka bohat bohat shukriya .......:) update hazir hai

Please login or register to see this image.

/emoticons/default_tongue.png" alt=":P" srcset="https://urdufunclub.win/uploads/emoticons/tongue@2x.png 2x" width="20" height="20" />

Share this post


Link to post
Share on other sites

وہ گھر میں بات بات پر اپنی بیوی کو جھاڑ پلا کر مردانگی کی دھوم مچانے والا مرد آفس میں اپنی بیوی کے سامنے سر جھکا کر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس حالت نے انکے درمیان ایک اجنبیت کی دیوار سی کھڑی کر دی تھی۔ سارا پیار جیسے کہیں جا سویا تھا یا پھر کسی ویرانے میں منہ چھپا کر پڑا اپنی بد نصیبی پر ماتم کناں تھا۔ عامر نے بہت خیال رکھنے والے شوہر کی بجائے اب ایک خطرناک دل جلی ساس کا روپ دھار لیا تھا اور ہر وقت اپنی بیوی کو طعنوں کی زد میں رکھ لیا تھا۔
ان دونوں کے درمیان ایک شدید سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایمن سب دیکھ رہی تھی سب سمجھ رہی تھی مگر اس معاملے کو سلجھانے میں بری طرح ناکام ہو رہی تھی۔ اس نے بار بار عامر کو اپنی محبت کا یقین دلانے اور خود کو جان بوجھ کر ہر بات میں عامر سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔

اس باس کی پوسٹ کو بھی محض ایک اتفاق کہ کر اسکا دل صاف کرنا چاہا بلکہ اب تو وہ پہلے سے بھی ذیادہ عامر کا خیال رکھتی تاکہ عامر کو ایسا کچھ محسوس نہ ہو مگر افسوس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عامر قدرت کی اس ستم ظریفی کو سہ نہیں پا رہا تھا وہ بار بار خود کو ہی مورد الزام ٹھہراتا کہ جسکی غلط لائف پلانینگ نے یہ دن دیکھائے تھے۔ نا وہ ہنس کی چال چلنے کی کوشش کرتا اور نا ہی وہ اپنی بیوی سے جاب کرواتا تو یہ سب بھی نا ہوا ہوتا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ بہت دیر ہو چکی تھی۔
اگر وہ زبردستی کسی بھی اور بہانے سے اب ایمن کی جاب چھڑوا بھی دیتا تو بھی وہ زندگی بھر ایمن کے سامنے اسکا سر جھکا ہی رہتا کیونکہ وہ اپنی اپنی جگہ وہ دونوں ہی جاب نا کروانے کی اصل وجہ سے تو خوب واقف تھے ۔ وہ انا گزیدہ ہر وقت ادھر ادھر تڑپتا پھرتا تھا اورکسی پل بھی چین نہیں پاتا تھا ۔
ایمن کی مصالحت کی ساری کوششیں جب بےکار جانے لگیں تو اس نے بھی جیسے ہمت ہار دی اور ہر وقت کا طنز سہتے سہتے خود کو واقعی عامر کے مقابلے پر سچ مچ لے آئی اور وہ بہت چڑ کر وہ سب کچھ بے فکری سے کرنے لگی جسے دیکھ دیکھ کر عامر کے تن بدن میں مزید آگ بھر جاتی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
ایمن کو کمپیوٹر میں کام کرتے کرتے اچانک اپنے پیچھے ایک سایہ سا نظر آیا تو ڈر کر زور سے چیخ مار کر اچھلی تو جِم بے اختیار قہقہے لگانے لگا۔ جِم اسکا نیا باس تھا بہت ہینڈسم اور بہت جولی سا تھا۔ جہاں بیٹھتا ہنسا ہنسا کر سب کی آنکھوں میں پانی لے آتا ابھی اسے آفس جوائن کئے پندرہ دن بھی نہیں ہوئے تھے مگر آفس میں جیسے اسکے ہونے کا احساس خوشی اور ہنسی بن کر ہر کونے میں پھیلا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اور ان پندرہ دنوں میں جم نے کم سے کم ایک سو دوست بنا لئے تھے اور پچاس بار ایمن کے حسن کی نہ صرف بہت بےباک تعریف کی تھی بلکہ کء بار اپنے ساتھ لنچ پر بھی انوائیٹ کر چکا تھا۔ ہر بار ایمن نے اس سے معذرت کر لی کہ اسکا کلچر اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور ویسے بھی وہ اپنے ہیسبینڈ کے علاوہ کسی اور کے ساتھ باہر نہیں جایا کرتی۔

یہ سن کر جم برا سا منہ بناتا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا وآپس چلا جاتا مگر ہر آدھے گھنٹے بعد پھر کسی نا کسی بہانے اسکے آفس میں آ دھمکتا اور کہتا
" تم کس قدر خوبصورت ہو مجھے انڈین بیوٹی بہت انسپائیر کرتی ھے۔ کاش کہ تم شادی شدہ نا ہوتیں تو میں ابھی اسی وقت تمھیں اغوا کر کے تم سے شادی کر لیتا"
یہ سن کر وہ غٍصےٍسے لال ہو جاتی اور کہتی پہلی تو بات یہ کہ میں انڈین نہیں بلکہ پاکستانی ہوں ، کتنی بار تم کو یہ بات بتاؤں تم لوگ کیوں اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو اور دوسری بات کہ تم اپنے آفس میں جاؤ۔ مجھ سے ایسی فضول باتیں مت کرو کیونکہ میں بہت ہیپیلی میریڈ ہوں اور ہمارے کلچر میں کسی سے بھی ایسی باتیں نہیں کی جا سکتیں۔
ہوں! ہیپیلی میریڈ؟
وہ طنزیہ ہنکارا بھرتا۔۔۔ وہ بھی اس سڑیل کوے کے ساتھ؟ وہ ایک آنکھ بند کر کے عامر کی طرف اشارہ کرتا۔۔۔۔۔
"تم جیسی بیوٹی کوئین کا اس کوے کے ساتھ ہونا ایک ظلم ہے اس پر بھی اور تم پر بھی۔۔۔۔۔۔ اسکو چھوڑ کر مجھ سے شادی کر لو پلیز۔ میں تمھیں دنیا میں جنت دیکھا دوں گا تم کو مجھ سا قدردان نہیں ملے گا۔ میں تمھارے لئے اپنا مذہب بھی بدل ڈالوں گا ۔ جو تم کہو گی زندگی بھر وہی کروں گا۔ میں تو تمھیں ایک نظر دیکھنے کو ترستا ہوں اور وہ کوا تمھیں کتنی نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا ہے ہر وقت۔ کیا تم مجھے اس سے بے خبر ر سمجھتی ہو؟ میں سب جانتا ہوں تمھارے اس کے ساتھ اس بے بنیاد تعلق کوٹوٹنے سے اب کوئی نہیں روک سکے گا۔"
یہ کہ کر وہ خباثت سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ
جم ""
" نکلو میرے آفس سے ابھی اسی وقت ورنہ میں بھول جاؤں گی کہ تم میرے باس ہو۔ "وہ غصے سے دھاڑی
اپنی اتنی انسلٹ وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ غیر بھی اب جاننے لگے ہیں کہ اسکے اور عامر کے درمیان کچھ کھٹ پٹ چل رہی ہے۔
"اب تم مجھے " ہیرایس" کر رہے ہو۔ میں تمھاری بےکار باتوں کو مذاق سمجھ کر برداشت کر رہی ہوں اور تم حد سے باہر ہو رہے ہو۔اگر تم ابھی میرے آفس سے نہیں نکلے تو ایچ آر کو فون کر کے ابھی تمھیں "ہراسمینٹ" کے کیس میں اندر کروا دوں گی""
یہ سن کر جم آفس سے تو باہر نکل گیا مگر جاتے جاتے کہ گیا ۔ میری پیشکش پر غور ضرور کرنا........ زندگی بہت خوبصورت ہے اور اس طرح سرد جنگ میں نہیں گزاری جا سکتی جیسے تم اور عامر گزار رہے ہو اور اس بات کا آفس میں بھی سبکو علم ہو چکا ہے"۔
اور ہاں سنو۔۔۔ وہ اس کی میز کے قریب آ کر بولا۔۔۔۔۔
"ہیراس" تو تم نے بھی مجھے اپنی بیوٹی سے کیا ہوا ہے میں اب کس سے شکایت کروں؟ کیا اب 911 والوں کو کال کروں؟ یا پھر اجازت ہو تو شادی کا کیک بک کروانے کے لئے فون کر دوں؟"
٭٭٭٭٭٭٭٭
عامر یہ سب کچھ شیشے کی دیوار کے پار سے شاکی نگاہوں سے دیکھا کرتا۔ وہ کچھ بھی سن تو نہیں سکتا تھا مگر سب سمجھتا تھا اسکو صاف صاف اندازہ ہو رہا تھا کیا چل رہا ہے۔۔ جم کے بار بار ایمن کے آفس کے چکر لگانے کا کیا مطلب تھا؟ یہ بات ایک شوہر سے ذیادہ کون سمجھ سکتا تھا مگر زیادہ تر وہ بدلے میں ایمن کو خوش ہونے کی بجائے بہت غصے میں بھرے ہوا دیکھتا تھا اور اسکو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایمن جم کو آفس سے نکل جانے کا کہ رہی ہوتی ہے۔ چونکہ شیشے کی دیوار کی وجہ سے وہ کچھ سن نہیں سکتا تھا اس لئے صرف ان دونوں کی حرکات و سکنات سے اپنے شکوک کی عمارت بناتا اور توڑتا رہتا تھا۔ بہرحال کم سے کم اسکو یہ اطمینان تو حاصل تھا کہ اس نے ایمن کو کھبی بھی جم کے ساتھ ایک منٹ کے لئے بھی آفس سے باہر جاتے نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں کے درمیان بھلے کوئی بات چیت نہیں بھی تھی مگر پھر بھی عامر کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا سورج کے مشرق سے نکلنے پر ہو سکتا تھا۔
اس کے باوجود ایک دو بار ہزاروں شکوک شبہات اور نفرت لہجے میں سموئے عامر نے ایمن سے جم کے بارے میں پوچھنے کی کوشش بھی کی مگر وہ صاف مکر گء کہ ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے اور عامر کو صرف وہم ہو رہا ہے ورنہ جم تو ہر ایک کے ساتھ ایسے ہی فرینک نیس سے بات کرتا ہے۔
الٹا ایمن نے عامر کا دل صاف کرنے کی کوشش بہت تیز کر دی تھی۔ اس سے صاف لفظوں میں بات کرنے اور یہ آفس چھوڑنے کی پیشکش بھی کی اور یہ بھی کہا وہ کسی دوسری سٹیٹ میں موو ہو جاتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنا گھر بچانا چاہ رہی تھی مگر عامر کے دل میں ، جوکہ شک سے ایسے لبالب بھر چکا تھا جیسے گلاس پانی سے بھر جاتا ہے اور اس میں شاید ایمن کے لئے کوئی جگہ نا بچی تھی۔

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×