Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
khoobsooratdil

۔۔اَنگوٹھے کی کمائی۔۔۔

Recommended Posts

میر  ی یا داشت کے کِسی خانے میں اِس سے زیادہ وسیع میدان کا منظر نہیں  تھا۔تا  حدِّ نِگاہ سر ہی سر نظر آ رہے تھے۔جی ہاں میں میدانِ حشر میں کھڑا   تھا۔مرد و زن کی اکثریت خُود کلامی کے اَنداز میں اپنیے سر جھٹک رہی   تھی۔میں بھی دِل ہی دِل میں اپنی دُنیا میں گُزری زندگی کا جائزہ لیے جا   رہا تھا۔مُجھے اپنے کندھے کُچھ ہلکے محسوس ہو رہے تھے کیونکہ کِراماً   کاتبین یعنی میرے دائیں اور بائیں کندھوں پر متعیّن فرشتے بھی آج پہلی بار   میرے پہلو میں کھڑے تھے۔یہ دیکھ کر میں پُھولے نہیں سما رہا تھا کہ میرے   دائیں ہاتھ پہ کھڑے فرشتے کے سامنے مُجھ سے متعلق کھاتوں کا ایک انبار لگا   تھا۔میرے لئے  یہ منظر کُچھ زیادہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ میں نے   دُنیاوی زندگی حتی المقدور شریعت کے مطابق گُزاری تھی۔ میرے بائیں ہاتھ پہ   کھڑے فرشتے کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کاپی تھی جس سے میرے لیے یہ اَخذ  کرنا  کُچھ زیادہ مُشکل نہیں تھا کہ میرے صغیرہ کبیرہ گُناہوں کی تعداد بہت  کم  تھی۔مُجھے اپنی کامیابی یقینی نظر آ رہی تھی لیکن حتمی نتیجہ سامنے  آنے کا  اِنتظا ر ضروری تھا۔اچانک ایک عجیب واقعہ  ہوا۔اُس ہجوم میں سے ایک  فرشتہ نمودار ہوا اور اُس نے ایک رجسٹر میرے بائیں  ہاتھ والے فرشتے کے  سامنے رکھ دیا۔شش و پنج میں مُبتلا میں اِس کی وجہ سوچ  ہی رہا تھا کہ ایک  اور اجنبی فرشتے نے 2  رجسٹر میرے بائیں ہاتھ والے  فرشتے کے سامنے رکھ  دیے۔اور پھر یہ سِلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔فرشتے آتے رہے  اور میرے بائیں  ہاتھ پر کھاتوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہوتا چلا گیا۔میرے اندر   احتجاج کا ایک  طُوفان مچلنے لگا۔میں نے بائیں ہاتھ والے فرشتے کو مُخاطب  کرتے ہوئے حیرت  سے پُوچھا جناب یہ سب کیا ہے؟اِن کھاتوں میں کِس کے گناہ  ہیں۔جناب یہ سب  بھی آپ کے گُناہ ہیں۔فرشتے نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔لیکن  اِن میں ہے  کیا؟میری آواز کافی بلند تھی۔جناب یہ آپ کی طرف سے بھیجے گئے   گندے،غلیظ،اورفحاشی پھیلانے والے sms  ہیں۔میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک   چُکی تھی۔میں نے جب اپنے حافظے پر زور دیا تو یاد آیا کہ میں تو صِرف ایک   ہی جِگری دوست کو اِس طرح کےMessages  فارورڈ کیا کرتا تھا۔اگر یہ میر ے   ہیں تو آپ نے کیوں نہیں لِکھے؟یہ دُوسرے فرشتے کیوں لا رہے ہیں؟میں نے   احتجاجی لہجے میں فرشتے سے پُوچھا۔جی آپ جو Messageفارورڈ کیا کرتے تھے  وہ   میری اِس کاپی میں درج ہیں۔لیکن آپ جِس دوست کو فارورڈ کیا کرتے تھے اُس   کے پاس 300 دوستوں کا  پُورا گروپ تھا۔آپ کا بھیجا ہوا Message وہ اپنے   گروپ کو  فارورڈکرتا تھا اور اُس گروپ کا ہر ممبر اپنے گروپ کو۔اس طرح یہ   سفر اُس وقت تک چلتا رہتا جب تک وہMessage  پُرانا نہ ہو جاتا۔آج وہ سب آپ   کے فارورڈ کیے ہوئے Message واپس آپ کو فارورڈ کر رہے ہیں اِسی لئے آپ کے   بائیں ہاتھ کھاتوں کے پہاڑ کا حُجم لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی چلا جا رہا   ہے۔مُجھے اپنے جسم کے ہر مسام سے پسینے کے چشمے پُھوٹتے صاف محسوس ہو رہے   تھے۔مین نے بھی خُود کلامی کے اَنداز میں اَپنا سر جھٹکنا شُروع کر   دیا۔اَچانک میرا سر کِسی سخت چیز سے ٹکرایا۔درد کی ایک تیز لہر میرے سر میں   دوڑ گئی۔میرا سر اپنے لکڑی کے بیڈ کے سرہانے سے ٹکرایا تھا۔ میں پسینے  میں  شرابور اپنے بیڈ پر پڑا تھا۔رات کے تین بج رہے تھے۔میں نے ہاتھ بڑھا  کر  سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اُٹھایا۔اِس وقت بھی میرے دوستوں کی طرف سے   فارورڈ کئے گئے  13 عدد Message میری توجہ کے مُنتظر تھے۔


Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×