Jump to content
URDU FUN CLUB
Sign in to follow this  
hasnain

! پاکستان:ہم جنس پرستوں کی ویب سائٹ پر پابندی !

Recommended Posts

پاکستان میں ہم جنس پرستوں میں آگاہی اور ان کی مدد کے لیے بنائی گئی پہلی باضابطہ ویب سائٹ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس ویب سائٹ کو پانچ سو سے ایک ہزار افراد روزانہ دیکھتے تھے۔

 

 

130925170534_gay_website.jpg
اس ویب سائٹ کو ہم جنسی پرستوں کے مسائل اور انھیں مشورے دینے کےلیے شروع کیا گیا تھا

 

 

اسے چار ماہ قبل شروع کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک اس پر مستقل آنے والے صارفین کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی تھی۔
بی بی سی نے اس سلسلے میں پی ٹی اے کے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
اس ویب سائٹ کے خالق نے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان ٹیلی کمونیکیشن نے اس ویب سائٹ کو بند کر دیا ہے۔ جب اس ویب سائٹ کو کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ پیغام ملتا ہے ممنوعہ مواد کے پیشِ نظر اس ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

 

 

130926031643_pakistan_gay_website_304x17
ویب سائٹ کو اس ’ہمیں سمجھنے کی کوشش کریں‘ کے نعرے سے شروع کیا گیا تھا

 

 

انہوں نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ پر کوئی قابل اعتراض مواد نہیں تھا اور ’اسے بند کرنے کا پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی کا فیصلہ غیر آئینی اور آزادی رائے کے حق کے خلاف ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ’زیادہ تر ہم جنس پرست ہی اس ویب سائٹ کو استعمال کرتے تھے جس میں صحت سے متعلق امور کے بارے میں مشورے دیے جاتے تھے کیونکہ پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے معاملات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ معاشرے میں منفی ردعمل کے باعث عدالتوں سے رجوع نہیں کریں گے لیکن انھوں نے انسانی حقوق اور سماجی نتظیموں کے ذریعے آزادی رائے کے حق کے لیے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے گزشتہ ایک سال سے یوٹیوب اور کچھ بلوچ تنظیموں کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ہم جنس پرستی ایک ایسی حقیقت ہے جس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

اردو فن کلب کے گولڈ  ممبرز اور ماسٹر ممبرز کے لیئے ایک لاجواب تصاویری کہانی ۔۔۔۔۔ایک ہینڈسم اور خوبصورت لڑکے کی کہانی۔۔۔۔۔جو کالج کی ہر حسین لڑکی سے اپنی  ہوس  کے لیئے دوستی کرنے میں ماہر تھا  ۔۔۔۔۔کالج گرلز  چاہ کر بھی اس سےنہیں بچ پاتی تھیں۔۔۔۔۔اپنی ہوس کے بعد وہ ان لڑکیوں کی سیکس سٹوری لکھتا اور کالج میں ٖفخریہ پھیلا دیتا ۔۔۔۔کیوں ؟  ۔۔۔۔۔اسی عادت کی وجہ سے سب اس سے دور بھاگتی تھیں۔۔۔۔۔دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل ڈاکٹر فیصل خان کی اب تک لکھی گئی تمام تصاویری کہانیوں میں سب سے طویل کہانی ۔۔۔۔۔کامران اور ہیڈ مسٹریس۔۔۔اردو فن کلب کے  گولڈ اور ماسٹر سیکشن میں  پوسٹ کی جا رہی ہے۔

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×
×
  • Create New...