Jump to content
URDU FUN CLUB
  • Sign Up
Sign in to follow this  
hasnain

! شکل بدلنے والی نئی دھات کی دریافت !

Recommended Posts

سائنسدانوں نے سائنسی جریدے نیچر میں ایک ایسی دھات کی دریافت کا ذکر کیا ہے جس کی شکل کو ہزاروں بار بدلا جا سکتا ہے۔
یہ دھات ان سمارٹ اشیا کہلائی جانے والی فیملی کا حصہ ہے جنہیں الیکٹرونک اشیا سے لے کر خلائی گاڑیوں اور جیٹ طیاروں کے انجن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

 

Please login or register to see this image.


اس نئی دھات کا استمعال توانائی پیدا کرنے والی ایسی ڈیوائسز میں بھی ہو سکتا ہے جن میں چھوٹی سی لرزش سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے


اس دھات کو ’مرٹنسائٹ‘ کا نام دیاگیا ہے اور اس کے معیار میں موجودہ ٹیکنالوجی کے برعکس ہزاروں مرتبہ شکل بدلنے کے باوجود کمی نہیں آتی۔
موجودہ مرٹنسائٹ دھاتوں کو نکل اور ٹائٹینیئم کے ملاپ سے بنایا جاتا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ اپنی شکل کو ’یاد‘ رکھتی ہیں اور انہیں موڑا بھی جائے تو یہ اپنی اصل شکل میں واپس لوٹ آتی ہیں۔ اس لیے اسے ’شکل یاد رکھنے والی دھاتیں‘ کہا جاتا ہے۔
ان دھاتوں کو چشموں کے فریم اور خواتین کے برا کی تاروں میں استمعال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ہڈیوں کے علاج کے لیے سرجری کے دوران فریم ورک کے طور پر اور دل کی شریانوں کو کھلا رکنے کے لیے ’سٹینٹ‘ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
مرٹنسائٹ دھاتوں کو ایک مخصوص درجہ حرارت پر گرم یا ٹھنڈا کیا جائے تو یہ اپنی شکل بدل لیتی ہیں۔
مرٹنسائٹ کو ایسی اشیا میں استعمال کیا جا سکتا ہے جن میں درجۂ حرارت میں تبدیلی سے ردعمل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انہیں گالس ہاؤسز میں آٹو میٹنک کھڑکیوں میں اور حال ہی میں بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے انجن کے ڈھکنے میں استعمال کیا گیا ہے تاکہ پرواز کے بعد گرم ہونے کی صورت میں اس کی آواز کو کم کیا جا سکے۔
لیکن موجودہ مرٹنسائٹ دھاتوں میں یہ خرابی ہے کہ بار بار شکل بدلنے سے ان پر دباؤ پڑتا ہے اور یہ ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ نئی دھات زنک، سونے اور تانبے کے ملاپ سے بنائی گئی ہے اور اس کی شکل کو لاتعداد مرتبہ بدلنے سے بھی اس کے معیار میں کمی نہیں آتی۔ اس نئی دھات سے کئی نئی چیزیں بنانے کے لیے راہ ہموار ہوگی۔
اس تحقیق کے ایک مصنف پروفیسر رچرڈ جیمز کا کہنا ہے: ’اس سے آپ ایسی ڈیوائسز بنا سکتے ہیں جو براہِ راست حرارت سے بجلی پیدا کرتی ہیں۔ یہ کمپیوٹروں اور موبائل فونز سے خارج ہونے والی حرارت سے بیٹری چارج کر کے انہیں زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔‘
اس نئی دھات کا استمعال توانائی پیدا کرنے والی ایسی ڈیوائسز میں بھی ہو سکتا ہے جن میں چھوٹی سی لرزش سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
اس طرح کی ڈیوائسز ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹمز میں پہلے ہی سے استعمال ہو رہی ہیں۔

Share this post


Link to post
Share on other sites

تمام ممبرز فورم پر موجود ایڈز پر ضرور کلک کریں تاکہ فورم کو گوگل کی طرف سے کچھ اررننگ حاصل ہو سکے۔ آپ کا ایک کلک روزانہ فورم کے لیئے کافی ہے

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
Sign in to follow this  

×