Jump to content
URDU FUN CLUB
khoobsooratdil

چندہ کے ساتھ چند روز

Recommended Posts



 یہ کہانی میرے ایک دوست رضوان کی بہن چندہ کے ساتھ بیتے ہوئے چند دنوں کی ہے لاہور کے ایک پوش علاقے میں میرا ایک کلاس فیلو رضوان رہتا تھا جو کالج میں میرے ساتھ پڑھتا تھا اور آج کل اپنا کاروبار کرتا تھا اس کا کاروبار بہت چل رہا تھا ہماری ایک دوسرے کے ساتھ بہت دوستی تھی اور میں اکثر ان کے گھر چلا جایا کرتا تھا اس کے ابو‘ امی اور بھائی بھی میرے ساتھ کافی فرینک تھے اور کئی بار ہم سب لو گ اکٹھے بیٹھ کر تاش اور کیرم بھی کھیلا کرتے تھے ویسے تو گھر کا ماحول اتنا ایڈوانس نہیں تھا لیکن اس کی بہن ساجدہ جس کو سب گھر والے چندہ کہہ کر پکارتے تھے (اس وقت اس کی عمر سولہ سترہ برس کے قریب ہوگی اور میں اس وقت تقریباً 28 سال کی عمر کا تھا ) عمر میں مجھ سے کافی چھوٹی ہونے کی وجہ سے بھی آزادی کے ساتھ میرے سامنے آجاتی تھی اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی تھی وہ رضوان کی طرح مجھے بھی بھائی جان ہی کہا کرتی تھی ویسے بھی میں ان کے گھر کافی عرصہ سے آجارہا تھا جس کی وجہ سے میں ان کا فیملی فرینڈ بن چکا تھا چندہ سانولے رنگ اور تیکھے نین نکش والی سمارٹ سی لڑکی تھی میں نے کبھی اس کے ساتھ سیکس کرنے کا دل میں بھی نہیں سوچا تھا اس لئے کبھی اس کے فگر پر کبھی غور نہیں کیا تھا ویسے بھی میری موجودگی میں وہ چادر اوڑھ کررکھتی تھی یہ کوئی چار سال پہلے کا واقعہ ہے جب مجھے دوپہر کے وقت رضوان کا فون آیا اس نے مجھے فوری طورپر ریس کورس پارک میںملنے کے لئے کہا میں نے فوری طورپر گاڑی نکالی اور اس سے ملنے کے لئے ریس کورس پارک چلا گیا جہاں وہ پہلے سے موجود تھا اس نے مجھے بتایا کہ اس کے خلاف پولیس نے قتل کا ایک مقدمہ درج کیا ہے اور اس ڈھونڈ رہی ہے لیکن اس کا اس قتل سے کوئی بھی واسطہ نہیں ہے گذشتہ رات پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تاہم وہ فرار ہوگیا لیکن پولیس نے اس کے والد اور چھوٹے بھائی کو پکڑ لیا ہے اب گھر میں والدہ اور چھوٹی بہن ہیں جن کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں امی تو بیمار ہیں اور کوئی کام بھی نہیں کرسکتیں جبکہ چھوٹی بہن بھی بہت گھبرائی ہوئی ہے اس نے مجھے کہا کہ میں اس کے گھر چکر لگاﺅں اور ان کو تسلی دوں میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں آج ہی ان کے گھر جاﺅں گا اس نے مزید کہا کہ مجھے کچھ پیسے چاہئیں میں نے اس کو اے ٹی ایم مشین سے بیس ہزار روپے نکلوا کردیئے اور خود گاڑی پر بیٹھ کر اس کے گھر چلا گیاچندہ نے دروازہ کھولا اور مجھے ڈرائینگ روم میں لے آئی جہاں اس کی والدہ بھی آگئیں دونوں بہت گھبرائی ہوئی تھیں میں نے ان کو تسلی دی کہ چند دنوں تک سب معاملات ٹھیک ہوجائیں گے میں ایک گھنٹہ وہاں بیٹھا ان کے ساتھ باتیں کرتا رہا پھر ان سے اجازت چاہی تو رضوان کی امی نے کہا کہ بیٹا ہم رات گھر میں اکیلے نہیں رہ سکتے مہربانی کرکے رات کو تم گھر آجانا میں نے پہلے تو انکار کردیا لیکن جب انہوں نے رضوان سے فون پر بات کی اور اسے کہا کہ شاکر سے کہے کہ رات کو ادھر ہی آجائے اس نے مجھ سے کہا تو مجھ سے انکار نہ ہوسکا بہرحال میں اس وقت ان کے گھر سے نکل آیا اور دفتر چلا گیا اور پھر رات کو دس بجے کے قریب ان کے گھر چلا گیا دونوں ابھی تک میرا انتظار کررہی تھیں میرے جانے پر نے کھانا لگایا اور ہم نے مل کر کھانا کھایا اس کے بعد رضوان کی امی جو پہلے ہی شوگر ‘ بلڈ پریشراور دل کی مریضہ تھیں قتل اور اس کے بعد پولیس کے چھاپے سے بہت زیادہ خوفزدہ تھیں نے نیند کی گولی لیں اور اپنے کمرے میں سوگئیں چندہ نے میرابستر دوسرے کمرے میں لگایا اور خود امی والے کمرے میں جاکر سوگئی تاہم مجھے نیند نہیں آرہی تھی میں جانے کن سوچوں میں گم تھاکہ رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب دروازے پر دستک ہوئی میں نے جاکر پوچھا تو باہر سے آواز دی گئی کہ دروازہ کھولو پولیس آئی ہے میں نے دروازہ کھولا تو ایک درجن کے قریب پولیس والے موجود تھے جو دروازہ کھلتے ہی مجھے دھکا دے کر اندر آگئے انہوں نے سارے گھرکی تلاشی لی اس دوران چندہ اور رضوان کی امی بھی اٹھ گئیں جب گھر والوں کو رضوان نہ ملا تو انہوں نے مجھے پوچھا کہ تم کون ہو میں نے ان کو بتایا کہ میں مہمان آیا ہوں تو مجھے کہنے لگے کہ تم بھی ہمارے ساتھ چلو میں نے ان سے کہا کہ میں کیوں چلوں تو کہنے لگے کہ تمہیں رضوان کے بارے میں معلوم ہوگا جب وہ پکڑا جائے گا تو تم کو چھوڑ دیں گے خبر میں نے ان سے کہا کہ آپ چلیں میں اپنی گاڑی میں آتا ہوں تو انہوں نے دو سپاہی میرے ساتھ میری گاڑی میں بٹھا دیئے میں نے تھانے جاتے ہوئے راستے میں ایک فوجی افسر دوست کو فون کیا اور ان کو صورتحال سے آگاہ کیا جنہوں نے کچھ کرنے کا کہا اور فون بند کردیا جب تھانے پہنچا تو چھاپہ مار ٹیم کے انچارج سب انسپکٹر باہر ہی کھڑے تھے میرے گاڑی سے اترتے ہی کہنے لگے شاکر صاحب آپ ہمیں میجر صاحب کے بارے میں پہلے ہی بتادیتے تو ہم آپ کو تھانے آنے کی زحمت ہی نہ دیتے آپ گھر جاسکتے ہیں معاملہ میری سمجھ میں آگیا کہ میرے دوست نے فون کرکے ان کو مجھے چھوڑنے کا کہہ دیا تھا خیر واپسی پر میں نے دوست کو فون کر کے ان کا شکریہ ادا کیا اور رضوان کے گھر چلا گیا میں گھر پہنچا تو چندہ اور اس کی امی صحن میں بیٹھی رو رہی تھیں مجھے دیکھتے ہی چندہ بھاگ کر میرے پاس آئی اور میرے گلے لگ کر رونے لگی آج پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ چندہ جوان ہوچکی ہے اس کی ابھری ہوئی چھاتی میرے سینے کے ساتھ لگی تو میرے ذہن میں کئی خیالات آئے تاہم میں نے ان خیالات کو جھٹک کر اس کو علیحدہ کیا اور کہا کہ اب کچھ نہیں ہوگا تم لوگ سو جاﺅ وہ دونوں اپنے کمرے اور میں دوسرے کمرے میں چلا گیا خیر یہ رات میں نے جاگ کر گزاری اور صبح ناشتہ کرکے دفتر چلا گیا اور شام کو اپنے گھر جاکر کپڑے چینج کرکے ٹی وی دیکھنے بیٹھ گیا میرے ذہن میں تھا کہ مجھے صرف ایک دن کے لئے رضوان کے گھر جانا تھا سو میں چلا گیا اب میں اپنے ہی گھر میں رہوں گا تھوڑی دیر بعد چندہ کا فون آگیا کہ بھائی جان آپ ابھی تک آئے نہیں ہیں میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ مجھے آج بھی آنا ہے تو کہنے لگی کہ صرف آج ہی نہیں مزید کئی دن تک ہمارے یہاں ہی رہنا پڑے گا خیر میں نے گاڑی نکالی اور ان کے گھر چلا گیا جہاں کھانے کے بعد رضوان کی امی تو نیند کی گولی کھا کر سوگئیں لیکن میں اور چندہ ٹی وی لاﺅنج میں ٹی وی کے سامنے بیٹھے ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے اس دوران خبرنامہ لگا تو ہم دونوں باتیں کرنے لگے جس میں اس کی پڑھائی زیر بحث تھی رات کو تقریباً دس بجے کے قریب دروازے پربیل ہوئی تو میں نے جاکر دروازہ کھولا تو رضوان سامنے کھڑا تھا میں اس کو لے کر اندر آگیا جہا ں وہ چند منٹ تک رکا اس نے چندہ کو امی کو جگانے سے بھی منع کردیا اور تھوڑی دیر بعد چلا گیا اس کے جانے کے بعد میں نے چندہ سے کہا کہ مجھے نیند آرہی ہے میں تو سونے لگا ہوں تو اس نے کہا کہ کل ساری رات امی تو سوئی رہیں اور مجھے نیند نہیں آئی میں ساری رات جاگتی رہی ہوں اس لئے میں نے آج آپ کا بستر بھی امی کے کمرے میں ہی لگا دیا ہے میں نے اس کو کہا کہ مجھے اس کمرے میں نیند نہیں آئے گی میں اکیلا سونے کا عادی ہوں تو کہنے لگی کہ یہ آرڈر امی نے کئے ہیں لہذا آپ کو ان پر عمل تو کرنا ہی پڑے گا خیر میں اس کمرے میں چلا گیا جہاں اس کی امی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں جبکہ میرا بستر زمین پر لگا ہوا تھا جبکہ چندہ خود صوفے کے اوپر لیٹ گئی چندہ نے بڑی لائٹ آف کی اور زیرو کا بلب آن کردیا تھوڑی دیر تک ہم لوگ باتیں کرتے رہے پھر چندہ سو گئی جبکہ میں ابھی تک جاگ رہا تھا اور جانے کن سوچوں میں مگن تھا رات کو کسی پہر میری بھی آنکھ لگ گئی اور میں بھی نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا ابھی آنکھ لگے تھوڑی دیر ہی ہوئی ہوگی کہ رضوان کی امی کے خراٹوں کی آوازسے بھی جاگ گیا پھر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اچانک میری نظر چندہ کی طرف پڑی جو سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور اس کی چھاتی پر کوئی کپڑا نہیں تھااس کی ابھری ہوئی چھاتی دیکھ کر میرا لن تن گیا میرا دل اس کو فوری طورپر چودنے کا کرنے لگا لیکن میں یہ سوچ کر چپ ہوگیا کہ کہیں کام خراب نہ ہوجائے یہی باتیں سوچتے سوچتے رات کے تین بج گئے جب چندہ اوں آں کرتے اٹھ گئی اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا تو فوری طورپر کپڑے سے اپنی چھاتی ڈھانپ لی اور کہنے لگی کہ شاکر بھائی ابھی تک جاگ رہے ہیں میں نے جواب دیا کہ مجھے نیند نہیں آرہی وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی واپس آئی تو کہنے لگی کہ آپ ٹی وی لگا لیتے میں نے کہا کہ میں نے اس لئے نہیں لگایا کہ آپ لوگ ڈسٹرب نہ ہوں تو کہنے لگی کہ نہیں آپ ٹی وی لاﺅنج میں جاکر ٹی وی لگا لیں چاہے تو کوئی فلم لگا لیں میں نے پھر انکار کیا مگر اب کہنے لگی کہ چلیں میں آپ کو ٹی وی لگا دیتی ہوں میں بھی اس کے پیچھے ٹی وی لاﺅنج میں چلا گیا جہاں اس نے ٹی وی لگا کر ریموٹ میرے ہاتھ میں پکڑا دیا اور کہنے لگی کہ جو بھی چینل دیکھنا ہے لگا لیں میں نے ریموٹ پکڑ لیا اور اس سے کہا کہ ایک گلاس پانی لا نے گئی توایک دم میرے ذہن میں ایک خیال آیا میں نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی دیکھنا شروع کردی وہ پانی لے کر آئی تو مجھے دیکھ کر کہنے لگی کیا دیکھ رہے ہیں میں نے کہا کہ دیکھ رہا ہوں کہ قسمت میں کیا لکھا ہے یہ سن کر وہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا آپ ہاتھ دیکھ لیتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ بس تھوڑا بہت گزارہ کر لیتا ہوںیہ سن کر وہ کہنے لگی کہ میرا بھی ہاتھ دیکھیں میں نے انکار کیا تو ضد کرنے لگی آخر تنگ آکر میں نے اس سے کہا کہ لاﺅ میں دیکھتا ہوں لیکن مجھے اس بارے میں زیادہ علم نہیں ہے تووہ فوری طورپرمیری پاس صوفے پر آکر بیٹھ گئی اس کا جسم میرے جسم کے ساتھ ٹچ ہورہاتھا جس سے میرے اندر عجیب سی ہلچل مچ گئی اس نے اپنا ہاتھ میرے آگے کردیا میں نے اس کا ہاتھ اس انداز سے پکڑا کہ وہ تھوڑا شرما سا گئی اس کا نرم وملائم ہاتھ پکڑ کر میرا لن اکڑ گیا میں کچھ دیر اس کا ہاتھ دیکھتا رہا مگر بولا کچھ نہیں اور پھر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو مجھ سے پوچھنے لگی کہ میری قسمت کیا کہتی ہے میں پھر خاموش رہا تو اس نے پھر سوال کر ڈالا میں نے اس سے کہا کہ مجھے تمہارے ہاتھ کی سمجھ نہیں آئی تو کہنے لگی آپ جان بوجھ کر نہیںبتا رہے پلیز بتائیں ناں میں نے پھر ٹالا مگر وہ پھر ضد کرنے لگی میں نے کہا کہ جو مجھے سمجھ آئی ہے وہ میں تم سے نہیں کہہ سکتا تو کہنے لگی کیوں نہیں کہہ سکتے میں نے کہا کہ بات ہی کچھ ایسی ہے تو کہنے لگی کہ آپ کہہ دیں اب میں نے اپنا کارڈ پھینکنے کا فیصلہ کیا میں نے اس سے کہا کہ وہ کسی لڑکے کو پسند کرتی ہے یہ سن کر وہ خاموش ہوگئی میں نے پھر سے اپنا سوال دھرایا تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا میں نے اس سے کہا کہ یہ کھیل کتنی دیر سے چل رہا ہے اور کیسے شروع ہوا تو جھجھک گئی میں نے اس سے کہا کہ یہ بات راز ہی رہے گی تم بتاﺅ تو کہنے لگی کہ رانگ نمبر پر ایک لڑکے سے بات شروع ہوئی تھی اب تک ٹیلی فون پر ہی بات چیت ہوتی ہے میں نے اس کو کہا کہ اس لڑکے کو چھوڑ دو تمہارے لئے یہی بہتر ہے تو کہنے لگی کیوں تو میں نے کہا کہ یہ میں نہیں جانتا مگر تمہارے لئے یہی بہتر ہے تو مزید کہنے لگی میرے ہاتھوں کی لکیریں اور کیا کہتی ہیں میں نے اب اس سے کہا کہ وہ بہت لکی ہے اور آئندہ چار پانچ برسوں کے دوران اس کا بیرون ملک ٹور بھی ہونے کا امکان ہے اس نے مزید بتانے کے لئے کہا تو میں نے کہا کہ اب میں مزید کچھ نہیں بتاسکتا تو وہ پھر سے ضد کرنے لگی میں نے اس کو ہاتھ پھر آگے کرنے کو کہا تو اس نے کردیا میں نے اب اس کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے دبانا بھی شروع کردیا تو وہ تھوڑی جھمب سی گئی میں نے اب اس سے کہا کہ وہ بہت سسیکسی ہے اور اس کی شادی سے پہلے اس کے جسمانی حسن میں مزید اضافہ ہوگا میری نظر اس کے ہاتھ کی طرف تھی اور میں چور آنکھوں سے اس کی طرف بھی دیکھ رہا تھا وہ یہ بات سن کر شرما سا گئی اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش بھی کی مگر میں نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا اور اس کو مزید دبانا شروع کردیا وہ خاموشی سے نگاہیں نیچی کئے بیٹھی ہوئی تھی میں نے اس کا چہرہ پکڑ کر اوپر کیا تو وہ جیسے سکڑ گئی ہو اب لوہا گرم ہوچکا تھا اور میری طرف سے چوٹ لگانے کا وقت آگیا تھا میں نے اس کو پھر سے اس کی ٹھوڑی سے پکڑا اور اس کا چہرہ اوپر کیا اور کہا کہ چندہ ایک بات کہوں تو وہ کچھ بھی نہ بولی اور سر ہلا دیا میں نے اس سے کہا کہ چندہ تم بہت خوبصورت ہو تم سے جس شخص کی شادی ہوگی بہت خوش قسمت ہوگا تو وہ مزید شرما گئی شرم سے اس کا چہرہ سرخ اور کان گرم ہورہے تھے وہ تھوڑا پیچھے ہٹنے لگی مگر میں نے ہاتھ سے کھینچ کر اس کو مزید اپنے قریب کرلیااور اس کے چہرے کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر کس کردیا جس پر کہنے لگی شاکر بھائی کیا کررہے ہیں امی اٹھ جائیں گی میں نے کوئی جواب نہ دیا اور پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پہلے تو اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر تھوڑی دیر بعد وہ بھی مست ہوگئی میں نے اس کا نچلا جبکہ اس نے میرا اوپر والا ہونٹ چوسنا شروع کردیا اب میرا ایک ہاتھ اس کی گردن میں جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی چھاتی پر تھا میں اس کے مموں کو آہستہ آہستہ سے دبا رہا تھا کچھ دیر میں وہ بھی مست ہوتی گئی اب رات کافی گزر چکی تھی اور میں نے وقت ضائع کئے بغیر مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا میں نے اس کی قمیص کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اس کے مموں کو پکڑنا چاہا تو جیسے اس کو کرنٹ لگا ہوکہنے لگی شاکر بھائی کیا کررہے ہیں میں نے جواب نہ دیا اور اپنا کام جاری رکھا اس نے میرا ہاتھ پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر مجھے ہٹا نہ سکی میں نے جیسے ہی اس کے اس کے ممے کو چھوا اس نے ایک بار پھر مجھے ہٹانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی اس کے ممے تھے تو چھوٹے مگر تھے بہت ٹائٹ‘ میں نے ان پر ہاتھ رکھا پہلے تو چندہ بہت تلملائی مگر میں نے اس کے نپل کو سہلایا تو اس پر مزید مستی آنے لگی چند لمحوں میں اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور تقریباً لیٹ ہی گئی تھی اب میں نے اس کی قمیص اوپر کی اور بریزئیر کے نیچے سے اس کے ممے باہر نکال لئے واہ 32 سائز کے سانولے ممے اور ان کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے سے نپل میں نے دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ میرے ہاتھوں میں دنیا کی قیمتی ترین چیز آگئی ہے پھر میں نے اپنے ہونٹوں سے ایک نپل کو چھوا تو اس کے منہ سے سسکاری سی نکل گئی میں نے پہلے ایک ممے اور پھر دوسرے ممے کے نپل کو منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ سے چوسا وہ مسلسل نہ کرو نہ کرو کے لفظ بول رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کی میرے جسم پر گرفت بھی مضبوط ہورہی تھی پھر میں نے اس کو اٹھا کر بٹھایا اور اس کی قمیص اتارنے لگا تو اچانک معلوم نہیں اس کے ذہن میں کیا آیا اس نے مجھ سے خود کو چھڑایا اورکھڑی ہوگئی میں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ مزید پیچھے ہوکر کہنے لگی شاکر بھائی یہ سب ٹھیک نہیں ہے یہ کہہ کر وہ ٹی وی لاﺅنج سے نکل گئی اور کمرے میں جاکر لیٹ گئی میں اس کے پیچھے کمرے میں گیا تو وہ چادر منہ پر لئے لیٹ چکی تھی میں نے اس کو دو بار چندہ چندہ کہہ کر پکارا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا میں نے اب اس کو مزید آواز نہ دینے کا سوچا اور خود ٹی وی لاﺅنج میں آگیا ٹی وی پر کیا چل رہا تھا مجھے معلوم نہیں مگر میں یہ سوچ رہا تھا کہ کہیںچندہ نے صبح اپنی امی کو سب کچھ بتا دیا تو بہت شرمندگی ہوگی خیر انہیں سوچوں میں صبح ہوگئی آٹھ بجے کے قریب چندہ کی امی بھی اٹھ گئیں تو چندہ نے آواز دی کہ ناشتہ لگ گیا ہے آکر کرلیں میں کمرے میں گیا تو چندہ کی امی کہنے لگی بیٹا تمہاری آنکھیں سرخ ہورہی ہیں کیا رات کو سوئے نہیں تومیں نے کہا کہ آنٹی نیند نہیں آئی اس لئے ساری رات ٹی وی دیکھتا رہا ہوں ناشتے کے دوران چندہ منہ نیچے کئے بیٹھی رہی میری طرح اس نے بھی ٹھیک طریقے سے کچھ نہیں کھایا ہوگا اس کے بعد میں گاڑی میں بیٹھا اور دفتر جانے کی بجائے گھر چلا گیا جہاں جاکر میں دفتر فون کیا کہ آج میری طبعیت خراب ہے دفتر نہیں آسکوں گا اور بیڈ پر لیٹ گیا جہاں فوری طورپر نیند آگئی شام چار بجے کے قریب آنکھ کھلی تو موبائل پر ایک میسج آیا ہوا تھا میں نے میسج پڑھا تو یہ چندہ کا تھا جس میں لکھا تھا کہ شاکر بھائی رات کو جوکچھ ہوا اچھا نہیں ہوا اب اس کے بارے میں کسی کو خبر نہیں ہونی چاہئے میں بھی کوشش کروں گی کہ آئندہ ایسا نہ ہو اور آپ بھی ایسا کرنے کی کوشش نہ کریں میں نے میسج پڑھ کر چندہ کے موبائل پر فون کیا تو اس نے فون اٹینڈ نہ کیا میں نے ان کے گھر کے نمبر پر فون کیا تو چندہ نے ہی اٹھایا میں نے میسج کے بارے میں بات شروع کی تو کہنے لگی کہ کوئی اور بات کرنی ہے تو کرلیں یہ موضوع ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ہے میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے آئندہ آپ کے گھر نہیں آﺅں گا تو اس نے ٹھیک ہے کہہ کر فون بند کردیا جس کے بعد میں نے سوچا کہ آج کے بعد میں ان کے گھر نہیں جاﺅں گا آٹھ بجے کے قریب موبائل پر گھنٹی بجی میں نے یس کیا تو چندہ بول رہی تھی اس نے کہا کہ امی بات کرنا چاہتی ہیں میں سمجھا کہ اس نے سب کچھ بتادیا مگر اس کی امی نے کہا کہ تم کہاں ہو میں نے ان کو بتایا کہ گھر میں ہوں تو کہنے لگی کہ تم ابھی آجاﺅ چندہ بازار جانا ہے اس کو لے جاﺅ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا فون بند ہوگیا سو میں نے گاڑی نکالی اور ان کے گھر کی طرف چل پڑا گھر پہنچا تو چندہ کھانا لگا رہی تھی آنٹی کہنے لگی کہ پہلے کھانا کھا لو پھر چلے جانا میں نے کھانا کھایا تو آنٹی نے کہا کہ میں گولی کھا کر سورہی ہوں تم لوگ باہر کے دروازے کی چابی لے کر جانا اور جلدی آنے کی کرنا سو چندہ نے ان کو گولی دی اور خود تیار ہونے لگی جب دس منٹ کے بعد باہر نکلی تو غضب کی خوبصورت لگ رہی تھی اس نے گلابی سوٹ کے ساتھ ہلکا سا میک اپ کرکھا تھا باہر نکل کر چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا سڑک پر پہنچ کر میں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے خاموش کیوں ہو تو بھی چپ رہی میں نے پھر بلانے کی کوشش کی مگر چپ رہی جس پر میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کی ران پر رکھ دیا تو بول پڑی شاکر بھائی پلیز ایسا نہ کریں یہ ٹھیک نہیں ہے میں نے کہا کہ کچھ بھی غلط نہیں ہے تو کہنے لگی کہ یہ سب ناجائز ہے میں صرف اس شخص کے ساتھ ہی ایسا کروں گی جو میرا شوہر ہوگا تو میں نے جھٹ سے جواب دیا بے وقوف لڑکی تم نے مجھے ابھی تک پہچانا ہی نہیں میں ہی تو وہ شخص ہوں جس سے تمہاری شادی ہوگی تو میری طرف حیرانگی سے دیکھ کر کہنے لگی کہ میں نے ہمیشہ آپ کو بھائی سمجھا ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے میں نے جواب دیا کہ اسلام میں سب بھائی ہوتے ہیں مگر شادی سے پہلے تک وہ پھر مجھے دیکھتے رہی میںنے مزید کہا کہ تم کتنی خوبصورت ہو مجھے رات کو معلوم ہوا ہے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تم سے شادی کروں گا لیکن تمہارے بھائی کے کیس ختم ہونے کے بعد میں اس سے بات کروں گا تو کہنے لگی کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن بھائی اور ابو نہیں مانیں گے ہمارے خاندان میں غیر برادری میں شادی نہیں کرنے دیتے میں نے اس سے کہا کہ میں ان کو بھی منا لوں گا پہلے تم تو اپنا موڈ ٹھیک کرو تو کہنے لگی ٹھیک ہے اس کے بعد مزید کچھ باتیں ہوئیں تو بازار آگیا جہاں اس نے اپنی ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور پھر گاڑی میں آکر بیٹھ گئی اور کہنے لگی کہ چلو گھر چلیں میں نے کہا آئس کریم کھالیتے ہیں پہلے تو نہ مانی پھر میرے اصرار پر مان گئی میں نے آئس کریم منگوائی تو کہنے لگی شاکر بھائی میرے لئے قلفہ فلیور منگوائیے گا میں نے اس کو ٹوکا اور کہا کہ اب صرف شاکر اب میں تمہارا بھائی نہیں رہ گیا تو ہنسنے لگی اور کہنے لگی کہ گھر والوں کے سامنے تو شاکر بھائی ہی کہا کروں گی جب تک تم بات نہیں کرلیتے میں خاموش رہا آئس کریم کھا کر گھر آئے تو کمرے میں بستر لگانے لگی میں ٹی وی لاﺅنج میں جابیٹھا آج میرا پروگرام اس کے ساتھ فل ٹائم مزا لینے کا تھا تھوڑی دیر بعد آگئی اور کہنے لگی کہ بستر لگ گئے ہیں جب سونا ہو آجائےے گا میں سونے لگی ہوں میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو کسنگ کرنے لگا اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر اب میں باز آنے والا کہاں تھا تھوڑی دیر بعد اس نے خود کو میرے حوالے کردیا اور میرا ساتھ دینے لگی میں نے اس کو صوفے کے اوپر لٹایا اور اس کی قمیص اوپر کرکے اس کے نپل چوسے پھر اس کی قمیص اور بریزیئر اتار دی تو کہنے لگی شاکر پلیز لائٹ بند کردو میں نے لائٹ آف کرکے زیرو کا بلب آن کردیا جس کے بعد اس کے نپلز پر کسنگ کرنے لگا اس نے میرے بالوں کو پکڑ رکھا تھا جب اس کا مزہ بڑھ گیا تو میرے بال نوچنے لگی میں اس کی شلوار اتارنے لگا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی شاکر پلیز یہ نہیں میں نے کہا کہ اب تو تم کو کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے تو خاموش ہوگئی میں نے دیکھا چھوٹی سی پھدی پر چھوٹے چھوٹے بال آئے ہوئے تھے میں نے اپنے ہاتھ کی پوری ہتھیلی سے اس کی پھدی کو ڈھانپ دیا اور اس کو آہستہ آہست سے دبانا شروع کردیا اب اس کے منہ سے اس س س س س س س س ‘ ام م م م م م ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کی آواز نکل رہی تھی میں نے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو اس نے میری بازو زور سے پکڑ لئے تھوڑی دیر کے میں نے بھی کپڑے اتار دئےے اب میں نے اس کی دوبارہ کسنگ شروع کردی پہلے ہونٹوں پھر کانوں پھر گردن پھر مموں کے ارد گرد اور پھر نپلز کو چوسا اس کے بعد میں نے اس کے پیٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کردی جب اس کی ناف کے ارد گرد میری زبان چلنے لگی تو وہ سمٹ گئی اور میری ساتھ چمٹ کر کہنے لگی ش ش ش ش ش اااا کر اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا جب اس کی رانوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی تو اس نے مستی سے اپنی گردن ادھر ادھر مارنا شروع کردی اب میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں آگیا اور اس کی پھدی کا جائزہ لینے لگا جو مجھے صاف نظر آرہی تھی ننھی منی پھدی سے پانی نکل رہا تھا میں نے اپنا لن اس کے اوپر رگڑنا شروع کیا تو وہ شدت مستی سے چلانے لگی ش ش ش ش ش ش ش ش ناں کرو اب بس کرو اس کے ساتھ اس کے ہاتھ میری کمر پر سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے تھوڑی دیر کے بعد وہ مکمل ہوگئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ اب بس بھی کرو میں اس کو تھوڑا سا ریسٹ دینے کے لئے اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تو کہنے لگی شاکر تم کتنے اچھے ہو کیا ہمیشہ اسی طرح مجھ سے پیار کرتے رہو گے میں نے اثبات میں سر ہلایا تو مجھے چومنے لگی میں بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا میرے پہلے سے کھڑے ہوئے لن میں مزید سختی آگئی تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ گرم ہوگئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اپنا لن اس کی پھدی پر دوبارہ رگڑا جب پانی نکلنے سے پوری طرح گیلی ہوگئی تو میں نے اس کو اندر کرنے کے لئے تھوڑا سا زور لگایا تو وہ درد سے چلانے لگی ن ن نہیں میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور تھوڑا سا مزید زور لگایا مگر میرا آٹھ انچ کا لن اس کی ننھی سی پھدی کے سامنے بالکل بے بس نظر آرہا تھا میں نے اس کی چیخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک جھٹکا مارا تو میرا ٹوپا اس کے اندر گھس گیا اس نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں سے ہٹائے اور زور زور سے چلاتے ہوئے کہنے لگی مر گئی ی ی ی ی ی ی ی میں نے اس کو کہا کہ آہستہ دوسرے کمرے میں امی لیٹی ہوئی ہیں اٹھ جائیں گی تو کہنے لگی مجھے نہیں پتا اس کو باہر نکالو وہ میری کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی میں نے مزید زور نہ لگایا اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا درد کم ہوا تو میں نے اٹھ کر ایک اور زور دار جھٹکا مار دیا جس سے میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی چوت کے اندر چلا گیا اب کی بار اس کے منہ سے نکلنے والی چیخیں شائد پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں ہوتی اگر میں اس کے منہ پر اپنا ہاتھ نہ رکھ لیتا وہ درد کی وجہ سے بے حال ہوئے جارہی تھی میں ایک بار پھر اس کے اوپر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر ایک اور جھٹکا دے مارا جس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے اوووووووووووں کی آواز اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے اب میں نے اپنے لن کو آہستہ آہست سے اندر باہر کرنا شروع کردیا اور تقریباً پندرہ منٹ میں فارغ ہوگیا جب میرا لن لاوا اگلنے لگا تو میں نے اسے باہر نکال لیا اور چندہ کے پیٹ پر لاوہ پھینک دیا چدائی کے دوران تمام وقت چندہ درد سے بے حال رہی جب میرا لن اس کی پھدی سے نکلا تو اس کو سکون ملا اور اس نے اپنا ہاتھ اس کے اوپر رکھ لیا جب اس نے ہاتھ ہٹایا تو دیکھا کہ ہاتھ خون سے بھر چکا تھا جس کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی اور میری طرف دیکھ کر آنسو بہانے لگی میں نے اس کو چپ کرایا اور کہا کہ پہلی بار ہر لڑکی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اب اس کو تکلیف نہیں بلکہ مزہ آیا کرے گا مگر وہ میری بات سنی ان سنی کرکے کپڑے اٹھا کر باتھ روم میں چلی گئی اس سے ٹھیک طریقے سے چلا بھی نہیں جارہا تھا جب واپس آئی تو اس وقت بھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہنے لگی شاکر بہت درد ہورہا ہے کچھ کرو نہیں تو میں مر جاﺅں گی میں نے اس کو اپنے پاس بٹھا کر پیار سے گلے لگا لیا تو چپ ہوگئی ابھی میرا اس کے ساتھ ایک بار پھر چدائی کا پروگرام تھا مگر وہ اب میرے ہاتھ نہ آئی اور کمرے میں جاکر سو گئی صبح آٹھ بجے میں اٹھا تو اس کی امی ناشتہ بنا رہی تھی میں نے پوچھا کہ آنٹی چندہ کہاں ہے تو کہنے لگی کہ اس کو بخار ہوگیا ہے اس لئے میں ناشتہ بنا رہی ہوں میں ناشتہ کرکے چلا گیا شام کو جب دوبارہ گھر گیا تو وہ ابھی بھی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی میں نے اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے تو کہنے لگی کہ تم نے تو مار دیا ابھی تک درد ہورہی ہے میں صبح سے دوبار پین کلر کھا چکی ہوں اب تھوڑی سی درد میں کمی ہوئی ہے مگر ابھی بھی برداشت نہیں ہورہی میں نے اس کو تسلی دی اس رات بھی میں اس کے ساتھ سیکس کرنا چاہتا تھا مگر وہ اپنی امی کے ساتھ ہی لیٹ گئی میں نے اس کو کئی بار کمرے سے باہر آنے کا کہا مگر وہ نہ آئی اگلے روز دفتر سے گھر آیا تو چندہ کے ابو اور بھائی کو پولیس نے چھوڑ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پانچ گھنٹے میں رضوان کو پیش کردیں ورنہ وہ ان کو پھر سے پکڑ کر لے آئیں گے میرے گھر جانے پر وہ دونوں موجود تھے لیکن انہوں نے بتایا کہ وہ رضوان کسی بھی صورت پیش نہیں کریں گے اور وہ خود بھی مزید کچھ دن تک گھر میں نہیں رہیں گے انہوں نے گھر رہنے پر میرا شکریہ ادا کیا اور کچھ دیر کے بعد کھانا کھا کر گھر سے چلے گئے اس کے بعد چندہ نے اپنی امی کو نیند کی گولی دے کر سلا دیا میں ٹی وی لاﺅنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا چندہ وہیں آگئی اور میرے ساتھ آکر ٹی وی دیکھنے لگی میں نے اس کو پکڑ کر قریب کیا اور اس کی کسنگ شروع کردی مگر وہ چھڑا کر کہنے لگی اب وہ کام نہیں کرنا میں تو مر جاﺅں گی میں نے اس کو کہا کہ جو تکلیف ہونی تھی تم کو ہوچکی اب تو مزے لینے کا ٹائم آیا ہے اور تم اس سے باغی ہورہی ہو لیکن وہ ناں ناں ہی کرتی رہی اس کے بعد میں نے سوچا کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکلے گا میں نے اس کو پکڑا اور زبردستی اس کی کسنگ شروع کردی اس کے بعد قمیص اتارنے لگا تو اس نے مزاحمت شروع کردی اس دوران اس کی قمیص بھی پھٹ گئی لیکن میں باز نہ آیا اور اس کی بریزئیر کے بعد شلوار بھی اتار کر اسے زمین پر ہی لٹا لیا جب اس نے دیکھا کہ اب اس کی نہیں چلنے والی تو وہ بھی تیار ہوگئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ اگر آج بھی زیادہ تکلیف ہوئی تو میں نہیں کروں گی میں نے کہا کہ نہیں ہوگی اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ کھیل شروع کردیا جس میں وہ میرے ساتھ برابر کا ساتھ دے رہی تھی جبکہ کئی موقعوں پر تو وہ مجھ سے بھی آگے نکل گئی جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی تو میں نے اس کی ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر جب جھٹکا دے کر لن کو اندر کیا تو اس کے منہ سے اوی ی ی ی ی ی آہستہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی میں نے اپنا پورا لن اس کے اندر کردیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا پھر اس سے پوچھا کہ اب تو تکلیف نہیں ہورہی تو کہنے لگی ہوئی ہے مگر کم مگر تم آہستہ کرنا میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اور اپنے لن کو اندر باہر شروع کردیا اب بھی دو روز پہلے کی طرح اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں مگر یہ آوازیں تکلیف کی نہیں بلکہ مزے کی تھی وہ ام م م م م م م م م م م س س س س س س س س س س ف ف ف ف ف ف ف ف کررہی تھی دو روز قبل مجھے بھی اس کے ساتھ سیکس کرنے کا زیادہ مزہ نہیں آیا تھا کیونکہ وہ میرا ساتھ دینے کی بجائے تکلیف سے کراہ رہی تھی جبکہ آج وہ میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی جب میرا لن اس کے اندر پورا جاتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ اندر کسی چیز کے ساتھ ٹکرارہا ہے جب وہ باہر آتا تو میں پھر جھٹکا دے کر اس کے اندر کردیتا جبکہ چندہ میری کمر سے پکڑ کر مجھے مزید آگے کرنے کی کوشش کرتی مجھے محسوس ہورہا تھا کہ چندہ کا دل کرتا ہے کہ میں مزید تھوڑا سا اور اندر کردوں مگر افسوس میرا لن ہی اتنا تھا جب میں جھٹکا دیتا تو میرے ٹٹے اس کی گانڈ کے ساتھ ٹکراتے تھے پانچ منٹ کی چدائی کے بعد وہ چھوٹ گئی اس وقت اس کی پھدی کی میرے لن پر پکڑ سخت ہوگئی اور پھر آہستہ اور پھر تیز اور پھر آہستہ جب وہ چھوٹ رہی تھی تو اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑ دیئے اور ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کرکے رہ گئی اس نے مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا جبکہ میں ابھی فارغ نہیں ہوا تھا میں نے دوبارہ اپنے لن کو اندر باہر کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے اشارہ کرکے روک دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی میرا لن اس کی پھدی میں ہی رہا تھوڑی دیر کے بعد میں نے خود کو اس سے چھڑایا اور پھر سے گھسے مارنے شروع کردیئے اب کی بار بھی وہ تقریباً پانچ منٹ بعد فارغ ہوگئی اور مجھے روکنا چاہا مگر میں نہ رکا اور مسلسل بیس منٹ تک جھٹکے مارتا رہا اس دوران وہ مزید 2 بار چھوٹی جس سے صوفے پر ہی اس کا پانی گرا اور صوفہ گیلا ہوگیا جبکہ اس کی پھدی بھی بری طرح گیلی ہو گئی تھی اب میرے جھٹکوں سے تھپ تھپ کی آوازیں آرہی تھیں جبکہ اس کے علاوہ اس کے منہ سے نکلنے والی سکیسی آوازیں بھی آرہی تھی جس سے کمرے کا ماحول مزید سیکسی ہورہا تھا جب بھی میں تیزی سے جھٹکا مارنے کی کوشش کرتا تو کہتی شاکر پلیز آہستہ مجھے بھی مزہ لینے دو 20 منٹ کے بعد میں چھوٹنے والا ہوگیا میں نے اپنا لن اس کے اندر سے نکالا اور پاس پڑی اس کی پھٹی قمیص پکڑ کر اس کو لن پر رکھ کر فارغ ہوگیا فارغ ہونے کے بعد میں دوسری طرف ہوکر لیٹ گیا اور وہ میری پہلو میں آکر لیٹ گئی اس نے میری ایک بازو اپنے سر کے نیچے رکھ لی اور میرے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی جبکہ میں اس اس کے نپلز کو پکڑ کر ان کو کبھی دبا دیتا اور کبھی ان کو مروڑتا بیس منٹ کے بعد میرا لن دوبارہ تناﺅ میں آنا شروع ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بار پھر ہوجائے تو کہنے لگی نہیں اب بس مزید کچھ نہیں کرنا جو کرلیا اسی کے مزے میں رہنے دو کہیں یہ مزہ بھی نہ جاتا رہے اس کے بعد وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی جہاں اس نے نہا کر دوسرے کپڑے پہنے اور باہر آکر مجھے کہنے لگی کہ آپ بھی غسل کرلیں میں نے بھی غسل کیا تو اتنی دیر میںوہ دودھ سوڈا بنا کر لے آئی ہم دونوں نے دودھ سوڈا پیا پھر کچھ دیر تک ٹی وی دیکھنے کے بعد ہم لوگ سو گئے میں اگلے دن اس کو مینسز ہوگئے اور مزید 7 دن تک اس کے ساتھ سیکس کے مزے نہ لے سکا اس دوران اس کے سات[/font]ھ چمی چاٹا چلتا رہا لیکن چدائی نہیں کی جاسکی اس کے مینسز ختم ہونے کے بعد ایک ہفتہ کے دوران مزید 3 بار چدائی کا موقع ملا جس کو ہم دونوں نے خوب انجوائے کیا جس کے بعد پولیس نے رضوان کو گرفتار کرلیا جس کے بعد رضوان کے ابو اور بھائی گھر آگئے اور میں نے ان کے گھر رات رہنے کا سلسلہ ترک کردیا جس کے بعد مجھے سیکس کا موقع نہیں مل سکا اب رضوان کے ابو اس کی رہائی کے لئے کوشاں تھے جس کے دوران مقتول کے گھر والوں سے بھی رابطہ کیا گیا میں سوچ رہا تھا کہ یہ لوگ اس مصیبت سے نکل آئیں تو میں ان سے چندہ کے رشتے کی بات کروں گا لیکن اس دوران لاہور کے ایک بڑے بزنس مین کی کوششوں سے مقتول کے ورثا سے صلح کی کوششیں کامیاب ہوگئیں مقتول کے ورثاءنے صلح کے لئے 10 لاکھ روپے اور اپنے ایک 40 سالہ شخص کے لئے چندہ کا رشتہ مانگ لیا رضوان کے ابو نے اس کے بے گناہ ہونے کے باوجود یہ دونوں باتیں مان لیں کیونکہ تمام ثبوت رضوان کے خلاف جارہے تھے اور چند دنوں کے اندر چندہ کو خاموشی سے بیاہ دیا گیاچندہ بھی اپنے بھائی کی رہائی کے لئے خاموش ہوگئی میں نے ایک دو بار اس سے موبائل فون پر اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے فون ہی اٹینڈ نہ کیا جبکہ اس کے گھر جاکر بات کرنے کی کوشش کی تو اس کے والد اور بھائی گھر میں ہوتے جس کی وجہ سے بات نہ کرسکا جس دن اس کی شادی ہوئی اس دن اس نے صرف مجھے ایک ایس ایم ایس کیا جس میں صرف [/font]Sorry لکھا تھا میں نے فوری فون کیا مگر اس کا فون آف تھا ان سب باتوں سے رضوان کو بے خبر رکھا گیا رضوان نے رہائی کے بعد چندہ کی زبردستی کی شادی پر احتجاج کیا مگر اب کیا ہوسکتا تھا تھوڑے دنوں کے بعد رضوان سمیت سب لوگ بھول گئے کہ ان کی بہن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس کے بعد ایک دو بار اس کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی لیکن اس نے مجھ سے اس ٹاپک پر بات نہیں کی ابھی چند دن پہلے اس سے ملا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے برسوں کی بیمار ہو آنکھوں کے گرد حلقے پڑے ہوئے تھے اور چہرے پر بھی بے رونقی سی تھی اس کی آج تک کوئی اولاد نہیں ہے ایک دو بار اس کے خاوند سے بھی ملاقات ہوئی ہے جو بہت شکی مزاج ہے لاہور شہر میں رہتے ہوئے چندہ کو کئی کئی ماہ تک اس کے ماں باپ کے گھر نہیں جانے دیتا جبکہ اس نے شادی کے چند دن بعد ہی اس کا موبائل بھی لے لیا تھا جو آج تک اس کو واپس نہیں کیا

  • Like 3

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×