Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
Guru Samrat

تحفہ از گرو سمراٹ

Recommended Posts

تحفہ



ایک روز جب میں اپنے دوستوں مدثراور لکی کے ساتھ آوارہ گردی کر رہا تھا کہ اچانک وہ دکھائی دی۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھومتی، گنگناتی اور  باتیں کرتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سہلیاں بھی اگرچہ دلکش تھیں لیکن وہ تو ستاروں کے درمیان چودھویں کے چاند کی طرح روشن روشن دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی روشنی کے آگے تمام روشنیاں پھیکی پڑ چکی تھیں۔ وہ بلاشبہ شاعر کے حسین ترین تصورات سے بھی زیادہ خوب صورت تھی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنی سہلیوں کے ہمراہ آگے آگے چل رہی تھی۔ ہم تینوں دوست ان سے چند گز کے فاصلے پر تھے۔ پھر ہم نے اپنی رفتار تیز کر دی لیکن ہمیں یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ وہ اپنی سہلیوں کے ساتھ ایک گھر میں داخل ہو گئی۔ ہم منہ لٹکائے واپس ہو گئے۔
چند دنوں بعد وہ پھر ایک جگہ دکھائی دی۔ اس بار وہ تنہا تھی۔ پرس اپنے شانے پر لٹکائے متوازن رفتار سے چلی جا رہی تھی۔ لکی نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ ’’میرا خیال ہے کہ اس وقت وہ ہمارے متعلق ہی سوچ رہی ہے۔ دیکھو۔ ذرا غور سے دیکھو وہ شاید پھول کی پتیوں سے یہ شگون لے رہی ہے کہ ہم تینوں میں سے کون اسے سب سے زیادہ چاہتا ہے۔ کون ایسا ہے جو نہیں چاہتا۔‘‘ لکی نے یہ بات اس کے قریب سے گزرتے ہوئے ذرا زور سے کہی۔
اس نے چونک کر کہا۔ ’’کون نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے اپنے… تصورات کی دنیا سے واپس آتے ہوئے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کی نگاہوں کا مرکز لکی ہے۔ ہمیں اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ شرمندہ سی ہوگئی۔
’’معاف کیجیے گا۔‘‘ اس نے ذرا ٹھہر کر کہا۔ ’’آپ لوگ غلط سوچ رہے ہیں۔ میں تو یہ سوچ رہی ہوں کہ کل کا پرچہ کیسا رہے گا؟‘‘
’’کل کس مضمون کا پرچہ ہے؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔
’’کیمسٹری کا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’اگر تم برا نہ مانو تو میں اپنے نوٹس تمہیں کو دے سکتا ہوں۔‘‘ لکی نے چہک کر کہا۔
’’اوہ! آپ کی بڑی نوازش ہوگی۔‘‘ لڑکی ممنونیت سے بولی۔
’’میں اسے کہاں آپ کے پاس پہنچا ئوں؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔
’’گرلز ہاسٹل، بلاک نمبر دو، دوسری منزل، کمرہ نمبر پانچ۔‘‘
’’اور تمہارا نام؟‘‘ لکی نے دریافت کیا۔
’’وفا ۔‘‘ لڑکی نے مختصر جواب دیا۔
’’بہت خوب صورت نام ہے۔‘‘ لکی نے تبصرہ کیا۔
وفا نے مسکرا کر پہلے لکی کی طرف اور پھر ہماری طرف دیکھا اور چلی گئی۔ ہم ایک دو لمحے اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ پھر خود بھی آگے بڑھ گئے اور اپنے اپنے انداز میں اس کی تعریف کرتے رہے۔
لکی اسے نوٹس دیتا رہا۔ یہ نوٹس ہم تینوں کی مشترکہ محنت سے تیار ہوئے تھے۔ ہماری مشترکہ محنت رنگ لائی اور وہ امتحان میں کامیاب ہو گئی۔ ہم اسے مبارک باد دینے کے لیے اس کے ہاسٹل گئے۔ ہمارے ہاتھوں میں گلدستے تھے۔ اس نے ہماری مبارک باد اور گلدستوں کا شکریہ ادا کیا۔ پھر ہم نے مل کر تھیٹر دیکھا۔ تھیٹر میں ہم خاصے بے تکلف ہوگئے۔ ہم ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ ہفتہ وار چھٹیوں میں سیروتفریح ایک معمول بن گئی۔
ہم تینوں ہی اسے پسند کرنے لگے اور تینوں ہی ایک دوسرے پر ظاہر کرتے کہ ہماری محبت خود غرضی سے پاک ہے۔ وفا بھی ہم تینوں کو پسند کرتی تھی۔ اس کی کسی بات سے یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ ہم تینوں میں سے کسے زیادہ چاہتی ہے۔ پھر بھی میری اور مدثرکی رائے تھی کہ ہم دونوں کے مقابلے میں اس کا جھکائو لکی کی طرف ہے۔
اسی دوران جنگ شروع ہو گئی۔ ہم تینوں بلکہ چاروں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔ جب الوداعی ملاقات کے لیے ہم وفا کے پاس گئے تو ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی ماسکو آئے تو وہ وفا سے ضرور ملے مگر ملاقات کے وقت میز کے گرد چار کرسیاں ہوں گی۔ چنانچہ جنگ کے دوران ہم جب بھی ماسکو آتے تو وفا سے ضرور ملتے مگر الگ الگ کیونکہ ہم الگ الگ ہی ماسکو آتے تھے۔ اور ہر موقع پر معاہدے کے مطابق میز کے گرد چار کرسیاں ہی رکھی جاتی تھیں۔ ہم میں سے جس نے بھی وفا سے ملاقات کی اس نے یہی محسوس کیا کہ ہم سب جدا ہونے کے باوجود وہاں موجود ہیں اوریقینا ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہم چاروں یکجا ہو جائیں گے۔
اس طرح کچھ مدت گزر گئی۔
پھر میں اور مدثرساتھ ساتھ ماسکو پہنچے۔ ہم وفا سے ملنے کے لیے بے چین تھے۔ ہم پہلی فرصت میں اس سے ملے۔ ملاقات کے وقت بدستور چار کرسیاں رکھی گئیں۔ وفا نے جنگ کے بارے میں بہت سی باتیں دریافت کیں۔ پھر لکی کے بارے میں خاص طور پر پوچھا۔ ہم نے اسے لکی کی خیریت سے آگاہ کیا اور اس کی بہت زیادہ تعریف کی۔ کیونکہ ہمیں احساس تھا کہ وہ لکی کو زیادہ پسند کرتی ہے۔ لکی اسے برابر خط لکھتا رہتا تھا۔ وفا نے ہمیں اس کا خط پڑھ کر سنایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ اسے جلد ہی محاذ سے واپس بلایا جا رہاہے اور ماسکو کے قریب ایک فیکٹری میں متعین کیاجا رہا ہے۔ میں نے اور مدثر نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔ لیکن وفا نے فوراً محسوس کرتے ہوئے ہمیں تسلی دی۔
’’سب کچھ ایسا ہی رہے گا دوستو جیسا  کہ اب ہے۔ کسی امتیاز اور فرق کے بغیر تم تینوں ہی میرے دوست رہو گے مگر اس کی آنکھوں میں ہم نے خوشی کی ایک کرن دیکھی جو لکی کے قریب آنے کی اطلاع پر نمودارہوئی تھی۔
نومبر میں ایک بار پھر میں اور مدثر فوجی اعزازت کی تقسیم کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے اور وفا سے ملے۔ وفا نے فون کرکے لکی کوبھی ماسکو بلا لیا۔ اس طرح ایک طویل مدت کے بعد ہم تینوں ایک ساتھ ہی وفا سے ملے۔ وفا نے اس موقع پر اپنی چند سہیلیوں کو بھی دعوت دینا چاہی مگر ہم نے منع کردیا۔ ہم یہ ملاقات صرف اپنے تک محدود رکھنا چاہتے تھے۔
وفا نے اپنا سب سے زیادہ دیدہ زیب لباس پہنا۔ وہ اس لباس میں پہلے سے کہیں زیادہ حسین دکھائی دیتی تھی۔ ہم تینوں ہی اسے بڑی محویت کے ساتھ دیکھتے رہے اور ماضی کی خوش گوار یادیں تازہ کرتے رہے۔ وفا لکی سے اس کی نئی ملازمت کے بارے میں زیادہ تر دریافت کرتی رہی۔ پھر وہ باتیں کرتے کرتے اچانک بولی۔
’’میں نے تم تینوں کے لیے بہت لذیذ کیک تیار کیا ہے۔ یہ کیک میری طرف سے تمہارے لیے آج کی ملاقات کی یاد میں خصوصی تحفہ ہے۔‘‘
میں سمجھ گیا کہ وفا نے یہ خصوصی تحفہ کیوں تیار کیا ہے۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ’’وفا میرا دوستانہ مشورہ ہے کہ…‘‘
اس نے میری طرف توجہ دیے بغیر کہا۔ ’’ہاں! ہاں کہو کیا بات ہے؟‘‘ مدثراور لکی دونوں مجھے دیکھنے لگے۔
میں نے کہا۔ ’’ہم تینوں تمہیں بے پناہ چاہتے ہیں اور…‘‘
وفا نے جلدی سے میری بات کاٹ دی۔ ’’میں بھی تم تینوں کو اتنا ہی پسند کرتی ہوں اور اس میں کسی کے لیے کوئی کمی بیشی نہیں۔‘‘
اس کے لہجے میں سادگی تھی مگر میں نے محسو س کیا کہ وہ یہ بات محض اخلاقاً کہہ رہی ہے۔ ورنہ حقیقتاً وہ دل سے کسی ایک کو ہی پسندکرتی ہے لیکن وہ ایک کون ہے اوروہ دو کون ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ وہ دوکون ہو سکتے ہیں۔
’’سنو وفا ! میں تسلیم کرتا ہوں کہ تم ہم تینوں کو ہی پسند کرتی ہو اور کسی  ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتیں لیکن اگر یہ بات سچ ہے تو ایسا کرو کہ تم کیک میں ایک سکہ چھپادو۔کیک تین مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور پھر جس کے حصے میں بھی سکہ آئے گا وہ…‘‘
’’…خوش نصیب ہو گا۔‘‘ لکی نے لقمہ دیا۔
وفا شرمیلے انداز میں مسکرائی۔ ٹھیک ہے۔ ہم یہی کرتے ہیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور ہم بے تابی سے پہلو بدلنے لگے۔
’’وہ آج بہت خوب صورت لگ رہی ہے۔‘‘ مدثر نے کہا۔
’’یہ کوئی نئی بات نہیں۔‘‘ لکی بولا۔ ’’وہ ہمیشہ ہی خوب صورت لگتی ہے۔‘‘
’’لگے گی کیوں نہیں…‘‘ میں نے کہا۔ ’’جب ایک لڑکی کی تین امیدوار ہوں تو وہ خود بخود خوب صورت لگے گی۔‘‘
 گفتگو اس سے آگے نہیں چل سکی کیونکہ ہم تینوں آنے والے وقت کے خیال سے مضطرب تھے۔ اگرچہ میں نے ہی قرعہ اندازی کی تجویز پیش کی تھی لیکن اب مجھے افسوس ہو رہاتھا بلکہ خود پر غصہ بھی آ رہا تھا کہ ایسی دل خراش تجویز میرے ذہن میں کیوں آئی اور اگر ذہن میں آ ہی گئی تو اس محفل میں اس کا اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس موقع پر مجھے یہ محاورہ بھی یاد آیا کہ ’’پہلے تولو، پھر بولو‘‘ لیکن اب معاملہ الٹ ہو گیاتھا۔ میں نے پہلے بول دیا تھا اور اب تول رہا ہوں اور ترازو کے اس پلڑے میں مجھے بے وزنی کی کیفیت محسوس ہورہی تھی۔
مدثر کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ ’’معلوم ہوتا ہے تم سخت نروس ہو۔‘‘
میں نے فوراً جواب دیا۔ ’’نہیں۔ تم غلط سمجھ رہے ہو۔ میں بالکل ٹھیک ہوں البتہ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ تم سلگائے بغیر کس طرح سگریٹ نوشی کر لیتے ہو۔‘‘ میں نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
وہ سگریٹ سلگائے بغیر ہی سگریٹ کے گہرے کش لے رہاتھا لیکن دھواں نہ نکلنے کے باوجود اسے خیال نہ آیا کہ سگریٹ میں ابھی لائٹر نے اپنا کردار ادانہیں کیا ہے۔
میری بات سن کر وہ کھسیانے پن سے مسکرایا۔ اس نے سگریٹ ہونٹوں سے نکال کر پیکٹ میں رکھ لیا۔ ’’شاید وہ آ رہی ہے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا اور پھر چپ ہو گیا۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔ وفا ایک پلیٹ میں کیک لیے ہوئے آ گئی۔ اس نے پلیٹ میز پر رکھی اور کہنے لگی۔
’’اسے کون کاٹے گا؟‘‘
ہم نے ایک دوسرے کی طرف مشورہ طلب نگاہوں سے دیکھا۔ مدثر نے کچھ سوچ کر کہا۔ ’’ہمارے خیال میں اسے تم ہی کاٹو۔‘‘ پھر اس نے تائید طلب نگاہوں سے ہم دونوں کی طرف دیکھا۔
میں نے کہا۔ ’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔ ہم وفا کا ہاتھ اپنی تقدیر کا ہاتھ سمجھ لیں گے۔‘‘
’’اور لکی تمہارا کیاخیال ہے؟‘‘ وفا نے لکی کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔
’’میں اپنے دوستوں کی تجویز سے متفق ہوں۔‘‘ لیکن اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔
وفا نے چھری اٹھائی اور کیک کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ ہم تینوں نے اپنے اپنے حصے کا ٹکڑا اٹھا لیا لیکن کافی دیر تک کیک کھانے سے انکار کرتے رہے۔ آخر مدثر نے کہا۔ ’’شروع کرو جو ہو گا دیکھا جائے گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کیک کھاناشروع کردیا۔ میں نے اور لکی نے بھی بادلِ ناخواستہ اس کی تقلید کی۔
ہم بہت خاموشی اور احتیاط کے ساتھ کیک کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں رکھتے اور اسے دیر تک زبان کے سہارے منہ میں پھیرتے۔ جب اطمینان ہو جاتا کہ اس میں سکہ نہیں ہے تو اسے حلق سے نیچے اتارتے۔ وفا ایک طرف بیٹھی یہ تماشا دیکھتی رہی۔
اسی عالم میں مدثر نے ہمیں مخاطب کیا۔ ’’ساتھیو!…‘‘
میں نے اور لکی نے فوراً اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ ہم دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ شاید مدثرکو سکہ مل گیا ہے۔ اس کی آواز مجھے بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ’’کیاخیال ہے انٹرول نہ کرویں۔ اس دوران ایک ایک سگریٹ پی لیں۔‘‘
’’نہیں…‘‘ میں نے ایک جھٹکے سے کہا۔ ’’کیک ختم کرلیں۔ سگریٹ بعد میں پیئں گے۔‘‘ ابھی امید باقی ہے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا۔
اسی لمحے لکی اٹھ کھڑا ہوا۔ خوشی سے اس کاچہرہ سرخ ہورہاتھا۔
’’دوستو! میں نے مقابلہ جیت لیا ہے۔‘‘ اس نے مداری کی طرح اپنے منہ سے بیس کوپک کا سکہ نکال کرہمارے سامنے رکھ دیا۔

مدثر نے ٹھنڈی سانس بھری۔ ’’میں پہلے ہی جانتا تھا کہ لکی خوش قسمت ثابت ہوگا۔‘‘
لکی نے مسکرا کر وفا کی طرف دیکھا اور اس کے سامنے جا کر گھٹنے کے بل بیٹھ کر بولا۔ ’’ڈارلنگ! قسمت نے اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔‘‘
اس کے بعد ہماری ملاقات چھ ماہ بعد ہوئی۔
لکی نے خط کے ذریعے ہمیں اطلاع دی تھی کہ ان کی شادی ہو چکی ہے لیکن ابھی شادی کی دعوت نہیں ہوئی ہے۔ ہمارے لیے یہ بات حیران کن نہیں تھی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ ہماری شرکت کے بغیر شادی کی دعوت نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ دونوں میاں بیوی دعوت میں ہماری شرکت کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ ہم نے بھی ان کی ازدواجی زندگی کی پہلی خوشی میں شامل ہونے کے لیے چھٹی لی اور ماسکو پہنچ گئے۔ وفا کے گھرکاجانا پہچانا زینہ ہم نے خاموشی سے طے کیا اور ڈرائنگ روم کے دروازے تک پہنچ گئے۔ اندر سے مسرت سے بھرپور قہقہوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ہم نے گھنٹی کا بٹن دبا کر اپنی آمد کی اطلاع دی ۔ دروازہ لکی نے ہی کھولا تھا۔ میں نے اس کی پیشانی چوم کر اسے شادی کی مبارک باد دی۔ پھر وفا آئی اور ہم نے اسے بھی شادی کی مبارک باد دی اور خوش گوار مستقبل کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔ یہ باتیں بڑی سنجیدگی سے ہو رہی تھیں۔ اچانک وفا نے کہا۔ ’’دوستو! تم ہماری شادی کی دعوت میں آئے ہو۔ ہمارا تحفہ کہاں ہے؟‘‘
مدثر نے کچھ دیر تک خاموشی اختیار کی اور سوچ کر بولا۔ وفا تمہارا تحفہ ادھار رہا۔ البتہ ہم اپنے جگری یار کو ضرور تحفہ دیں گے۔‘‘ اس نے بیس کوپک کا سکہ اپنی جیب سے نکال کر بڑے ادب واحترام سے لکی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لکی اس انوکھے تحفے پر حیران رہ گیا۔ لیکن یہ حیرانی چندلمحوں کی تھی۔ پھر شاید وہ سارا معاملہ آہستہ آہستہ سمجھنے لگا تاہم وہ خاموش رہا۔ البتہ اس کی بیوی اور ہماری سابقہ محبوبہ لکی کی طرف پیار سے دیکھتی ہوئی بولی۔
’’دراصل میں نے اس کیک میں لینن کی تصویر والے تین سکے رکھ دیے تھے۔‘‘
اس کی بات سن کر میرے ساتھی مدثر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے بیس منٹ تک اپنے حصے کا سکہ منہ میں دبا کر رکھاتھا۔
’’اور میں تو اسے حلق کے راستے معدے میں اتارنے ہی والا تھا۔‘‘ میں نے لقمہ دیا۔
ُُہماری ان باتوں سے لکی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے اوروہ جھکی جھکی نگاہوں سے ہماری جانب دیکھنے لگا۔
 

٭٭

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×