Jump to content
URDU FUN CLUB
athra jutt

سپنوں کا سوداگر از جٹ صاحب

Recommended Posts

♥♥♥♫♫☻»سپنوں کا سوداگر «♥♥♥♫♫☻

بچپن والدین کی گود میں گزرتا ہے پھر ماں کی گود سے اتر کر زمین کی گود میں آتا ہے ، گردو پیش کے ماحول پے نظر پڑتی ہے تو اچھے برے کی تمیز ہوتی ہے یوں زندگی آگے بھرتی ہے اب ضروری تو نہیں کے جو والدین کی سوچ ھو ووہی بچے کی بھی ھو ، یہی اختللاف ہے مجھے اپنے اور اپنے گھر والوں سے چوبیس کمروں پے مشتمل یہ دو منزلہ کوٹھی جیسس کے ہر کمرے پے لاکھوں روپے تزئین آرائش پے خرچ ہوے ہوں گے اپنے دامن میں ایک وسیع لان بھی رکھتی ہے جیسس کی ہریالی کو برقرار رکھنے کے لئے ہر سال کمو بیش ہزاروں روپے کی سالانہ کھاد بھی ڈالی جاتی ہے .
اپنے ملکوں سے زیادہ نوکروں کی ایک فوج کو اپنے اندر سماے رکھنے والا یہ گھر آشیانہ ک نام سے موسوم ہے مجھے اسس نام سے اختلاف ہے کیوں کے آشیانہ ایک نرم و نازک نام ہے دیں بھر کی شخت دھوپ میں ،خراب موسم میں ؛ تلاش رزق میں سرکرداں مصوم پرندے جب تھک ہار کر جب درختوں میں آ کر چھپتے ہیں تو قدرت بھی ان کی معصومیت پے فریفتہ ہو جاتی ہو گی ، ان پرندوں کے گھونسلے آشیانہ کے نام سے موسوم ہوتے ہیں لیکنحضرت انسان نے ان سے یہ نام بھی چھین لیا چوبیس کمروں کی اس کوٹھی کو یہ نام کیوں دیا گیا ،
اسی بات پے مجھے اختلاف ہے کیوں کے اصولاً اس گھر کا نام قانون گھر یا لا ہاوس ہونا چاہے تھا معاشرے کے جتنے کرخت لیکن معزز ترین لوگ اس گھر میں رهتے ہیں اس گھر میں داخل ہوتے ہی نہ جانے وو مصوم سی چڑیاں بننے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ، میں نے غلط نہیں کہا تفصیل سن لیجئے ،

والد صاحب قبلہ جن کا نام سید حیدر جمال شاہ تھا چنگیزیت کے سب سے بڑھے علمبدار تھے وو محکمہ پولیس سے آئی جی کےعہدے سے ریٹریڈ ہوے تھے وو پوری دنیا کو قانون کی نظر سے دیکھتے ذاتی آنکھوں پے انہوں نےہمیشہ کالے شیشوں کا چشمہ لگے رکھا محکمے نے ان کی ملازمت پوری ہونے ک بعد ان کو ریٹریڈ کر دیا اس میں گھر والو کا کیا قصور مگر وو ہمیشہ گھر والو کو ایک بگھڑا ہوا معاشرہ سمجھا اور گھر والو کو یہ حکم جاری کیا ان کو بسس آئی جی پولیس ہی سمجھا جاتےاگر کسسی نے کوئی رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی تو اسسے پھانسی پے چڑھا دیا جاتے گا

کیوں کے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے سرے اصول یہاں لاگو ہیں ان کے بعد آتے ہیں نمبر دو پر جج امجد شاہ والد صاحب سوری آئی جی صاحب کے سب سے بارے جانشین .......یعنی کے وو حماقت کے رشتے سے میرےسب سے بھرے بھائی ان ک برے میں بس اتنا ہی کہوں گا وو جج ہیں اور ان سے والد صاحب کو کوئی اختلاف نہیں اس ایک ہی جملے میں ان کی پوری تعریف آ جاتی ہے ،
نمبر تین ایس پی پولیس طارق حسسیں شاہ والد صاحب کے محکمے سے متعلق اور پوری تارہا والد صاحب کے تربیت یافتہ

چوتھا نمبر تھا عشرت حسین کا اگر گھر میں کسی کو خدا نے کچھ انسانیت دی تھی تو وو یہی تھے عشرت حسین جو ایک قبل وکیل تھے جو بھائیوں کے سامنے تو ویسے ہی رهتے لیکن تنہائی میں انسانوں جیسی باتیں کرتے یہی غنیمت تھا ،
اب آتے ہیں میری طرف پانچویں نمبر پے یہ خاکسار آتا تھا اور چٹھے نمبر پے ہم سب کی اکلوتی اور میرے علاوہ پورے گھر کی صفات کا مجموعہ یعنی لالارخ میری بہن اگر ہلاکو خان خانم ہوتا تو بلکل لالارخ جیسا اور ہٹلر اگر عورت ہوتا تو لالارخ اس کا نمونہ تھی جو خامخواہ آئی جی بننے کی کوشش کرتی اس کے بعد شهوھر پرست والدہ صاحب تھیں پر مذاق بھابھیاں جو غیر خاندان کی تھیں لیکن ٹھیک ہی تھیں گھر میں اپنا کردار کامیابی سے نبھا لیتی

گھر بھر کی لعن تانکا اگر کوئی شکار تھا تو وو اکیلا یہ خاکسار پر تقھیر جو دھن کا پکا تھا اور قول کا سچا جو تہیہ کے ہوے تھا ک اس گھر کے قوانین کو تسلیم نہیں کری گا ماننے کی جو بات ہوتی وو مان لی جاتی اب یہ تو ضروری نہیں کے کسی کی خوایش پے اپنی پوری زندگی کا جغرافیہ ہی بدل لیا جاتے ایم .اے کر لیا تھا ایل ایل بی کر لیا تھا کافی تھا باہر تعلیم ک لئے جانے سے میں نے انکار کر دیا تھا مجھےیورپ کی برتری قبول نہیں تھی اپنے وطن میں جو کچھ تھا کافی ہے ،آئندہ زندگی میں کیاکرنا چاھتے ہو جج صاحب امجد حسین نے پوچھا میں نے کہا کچھ سوچتا ہوں کیا کرنا ہے وو بولے آشیانے میں جج ہیں وکیل ہیں پویس ہے تم ایسا کوئی کام نہیں کرو گے جیسس سے ہماری بدنامی ھو میں نے کہا جی بھائی صاب پاسس بیٹھی ہوئی بھابھی عصمت نے کہا شارق تم سدھر کیوں نہیں جاتے میں نے کہ جیسے آپ کا حکم بھابھی جان یہ کہ کر اپنی بائیککی چابی پکڑی اور استاد خیر دین کے اکھاڑنے کی طرف ان سے میں کچھ پہلوانی داؤ پیچ سیکھتا تھا وہاں سے فری ہو کر میں جم جاتا اور پھر گھر آج میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا مجھے بھابھی شفق نے بتایا ( آپ کو یہ بتا دوں شفق بھابھی نصرت حسین کی بیوی تھی اور عصمت بھابھی جج صاب کی اور چوٹی بھابھی ایس پی صاب کی ) ہاں تو بھابھی شفق نے بتایا اجج کھلی عدالت لگی ہے اور تم کو پیش کرنے کا حکم ہے آئی جی صاب کا میں نے کہا کوئی بات نہیں میں ان کے کمرے میں گیا وہاں سب ہی بٹہے تھے اب مجھے پوچھا ڈیڈیجان نے ہاں تو شارق کیا سوچا ہے تم نے آگے کا میں نے کہا جو اپپ کا حکم ڈیڈی جانوو بولے گڈ توکل سے تم نصرت کے ساتھ اس کے چمبر میں بیٹھوں گے اور وکالت کرو گے میں نے کہا جی ٹھیک ہے ڈیڈی حضور اور پھر ہم سب خانے کی میز پے آ گے اب ک لالارخ نے کہا بھی نصرت ذرا اس کا دھیان رکھیے گا یہ بھاگ نہ جاتے اپپ ک چمبر سے تو بھی نصرت نے کہا نہیں جاتا اب کہیں بھی اور یوں میں نے اب بھی جان کے ساتھ جانے لگا ان کے دفتر میں ایک بوھت پیاری اور خوبصورت سی ایک لیڈی سیکٹری تھی

جس کا کس ہوا بدن مجھے اچھا لگا پہلے دن سےہی میں اس کو پیار بھری نظرو سے دیکھنے لگا وو بھی اب مجھے ادائیں دکھانے لگی ایک دیں میں پہلے چلا گیا کیوں کے بھائی جان کو آج اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا ، میں جب دفتر میں پوہنچاتو صرف ابھی تک کرن ہی ائی تھی ابھی کوئی اسسٹنٹ نہیں اۓ تھے بھائی کے ساتھ پانچ اور چوتھے وکیل بھی تھے جو ان کو اسسٹ کرتے تھے کرن نے مجھے دیکھ کر ایک میٹھی سی سمائل دی اور کہا آپ نہیں گے سر کے ساتھ میں نے کہا نہیں میں نے سوچا آج آپ سے کچھ سکھ لیا جاتے وو بولی سر مجھے کیا آتا ہے میں نے کہا اندر آ جاؤ بھائی صاحب نے ایک جدا سے کمرہ بنا رکھا تھا اپنے دفتر میں جہاں جب وو تھک جاتے تو آرام کرتے میں کرن کو لے کر

اس کمرے میں آ گیا وہاں ایک صوفے پے بیٹھ گے ہم کرن نے کہا سر کیا سیکھنا ہے مجھے آپ سے میں نے کہا آج میں تم کو یہ سکھوں گا کے محبت کیسے کرتے ہیں کبھی کی ہے تم نے وو بولی سر کوئی آ جاتے گا میں نے کہا نہیں آتا اب میں اپنا ایک ہاتھ اس کی رانوں پے پھیرنے لگا آہستہ آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پے لے آیا کرن ایک کافی خوبصورت جسم کی مالک تھی
میرا قد کوئی سارھے چھے فٹ کے قریب تھا میرا لنڈ 9 انچ لمبا اورتین انچ موٹا تھا اب میں نے اسسے بیڈ کی طرف لے جانے کا سوچا,میں نے اسکے چہرے کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسکے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی کس کی اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ پھر میں نے اسکے ممے پر ہاتھ رکھ دیا وہ ایکدم کسمسا اٹھی۔ اب مجھ سے برادشت نہ ہوا اور میں نے اسکو دونوں ہاتھوں سے جکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ میں حیران رہ گیا جب میں نے محسوس کیاکہ کرن نے بھی مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے جکڑ لیا ہے اور مجھے اپنے سینے میں بھینچ رہی ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کیونکہ میرا آدھے سے زیادہ کام تو ہوچکا تھا۔

میں نے مزید وقت ضائع کیئے بغیر اسکی قمیض میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ممے کو پکڑ لیا اور دبانے لگا اسکی سانسیں تیز ہونے لگی تھیں۔ اور اسکے ہونٹ کپکپا رہے تھے۔ وہ میری جانب دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں کے ڈورے سرخ ہونے لگے تھی اور آنکھیں آدھی کھلی اور آدھی بند تھیں۔ میں نے ایک بار پھر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے مگر اس بار میں نے ایک لمبی کس کی اور اسکے ساتھ ساتھ اسکے دونوں مموں کو دباتا رہا جس سے وہ کافی گرم ہو گئی تھی تقریباً چدنے کے لیے تیار۔ اب میں نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔ بیڈ کے پاس پہنچ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور اسکو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسکی کمر پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے اسکے کولہوں تک لے گیا اور انکا مساج کرنے لگا.اس نے اپنے کولہے سکیڑ کر سخت کر لیے۔ پھر میں نے اسکے گالوں پر کسنگ کی اس نے جو قمیض پہنی تھی اسکی زپ پیچھے کی طرف تھی میں نے واپس کمر تک ہاتھ لے جاکر اسکی زپ کھولی اور اسکی قمیض کو ڈھیلا کردیا۔ اسکی قمیض اسکے شانوں سے ڈھلک کر نیچے آگئی تھی۔ اور اسکا بریزر صاف نظر آرہا تھا جس میں سے اسکے بڑے بڑے دودھیا رنگ کے ممے اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ میں نے اسکی قمیض کو اسی پوزیشن میں چھوڑ کر اسکی شلوار پر حملہ کیا اور میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب دیکھا کہ وہ شلوار میں الاسٹک استعمال کرتی ہے۔ میرے لیے تو اور آسانی ہوگئی تھی۔ میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکی پوری شلوار زمین پر گرا دی وہ خاموش کھڑی صرف تیز تیز سانسیں لے رہی تھی مگر کچھ نہ کہہ رہی تھی اور نہ ہی مجھے روک رہی تھی۔ اب میں نے اسکی قمیض کو بھی اسکے بدن سے الگ کیا وہ صرف برا میں رہ گئی تو اسکو اس تکلف سے بھی آزاد کردیا اب وہ پوری ننگی میرے سامنے ایک دعوت بنی کھڑی تھی میں نے اسکے پورے بدن پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔اسکا بدن ایکدم چکنا اور بھرا بھرا تھا اسکا جسم کافی گرم ہو چکا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ ہاتھ اسکی چوت کی جانب بڑھایا اور اپنی انگلی جیسے ہی اسکی چوت میں ڈالی وہ گیلی ہوگئی اسکا مطلب وہ کافی آگے جاچکی تھی اب مجھے اپنا کام کرنا تھا میں نے اسکو بیڈ پر چلنے کو کہا۔وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور مجھے دیکھنے لگی ۔ میں نے انتظار نہیں کیا اور میں بھی بیڈ پر چڑھ گیا اور اسکے اوپر لیٹ کر اپنا لنڈ اسکی ٹانگوں کے بیچ اسکی چوت کے منہ پر پھنسا دیا۔ اور اسکو چوت پر رگڑنے لگا۔
وہ بے حال ہو رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ پہلے کبھی اس نے سیکس کیا ہے اس نے کہا ہاں ایک بار میں خوش ہوگیا کیونکہ اب زیادہ پریشانی نہیں تھی۔ میں نے بیٹھ کر اسکی ٹانگیں کھولیں اور اسکی چوت کے منہ پر لنڈ کو سیٹ کیا میرا لنڈ اسکی چوت کے پانی سے گیلا ہو کر چکنا ہوچکا تھا اور اندر جانے کو بے تاب تھا۔ میں نے تنے ہوئے لنڈ کو ایک زور دار جھٹکا لگایا اور میرا لنڈ اسکی چوت میں داخل ہوگیا اور اسی لمحے کرن کا سانس ایک لمحے کو رکا پھر تیز تیز چلنا شروع ہوگیا۔ میں نے تھوڑا سا لنڈ باہر نکالا کیونکہ پورااندر جانے کے لیے اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹنا ضروری تھا۔ بس میں نے تھوڑا سا پیچھے کیا لنڈ کو اور ایک زور دار جھٹکا مارا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا پورا لنڈ اسکی چوت کے اندر داخل ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب اسکے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں۔ اسکو اپنے جسم میں میرا سخت تنا ہوا لنڈ محسوس ہوا تو وہ نشے میں بے حال ہونے لگی اور بے تحاشہ مجھے چومنے لگی اور آہستہ سے میرے کان میں کہا مجھے چودو جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ سننا تھا میری اندر بجلی دوڑ گئی اور میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کردیا۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ میری رفتار میں اضافہ ہوتا رہا وہ جلدی جلدی چھوٹ رہی تھی۔ اب میں نے آہستہ آہستہ سے چودنا شروع کیا۔ مگر وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی رفتار تیز کروں اور وہ تڑپتی رہی کہ میں اسکو پہلے والی رفتار سے چودوں ۔میرا لنڈ مکمل سخت ہے اور لاوا اگلنے کے موڈ میں نہیں ہے میں نے اپنی رفتار بڑھا دی اور بے تحاشہ جھٹکوں سے اسے چودنے لگا۔ وہ بے حال ہو رہی تھی اسکی آہوں سے زیادہ چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ مگر میں اب رکنے والا تھا بھی نہیں۔بہرحال وہ اس دوران تین بار فارغ ہوئی اس کی ہمت جواب دے رہی تھی میں نے اپنا لنڈ باہر نکالا اور کہا ابھی میں فارغ نہیں ہوا ہوں تم گھوڑی بنو اسکو اسکا تجربہ نہیں تھا۔

اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو میں نے اسے بتایا کیسے گھوڑا بننا ہے وہ سمجھی تھی میں شاید پیچھے کی طرف سے اسکی چوت میں لنڈ داخل کرونگا جیسے ہی وہ گھوڑی بنی میں نے اپنا لنڈ اسکی گانڈ پر رکھا اور پوری طاقت سے اسکو اندر داخل کردیا میرا لنڈ کسی پسٹن کی طرح چکنا اور گیلا تھا اور اسکی گانڈ بھی اسکی چوت سے بہہ کر آنے والے پانی سے گیلی تھی میراپورا لوڑا اسکی گانڈ میں ایک ہی بار میں گھس گیا اور وہ درد سے بلبلا اٹھی مگر میں باز آنے والا کب تھا۔ میں نے اسکو جکڑ لیا اور وہ کوشش کرتی رہی میری گرفت سے نکلنے کی مگر میں نے اسکو نہیں چھوڑا ذرا دیر بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کم ہوئی اس نے کہا ہاں مگر آپ اس کو نکال کر وہیں ڈالیں جہاں پہلے تھا۔ مگر میں نے انکار کردیا اور کہا ابھی نہیں تھوڑی دیر میں وہ خاموش ہوگئی اس نے خود کو پورا میرے حوالے کیا ہوا تھا۔ بس میں نے اسکی رضامندی دیکھ کر اپنا کام شروع کردیااور جھٹکے دینا شروع کیے اور پھر پوری رفتار میں ایکبار پھر سے اآگیا اسکے ممے بری طرح سے ہل ہل کر اسکے چہرے سے ٹکرا رہے تھےاور وہ بھی پوری ہل رہی تھی اس نے کہا ایسے مزہ نہیں آرہا ہے بہت ہل رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا چلو نیچے زمین پر اسکو زمین پر لاکر میں نے پیٹ کے بل اسکو بیڈ پر اسطرح لٹایا کہ اسکے گھٹنے زمین پر تھے اب میں بھی اسی پوزیشن میں آگیا اور پھر سے لنڈ اسکی گانڈ میں داخل کیا اب میں نے پورا لنڈ اندر ڈال کر مزید اسکی گانڈ کو گہرا کرنے کی کوشش کی اور اندر لنڈ کو رکھ کر ہی دباؤ ڈالا ۔ جس سے ایک بار پھر اسکی چیخیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔ بالاخر میرا وقت پورا ہونے لگامیں نے اس سے کہا میں تمہاری گانڈ میں ہی منی نکال رہا ہوں نہیں تو تم ماں بن سکتی ہو۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا میں نے جیسے ہی وقت آیا پورا لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑا اور میرے لنڈ نے منی اگلنا شروع کردی۔ وہ میری منی کے ہر ہر شاٹ پر کپکپا رہی تھی۔ اور اس نے کہا یہ تو بہت گرم ہے مجھے بخار لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ایسا نہیں ہے یہ گرمی ہے اسکو انجوائے کرو۔ یہ گرمی پیدا بھی تو تم نے ہی کی تھی۔ پھر آخر میں نے لنڈ باہر نکالا اور وہ سیدھی ہو کر مجھے حیرت سے دیکھنے لگی ۔ اس نے کہا آپ انسان تو نہیں لگتے پہلے جب میں نے سیکس کیا تھا تو اتنا وقت تو نہیں لگا تھا جتنا آپ نے لگایا ہے یہ کہہ کر وہ اٹھی اور مجھ سے لپٹ کر مجھے چومنے لگی ۔ اسکے بعد وہ میرے لنڈ کی دیوانی ہوگئی۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

part 2

اس دیں میں بھائی سحاب ک ساتھ ہی ان کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا جب دو خواتین اندر داخل ہوئیں ان میں سے ایک تو کوئی بیس سال کی لڑکی تھی اور ساتھ میں ایک عمر رسیدہ ان دونوں کے چہرے پے گم کے گھنے چھاے تھے اس عمر رسیدہ خاتوں اور لڑکی کے چہرے برے دکھی تھے
فرمائیے!:نصرت حسین نے ان کی طرف دیکھتے ہوے کہا ،آپ شاید مجھے پہچان نہیں سکے وکیل صاحب، میں مسز عباسی ہوں راحیل عباسی کی ماں یہ میری بیٹی ثنا عباسی ہے ، اوہ میں پہچان گیا ہوں آپ کو ،فرمائیے میں کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی نصرت کا لہجہ بدلہ سا تھا اب میں بھی ان کی باتوں میں دلچپی لینے لگا ،نصرت صاحب آپ بوھت برے آدمی ہیں بوھت بڑھا خاندان ہے آپ کا ھمارے اس چوتھے سے خاندان پے رحم کھائیں .وکیل صاحب اس خاندان میں بس چار لوگ ہیں بس چار یہ کہتے ہوے اس کا لہجہ بھیگ گیا اس کی آواز آنسو،وں میں ڈوب گی ، میں سمجھا نہیں آپ کی بات بھائی نے ان سے کہا راحیل ہمارا اکلوتا بیٹا ہے وو اس لڑکی کا بدنصیب بھائی ہے جس نے ابھی دنیا میں کچھ نہیں دیکھا ہم زندہ درگور ہو گے ہیں رحم کریں ہم پے وکیل صاحب رحم کریں بزرگ خاتوں کی سسکیاں شروع ہو گیں تھی اب بھائی نے کہا میں وکیل ہوں خاتوں کوئی جج نہیں وو بولی جج صاحب بھی آپ کے بھائی ہیں جن کے پاس یہ کیس ہے نصرت صاحب نے ghusy سے کہا گویا آپ مجھ پے الزام لگا رہی ہیں کے میں اپنے جج بھائی کے ساتھ مل کر آپ کے بیٹے کو پھانسی کی سزا دلا رہا ہوں وو بزرگ خاتوں تڑپ کے بولی میں یہ نہیں کہ رہی آپ پلز ایذا احمد کی طرف سے کیس نہ لڑیں اب کے بھائی صاب نے کہا کیوں نہ لڑوں وو روٹی ہویی اب بھائی صاحب کے آگے ہاتھ جوڑ ک بولی آپ ایک ماں کی دیوانگی دیکھیں آپ یہ کیس ہار جایئں اسے اپنی آنا کا مثلا نہ بنیں خدا آپ کو بوھت کچھ دے گا خدارا ہم پے رحم کریں
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
عجیب بہتی کر رہی ہیں آپ وو بھی تو انسان تھی جس لڑکی کو برہمی سے آپ کے بیٹے نے عزت لوٹکر قتل کر دیا ہے وو خاتوں اب بیساختہ تارو کے بولی نہیں وکیل صاب میرے بیٹے نے اس لڑکی کو قتل نہیں کیا وو ایسا کر ہی کیسے سکتا ہے اس کی اپنی جوان بہن گھر میں مجود ہے میری تربیت اتنی گھٹیا نہیں ہو سکتی اگر وو قاتل ہوتا میں کبھی نہ آتی اس کے پیچھے نصرت صاب نے کہا وو جب عدالت کا کام ہے دیکھنا اسے وو گناہ گار ہے میں اسسے ہر حال میں پھانسی دلوا کے رہوں گا ایاز صاحب میرے دوست ہیں جن کی بھتیجی کو اس نے قتل کیا ہے وو عورت ضرو قطاررونے لگی نہیں میرے بیٹے کو بچا لیں اس کی اب ہچکیاں بندھ گیں تھیں اب کی بار اس لڑکی نے کہا چلو ماں کن پتھروں سے سر پھوڑرہی ھو جو بس دولت کو دیکھتے ہیں اور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا اور پتھریلی نظروں سے ہم کو دیکھتی ہوئی بھر نکل گی اب بھائی صاحب نے کہا شارق چاے پیو گے سر میں درد لگا دیا ہے ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں کبھی کبھی مجھے اس لڑکی کا آخری الفاظ نہیں بھول رہے تھے ، میں نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا ان ک لئے میں نے اب بھائی سے سری صورت حال پوچھی اس نےبتایا ایاز صاحب کا قالینو کا بوھت برا کاروبار ہے اور وو بھائی کے دوست ہیں ان کی بھتیجی کا قتل ہوا ہے پہلے اسکا ریپ کیا گیا پھر ایک تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا تھا میں نے کہا بھائی آپ یہ کیس چھوڑ دو وو بولے ترا دماغ تو ٹھیک ہے میں پانچ لاکھ روپے فیس لے چکا ہوں اب میں چپ کر گیا مجھے پتا تھا میرے گھر والوں کے لئے پیسا بوھت بری چیز ہے اب میں نے چپکے سے کرن سے کہ کر اس کیس کی فائل کی کوپی کروا لی اور گھر لے آیا رات کو اپنے کمرے میں پڑھے writing table پے بیٹھ کے اس کو اچھی تارہا پڑھا مجھے اس میں کافی کمیاں نظر آییں اب میں نے اگلے دیں ٹھنے جانے کا سوچا اور کچھ پوائنٹ تیار کے اگلے دیں میں نے اپنے بھائی ایس پی سے کہا مجھے تھانہ صدر میں ایک کام ہے آپ وہاں کے ایس ایچ او کو کہ دیں وو تعاون کرے وو بولے ok میں کہ دوں گا میں اب اپنی روٹین کے مطابق پہلوانکے اکھاڑنے میں گیا اپنی ورزش کی پھر جم سے ہو کر واپس گھر آیا اور ناشتہ کرنے کے بعد سیدھا راحیل عباسی کے گھر کو چل دیا میں نے دروازے پے دستک دی تو احتشام عباسی جو کے راحیل کے والد تھے انہوں نے دروازہ کھولا مجھے کہا جی کن سے ملنا ہے میں نے کہا میں نصرت حسین وکل کا بھائی ہوں وو بولے جی آپ اندر آ جایئں اندر میں ایک صوفے پے بیٹھ گیا تو راحیل کی والدہ صاحب نے کہا جی اب کیا حکم ہے ھمارے لئے میں نے کہا دیکھیں انٹی میں چاہتا ہوں آپ مجھے سری تفصیل بتا دیں وو بولی بیٹا آپ کا بھائی ھمارے خلاف وکل ہے اور آپ ہم سے تفصیل پوچنے آ گے ہیں
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میں نے کہا دیکھیں اگر آپ مجھ پے یقین کر سکیں تو کر لیں میں پوری کوشش کروں گا آپ کا بیٹا اگر بیگناہ ہوا تو وو باہر آے گا اب بھی وو چپ رہی تو میں نے ghusy سے کہا چلیں آپ کی مرضی ہے اور اٹھ کھڑا ہوا اب کے ایک کمرے سے ثنا نکل کے آیی اور کہا ماں جی بتا دیں ان کو بھی سری بات کیا پاتا یہ ہی کچھ کر سکیں ہم تو اب بےبس ہو گے ہیں تو مجھے سری تفصیل بتانے لگی اس نے بتایا کے راحیل نے بی .ایس سی کیا ہے میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم تھا ایک حدسے میں میری ایک ٹانگ کٹ گی اور راحیل کو اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر ملازمت کرنی پڑھی یہ لڑکی جس کا قتل ہوا ہے یہ ایذا کی سگی بھتیجی نہیں یہ ایاز کے ایک دوست کی بیٹی تھی اس کا نام ندرت تھا وو راحیل سے کافی متاثر تھی ھمارے گھر بھی آتی جاتی رہتی تھی اب کے ثنا نے کہا شارق صاب وو راحیل کو پسند کرتی تھی وو اس سے شادی تک کرنے کو تیار تھی اسی نے بتایا تھا مجھے کے اس قالینوں کے کاروبار میں اس کے والد صاحب کا بوھت سارا پیسا لگا ہے اور اور اس شوروم میں وو تین حصوں کی ملک ہے اور ایک حصہ ایاز صاب کا ہے وو کہتی تھی مجھے لگتا ہے ایاز صاب اس کاروبار میں کافی گھپلے کر رہے ہیں اسی نے ایذا صاب کو کہ کر راحیل کو منیجر کی پوسٹ دلوائی تھی اب میں کچھ کچھ سمجھنے لگا تھا صورتحال میں نے اب کہا او کے میں اب تھانے جا رہا ہوں آپ کو کچھ ہی دنو میں خوشخبری سناؤں گا وو سب خوش ہو گے ثنا مجھے چھوڑنے باہر دروازے تک آیی میں نے کہا بےفکر رہو سب ٹھیک ہو جاتے گا وو کہنے لگی چلیں دیکھتے ہیں اور میں اب تھانے کی طرف چل دیا میرے پاس اپنا بائیک تھی میں اسسے ہی زیادہ استمال کرتا تھا میں تھانے میں گیا تو مجھے پتا چلا ایس ایچ او صاحب اپنے کمرے میں ہی ہیں میں نے ان سے اپنا تعارف کروایا وو بولا جی سر مجھے ایس پی صاحب نے کہا دیا تھا آ پ حکم کریں سر میں نے کہا میں آپ سے راحیل عباسی کے کیس کا پوچھنا چاہتا ہوں کیا وو آپ کانظر میں قاتل ہے وو کچھ دیرتو چپ رہا پھر بولا سر ہم بھی انسان ہی ہوتے ہیں مجھے وو لڑکا کہیں سےبھی قاتل نہیں لگا لیکن ثبوت اس کے خلاف جاتے ہیں میں نے کہا کیا وو اتنا ہی پاگل تھا کے ایک چھری قتل کے بعد اپنی چاٹ پے پھینک دیتا اور اپنے کپڑے گھر سے باہر کہیں چھپا دیتا جہاں سے پولیس کو فورن مل جایئں وو چپ رہا اور بولا سر اب آپ سے کیا چھپانا ہم کو ایک ڈی .ایس .پی نے کہا تھا اس کیس کو جلدی سے مکمل کرو اور ملزم کو جیل میں چھوڑ آؤ
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پھر میں نے کچھ دن میں ہی سارا کچا چٹا پتا کر لیا اپنے ایک دو دوستو کی مدد سے یہ قتل ایاز کے بیٹے نے کیا تھا جو مجھے اتفاق سے پتا چل گیا ہوا یوں کے میرے ایک دوست کے گھر ایک پارٹی تھی میں بھی وہاں گیا تو ایک روزی نامی لڑکی سے میرا تعارف ہوا اسے ایاز کا بیٹا جمیل لے کر آیا تھا جو میرے اس دوست کا جاننے والا تھا اب میں اور روزی ایک ہی میز پے بٹہے تھے صاب ہی شراب پی رہے تھے سواے میرے وو مجھ سے پوچنے لگی آپ اس طرح کی محفلوں میں آ کر بھی شراب نہیں پیتے میں نے اسے بتایا میں ڈرنک نہیں کرتا وو حیران رہ گی اب اس سے باتوں کی سلسلہ چل نکلا تو اس نے بتایا اس کا بھائی جمیل کا دوست ہے اور اسی کو ملنےکے بہانے یہ میرے گھر آتا تھا اور اس نے ایک دو دفع مجھے نہتے میں دیکھ لیا اور میری تصویریں بنا لیں اب یہ مجھےبلیک میل کرتا ہے میرے بھائی کو اس نے نشے پے لگا دیا ہے اسے نہیں پتا ان باتوں کا اب میں نے اس کے گھر کا پتا پوچھا اور اسے کہا میں کل اوں گا تم سے ملنے اگلے دیں میں روزی کے گھر گیا اسی نے دروازہ کھولا وو ابھی ابھی نہا کے نکلی تھی شاید اسے کے بال گیلے تھے اور اس کے کپڑے اس کے جسم سے چپٹے ہوے تھے اس کے مممے کافی برے برے تھے میری نظر ان پے ہی گی پہلے کیوں کے اس نے دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا اب میں اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور ہم لوگ ایک کمرے میں بیٹھہ گے وو بولی میں آپ کے لئے کولڈ ڈرنک لے کر آتی ہوں وو جب اٹھ کے کچن کی طرف جانے لگی تو اس کے بھاری بھاری کولھے ایک دوسرے سے رگڑ رہے تھے یہ سین دیکھ کر میرا تو لن کھڑا ہو گیا تھا وو کچی دیر میں کولڈ ڈرنک لے کر آیی اور نیچے جھک کر وو میرے سامنے میز پے رکھی تو مجھے اس کے صاف شفاف مممے نظر آ گے جو کالے رنگ کے بریزر میں قید تھے اور آزاد ہونے کی ناکام کوشش کر رہے تھے اب میں نے کولڈ ڈرنک پینے لگا وو بولی شارق میں ذرا اپنے بال سکھا لوں آپ بیٹھو اور اپنے روم کی طرف چل دی میں جاتے ہوے اس کے مٹک مٹک کر چلتی ہویی چال سے محفوظ ہونے لگا ،کچھ دیر بعد وو میرے پاس آ کربیٹھ گی میں نے کہا تم بوھت پیاری لگ رہی ھو وو بولی چھوڑو بھی ایسے ہی کہ رہے ھو میں تو عام سی ہوں پھر میں نے اس سے کہا گھر میں کون ہے وو بولی بس میں اور تم اب ہم دونوں میں مل کر ایک انڈین مووی دیکھنے لگے اس میں ایک کس سین آیا و میں نے وو اگے کیا وو بولی رہنے دو نہ آج دیکھتیھیں کیسی کس کرتے ہیں یہ مووی میں میں نے اسسے دیکھتے ہوے کہا ایسے کیسے سمجھ آ سکتی ہے کسی کو جب تک خود نہ وو پرکٹکلی کرے وو یہ سن کے شرما گی اور کہا نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے اس کی آنکھیں اب کچھ لال ہو گیں تھیں کیوں کے وو کس سین کافی سیکسی تھا میں نے اب دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانا لگا وو کچھ نہ بولی
میں نے کہا روزی میں ایک کس کر لوں تمہارے ان شہد سے بھرے ہونٹوں پے


وہ شرما گئی شرم سے اس کا چہرہ سرخ اور کان گرم ہورہے تھے وہ تھوڑا پیچھے ہٹنے لگی مگر میں نے ہاتھ سے کھینچ کر اس کو مزید اپنے قریب کرلیااور اس کے چہرے کو پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر کس کردیا اور پھر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے پہلے تو اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر تھوڑی دیر بعد وہ بھی مست ہوگئی میں نے اس کا نچلا جبکہ اس نے میرا اوپر والا ہونٹ چوسنا شروع کردیا اب میرا ایک ہاتھ اس کی گردن میں جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی چھاتی پر تھا میں اس کے مموں کو آہستہ آہستہ سے دبا رہا تھا کچھ دیر میں وہ بھی مست ہوتی گئی میں نے اس کی قمیص کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر اس کے مموں کو پکڑنا چاہا تو جیسے اس کو کرنٹ لگا اس کے ممے تھے تو چھوٹے مگر تھے بہت ٹائٹ‘ میں نے ان پر ہاتھ رکھا پہلے توروزی بہت تلملائی مگر میں نے اس کے نپل کو سہلایا تو اس پر مزید مستی آنے لگی چند لمحوں میں اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور تقریباً لیٹ ہی گئی تھی اب میں نے اس کی قمیص اوپر کی اور بریزئیر کے نیچے سے اس کے ممے باہر نکال لئے واہ 32 سائز کے سانولے ممے اور ان کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے سے نپل میں نے دونوں مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تو ایسے لگ رہا تھا کہ میرے ہاتھوں میں دنیا کی قیمتی ترین چیز آگئی ہے پھر میں نے اپنے ہونٹوں سے ایک نپل کو چھوا تو اس کے منہ سے سسکاری سی نکل گئی میں نے پہلے ایک ممے اور پھر دوسرے ممے کے نپل کو منہ میں لیا اور آہستہ آہستہ سے چوسا وہ مسلسل نہ کرو نہ کرو کے لفظ بول رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کے ہاتھوں کی میرے جسم پر گرفت بھی مضبوط ہورہی تھی پھر میں نے اس کو اٹھا کر بٹھایا اور اس کی قمیص اتارنے لگا

پھر اس کی قمیص اور بریزیئر اتار دیاس کے نپلز پر کسنگ کرنے لگا اس نے میرے بالوں کو پکڑ رکھا تھا جب اس کا مزہ بڑھ گیا تو میرے بال نوچنے لگی میں اس کی شلوار اتارنے لگا میں نے دیکھا چھوٹی سی پھدی پر چھوٹے چھوٹے بال آئے ہوئے تھے میں نے اپنے ہاتھ کی پوری ہتھیلی سے اس کی پھدی کو ڈھانپ دیا اور اس کو آہستہ آہست سے دبانا شروع کردیا اب اس کے منہ سے اس س س س س س س س ‘ ام م م م م م ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کی آواز نکل رہی تھی میں نے اس کی رانوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو اس نے میری بازو زور سے پکڑ لئے تھوڑی دیر کے میں نے بھی کپڑے اتار دئےے اب میں نے اس کی دوبارہ کسنگ شروع کردی پہلے ہونٹوں پھر کانوں پھر گردن پھر مموں کے ارد گرد اور پھر نپلز کو چوسا اس کے بعد میں نے اس کے پیٹ پر اپنی زبان پھیرنا شروع کردی جب اس کی ناف کے ارد گرد میری زبان چلنے لگی تو وہ سمٹ گئی اور میری ساتھ چمٹ کر کہنے لگی ش ش ش ش ش اب بس کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن میں نے اپنا کام جاری رکھا جب اس کی رانوں پر اپنی زبان پھیرنا شروع کی تو اس نے مستی سے اپنی گردن ادھر ادھر مارنا شروع کردی اب میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں آگیا اور اس کی پھدی کا جائزہ لینے لگا جو مجھے صاف نظر آرہی تھی ننھی منی پھدی سے پانی نکل رہا تھا میں نے اپنا لن اس کے اوپر رگڑنا شروع کیا تو وہ شدت مستی سے چلانے لگی ش ش ش ش ش ش ش ش ناں کرو اب بس کرو اس کے ساتھ اس کے ہاتھ میری کمر پر سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے تھوڑی دیر کے بعد وہ مکمل ہوگئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ اب بس بھی کرو میں اس کو تھوڑا سا ریسٹ دینے کے لئے اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تو کہنے لگی شارق تم کتنے اچھے ہو کیا ہمیشہ اسی طرح مجھ سے پیار کرتے رہو گے میں نے اثبات میں سر ہلایا تو مجھے چومنے لگی میں بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا میرے پہلے سے کھڑے ہوئے لن میں مزید سختی آگئی تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ گرم ہوگئی میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا اور اپنا لن اس کی پھدی پر دوبارہ رگڑا جب پانی نکلنے سے پوری طرح گیلی ہوگئی تو میں نے اس کو اندر کرنے کے لئے تھوڑا سا زور لگایا تو وہ درد سے چلانے لگی ن ن نہیں میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور تھوڑا سا مزید زور لگایا مگر میرا آٹھ انچ کا لن اس کی ننھی سی پھدی کے سامنے بالکل بے بس نظر آرہا تھا میں نے اس کی چیخوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو ایک جھٹکا مارا تو میرا ٹوپا اس کے اندر گھس گیا اس نے میرے ہونٹ اپنے ہونٹوں سے ہٹائے اور زور زور سے چلاتے ہوئے کہنے لگی مر گئی ی ی ی ی ی ی ی میں نے اس کو کہا کہ آہستہ تو کہنے لگی مجھے نہیں پتا اس کو باہر نکالو وہ میری کوئی بھی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی میں نے مزید زور نہ لگایا اور اس کے اوپر ہی لیٹ گیا تھوڑی دیر کے بعد اس کا درد کم ہوا تو میں نے اٹھ کر ایک اور زور دار جھٹکا مار دیا جس سے میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی چوت کے اندر چلا گیا اب کی بار اس کے منہ سے نکلنے والی چیخیں شائد پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں ہوتی اگر میں اس کے منہ پر اپنا ہاتھ نہ رکھ لیتا وہ درد کی وجہ سے بے حال ہوئے جارہی تھی میں ایک بار پھر اس کے اوپر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر ایک اور جھٹکا دے مارا جس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے اوووووووووووں کی آواز اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے اب میں نے اپنے لن کو آہستہ آہست سے اندر باہر کرنا شروع کردیا اور تقریباً پندرہ منٹ میں فارغ ہوگیا جب میرا لن لاوا اگلنے لگا تو میں نے اسے باہر نکال لیا

اورروزی
کے پیٹ پر لاوہ پھینک دیا چدائی کے دوران تمام وقت درد سے بے حال رہی جب میرا لن اس کی پھدی سے نکلا تو اس کو سکون ملا
اب میں تھوڑی دیر ایسے ہی اس کے ساتھ لیٹا رہا ہم اب باتیں کرتے رہے میں نے اسے بتایا مجھے اس سے کام ہے اور سری تفصیل اسے بتا دی وو کہنے لگی شارق وو لڑکی جس کا قتل ہوا ہے میں اس کے برے میں صاب جانتیھاؤں اسے جمیل نے ہی مرا ہے مجھے میرے بھائی ٹونی نے بتایا تھا اس رات وو بوھت ڈرا ہوا تھا اس نے میرے پوچنے پے سری بات مجھے بتا دی تھی میں دل ہی دل میں خوش ہوا کے چلو اتففاق سے ہی میری روزی سے دوستی ہو گی اس نے بتایا وو قمیص اور چھری راحیل کی نہیں ہے وو قمیض ٹونی نے ہی راحیل کی چاٹ پے پھینکی تھی اور چھری بھی میں نے اب پھر اسسے چومتے ہوے کہا جانو تم نے میرا پہلا کیس حل کر دیا اور یہ کہ کر اسسے دوبارہ سے چومنے لگا اب ہم نے دوبارہ سے وو کھیل سٹارٹ کر دیا تھا

اس کے بعد میں نے اس کے ساتھ کھیل شروع کردیا جس میں وہ میرے ساتھ برابر کا ساتھ دے رہی تھی جبکہ کئی موقعوں پر تو وہ مجھ سے بھی آگے نکل گئی جب وہ مکمل طورپر تیار ہوگئی تو میں نے اس کی ٹانگوں کو اوپر اٹھا کر جب جھٹکا دے کر لن کو اندر کیا تو اس کے منہ سے اوی ی ی ی ی ی آہستہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی میں نے اپنا پورا لن اس کے اندر کردیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا پھر اس سے پوچھا کہ اب تو تکلیف نہیں ہورہی تو کہنے لگی ہوئی ہے مگر کم مگر تم آہستہ کرنا میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اور اپنے لن کو اندر باہر شروع کردیا اب اس کے منہ سے آوازیں نکل رہی تھیں مگر یہ آوازیں تکلیف کی نہیں بلکہ مزے کی تھی وہ ام م م م م م م م م م م س س س س س س س س س س ف ف ف ف ف ف ف ف کررہی تھی وہ میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی جب میرا لن اس کے اندر پورا جاتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ اندر کسی چیز کے ساتھ ٹکرارہا ہے جب وہ باہر آتا تو میں پھر جھٹکا دے کر اس کے اندر کردیتا میری کمر سے پکڑ کر مجھے مزید آگے کرنے کی کوشش کرتی مجھے محسوس ہورہا تھا کہروزی کا دل کرتا ہے کہ میں مزید تھوڑا سا اور اندر کردوں جب میں جھٹکا دیتا تو میرے ٹٹے اس کی گانڈ کے ساتھ ٹکراتے تھے پانچ منٹ کی چدائی کے بعد وہ چھوٹ گئی اس وقت اس کی پھدی کی میرے لن پر پکڑ سخت ہوگئی اور پھر آہستہ اور پھر تیز اور پھر آہستہ جب وہ چھوٹ رہی تھی تو اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑ دیئے اور ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف کرکے رہ گئی اس نے مجھے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیا جبکہ میں ابھی فارغ نہیں ہوا تھا میں نے دوبارہ اپنے لن کو اندر باہر کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے اشارہ کرکے روک دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی میرا لن اس کی پھدی میں ہی رہا تھوڑی دیر کے بعد میں نے خود کو اس سے چھڑایا اور پھر سے گھسے مارنے شروع کردیئے اب کی بار بھی وہ تقریباً پانچ منٹ بعد فارغ ہوگئی اور مجھے روکنا چاہا مگر میں نہ رکا اور مسلسل بیس منٹ تک جھٹکے مارتا رہا اس دوران وہ مزید 2 بار چھوٹی جس سے صوفے پر ہی اس کا پانی گرا اور صوفہ گیلا ہوگیا جبکہ اس کی پھدی بھی بری طرح گیلی ہو گئی تھی اب میرے جھٹکوں سے تھپ تھپ کی آوازیں آرہی تھیں جبکہ اس کے علاوہ اس کے منہ سے نکلنے والی سکیسی آوازیں بھی آرہی تھی جس سے کمرے کا ماحول مزید سیکسی ہورہا تھا جب بھی میں تیزی سے جھٹکا مارنے کی کوشش کرتا تو کہتی شارق پلیز آہستہ مجھے بھی مزہ لینے دو 20 منٹ کے بعد میں چھوٹنے والا ہوگیا میں نے اپنا لن اس کے اندر سے نکالا اور پاس پڑی اس کی پھٹی قمیص پکڑ کر اس کو لن پر رکھ کر فارغ ہوگیا فارغ ہونے کے بعد میں دوسری طرف ہوکر لیٹ گیا اور وہ میری پہلو میں آکر لیٹ گئی اس نے میری ایک بازو اپنے سر کے نیچے رکھ لی اور میرے سینے کے بالوں سے کھیلنے لگی جبکہ میں اس اس کے نپلز کو پکڑ کر ان کو کبھی دبا دیتا اور کبھی ان کو مروڑتا بیس منٹ کے بعد میرا لن دوبارہ تناﺅ میں آنا شروع ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ ایک بار پھر ہوجائے تو کہنے لگی نہیں اب بس مزید کچھ نہیں کرنا جو کرلیا اسی کے مزے میں رہنے دو کہیں یہ مزہ بھی نہ جاتا رہے اس کے بعد وہ اٹھ کر باتھ روم چلی گئی

میں نے بھی بعد میں اپنے جسم کو صاف کیا اور روزی سے کہا مجھے تمہارے بھائی کی ہیلپ کی ضرورت پرے گی وو بولی وو کبھی نہیں ہیلپ کرے گا وو جمیل کا سایہ بنا ہوا ہے میں نے اب اسے کہا کوئی بات نہیں پھر کچھ دیر بعد میں اس سےاجازت لے کر باہر آیا اور کچھ سوچ کر دوبارہ سے تھانے کی طرف چال دیا وہاں آج ایک ایس .ای سے میری ملاقات ہوئی میں نے اس سے کہا مجھے باتیں راحیل عباسی کا کیس کس کے پاس ہے وو بولا میرے ہی پاس ہے اس کا نام وقاص تھا وو ایک سب انسپکٹر تھا میں نے اسے اپنا بتایا وو بولا شارق صاحب میں آپ کو جانتا ہوں آپ حکم کریں میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ابمیں نے اسے کہا یار مجھے اس کیس کا بتاؤ وو مجھے خاص خاص نکتے بتانے لگا اب میں نے اسے کہا کیا تم میری مدد کرو گے اس لڑکے کی بیگناہی ثابت کرنے ک لئے وو بولا سر اس میں برے برے لوگ ملوث ہیں میں مرا جاؤں گا ،میں سمجھ گیا یہ کچھ نہیں کرے گا اب میں ایس ایچ او کے کمرے کی طرف گیا تو وہاں آج ایک خشک چہرے والا ایک انسپکٹر بیٹھا تھا میں نے اس سے ایس ایچ او کا پوچھا وو کہنے وو آج چھٹی پے ہے مجے یہ بندہ کچھ کام کا لگا میں نے کہا مجھے ایک ہیلپ کی ضرورت ہے اور سری تفصیل اسے بتا دی ساتھ میں اپنا تعارف بھی کروا دیا وو بولا ہمیں لوگ غالب کہتے ہیں اگر آپ کا بندہ بیگناہ ہے تو میں اس کے لئے سب کر جاؤں گا شارق صاحب پھر ہم نے اسی دیں ٹونی کو ایک جگہ سے پکڑا

اور غالب نے اسے کچھ دیر ہی پولیس والی مخصوس چھترول کی تو وو سب ماں گیا اب میں اس کے سامنے گیا وو بولا دیکھو آپ کو نہیں پتا جمیل کے بوھت برے برے افسروں سے تعلق ہیں وو آپ کو معطل کروا دے گا میں اس کا خاص آدمی ہوں اب میں نے غالب سے کہا ذرا باہر جو یار آپ اور ٹونی سے کہا تم مجھے سب صاف بتاؤ دو میں خود ہی دیکھ لوں گا جمیل ک تعلق کو وو بولا آپ کوکس نے بٹے تھا میں جانتا ہوں اس کیس کے برے میں میں نے کہا اس کی بہنا روزی نے وو بولا آپ اسے کیسے جنتیھیں تو میں نے جب اسے ساری تفصیل بتائی وو مجھے گھسے سے دیکھ کر بولا دیکھو صاحب اگر یہ جھوٹ ہوا تمیں تم کو قتل کر دوں گا میں نے اسے اپنے ساتھ لیا اور اس کے گھر آ گیا جب روزی نے مجھے اس کے ساتھ دیکھا تو وو سمجھ گی میں نے کہا اسسے بتاؤ کے تم کو کیا بنا دیا ہے اس کے دوست نے اب روزی نے رو کر اسے بتایا وو اسے کیسے بلیکمیل کرتا ہے تو ٹونی ghusy سے کانپنے لگا اور کہا میں اس حرام زادے کو مار ڈالوں گا میں نے اسے سمجھایا کے اسے مار کے خود پھانسی چڑھ جو گے تم ایسا مت کرو بس مجھے ساری بات تفصیل سے بتا دو


پھر میں نے راحیل کے وکیل فاروقی صاحب سے رابطہ کیا وو ایک بزرگ وکیل تھے جنہوں نے ترس کھا کر تھورے سے پیسوں میں ہی راحیل کا کیس لے لیا تھا میں اپنے بھائی کے بارے میں جان گیا تھا وو ایک زہین ترین وکیل تھے اور کام ہی وکیل ان کے آگے تک پاتے میں نے فاروقی صاحب سے کہا میں ایک دفع راحیل سے ملنا چاہتا ہوں وو مجھے لے کر جیل گے اور راحیل سے ملوایا وو ایک خوش شکل نوجوان تھا اسے دیکھ کر مجھے اور بھی یقین ہو گیا کے وو قتل نہیں کر سکتا اس نے مجھے بتایا ندرت اس کے ساتھ اگلے مہینے شادی کرنے والی تھی اس نے ایاز صاحب کو بھی بتا دیا تھا جو یہ سن کے ناراض ہوے تھے پر ندرت نے کہا یہ میری مرضی ہے آپ کچھ نہ بولیں پھر ہم جیل سے واپس آگے میں پروقی صاحب کے ساتھ ہی ان کے گھر میں گیا جہاں ایک بیٹھک میں بیٹھ کر وو اپنا کام کرتے تھے میں نے کہا فاروقی صاحب ایک میز میرے لئے بھی یہاں ہی لگا لیں میں آپ کے ساتھ پراکٹس کرنا چاہتا ہوں ووبولے بیٹا آپ اتنے بارے وکیل کے بھائی ھو یہ میں کیا سن رہا ہوں میں نے کہا
فاروقی صاحب وو بس میرا دل کرتا ہے آپ کے ساتھ بیٹھوں وو بولے جیسے آپ کہو بیٹا اب میں نے ان سے کہا آپ تیاری کر لیں ہم نے اس تاریخ پے ہی ضمانت کروانی ہے راحیل کی وو بولے کیسے ہو گا یہ سب میں نے کہا آپ بےفکر ہو جایئں پھر میں اپنے گھر آ گیا ابرات کے کھانے کے بعد نصرت بھائی مجھے اپنے ساتھ لے گے اپنے کمرے میں اور کہا تم راحیل عباسی کی فیملی سے ملی ھو میں نے کہا جی بھائی وو بولے کیوں میں نے کہا اس لئے کے راحیل بیگناہ ہے اور میں اسے بچانا چاہتا ہوں وو ہنس دیے اور کہا یہ کوئی بچوں کا کھیل تھوڑا ہی ہے پھر مجھے بھائی امجد جو کے جج ہیں ان کے پاس لے گے اور کہا ان کو بتائیں بھائی صاب کیا راحیل بچ سکتا ہے ،امجد بھائی نے کہا شارق سرے ثبوت اس کے خلاف ہیں میں نے کہا بھائی جان وو ثبوت جھوتے ہیں وو بولے یار یہ پولیس کا کام ہے تفتیش کرنا ہمارا نہیں ان کی بات سن کے میں نے کہا واہ کیا بات کہی آپ نے اگر کوئی وکیل بھی تفتیش کر لیا کرے تو کمال ہی ہو جاتے گا وو مجھے عجیب سی نظر سے دیکھنے لگے اور کہا تم کہنا کیا چاہتے ہو میں نے کہا بھائی میں راحیل کا کیس لڑنا چاہتا ہوں تو نصرت بھائی نے کہا بچے ابھی تم کو بار کی طرف سے لائسنس بھی ملا میں نے کہا بھائی آپ پلیز میری خاطر ہی یہ کیس چھوڑ دن وو بولے تم نہ سمجھ ہو ابھی جو سو جاؤ میں نے کہا ٹھیک ہے بھائی اب میں پھر فاروقی صاحب کے ساتھ پرکٹس کروں گا وو طنزیہ لہجے میں بولے وو بیچارہ تو میرے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کرتا کورٹ میں وو کیا یہ کیس لڑے گا میںنے کہا ٹھیک ہے اب آپ سے بھائی جان کورٹ میں ہی ملاقات ھو گی

jaari hai

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.

انتظامیہ اس بات سے بخوبی واقف ہے۔لہذا اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔جو ممبر صرف اردو فن کلب کے لیئے لکھتا ہے۔اسے انتظامیہ خصوصی رینک اور ایکسٹرا پوائنٹ سے نوازتی ہے۔شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

part 3
اب میں اپنے کمرے میں آ گیا اور اور راٹنگ ٹیبل پے رکھے ایک خوبصورت لیمپ کو روشن کیا راحیل والی فائل نکالی اور اور جو مین پوائنٹ تھے وو ذہن کی تختی سے اتر کر ایک کاغذ پے   قلم بند کیے  اور کل کے لئے ساری بحث تیار کی جو کل فاروقی صحابنے کرنی تھی اچھے سے اسے پڑھا اور میں مطمئن ہو گیا اگلے دیں کورٹ میں جانے سے پہلے میں فاروقی صاحب کے گھر گیا اور ان کے ساتھ ہی کورٹ میں آیا ان کومیں نے ساری بات سمجھا دی تھی وو بوھت خوش تھے وو بار بار کہا رہے تھے شارق یار میں نصرت حسین جیسے وکیل کے سامنے کیسے بحث کروں گا میں نے کہا اب آپ کو ہمت کرنی ہو گی  سرے پواینٹ تیار ہیں بس آپ نے بولنا ہی ہے جب ہم کورٹ میں داخل ہوے تو سامنے ہی جج صاحب میرے بھائی بٹہے تھے انہوں نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اب نصرت حسین بھی آ گے ان کے ساتھ کوئی آٹھ یا دس  وکیل تھے جو ان کے ساتھ ہی اندر داخل ہوے اب پہلی آواز ہی ہمارے  کیس کی پڑی

راحیل کو ہاتھ کری لگا کر عدالت کے کمرے میں لایا گیا ایاز کی طرف سے ان کا ایک آدمی حمزہ بیگ  اور نصرت حسین پیش ہوے پبلک پرسکیوٹر نواز احمد نے اب راحیل کے کیس کی فیل جج امجد حسین کے سامنے رکھی  اب جج صاحب کی اجازت سے کیس کی سنوائی سٹارٹ ہوئی جناب عالی آپ کی عدالت میں ایک ایسے ملزم کو پیش کیا گیا ہے جس نے کئی قتل کیے ہیں  پہلا قتل اس نے ایذا صاحب کے اعتماد کا کیا جنہوں  نے اس کی بروز گری پے ترس کھا کر ان کو ایک اچھی ملازمت دی اپنے پاس اور اس شتے شخش نے اپنی خوبصورت شخصیت کا سہارا لے کر ایاز صاحب کی معصوم بھتیجی ندرت کو اپنے جل میں پھنسا لیا اور جھوٹے پیار کے وعدے  کیے پھر اسی لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا اور بعد میں اسے بیدردی سے قتل کر دیا اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے ایک معصوم لڑکی کی عزت کا قتل کیا ہے ایسے قاتل کو سزاے موت سے کام تر سزا دینی انسانیت کی توہین ہے ،
کیا اس قتل کا کوئی چشم دید گواہ ہے جج صاحب نے پوچھا تو نصرت حسین نے دوبارہ کہا سر ہر عدالت میں یہی سوال کیا جاتا ہے سر عینی گوا کا ہونا ایک عجیب سی بات ہے یا تو وو ملزم کا ساتھ ہوتا ہے اور اگر نہ ھو تو کوئی کیسے کسی  کو یہ گھنونا جرم اپنے سامنے کرنے دے

ملزم کے خلاف اس جرم کا ثبوت کیا ہے جج صاحب نے پوچھا سر یہ چھری جس سے ملزم نے پے درپے وار کر کے مقتولہ کو قتل کیا یہ چھریبعد میں پولیس کو ملزم کی چھت سے ملی اور اس کے بعد ملزم کا خوں آلود لباس ملزم کے گھر سے کچھ دور ایک زیر تعمیر عمارت سے پولیس نے دریافت کیا پولیس انسپکٹر زیدی نےاس سلسلے میں تحقیقات کیں اور بعد میں ملزم کو  اور یہ سب چیزیں برآمد کرنے کے بعد ملزم کو اس قتل کی الزام  میں گرفتار کر لیا ، وجہ قتل کیا ہو سکتاہے جج صاحب نے سوال کیا جیسا کے میں پہے بھی عرض کر چکا ہوں مقتولہ ندرت ایک حسین اور دولت مند خاتوں تھیں ملزم اس کے زریعے امیر بننا چاہتا تھا ملزم  کا تعلق ایک پسمائندہ  گھرانے سے ہے ملزم کا بھاپ ایک معذور شخیش ہے ایک ماں اور اپنی بہن کی بہتر زندگی کے لئے کوئی ایسا ہی ذریع چاہتا تھا اور ندرت سے بڑھ کے کون ایسا ذریع ہو سکتا تھا جو جواب بھی تھی اور دولت مند بھی اسی لئے اپنی سادہ  لوحی کی بدولت  وو ملزم کے جھوتے پیار کے چکر میں پھنس گی اور ملزم نے اپنے قبضے میں کرنے کے لئے

مقتولہ سے جسمانی ملاپ چاہا تو وو راضی نہ ہوئی اور اپنی نہ آسودہ خوائش کو پورا کرنے کے لئے ملزم نے پہلے اس کا ریپ کیا اور بعد میں قتل کر دیا جب ملزم کو ہوش آیا تو وو خود کو بچانے  کی کوشش کرنے لگا کیوں کے وو جوشے جذبات میں اس کا قتل کر بیٹھا تھا یہ ہیں ووسارے واقعات جو راحیل کو ملزم ثابت کرتے ہیں لہٰذا میں پھر معزز عدالت سے ان ثبوتوں کی روشنی میں سزاے موت کی درخواست کرتا ہوں یہ کہ کر نصرت حسین اپنی جگہ پے بیٹھ گے اب جج صاحب نے کہا جی وکیل صفائی  اب فاروقی صاحب نے کہا سر میں ملزم کا وکیل صفائی ہوں اور اپنےکاغذات پیش کر چکا ہوں عدالت کو  مجھ سے پہلے وکیل استغاثہ نے میرے موکل پے گھنونے الزامات لگے ہیں میں جانتا ہوں ان کے راحیل سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے بس ثبوتوں کی بنا پے وو یہ سب کہ رہے  تھیمیں انسانی نکتہ نظر سے کسی ایسے آدمی کو جسے جوتم کرتے ہوے رنگے ہاتھوں نہ پکڑا گیا ھواسے ملزم بنا دینا اچھی بات نہیں میں پہلے سارے  ثبوتوں پے دوبارہ سے نظر دورانے کی استدعا کرتا ہوںیہ کچھ سرٹیفیکٹ ہیں جو میرے موکل  کے بچپن سے لے کر زمانہ کالج تک ہیں وو ایک اچھا سٹوڈنٹ رہا  ہے اور ایک شریف انسان بھی ایسا جو اپنے کندھے پے آئیکمعذور بھاپ اور جوان بہن کا بوجھ اٹھے ہو وو کیسے ایسی حرکت کر  سکتا ہے  تو جج صاحب نے سرے سرٹیفکیٹ  دیکھنے  لگے جس میں راحیل کے مٹرک سے لے کر اب تک کے تھے ساتھ میں کرکٹر سرٹیفکٹ بھی تھا  اب کے نصرت حسین نے کہا سر ایسے سرٹیفکٹ دو چار ہزار خرچ کرنے سے بن جاتے ہیں تو فاروقی سحاب نے کہا جی جناب میرے فاضل دوست نے معاشرے کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کیا ہےاپنے تجربات کی روشنی  میں  تو عدالت میں بیٹھنے لوگ ہنسنے لگے اب جج امجد حسین نے ڈیسک بجا کر لوگو کو ہنسنے سے روکا اور کہا آپ ان ثبوتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں فاروقی صاحب تو وو بولے سر میں چاہتا ہوں ایک چھوٹی سی  تاریخ مجھے دی جائے تو جج امجد حسین نے اگلے دیں کی ہی تارخ ڈال دی وو خود بھی یہ کیس جلدی ختم کرنا چاہتے تھے جس میں ہم دو بھائی آمنے سامنے آ گے تھے

اب عدالت سے باہر آ کر میں نے فاروقی صاحب سی کہا ابھی وو کپڑے نکلوا کے ان  کا ٹیسٹ  کروا لیں لیب  سے وو بولے ٹھیک ہے  اب میں خود  راحیل کے گھر کی طرف چال دیا اور ثنا سے کہا مجھے راحیل کے کپڑو کا ناپ دو وو ایک سوٹ لے آیی راحیل کا  جو تازہ ہی دھلا ہوا تھا میں اس کا رنگ دیکھ کر چونک گیا اور کہا کیا اس جیسے دو سوٹ سلواۓ  تھے راحیل نے وو بولی نہیں یہ ایک ہی ہے جو میں ہی لے کر آیی تھی بازار سے اس کے لئے میں نے وو سوٹ اپنے پاس رکھ لیا اور کہا ٹھیک ہے ابمین چلتا ہوں کل تاریخ ہے آ جانا تم بھی وو بولی آپ ھمارے لئے کتا کچھ کر رہے ہیں  ہم کیا دے سکیں گے آپ کو  میں نے اس کی نشیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا آپ سے انعام لوں گا پہلے میں راحیل کو چھڑوا لوں  وو بولی آپ کے لئے جان بھی حاضر ہے اور شرما گی میں نے کہا یاد رخان اپنے یہ الفاظ اور وہاں سے چلا آیا اب میں نے ایک دو اور ضرورکام کیے ٹونی کو کل کے  لئے پابند کیا اور گھر آ گیا مجھے دیکھ کر چھوٹی بھابھی تنویر نے روٹی آواز میں کہا شارق کیوں ایسا کرتے ھو ہم سب کتنا خوش تھے تم نے یہ کیا ڈرامہ کرنے لگے ھو میں نے کہا بھابھی کیا خوش ہونے کا حق صرف ہم کو ہے ان غریبو کو نہیں جن کا ایک بیگناہ بیٹا پھانسی چڑھا رہے ہیں بھائی صاحب  پھر مجھے لالارخ نظر آیی وو بولی آپ کو اندر بلایا ہے پاپا نے میں اس کے ساتھ ہی اندر چلا گیا تو مجھے دیکھتے ہی والد صاحب نے کہا تم کیا کرتے پھر رہے ھو تم نے ایک دو تکے کے وکیل کا جونئیر  بن کر کونسا کمال کرنا چاہ رہے ھو میں نے کہا پاپا آپ بھائی صاحب سے کہیں جتنی فیس انہوں نے ایاز سے لی ہے مجھ سے لےلیں اتنےروپے  تو میرے  میرے اکاونٹ میں ہوں گے ہی یہ سونتے ہی لالارخ نے کہا واہ میرا اکاونٹ کونسااکاونٹ  ہے آپ کا  میں  نے اسے ایک تیز نظر سے دیکھا ووبولی آپ اسے دیکھ ہی لینے دن جب یہ میرے بھائی سے کیس ہار جایئں گے تو خود ہی ان کو سمجھ آ جائے گی  میں نے اب پاپا سے کہا کل وو لڑکا باہر ہو گا میں یہ دعوے سے کہ رہا ہوں تو امجد بھائی نے میری طرف دیکھا اور بولے برخودار وو کیس میرے پاس ہے اور ثبوت  اس کے خلاف ہیں  

میں نے کہا بھائی جان وو جھوتے ہیں ثبوت کل میں ثابت کر دوں گا تو ڈیڈی نے کہا  چلو دیکھ لیتے ہیں اور میں اب ان سے اجازت لے کر اپنے روم میں آ گیا اور اپنی مخصوس  میز پے کل کے لئے تیاری کرنے لگا  اگلے دن  عدالت  میں جب ہم پیش ہوے تو آج ایاز  بھی تھا وہاں پے عدالت کی کروائی سٹارٹ ہو گی اب  وکیل استغاثہ نے کہا جناب ہم ملزم راحیل سی کچھ سوال کرنا چاہت ہوں عدالت نے کہا اجازت ہے اب  وکیل صاحب نے راحیل سے پوچھا ندرت سے تمہاری ملاقات کب ہوئی تھی راحیل نے جواب دیا وو میری مالکہ  کی حثیت سے میرے سامنے ہی تھیں میرا کسر ان سے رابطہ رہتا تھا اور اسی تارہا ہم دونو میں بےتکلفی پیدا ہو گی اور وو مجھے پسند  کرنے لگیں  ہم دونو نے ایک دوسرے سے شادی کا پروگرام بنا لیا تھا ؛اس دن بھی ہم نے ایک ہوٹل میں چاۓ پی  اور پھر مجھییک کام تھا میں چلا گیا تو وکیل صاحب نے کہا تم یہ اقرار کرتے ہو کے تم  نے اس کے ساتھ دولت کے لالچ میں ہی تعلقات قائم کیے تھے راحیل نے کہا یہ جھوٹ ہے ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے تھے  وکیل صحابنے عدالت کی طرف دیکھا اور کہا سر یہ اپنی اوقات سے بڑھ کے سوچ رہا تھا اس نے اسے اس دیں اپنے جذبات کی بھینٹ چڑھانا چاہا جب وو نہ منی تو اس نے اس کا قتل کر دیا راحیل نے کہا نہیں میں نے کوی قتل نہیں کیا جب وو ایک مہینے بعد مجھ سے شادی کرنے والی تھی میں کیوں اسے قتل کرتا پھر بعد میں فاروقی صاحب نے کہا سر وکیل استغاثہ ایسے ہی ٹکے لگا رہے ہیں میں اب عدالت کے سامنے وو ثبوت پیش کروں گا جن سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتے گا پھر فاروقی سحاب نے  ایک رپورٹ جج صاحب کو دی اور کہا یہ اس خوں کی رپورٹ ہے جو قمیض پے لگا ہوا ہے یہ ایک بکرے کا خوں ہے انسان کا نہیں یہ سنتے ہیں کمرہ عدالت میں بنبناہٹ کی آوزیں انے لگیں سب لوگ ہی اب حیران تھے پھر فاروقی صاحب نے وو چھری پیش کی اور کہا سر اس چھری سے کبھی کچھ نہیں کتا گیا لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق یہ صاف اور  کوری ہے پھر فاروقی سحاب نے کہا اور جو قمیض موقع  سے برامد کی گی ہے سر وو میرے موکل کی ہے ہی نہیں یہ لیں اس کا اصل سوٹ  راحیل کو پھنسانے والوں نے  کچھ جلد بازی میں سوچا نہیں  پھر جو قمیض پولکے کے قبضے سے عدالت کے قبضے میں آیی تھی وو راحیل کو پہنائی گی وو واقعی کافی بڑھی تھی اسے

ابمین آپ کے سامنے ایک ایسا گہواپیش کروں گا جس کے بعد سبّت صاف ہو جائے گی اور فاروقی صحابنے ٹونی کو اندر بلا لی اب ٹونی نے سارا بین دیا اس کی بات سن کر تو عدالت میں بیٹھنے لوگ فیصلے سے پہلے ہی وکیل حضرات کہ رہے تہے فاروقی صاحب نے تو کمال کر دیا ہے  اب فاروقی صاحب نے کہا سر میں کچھ سوالات  ایاز صاحب سے کرنا کھاتا ہوں ایاز اب کٹرے میں آ گیا تو فاروقی صاحب نے  کہا کیا یہ سچ ہے آپ کے قالینو کے شوروم میں سر ایک  پرسنٹ کی ملکیت تھی اور آپ اپنے کافی پیسے جوے میں ہار چکے تھے وو یہ سنتے ہی چونک گیا اور بولا نہیمیں ففٹی پرسنٹ کا مالک ہوں یہ غلط ہے اب قاروقی صاحب نے کہا مر ایاز کیا تم کو کہا نہیں تھا ندرت نے قتل ہونے کے کچھ دیں پہلے ک وو اپنا کاروبار جدا کرنا چاہتی ہے ایاز اس بات سے بھی مکر گیا کیا تم اپنے بیٹے جمیل کی اس سے شادی کروانا چاہتے تھے اس نے انکار کر دیا تھا تمہارے بیٹے جیمل نے اسے دھمکیاں بھی دن تھیں جب ہر بات سے ایاز مکر گیا تو فاروقی سحاب نے ایک وکیل  الیاس  جنجوعہ نامی کو بلانے کا کہا  اور اسے عدالت میں pasih کیا اور کہا جناب یہ مقتولہ ندرت کا لیگل ادویذر  ہیں ان کے پاس یہ مقتولہ کا آخری بیان ہے جس میں انہوں نے خود کہا تھا کے وو خطرہ محسوس کرتی ہیں جمیل سے اور ایاز صاحب سے اور وو ایاز کو اپنے کاروبار سے جدا کرنا چاہتی ہیں  اور انہوں نے ایاز کو اس کے حصے  کے روپے ادا کر دیے ہیں عدالت میں اب تو شور سا اٹھا گیا جج امجد حسین نے ڈیسک بجا کے سب کو خاموش کیا اور کہا الیاس صاحب آپ اب تک کیوں نہیں آے وو بولا سر میں ہارٹ کا مریض ہوں میں اس city میں نہیں تھا کل ہی واپس آیا ہوں تو مجھے پتا چلا  اب کے ساری بات صاف ہو گی تھیں اور ٹونی کے وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد عدالت نے راحیل کو باعزت بری کر دیا اورایاز کے بیٹے جیمل کو گرفتار کر کے پیش کرنے کے   لئیے پولیس کو دو دیں کا وقت دیا  پھر اسی وقت مچلکے جما کروا کے راحیل کو آزاد کروا لیا گیا وو مرے خوشی کے میرے گلے لگ گیا اس کے ماں بھاپ نے بھی مجھے دعائیں دیں سب وکیل صاحب اب قاروقی صاحب کی واہ واہ کر رہے تھے اور فاروقی صاحب بیچارے گم سم سے تھے  اب ہم سب کو لے کر فاروقی سحاب ے گھر ہی آ گے وو مرے جذبات کے میرے گلے لگ گے اور کہا بیٹا مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا کہوں  محنت تمہاری اور واہ واہ میری ہو رہی ہے اب سب نے کھانا کھایا اچھے ماحول میں پھر جاتے ہوے میں نے ثنا کو کہا حضور میرا انعام یاد رکھیے گا اور اس کی ہونٹوں پے ہلکے سے انگلی پھیری

اب میں گھر آ گیا گھر میں داخل ہوتے ہی مجھے سب لوگ لان  میں بیٹھنے  ہی نظر آے  مجھے دیکھ کر لالارخ نے کہا لو جی آ گے آج کے ونر ان کو جیت کی مبارکباد دیں سب  اب مجھے ڈیڈی نے کہا تم نے اپنا کہا پورا کیا اچھی بہتا ہاکیا ملا تم کو اس کیس کی جیت کا میں نے کہا پاپا دل کو سکون ملا ہے کسی بیگناہ کو قید سے چھڑوا کے  پھر سب ہی مجھے لان تان کرنے لگے میں نے  فری میں ہی اتنا برا کیس  کیوں  لڑا میں چپ کر کے سنتا رہا سب کی  پھر میں اپنے کمرے میں  آ کر سکون سے سو گیا اگلے دن کیوں کے سنڈے تھا میں جی بھر کے سویا جب میری آنکھ کھلی تو کوئی 12 بجے کا ٹائم تھا   میں نہا  کر کمرے سے باہر آیا تو ایک طرف سے مجھے شفق بھابھی اتی نظر آیی میں نے پوچھا کدھر ہیں سب لوگ وو بولی باہر بیٹھنے ہیں لان میں اور تنویر کی چھوٹی بہن رابعہ بھی آیی ہوئی ہے  میں نے کہا پہلے مجھے کھانا  بجھوا دیں میرے کمرے میں اور آ کر ٹی وی دیکھنے لگا بعد میں کہاں کھا کر میں  کرکٹ کا میچ   دیکھنے لگا وورلڈ کپ کا فائنل تھا آج انگلینڈ اور انڈیا کے درمیان  پھر مجھے وقت کا پتا ہی نہیں چلا اچانک میرے کمرے میں رابعہ اور تنویر بھابھی داخل ہوئیں بھابھی نے کہا  آج کہیں جانے کا موڈ نہیں ہے کیا میں نے کہا نہیں بھابھی تو وو بولی ذرا رابعہ کو مارکیٹ تک لے جاؤ اس نے کچھ سامان لینا ہے میں پہلے تو انکار کنی لگا تھا پھر بھابھی نے کہا  چلو جلدی سے تیار ہو کے نیچے آ جاؤ پلیز جلدی آنا میرا کمرہ  دوسری منزل پے تھا  اب میں نے سوچا چلو بھابھی ناراض نہ ہو جائے لے ہی جاتا ہوں ویسے بھی میرا اپنی بھابھیوں سے بوہٹ پیار تھا میں نیچے چلا آیا اب میں نے رابعہ کو اپنی بائیک پے اپنے پیچھے بٹھایا اور مارکیٹ کو چل دیا رابعہ نے مجھے زور سے پکڑا ہوا تھا اسے بائیک سے برا ڈر لگتا تھا میں نے کہا تھا میں تو بائیک سے ہی جاؤں گا جان ہے تو آ جاؤ اب وو مجھے پیچھے سے پکڑ کے بیٹھی تھی      

اس کے مممے میری کمر میں چب رہے تھے ایسے ہی مجھے برا مزہ آنے لگا اچانک ایک موڑ مرتے ہی  مجھے بریک لگنا  پڑھا سامنے سے کچھ سچول کے بچے گزر رہے تھے اباچانک  بریک کی وجہ سے اس کا ہاتھ میرے پیٹ پے جو تھا وو میرے لن پے لگ گیا اور بیساختہ ہی اس نے اسے زور سے پکڑ لیا میرے منہ سے آہ کی آواز نکل گی درد سے وو ایک دم سے بولی کیا ہوا ہے شارق اب اس کا ہاتھ دوبارہ میرے پیٹ پے تھا میں نے کہا ابھی تم مجھے ناکارہ  کرنے لگی تھی وو بولی کیا مطلب میں نے کہا تم نے میرے سب سے خطر ناک اور ایک بوہٹ ضروری  چیز کو کھینچا تھا وو اب کچھ کچھ سمجھ گی اور بولی سوری اس کی آواز میں گھبراہٹ اور شرم سی صاف محسوس ہو رہی تھی وو کافی سلجھی ہوئی لڑکی تھی پھر ہم گھر واپس آنے تک وو کچھ نہ بولی

گھر واپس آتے ہی ہم نے کھانا کھایا میں کچھ دیر جم میں گیا اور وہاں سے کافی لیٹ واپس آیا میرے آنے تک تقریبن سرے لوگ ہی اپنے اپنے کمروں میں تھے  میں نے اپنے کمرے آ کر لباس بدلا اور اپنے بد پے لیٹ گیا اچانک میرے روم کا دروازہ کھلا اور رابعہ اندر آیی  وو بولی آپ ابھی تک جاگ  رہے ہیں  میںنے کہا جاؤ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی  وو میری  طرف دیکھ کر ہنس دی اور کہا نیند کو کیا ہو گیا ہے  میں نے کہا جب بھی سوتا ہوں ایک واقعہ یاد آ جاتا ہے اور نیند اڑ  جاتی ہے وو بولی کون سا واقعہ میں نے کہا آج ایک بوہٹ ہی پیاری سی لڑکی نے مجھے وہاں سے پکڑ لیا تھا جہاں ہاتھ لگنے سے جسم میں کرنٹ لگتا ہے وو یہ سنتے ہی شرم سے لال ہو گی اور کہا آپ سو جایئں میں اب چلتی ہوں میں نے کہا بات سنو اور اٹھ کے اس کے پاس گیا وو ابھی تک دروازے ک پاس ہی کھڑی تھی  میں پہلی دفع اس کے اتنا پاس  گیا تہ میں ے کہا رابی

اور اس کے پاس خرے ہو کر اس کے کندھے پے ہاتھ رکھا اور اس کا منہ اپنی طرف کیا اب میں نے آہستہ سے اس کے شبنمی ہونٹو کو اپنے ہونٹوں  کی دسترس میں دے دیا وو ایک دم سے ہڑبڑا گی اور مجھ سے اپنا آپ چرا کے پیچھے ہٹی میں نے کہا رابی کیا میرا کس کرنا تم کو اچھا نہیں لگا وو کچنا بولی میں نے کہا سوری اور اپنے بیڈ کی طرف آ گیا وو وہیں کھڑی جانے کیا سوچتی رہی   پھر اس نے میرے کمرے کا دروازہ آنر سے بند کیا اور میرے پاس شرماتے ہوے آ گی اور بولی شارق پلیز ایسا ویسا کچھ نہ کرنا مجھے برا ڈر لگتا ہے میں نے اسے اپنی بانہوں میں بڑھ لیا   

اب وہ میرے ساتھ تعاون پر آمادہ نظر آ رتھی تھی۔
اس کو آمادہ دیکھ کر میرے اندر مستی کی تحریک تیز ھو گئی۔ اب میں اس کے جسم کی جوانی سے کھل کر کھیل سکتا تھا۔ میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی،
" تھینکس رابی، (اس کے گھر والے اسے مختصراْ رابی کے نام سے ھی پکارتے تھے۔ ویسے اس کا اصل نام رابعہ تھا۔) اب دیکھنا، آج میں تم کو کتنا مزہ دیتا ھوں۔ میرے ساتھ گزارے گئے یہ لمحات تمہیں ساری عمر یاد نہ رھیں، تو کہنا۔ "
میری اس بات سے اس کا چہرہ سرخ ھو گیا، اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
اس کے بعد میں اس کے وجود سے ھٹ گیا، اور اس کے برابر میں لیٹ گیا۔ میں جان چکا تھا، کہ ھمارے پاس وقت اتنا زیادہ نہیں ھے۔ اس لئے میں نے سب سے پہلے اس کو دوبارہ سے گرم کرنا شروع کر دیا۔ مجھے معلوم تھا، کہ اگر میں نے ابھی سے اس سے کپڑوں کا مطالبہ کر دیا، تو وہ فطری شرم و حیا کے باعث انکار کر سکتی ھے۔
میں پہلے اس کے جذبات کو مکمّل گرم کر دینا چاھتا تھا، تا کہ جب کپڑوں کا مطالبہ کروں، تو وہ بلا چون و چرا مان جائے، یا کم سے کم دیر لگائے۔
رابعہ کے تعاون کا یہ نتیجہ نکلا، کہ میرا کام آسان ھو گیا۔ کیونکہ اب رابعہ بھی میرا ساتھ دے رھی تھی۔ میں نے اس کی کسّنگ سٹارٹ کی، تو اس نے بھی جواب دیا، اور اپنا ھاتھ میرے بازو کے اوپر سے میری کمر پر ٹکا لیا۔ اس کی آنکھیں بند ھونا شروع ھو رھی تھیں۔ میں نے کم و بیش تین چار منٹ تک مسلسل اس کی کسّنگ کی۔ اس دوران میرا ایک ھاتھ اسکی کمر پر حرکت کرتا رھا، جبکہ دوسرا ھاتھ میں نے اس کے سر کے نیچے دے رکھّا تھا۔
چند منٹ کی کسّنگ نے رابی کے جذبات کو اچھّی خاصی تحریک دے ڈالی تھی۔ اس کی سانسوں کی آوازیں بتا رھی تھیں، کہ اس وقت وہ اپنے کنٹرول سے آؤٹ ھو چکی ھے۔ اوپر سے میرا ھاتھ اس کی کمر سے ھوتا ھوا اب اس کے سینے پر مصروف عمل تھا۔ میری ٹانگیں بھی اس کے وجود سے رگڑ کھا رھی تھیں۔ اگر مجھے ٹانگوں کے رستے اس کے جسم کی گرمی اپنے اندر منتقل ھوتی محسوس ھو رھی تھی، تو یقیناْ میرے بدن کی حرارت بھی اس کے اندر لازمی طور پر اتررھی ھو گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میرا ھتھیار تو لگاتار رابی کی ٹانگوں کے ساتھ ٹچ ھو ھو کر، اس کی پھدّی کو دعوت مبارزت ( جنگ میں اپنے مدّ مقابل کو مقابلے کے لئے للکارنا۔ جنگ کے لئے دعوت دینا۔ ) دے رھا تھا۔

اب میں نے اس کے سینے کے اندر ھاتھ ڈالا، اور اندر سے اس کی چھاتیوں کو انتہائی نرمی سے دبانا شروع کیا ۔
جب میرا ھاتھ اس کی چھاتی سے ٹچ ھوا تھا، تو اس کے منہ سے ایک خاص آواز بر آمد ھوئی تھی، جو اس کی اندرونی کیفیّت کو ظاھر کر رھی تھی۔
یقیناْ وہ بھی میری حرکتوں سے سرور میں ڈوبی جا رھی تھی۔ ورنہ اس کا تنفّس اتنا تیز نہ ھوتا۔
میں نے کچھ دیر مزید اس کے کپڑوں کو برداشت کرتے ھوئے اس کے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھّی۔ رابی بار بار اپنے سر کو دائیں بائیں حرکت دے رھی تھی۔ میری محنت رنگ لا رھی تھی، اور رابی اب اس مرحلے پر آ رھی تھی، جب جلد ھی وہ میرے ایک اشارے پر کپڑے بھی اتار دیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ھاتھ مسلسل اپنے کام میں مصروف تھے۔ رابی کے ھونٹ سرخ ھو چکے تھے۔ میں نے اپنے ھاتھ سے رابی کے ایک ممّے کو نپل سے پکڑ کر ھلکا سامسلا، تو رابی کے منہ سے سسکاری نکل گئی، مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔

میں بھی بس یہی دیکھنا چاھتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
جس ھاتھ سے میں رابی کے ممّوں کو مسل رھا تھا، اسی ھاتھ کو میں اندر سے ھی رابی کی کمر تک لے گیا۔ اس کام کے لئےمجھے رابی کی کسّنگ تیز کرنا پڑی تھی، مگر فائدہ یہ ھوا، کہ میں بنا کسی اعتراض کا سامنا کیے، رابی کا برا کھولنے میں کامیاب ھو گیا۔
برا کی ھک کھولنے کے بعد، میرا ھاتھ رابی کے ممّوں کے لمس سے صحیح معنوں میں آشنا ھوا۔ اس کے بدن کا لمس واقعی کمال کا مزہ رکھتا تھا۔ میرے اندر کرنٹ دوڑ گیا۔ میں نے اس کے ممّوں کو دبایا، تو رابی کی آنکھیں کھل گئیں، مگر میرے ساتھ بات کرنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔، ، ، اس کے ھونٹوں پر ابھی تک میرے ھونٹوں کا قبضہ تھا۔
میں کم و بیش، دو منٹ تک اس کے ممّوں کو دباتا رھا، کبھی میں اس کے ممّوں کو نرمی سے مسلتا، تو کبھی میں اس کے نپلز کو پکڑ کر اوپر سے رگڑنا شروع کر دیتا۔ حتّیٰ کہ مجھے محسوس ھو گیا، کہ اب رابی کے کپڑے اتروائے جا سکتے ھیں۔ چنانچہ میں نے رابی کے کان میں سرگوشی کی۔
"رابی ، میری ایک بات مانو گی؟" جواب میں، رابی نے مجھے دیکھا، تو مجھے اندازہ ھوا، کہ اس کی آنکھیں از حد سرخ ھو چکی تھیں۔ ، ، ، ، تب مجھے معلوم ھوا، کہ رابی بھی اس قبیل سے تعلّق رکھتی تھی، کہ جو لوگ جب بھی سیکس کے لئے تیّار ھوتے ھیں، تو ان کی آنکھیں سرخ ھو جاتی ھیں۔ (میری زندگی میں میرا ایسی چند ایک ایسی لڑکیوں سے واسطہ پڑا ھے، جن کی آنکھیں سیکس کے دوران، یا سیکس کے شروع میں ھی، مکمّل طور پر سرخ ھو جاتی تھیں۔ ، ،یہ سرخی ، آنکھوں کے عام سرخ ھونے سے سے کافی حد تک زیادہ ھوتی تھی۔ شائد آپ میں سے بھی کسی دوست کے ساتھ ایسا اتّفاق ھوا ھو۔ ) میں جان چکا تھا، کہ اب رابی تیّار ھے۔ چنانچہ میرے کہنے پر اس نے ذرا سے تردّد کے بعد، اپنے کپڑے اتاردئے۔

بھی اپنے آپ کو کپڑوں سے آزاد کر چکا تھا۔ رابی نے اپنی شلوار تو اتار دی تھی، مگر اس نے ابھی تک اپنا انڈر ویئر نہیں اتارا

    تھا۔ میں نے اس کو اپنے ساتھ لٹایا، اور اپنے ھاتھ اس کے ممّوں پر رکھ دئے۔ اس نے شرم سے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے رابی کی کسّنگ شروع کر دی، چنانچہ کچھ ھی دیر میں رابی گرم ھو کر میرا ساتھ دینے لگی۔
    اب وہ چدنے کے لئے مکمّل طور پر تیّار تھی۔
    میں نے اس کا انڈر ویئر کھینچ کر نیچے کیا، اور اتار دیا۔ اب وہ ٹوٹل برھنہ حالت میں میرے سامنے موجود تھی۔ اس کے سینے پر موجود ابھار دودھیہ رنگت کے حامل تھے جن پر گلابی رنگ کے نپل موجود تھے۔اس حسینہ کا بدن بالکل بے داغ تھا۔ (مطلب حسین جسم پر کوئی داغ نہیں تھا۔ ورنہ تو وہ پہلے سے چدی ھوئی تھی ۔ ) اس کی گول مٹول رانوں کا نظّارہ بھی مجھے پاگل کئے دے رھا تھا۔ اس کے پیٹ میں بھی وہ کشش موجود تھی، جو ایک لڑکی کے پیٹ میں اس وقت تک موجود رھتی ھے، جب تک کہ وہ ماں نہیں بن جاتی۔
    اس کا پیٹ بے حد کشش رکھتا تھا۔
    اس کے پیٹ کے نیچے وہ مقام موجود تھا، جس کی خاطر اتنی محنت ھوئی تھی۔

    ، ، ، ، اس کی پھدّی ۔ ۔ !
    اس کی پھدّی بھی بالوں سے صاف تھی۔ شائد اس نے آج یا کل ھی صفائی کی تھی۔

    میں نے مزید وقت ضائع کئے بغیر، اس کے بدن پر ھاتھ پھیرتے ھوئے، اس کی ٹانگوں کی طرف آ گیا۔
    اب میں نے اس کی رانوں پر ایک دو بار ھاتھ پھیرا، یہ اس کے جذبات کو چھیڑنے کے لئے تھا، اور رابی اس پر اچھّی خاصی مچل گئی۔ میں مسکرایا، اور اس کے دیکھنے پر گویا ھوا۔ " پلیز، گیٹ ریڈی ٹو بی فکڈ، مائی ڈئر سویٹ ھارٹ، Please Get Ready To Be) Fucked, My Dear Sweet Heart.)
    میری اس بات کے جواب میں رابی شرم سے سرخ ھو گئی۔ میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائیں، اور اپنے دائیں بائیں پھیلا دیں۔ اس کی پھدّی سے اس وقت ایک خاص قسم کا لیس دار مادّہ نکل رھا تھا۔ میرے لن کے سوراخ پر بھی چند قطرے پانی جمع ھو کر نکل رھا تھا۔ رابی نے کہا، " پلیز، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ھے۔ میری ماں جاگ گئی ھو گی۔ ، ، ، میں مسکرا دیا۔ یقیناْ وہ یہ چاھتی تھی، کہ میں جلد سے جلد اس کی پھدّی میں اپنا لن اتاردوں۔ ، ، ، میں نےپوچھا، "اگر تم کنواری ھو، تو تمھیں درد ھو گا۔ برداشت کر لو گی ؟ " ، ، ، جواب میں اس نے کہا، کہ وہ برداشت کر لے گی۔ ۔ ۔ ۔
    میں نے اس کی ٹانگیں پکڑیں، اور اپنے لن کا ٹوپہ اس کی پھدّی پر سیٹ کیا۔ ایک نظر اس کی طرف دیکھا، اور ایک دھکّا لگایا۔ میرے لن کی ٹوپی اس کی پھدّی میں گھس گئی۔ اس کے چہرے پر تکلیف محسوس ھو رھی تھی۔ میں نے آگے کو ھوتے ھوئے، اس کے ھونٹ اپنے ھونٹوں میں لے لئے، نیچے سے میں نے اپنی پوزیشن کا خاص خیال رکھّا تھا، کہ میرا لن اس انداز میں اس کی پھدّی پر سیٹ رھے، کہ میرے ایک ھی دھکّے سے اس کی پھدّی میں گھس جائے۔
    اس کی کسّنگ کے دوران ھی، میں نے اچانک ایک جاندار دھکّا لگایا، اور اس کی پھدّی کی گہرایئوں میں اپنا لن اتار دیا۔
    اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ میرے منہ میں ھی کہیں دب گئی۔ ، ، ، !
    (میں سوچ رھا تھا، کہ آج کنواری لڑکی کی سیل توڑنے کا موقع ملا ھے، ۔ )
    چند سیکنڈ کے توقّف کے بعد، میں نے چپّو چلانا شروع کر دئے۔ ۔
    میں نے اس کے منہ سے اپنا منہ ھٹا لیا تھا، کیونکہ اب وہ میرا لن برداشت کر چکی تھی۔ لہٰذا کسی قسم کی چیخ کا کوئی امکان نہیں تھا۔میں بے فکری سے اس کی پھدّی مار رھا تھا۔ اس نے بھی اب انجوائے کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں چاھتا تھا، کہ وہ میرے ستاھ فارغ نہ ھو، بلکہ اس کے فارغ ھونے کے بعد بھی، کم از کم، پانچ سات منٹ تک میں اس کی چدائی کرتا رھوں، تا کہ بعد میں وہ اس چدائی کو ھمیشہ ھمیشہ کے لئے یاد رکھّے۔ اس کی سیکسی آوازیں بھی نکل رھی تھیں، مگر میں اس کے منہ پر کبھی کبھی ھاتھ بھی رکھ دیتا تھا، مبادا اس کی آواز باھر چلی جائے، اور کوئی سن لے۔ ۔
    کچھ دیر میں نے آھستگی سے جھٹکے لگائے، پھر میں نے اپنی سپیڈ تیز کر دی۔ ساتھ ساتھ میں اس کو چھیڑ بھی رھا تھا۔ اس سے وہ جلد ھی فارغ ھو گئی۔
    میں نے اس پوزیشن میں پانچ منٹ تک اس کو چودا۔ پھر میں نے اس کو اٹھ کر ڈوگی سٹائل بنانے کو کہا۔ وہ مان نہیں رھی تھی، تب میں نے کہا، اگر وہ مجھ سے جلد جان چھڑانا چاھتی ھے، تو اس کو اٹھ کر ڈوگی سٹائل میں آنا ھی ھو گا۔ وہ اٹھی، اور جھک گئی۔ اس سے اس کی پھدّی بالکل واضح ھو گئی۔ یہ میرے لئے بے حد دلفریب نظّارہ تھا۔ اس کی گیلی پھدّی، گول مٹول رانیں۔ (لمبی، گوری اور گول مٹول رانیں ھمیشہ سے میری کمزوری رھی ھیں۔) میں نے اس کے پیچھے سے آ کر اس کی پھدّی پر اپنا لن سیٹ کیا، اور ایک ھی جھٹکے سے اپنا لن اس کی پھدّی میں ڈال دیا۔ میں نے اس کی کمر سے اس کو پکڑ لیا تھا، ورنہ وہ لازمی طور پر آگے کو گر جاتی۔
    اس انداز میں ، کم از کم پانچ منٹ مزید میں نے اس کی جم کر چدائی کی۔ اب میں نے سوچا، کہ بس کر دینی چھاھئے۔ ، ، چنانچہ میں نے اس کو سیدھا لٹا کر اس کی ٹانگیں اٹھا کر شروع ھو گیا۔ دو منٹ کے جاندار سٹروکس سے میں اس کی پھدّی میں ھی فارغ ھو گیا۔

 اس نے کوشش کی تھی، کہ میں اپنا پانی باھر نکالوں، مگر میں نے اس کو ھلنے بھی نہیں دیا۔
    ( وہ کیا ھے ناں، کہ جب تک میں اپنا پانی عورت کی پھدّی میں نہ نکالوں، مجھے سیکس کا مزہ ھی نہیں آتا۔) ا
    اس کے بعد میں نے واش روم کا رخ کیا۔ کپڑے وغیرہ پہن کر میں فارغ ھوا، تو وہ بھی اپنے کپڑے پہن چکی تھی۔ کافی دیر تک تو وہ مجھ سے نظریں ھی نہیں ملا سکی تھی۔ آخر اس نے مجھ سے گلہ کیا، کہ میں نے پانی نکالتے وقت کوئی بھی احتیاط نہیں کی۔ اس پر میں نے اس کو ایک خاص قسم کی ورزش کروائی۔ تکلیف کے باوجود اس نے وہ ورزش کی، کیونکہ وہ ماں بننے کی بدنامی سے بچنا چاھتی تھی۔اس کے بعد میں نے اس کو مزید تسلّی دیتے ھوئے کہا، کہ  میں اس کو ایک خاص چیز لا دوں گا۔ اس کے استعمال سے وہ حاملہ ھونے سے محفوظ رھے گی۔ اس کے بعد میں نے اس سے سوال کیا، کہ کیا اس نے مزہ محسوس کیا، یا کہ وہ ناراض ھے؟ ، جواب میں وہ مسکرائی، اور میرے سینے پر ایک مکّا مارتے ھوئے میرے ساتھ لگ گئی۔ میں بھی خوشی سے جھوم اٹھّا۔۔
    اس کے بعد, میرے گال پر ایک کس کرتے ھوئے وہ جانے لگی، تو میں نے اس کو پکڑ کر پوچھا۔ " ایک بات تو بتاؤ،

وو بولی جی پوچھیں میں نے کہا پھر کب مل گی وو بولی اب میں نہیں ملوں گی دیکھیں میرا کتنا خوں نکلا ہے اب تو ایسے ظالم بن کے دھکے مرتیھیں میرا سارا بدن دکھ رہا ہے اور چلی گی  میں بھی اٹھا بیڈ شیٹ کو اٹھا کے ایک طرف رکھا اور ایک نیی بیڈ شیٹ بیڈ پے ڈالی اور اپنا جسم صاف کر کے سو گیا   
دوستو پلز مجھے بتائیں آپ لوگو کو میری یہ کہانی کیسی لگ رہی ہے مجھے آپ کے جوابات کا انتظار رہے گا  

 

Share this post


Link to post
Share on other sites

انتظامیہ  اس بات سے بخوبی واقف ہے۔لہذا اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔جو ممبر صرف  اردو فن کلب
کے لیئے لکھتا ہے۔اسے انتظامیہ خصوصی رینک اور ایکسٹرا پوائنٹ  سے نوازتی ہے۔شکریہ

yaar yahan koi response hi nahi deta  main nay kuch stories likhi hain koi  partha tak nahi  ager koi  parhy aur jawab dey to main iss froum ka kafi porana user haon main yahan athra jutt wali id say aaya karta tha

Share this post


Link to post
Share on other sites

Please login or register to see this quote.


 جناب جٹ صاحب ۔آپ کی یہ بات کہ آپ کے تھریڈ کو کوئی ریڈ نہیں کرتا ۔غلط ہے۔اس تھریڈ کو بھی اس وقت 68 یوزرز پڑھ چکے ہیں۔ جبکہ نان رجسٹرڈ یوزرز تو شاید سینکڑوں میں ہوں۔آپ کے تھریڈ کو کس کس نے ریڈ کیا ۔وہ آپ اس آپشن میں دیکھ سکتے ہو۔
Members who have read this thread : 68

اور آپ کی یہ بات کہ رسپانس نہیں ۔کچھ حد تک ٹھیک ہے۔ مگر آپ شاید وقت سے پہلے ہی رزلٹ چاہ رہے ہیں۔ جو ممکن نہیں۔یہاں اس تھریڈ میں کمنٹس نہیں ہوئے۔مگر اس سے آپ کو کوئی غرض نہیں ہونی چائیے۔آپ اپنا کام بہتر انداز میں کریں وقت خود آپ کا نام بنا دے گا ۔شکریہ

Share this post


Link to post
Share on other sites

part 4

اگلے دِن ناشتے کے ٹائم ہی میری پیشی ہو گی والد حضور نے ناشتے کے بعد کہا شارق ہم سب کو خوشی ہے کے تم وو کیس جیت گے اب میں یہ قطعی برداشت نہیں کر سکتا تم اس فاروقی کو اسسٹ کو کرو تم آج سے نصرت کے ساتھ جو گے میں نے کہا اپ کا حکم سر آنکھوں پے ڈیڈی لیکن کیا اپ نے بھائی جان سے پوچھ لیا ہے وو بولے کیا مطلب میں نے کہا ڈیڈی میں سچائیوں کا پرستار ہوں اور اگر مجھے لگا  کے بھائی کے دفتر میں کسی بیگناہ کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے تو میں اسی کا ساتھ دوں گا بھائی نصرت نے اب کہا ڈیڈی ہر فیلڈ میں سچے اور جھوتھے لوگ ملتے ہیں اور   پھر میرے پاس تو سب ہی آییں گے ظالم بھی مظلوم بھی اب سب نے بھائی کی تائید کی میں نے کہا بھائی اپ صرف پیسا دیکھتے ہیں وو بولے ہاں میں میں اب فری میں تھوڑا کس لڑوں گا میرا ایک نام ہے وکیلوں میں ان کے لہجے میں غرور کوٹ کوٹ کے بھرا تھا جو مجھے بلکل اچھا نہیں لگا میں نے کہا تو میں اپ کے ساتھ نہیں بیٹھہ سکتا اب کے ڈیڈی نے کہا یہ میرا حکم ہے میں نے کہا سوری ڈیڈی میں کوئی بھی غلط بات نہیں منوں گا بس پھر کیا تھا ڈیڈی نے غضب ناک لہجے میں کہا تیری یہ جرات تو مجھے انکار کرے اور کہا اس گھر میں ووہی رہ سکتا ہے جو میری بات ماننے میں یہ سنتے ہی عجیب سی نظروں سے اپنے گھر والوں کو دیکھنے لگا جو بس اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھتے تھے میں بھی آخر انہی  کا خوں تھا میںنے بھی اسی وقت اپنے کپڑے لئے اور گھر سے نکل آیا بیچاری والدہ صاحبہ بوہت رویی لیکن آئی .جی سحاب کے آگے کوئی پیش نہ چلی

میں نے اپنا سامان لیا اور فاروقی سحاب کے گھر آ گیا اب میں نے ان کو ساری بات بتا دی وو بولے نا سمجھ ہیں آشیانے والی جو ایک ہیرے کی قدر نہیں کر رہے اور کہا بتا آج سے تم یہی رہو میرے اس چوتھے سے گھر میں بوھت جگہ ہے لیکن میری خدار طبیت نے یہ نا مانا اور میں نے ایک اچھی سی بلڈنگ میں ایک کراے پے فلیٹ لے لیا جو بوھت ہی اچھا اور پیارا بنا ہوا تھا ، پھر واہی  روز کی روٹین اب فاروقی صاب کا کام خوب چل نکل تھا ان کے پاس دہرا دھر کیس انے لگے وو اور میں اس کیس پے فل محنت کرتے اب یہ میری خدا داد ذہانت کا ہی کمال تھا میں جو بھی بحث تیار کرتا وو  اب کم ہی کسی وکیل کو پکڑائی دیتے تھے اکثر عدالت میں اتے جاتے بھائی نصرت اور کمرہ عدلت میں بھائی امجد سحاب سے ملاقات ہو جاتی دونو ہی مجھے اگنور کرتے اب میں نے بھی ان کو اہمیت دینا چھوڑ دی  

اب ہماری وکالت پورے زوروں پے تھی ،ایک دِن میں اپنے فلیٹ میں جا رہا تھا کورٹ سے فارغ ہو کر کے مجھے راستے میں ثنا عباسی نظر آی  اس نے بھی مجھے دیکھ لیا اور میری طرف آی وو ایک بس استنڈ پے کھڑی تھی میں نے بھی اپنی بائیک کو روک لیا اور اسے حال چال پوچھا وو بولی سب ٹھیک ہے راحیل بھائی اب دبئی چلے گے ہیں اور میں ایک سچول میں ٹیچر کی جاب کر رہی   ہوں آج میں مارکیٹ سے کچھ ضروری سامان لینے یی تھی اب واپس گھر جا رہی ہوں میں نے اسے کہا چلو او پاس ہی میرا فلیٹ ہے وہاں چلتے ہیں وو میرے ساتھ بیٹھ گی فیلٹ میں    آ کر میں نے اسے ڈرائنگ روم میں صوفی پے بیٹھننے کو کہا اور کہا میں تمہارے لئے چاۓ بنا  کے لاتا ہوں وو  میرے ساتھ ہی آ گئی کچن میں اور خود  چاۓ بنانے لگی میں اس کے پاس ہی کھڑا ہو گیا وو کالے رنگ کے لباس میں تھی اس کا یہ فٹنگ والا سوٹ اسے بوھت  پیارا لگ رہا تھا وواس لباس میں جگمگا رہی تھی ثنا ایک سانولے رنگ کی دراز قد لڑکی تھی جس کے مممے چوتیس اور کمر اٹھائیس تھی کمر سے نیچے آ کر اس کے کولہے کافی بھاری تھے وو کوئی چھتیس سائز کے ہوں گے 34 ، 28 ،36 میں اسے کافی غور سے دیکھ رہا تھا وو بولی شارق سحاب کیا دیکھ رہے ہیں میں نے کہا آپ کی جوانی وو شرما گی اب ہم واپس کمرے میں آے اور چاۓ پینے لگے ساتھ میں کچھ بیکری کا سامان بھی کھا رہے تھے  میں نے اسے کہا لوگ بات کر کے بھول جاتے ہیں وو سمجھ گئی اور کہا یہ لوگو کی غلط فہمی ہے لوگ آج بھی مجھے بوھت یاد آتے ہیں میں نے کہا تو پھر تم نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا وو بولی میں آپ کا انتظار کر رہی تھی کب آپ مجھے بلائیں  اور میں کچے دھاگے سے بندھی دوری چلی آؤں

میں نے اس کا ایک ہاتھ پکڑ کےسہلانے  لگا وو بولی شارق آپ بوھت اچھے ہیں میں آپ کو بوھہت پسند کرتی ہوں میں نے کہا سچی وو میرے پاس آی اور میرے ہونٹوں پے کس کر کے کہا مچی  اور کھلکھلا کر ہنس دی میں نے اب اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اس کے رس بھرے ہونٹوں کو اپنی پکڑ میں لے لیا میرے ہونٹ اب اس کی ہونٹوں کو اپنے اندر ساماے ہوے تھے میں اس کے نچلے ہونٹ کو بیتابی سے چوم رہا تھا اب اس نے مجھے بھی اپنی بانہو میں جکڑ لیا میں اس کی کمر پے ہاتھ بھی پھیر رہا تھا اور ساتھ میں اس کے ہونٹ بھی چوس رہا تھا

اب میرے ہاتھو  نے اس کے بھرےبھرے  ممموں کو اپنے قبضے میں کیا میں اس کی چوچیاں مسل رہا تھا اب ثنا بوھت گرم ہو گے اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی  آگ نظر آ رہی تھی میں نے کوئی پندرہ منٹ تک اس کے ہونٹوں کا رس پیا  ساتھ ساتھ اسے کے مممے بھی دبا رہا تھا وو اب تڑپ رہی تھی میںنے اس کی کمر سے قمیض کی زپ نیچے کی اور اس کی قمیض اتر دی اب اس کے مممے ایک سکن کلر کے برازیئر میں  تھے میں نے اب اسی کی برا بھی اتر پھینکی اب میںنے اسسے اپنے ساتھ ایک صوفے پے بیٹھا کے   اس کی نپل کو منہ میں نے کر چوسنے لگا اور دوسری سائیڈ والی نپل  کو اپنے ہاتھ کی انگلیوںمیں لے کر مسلنے لگا وو اب مزے سے سسکاریاں بھر رہی تھی سسسسسسسسسسس شارق پلز کچھ کرو میرے اندر سب جل رہا ہے  میں نے اس کی بات پے کوئی دھیان نا دیا اور اسے چومتا رہا اب میرا ہاتھ آھستہ آہستہ اس کی شلوار کی حنب جا رہا تھا اس نے لاسٹک والی شلوار پہنی تھی میرا ہاتھ آسانی سے اندر چلا گیا اس کی پھدھی آگ کی طرح تپ رہی تھی

میں نے اب اپنی انگلی سے اس کی چوٹ کا دانہ مسلنے لگی  اب کے وو تڑپ تڑپ کے نیچے گر رہی تھی شارق کچھ کرو نا پلیز میں نے کہا کیا کروں وو بولی اپنا اسس کے اندر ڈال دو میںنے کہا اس کا کیا نام ہے وو بولی مجھے نہیں پتا  میں نے کہا جب تک تم اپنے منہ سے سبنہی بتاؤ گے میں کچنہی کروں گا اور دوبارہ سے اس کے مممے چوسنے لگا وو اب اتنا بیتاب ہو رہی تھی اس کے منہ سے اب چیخیں نکل رہی تھی  اہھھھھھہ  افففف سسسس جانو مت ترپاؤ میں مر جو گی  اور پھر وو اپنے آپ سے بیگانہ ہو گے اس نے مجھے اپنے نیچے کر لیا کروٹ بدل کر اور میری پینٹ اترنیکے بعد میرا انڈر ویر بھی خود ہی اٹھارہ  اب وو میرے  لن کو پیار سے دیکھ رہی تھی پھر اس نے خود ہی اسے اپنے منہ میں لے کر چوسنا سٹارٹ کر دیا اب وو میرے لن کو آئسکریم کی تارہا چاٹ اور چوس رہی تھی مجھے اب مزہ انے لگا میں اس کچوچیاں دبا رہا تھا میں نے کہا ثنا

اسے کیا کہتے ہیں وو اب بیتابی سے میرا لن چاٹ رہی تھی وو میرے لن کی ٹوپی پر زبان فیرتے ہوے بولی  شارق تمہارا لن بوھت برا ہے مجھے لگ رہا ہے آج میری کنواری چوٹ کا ستیا ناس ہو جاتے گا  لیکن میں اب اسے ہر حال میں اپنی پھدھی میں لینا چاہتی ہوں میں نے کہا  ٹھیک ہے جانو اور اسے دوبارہ سے اپنے نیچے کیا اس کی دونو ٹانگیں اپنے کندھے پے رکھی  اب میں نے اپنا لن اس کی پھودھی  کے سوراخ پے سیٹ کیا اور اس کی طرف دیکھ کے بولا ثنا میں اندر کر دوں وو بولی ہاں شارق مجھے آج اتنی تکلیف دو جس میں راحت ھو مزہ ھو میں اس مزے بھری تکلیف ک لئے تیار ہوں پلیز  جانو ایک ہی دھکے سے سارا اندر کر دو جو ہونا  ایک ہی دفع ہو جائے  میں نے اب اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لیا اور ایک زور دار دھکا مارا میرا لن اس کی تنگ اور کنواری چوٹ کو پھاڑتا ہوا اس کی بچا دانی سے جا ٹکرایا

وو میرے نیچے ایسے تڑپی جیسے مچھلی تڑپتی ہے پانی سے بھر نکل کر اس کا جسم کانپ رہاتھا اس کی زور دار چیخ میرے منہ میں ہی دب گی تھی  میں نے اب کچھ دیر ایسے ہی اس کے اپر لیتا رہا اس کے ہونٹ چوستا رہا اس کی آنکھوں سے مارے درد کے  آنسوؤں کی جھڑی پھوٹ گئی تھی  میں نے اس کے نمکین نمکین  آنسوں کو اپنے ہونٹو سے صاف کیا اور  پھر ہلکے سے اپنا لن باہر نکل لیا وو پھر تڑپ گی میرا لن اس کی چوٹ کے خوں سے لبھرا ہوا تھا میں نے اب دوبارہ سے تھوڑا تھوڑا کر کے اپنا لن اندر کیا اس کی چوٹ کے  اور پھر ایک دو دفع ہلکے ہلکے یہی کیا اندر باہر  اب وو پرسکون تھی میں نے کہا جانو اب زیادہ درد تو نہیں ہو رہا وو بولی اب نہیں ہے میںنے اب زورو سے دھکے مارنے  لگا  میرے ہر دھکے پے وو اچھل جاتی تھی اب میں نے اس کی ایک ٹانگ نیچے کی اور ایک اپنے ہاتھ میں پکڑ کر چاٹ کی طرف کر دی ابمیں زور دار دھکے مر رہا تہ اب وو مستی اور مزے سے سسک رہی تھی  آھہ اووو جانو اور زور سے اوئی من میں مر گے اب کے وو میرا ساتھ دینے لگا اب میں نے کچھ در ایسے ہی اسے چودہ پھراسے ڈوگی سٹائل میں چودننے لگا اب وو مزے کی وادیوں میں  سیر کر رہی تھی اس کی آنکھیں بند اور کمرے میں اس کی سسکیاں گونج رہی تھیں پھر وو ایک زور کی چیخ کے ساتھ ہی فارغ ہو گی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی جانو ذرا رک جاؤ پلیز  

میں ویسے ہی لن اس کی چوٹ میں ڈالکر ہی اس کے اپر لیٹ  گیا پھر میں نے دوبارہ سے اپنا لن اسسے اب سیدھا کر کے اس کی چوٹ میں ڈال دیا اب میں ایسے جھٹکے لگا رہا تھا جیسے کوئی مشین  سٹارٹ ہو گے ھو  میرے ہر دھکے سے اب وو ہلکے ہلکے چیختی جاتی تھی  میں نے کہا ثنا مجھے تمری گند میں بھی اپنا لن ڈالنا ہے وو بولی نہیں نہیں شارق میں اب یہاں بھی برداشت نہیں کر پا رہی پلیز  اب باہر نکل لو نا میں اسسے ہاتھ سے فارغ کر دیتی ہوں میں نا اس کی کسی بات پے دھیان نا دیا اور اسے زوردار طریقنے   سے چودتا رہا  وو اب چلا رہی تھی شارق بس کرو جانو پلیز بس کرو میں بس دھکے ماری جا رہا تھا اب کی بار میں نے اسے وحشیوں کی طرح چودا تھا  وو اب میرے نیچے تڑپ رہی تھی کسی طرح اس کی جان چھوٹ جائے پر میں اب بنا رکے دھکے پے دھکا  مارنے لگا وو بولی پلیز کچھ در ہی رک جاؤ ہے میری ماں میں مر گئی

اس س س س س س س س ‘ ام م م م م م ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف ف شارق پلیز ایک دفع  رک جو میری جان نکل جائے گی  ش ش ش ش ش ش ش ش ناں کرو اب بس کرو اس کے ساتھ اس کے ہاتھ میری کمر پر سخت سے سخت ہوتے جارہے تھے تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر سے فارغ ہو گے  وو اب تک تین دفع فارغ ہو  چکی تھی  میں ابھی تک ویسے کا ویسا  ہی تھا  میں بنا رکے اسی طرح اسے چودے جا رہا تھا

اب کی بار اس کی چیخیں پہلے سے بھی زیادہ زور دار تھیں    اب کی بار اس کے منہ سے نکلنے والی چیخیں شائد پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں تھیں وو  درد کی وجہ سے بے حال ہوئے جارہی تھی میں ایک بار پھر اس کے اوپر لیٹ گیا اور تھوڑی دیر کے بعد اٹھ کر ایک اور جھٹکا دے مارا جس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے اوووووووووووں کی آواز اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے اب میں نے اپنے لن کو آہستہ آہست سے اندر باہر کرنا شروع کردیا اور تقریباً پندرہ منٹ میں فارغ ہوگیا میں نے اپنا سارا پانی اس کی گرم چوت میں ہی چھوڑ دیا  اب اس نے مجھے زور سے اپنے گالی لگا لیا اور روٹی آواز میں کہا شارق آپ  تو واقعی  جانوروں کی طرح  چودتے ہیں جو لڑکی ایک دفع آپ سے چدوا لے گے وو کبھی کسی اور کے بارے میں نہیں سوچ سکتی اور روتے روتے ہی ہنس دی اور کہا آئی .لو .یو  شارق مجھے برا مزہ آیا ہے میں نےکہا ثنا مجھے تمہاری گاند بھی لینی ہے وو بولی ظالم آج رحم کھاؤ اگلی دفع جو مرضی کر لینا میں پہلے ہی درد سیمرننے والی ہوں اور مجھے ہونٹوں سے چومنے لگی میں نے بھی اسے کس کی اور اس کے اپر سے اٹھ گیا وو بھی اٹھی تو  لڑکھڑا  گی اس سے سہی طرح چلا نہیں جا رہا تھا اس کی تانگہیں خوں اور منی سے لتھڑی ہوئی تھیں وو بولی  دیکھا کیا حال کیہے تمہارے اس جانباز نے میری اس کنواری چھاؤنی کو ہر طرح سے تباہ کر دیا ہے  میں نے اسے سہارا دیا اور واش روم لے گیا وہاں ہم نے اپنے اپ کو صاف کیا اور میں اسے اپنی بانہوں میں اٹھے ہی باہر لے آیا وو میرے ہونٹوں پے ایک کس کر کے بولی شارق میں اب جاؤں کافی ٹائم ہو گیا ہے اس نے کپڑے پہنے اور میں ے اب اسے فریش جوس دیا وو پیتے ہوے بولی شارق پلیز مجھے گھر چھوڑ او  میں نے کہا ٹھیک ہے پھر میں اسے اس کے گھر کے باہر چھوڑ کے واپس آ گیا میں بھی اب آتے ہی نہا کر لیٹ گیا   کیوں کے مجھے رات کو کسی سے ملنا تھا

رات کو میں اٹھا اور تیار ہو کر  قاروقی صاحب کے گھر چل دیا وہاں میری ملاقات ایک آدمی سے ملاقات ہوئی وو اپنے لباس سے کافی امیر لگ رہا تھا فاروقی صاحب نے کہا شارق یہ خواجہ ظفر صاحب ہیں  ان کا کیس  پہلے  چوہدری  احسن  صاحب کے پاس تھا اب یہ ان سے فائل لے کر ھمارے پاس اے ہیں میں نے کہا خواجہ صاحب احسن صاحب کا نام بوہت برے برے وکیلوں میں لیا جاتا ہے آپ نے ان سے کیس کیوں لیا واپس تو خواجہ صاحب نے کہا شارق صاحب احسن صاحب میرے مخالفوں سے مل گے تھے میں کیا کرتا میں نے کہا ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو یہ احسن صاحب نے بوہت غلط کیا ہے کسی بھی وکل کو یہ زیب نہیں دیتا وو ایسے اپنے کلائنٹ کے ساتھ کرے ہم آپ کا کیس لڑیں گے  پھر میں نے وو فائل لی اور پڑھنے لگا مجھے پہلی نظر میں ہی اس میں سے کچھ ایسے نکتے مل گے جو ھمارے حق میں جاتے تھے ، وو ایک قتل کا کیس تھا جس میں خواجہ صاحب کے بیٹے کو ملزم  کو مشورہ دینے میں شامل کیا گیا تھا اب میں نے وو فائل لی اور اپنے گھر آ گیا کیوں کے اگلے دِن  اس کیس کی ڈیٹ تھی  میں نے پھر کوئی چار یا پانچ گھنٹے لگا کر اس کیس کی تیاری کے نوٹس لکھے اور سو گیا اگلے دِن بارروم  میں ہم نے اپس میں ڈسکس کی ساری بات ھمارے خلاف جو وکیل کیس لڑ رہا تھا وو اس شہر کا جانا منا کریمنل کیسوں میں ماہرسمجھا  جاتا تھا اور ابھی تک کوی کیس نہیں ہارا تھا  اب جج ارشاد علی گھمن صاحب کی عدالت میں ہم پیش ہوے انہی کے پاس اس کیس کی ٹرائل چل رہی تھی  استغاثہ کا وکیل رانا عارف تھا جس کی جج حضرات  بھی عزت کرتے تھے اب ھمارے موکل کو آواز لگی اور خواجہ  صاحب کا بیٹا کاشف دوسرے ملزم طارق کے ساتھ پیس ہوا تو وکیل استغاثہ رانا صاحب نے ملزموں کے خلاف  کافی دھواں دار دلائل دے  اب جج صاحب نے کہا جی وکیل صفائی  کیا کہتے ہیں اب فاروقی صاحب نے اپنا وکالت نامہ عدالت میں پیش کیا  اور پھر فاروقی صاحب نے ایسے ایسے دلائل دئے کے ساری عدالت واہ واہ کر اٹھی جو دلائل میں نے ان کے لئے تیار کیے تھے  وو انہوں نے بری خوبصورتی سے ہر لفظ ادا کیا پھر موقع کے گواہ پے بھی کافی جرح کی دونوں گواہ اپنےبیانات سے کئی دفع اکھڑے اب جج صاحب نے  ایک گھنٹے کا وقفہ دیا کیوں کے ہم نے آج خواجہ صاحب کے بیٹے  کی ضمانت کی درخواست بھی دی تھی ایک گھنٹے بعد اس کی بحث تھی

پھر ایک گھنٹہ ہم نے بارروم میں ہی گزارا سرے ہی وکیل اب فاروقی  صاحب کی تعریف کر رہے تھے ایک سینئیر وکیل نے کہا  فاروقی صاحب ایسا کون سا چراغ کا جن آپ کے قابو میں آ گیا ہے کے آج کل ہر وکیل کی تباہی مچاۓ  جا رہے ہیں  اب تو آپ کے سامنے کیس پکرتے ہوے سوچنا پڑتا ہے فاروقی صاحب نے  کہا بس میرے مولا کا کرم ہو گیا ہے مجھ پے ان کا لہجہ بڑی عاجزی لئے ہوے تھا  پھر ایک گھنٹے بعد ہم پھر عدالت میں پیش ہوے اور کوئی ایک گھنٹے کی بھر پور بحث کے بعد ہماری ضمانت کی درخواست  جج صاحب نے قبول کر لی  اور کہا  آپ پانچ لاکھ کی ضمانت کا مچلکہ جمع کرا دیں خواجہ صاحب نے اسی وقت مچلکے دئے اور ہم نے بعد میں خواجہ صاحب کے بیٹے کو آزاد کرا لیا  خواجہ صاحب تو ہماے آگے بچھے جا رہے تھے  اسی رات کو خواجہ صاحب نے  فاروقی  صاحب کو  طا شدہ فیس سے بھی زیادہ  دئے    پھر بولے ایک درخواست ہے  آپ سے شارق صاحب میں نے کہا جی بولیں وو بولے میرا  ایک فلیٹ ہے ظہور بلڈنگ میں  اگر آپ مہربانی کریں تو وہاں اپنا دفتر بنا لیں پلیز انکار نہیں سنوں گا میں خواجہ صاحب نے جیسس بلڈنگ کا نام لیا تھا وہاں پہلے بھی کافی وکیلوں کے آفس تھے وو بوہت قیمتی جگہ تھی میں نے کہا خواجہ صاحب وو بوہت قیمتی  جگہ ہے   تو وو بولے میرے پاس وو بیکار ہی پر ہے پلیز آپ من جایئں تو مجھے لگے گا  آپ مجھے اپنا سمجھتے ہیں آخر کار ہم مان گے  پھر کوئی تین روز بعد جب خواجہ صاحب اپنے بیٹے کاشف کے ساتھ اے تو ہم ان کے ساتھ چل دئے وو فلیٹ دیکھنے  فلیٹ کو دیکھ کر میں اور فاروقی صاحب حیران رہ گے کیوں کے فلیٹ اب ایک بہترین  آفس کی شکل میں تھا جس کے باہر قاروقی اینڈ کمپنی کا بورڈ لگا تھا اور اندر تو کمال  حکیا گیا تھا لاکھوں روپے لگا کر خواجہ صاحب نے تین کمرے دفتر کی شکل میں بنادئیے تھے  ایک میرا ایک فاروقی صاحب کا اور ایک اضافی اورباہر سیکٹری  کے لئے بھی ایک روم تھا ہر روم میں دو دو سیٹ صوفے تھے ہر چیز  بوہت مہنگی تھی ہر ہماری تو آنکھیں فتنے والی ہو گیں تھیں مجھے نہیں لگتا تھا اس شہر میں کسی وکیل کا اتنا خوبصورت دفتر ہو گا میں نے کہا خواجہ صاحب یہ سب کیا ہے تو مجھے گلے لگا لیا خواجہ صاحب نے اور بھیگے لہجے میں بولے بیٹا کاشف میرا اکلوتا بیٹا  ہے جو میری شادی کے ١٠ سال بعد پیدا ہوا تھا  اور خدا کے بعد میں تمہارا شکر گزار ہوں تم نے میرے بیٹے کو بچا لیا

پلیز کچھ نہ کہنا یہ سمجھو مجھے خوشی محسوس ہو گی جب تم اس دفتر میں بیٹھو گے پھر فاروقی صحابنے کہا ٹھیک ہے خواجہ صاحب اور ہم نے اگلے دِن اپنا سارا سامان اس دفتر میں شفٹ کر دیا  پھر خواجہ صاحب نے تین چار نوکر رکھ لئے اس دفتر میں کیوں کے اب ھمارے پاس اتنے کیس آ رہے تھے کے ھمارے پاس سر خارش  کرنے کا بھی ٹائم نہیں مل پاتا تھا  پھر ایک دِن عدالت کے باہر مجھے بھائی نصرت نے کہا تم کو آج ڈیڈی نے گھر بلایا ہے میں نے کہا میں حاضر ہو جاؤں گا   

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

×