Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

بس یادیں باقی

Recommended Posts

بس یادیں باقی

ارے ہمارے تو نصیب ہی برے ہیں ۔ سسر صاحب تو ساری ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر اس جہاں سے ہی گزر گئے اور اماں جان ہیں کہ اپنی جوان بیٹی کو ہمارے سر پر تھوپ کر ویزے کی خاطر امریکہ جا بیٹھی ہیں۔۔ اب بندہ پوچھے ۔۔۔۔جب ہمارے ہنسنے کھیلنے کے دن چھوٹی نند صاحبہ کے ناز اٹھانے میں گزر گئے اور بڑھاپے میں اگر ویزے مل بھی جائیں تو ہمارے کس کام کے ہوں گے؟ اچار ڈالیں گے کیا؟ارے کمبخت مر تی بھی تو نہیں ۔اگر ویزہ نہیں بھی ملتا تو کم سے کم اسکے مرنے سے وہ کمرہ تو ہمیں ملے۔ ہم کب تک تک دو دو, بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں وقت گزاریں"۔

بڑی بھابھی شبانہ نے یہ سب کہتے ہوئے چھوٹی بھابھی عالیہ کو آنکھ ماری اور دونوں بات کرتے کرتے سرک کر سونیا کے دروازے کے مزید قریب ہو گئیں تاکہ سونیا بھی اپنے بارے میں اچھی طرح یہ زہر افشانیاں سن سکے اور ہمیشہ کی طرح گھبراہٹ کے مارے کمرے سے نکل کر پوچھے بھابھی کچھ کام ہے کیا ؟ بتائے میں کیا کردوں ؟ وہ دونوں اسی طرح اذیت دے دے کر اسکو اپنا زر خرید بنائے رکھتی تھیں ۔

ابھی بھی ان دونوں نے مل کر اپنے شوہروں سے چوری کمرہ بند کر کے انڈین مووی دیکھنے کا پروگرام بنایا تھا مگر بچوں کے ساتھ ہوتے یہ ممکن نا تھا اس لئے وہ چاہتی تھیں سونیا انکے چاروں بچوں کو سنبھالے جو ابھی ابھی تھکی ہاری کالج سے آنے کے بعد کھانا بنا کر برتن دھو کر اپنے کمرے میں کپڑے بدلنے گئی تھی۔

حسب توقع اپنے بارے میں یہ سنتے ہی سونیا گھبرا کر باہر نکلی ۔ابھی اس غریب کو کپڑے بدلنے کا وقت بھی نہیں ملا تھا،اسکے دیکھتے ہی چھوٹی بھابی چمک کر بولیں۔ "ہماری شہزادی کو تو بس اپنے کمرے میں گھسنے کا بہت شوق رہتا ہے ہر وقت۔ آخر ایسا کیا ہے وہاں؟"

سونیا خاموش رہی ۔ان سے کیا کہتی وہاں اسکی ماں کی یادوں کے سوا رکھا کیا تھا۔ چند کتابیں ،کچھ اونچے اونچے خواب جہاں ایک امیر شہزادہ آ کر اس کو اس درد بھری زندگی سے نکال لے جائے گا کہیں دور کسی پھولوں خوشبوؤں اور رنگوں کی دنیا میں جہاں سب کچھ طلسماتی سا ہو گا۔ اسکے علاوہ ایک ٹوٹا پھوٹا کیسٹ پلئیر جس میں وہ پوری رات ایک ہی گانا بار بار سنتی رہتی تھی

مائیں نی میں کینوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی

دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن،آہاں دا بالن بال نی

مائیں نی مائیں نے۔۔۔

ساتھ ساتھ گنگناتے ہوئے جانے کتنے آنسو بہتے ہی چلے جاتے اور اسے خبر تک نا ہوتی۔سونیا کو رات میں مشکل سے چار یا پانچ گھنٹے اپنی ذات کے لئے ملتے تھے ان میں بھی وہ چاہے تو سو لے چاہے تو پڑھ لے ۔۔۔۔مگر بھابھیاں دن کا ایک لمحہ بھی اسے دینے کو تیار نا تھیں اور چاہتی تھیں وہ سارا دن بے دام غلام بنی انکے سامنے ہاتھ جوڑے حاضر رہے۔۔

اب بھی بچوں کو سنبھالنے کا حکم سن کر وہ جواب میں کچھ نہ بول سکی اور اپنی ڈبڈبائی آنکھوں کو سختی سے بھنچتے ہوئے اندر ہی اندر آنسو روکنے کی کوشش کرنے لگی۔

"اچھا اچھا ملکہ جذبات اب یہ ٹسوے بہانا شروع مت کرنا خدا کے لئے ۔۔۔چھوٹی بھابی عالیہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے ۔ پتہ نہیں اس لڑکی کی آنکھوں میں اتنا پانی کہاں سے آ تا ہے میں تو کہتی ہوں اسکے آنسوؤں سے تو ایک نیا "جھمیلا" ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈینگ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا "۔اس بات پر دونوں بھابھیاں کھلکھلا کر ہنس دیں۔

"بس کرو بہن یہ رونا دھونا ۔۔۔ اور بچوں کو سنبھالو ہمیں دروازہ بند کر کے کچھ کپڑے سینے ہیں۔ بچے" مشین میں ہاتھ مارتے ہیں سینے نہیں دیتے۔ خبردار جو ایک بھی بچہ ذرا بھی رویا ہو یا کسی کو ہمارے پاس بھیجا ہو۔ ہم خود کام ختم کر کے باہر آئیں گے" بڑی بھابھی نے چاروں بچوں کو اسکے حوالے کرتے ہوئے کہا۔

سونیا نے اپنی سسکیوں کا سینے میں گلا دباتے ہوئے ان چاروں بچوں کو ساتھ لیا اور اپنے کمرے میں آ گئی۔ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی وہ خود کو روک نہ پائی اور دیوار سے سر ٹکا کر زور زور سے رونے لگی

"امی امی امی ۔ وہ بار بار یہی تکرار کئے جاتی تھی"

کیوں چھوڑ دیا مجھے یوں اکیلا ؟ کاش میں مر جاؤں۔ بچے بھی اسے روتا دیکھ کر سہم گئے اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اسکے آنسو صاف کرنے لگے۔ وہ بھی اس روز کے ڈرامے کے عادی تھے ۔ اپنی پھپھو سے بہت پیار کرتے تھے مگر عمر کے اس حصے میں تھے کہ اپنی ماؤں کو غلط سمجھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اپنی پھپھو کا دکھ کیسے سمیٹیں یہ بھی سمجھ نا پاتے تھے سو بس اسکی گود میں چپکے بیٹھے رہتے۔

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

باپ کے مرنے کے بعد اسکی امی کو ماموں نے زبردستی اپنے پاس امریکہ بلا لیا تھا تاکہ وہاں نیشنیلٹی لینے کے بعد وہ اپنے سب بچوں کو بلا سکیں گی۔ اسی لئے پچھلے سات سال سے اسکی ماں امریکہ میں تھی ۔ وہاں وہ ایک بسکٹ فیکٹری میں کام کر کہ پیسہ پیسہ جوڑ کر ان لوگوں کے آنے کے لئے ٹکٹ اور گھر بنا رہی تھی۔ مہینے میں ایک بار فون پر بات ہوتی تو اتنی مختصر کہ جب اسکی باری آتی بھابیاں سر پر کھڑی ہو جاتیں کہ کہیں کوئی شکایت نا کر دے۔ وہ بس ریسیور کانوں سے لگائے چپ چاپ ہزاروں آنسو لٹاتی اپنی مجبور اور بے بس ماں کی آواز سنتی رہتی۔

وہ خود ابھی اتنی بڑی نہ تھی صرف کالج کے فسٹ ائیر میں ہی تو تھی۔ ابھی تو اسکا اپنا بچپنا تھا۔۔۔۔۔ کاش ۔۔۔۔۔کوئی اسکے ناز اٹھانے والا ہوتا، کاش کوئی دنیا میں ایسا بھی ہو جو اس کا خیال رکھے۔۔۔۔ وہ اکثر حسرت سے سوچتی اور پھر خود دوسروں کا خیال رکھنے کو تیار ہو جاتی ۔ حالات نے اسے اپنی عمر سے بہت بڑا اور سمجھدار بنا دیا تھا ۔الٹا وہ سب کا خیال رکھتی تھی سب کے ناز اٹھاتی تھی۔اسکے دونوں بھائی ایک جنرل اسٹور کے مالک تھے سارا دن گھر سے باہر رہتے۔ رات 10 بجے آتے تو بیویوں کے ناز نخرے اٹھانے سے فرصت نا ملتی تو ایسے میں بیچاری بہن کے دکھ کیا سنتے یا کیا سمجھتے؟

جب بھابھیوں کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئے تو اس نے اپنے بڑے بھائی کو خودکشی کی دھمکی دے کر ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیا، بھائی نے اسکو بہت سمجھایا کہ ہوسٹل میں رہنے سے لوگ اس کو شریف نہیں سمجھیں گے کیونکہ سب کو معلوم ہے اس کا اپنا گھر اسی شہر میں ہے۔۔پھر کیوں رہنا چاہتی ہے۔۔۔ مگر پھر اسکی دھمکی سے ڈر کے چھوڑ گئے مگر اس سے بڑی بڑی قسمیں لیں کہ وہ ہوسٹل میں رہ کر اپنے خاندان کی عزت کا پورا پورا خیال رکھے گی اور بے جا ۤزادی سے مکمل پرہیز کرے گی۔۔۔۔جسکا اس نے وعدہ کر لیا۔

ہوسٹل میں اسکے کمرے میں چار لڑکیاں تھیں ۔ سب کی سب بہت شرارتی اور زندگی سے بھرپور۔ ان سب نے مل کر اسکا نام اداس شہزادی رکھا ہوا تھا کیونکہ وہ اکثر شام کو نہا کر اپنے لمبے لمبے بال کھولے چپ چاپ گھنٹوں سیڑھیوں پر بیٹھی رہتی ۔۔۔کسی سے کوئی بات نا کرتی نہ ہی کسی بات کا جواب ہوں ہاں سے آگے بڑھتا۔

لوگ ایسے بہت مغرور سمجھتے تھے کیونکہ وہ بہت حسین تھی۔ جو بھی اسکو دیکھتا ،بس دیکھتا ہی رہ جاتا، خاص طور پر گھٹنوں تک لمبے خوبصورت بال اور لمبی لمبی پلکوں والی نشیلی آنکھوں پر تو اسکے کالج کی ساری لڑکیاں ویسے ہی فدا رہتی تھیں اور اس کی پلکیں ہاتھوں سے کھینچ کھینچ کر یقین کیا جاتا کہ یہ نقلی نہیں بلکہ اصلی ہیں۔ لڑکوں کا تو ذکر ہی کیا۔ جو ایک جھلک دیکھ لیتا تو نظر پلٹنا جیسے بھول جاتا تھا ۔ اس کی روم میٹ بیلا اکثر اسے چھیڑتی اور کہتی "کاش میں لڑکا ہوتی میری اداس شہزادی تو تم کو کہیں اور جانے نا دیتی" جواب میں وہ بس جھینپ کر مسکرا دیتی۔

اسے بچپن سے کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا اپنی تمام تر جمع پونجی وہ صرف کتابیں خریدنے میں صرف کرتی۔ ایک دن اس نے دیکھا تھا شملہ پہاڑی کے پاس ایک بابا جی زمین پر کپڑا بچھائے پرانی کتابیں بیچ رہے ہیں۔ بس اس دن سے بار بار وہ انکے پاس جاتی اور ہر بار پرانی کتابوں کا ایک نیا بنڈل خرید لاتی۔ یہ کتابیں ہی تو اسکی تنہای کا واحد سہارا تھیں۔۔

آج چوتھی بار تھی جب وہ کتابیں لینے آئی تو اسی لڑکے کو رحمت بابا کے پاس پھر سے کتابیں چھانٹتے دیکھا جسے پہلے بھی وہاں کئی بار دیکھ چکی تھی۔ اب کی بار وہ اسکو محض ایک اتفاق ماننے کو تیارہ نہ تھی کہ وہ اچانک آج بھی وہاں آ گیا ہے ۔اس کو شک ہو رہا تھا یہ ضرور میرا پیچھا کرتا ہے۔۔۔مگر کبھی پیچھا کرتے دیکھا نہیں تھا۔.

وہ دیکھنے میں کوئی ہیرو بالکل نہیں لگتا تھا ۔ بالکل عام سی شکل و صورت کا عام سا لڑکا تھا جسکے پاس ایک پرانی سی بائیک ہوتی تھی مگر ایک چیز اس میں بہت خاص تھی بہت ہی خاص جو آج تک سونیا نے اپنے طرف اٹھنے والی کسی اور نظر میں نہیں دیکھی تھی وہ تھی اسکی پاکیزگی اور شرافت۔

وہ سونیا کو اتنے پیار اور احترام سے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا جیسے وہ کوئی بہت نازک اور ماوراء ہستی ہے اور جیسے ہی سونیا کی نظر سے نظر ملتی گھبرا کر ایسے منہ پھیر لیتا جیسے کو ئی جرم کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو ۔ وہ لاکھ چاہنے پر بھی سونیا کو برا نہ لگتا اورنہ ہی اس سے کچھ خوف محسوس ہوتا ورنہ وہ آ ۤوارہ ہوس میں لتھڑی نگاہوں سے بہت خوف کھاتی تھی اور اشد ضروری کام کے علاوہ ہوسٹل سے باہر کھبی نہیں جاتی تھی۔

ابھی وہ چند ہی کتابیں چھانٹ پائی تھی کہ دیکھتے دیکھتے اچانک بارش شروع ہو گئی ایک دم اندھیرا پھیل گیا اور اتنی تیز بارش کہ پل میں جل تھل ہو گیا ۔ اسکے پورے کپڑے بھیگ کر بری طرح چپک گئے۔ رحمت بابا نے جلدی جلدی اپنی کتابیں پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالنی شروع کیں تو وہ دونوں بھی انکی مدد کروانے لگے۔۔۔ بابا نے اسکی حا لت دیکھ کر کہا "عمیر بیٹا تم سونیا کو ہوسٹل چھوڑ دو ایسے اکیلے میں کھڑے ہونا مناسب نہیں لگتا رات بھی ہونے والی ہے"

سونیا نے بہت خوف اور گھبراہٹ میں انکو دیکھا ۔وہ اپنے اصولوں کی بہت پکی تھی اور اپنے بھائیوں سے کیا وعدہ بھی نبھانا جانتی تھی ۔اپنے خاندان کی عزت بہت پیاری تھی۔۔۔۔اس لئے ایسا ویسا کوئی رسک نہ لینا چاہتی تھی کہ جسکا نتیجہ کچھ برا ہو سکتا ہو۔۔۔ یا خدا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا۔۔۔۔ اسکا تذبذب دیکھ کر بابا نے کہا "بیٹیا عمیر بہت نیک اور اچھا لڑکا ہے ۔۔۔۔ میں برسوں سے اسے جانتا ہوں تم کو ئی فکر نا کرو اور اسکے ساتھ چلی جاؤ اتنی بارش میں تنہا کھڑے ہونا اچھی بات نہیں"

خیر بہت پریشانی اور الجھن میں وہ اسکے ساتھ ہوسٹل کا پتا بتا کر آ تو گئی مگر جلدی میں عمیر سے اپنا کتابوں کا تھیلا لینا بھول گئی۔ اگلے دن گیٹ کیپر نے جب کہا اسکا کوئی "ویزیٹر" آیا ہے تو وہ بہت حیران ہوئی ۔ اسکے بھائی صرف اتوار کو ملنے آتے تھے آج پیر کو کون آ گیا۔۔۔ وہ گھبراہٹ میں دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھ کر جب گیت پر آئی تو عمیر کو سامنے دیکھ کر سخت حیران ہوئی بلکہ نا چاہتے ہوئے بھی واضح ناگواریت آنکھوں سے چھلکنے لگی اور دل میں سوچنے لگی۔ اوہ ۔۔۔۔نو۔۔۔ وہی فرسودہ لفٹ لینے کا طریقہ۔۔۔۔۔ مجبوری میں لفٹ کیا لے لی ۔یہ صاحب جان کو آ جائیں گے اب ۔۔۔۔میں یہ فلمی سٹوری کبھی شروع نہیں ہونے دوں گی ۔ میں ایسی نہیں ہوں یہ مجھے غلط سمجھ کر آیا ہے۔ ۔میں ایک شریف خاندان کی شریف بیٹی ہوں اور مجھے اپنے بھائیوں کا سر کبھی نہیں جھکانا ہے ایسی ویسی حرکتوں سے نہ ہی اپنے خاندان کو بدنام کرنا ہے۔

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

واہ گرو جی واہ! ایک اچھوتی کہانی! اور ہیرؤئن کی وہی مظلومانہ کہانی! لیکن پھر بھی اچھی ہے پڑھنے کو دل کرتا ہے۔ ہیروئن کا کریکٹر ابھی تک تو ٹائٹ ہے دیکھنا یہ ہے کہ یہ کب ڈھیلا ہوتا ہے۔

Best Of Luck

Edited by lund4phuddies
الفاظ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Guru Jee, Story ka pehla Part padh kar aisa laga ke "Aap ne "Kahani Ghar Ghar ki" ko start kar dia hai, Kiu ke Hamare Muaashre may takreeban her ghar may yahi kahani hoti hai.

Lykin Story ke doosre Part se hi Asal Kahani shuru huwi hai

Waiting for Updates

Aur haan Thanks for such a nice and Social Story.

Share this post


Link to post
Share on other sites

ابھی اس نے عمیر کے سامنے پہنچ کر کچھ کہا بھی نہیں تھا کہ عمیر نے اسکی کتابوں والا تھیلا آگے کر دیا۔ یہ آپ کل بھول گئیں تھیں۔ اوہ ۔۔۔میری کتابیں؟ یہ دیکھتے ہوئے وہ سارا غصہ بھول گئی اور مسکرا کر شکریہ ادا کیا۔ اسکی مسکراہٹ سے کچھ حوصلہ پا کر عمیر نے سرخ گلابوں کا گلدستہ اسکے سامنے کر دیا۔

"جی۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے ہاتھ میں پھول دیکھ کر بھونچکی رہ گئی اور پھر سے سخت پریشان ہو کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اور بولی "۔۔ جی نہیں۔۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ مجھے یہ پھول نہیں لینے ۔یہ آپ کیوں لائے ہیں؟" اسکے خوبصورت چہرے پر غصے کی بجلیاں سی کوند گئیں۔

اسکو پیچھے ہٹتے دیکھ کر عمیر بھی شرمندہ سا ہو گیا اور سر جھکا کر بولا " "مجھے زیادہ آداب نہیں آتے مگر سنا ہے ہوسٹل میں آنے والے پردیسیوں کے لئے کچھ نہ کچھ سوغات ضرور لاتے ہیں۔ آپ شاید او ر تو کوئی چیز قبول نہ کرتیں اور خالی ہاتھ آنا مجھے اچھا نہیں لگا اس لئے پھول ہی لے آیا مگر کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ ناراض مت ہوں میں انکو ابھی کوڑے میں پھینک دیتا ہوں۔" وہ پاس ہی بنے ٹریش کین کی طرف بڑھا تو وہ پھولوں کی شیدائی تڑپ ہی تو اٹھی" نہیں نہیں۔۔۔۔ اتنے خوبصورت پھول ہیں ۔ پلیز مت پھینکیے، رہنے دیں میں ہی رکھ لیتی ہوں۔ مگر آپکو اگر لانا بھی تھا تو کم سے کم سرخ گلاب ہرگز نہیں لانے تھے ۔ کوئی بھی دوسرا رنگ لے آتے ۔

مگرکیا دوسرے رنگ کے گلابوں پر آۤپ کو اتنا غصہ نہیں آتا؟ عمیر نے حیرت سے پوچھا؟

ۤآتا تو ۔۔مگر اتنا نہیں۔۔۔۔۔۔وہ پھرسے گھبرا گئی اور کوئی بات نہ بن پڑی تو جھلا کر اسی پر برس پڑی۔

آ پکو نہیں معلوم کہ سرخ گلاب دینے کا کیا مطلب ہوتا ہے ؟

""جی نہیں مجھے تو بالکل نہیں معلوم۔" ۔۔۔۔۔۔ عمیر اپنی شرارت آمیز ہنسی ہونٹوں میں دبا کر بڑی سنجیدگی سے بولا، میں تو پھولوں کو بس پھول سمجھتا ہوں۔ آپکو پتا ہے تو میرے علم میں بھی اضافہ کر دیجئے پلیز"

اچھا ۔۔۔اگر آپ کو پہلے معلوم نہیں تھا تو اب غور سے سن لیں۔۔۔ وہ اپنے سر پر دوپٹہ ٹھیک سے جماتے ہوئے بہت ناصحانہ انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔یہ سرخ پھول تو صرف محبت۔۔۔۔۔۔۔" کہتے کہتے جو عمیر کو اپنی طرف بہت پیار اور شرارت سے دیکھ کر مسکراتا پایا تو بری طرح جھنپ کر خاموش ہو گئی اور جلدی سے بات بدلنے کو بولی ۔۔"بس دوبارہ کھبی سرخ گلاب مت لائے گا اگر لانے ہیں تو کوئی اور رنگ ہی لائیں"

"دوبارہ ۔۔جب آؤں۔۔۔۔?" وہ اس کے سامنے پوچھنے کو جھکا ۔۔۔ تو گویا آپ بھی جانتی ہیں میں دوبارہ ضرور آؤں گا؟"

وہ شرارت سے ہنسا تو وہ بری طرح سٹپٹا گئی اور خود کو کوسنے لگی کہ انجانے میں خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار بیٹھی تھی۔۔

سونیا نے عمیر کو بہت روکنا چاہا۔ اپنی عزت کے واسطے دے کر، بہت روئی پیٹی۔ اپنے اور اپنے خاندان کی عزت کی قسمیں دیں ۔ بار بار اس کو بتایا یہ سب محبت وغیرہ شادی کے بعد ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔اس سے پہلے صرف جھوٹ اور گناہ کی باتیں ہیں۔ رسوائی اور ذلت کی داستان ہے۔ پھر اپنے بھائیوں سے کئے وعدے بتائے۔۔۔ اپنی جان دینے کی دھمکیاں بھی دے ڈالیں مگر عمیر کے طولانی عشق کے سامنے اسکی کو ئی پیش نہ چلی۔ وہ لاکھ چاہنے پر بھی عمیر کی محبتوں پر کوئی بند نہ باندھ سکی اور مجبور ہو کر خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا کیونکہ شاید وہ بھی بچپن سے محبتوں کی ترسی ہوئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار اتنا مان اور پیار ملا تو خود کو بچانا مشکل ہو گیا۔

عمیر تو سونیا کا جیسے دیوانہ تھا وہ اسکے لئے روزانہ گجرے لاتا ۔ پھولوں کے بڑے بڑے گل دستوں سے ہر وقت اسکا کمرہ مہکا کرتا۔ ۔ اسکے ساتھ ساتھ روم میٹس کے لئے بھی بہت سا کھانا لاتا۔ سونیا کے لئے دیسی انڈے۔ مکھن ۔دیسی گھی لاتا کہ ہوسٹل میں اور کون اسکا خیال رکھتا ہو گا بھلا۔ سردیاں آئیں تو نیا کمبل لے آیا۔ گرمی شروع ہوی تو نیا پنکھا لا دیا۔ وہ چیختی رہتی"

مجھے یہ سب نہیں چاہئے پلیز ۔ مجھ پر اپنا پیسہ یوں برباد مت کرو ورنہ ہم اپنا گھر کیسے بنائیں گے۔ ابھی تو تم پر چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی ہے اور تمھاری معمولی سی جاب ہے اور تم ساتھ ساتھ پڑھ بھی رہے ہو، اپنے پیسے بچا کر رکھو،"

"انکی فکر کرنے کے لئے خدا جو ہے وہ مسبب الاسباب ہے ۔ ہر کوئی اپنے نصیب کا ساتھ لاتا ہے۔۔۔ عمیر آسمان کی طرف اشارہ کرتا"

عمیر کا بس نہ چلتا کہ سونیا کو اپنے کھال کی بھی جوتیاں بنا کر پہنا دیتا۔ ہر روز صبح 4 بجے اٹھ کر نہا دھو کر تیار ہوتا اور 2 گھنٹے سخت سردی میں بائیک چلا کر اسکے ہوسٹل پہنچتا اور جب وہ کالج کے لئے نکلتی تو اسے ہمیشہ پہلے سے اپنا انتظار کرتا ہوا پاتی ۔ وہ کسی کانچ کی گڑیا کی طرح اس کی حفاظت کرتا تھا۔ خود اسے کالج چھوڑ کر آتا۔ پھر وآپسی پر بھی لے کر ہو سٹل چھوڑ دیتا۔ وہ اسکو زمانے کے سارے سرد و گرم سے کسی مضبوط سائباں کی طرح بچائے ہوئے تھا

اس قدر محبت پا کر سونیا تو جیسے ہواؤں میں اڑتی تھی۔۔۔ وہ بات بات پر بلا وجہ اس سے ناراض ہو جاتی۔ اپنے بہت ناز اٹھواتی اور ان سب کو عمیر کی محبت سمجھنے کی بجائے اپنا حق سمجھ کر لیتی۔ اپنی خوبصورتی کا صدقہ سمجھا کرتی۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئی تھی کہ پوری دنیا اسکو ایسے ہی چاہے گی۔ یا شاید کہ وہ بنی ہی اس لئے ہے کہ سب لوگ اس سے ایسی ہی محبت کریں گے۔ اسکو خود بھی اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اسے بھی عمیر سے محبت ہے یا وہ محض عمیر کا دل رکھنے کی خاطر اسکی طرف سے زبردستی محبت قبول کر رہی ہے۔ حقیقت میں سونیا نے عمیر کی محبت کو اتنی ہی نخوت سے قبول کیا تھا جیسے کوئی شہنشاہ اپنے حقیر درباریوں کا تحفہ قبول کر لیتا ہے۔

عمیر بار بار اسکو کہتا " میری سونیا میری پیاری سونیا ۔ سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔میں تمھاری خوش قسمتی ہوں۔ گھڑی بھر کے ساتھی تو ہزاروں مل جائیں گے مگر مجھ سا سچا عاشق صدیوں میں ایک پیدا ہوتا ہے۔ اس پیار کی قدر کرو پلیز میری محبت کو "فار گرانٹیڈ" مت لو ورنہ بہت پچھتاؤ گی ایک دن" سونیا اسکی بات کو ہنسی میں اڑا دیتی۔

عمیر سونیا کو کہیں باہر لے کر جانا چاہتا تو وہ ہمیشہ منع کر دیتی اور کہتی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب خراب باتیں ہیں۔بہت گناہ کی باتیں ہیں۔ میں تمھارے ساتھ پارک میں نہیں جا سکتی۔ ہم شادی کے بعد خوب گھومیں گے مگر ابھی مجھے غلط باتوں کی طرف مائل نہیں کرو پلیز۔۔۔۔۔۔ ہمیں ہر حال میں اپنے مذہب اور معاشرتی پابندیوں کا خیال رکھنا ہو گا اور اس میں ایسے گھومنے پھرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔۔ ویسے بھی اگر کوئی جاننے والا مل گیا تو کیا سوچے گا"؟

پھر عمیر کی بہت زیادہ منت سماجت سے تنگ آ کر وہ کبھی کبھی کے وعدے پر شام کو باغ جناح میں چلے جاتے تو دونوں ہر درخت اور پھولوں کے کنج کے پاس بیٹھ کر اندازے لگاتے کہ بانو قدسیہ نے "راجہ گدھ" میں جن جگہوں کا ذکر کیا ہے وہ شاید یہ والی ہو گی یا پھر وہ والی۔

"تم میرے ساتھ ایسا تو نہیں کرو گی سونیا ؟ عمیر آنکھوں میں ہزاروں وسوسے لئے بڑی امید و نا امیدی کی کشمکش میں اسے دیکھ کر پوچھتا ؟ مجھ سے وعدہ کرو میری قسم کھاؤ "راجہ گدھ" جیسا انجام تو نا ہو گا میری محبت کا ؟ ایسا نا ہو آج سے بیس سال بعد ہم بھی ایسا ہی کوئی ناول لکھ رہے ہوں وہ ایکدم انجانے خدشوں سے ببیکل ہو جاتا تو وہ ہنس کر کہتی

"نہیں میں ایسی نہیں ہوں عمیر۔ دیکھ لینا میں لوٹ کر ضرور آؤں گی تمھارے پاس ۔۔۔چاہے آنے میں کچھ دیر ہی کیوں نا ہو جائے" مگرآ ؤں گی ضرور۔۔۔۔۔"

اس پر عمیر بہت جذب کے عالم میں خدا سے وہی اپنی فیورٹ دعا مانگے جاتا اور کہتا " میری خدا سے دعا ہے جب میں مروں تو تمھاری گود میں میرا سر ہو اور یہ دعا پوری ہونے کے لئے ضروری ہے تم زندگی بھر میرے ساتھ رہو تب ہی تو مرنے کے وقت بھی سات ہو گی نا۔ دیکھا میں نے کتنی چالاکی سے دو دعائیں ایک ساتھ مانگ لی ہیں اب تو خدا کو آخری والی پوری کرنے کے لئے پہلی والی بھی ضرور پوری کرنی پڑے گی۔" دیکھا میں کتنا چالاک ہوں۔۔۔۔ وہ خوشی سے مسکرائے جاتا اور چمکتے چہرے کے ساتھ بیٹھی سب سنا کرتی۔

وہ دونوں جب بھی کبھی باغ جناح کی کنٹین میں بیٹھ کر چائے پیتے تو وہاں ہمیشہ ایک ہی گانا لگا ہوتا

دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں

گزاری تیرے سنگ جو لگا کے تجھے انگ جو

وہ پل سب کیا ہوئے نہ جانے کہاں کھو گئے

بس یادیں باقی

جاری ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

ایک دن جب وہ بیٹھے تھے اور حسب معمول یہی گانا لگا ہوا تھا تو سونیا نے اپنے بیگ سے شوخ سے گانوں کی کیسٹ نکالی اور عمیر سے کہا کینٹین بوائے کو دے آئے کہ پلیز اب سے یہ بجانا ۔ وہ رونے دھونے والا گانا سن سن کر کر ہماری روح بھی فریاد کرنے لگی ہیں ۔ہمیں خواب میں بھی یہی گانا سنائی دیتا ہے اب ۔ ہماری زندگی میں کوئی یادیں نہیں ہیں۔نہ ہی کوئی رونا پیٹنا ہے۔ ہم بہت خوش ہیں اور صرف خوشی کو ہی سلیبریٹ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔

دن تیزی سے پر لگا کر اڑتے جا رہے تھے کہ ایک دن اچانک امریکہ سے سونیا کے ویزے کے پیپر آ گئے۔عمیر کا بس نہیں چل رہا تھا سونیا کو زنجیروں سے باندھ کر روک لیتا۔ پلیز مت جاو، سونیا۔۔وہاں جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔

"نہیں مجھے ایک با ر تو جانا ہے اپنی ماں سے ملنے وہ چیخی ، مگر میں وآپس آؤں گی تم دیکھ لینا میں ضرور آؤں گی، میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو بدل جاتے ہیں جن کا خون سفید ہو جاتا ہے" سونیا نے ہزار بار کا کہا جملہ ایک بار پھر سے دہرایا ۔

"اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ مگرمیری ایک شرط پوری کر دو۔، اگر تمہارا پیار سچا ہے تو جانے سے پہلے مجھ سے خاموشی سے نکاح کر لو تاکہ تمہارے پاس وہاں جا کر وآپس آنے کی مضبوط وجہ تو ہو اور دنیا کی کوئی رکاوٹ تمھارا راستہ نہ روک سکے " عمیر بہت اداسی سے بولا

"کیا----------- سونیا کے ہاتھوں سے پھول نیچے گر گئے، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم مجھے اتنا گھٹیا مشورہ دے بھی کیسے سکتے ہو؟۔ مجھے تو یقین ہو رہا ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں بلکہ صرف گرین کارڈ چاہئے اسی لئے ایسے غیر اخلاقی مشورے دے رہے ہو"

، یہ سننا تھا کا عمیر کا چہرہ دھواں دھواں ہو گیا ۔وہ خود کو روک نا پایا اور بہت زور سے سونیا کو چانٹا رسید کر دیا۔ اتنا گھٹیا الزام میری محبت پر لگاتے تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی۔ وہ بہت دکھ سے ٹوٹے لہجے میں بولا"

اور وہ جو صرف اسکی بے پناہ محبتوں کی عادی تھی چہرے پر ہاتھ رکھے گنگ کھڑی رہ گئی۔ یہ پہلی بار تھی ان چودہ مہینوں میں جب وہ اس سے ناراض ہو کر چلا گیا ایک بار مڑ کر بھی نہیں دیکھا۔ سونیا کو سخت غصہ تھا وہ اس ذلت کو بھول نہیں پا رہی تھی۔ غصہ تھا کہ شام کے سائے کی طرح بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

وہ غصے میں پیچ وتاب کھا رہی تھی۔ اس سے ملے بغیر امریکہ جانے کے منصوبے بنا رہی تھی۔ صبح جب کالج جانے کے لئے نکلی تھی حسب معمول سامنے موجود تھا مگر بے حد سرخ آنکھوں کے ساتھ رویا رویا لٹا لٹا سا۔ اسکو دیکھتے ہی سامنے آیا اور بولا "مجھے معاف کر دو پلیز ۔ ورنہ میں اپنا ہاتھ کاٹ دوں گا" وہ سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھ گئی تو وہ اس کے سامنے آ کر زمین پر بیٹھ گیا اپنے دونوں ہاتھ جوڑ ے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ "مجھے معاف کرو پلیز۔ میری محبت کو پہچانو ۔اتنی ظالم نا بنو۔ خود کو خدا مت سمجھو ۔ ایسی محبتیں ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتیں۔ جو تمہیں ملی ہے تو اسکی قدر کرو ،اس سے منہ مت موڑو ایسا نا ہو اپنی بے قدری پر محبت تم سے ناراض ہو کر ہمیشہ کے لئے منہ موڑ لے اور تم زندگی بھر سر پٹختی رہو۔" ۔

سونیا کو امریکہ آئے آج تیسرا دن تھا جب ممانی اسے اپنی دوست آنٹی فاری کے کر گھر چھوڑ گئیں کہ وہاں وہ بےبی سٹینگ میں ہیلپ کر کے انکی مدد کر سکتی تھی اور کچھ پیسے کما سکتی تھی،

فاری آنٹی کا گھر بہت بڑا تھا اور بہت خوبصورت بھی بالکل اسکے خوابوں کی طرح، انکی دو بیٹیاں پا س ہی بیاہ کر گئیں تھیں جو شادی کے بعد بھی ہر وقت اپنے میکے میں پائی جاتی تھیں اور دو بیٹے پڑھنے کے لئے دوسری سٹیٹ میں رہتے تھے۔ ان میں سے بڑا بیٹا اسد اپنی انجینئرنگ ختم کر کے اگلے ہفتے وآپس آنے والا تھا۔ جسکے لئے وہ کب سے پاکستان سے اپنی بھانجی بیاہ کر لانے کو بےتاب تھیں۔

آخر وہ دن آگیا جب اسد کو آنا تھا، سونیا نے آنٹی کے ساتھ مل کر بہت سے اچھے اچھے کھانے بنائے ۔ جب اسد آیا اور سونیا کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اتنی پیاری لڑکی اور اتنی سلیقہ مند بھی۔ بس اس نے نے تو ماں کا پیچھا لے لیا شادی ہو گی تو سونیا سے ورنہ کسی سے نہیں۔اپنی بیٹے کی ضد سے مجبور ہو کر انھوں نے شادی کا پیغام دے تو دیا مگر دل میں بدلہ لینے کی ٹھان لی کہ وہ بھی اسکو جلدی طلاق دلوائیں گی اور اپنی بھانجی کو ضرور لا کر رہیں گی۔

جب سونیا کو علم ہوا تو وہ بہت پریشان سی ہو گئی۔ گھر والوں کا بھی بہت ذیادہ دباؤ تھا کہ وہ امریکہ میں ہی اسد سے شادی کرے اور اسے پاکستان میں شادی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے ہر حال میں اسکو امریکہ میں ہی کسی سے شادی کرنی ہے تو پھر اسد ہی کیوں نہیں ؟

،اسکا ضمیر عمیر کے پاس جانے پر مجبور کرتا مگر دل گھر والوں کے دباؤ کے علاوہ فاری آنٹی کے گھر کی چمک دمک میں الجھ رہا تھا اور پھر کہاں ایک عام سی شکل و صورت والا عمیر اور کہاں ناولوں کے ہیرو جیسا خوبصورت اسد۔ ۔ ان دونوں کا کیا مقابلہ ہے بھلا؟ اور ویسے بھی عمیر ہی مجھے چاہتا تھا۔میں تو نہیں چاہتی تھی اس کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو بس اس کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ اس لئے محبت کا جواب محبت سے دینے پر مجبور تھی۔۔

تین دن تک وہ سخت شش و پنج میں رہی کھبی اسد اور کھبی عمیر۔ اس سے فیصلہ ہو کے نہ دیتا تھا ۔ آخر کار دستور دنیا کے عین مطابق محبت ہار گئی اور دولت جیت گئی۔ایک مہینے کے اندر اند وہ اسد کی دلہن بن گئی۔ نکاح نامے پر سائن کرتے وقت اسکو بالکل اندازہ نہیں تھا اس نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ہے اور وہ اپنی خوشی نہیں بربادی کے پروانے پر سائن کر رہی ہے۔۔ اپنی تئیں وہ خود کو اس وقت فاتح عالم سمجھ رہی تھی۔

اسکو علم تو تھا وہ ان چاہی بہو ہے مگر شادی کے تیسرے دن ساس اسے کچن میں کھڑا کر دیں گی ہمیشہ کے لئے خود چھٹی کر لیں گی اسکا یقین نہیں آتا تھا، سارا سارا دن دن انکی بیٹیاں اپنے بچوں کو لے آتیں۔ اپنے دوستوں کو بھی لاتی تھیں۔ انکے شوہروں کی فرمائش پر کھانے پکاتے پکاتے وہ ہلکان ہوتی رہتی۔ اسد کا شوق تو جیسے شادی کے پہلے دن ختم ہو گیا تھا۔ ہر وقت ماں بہنوں کے شکوے سن سن کر اپنی بیوی سے نفرت کرنے لگا تھا اور اسکو ایک نوکرانی سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھا۔، وہ ایک ایک پیسے کے لئے ترستی۔ اپنی انتہائی ذاتی ضرورت کی چیزیں بھی نہیں لے سکتی تھی۔ وہ ڈرتے ڈرتے اسد سے کہتی تو وہ چلا کر کہتا۔ "پیسے درختوں پر نہیں اگتے ملکہ عالیہ۔۔ کچھ نہیں مل سکتا تمہیں ۔ کوئی نوکری کئے بغیر دو وقت کا کھانا ملتا ہے وہ بھی احسان مانو"۔

سونیا کی ماں نے کچھ پیسے جوڑ کر شادی میں اپنی بیٹی کو کار بھی دی تھی جو اسد نے صرف اپنے نام ٹرانسفر کروا لی اور جب اچانک سونیا نے پیپرر دیکھ کر پوچھا تو وہ بڑی ڈھٹائی سے بولا۔ ہمارےے خاندان میں لڑکیوں کے نام کچھ نہیں کیا کرتے۔سونیا کی پوری زندگی جیسے ایک بہتا ہوا ناسور بن چکی تھی۔ اسکا حسن ماند پڑ گیا تھا ۔ کوئی اسکو دیکھتا تو پہچان نا سکتا۔ عمیر کے جملے بار بار اسکے کانوں میں گونجتے، میری محبت کی بے قدری نہ کرو ، کوئی اور تم کو اتنا نہیں چاہ سکے گا۔

اسکی حثیت گھر میں ایک زر خرید سے زیادہ نہیں تھی۔ سارا دن اسکے دل کا درد آنکھوں سے قطرہ قطرہ بن کے بہتا رہتا اور دل کی دھڑکن تو جیسے ہر بار عمیر کا نام پکارتی تھی ہر سانس کے ساتھ ۔ جیسے جیسے ماہ وسال گزرتے جا رہے تھے عمیر کے لئے اسکا پیار بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اسکو اچھی طرح علم ہو چکا تھا عمیر ہی اسکی زندگی میں خوش قسمتی لایا تھا مگر اپنی کم عقلی سے اس نے کھو دیا تھا۔ اب پچھتانے سے کیا ہو سکتا تھا۔ کبھی کھبار اسد اسکو جیسے ٹریش کین کے طور پر استعمال کر کے حق زوجیت ادا کر دیتا اور بس۔ اسکی اپنی بے شمار مصروفیات تھیں اور اس سے بھی زیادہ گرل فرینڈزتھیں ۔ اسکی زندگی میں سونیا کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

آج بھی جب سونیا نے اپنی نندوں اور انکے شوہروں کی پسند کا کھانا بنایا ۔ پورا گھر صاف کیا، بچوں کو سارا دن سنبھالا ۔ اسکی کمر ٹوٹ رہی تھی پھر بھی سارے کپڑے دھوئے۔ استری کر کے رکھے اور کمر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے شام کو اپنے کمرے میں جانے لگی تو ساس بولیں۔ تم جا کر نہاری کا گوشت لے آو، ۔ نازلی کے ساتھ اس کی ایک دوست فیملی بھی آ رہی ہے ۔انکو نہاری بہت پسند ہے ۔ ابھی بنانا ہو گی تم کو ان کے آنے سے پہلے پہلے سب بنا کر رکھ لو۔

وہ کچھ بھی بول نا سکی خون کے گھونٹ پی کر رہ گئی آنسو پیتی چابیاں اٹھا کر گوشت لینے نکلی تو ہسپتال کے سامنے کار کا ٹائر پنکچر ہو گیا، اسکو کوستی باہر نکلی تو اسپٹال کے گراؤنڈ میں ایک پاکستانی عورت کو سجدے میں پڑے بلکتے دیکھا تو رہ نا سکی۔ اپنا غم بھول کر اسکے سامنے بیٹھ گئی اور جب اس نے چہرہ اٹھایا تو حیران رہ گی وہ بیلا تھی اسکی ہوسٹل کی روم میٹ جو ہمیشہ اسے عمیر کی سچی محبت کا یقین دلاتی تھی اورباقی لڑکیوں کی طرح عمیر کی غربت یا کم صورتی کا مذاق نہیں اڑاتی تھی۔

سونیا ۔۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ حیرت اور دکھ سے چیخی۔۔۔ اسے دیکھ کر بیلا کے لبوں سے جیسے آہ سی نکلی۔

"کہاں چلی گئی تھیں تم ۔۔۔بہت برباد کیا تم نے سونیا ۔۔۔ مجھے بھی اور عمیر کو بھی۔، ہماری زندگی سے جا کر بھی ہمیشہ میری سوکن بنی رہی۔۔ تمہارے جانے کے بعد عمیر بار بار ہوسٹل آتا اور گھنٹوں اس بنچ پر اکیلا بیٹھ کر ہچکیوں سے روتا رہتا تھا جہاں تم دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔۔۔ مجھ سے اسکی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تھی، تمھاری شادی کے بعد میں نے خود اسکی منتیں کر کے اس سے شادی کر لی تاکہ وہ اس طرح بلک بلک کر تمھاری ہر چیز کو دیکھ کر رونا چھوڑ دے ورنہ وہ تو اتنے غم میں شاید مر ہی جاتا۔

کیا تمہیں یقین آئے گا میں اسکے ساتھ باغ جناح میں جا کر گھنٹوں اس بنچ کے پاس بیٹھی رہتی جہاں تم بیٹھا کرتی تھیں اور وہ اسکو چھو چھو کر روتا رہتا۔ میں تمھارے بنچ پر بیٹھ کر تمہارے لئے اسکا رونا اور تڑپنا دیکھا کرتی تھی۔۔ میں آج تک فیصلہ نہیں کر سکی تم دنیا کی سب سے زیادہ خوش نصیب لڑکی ہو(جسکو اتنی شدت سے چاہا گیا ہے( یا دنیا کی سب سے ذیادہ بدنصیب لڑکی ہو (کہ جس نے اس پیار کو ٹھکرا دیا ہے)؟۔

"عمیر نے زندگی میں مجھے کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی نا کبھی کسی چیز کے لئے ترسنا پڑا۔ خدا نے دولت بھی بہت دی بس ایک عمیر نے اپنا دل کبھی مجھے نہیں دیا ۔ وہاں آج بھی تم ہو۔ ۔اس سے زیادہ ظلم کیا ہو گا کہ جب میں دو بار ماں بننے والی تھی تو اس نے میرے کمرے میں تمہاری بڑی سی تصویر لگا دی اور رو رو کر مجھ سے کہا

" تم تو میرا دکھ سمجھتی ہو بیلا۔ پلیز مجھے مایوس مت کرنا، کہتے ہیں ماں اگر کسی تصویر کو بہت زیادہ دیکھے تو بچے بالکل ویسے ہوتے ہیں۔ پلیز میری خوشی کی خاطر تم کو سونیا کی تصویر کو مسلسل دیکھنا ہو گا اور تم کو یقین نہیں آئے گا میں نے نو مہینے تمھاری تصویر کو بہت دیکھا صرف اپنی محبت کی خوشی کے لئے۔ یہ دیکھو میرے دونوں بچوں کی شکل تم سے کتنی ملتی ہے"۔' وہ پرس سے اپنے دونوں بچوں کی تصویر نکال کر اسے دیکھاتے ہوئے بولی۔ بچوں کی شکل حیرت انگیز طور پر سونیا سے ملتی تھی۔ وہ تڑپ اٹھی۔ عمیر کہاں ہے وہ دل کے درد کو دباتے ہوئے چیخی۔؟

"وہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے اسکے گردے فیل ہو نے کے قریب ہیں اور ہارٹ اٹیک ہونے کا بھی شدید خطرہ ہے۔ تمہارے غم نے اسکو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ہے ، چلو مرے ساتھ اندر چلو۔۔۔۔ شاید تمہیں دیکھ کر اسکی کچھ سانسیں بڑھ جائیں" ۔۔بیلا اسے گھسیٹنے لگی۔

یہ سننا تھا کہ سونیا دیوانہ وار اندر کی طرف بھاگی۔ ایک چپل راستے میں گر گئی مگر اسکو ہوش کہاں تھا۔ وہ ٹھوکریں کھاتی گرتی پڑتی بیلا کے ساتھ عمیر کے کمرے کی طرف بھاگ رہی تھی

" نہیں نہیں عمیر میں آ گئی ہوں۔ میں نے محبت کو پہچان لیا ہے ۔ دیکھو میں نے سارے دروازے کھول دیے ہیں۔میں باغی بن جاؤں گی۔ اب کی بار میں صرف اپنے دل کی بات سنوں گی کسی اور کا خیال نہیں کروں گی۔میں بیلا کی نوکرانی بن کر رہ لوں گی مگر مجھے قبول کر لو۔ میری محبت کو میری معافی کو قبول کر لو ورنہ مجھے چین سے موت بھی نصیب نا ہو گی"

وہ چیخ چیخ کر اپنا سر دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔ آج میں وآپس نہیں جاؤں گی جب تک تم مجھے قبول نا کرو گے میں اپنی جان دے دوں گی۔ ڈاکٹر اسکو کمرے سے باہر دھکیل رہے تھے مگر اس نازک سی لڑکی میں محبت کی اتنی طاقت آ چکی تھی کہ کوئی اسے روک نا سکا وہ آکسیجن لگے ماسک کو ہٹا کر عمیرکو جھنجوڑنے لگی۔ وہ اسکے ہاتھوں کو دیوانہ وار چوم رہی تھی۔ اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا ۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنا دل اور گردے نکال کر عمیر کے جسم میں فٹ کر دے۔ ڈاکٹر بالکل مایوس تھے جب عمیر نے اچانک آنکھیں کھول کر سونیا کو دیکھا۔ سب لوگ خوشی سے چیخنے لگے۔ عمیر نے سونیا کو اپنے پاس دیکھا ایک ہلکی غیر محسوس آسودہ سی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر پھیل گئی ۔ سونیا نے آخر کار آج اسکی محبت کا اعتبار کر ہی لیا تھا۔ وہ لوٹ آئی تھی ۔ وہ زندگی ہار کر اپنی محبت جیت گیا تھا۔۔۔ یہ احساس ہوتے ہی اس کے جسم اور روح کا ناطہ ٹوٹ گیا، کم سے کم اسکی ایک آخری خواہش تو پوری ہو گی تھی اور اس نے اپنی خواہش کے عین مطابق اپنی سونیا کی بانہوں میں دم توڑا تھا۔

سونیا پھر ویسے کی ویسے تہی دامن رہ گئی تھی۔ عمیر نے تو اسے معاف کر دیا مگر محبت نے اسکو معاف نہیں کیا تھا ۔ ایک بار اس نے راستہ بدلا تھا اور اب کی بار قسمت اپنی مرضی سے راستہ بدل کر نکل گئی تھی۔

، اسکو اپنی آخری سانس تک یہ سزا اٹھاتے رہنا تھا۔ جب وہ لٹی پٹی اپنی کار میں آۤ کر بیٹھی تو اسکی گاڑی میں ابھی بھی ایک گانا بج رہا تھا جو وہ پچھلے سات سال سے مسلسل سنتی آ رہی تھی۔ جب بھی پرانی کیسٹ ٹوٹ جاتی وہ ایک نئی کیسٹ کے دونوں سائیدز میں ایک ہی گانا بار بار ریکارڈ کروا لیتی تھی

دسمبر کا سماں وہ بھیگی بھیگی سردیاں

گزاری تیرے سنگ جو لگا کے تجھے انگ جو

وہ پل جانے کیا ہوئے ،وہ دن کہاں کھو گئے

بس یادیں باقی۔

ختم شد

گرو سمراٹ

Share this post


Link to post
Share on other sites

mein app se is he type ka end expect ker rahi thi... eik quite similar ci love story hai lekin khbi is se koie sbaiq hasil nhi keta.. may be ab koie ker le. thanks alot for such a nice and beautiful story

Share this post


Link to post
Share on other sites

کہانی کا اینڈ تھوڑا سیڈ ضرور تھا مگر ساتھ میں ایک سبق بھی تھا ان سب کے لیئے جنہیں بن مانگے ہی کچھ مل جائے مگر قدر کھونے کے بعد ہی کرتے ہیں ،،

اگلی کہانی کا انتظار رہے گا ،،شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×