Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
DR KHAN

ہلکی سی آگ ،،،،،،، ڈاکٹر فیصل ایک نئے اند&#15

Recommended Posts

ہلکی سی آگ

ڈاکٹر فیصل نئے انداز میں

کہتے ہیں سب سے بری آگ،حسد کی آگ ہوتی ہے۔انسان جب اس آگ میں جلتا ہے تو اپنے ساتھ ساتھ کئیوں کو جلا ڈالتا ہے۔مگر مجھے لگتا ہے،سب سے بری چنگاری شک کی چنگاری ہے۔

ابھی کل کی بات لے لیجیئے،بسنتی کی سالگرہ تھی۔میں نے اس کے لیے ایک نہایت ہی اعلیٰ لباس خریدا،جس کے لیے مجھے اپنی تنخواہ کے بیشتر حصے کو قربان کرنا پڑا۔مگر عشق اندھا اور ناعاقبت اندیش ہوتا ہے۔

بسنتی نے لباس کو ایک نظر دیکھا اور بولی:تھینکس سر!لیکن میں اس برانڈ کو استعمال نہیں کرتی،دراصل یہ میری سکن سے فرینڈلی نہیں ہے۔

اب معلوم نہیں،میں بذات ِخود اس کی سکن سے فرینڈلی تھا یا نہیں۔لباس تو ضائع ہوا سو ہوا،اس مہینے مالک مکان نے دل میں نجانے کتنی گالیوں سے نوازا ہو گا۔

میں اس ناقدری پر آٹھ آٹھ آنسو بہا ہی رہا تھا کہ پہلوان آن ٹپکا اور اپنی مدھر آواز میں بولا:جناب عالی!ڈی ایس پی صاحب نے یاد فرمایا ہے۔

میں چڑ کر بولا:تو یہ بات لہک لہک کر کہنے کی کیا ضرورت تھی؟

وہ پھر بولا؛سر!کیا کروں،اوپر والے نے گلے سے مجھے سریلا بنایا ہے۔

میں بولا:اور جسامت سے شاہِ جنات۔چلو میں آتا ہوں۔

میں جب ماسٹر بھولے دین(ڈی ایس پی)کے کمرے میں پہنچا تو چہرے پر تشویش سجائے بیٹھا تھا۔مجھے دیکھ کر بولا:ارے فیصل!بیٹھو،ایک بڑا مسلئہ آن پڑا ہے۔

میں فوراً چوکس ہو کر بولا:یس سر!حکم کریں سر۔

وہ بولا:یار!میری بیوی کو کسی سلمنگ سنٹر سے افاقہ نہیں ہو رہا۔

میں نے لاحول پڑھی،یہ کس کام کے لیے مجھے یاد کر لیا۔

میں بولا:سر!پولیس اکیڈمی میں ٹرائی کیا؟

میری اس بات نے جلتی پر تیل بلکہ بارود کا کام کیا اور ماسٹر پھٹ پڑا اور بولا:ابے میری بیوی ہے،کوئی نئی رنگروٹ نہیں ہے۔

میں بولا:سر!جیسا کھانا اور رہائش وہاں میسر ہے اور ہر وقت حملوں کا ڈر،انسان کا تو یونہی وزن گھٹ جاتا ہے۔

ماسٹر نے ہنکارابھرا اور بولا:ایک ایم پی کا بھائی مر گیا ہے،تم فوراً پہنچو۔

میں نے اپنی ٹیم کو پیغام دیا اور وقوعہ کی جانب چل پڑا۔

٭٭٭

میں ہومی سائیڈ ڈیپارٹمنٹ میں انوسٹی گیٹر ہوں۔

ایک عجیب ٹینشن میں ملازمت کر رہا ہوں،لوگ مجھے پولیس والے سمجھ کر منہ نہیں لگاتے اور پولیس والے مجھے ویسے ہی منہ نہیں لگاتے۔میں کرمنالوجی میں ماسٹرز ہوں،پیٹھ پیچھے مجھے سبھی پولیس والے بابو کہتے ہیں اور سخت ناپسند کرتے ہیں۔مگر کیا کروں،ان سب کے باوجود میں پولیس والا ہی ہوں۔

میرا باس ماسٹربھولے دین ڈی ایس پی کم پروفیسر زیادہ لگتا ہے۔میری ماتحت ٹیم میں تین افراد شامل ہیں۔

نیوٹن،پہلوان اور بسنتی۔ان تینوں کا جتنا کم تعارف کروایا جائے،اتنا زیادہ ہے۔

نیوٹن ،،یوں سمجھیں،ہمارا سائنس دان ہے،فنگر پرنٹس سے لیکر کر فورنزک کے تمام کام یہی دیکھتا ہے۔اس کا قدکسی 14 سالہ بچے کے جتنا اور سر تربوز جیسا ہے۔

پہلوان، کسی سانڈ کے جیسا طاقتور اور موت کے فرشتے جیسا بھیانک ہے۔اس کی دہشت اسی وقت تک ہے جب تک یہ اپنا منہ نہ کھولے۔اس قدر دیو قامت انسان کی آواز لتا منگیشگر جیسی سریلی اور شریں ہے،اوپر سےاسے سنگر بننے کا جنون بھی ہے۔اس کاباپ سابق سپاہی تھا،جس نے اسے جوتے لگا کر بھرتی کروا دیا۔جب کسی تھانے میں روایتی پولیس والا نہ بن سکا،تو یہاں ماتھا ٹیکا۔

بسنتی ،سچ مچی کی بسنتی ہی ہے۔گلابی رنگت،ترشیدہ ہونٹ،جم میں محنت سے تراشا ہوا انگ انگ ۔جب وہ سیاہ جینز اور سفید شرٹ پر پولیس کا کارڈ ٹکائے گھومتی ہے،تو کسی مرد کی نظر اس کے کارڈ پر نہیں جاتی بلکہ کارڈ جس چھاتی کو بار بار گلے لگاتا ہے،اسے گھورتی رہتی ہے۔بسنتی ایسی نظربازیوں کا وہ منہ توڑ جواب دیتی ہے،جو سچ مچ کا منہ توڑ ثابت ہوتا ہے۔بسنتی کے پاس پورے محکمے کی سب سے مہنگی گاڑی ہے،جو اس کے ریٹائرڈ جنرل باپ نے خرید کر دی ہے۔بسنتی کے سارے شوق مردانہ ہیں،جیسے گھڑسواری،شوٹنگ اور سب سے بڑا شوق پنگا لینا۔(میری ،،،اس کے انگ انگ پر نظر ہے۔)

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان سب کو یہ نام میں نے دیئے ہیں۔

Please login or register to see this link.

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×