Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Silent Tear

گرمی کی شدت میں اضافے کے ذمہ دارہم خود ہیں

Recommended Posts

Please login or register to see this image.

 

 

چند روز قبل صبح 10 بجے کے قریب آفس میں اپنے کمرے میں داخل ہونے لگا تو تھوڑے ہی فاصلہ پر نصب سینک پر ہاتھ دھونے والے ایک ساتھی نے آواز دے کر کہا نسیم صاحب پلیز نیچے کسی کو کہہ کر گیزر تو بند کروا دیں، پانی کو ہاتھ تک نہیں لگ رہا۔
میں مائیکرو سکینڈ کے لئے اپنی جگہ پر جم کر سر کھجانے لگا کہ آج کل کے موسم میں گیزر۔۔۔۔۔پھر یک دم میری ہنسی چھوٹ گئی کیوں کہ بھائی صاحب! آج کل سورج جو سوا نیزے پر آیا ہوا ہے۔ پاکستان جیسے گرم مرطوب خطہ میں گرمی اپنے جوپن پر ہے۔ گرمی سے نڈھال لوگ سڑکوں پر دوپہر کے وقت جھگڑتے نظر آرہے ہیں۔ اساتذہ بلا قصور شاگردوں کو ڈانٹ ڈپٹ سے کہیں آگے مار پیٹ پر اتر آئے ہیں، معمر افراد اور بچے چڑچڑے ہو رہے ہیں، حکام اپنے ماتحتوں پر غصہ نکال رہے ہیں تو باورچی خانہ میں موجود خواتین کا پارہ نقطہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ایک امریکی ریسرچ سنٹر کے مطابق عالمی سطح پر موسم گرما کی حدت کے باعث ہر سال نہ صرف لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں بلکہ معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔
گرمی کی شدت کے باعث ہر سال نہ صرف آفات ناگہانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ اس سے عالمی معیشت کو بھی ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے جو کہ مجموعی عالمی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے ممالک جن کی معیشت میں کاربن زدہ عناصر کے باعث آلودگی پھیلتی ہے وہ مجموعی طور پر سالانہ 50 لاکھ سے زائد اموات کے ذمہ دار ہیں جن میں سے نوے فیصد ہلاکتیں صرف فضائی آلودگی سے ہوتی ہیں۔ تحفظ ماحول کے اقدامات سے قیمتی انسانی جانیں اور عالمی جی ڈی پی کا نمایاں حصہ محفوظ کرکے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نقصان کی شرح 2030ء تک عالمی جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ شدید گرمی کی وجہ سے شعبہ زراعت بری طرح متاثر ہوتا ہے اور پاکستان کا تو شمار ہی ایسے ممالک میں ہوتا ہے جنہیں زراعت کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہلاکتوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔ وطن عزیز میں جاری گرمی کی موجودہ لہر تادم تحریر درجنوں قیمتی جانوںکو نگل چکی ہے اور معلوم نہیں یہ گرمی اور کتنے پھول مرجھا دے گی؟ گرم یا سرد موسم اس روئے زمین اور اس کے باسیوں کے لئے عطیہ قدرت ہے جو بلاشبہ انسان کے لئے بے پناہ سود مند ہے۔ یہاں بہت ساری ایسی فصلیں ہیں جو صرف گرمی کی وجہ سے ہی تیار ہو سکتی ہیں، اسی طرح گرمی کے سبب ہی انسان متعدد خطرناک بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ پاکستان وہ ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام موسم عنایت کئے ہیں، لیکن موسموں کی شدت میں اضافہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور اس کی ذمہ دار قدرت نہیں بلکہ ہم خود ہیں۔ سادگی سے کوسوں دور مصنوعی اور سہل پسند طرز زندگی نے ملک میں گرمی کی شدت کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ ہر سال گرمی کے کبھی پچاس تو کبھی سو سال پرانے ریکارڈ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسا کیوں کر اور کس طرح ہو رہا ہے؟ آیئے اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
تعمیرات کی ناقص منصوبہ بندی
پاکستان میں گرمی کے احساس اور شدت میں اضافہ کا ایک اہم سبب بغیر کسی منصوبہ بندی کے بننے والی عمارتیں ہیں۔ آج ہم گھر سے لے کر بڑے بڑے شاپنگ پلازوں اور سرکاری و نجی دفاتر کو آرام دہ بنانے کے بجائے صرف دلہن کی طرح سجانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عمارتوں کی تعمیر میں بغیر کسی منصوبہ بندی اور مناسب مقدار کے پتھر، سیمنٹ اور لوہے کا بے پناہ استعمال ہمارے ماحول کی حدت کو بڑھا رہا ہے۔ دور جدید کا تعمیراتی میٹریل یعنی سیمنٹ، اینٹ، پتھر، لوہا اور سٹیل وغیرہ دن بھر آگ برساتے سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کرتا ہے اور پھر رات کو اسے خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔ ماہر تعمیرات کے مطابق ایک خاص موٹائی کے ساتھ دیواروں میں 2 انچ کا خلا اور چھت کی اونچائی کم از کم 20 فٹ ہونا ضروری ہے لیکن آج ہم تھوڑی سی جگہ اور پیسے بچانے کے لئے کسی خلا کے بغیر صرف 9 انچ کی دیوار اور 10سے11فٹ اونچی چھت بناتے ہیں اور نتیجتاً ایسی گرم عمارتوں میں ہم اپنے آپ کو ساری زندگی عذاب میں مبتلا رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ تعمیراتی تکنیک کو بائی پاس کرنے سے کمزور عمارتیں جلد گرنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی عمارتوں میں درجہ حرارت باہر کے مقابلے میں 5 سے 8 سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ تھوڑی رقم خرچ کرکے ہم چھت اونچی نہیں بنوائیں گے لیکن گھر کے فرنٹ پر آرائشی گیٹ اور ماربل پر لاکھوں روپے خرچ کر دیں گے۔ بلاشبہ آج ہم ماش کی دال کے آٹا اور چونے سے دیواروں کی چنائی اور اراضی کی قلت کے باعث پرانے دور کی طرح 5 فٹ موٹی دیوار تعمیر نہیں کر سکتے یا کرتے، لیکن دور جدید کے تعمیراتی میٹریل کو ایک خاص تکنیک سے استعمال کرکے اس کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا۔
تعمیراتی کاموں میں پتھر کا استعمال دور جدید کی کوئی انوکھی ایجاد نہیں بلکہ یہ تو 6 ہزار سال پرانا ہے لیکن اس کا نامناسب اور غیر ضروری استعمال اس کو نقصان دہ بنا رہا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں پاک و ہند کی آزادی سے قبل کے برصغیر کو ہی دیکھ لیں۔ کہا جاتا ہے کہ انگریز کا طرز تعمیر کچھ یوں تھا کہ صرف ایک کھڑکی کھول دینے سے پورے گھر کی فضا بدل جاتی تھی یعنی ہر طرف ہوا پھیل جاتی اور موسم خوشگوار ہو جاتا۔ انگریز کی بنائی عمارتیں آج بھی ہمارے لئے مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔ جہاں شدید گرمی میں بھی بغیر کسی اے سی یا پنکھے کے آپ کو فرحت کا احساس ہوگا۔ آج ہمیں گرمی کی شدت، توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور تعمیراتی لاگت میں ہونے والے مسلسل اضافے کے بعد سستا، روایتی اور ماحول دوست طرز تعمیر اپنانے کی ضرورت ہے۔
آرائشی پہناوا
کوئی دور تھا جب اس خطہ ارض میں رہنے والے لوگ سادہ پہناوے کو نہ صرف پسند کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تلقین کی جاتی تھی۔ اور ایسا کرنے سے کسی بڑے شخص کی عزت و قار میں کوئی تنزلی نہیں ہوتی تھی۔ لوگ کھدر، ڈوری یا ڈوریا، تہبند اور ململ سمیت سوتی کپڑا زیادہ استعمال کرتے تھے۔کپڑے کی یہ تمام اقسام جسم کو نہ صرف گرمی کے مضر اثرات سے بچاتی تھیں بلکہ معاشی بوجھ بھی کم ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کے دور جدید میں نمود و نمائش کی وجہ سے پہناوا نہ صرف مشکل بلکہ آمدن کے ضیاع کا بھی باعث بن رہا ہے۔ ململ اور کھدر کی جگہ آج ٹائی پینٹ کوٹ، کلف لگی کاٹن اور ریشمی کپڑے نے سنبھال لی ہے، جو نہ صرف گرمی کے احساس میں اضافہ کرتا ہے بلکہ جلدی امراض کا سبب بھی بنتا ہے۔ مزید برآں گھروں میں گرمی اور دھوپ سے بچنے کے لئے لگائے جانے والی چق کی جگہ بھی اب موٹے کپڑے نے لے لی ہے جو کسی طور پر بھی چق کا نعم البدل نہیں۔
برصغیر پر انگریز کی حکمرانی کے بعد آج تک ہم نے تقریباً ہر کام میں اس کی اندھی تقلید کی ہے یہاں تک کہ ہمارا موجودہ مشینری سسٹم بھی کافی حد تک اسی کے وضع کردہ قواعد و ضوابط کی پیروی کرتا نظر آتا ہے۔ انگریز نے جب برصغیر کو دریافت کر نے کے بعد فتح کیا تو گرم موسم کی نسبت سے پہناوے کے لئے وہ اپنے ساتھ دو بڑی اہم چیزیں لے کر آیا جس میں ایک ہیٹ اور دوسرا بوٹ (بند جوتا) تھا۔ لیکن افسوس۔۔۔! یہاں ہم نے انگریز کی مکمل پیروی نہیں کی بلکہ اس کے دیئے بوٹ تو اپنا لئے مگر ہیٹ کو پہننا ہمارے لئے ایک ٹینشن اور خوبصورتی میں کمی کا موجب ٹھہرا۔ یہی نہیں آج بھی ترقی یافتہ ممالک میں موسم کی نسبت سے پہناوے پر خاص توجہ مرکوز کی جاتی ہے جیسے حال ہی میں جنوبی امریکا کے ملک چلی میں توانائی کے بحران اور گرمی سے بچنے کیلئے دفاتر میں ٹائی نہ لگانے کے احکامات جاری کئے گئے۔

earth-warming.jpg?w=467

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×