Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

اگر واقعی ہماری دُم ہوتی تو؟؟؟

Recommended Posts

اگر واقعی ہماری دُم ہوتی

از گرو سمراٹ

آج کیسا عجیب سوال میرے ذہن میں آیا ہے وہ ''انسان'' جو دُم کے تقصانات سے واقف ہے اس خیال سے کانپ اٹھتا ہے آپ زرا تصور میں اپنی دُم لگا کر دیکھیں دُم کا رنگ اپنی مرضی کا رکھیں مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں اگر ہمارے دُم ہوتی تو بنیان پہننے والوں کو بڑی مشکل پیش آتی،اخراجات بڑھ جاتے غلاف دُم بنایا جاتا،نیل پالش کے ساتھ ٹیل پالش اور ٹوتھ پیسٹ کے ساتھ ٹیل پیسٹ بھی دستیاب ہوتی ہر جگہ بورڈ لگا ہوتا کہ اپنی دُم کو گنجے پن سے بچائیں اور اپنی دُم کو چار فٹ لمبا کریں یہ صدقہ جاریہ ہے،دُم ڈریسر ہوتے ہر کوئی حتٰی کہ میں بھی اپنی دُم کو جان سے عزیر رکھتا۔۔۔

نئے نئے محاورے جنم لیتے،خاندان کی ناک کٹوانے والوں کو کوسا جاتا کہ اس نے خاندان کی دُُم کٹوا دی ہے یا پھر جان ہے تو جہان ہے کی بجائے''دُم ہے تو جہاں ہے''یک جاں دو قالب کی بجائے''یک دُم دو قالب''تندرستی ہزار نعمت کی بجائے''دُم ہزار نعمت ہے'' یا خربوزہ دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کی بجائے ''دُم دیکھ کر دُم رنگ پکڑتا ہے'' یا رسی جل گئی لیکن بل نہیں گئے کی بجائے ''دُم جل گئی لیکن بل نہیں گئے ''استعمال ہوتا۔لڑکے ایک دوسرے کی دم کھینچتے لڑائیاں ہوتیں بات ٹیچر تک پہنچتی تو یہی سوال پوچھا جاتا کہ پہلے کس نے کس کی دم کھینچی۔۔

جب کبھی شادی کی بات ہوتی تو دولہا والے دلہن کی دُم کی پیمائش کرتے اگر دم کی لمبائی کم ہوتی تو رشتے سے انکار کردیا جاتا۔دولہا کی ماں کہتی کہ میں تو چار فٹ لمبی دُم والی بہو لاوں گی کہ اٹھتے بیٹھتے دم مارے تو چار گز کا کمرہ صاف ہوجائے۔لمبے بالوں والی دُم کی لوگ نمائش کرتے،جبکہ گنجی دم والے حضرات اپنی دم چھپاتے پھرتے،نوجوان اپنے دوست سے کہتے''یار میری دم کی کنگھی کر دینا''مارڈرن نسل کے نوجوان جب اپنی دم سنوارتے تو دیکھنے والے کہتے کہ کیا خوش نما دُم پائی ہے بزرگ نوجوان لڑکوں اور نوجوان لڑکیوں کی دُم دیکھ کر توبہ توبہ کرتے کہ آج کل کوئی شرم و حیا نہیں نوجوان لڑکیاں دم ہلاتی پھرتی ہیں ہماری دم تو دائی کے سوا کسی نے نہ دیکھی تھی۔

دیہات میں خواتین اک دوسرے کو یوں گالیاں اور بد دعائیں دیتیں ''خدا کرے کہ تمہارے بغیر دُم کے بچے پیدا ہوں'' یا تمہارے شوہر کی چھوٹی دم کی ایسی کی تیسی''وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر کوئی بچہ چلنے کے قابل ہوجاتا تو ماں اس کو کام کاج کے وقت دم سے باندھے رکھتیں تاکہ گھر سے باہر نہ نکل جائے اگر کوئی بچہ بغیر دُم کے پیدا ہوتا تو لوگ اس کو دیکھنے کے لئے دور دور سے آتے۔۔۔

اگر کوئی شخص فوت ہوجاتا تو لوگ اس کی مغفرت کے لئے یوں دعا کرتے''مرحوم نے بڑی عمر کے ساتھ ساتھ بڑی دُم بھی پائی تھی خدا اس کو دُم سمیت جوار رحمت میں جگہ دے آمین۔۔

''شاعر''حضرات اپنی محبوبہ کو قسم دیتے ہوئے کہتے کہ تمہیں میری دُم کی قسم،اور دل و جگر ،آنکھوں ہونٹوں کی بجائے دُم کا زکر کرتے جیسے۔۔۔

ان کے دیکھنے سے جو آجاتی ہے دُم پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

نازکی اس کی دُم کی کیا کہئےپنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اس طرح دُم کو گانوں میں بھی مقبولیت حاصل ہوتی جیسے

اس جہاں کی نہیں ہے تمہاری دُمآسماں سے یہ کس نے اتاری دُمدو جہاں دے کر سستی ہے یہدو جہاں سے بھی پیاری تمہاری دُم

دُم کی باتیں ہیں پوچھو تو بتائینگے

ایسے موسم پھر کب آئینگے

دُم کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تیری دُم تھی اب یاد آیا

فلموں میں وہ اداکارہ کامیاب ہوتی جس کو دُم لہرانے کا فن آتا یا پھر دُم کے ناچ میں ماہر ہوتیں ٹی وی اور فلموں میں انہیں اداکارؤں کو چانس دیا جاتا جن کی دُم لمبی اور خوبصورت ہوتی۔۔۔۔

محبوب اپنی محبوبہ سے کہتا''دیکھو سویٹی،میں تمہاری دُم کے لئے کتنا خوبصورت ہار لے آیا ہوں۔''یا پھر کہتا ''ڈارلنگ میری پاس اتنی دولت ہے کہ تمہیں سر سے دُم تک زیوارت سے سجا سکتا ہوں۔

''اگر ہمارے دُم ہوتی تو سٹوڈنٹس کلاس میں کرسیوں پر بیٹھنے کے بجائے دُم پر سے لٹک کر کلاس اٹنیڈ کرتے یونیورسٹی میں ایک نئے ڈیپارٹمنٹ کا اضافہ ہوجاتا اور اس کا نام ''ٹیلوجی ڈیپارٹمنٹ'' ہوتا جہاں داخلہ میرٹ کی بجائے دم کی لمبائی پر دیا جاتا ہر ڈیپارٹمنٹ میں ''ڈس ایبلڈ'' کے ساتھ ساتھ بغیر دُم والوں کے لئے سیٹ مختص ہوتی۔۔۔

شریف لوگ اپنی دُم سمیٹ کر رکھتے مگر نوجوان اس کو کھلا چھوڑ دیتے یا غلاف کے آخری بٹن کھول رہتے ۔۔،ہارٹ اسپیشلسٹ کی طرح ''دُم اسپیشلسٹ'' ہوتے ۔دم کی بیماریوں پر تحقیق ہوتی اگر کوئی بیمار ہوتا تو لوگ کہتے کہ دیکھو تو،دم سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہےدم کے لئے نت نئے تیل ایجاد ہوتے اور جن لوگوں کی دُم ٹیڑھی ہوتی وہ اس کی سرجری کرتے،دم کے گنجے پن کا سائینٹفک علاج دریافت ہوجاتا بوڑھے لوگوں کی دُم سفید ہوتی تو وہ مہندی یا کالا کولا استعمال کرتے ۔۔بوڑھے نوجوانوں سے کہتے ''یہ دُم میں نے دھوپ میں سفید نہیں کی ہے''۔

حکومت بجٹ میں دُم کی لمبائی کے حساب سے غریبوں پر خصوصا''دُم ٹیکس'' لگاتی۔بے ایمان ٹھیکیدار تعمیر کے وقت سریا کی بجائے غریب لوگوں کی دُم خرید کر لگاتے۔

ٹی وی کے اشتہارات بہت دلچسپ ہوتے۔۔

''ارے یہ کیا،آپ اپنی دُم کٹوا رہی ہیں؟''''یہ دودھ کی دُم تو نہیں کہ اگر کٹوا دی تو پھر نکل آئے گی''''تو میں کیا کروں؟''''ارے آپ باقاعدگی سے''میڈی کیم ٹیل کریم'' استعمال کریں آپ کی دُم کی تکلیف دور ہوجائے گی۔

آپ خود سوچیں اگر ایک دُم ہوتی تو کیا کیا ہوتا اس لئے اچھا ہے کہ اشرف المخلوقات بغیر دُم کے ہے۔۔۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×