Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
khurram_714

”عمران خان میرے چاروں طرف“ سے اقتباس“

Recommended Posts

انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی کرکٹ میرے لیے نئے نئے انکشافات لے کر آئی۔ اس نے دنیاکے بارے میں اور میری اپنی قابلیت سے متعلق تمام تصورات کو بدل کررکھ دیا۔زندگی میں پہلی مرتبہ میں ایسے لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا جو تمام کے تمام کسی اور ہی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں بہت سوں نے سڑکوں اور گلیوں میں کرکٹ کی ابتدا کی، کچھ نے کسی بھی ایسے میدان کے ٹکڑے پر ،جو چپٹا ہو اوروہاں کوئی کھیل کھیلا جاسکتا ہو۔ بہت سے لڑکے اقبال پارک کی پیداوار تھے جہاں بعض اوقات بیک وقت دس دس میچ کھیلے جاتے ہیں۔ شروع شروع میں مجھے دوسرے لڑکوں کی جانب سے کچھ کچھ دشمنی کا سا احساس ہوا۔ ان میں سے بیشتر کا خیال یہ تھا کہ میں ٹیم میں شامل ہونے کا اہل نہیں بلکہ ا پنے تعلقات کی بنا پر وہاں تک پہنچا ہوں۔ کئی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے میں ٹیم کے بقیہ کھلاڑیوں کے مذاق اور طنز کا نشانہ بنا۔ ان میں سے ایک میرا پنجابی زبان میں کمزور ہونا بھی تھا۔ بعد میں سرفراز نواز کی شاگردی کی وجہ سے میں بہت اچھی پنجابی بولنے لگا۔ ہمارے علاقے میں زیادہ تر پنجابی بولی جاتی ہے مگر ہم گھر میں اردو بولتے تھے۔ بہرحال جب میں نے خود کو کرکٹر کی حیثیت سے منوا لیا اور مجھے خود اس بات کا بھی احساس ہوا کہ میرے ساتھیوں نے کوئی مقام پانے کے لیے کس قدر مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا ہے تو مشترکہ ادب و احترام کی ایک فضا نے جنم لیا۔ میری آرام دہ اور آسان ترقی کے مقابلے میں بعض پاکستانی کھلاڑی ایسے ایسے مقامات پر گزرے ہیں جن کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا کرکٹر بننا ہی ایک معجزہ تھا۔ مثال کے طور پر حالیہ پاکستانی ٹیم میں ہی عبدالقادر اور توصیف احمد جیسے کھلاڑی ہیں جو تاریکیوں سے روشنی میں آئے اور ان کی کہانیاں دیو مالائی معلوم ہوتی ہیں۔ مجھ پر یہ حقیقت بھی آشکارا ہوئی کہ میری اپنی بیٹنگ کے بارے میں رائے کچھ زیادہ ہی اونچی ہے۔ وسیم راجہ جو انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کی ٹیم کا کپتان تھا، ایک الگ ہی مقام رکھتا تھا اور پہلے ہی ایسی بیٹنگ کررہا تھا جو اس سے بڑی عمر کے کھلاڑی بھی نہیں کرپاتے۔ کئی دوسرے بھی مجھ سے میلوں آگے تھے جیسے کہ افضل مسعود یا شفقت اور شکور کا بھائی عظمت رانا۔ اگر افضل اسکول کے کھلاڑیوں میں سرفہرست تھا تو عظمت کو بیٹنگ میں حد درجہ کمال حاصل تھا۔ میں نے خود کو اس صورتحال میںخوش قسمت تصور کیا کہ لاہور میں اچھے فاسٹ باﺅلروں کا فقدان تھا اور میری اس پوشیدہ قابلیت نے مجھے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا اہل بنا دیا۔ ”عمران خان میرے چاروں طرف“ سے اقتباس“

Edited by suhail502
siz

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×