Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
DR KHAN

فحش نگاری

Recommended Posts

میرے عزیز ساتھیو!

بہت سے لوگوں کے لیے میں نووارد ہوں،جو کہ ایک قسم کی میری بدقسمتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ابھی تک ہم سب گھل مل نہیں پائے۔خیر وقت کے ساتھ ساتھ ہم سب شیروشکر ہو جائیں گے۔

آج ہی میری ایڈمن صاحب ،جو کہ میرے قریب ترین رفقا میں شامل ہیں ،سے ایک بحث سی چل پڑی۔

بحث کا موضوع تھا،،فحش نگاری،،۔یقین مانیے تو مجھے اس لفظ کا مطلب کبھی سمجھ نہ آ سکا۔

دنیا میں کیا ایسا ہوتا ہے،جو انسان بیان نہیں کر سکتا۔ہم پاکستان کے قانون کو ہی لے لیں تو یہاں اظہار کی مکمل آزادی ہے۔اب چاہے ہم اسے کسی بھی رنگ میں لیں،مگر یہ سچ ہے۔

ہم ایک عجیب منافقانہ سوچ رکھتے ہیں۔ہم ہر غلط کام کرتے ہیں،گالی گلوچ،جھوٹ،بےایمانی،خواتین اور بچوں کے ساتھ زبردستی،ناجائز تعلقات وغیرہ وغیرہ۔مگر ان کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔کسی چینل پر اگر کوئی ایسی خبر آ رہی ہو تو چینل بدل دیتے ہیں،کبھی ایسی بات چل نکلے تو خواتین اور بچوں کو وہاں سے چلتا کرتے ہیں۔

ہم معاشرے کی برائیوں کو ڈسکس کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

یہ بات ایسے ہی ہے کہ جو اردگرد ہورہا ہے،اسے ڈسکس کرنا غلط ہے۔کیوں؟؟؟

اس بحث کے لیے میں آپ سب موڈریٹر حضرات کو دعوت دیتا ہوں کہ اپنی بات اور اختلافی نقاط بیان کریں۔

میں اپنی دیکھی گئی کچھ امثال یہاں بیان کروں گا۔

ایک بار میں کسی محفل میں شامل تھا اور ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کی کمر میں درد رہتا ہے۔میں نے چند سوالات کے بعد جب ان سے ایک خاص سوال کیا،جس کا جواب میرے لیے کسی منطقی نتیجے پر پہنچنا ضروری تھا،تو ساتھ کھڑی ایک خاتون نے اسے میری فحش گفتاری سمجھا۔ان کے خیال میں کسی خاتون سے ایسا سوال پوچھنا،بدتہذیبی تھا۔اب میں یہ سوچ کر حیران تھا کہ میرا سوال پوچھنا بدتہذیبی تھا یا ان کا اس عارضہ میں مبتلا ہونا۔

اب بیمار ہونا انسان کے بس میں نہیں تو ایسے سوالات بھی ناگریز ہیں۔ان میں فحاشی کا عنصر کیسے پایا گیا؟

میرے ایک دوست جب ٹی وی پر بچوں سمیت کوئی کوئی رومینٹک سین دیکھتے تو فوری طور پر چینل بدل ڈالتے،مگر انہی بیوی بچوں کی موجودگی میں انتہائی فحش گالیاں دینا ایک عام بات تھی۔یعنی مرغی حرام اور شوربہ حلال۔

ہم ایسا نیک اور پاک صاف معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں،جسے گندا بھی ہم نے کیا ہوتا ہے۔

ایک بار ایک جوان سال خاتون کو دوا تجویز کرتے ہوئے میں نے پوچھ لیا :کہیں آپ کی پریگنینسی تو نہیں چل رہی؟

یہ سوال سن کر شرم سےان کا رنگ ہی پیلا پڑ گیا، جیسے میں نے کوئی نامناسب اور اخلاق باختہ بات پوچھ لی ہو۔ظاہر سی بات ہے حمل کے دوران ہزاروں ایسی ادویات ہیں، جو زچہ بچہ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔اسی لیے یہ جاننا ضروری ہوتا ہے۔

ساری خامی ہمارے سسٹم میں ہے۔ سب کرتے سب کچھ ہیں،مگر جو کیا ہے،جو ہو رہا ہے،اسے زیر بحث لانا ہمیں شدید ناگوار گزرتا ہے۔

مثال دیتا ہوں،سیکس یا جنسی تعلقات ۔اب یہ ایک سو فیصد نارمل اور عام عمل ہے،بالکل ویسے ہی جیسے کھانا پینا،سونا جاگنا۔اسی سے ساری دنیا اپنی بقا قائم کیے ہوئے ہے۔

اگر کہیں یہ ٹاپک چل پڑے تو ہم اپنے کان ،آنکھ بند کر لیتے ہیں،کہ اوہو،توبہ توبہ،کیسا گندا موضوع چل رہا ہے۔استغفراللہ،،لاحول ولاقوۃ۔۔۔۔

کئی ممالک میں جوان ہوتے بچوں کو ممکنا خطرات اور جنسی آگاہی دی جاتی ہے۔اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کو سمجھیں اور کسی حالت میں اگر ان معاملات کا شکار ہوں تو اپنے بڑوں کو آگاہ کریں۔

کچھ سال پہلے ایک جوان ہوتی بچی کے ساتھ اس کے سکول وین والے نے زور زبردستی کی کوشش کی جو خوش قسمتی سے ناکام ثابت ہوئی۔بعد میں پتا چلا کہ ایسا کافی دنوں سے چل رہا تھا اور بچی انجانے خوف میں مبتلا ہو کر کسی کو بتا نہیں پا رہی تھی۔

ماں نے کبھی بھی بیٹی سے ایسی بات نہیں کی تھی،جس کے باعث اس موضوع پر ماں سے بات کرنا اسے اس شخص کی زبردستی سے زیادہ مشکل لگا۔اس نے وہ برداشت کر لیا مگر ماں کو آگاہ کرنے کی ہمت نہ جتا پائی۔میں نے جب اس کے والدین سے پوچھا :کیا آپ نے بچی کو کبھی سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو ہمیں آگاہ کرو؟

ان کا جواب تھا کہ بچوں کو ایسی بات کیسے بولیں،یہ بات بچوں سے نہیں کی جا سکتی۔

ہم اپنے بچوں کو کسی قسم کی ایجوکیشن نہیں دیتے۔سکول ،کالج،یونیورسٹیز،اکیڈمیز،یہ سب جگہیں بچوں کو بارہا بار ایسے مسائل سے دوچار کرتی ہیں،مگر انھیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان معاملات سے کیسے نپٹا جائے۔

ایک بار ایک دوست نے سٹیٹس سے بتایا کہ 15 سال کی عمر میں ان کو ان کے ایک ٹیچر نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی،انھوں نے بلاتاخیر ایک تحریری رپورٹ پولیس سٹیشن اور انتظامیہ کو دی۔کیونکہ ایسا ان کو سکھایا گیا تھا۔

یہ چند مثالیں ہیں،ہم سب یہی تو کر رہے ہیں۔اگر کسی جگہ سے ایسا کوئی مواد جو ایسی معلومات دیتا ہو،ملے تو ہم اسے بولڈ یا ناقابل اشاعت قرار دے کر ایک فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔

اب میں اس ساری تمہید کے مین آئیڈیا کی طرف آتا ہوں۔

کیا ہمیں اپنی بول چال اور روٹین میں ایسے معاملات کو سمجھنا چاہیئے یا نہیں؟ہمیں ایسے مواد کو تعمیری نظر سے دیکھنا چاہیئے یا فحش قرار دے کر نظریں چرا لینا چاہیئے؟

آپ کی آرا کا منتظر

فیصل خان

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

ڈئیر فیصل بھائی!۔

سب سے پہلے تو آپ کو مبارک ہو کہ اس نئے سال کے موقع پر آپ نے ایک ایسی بات کہی جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہم سب ہی لوگ عام طور پر شرم و حیاء کا یہ اپنی معاشرتی اقدار کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اس معاشرے سے بغاوت کر کے ایسی کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ہر دو صورتوں میں نفع اور نقصان بالترتیب موجود رہتے ہیں۔

اور پھر آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ۔۔۔۔۔

شادی ایک ایسا لڈو ہے جو کھائے وہ پچھتائے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتائے

اسی کے آگے کسی من چلے نے یہ ٹکڑا بھی لگا دیا جو کہ اصل کہاوت کا کہیں بھی حصہ نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ "جب پچھتانا ہی ہے تو پھر کھا کے پچھتایا جائے" احباب اس بات کو ازراہ مذاق لیتے ہیں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔

تو اب میں آتا ہوں اصل موضوع کی طرف۔ جیسا کہ آپ نےآراء طلب کی۔ (اب میں یہاں پر جہاں آرء کی نہیں بلکہ اُن آراء کی بات کر رہا ہوں جو میرے بعد دیگر ممبران اس فورم پر آپ کے اس تھریڈ میں دیں گے) تو میری ناقص رائے تو یہی ہے کہ جی ہاں بالکل ہمیں اپنی بول چال اور روز مرہ کے معمولات میں ایسے معاملات کو نہ صرف سمجھنا چاہیے بلکہ ایسے تمام مواد کو تعمیری نظر سے دیکھتے ہوئے اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اور پھر اس میں بھی لڈو والی کہاوت صادق آتی ہے (اگر غور کریں تو) بہرحال آپ کا نقطہءنظر اپنی جگہ درست ہے۔ اب دیکھیں باقی کے ممبر کیا بات کرتے ہیں اور کیا آراء پیش کرتے ہیں۔ فقط خیر اندیش راجہ شاہی

Share this post


Link to post
Share on other sites

محترم فیصل بھائی

آپ نے ایک انتہای نازک موضوع پراپنا قلم اٹھایا ھے -

میرے خیال میں تو اس سب کی وجہ ھے تعلیم کی کمی - جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ دنیا کے اکثر ممالک میں بچوں کو جنسی تعلیم دی جاثی ھے - اور بچوں کو اس بارے میں بچپن سے ہی آگاہی حاصل ہو جاتی ھے - جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ھے - اور ہم ابھی تک اسکو بداخلاقی اور فحش نگاری سے تعبیر کرتے ہوے ایسی باتوں سے اجتناب کرتے ھیں- اور ایسی ہی کچھ مثالیں آپ نے خود بیان بھی کر دی ھیں -

میرا خیال ھے کہ اب وقت آ گیا ھے کہ ہمیں بھی اپنے بچوں کو اس بارے میں نہ صرف آگاہ کرنا چاھئے بلکہ اُنکو اسکے فوآئد اور نقصانات بھی بتانا چا ھئے-

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

mera jawab b ap say milta julta hai k sab say bari waja talem ki kami hai jis ki waja say ham ya hamre muhashray k logo ko ye he sai ni pta k konsi bat sai hai or konsi fehash hai hmmm muje itna kuch bolna wagra ni ata qk mai nay kabi tehreri kam ni kia heheheh but jese k kai mumalik mai asa hota hai boht se asay talemi idaray hain jo is bat ki mukamal taleem detay hain us k alawa agr idaray ni to boht se traning sessions munakad kiay jatay hain is kam k leay badkismati say mai nay apni 21 year ki life mai abi tk paksitan mai ak he asa training session dekha hai or rahi bat k waldeen bachon ko ye chez k baray mai agah kren to i think asa posible ni hai hamre muashray hmmm is ki asal waja muje b ni pta hmmmmmmmmm

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

mera jawab b ap say milta julta hai k sab say bari waja talem ki kami hai jis ki waja say ham ya hamre muhashray k logo ko ye he sai ni pta k konsi bat sai hai or konsi fehash hai hmmm muje itna kuch bolna wagra ni ata qk mai nay kabi tehreri kam ni kia heheheh but jese k kai mumalik mai asa hota hai boht se asay talemi idaray hain jo is bat ki mukamal taleem detay hain us k alawa agr idaray ni to boht se traning sessions munakad kiay jatay hain is kam k leay badkismati say mai nay apni 21 year ki life mai abi tk paksitan mai ak he asa training session dekha hai or rahi bat k waldeen bachon ko ye chez k baray mai agah kren to i think asa posible ni hai hamre muashray hmmm is ki asal waja muje b ni pta hmmmmmmmmm

Share this post


Link to post
Share on other sites

اصل میں اب جو معاشرہ آگیاہے بچے ہم سے زیادہ تیز ہو گئے ہیں جو باتیں ہمیں انٹری یا میٹرک میں پتا لگی تھیں وہ یہ لوگ تیسری چوتھی میں سیکھ رہے ہیں۔آپ اگر ایک چھٹی یا ساتویں کی بچی کی چھاتی کو مسلیں تو وہ اتنا ریکٹ نہیں کرے گی جتنا آج کل کی پہلی یا دوسری کی بچی، یہ مشاہدہ مجھے پچھلے دنوں ہوا ہے اور میں نے اس کو عملی طور پہ چیک کیا ہے

Share this post


Link to post
Share on other sites

buhat achay Faisal buhat acha likha aur jansi taleem to baad key cheez hay leekan hamain bachoon ko kum uz kum batana chahiye kah koi agar unn kay jinsi aaza ko hath lagay to foran say paishtar apnay maan baap ko batay bajay iss kay kah woh iss beemari main mubtala ho jay .......

Share this post


Link to post
Share on other sites

Maira jawab kuch mukhtalif hai barahrawi tabhi shuru hoti hai jub aap antey hein kuch jub jantey ni toh kuch pata bhi ni hota......rikshaw waley incident mein maa bhi thik thi lakin understanding itni honi chahiey kah bachi ya bacha apni maa say sub kuch share karey.....rahi baat priscription likhtey

رhuey kisi larki say yeh poochna kah wo pregnant hai or woh red ho gai toh is ka mutlub yeh ni kah sex pasand ni balkey yeh mutlub ho ga kah woh unmerried hai

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×